Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal NovelR50584 Tere Dil K Dar Py (Episode 23)
Rate this Novel
Tere Dil K Dar Py (Episode 23)
Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal
کانچ کا گلاس دیوار میں بجنے کی وجہ سے کرچی کرچی ہو کر زمین پر بکھر چکا تھا نصار صاحب کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا ناک کے نتھنے پھلائے وہ دھاڑ رہے تھے۔۔۔
ہمارا آدھا بزنس دو ماہ میں مٹی میں مل گیا اور تم کہہ رہے ہو ٹینشن نہ لوں۔۔۔ نصار صاحب کی گرجتی آواز کمرے میں گونج اٹھی تھی۔۔۔
پاپا ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر تو رہے ہیں۔۔۔ عباد نے تھوک نگلتے ہوئے ڈر سے کہا اس نے آج سے پہلے اپنے باپ کو اتنا غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔
کیا خاک کوشش ہماری ہر کوشش کا اچار بنا کر وہ کمپنی دو ماہ میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا آخر اس کمپنی کا مالک ہمارے سامنے کیوں نہیں آتا۔۔۔ میز پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے وہ عباد کی طرف جھک کر بولے۔۔۔
پاپا میں نے پوری کوشش کی تھی کسی طرح ان سے میٹنگ طے ہو جائے لیکن ان نے سیکرٹری نے صاف انکار کر دیا تھا۔۔۔ عباد نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔۔۔
کچھ سوچو عباد اگر یوں ہی چلتا رہا تو اگلے ایک دو ماہ میں ہی ہم سڑک پر آجائیں گے مجھے تو ڈر ہے کہیں ہمیں اپنے گھر کی نیلامی نہ کرنی پڑ جائے۔۔۔ نصار صاحب کی بات پر عباد نے چونک کر انہیں دیکھا۔۔۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ اللہ نہ کرے نوبت یہاں تک آئے۔۔۔
نوبت یہاں تک آ چکی ہے ہمیں اپنے بزنس کو سنبھالنے کے لیے گھر کی نیلامی کرنی ہی پڑے گی۔۔۔ وہ مٹھیاں بھینچتے ہوئے بولے عباد ان کی بات پر پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
گھر تو پھر بھی بن جائے گا ابھی ہمیں اپنا بزنس سنبھالنا ہے بزنس نہ رہا تو گھر کا کیا اچار ڈالیں گے۔۔۔ غصے سے تڑخ کر بولے تو عباد گردن جھکا گیا۔۔۔



کاشف۔۔۔
نصار انٹرویو کے لیے جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر چونکا تھا۔۔۔
نصار۔۔۔ یہ تم ہو۔۔۔
کاشف کا بھی حیرت کے مارے یہی حال تھا وہ دونوں آگے بڑھتے ہوئے پرجوشی سے بغل گیر ہوئے تھے۔۔۔
اتنے سالوں بعد ہماری ملاقات وہ بھی ایسے۔۔۔ کاشف نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے کہا۔۔۔
مجھے تو خود یقین نہیں ہو رہا یار ہم دس سال بعد مل رہے ہیں۔۔۔ نصار نے کہا تو کاشف نے اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
آج یقین ہو گیا ہے انسان زندہ رہے تو کہیں نہ کہیں مل ہی جاتا ہے۔۔۔ کاشف نے مسکراتے ہوئے کہا تو نصار بھی مسکرا دیا۔۔۔
یہ بزنس تمہارا ہے کیا۔۔۔ نصار نے ہونٹوں کو باہر نکالتے ہوئے داد دینے والے انداز میں پوچھا۔۔۔
ہاں میرا ہے بہت محنت سے یہاں تک پہنچا ہوں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا شروع شروع میں۔۔۔ کاشف نے لمبی سانس چھوڑتے ہوئے کہا
یقیناً ہر مشکل کے بعد آسانی ہے ویسے مبارک ہو بہت اچھا سمبھالا ہے تم نے۔۔۔
خیر مبارک اور تم انٹرویو کے لیے آئے ہو تم نے بزنس نہیں کیا کیا۔۔۔ کاشف کے چہرے پر حیرت کے تاثر نمودار ہوئے۔۔۔
نہیں یار بس بری قسمت ہی سمجھ لو بزنس نہیں کر سکا میں۔۔۔ نصار نے ہونٹ بھینچے شرمندگی سے کہا۔۔۔
اچھا پریشان نہیں ہو یہاں تو تمہاری جاب کنفرم ہے اور مینیجر کی پوسٹ دے رہا ہوں تمہیں اللہ میرے یار کی سب مشکلات حل کرے۔۔۔ اس نے نہایت پرخلوص ہو کر کہا تو ایک پل کے لیے نصار اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔
کیا مینیجر کی جاب۔۔۔ نصار کی تو باچھیں کھل گئی تھیں۔۔۔
تو اور کیا اپنے بچپن کے دوست کو میں عام ورکر کی جاب تھوڑی دوں گا۔۔۔ کاشف نے مسکراتے ہوئے کہا
بہت بہت شکریہ یار تم نے تو میری ساری مشکل ہی حل کر دی میں تو کتنے دنوں سے پریشان تھا اللہ نے تو معجزہ ہی کر دیا آج۔۔۔
بس بس اب باقی کا خوش گھر جا کر ہو لینا ویسے شادی کہاں کی تم نے اور بچوں کی سناؤ۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے سرونٹ کو اس نے میز پر ٹرے رکھنے کا اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ایک لڑکی پسند آگئی تھی مجھے اچانک ہی ملاقات ہوئی اس سے شادی کی ہے کافی امیر گھر سے ہے اور میں ٹھہرا غریب لیکن پیار تو اندھا ہوتا ہے نا وہ بھی مجھ سے شادی کرنے سے پیچھے نہیں ہٹی ویسے تو وہ مجھ سے بڑی بڑی فرمائشیں نہیں کرتی لیکن مجھے خود ہی بہت برا محسوس ہوتا ہے وہ اپنے محل سے آکر میری جھگی میں رہ رہی ہے تو میرا بھی حق بنتا ہے کہ اس کے لیے کچھ کروں۔۔۔ وہ چائے کا گھونٹ حلق میں اتارتا ہوا بولا۔۔۔
اچھا یہ بات تو ہے ویسے بہت سچی محبت تھی بھابھی کو تم سے جو یوں تم سے شادی کر لی۔۔۔ کاشف نے حیرت سے کہا
سچی محبت ہے تو میرے ساتھ ہے وہ اور ہاں میرا ایک بیٹا بھی ہے عباد۔۔۔ پندرہ سال کا ہے ابھی۔۔۔ اچھا تم بتاؤ سدرہ سے ہی شادی کی تھی کہ کسی اور سے۔۔۔
جب محبت سدرہ سے تھی تو شادی بھی اسی سے کرنی تھی نا اب تمہاری طرح تھوڑی سکول کے زمانے میں ہی لڑکیوں پر لائن مارنی شروع کر دی تھی تم نے۔۔۔ کاشف کی بات پر نصار نے جاندار قہقہ لگایا۔۔۔
ہائےےےے۔۔۔ وہ دن بھی کیا دن تھے تمہیں یاد ہے میری وجہ سے تم پٹ گئے تھے۔۔۔ اب کی بار ان دونوں کا قہقہ لگا تھا۔۔۔
تو اور کیا لڑکی تم چھیڑتے تھے اور تمہارا ساتھ دینے کی وجہ سے کبھی کبھی میں بھی رگڑا جاتا تھا۔۔۔ کاشف سر جھٹکتے ہوئے ہنسنے لگا۔۔۔
اچھا کتنے بچے ہیں تمہارے۔۔۔ نصار نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
میرے دو بیٹے ہیں بڑا چودہ سال کا ہے ارہان اور چھوٹا تیرہ سال کا ہے شازل۔۔۔
ماشاءاللہ اللہ دونوں کی لمبی عمر کرے۔۔۔ نصار نے خوشی سے دعا دی۔۔۔
ویسے تو میرے بڑے بھائی اور ان کے دو بچے ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں ایک بڑا بیٹا ہے اور ایک بیٹی ہے بھابھی کا تو بیٹی کی پیدائش کے بعد انتقال ہو گیا اور بھائی کو کچھ سال بعد کینسر ہو گیا جس وجہ سے وہ کافی بیمار رہتے ہیں۔۔۔ کاشف نے سنجیدگی سے بتایا۔۔۔
او ہو اللہ رحم کرے۔۔۔ نصار نے دکھ کا اظہار کیا۔۔۔
بڑے بھائی کا گھر بیچ کر اور باقی میری اپنی جمع پونجی تھی جس سے یہ بزنس سٹارٹ کیا تھا الحمدللہ بہت اچھا چل رہا ہے۔۔۔
اوہ اچھا اچھا۔۔۔ نصار نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے سر اثبات میں ہلانے لگا۔۔۔



وہ دوپٹہ اتارے بیڈ پر بیٹھی تھی جب عباد کمرے میں داخل ہوا اسے دیکھ کر وہ تیزی سے دوپٹہ اٹھاتی کندھوں کے گرد لپیٹ چکی تھی عباد خجل سا ہو گیا بزنس کی ٹینشن میں وہ دروازے پہ دستک دینا ہی بھول گیا تھا۔۔۔
طبیعت کیسی ہے اب۔۔۔ صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ج۔۔جی بہتر ہے۔۔۔ وہ کھلے بالوں سے اس کے سامنے موجود تھی اس کے سیدھے اور لمبے بال اس کے شانوں پر ڈھلک رہے تھے آج سے پہلے وہ جب بھی عباد کے سامنے ہوتی تھی بالوں کو باندھ کر رکھتی تھی۔۔۔
عباد کو خاموش بیٹھا دیکھ کر رائمہ کے نظریں اٹھا کر دیکھا تو دل کی تاریں چھڑنے لگیں وہ جس طرح اسے دیکھ رہا تھا رائمہ کا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔
رائمہ کو یوں گھبراتا دیکھ کر عباد نے نظروں کا مرکز بدلا۔۔۔
وہ۔۔۔ جو لڑکے اس رات گھر گھسے تھے انہیں میں نے اریسٹ کروا دیا ہے۔۔۔
لیکن آپ کو کیسے معلوم ہوا وہ کون لوگ تھے۔۔۔ رائمہ نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
انہیں ڈھونڈنا کونسا مشکل تھا ایک آدمی پہرے پہ لگایا تھا کل سارا دن تین لڑکے بہانے بہانے سے گھر کے پاس سے گزر رہے تھے اور رات بھی ایسا ہی ہوا آدمی نے ان کی تصاویر بھی لیں اور ان کے گھر تک پیچھا کیا پھر آج ہی میں نے ان کے خلاف رپورٹ لکھوا کر انہیں اریسٹ کروا دیا تھا۔۔۔
وہ تفصیل سے اسے بتانے لگا رائمہ بھی پوری توجہ سے اس کی بات سن رہی تھی ایک بار پھر سے اس رات کا واقع یاد آنے پر اس کے جسم میں جھرجھریاں اٹھ گئی تھیں۔۔۔
وہ اسی سوچ میں گم تھی کہ عباد نے اس کے سراپے پر ایک بھرپور نظر ڈالی اس کا شفاف چمکتا چہرہ کسی بھی قسم کے میک اپ سے عاری تھا بالوں کی لٹیں گالوں کو چھو رہی تھیں اچانک اس کی نظر اس کے نرم گداز سے ہونٹوں پر آٹکی دل فرمائشوں پر اتر آیا تھا اور رات کی قربت سے اس کا دل صبح سے عجیب طرح سے مچل رہا تھا۔۔۔
تبھی دروازے پہ ہونے والی دستک نے ان دونوں کو خیالوں کی دنیا سے باہر نکلنے پر مجبور کیا عباد نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا ایک چور نظر رائمہ پر بھی ڈالی کہ کہیں اس کو دیکھ نہ چکی ہو لیکن وہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔
صاحب جی آج رات ہمیں چھٹی دے دیں ہمارے بچے کی طبیعت بہت خراب ہے اسے ہسپتال لے کر جانا ہے۔۔۔ ملازمہ بیچارہ سا منہ بنائے عباد سے کہہ رہی تھی گھر کا گارڈ اس کا شوہر تھا۔۔۔
اچھا۔۔۔ کیا ہوا اسے۔۔۔ عباد کا ارادہ آج واپس گھر جانے کا تھا اور یہاں ملازمہ چھٹی مانگ رہی تھی۔۔۔
بہت تیز بخار ہے جی ہسپتال لے جانا بہت ضروری ہے چھوٹے ڈاکٹر سے دوا لے کر دیکھی ہے تاب نہیں آرہا وہ۔۔۔ وہ پریشانی سے اسے بتانے لگی تھی۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے تم دونوں جاؤ پھر۔۔۔
بہت بہت شکریہ صاحب جی اور کھانا میں نے ٹیبل پر لگا دیا ہے آپ کھا لیں۔۔۔ وہ مڑنے لگی تھی کہ عباد نے اسے روکا۔۔۔
یہ لو کچھ پیسے ہیں رکھ لو کام آئیں گے۔۔۔ اس نے پینٹ کی جیب سے پیسے نکال کر ملازمہ کی طرف بڑھائے۔۔۔
اللہ آپ کو صدا خوش رکھے۔۔۔ ملازمہ نے پیسے پکڑتے ہوئے دعا دی اور وہاں سے چل دی۔۔۔
طبیعت بہتر ہے تو کھانے کی ٹیبل پر آجاؤ۔۔۔ عباد نے رخ موڑے رائمہ سے کہا وہ اس کی اور ملازمہ کی بات سن چکی تھی رائمہ اثبات میں سر ہلاتی چپل پہننے لگی۔۔۔



سہانا شازل کے ساتھ کافی خوش دکھائی دیتی ہے۔۔۔
ارہان آج آفس گیا تھا وہ دونوں ابھی کھانے سے فارغ ہو کر بیڈ پر بیٹھے تھے کہ ماہی نے کہا۔۔۔
ہاں دونوں ہی خوش ہیں۔۔۔ ارہان نے بغیر اس کی طرف دیکھے جواب دیا۔۔۔
ویسے۔۔۔ سہانا نکاح والے دن خوش کیوں نہیں تھی۔۔۔
مجھے کیا معلوم بھلا کیوں خوش نہیں تھی اسے ہی پتہ ہو۔۔۔ ارہان کے جواب پر ماہی نے اسے گھورا جو کہ وہ نہیں دیکھ سکا۔۔۔
مجھے لگتا ہے کسی کو پسند کرتی تھی۔۔۔ ماہی بھی گڑھے مردے اکھاڑنے پر تلی تھی۔۔۔
اچھااا شاید۔۔۔ ارہان نے کندھے اچکائے۔۔۔
بھولا تو دیکھو کیسے بن رہا ہے۔۔۔ ماہی نے دانت پیستے ہوئے دل میں سوچا۔۔۔
میں نے اس کے گلے میں A الفابیٹ کا نیکلیس دیکھا تھا۔۔۔ ماہی نے لب دانتوں تلے دباتے ہوئے جھوٹ بولا بھنویں اچکاتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
ارہان نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا جیسے کہ وہ جاننا چاہتا ہو ماہی کو کچھ معلوم ہے یا نہیں۔۔۔
تو پوچھ لینا تھا کہ کس کے نام کا پہنا ہے مجھے ان چیزوں کا نہیں معلوم میں تو سونے لگا ہوں آفس میں بہت تھک گیا ہوں آج۔۔۔
وہ آرام سے کمفرٹر اوڑھے لیٹ گیا اور ماہی اس کی کمر پر ہوا میں مکے کسنے لگی۔۔۔
زیادہ سوچو نہیں وہ خوش ہے اب شازل کے ساتھ۔۔۔ وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ ارہان بولا اور پھر سے کمفرٹر میں چہرہ لیا۔۔۔
مجھے نیند نہیں آئی باتیں کریں میرے ساتھ۔۔۔ ماہی نے اس کے سر سے کمفرٹر کھینچا۔۔۔
کل مجھے بھی نہیں آئی تھی نیند لیکن تم سو گئی تھی بڑے آرام سے۔۔۔ ارہان نے اسے گھوری سے نوازتے ہوئے طعنہ دیا۔۔۔
وہ تو مجھے نیند آئی تھی نا اسی لیے سوئی تھی جان بوجھ کر تھوڑی سوئی تھی۔۔۔ بھولا سا منہ بنا کر فوراً صفائی پیش کی۔۔۔
واہ تمہاری نیند نیند اور میری نیند ڈرامہ۔۔۔ ارہان نے آنکھیں موٹی کر کے کہا تو بے ساختہ ماہی کا قہقہ لگا۔۔۔
ویسے اگر تمہیں نیند نہیں آئی تو میرے پاس ایک اور بھی آئیڈیا ہے وقت اچھا گزر جائے گا۔۔۔ ارہان نے گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
اچھاااا وہ کیا۔۔۔ ماہی نے آنکھیں پھیلائیں تو اس نے اسے بازو سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے خود کے قریب کیا۔۔۔
خلافِ توقع عمل پر وہ سٹپٹا گئی اور اس کے سینے پہ آگری اس نے نگاہیں اٹھا کر ارہان کی آنکھوں میں دیکھا وہ آنکھوں کے پردے پیچھے ڈھیروں جذبات چھپائے ہوئے تھا سر کو تھوڑا اوپر اٹھائے اس نے ماہی کے ہونٹوں پر لب رکھے۔۔۔
جیسے ہی اس نے سر واپس تکیے پر رکھا ماہی ہونق بنی دو تین بار آنکھیں جھپک کر پیچھے ہوئی۔۔۔
کچھ دیر وہ یوں ہی سکتے میں بیٹھی رہی ارہان بھی مسکراہٹ دباتا ہوا اسے دیکھتا رہا حالت سنبھلتے ہی ماہی نے اس کے بازو پر ایک زور دار جھانپڑ رسید کیا اور فوراً سے کمفرٹر میں دبک گئی اس کی اس حرکت پر ارہان کا بے ساختہ قہقہ لگا۔۔۔



کمرے میں ملگجا سا اندھیرا تھا وہ سیدھی بستر پر لیٹی سو رہی تھی جب کوئی کھڑکی سے کمرے میں داخل ہوا تھا کھڑکی سے آنے والی چاند کی روشنی میں اس کا سایہ فرش پر نمودار ہوا دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے ہوئے اس نے رائمہ پر سے کمفرٹر نیچے کی جانب کھینچنا شروع کیا۔۔۔
رائمہ نے ہلکا سا کھسمساتے ہوئے کمفرٹر پھر سے کھینچ کر سینے تک اوڑھ لیا لیکن اگلے لمحے کمفرٹر پھر سے نیچے کی جانب سرکنے لگا تھا۔۔۔
رائمہ کی جیسے ہی آنکھ کھلی اس نے رائمہ کے منہ پر ہاتھ رکھا وہ اس کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی چینخنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کی کسی بھی قسم کی مزاحمت بے کار تھی اچانک ایک زور دار چینخ سے اس کی آنکھ کھلی۔۔۔
وہ خواب دیکھ رہی تھی اس کا مکمل جسم پسینے سے شرابور ہو رہا تھا گہری سانسیں لیتی ہوئی وہ ابھی بھی خواب کے زیرِ اثر تھی۔۔۔
تبھی عباد اس کی چینخ سن کر جاگا تھا ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہ رائمہ کے کمرے میں داخل ہوا کمرے میں روشنی تھی اس رات کے واقعے کے بعد سے رائمہ نے اندھیرے میں سونا چھوڑ دیا تھا۔۔۔
اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو بند تھی وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس کا پاس آکر بیٹھا عباد کو اپنے سامنے دیکھ کر رائمہ بے ساختہ اس کے سینے سے لگی رونے لگی۔۔۔
کیا برا خواب دیکھ لیا تھا۔۔۔ اس کی حالت دیکھ کر عباد کو اندازہ ہو گیا تھا اس نے اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی وہ چاہتا تھا وہ خود کو پر سکون اور محفوظ محسوس کروائے۔۔۔
اس نے روتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا عباد اس کی کمر پہ ہاتھ پھیرنے لگا جہاں اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔۔۔
ششششش کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا میں ہوں نا۔۔۔ اس نے کمر سہلاتے ہوئے نرم لہجے سے کہا تو وہ مزید اس کے سینے میں چھپ گئی۔۔۔
کچھ دیر بعد جب اس کی سانسیں تھمیں تو اس سے الگ ہوئی اس کے چہرے پہ خوف ابھی بھی وہ دیکھ سکتا تھا۔۔۔
وہ لڑکے اس وقت جیل میں ہیں یہاں کوئی نہیں آسکتا اور کھڑکی بھی اندر سے لاک ہے دیکھو۔۔۔ اس کی گال سہلاتے ہوئے وہ ایسے سمجھا رہا تھا جیسے وہ کوئی بچی ہو۔۔۔
رائمہ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا وہ نظریں جھکائے یوں ہی بیٹھی رہی تھی عباد نے اس کے سراپے پر ایک بھرپور نظر ڈالی سادہ نائٹ سوٹ میں بکھرے بالوں کے ساتھ شفاف چہرہ جس پہ موجود ابھرتے گال سرخ ہو رہے تھے جنہیں چھونے کی اس کے دل نے اچانک خواہش کی تھی۔۔۔
تم سو جاؤ مجھے بھی نیند آئی ہوئی ہے۔۔۔ وہ اس سے نظریں چراتا ہوا بولا آج آفس کے لیے وہ دیر تک کام کرتا رہا تھا دوسرا بزنس میں گھاٹا پڑنے کی ذہنی پریشانی الگ تھی جس وجہ سے وہ جسمانی اور ذہنی دونوں ہی طور پر بہت تھک چکا تھا ابھی وہ آرام کرنا چاہتا تھا۔۔۔
پ۔۔پلیز مت جائیں۔۔۔ وہ اٹھنے ہی لگا تھا کہ رائمہ نے دونوں ہاتھوں سے اس کا بازو پکڑا عباد نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا وہ لمحہ تھا جب دونوں کی نظریں آپس میں ملی تھیں۔۔۔
رائمہ کو اس کی آنکھوں میں تھکن کے علاؤہ کچھ اور بھی محسوس ہو رہا تھا کچھ ایسا جو وہ پچھلے تین ماہ سے اس کے لیے محسوس کرتی آرہی تھی ایک ہی وقت میں ان دونوں کی دھڑکن تیز ہوئی تھی۔۔۔
وہ بہکنا نہیں چاہتا تھا لیکن کچھ دنوں سے وہ یوں ہی اسے اپنی قریب پر مجبور کر رہی تھی یا شاید وہ خود اس میٹھے احساس کو محسوس کرنا چاہتا تھا لیکن آج۔۔۔ آج وہ خود اسے اپنے پاس رہنے کا کہہ رہی تھی۔۔۔
کچھ لمحے یوں ہی اس کی آنکھوں میں دیکھتے رہنے کے بعد اچانک وہ اسے زیر کرتے ہوئے اس پر جھکا اس کے دہکتے ہونٹوں سے رائمہ کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی تھی۔۔۔
وہ دونوں ہی اپنی تمام تر پریشانیاں بھول کر دنیا سے بے خبر ہو چکے تھے۔۔۔
