Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 15)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

عباد یہ تو ماہی کی دوست رائمہ ہے نا لیکن یہ تمہارے ساتھ یہاں کیا کر رہی ہے۔۔۔

شمیم نے حیرت سے آنکھیں پھیلائے پوچھا۔۔۔

جی ماما وہ دراصل۔۔۔ عباد انہیں بتاتا ہوا ہچکچا رہا تھا آخر یہ بات بھی تو کوئی چھوٹی نہ تھی لیکن حالات ہی ایسے ہو گئے تھے کہ وہ مجبور ہو گیا تھا۔۔۔

بتاؤ بھی عباد تم اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو۔۔۔ شمیم بیگم آگے بڑھتی ہوئیں بولیں۔۔۔

ماما آپ اندر چلیں میں آپ کو سب بتاتا ہوں۔۔۔

نہیں مجھے ابھی معلوم کرنا ہے آخر اس وقت یہ لڑکی تمہارے ساتھ کیا کر رہی ہے کیا تم پوری رات اسی لڑکی کے ساتھ تھے۔۔۔

ان کی بات سن کر عباد ایک لمحے کے لیے ساکت ہوا جیسے اسے بہت بڑا صدمہ لگا تھا آخر وہ اس کی ماں تھی جس نے اس کی تربیت کی تھی وہ اس کے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتی تھی۔۔۔

ماما ایسا ہرگز نہیں ہے۔۔۔

تو کیسا ہے مجھے بتاؤ گھبراہٹ سے میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔۔۔

رائمہ اس سارے معاملے میں خاموش ہی کھڑی تھی نہ ہی اس کے پاس بولنے کے لیے کوئی الفاظ تھے۔۔۔

ماما وہ میں نے رائمہ سے نکاح کر لیا ہے۔۔۔ وہ شرمندگی سے نظریں جھکا کر بولا۔۔۔

ک۔۔کیا۔۔۔ شمیم بیگم کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا تھا انہیں اپنی سماعت پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔۔۔

ماما پلیز آپ کچھ غلط مت سمجھیے دراصل حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ مجھے یہ کرنا پڑا یقین مانیے آپ کے بیٹے نے آپ کا مان توڑنے کا کبھی سوچا بھی نہیں ہے۔۔۔

وہ جلدی سے اپنی صفائی پیش کرنے لگا شمیم بیگم کی حالت دیکھ کر اسے افسوس ہو رہا تھا۔۔۔

یہ تم نے کیا کر دیا عباد ماہی تمہاری منگیتر ہے تم نے اس کا زرا نہ سوچا اور یہ لڑکی۔۔۔ تمہیں اپنی ہی دوست کو دھوکا دیتے ہوئے شرم نہیں آئی۔۔۔

ان کی بات سن کر رائمہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگی تھیں لیکن وہ خاموش رہی اللہ اس کے دل کی نیت سے خوب واقف تھا اسی بات کی رائمہ کو تسلی تھی۔۔۔

ماما اس کا کوئی قصور نہیں ہے اس کی بھی مرضی شامل نہیں تھی اس میں۔۔۔ عباد تیزی سے اپنی ماں کی طرف لپکا ان کی ہاتھوں کو پکڑتے ہوئے انہیں سمجھانے لگا۔۔۔

کیا کہہ رہے ہو تم عباد آخر یہ سب ہوا کیسے۔۔۔ شمیم بیگم غصے سے چلّائیں۔۔۔

رائمہ تم اندر چلو ماما میں آپ کو پوری بات تسلی سے بتاتا ہوں پلیز اپنے بیٹے پر یقین رکھیے گا۔۔۔ اس نے ان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کرسی پر بیٹھایا۔۔۔

رائمہ ابھی تک وہیں کھڑی تھی عباد نے اسی آنکھوں سے اندر جانے کا اشارہ کیا تو وہ چپ چاپ اندر چل دی۔۔۔

اندرونی دروازے سے لاؤنچ میں داخل ہونے کے بعد اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔

تھکن سے کمر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں ملازمہ جو ان کی باتیں سن چکی تھی وہ رائمہ کے نزدیک آئی۔۔۔

آئیں آپ کو کمرے تک چھوڑ دیتی ہوں۔۔۔

رائمہ خاموشی سے اس کے پیچھے چلنے لگی دوسری منزل پر جانے کے بعد ملازمہ نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا ماہی دائیاں پاؤں اندر رکھتے ہوئے داخل ہوئی۔۔۔

اس نے کمرے میں چاروں تک نظریں گھمائیں کمرہ کافی وسیع اور نفیس تھا ہر چیز اپنی صحیح مقام پر پڑی تھی وہ ہاتھوں کی انگلیاں چٹختے ہوئے صوفے کی طرف بڑھی۔۔۔

صوفے کے پیچھے شیشے کی دیوار تھی وہ عباد کو دیکھنے کے لیے شیشے کے پاس آئی۔۔۔

عباد اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے انہیں سمجھا رہا تھا یا شاید انہیں اپنی صفائی پیش کر رہا تھا۔۔۔

دکھ سے وہ واپس مڑ کر پھر سے صوفے پر بیٹھ گئی اچانک اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی جہاں عباد کی گھڑی پڑی تھی رائمہ بے ساختہ کھڑی ہوئی کیا یہ عباد کا کمرہ تھا یہ سوچ کر اس کی جان پہ بن آئی تھی۔۔۔

اب تو وہ یہاں دو گھڑی آرام بھی نہیں کر سکتی تھی یہ سوچ کر کہ جانے وہ کس وقت کمرے میں داخل ہو جائے۔۔۔

تقریباً آدھے گھنٹے بعد عباد پریشان سا کمرے میں داخل ہوا وہ رائمہ کو دیکھ کر چونکا۔۔۔

و۔۔۔وہ ملازمہ نے مجھے یہاں بیٹھا دیا۔۔۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔۔۔

ہوں۔۔۔ وہ ہنکار بھرتے ہوئے واش روم گھس گیا۔۔۔

رائمہ اب پہلے سے مزید گھبرا رہی تھی بلاوجہ وہ اپنے دوپٹے کو بار بار ٹھیک کر رہی تھی۔۔۔

کچھ دیر بعد عباد واش روم سے نکلا رائمہ نے ایک چور نظر سے اسے دیکھا وہ کافی نکھرہ نکھرہ سا لگ رہا تھا۔۔۔

تم یہیں رہنا جب تک میں نہ کہوں کمرے سے باہر مت آنا۔۔۔

جی ٹھیک ہے۔۔۔ رائمہ نے جواب دیا پھر عباد دروازہ کھولے باہر نکل گیا۔۔۔

کچھ دیر بعد رائمہ کو آوازیں آنے لگی تھیں اس کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا کہیں اس کے والدین اس بات کا زیادہ مسئلہ نہ بنا لیں یہ سوچ سوچ کر اس کا دل بیٹھے جا رہا تھا۔۔۔

کچھ دیر بعد عباد کمرے میں داخل ہوا اسے دیکھتے ہی رائمہ کھڑی ہوئی۔۔۔

نیچے چلو پاپا بلا رہے ہیں۔۔۔

عباد کی بات سن کر رائمہ کے چہرے سے ڈر جھلکنے لگا جب عباد نے اس کی یہ حالت دیکھی وہ اس کے قریب آیا اگلے لمحے وہ رائمہ کا ہاتھ اپنے مظبوط ہاتھ میں پکڑ چکا تھا رائمہ نے چونک کر اس کے ہاتھ پھر اس کی طرف دیکھا۔۔۔

اب وہ خود کو محفوظ سمجھ رہی تھی ایسے جیسے اب دنیا کی کوئی طاقت اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکتی تھی وہ دونوں نچلے حصے کے لاؤنچ میں آکر کھڑے ہوئے جہاں شمیم بیگم کے ساتھ نصار صاحب بھی کھڑے تھے۔۔۔

نصار صاحب رائمہ کو دیکھ کر چونک کر کھڑے ہوئے عباد اپنے والد کے ایسے ردعمل پر تھوڑا حیران ہوا جبکہ رائمہ ان سے خوفزدہ ہونے لگی کہیں وہ اسے قبول کرنے سے انکار نہ کر دیں۔۔۔

نصار۔۔۔ شمیم بیگم نے جب نصار صاحب کو رائمہ کو یوں دیکھتے پایا تو اس کے بازو پہ ہاتھ رکھے اسے مخاطب کیا۔۔۔

ہ۔۔۔ہوں۔۔۔ نصار صاحب جیسے ٹرانس کی کیفیت سے باہر آئے تھے۔۔۔

کیا ہوا آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے۔۔۔

شمیم کی بات پر نصار صاحب نے خود کو پر سکون کیا ساتھ ہی وہ غصیلی آنکھوں سے عباد کو دیکھنے لگے۔۔۔

عباد تم نے ماہی کی دوست سے نکاح کر لیا سوچو ماہی کو اگر یہ بات معلوم ہوئی تو اس کے دل پر کیا گزرے گی۔۔۔

نصار غصے سے بولے۔۔۔

پاپا آپ میری بات ہی کب سن رہے ہیں ماما آپ کو میں سب بتا چکا ہوں اب آپ ہی بتائیے کیا اس سب میں آپ کو کہیں میری یا رائمہ کی غلطی نظر آئی۔۔۔؟؟؟

وہ شمیم بیگم کی طرف دیکھتا بولا۔۔۔

بس۔۔۔ نصار صاحب نے ہوا میں ہاتھ کھڑا کیا

ہم اس لڑکی کو ہرگز قبول نہیں کر سکتے اس کے لیے نہ ہی ہمارے دل میں جگہ ہے اور نہ ہی اس گھر میں یہ میرا آخری اور حتمی فیصلہ ہے۔۔۔

ان کی بات پر رائمہ نے چونک کر انہیں دیکھا جبکہ عباد دکھ بھری نظروں سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

پاپا کیا اتنی سی بات پر آپ مجھ سے بھی تعلق توڑیں گے۔۔۔

یہ اتنی سی بات نہیں ہے عباد بہت بڑی بات ہے تم نے ہمیں سفینہ آپا اور محمود بھائی کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا اور ابھی کہہ رہے ہو اتنی سی بات۔۔۔

تمہارے پاپا کا جو فیصلہ ہے میں اس سے متفق ہوں ہم اس لڑکی کو ہرگز قبول نہیں کریں گے جیسے ہی ماہی مل جائے گی اس سے تمہاری شادی ہو گی سب ویسے ہی ہو گا جیسے سوچ رکھا ہے اور اس لڑکی کو تمہیں طلاق دینی ہو گی۔۔۔

طلاق کا لفظ سن کر رائمہ سر پر آسمان گرا تھا وہ آنکھیں پھاڑے ہونقوں کی طرح شمیم بیگم کی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ عباد کے چہرے پر صرف افسوس تھا اسے اپنے ماں باپ سے اس رویے کی امید ہرگز نہ تھی اسے پورا یقین تھا کچھ دن ناراض رہنے کے بعد وہ رائمہ کو قبول کر لیں گے لیکن اب تو وہ طلاق کی بات کر چکے تھے لیکن وہ ایک بے قصور لڑکی کو اس جرم کی سزا کیسے دے سکتا تھا جو اس نے کیا ہی نہیں تھا۔۔۔

ٹھیک ہے اگر آپ رائمہ کو قبول نہیں کرنا چاہتے تو میں اسے یہاں نہیں رکھوں گا لیکن یہ میری ذمہ داری ہے اور رہے گی میں اسے یہاں سے لے جا رہا ہوں۔۔۔

رائمہ نے نظریں اٹھا کر عباد کی طرف دیکھا وہ سنجیدہ تھا۔۔۔

نصار دیکھو تو یہ کیا کہہ رہا ہے یہ ہمیں چھوڑ کر جا رہا ہے صرف اس لڑکی کی خاطر۔۔۔

شمیم بیگم فوراً سے بول اٹھیں آخر اپنی اولاد کو وہ یوں کیسے جانے دے سکتی تھیں۔۔۔

آپ دونوں سے میں ناراض نہیں ہوں ماما اور مجھے امید ہے کہ آپ دونوں کی یہ ناراضگی بھی مجھ سے کچھ دن کے لیے ہی ہو گی لیکن رائمہ کے لیے جو آپ کہہ رہے ہیں میں اس حق میں نہیں ہوں اور میں آپ سے تعلق ہرگز نہیں توڑ رہا جب بھی آپ کو اپنے بیٹے کی یاد آئے مجھے آپ اپنے پاس پائیں گے۔۔۔

وہ دو ٹوک بات کرتا ہوا رائمہ کا ہاتھ پکڑے وہاں سے نکل گیا تھا جبکہ اس کے والدین حیرت سے اس کی پشت کو گھور رہے تھے۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ولید ارہان کو سہارا دیتا ہوا گاڑی سے نکال رہا تھا جب ارہان نے اسے ہاتھ کا اشارہ کیا جس کا مطلب تھا وہ خود چل سکتا ہے۔۔۔

اتنی کمزوری ہو گئی ہے تمہیں چکر بھی آسکتے ہیں۔۔۔ ولید زبردستی اسے پکڑے ہوئے لاؤنچ میں لایا۔۔۔

ارہان نے لاؤنچ میں چاروں اور نظر دوڑائی لیکن اسے ماہی کہیں بھی دکھائی نہ دی۔۔۔

اپنے کمرے میں جاؤں گا مجھے آرام کرنا ہے۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔ ولید اسے کمرے کے دروازے تک لے گیا

اب میں خود چلا جاؤں گا میں ٹھیک ہوں چل سکتا ہوں۔۔۔

نہیں تمہارا کیا پتہ بستر پر بیٹھتے ہوئے بازو پر دباؤ پڑ گیا تو۔۔۔ ولید نے اسے گھورا

ولید بھائی میں کہہ رہا ہوں نا کچھ نہیں ہو گا آپ بھی ہاسپٹل میں پوری رات نہیں سوئے جائیں جا کر آرام کریں۔۔۔

ارہان ٹھیک ہی کہہ رہا تھا ولید ارہان کی فکر میں پوری رات ہاسپٹل میں سو نہیں سکا تھا اور اب اس کے چہرے سے تھکن کے آثار واضح محسوس ہو رہے تھے۔۔۔

ٹھیک ہے میں جاتا ہوں تم دھیان سے لیٹنا۔۔۔ وہ کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چلنے لگا۔۔۔

ارہان دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوا ماہی جو کہ کھڑکی سے یہ دیکھ چکی تھی کہ ارہان گھر آ گیا ہے وہ بیڈ پر سمٹی بیٹھی تھی جیسے ہی ارہان کمرے میں داخل ہوا ماہی کا دل اپنی رفتار سے تیز دھڑکنے لگا۔۔۔

ارہان آہستہ آہستہ چلتا ہوا بیڈ کے قریب آیا اس کی نظریں ماہی پر ہی تھیں لیکن وہ خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔

وہ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی اس کے دل کی دھڑکن کیوں تیز ہو رہی ہو ہے کہ ارہان کے منہ سے سسکی نکلی ماہی نے فوراً اسے دیکھا وہ بیٹھنے لگا تھا جب اس کے بازو پر دباؤ پڑ گیا جس وجہ سے اسے بازو میں شدید تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

وہ تیزی سے اٹھ کر ارہان کی طرف بھاگی وہ ارہان کو دوسرے بازو سے پکڑ چکی تھی۔۔۔

ارہان نے گردن موڑ کر حیرت سے اس کی طرف دیکھا وہ یہ تو سمجھ گیا تھا کہ وہ اس کی مدد کے لیے آئی ہے لیکن اس کی آنکھوں میں آج کچھ تبدیلی تھی اس کی آنکھوں میں وہ پہلے والا غصہ اور نفرت نہ تھی۔۔۔

ماہی زیادہ دیر تک اس سے نظریں نہیں ملا پائی تھی تبھی نظریں جھکاتے ہوئے بیٹھنے میں اس کی مدد کرنے لگی۔۔۔

وہ ارہان پر جھکی ہوئی تھی ارہان اب بیٹھ چکا تھا جب ان دونوں کی نظریں آپس میں ملیں ماہی کی پلکوں میں لرزش پیدا ہونے لگی ارہان اس کا یہ بدلا روپ دیکھ کر دل ہی دل میں حیران تھا۔۔۔

و۔۔وہ اب طبیعت کیسی ہے۔۔۔ وہ پیچھے ہٹ کر کھڑی ہوتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔

بہتر ہے۔۔۔ وہ مختصر جواب دے کر آنکھیں موند گیا۔۔۔

ماہی ہاتھوں کو مسلتی ہوئی بیڈ کی دوسری طرف آکر بیٹھی رات سے لے کر اب تک وہ یہی سوچتی آئی تھی کہ ارہان نے اسے بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی تھی۔۔۔

کمرے میں گہری خاموشی تھی ارہان آنکھیں موندے لیٹا تھا جب ماہی اسے دیکھنے لگی وہ آج پہلی بار ارہان کو اتنے غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

خوبصورت آنکھیں جن کے دروازے ابھی بند تھے ان کے کنارے پر گھنی پلکوں کی جھالر اوپر کی طرف اٹھی ہوئی تھی کھڑی ناک باریک انابی ہونٹ اس کی ٹھوڑی ہلکی سی نوکدار تھی وہ اس کے چہرے کا ایکسرے کر رہی تھی جب اچانک ارہان نے آنکھیں کھولیں۔۔۔

ماہی ہڑبڑاتے ہوئی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔۔۔

و۔۔وہ میں کچن میں جا رہی ہوں کچھ چاہیے تو بتا دو۔۔۔ بلاوجہ بالوں کو درست کرتے ہوئے بولی۔۔۔

ایک کپ چائے کا چاہیے سہانا سے کہو بنا دے۔۔۔

اثبات میں سر ہلاتی ہوئی وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی چاہیے تو اسے کچھ نہیں تھا لیکن اپنی چوری پکڑی جانے پر اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو کچن جانے کا بہانا لگا دیا۔۔۔

وہ سہانا سے چائے کا کہنے لگی تھی کہ اچانک رکی اور پھر کچن میں گھس گئی۔۔۔

وہ خود چائے بنانے لگی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ یہ کیوں کر رہی ہے چولہے پتیلی رکھنے کے بعد وہ ایک ایک کر کے چائے بنانے کے سبھی اجزاء پتیلی میں ڈال رہی تھی۔۔۔

اسے چائے بنانی تو نہیں آتی تھی لیکن چائے کیسے بنتی ہے اس نے یہ سن رکھا تھا اس لیے اب وہ چائے بنانے کا پہلا تجربہ کر رہی تھی۔۔۔

کچھ دیر بعد جب دودھ گلابی سے رنگ کا ہو گیا اس نے کپ میں ڈال کر کپ ٹرے میں رکھا۔۔۔

دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی اور ارہان کے آگے ٹرے کی پہلے تو وہ اس کی اس خدمت پر حیران ہوا پھر کپ اٹھا لیا۔۔۔

ماہی اس کے سر پر کھڑی یہ سوچ رہی تھی کب وہ چائے کا گھونٹ بھرے اور کب اس کی تعریف کرے۔۔۔

ارہان نے جیسے ہی چائے کا گھونٹ بھرا اس کے چہرے پر کوئی برا تاثر نہ آیا۔۔۔

تم نے بنائی ہے۔۔۔ ارہان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔۔۔

اچھی بنی ہے تھینکس۔۔۔

ارہان کے جواب پر وہ دل ہی دل میں خوش ہوتی ہوئی اپنی جگہ آکر بیٹھی۔۔۔

ارہان نے آدھا کپ پی کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا دوائیوں کے زیرِ اثر اسے نیند آرہی تھی وہ پانچ منٹ کے اندر سو چکا تھا۔۔۔

ماہی نے اسے سوتا دیکھا تو کپ اٹھایا اس کا ارادہ اسے کچن میں رکھنے کا تھا۔۔۔

ارے چائے تو آدھی پی ہے۔۔۔

وہ زیرِ لب بڑبڑائی پھر اپنی چائے کا مزے دار ذائقہ چکھنے کے لیے اس نے ایک بڑا سا گھونٹ بھرا جیسے ہی چائے اس کے منہ میں گئی ویسے ہی فوارے کی صورت میں باہر نکلی اتنی بد ذائقہ چائے اس نے آج تک نہیں پی تھی۔۔۔

اس نے حیرت سے سوئے ارہان کی طرف دیکھا جو اس کا دل رکھتے ہوئے آدھا کپ چائے کا پی گیا تھا۔۔۔

ماہی جان گئی تھی کہ ارہان کو معلوم ہو گیا ہو گا ایسی چائے سہانا نہیں بنا سکتی بلکہ ماہی نے ہی بنائی ہے۔۔۔

منہ بسورتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئی اس کے جانے کے بعد ارہان نے آنکھیں کھولیں اور ہلکا سا مسکرایا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *