Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal NovelR50584 Tere Dil K Dar Py (Episode 31)
Rate this Novel
Tere Dil K Dar Py (Episode 31)
Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal
کہاں لے کر جا رہے ہو ہاتھ کھولو میرے۔۔۔ گاڑی کی پچھلی نشست پہ اچھلتے ہوئے عباد غصے سے چلّایا تھا۔۔۔
اتنی جلدی کس بات کی ہے معلوم ہو جائے گا کہاں لے کر جا رہا ہوں فلحال منہ بند رکھو۔۔۔ ارہان نے فرنٹ مرر سے اسے دیکھتے ہوئے کہا پھر ہاتھ میں پکڑے موبائل سے ولید کا نمبر ملایا۔۔۔
بھائی سب کو لے کر ہاسپٹل پہنچیں نصار کے روم میں۔۔۔
کیا ہوا ارہان خیر تو ہے۔۔۔ ولید جو ابھی آفس سے گھر لوٹا تھا ارہان کی بات سن کر پریشانی سے کھڑا ہوا۔۔۔
یہ ہاسپٹل جا کر ہی معلوم ہو گا فلحال مجھے خود نہیں معلوم خیریت ہے یا نہیں آپ ماہی سے کہیں اپنے ماما پاپا کو بھی انفارم کر دے ماہی بھی وہیں ہونی چاہیے۔۔۔
ولید اس کی بات سن کر پریشان سا ہو گیا کال منقطع کی اور ماہی کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔
یہ کیا کر رہے ہو تم چاہتے کیا ہو میرے پاپا ہارٹ اٹیک سے مر جائیں جو اب پھر سے ان پہ الزام درازی کرنے جا رہے ہو۔۔۔
عباد دانت پیستے ہوئے غصے سے غرایا، مسلسل ہاتھ چھڑوانے کی کوشش میں اس کے ہاتھ سرخ ہو چکے تھے اور پیشانی پہ پسینے کی ننھی بوندیں نمودار ہونے لگی تھیں۔۔۔
ارہان نے اس کی بات کا جواب دیے بغیر گاڑی کی رفتار تیز کی۔۔۔
تقریباً بیس منٹ بعد وہ ہاسپٹل پہنچ چکے تھے ارہان نے گاڑی روکنے کے بعد پچھلی نشست کا دروازہ کھولا اور عباد کو کوٹ کی جیب سے پسٹل نکال کر دکھایا۔۔۔
تمہارے ہاتھ کھولنے لگا ہوں اگر کوئی چالاکی کی تو۔۔۔ اس نے بنا کچھ کہے پسٹل اس کی نظروں کے سامنے کیا جبکہ عباد غصے سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس کے ہاتھ کھولنے کے بعد وہ اسے لیے نصار کے کمرے میں داخل ہوا شمیم نصار صاحب کے پاس کرسی پہ بیٹھی تھی جبکہ رائمہ بینچ پر بیٹھی تھی ان دونوں کے اندر داخل ہوتے ہی وہ عباد کو دیکھ کر کھڑی ہوئی۔۔۔
ارہان نے عباد کو کمر سے دھکا دیا تو وہ گرتے گرتے بچا تھا۔۔۔
کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔ کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے شمیم بیگم نے غصے سے کہا۔۔۔
ان کے پیچھے ولید باقی لوگوں کے ہمراہ اندر داخل ہوا تھا رائمہ کی نظر ماہی پر پڑی تو ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی ماہی کے ملنے کی خبر تو اسے کسی نے دی ہی نہیں تھی۔۔۔
رائمہ کو دیکھ کر ماہی اس کی طرف بڑھنے لگی کہ اچانک عباد ارہان پر جھپٹ پڑا اس عمل نے ماہی کی توجہ کھینچی اور اس کے قدم وہیں جم گئے۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کا گریبان چاک کرنے پر تلے تھے ولید نے آگے بڑھ کر ان دونوں کو الگ کیا وہاں موجود سب لوگ حیرت زدہ سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔۔۔
ارہان کیا ہوا ہے اور یہ سب کیا کر رہے ہو۔۔۔
ولید نے پریشانی سے ارہان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
بھائی مجھے آپ سب لوگوں کو کچھ بتانا ہے۔۔۔ ارہان نے شرٹ کا کالر درست کرتے ہوئے کہا۔۔۔
بتاؤ کیا بات ہے۔۔۔ ولید نے تجسس سے پوچھا۔۔۔
ماہی جس ڈاکٹر سے تمہارے پاپا کا ٹریٹمنٹ چل رہا تھا وہ ڈاکٹر نصار کے کہنے پہ نہیں بلکہ عباد کے کہنے پہ انہیں غلط میڈیسنز دے رہا تھا۔۔۔
ک۔۔۔کیا عباد۔۔۔ نہیں ارہان۔۔۔
ماہی نے بے یقینی سے ارہان اور پھر عباد کی طرف دیکھا تھا آخر عباد ایسا کیسے کر سکتا تھا اس کا دل و دماغ اس بات کو تسلیم نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔ عباد غراتا ہوا پھر سے اس پر جھپٹا ارہان نے اس کا بازو موڑتے ہوئے اس کی کمر میں زور دار دو مکے رسید کیے۔۔۔
چھوڑے میرے بچے کو جاہل انسان کس نے حق دیا ہے تمہیں پہلے میرے شوہر اور اب میرے بیٹے پہ الزام لگانے کا۔۔۔ شمیم بیگم نے آگے بڑھتے ہوئے عباد کو ارہان کی گرفت سے چھڑوانا چاہا۔۔۔
ارہان چھوڑو اسے۔۔۔ ولید کے کہنے پر ارہان نے ایک جھٹکے سے عباد کو چھوڑا تھا۔۔۔
آپ اپنے بیٹے کے کرتوتوں سے ابھی باخبر ہو جائیں گی۔۔۔ اور تم بنا چوں چراں کیے سب کو حقیقت بتاؤ۔۔۔ ارہان نے اسے انگلی سے تنبیہ کرتے ہوئے کہا اس کی آنکھوں میں موجود وحشت کو عباد بخوبی دیکھ سکتا تھا۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کیا آخر تم کیا سننا چاہتے ہو مجھ سے۔۔۔ ماما۔۔۔ پاپا میں سچ کہہ رہا ہوں یہ لڑکا الزام لگا رہا ہے مجھ پر۔۔۔
وہ سب کو اپنے بے گناہ ہونے کا یقین دلا رہا تھا محمود صاحب کو بھی اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ عباد ان کے ساتھ یہ سب کر سکتا ہے کیوں کہ عباد کو وہ بچپن سے جانتے تھے وہ بہت ہی فرمانبردار لڑکا تھا۔۔۔
پاپا آپ ہی کچھ بولیں۔۔۔ عباد نے تڑخ کر نصار صاحب سے کہا جو ہونق بنے اپنے سامنے ہونے والے تمام منظر کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
اچھااا تو تم نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ ارہان نے گہری سانس چھوڑتے ہوئے عباد سے کہا۔۔۔
کہا نا نہیں کیا۔۔۔ عباد نے تڑخ کر جواب دیا۔۔۔ ارہان نے پینٹ کی جیب سے موبائل نکال کر والیوم آن کیا۔۔۔
“تو بتاؤ محمود انصاری کا ٹریٹمنٹ کس کے کہنے پہ کر رہے تھے۔۔۔
بت۔۔بتاتا ہوں پلیز ڈونٹ شوٹ می۔۔۔
جلدی بولو زیادہ وقت نہیں دوں گا۔۔۔
ع۔۔عباد کے کہنے پہ۔۔۔ نصار انصاری کا بیٹا۔۔۔”
عباد پھٹی آنکھوں سے ارہان کے ہاتھ میں موجود موبائل کی طرف دیکھ رہا تھا جبکہ ارہان کی آنکھوں کی لالگی مزید بڑھ گئی تھی اسے اس وقت عباد دنیا کا سب سے بڑا گھٹیا انسان لگ رہا تھا جو دولت کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا تھا۔۔۔
ی۔۔یہ جھوٹ ہے۔۔۔ عباد کی زبان لڑکھڑا گئی تھی اس کی پلکیں لرز رہی تھیں کمرے میں موجود سبھی نفوس کی نظر اس وقت عباد پر ہی تھی۔۔۔
آپ سب تو اس ڈاکٹر کی آواز بخوبی پہچانتے ہوں گے نا آخر ایک سال سے انکل کا ٹریٹمنٹ جو چل رہا تھا اس سے۔۔۔ ارہان نے عباد اور ماہی کی فیملی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔
رائمہ نے بے ساختہ منہ پہ ہاتھ رکھا اس کے کانوں میں سائرن بج رہا تھا جسم میں جھرجھریاں اٹھ رہی تھیں۔۔۔۔
باقی سب لوگوں کا بھی یہی حال تھا عباد وہ انسان تھا جس پہ انہوں نے ہمیشہ آنکھ بند کر کے یقین کیا تھا۔۔۔
اب بھی کہو گے کہ تم مجرم نہیں ہو۔۔۔ ارہان نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں ہاں ہوں میں مجرم میں نے ہی کیا ہے یہ سب سن لیا۔۔۔؟؟ مل گیا سکون تمہیں۔۔۔؟؟؟
وہ اتنی زور سے چلّایا تھا کہ کمرے میں موجود سبھی لوگوں کو اپنے کان پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔۔۔
اور صرف یہی نہیں تمہارے ماں باپ کا ایکسیڈنٹ بھی میں نے ہی کرایا تھا۔۔۔ عباد نے یہ کہتے ہوئے قہقہ لگایا آنکھوں میں عجیب سی جنونیت تھی۔۔۔
ارہان نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پہ زور دار مکا رسید کیا خون خول اٹھا تھا زہر لگ رہا تھا وہ اسے ہنستا ہوا۔۔۔ وہ زمین پہ جا گرا تھا ہونٹ کا کنارہ پھٹ کر خون آلود ہو چکا تھا۔۔۔
عباد۔۔۔ شمیم بیگم نے بے یقینی سے اسے پکارا۔۔۔
عباد۔۔۔ایسا۔۔نہیں کر سکتا۔۔۔ نصار صاحب نے نقاہت بھری آواز میں کہا جبکہ محمود صاحب بینچ پر ڈھے سے گئے تھے۔۔۔
ماہی نے آگے بڑھتے ہوئے محمود صاحب کو سنبھالا نظریں ہنوز عباد پر ٹکی تھیں۔۔۔
آپ کا بیٹا خود تسلیم کر چکا ہے کہ یہ سب کرنے والا وہ خود ہے اب آپ کے کہنے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی۔۔۔ ولید نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے نصار صاحب سے کہا۔۔۔
بتاؤ کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔ ارہان گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے مسلسل اسے گھونسے لگانے لگا عباد کے منہ سے کراہنے کی آوازیں نکل رہی تھیں شمیم بیگم نے آگے بڑھتے ہوئے ارہان کے آگے ہاتھ جوڑے۔۔۔
مت مارو میرے بچے کو پلیز۔۔۔ ان کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ارہان نے خود پر قابو بینچ پر بیٹھتے ہوئے چہرے ہاتھوں سے ڈھانپ لیا تھا۔۔۔
عباد کیوں کیا تم نے یہ سب بتاؤ۔۔۔ شمیم بیگم نے روتے ہوئے اس سے پوچھا تھا عباد نے شرمندگی سے سر جھکایا۔۔۔
بتاؤ کیوں کیا یہ سب آخر کیا وجہ تھی کہ تم انسان سے درندے بن گئے۔۔۔ وہ روتے ہوئے اپنا ماتھا پیٹنے لگی تھیں عباد نے گہری سانس چھوڑتے ہوئے بولنے کے لیے لب کھولے۔۔۔
یہ تب کی بات ہے جب پاپا نے کاشف انکل کے ساتھ بزنس میں پارٹنر شپ کی تھی، میٹرک کمپلیٹ کرنے کے بعد انہوں نے میرا ایک مہنگے کالج میں ایڈمیشن کرایا کلاس میں جتنے بھی سٹوڈنٹس تھے سبھی اچھے خاصے امیر خاندان سے تھے اور میں تھا ایک۔۔۔ غریب خاندان سے۔۔۔ اس نے دانت پیستے ہوئے کہا جیسے کہ اس وقت میں اپنی بے بسی پر غصہ آیا ہو۔۔۔
بہت بار پاپا سے کچھ چیزوں کی فرمائش کی لیکن انہوں نے ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ابھی وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ میری یہ مہنگی فرمائشیں پوری کر سکیں۔۔۔
کو ایجوکیشن ہونے کی وجہ سے کلاس کے زیادہ تر سٹوڈنٹس ایک دوسرے کے ساتھ ریلیشن شپ میں تھے ظاہر ہے امیر باپ کی امیر اولاد اپنے جیسوں کو ہی پسند کرے گی نا میری طرف تو کوئی دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتی تھی۔۔۔
عباد کی اس بات پر ماہی اور رائمہ نے یک لخت اس کی طرف حیرت سے دیکھا ان دونوں نے ہی اسے ہمیشہ سے پاک اور نیک خیالات کا انسان مانا تھا۔۔۔
مجھے بھی میری ایک کلاس فیلو اچھی لگنے لگی۔۔۔ ردا نام تھا اس کا۔۔۔ میں روز اسے دیکھتا تھا لیکن کچھ کہنے کی ابھی ہمت نہیں بنا پا رہا تھا چونکہ میں کلاس کا سب سے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والا سٹوڈنٹ تھا وہ مجھے کیسے ایکسیپٹ کر لیتی۔۔۔ اس نے طنز سے ہنستے ہوئے سر کو ایک طرف جھٹکا دیا۔۔۔
مجھ سے اور نہیں رہا جاتا تھا میرا بھی دل کرتا تھا باقی لڑکوں کی طرح میں بھی زندگی انجوائے کروں میرے پاس بھی دولت ہو میری بھی کوئی گرل فرینڈ ہو لیکن میں۔۔۔میں بے بس تھا میرے پاس کچھ نہیں تھا۔۔۔
\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*
ماضی
پاپا مجھے گاڑی چاہیے۔۔۔ عباد آج کالج سے سیدھا آفس آیا تھا لڑکوں کہ پاس مہنگی گاڑیاں دیکھ دیکھ کر اس کا خون کھولتا تھا آج اس نے ٹھان لی تھی کہ نصار صاحب کو گاڑی کے لیے راضی کر کے رہے گا۔۔۔
کیا۔۔۔ دماغ تو ٹھیک ہے۔۔۔؟؟؟
نصار صاحب نے چشمہ اتار کر اسے حیرت سے دیکھا۔۔۔
جی بلکل ٹھیک ہے مجھے گاڑی چاہیے بس۔۔۔ اس نے اٹل لہجے میں کہا تو نصار صاحب ہونق بنے اسے دیکھنے لگے۔۔۔
اپنی عمر دیکھی ہے تم نے سترہ سال کے ہو اور ابھی سے گاڑی کی فرمائش کر رہے ہو۔۔۔ نصار صاحب نے اسے گھور کر کہا۔۔۔
تو کیا ہوا پاپا میرے سبھی کلاس فیلوز کے پاس اپنی ذاتی گاڑی ہے صرف میرے پاس نہیں ہے آپ کو پتہ بھی ہے وہ سب میرا کتنا مذاق اڑاتے ہیں۔۔۔
وہ بیگ ٹیبل پہ پٹختے ہوئے ناک پھلائے کرسی پر بیٹھا۔۔۔
بیٹا وہ سبھی بچے امیر خاندان سے ہیں تمہیں تھوڑا کمپرومائز کرنا ہو گا اتنے اچھے کالج میں ایڈمیشن کرایا ہے تمہارا پڑھائی پہ فوکس کرو نا کہ ان فضول چیزوں پر۔۔۔
نصار صاحب نے اسے پیار سے سمجھایا۔۔۔
پاپا پڑھائی میں آپ کو میں سو پرسنٹ ریزلٹ دوں گا لیکن مجھے گاڑی چاہیے پلیز مجھے گاڑی لے دیں یہ میری وش ہے۔۔۔ وہ ابھی بھی اپنی بات پہ اٹل تھا۔۔۔
عباد تھوڑا سا صبر کر لو تمہیں گاڑی لے دوں گا میں دیکھو تم جانتے ہو ابھی میں نے کچھ دن پہلے ہی تمہارے انکل کے ساتھ پارٹنر شپ کی ہے ابھی مجھ میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ تمہیں گاڑی لے کر دوں ابھی مجھے بہت کچھ کرنا ہے سیونگ کر کے پچاس پرسنٹ کا پارٹنر بننا ہے پھر میں تمہاری ایک کیا ہر وش پوری کروں گا ٹھیک ہے۔۔۔ وہ پیار سے کہتے ہوئے مسکرائے۔۔۔
پاپا۔۔۔ اس نے پرسوچ انداز میں کرسی سے لگائی ٹیک کو چھوڑا۔۔۔
آپ کے دوست اتنے رچ ہیں ان سے کہو نا میرے بیٹے کو گاڑی چاہیے وہ ضرور آپ کو کوئی بونس دیں گے۔۔۔ عباد نے آنکھوں میں چمک لیے کہا تو نصار صاحب کی آنکھوں میں غصہ ابھرا۔۔۔
ایسی بات بھی کیسے کی تم نے۔۔۔ میں تمہاری فضول خواہش پر ایسی بھیک نہیں مانگ سکتا۔۔۔ کہا نا صبر کر لو وقت آنے پر گاڑی بھی لے دوں گا اب جاؤ یہاں سے مجھے کام کرنے دو۔۔۔ انہوں نے غصے سے کہتے ہوئے پھر سے چشمہ لگایا اور فائل پہ سر جھکایا۔۔۔
عباد مٹھیاں بھینچتا ہوا وہاں سے کھڑا ہوا دل کر رہا تھا کہ پوری دنیا کو تہس نہس کر دے اپنے غصے پر قابو پاتا ہوا وہ وہاں سے گزر رہا تھا جب اس کی نظر کاشف کے آفس روم پر پڑی تبھی ان کی نظر بھی عباد پر پڑی وہ اسے پہچان چکے تھے مسکراتے ہوئے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا عباد نے بیگ کندھے پہ ڈالے ایک نظر محمود صاحب کے روم کی طرف دیکھا وہ ان کی نظروں سے اوجھل تھا پھر وہ روم میں داخل ہو گیا۔۔۔
کیسے ہو بیٹا کیسے آنا ہوا۔۔۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ٹھیک ہوں انکل آپ کیسے ہیں۔۔۔ میں بس کالج سے واپسی پر یہاں سے گزر رہا تھا تو سوچا پاپا کا آفس دیکھ لوں۔۔۔
“پاپا کا آفس” ایسا اس نے جان بوجھ کر کہا تھا جسے کاشف نظر انداز کر گیا تھا۔۔۔
ارے یہ تو بہت اچھا کیا بیٹھو چائے پیو گے یا جوس۔۔۔ انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
جوس پیوں گا۔۔۔ وہ بلا جھجک کرسی پر بیٹھا اور کمرے کا جائزہ لینے لگا۔۔۔
انہوں نے ٹیلی فون پر نمبر ملاتے ہوئے جوس کا آرڈر کیا پھر ان کے موبائل پر بجتی گھنٹی نے ان کی توجہ لی انہوں نے موبائل کان کو لگایا۔۔۔
ہاں ولید کیا بات ہے۔۔۔
ہاں۔۔ہاں۔۔ ان شاءاللہ سب خیر سے ہو گا۔۔۔
ارے تم چھوڑو اس بات کو اللہ میرے پوتے کو خیر سے دنیا میں لائے اس کے آنے کی خوشی میں تمہیں مرسڈیز کار گفٹ میں دوں گا۔۔۔
سرونٹ جو ابھی جوس کا گلاس عباد کو تھما کر گیا تھا مرسڈیز کا نام سنتے ہی جوس عباد کے حلق میں اٹک گیا اور وہ شدت سے کھانسنے لگا۔۔۔
کیا ہوا تم ٹھیک ہو۔۔۔ انہوں نے کال منقطع کرتے ہوئے عباد پوچھا۔۔۔
ج۔۔جی میں ٹھیک ہوں۔۔۔ مجھے اب چلنا چاہیے۔۔۔ عباد نے جوس کا گلاس میز پر رکھا اور تیز قدموں سے روم سے باہر نکل آیا تھا آنکھوں میں عجیب وحشت اتر رہی تھی اس کا دل چاہ رہا تھا یہ پورا برنس اس کے باپ کا ہو جائے اور وہ عباد کے بولنے سے پہلے اس کی ہر خواہش پوری کر دیں۔۔۔
\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*
آئی لوّ یو۔۔۔ عباد نے آج ہمت جتاتے ہوئے ردا سے اپنے دل کی بات کہہ دی تھی آج کالج میں گالا نائٹ تھی وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ وہ خود کو روک نہیں پایا تھا اب اسے بھیڑ سے ایک طرف لا کر اسے اپنے دل کی بات کہہ بیٹھا تھا۔۔۔
کیا۔۔۔؟؟؟ ہوش میں تو ہو۔۔۔ ردا نے نخوت سے ناک چڑاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔
ردا مجھے تم بہت اچھی لگتی ہو بہت چاہنے لگا ہوں تمہیں یار۔۔۔ عباد نے بے ساختہ اس کا ہاتھ پکڑا اس کی آنکھوں سے اس کی محبت کی سچائی جھلک رہی تھی ردا بھی کچھ ماہ سے نوٹ کر رہی تھی لیکن اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا عباد اکیلا نہیں تھا کلاس کے اور بھی لڑکے اس کے حسن پر فدا تھے۔۔۔
اچھااا۔۔۔ تم جانتے تو ہو میں کتنی رچ فیملی سے ہوں۔۔۔ اس نے چہرے پہ بلا کی سنجیدگی سجائے پوچھا لہجے میں حقارت واضح تھی۔۔۔
عباد کی گردن جھک گئی تھی آخر وہی بات ہوئی تھی جس کا اسے ڈر تھا۔۔۔
تمہارے پاس ہے ہی کیا پانچ ماہ ہو گئے کالج جوائن کیے تمہارے پاس اپنی گاڑی تو کیا ایک اچھی بائیک بھی نہیں ہے گھسی پٹی خٹارا سی بائیک پہ بیٹھے سیر کرتے پھر رہے ہوتے ہو۔۔۔۔
اس نے نخوت سے ناک چڑاتے ہوئے کہا اس کے الفاظ عباد کے سر میں ہتھوڑے کی طرح لگ رہے تھے۔۔۔
لیکن میں تم سے سچی محبت کرتا ہوں ردا۔۔۔ اس کے کندھوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے شدت سے کہا۔۔۔
ارے ہٹو پیچھے۔۔۔ اس نے زور سے اس کے بازوؤں کو جھٹکا۔۔۔
ردا تم۔۔۔ ایسے نہیں کر سکتی۔۔۔ تم میری محبت کو نہیں جھٹلا سکتی۔۔۔ عباد نے بے چینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
تمہاری بھیک جیسی محبت کو میں کبھی تسلیم کروں گی یہ بات دل سے نکال دو۔۔۔ وہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے تنبیہ کرتی ہوئی وہاں سے جانے لگی۔۔۔
اور اگر میرے پاس دولت آجائے اور میں تمہارے سٹینڈرڈ کا ہو جاؤں تو۔۔۔؟؟؟
اس نے ردا کا بازو پکڑتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔۔۔
ردا نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا وہ شکل و صورت سے اچھا خاصا خوبصورت تھا۔۔۔
وہ وقت آگیا تو میری طرف سے ہاں ہی سمجھنا۔۔۔ وہ طنزیہ ہنستی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔۔۔
اپنے تئیں تو وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ اتنے کم عرصے میں وہ کبھی بھی اس کے سٹینڈرڈ تک نہیں پہنچ سکتا لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ وہ اس کے لیے کیا کچھ کر گزرنے کی قسم کھا بیٹھا تھا۔۔۔
\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*\*
ردا کے ٹھکرانے کے بعد میں پاگل ہو گیا تھا کسی بھی طرح بس اسے حاصل کرنا چاہتا تھا اور وہ تب ہی میری ہوتی جب میں۔۔۔میں اس کے معیار پر پورا اترتا۔۔۔ پاپا کسی بھی طریقے میری بات ماننے پر راضی نہیں تھے میں نے بہت سوچا کہ ایسا۔۔۔ایسا کیا کروں جس سے میں اس کے معیار تک آسکوں۔۔۔
پھر ایک دن میں ذہن میں کاشف انکل کی باتیں گھومنے لگیں۔۔۔ وہ اچھے خاصے امیر تھے آسانی سے اپنی اولاد کی ہر وش پوری کر سکتے تھے اور پاپا بھی تو ان کے بزنس پارٹنر تھے پھر کیوں نا کچھ ایسا کروں کہ سب۔۔۔سب کچھ ہمارا ہو جائے۔۔۔
اس وقت میرے اندر انسان نہیں صرف حیوان تھا جو کسی بھی طرح اپنی غرض سے مطلب رکھتا تھا۔۔۔ میں نے کچھ دن کاشف انکل اور اس کی فیملی پر پوری نظر رکھی کب کون کہاں جاتا ہے سب معلوم ہو چکا تھا میں ان کے پورے خاندان کا نام و نشان مٹا دینا چاہتا تھا تا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔۔۔ اس نے یہ کہتے ہوئے لب کو سختی سے کچلا۔۔۔
پھر میں نے ہائی سکول کے اپنے ایک دوست زبیر کو کچھ پیسوں کا لالچ دے کر ساتھ ملایا کاشف انکل کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ کرنے والا وہی تھا۔۔۔ میرے ہی کہنے پہ اس نے ایکسیڈنٹ کیا تھا۔۔۔
اس دن میں نے پاپا کا موبائل چھپا دیا تھا اور آفس کی لینڈ لائن کی کیبل بھی کاٹ دی تھی تا کہ پاپا کو کہیں سے بھی ان کی موت کی خبر نہ مل سکے۔۔۔
اس سے پہلے کہ پاپا ان سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے گھر جاتے میں نے ان چاروں کو کڈنیپ کروا لیا اور پراپرٹی کے تمام کاغذات پر سائن کروا لیا لیکن ان کا گھر میں نے اپنے نام کروایا تھا جسے بیچ کر میں نے اپنی ارجنٹ ضروریات پورا کرنا تھا۔۔۔
لیکن بدقسمتی سے یہ۔۔۔یہ وہاں سے بھاگ نکلے۔۔۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی مجھے پراپرٹی نام کرنے کے بعد ہی ان سب کو ختم کر دینا چاہیے تھا۔۔۔
چٹاخ۔۔۔
تھپڑ کی آواز کمرے میں گونج اٹھی تھی یہ تھپڑ شمیم نے عباد کو مارا تھا جو عباد کے گال پر انگلیوں کی چھاپ سے واضح ہو رہا تھا۔۔۔
مجھے شرم آرہی ہے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے۔۔۔ کیا یہ تربیت کی تھی میں نے تمہاری۔۔۔؟؟؟ تم۔۔۔تم انسان نہیں شیطان ہو تم ہمارے بیٹے نہیں ہو سکتے عباد۔۔۔
شمیم پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی ہوئی چلّا رہی تھیں دونوں خاندان صدمے کی حالت میں تھے۔۔۔
کیا تھا۔۔۔کیا تھا جو کچھ دیر انتظار کر لیتے کیا اتنا اندھا کر دیا تھا دولت کی ہوس نے کہ زندہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔۔۔ تم جیسا بیٹا ہونے سے بہتر تھا میں بے اولاد ہی رہتی۔۔۔ وہ زمین پہ ڈھے سی گئی تھیں سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑ لیا تھا۔۔۔
ابھی بھی کونسا اس کا پیٹ بھرا ہے انکل کو مار کر ان کی دولت حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔۔ ارہان نے حقارت سے اسے دیکھا۔۔۔
نصار صاحب کی زبان تالوے سے چپک چکی تھی ہزار کوشش کے باوجود بھی ان کے منہ سے ایک لفظ بھی ادا نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔
ارہان کی بات سن کر شمیم بیگم نے روتے ہوئے سر نفی میں جھٹکا ابھی بھی بے یقینی جیسی حالت تھی۔۔۔
یہ میرا بیٹا نہیں ہو سکتا میں اس جیسے شیطان کی پیدائش نہیں سکتی دفع ہو جاؤ یہاں سے اور آئندہ ہمیں اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔
شمیم بیگم نے سختی سے آنکھیں پونچھی اور غصے سے عباد کو دیکھا۔۔۔
یہ وہیں جائے گا جہاں اسے جانا چاہیے۔۔۔ یہ ولید تھا جو عباد کی بات مکمل ہونے کے بعد کمرے سے باہر جا کر پولیس کو فون کر کے واپس آیا تھا۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے ہم تمہیں اپنے خاندان کا خون معاف کر دیں گے۔۔۔؟؟؟ نہیں کبھی نہیں تمہیں پھانسی تک پہنچاؤں گا میں۔۔۔ ولید نے اسے انگلی دکھاتے ہوئے تنبیہ کی۔۔۔
رائمہ جو ابھی تک صدمے کی حالت میں تھی پھانسی کا لفظ سنتے جیسے ہوش میں آئی تھی۔۔۔
بہت شوق ہے نا تمہیں دنیا کا سب سے بڑا امیر انسان بننے کا۔۔۔ اب دیکھتے ہیں تم خود کو پھانسی سے کیسے بچاتے ہو۔۔۔
عباد تیزی سے اٹھ کر باہر کی طرف بھاگنے لگا تھا کہ ولید نے اسے پکڑ کر زمین پر پٹخا وہ تیزی سے اٹھ کر ولید پر جھپٹا ولید نے اسے دیوار کے ساتھ لگاتے ہوئے اس کے پیٹ میں گھونسے مارنے شروع کیے تکلیف سے عباد کا برا حال ہو رہا تھا۔۔۔
شمیم اور نصار نے آنکھیں بند کر لی تھیں آخر تھا تو وہ ان کا بیٹا ہی دو پل میں اسے وہ پرایا کیسے تسلیم کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ولید کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی کیونکہ عباد اسی لائق تھا۔۔۔
پولیس آچکی تھی ولید نے اسے پولیس کے حوالے کیا وہ شازل کو لیے خود بھی پولیس سٹیشن کے لیے نکل گیا تھا اسے عباد کے خلاف رپورٹ لکھوانی تھی۔۔۔
رائمہ منہ پہ ہاتھ رکھے رو رہی تھی ماہی نے آگے بڑھتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا رائمہ نے بھیگی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا پھر اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔
شمیم بیگم ہاتھ جوڑتے ہوئے سفینہ بیگم اور محمود صاحب کے سامنے کھڑی ہوئیں سفینہ نے تیزی سے بڑھ کر ان کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔۔۔
تم مجھ سے معافی کیوں مانگ رہی ہو تمہارا تو کوئی قصور نہیں ہے نا۔۔۔ سفینہ نے شمیم کو گلے سے لگایا ان کے گلے لگتے ہی وہ باآواز رونے لگی تھیں۔۔
