Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal NovelR50584 Tere Dil K Dar Py (Episode 18)
Rate this Novel
Tere Dil K Dar Py (Episode 18)
Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal
آخر ماہی کہاں ہے تم مجھے بتاتی کیوں نہیں سفینہ اتنے دن ہو گئے ہیں پہلے تو تم نے اس کے ٹرپ کا بہانہ لگایا بھلا میں ماہی کو نہیں جانتا۔۔۔؟؟؟ خون ہے وہ میرا وہ مجھے ہاسپٹل میں مرتا چھوڑ کر ٹرپ پر جا سکتی ہے کیا۔۔۔
بالآخر محمود صاحب کا ضبط ٹوٹ پڑا تھا آج انہوں نے ٹھان لیا تھا وہ سفینہ سے اصل بات کا پتہ لگا کر رہیں گے۔۔۔
وہ ٹرپ پر ہی گئی ہے محمود بس آتی ہو گی آپ کی طبیعت پہلے ہی خراب ہے آپ کے لیے پریشانی لینا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
سفینہ کا بھی کوئی قصور نہیں تھا آخر وہ اسے ماہی کی حقیقت بتا کر نہیں چاہتی تھی کہ وہ پھر سے ہاسپٹل داخل ہو جائے۔۔۔
بس۔۔۔ محمود صاحب نے غصے سے ہوا میں ہاتھ اٹھایا
بہت بول لیا جھوٹ تم نے مجھے سیدھے سیدھے بتاؤ کہاں سے ماہی۔۔۔
ماہی اغوہ ہو گئی ہے بھائی صاحب۔۔۔
دروازے سے آتی آواز نے محمود صاحب کی زبان پر تالا لگایا تھا سفینہ بیگم نے گردن موڑ کر دیکھا تو وہ نصار تھا۔۔۔
کیااااا۔۔۔ محمود صاحب حواس باختہ سے بولے۔۔۔
ہاں بھائی صاحب کسی نے ہماری ماہی کو اغوہ کر لیا ہے۔۔۔ وہ کہتے ہوئے آگے بڑھے۔۔۔
محمود صاحب دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے زمین پر گرے ان کا جسم اکڑ چکا تھا آنکھیں باہر نکلنے کو تھیں انہیں دیکھ کر سفینہ اور نصار دونوں کی اس کی طرف بھاگے۔۔۔۔
تم نے کیوں بتایا نصار کیا تم نہیں جانتے تھے ماہی کی حقیقت جان کر ان پر کیا اثر پڑے گا۔۔۔ سفینہ بیگم روتے ہوئے چلّا اٹھیں۔۔۔
م۔۔میں سچ میں نہیں جانتا تھا کہ بھائی اس بات کا اتنا اثر لیں گے۔۔۔ نصار صاحب نے پریشانی سے جواب دیا۔۔۔
ایمبولینس کو کال کرو اب دیکھ کیا رہے ہو۔۔۔ سفینہ بیگم نے روتے ہوئے کہا ساتھ وہ محمود صاحب کا چہرہ تھپتھپا رہی تھیں۔۔۔
نصار صاحب نے جلدی سے ایمبولینس کو کال کی تھی۔۔۔



ولید ارہان کا چیک اپ کروا کے ہاسپٹل سے واپس گھر آیا اس کے ساتھ ارہان بھی گاڑی سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔
جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا ماہی نے تیزی سے رخ موڑ کر اس کی طرف کمر کی ارہان کو اس پہ شک ہوا وہ ہاتھ میں پکڑے پیکس بیڈ پہ رکھتا ہوا اس کے قریب گیا اور اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔
لیکن ماہی کو دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا اس کی دونوں آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں گال بھی بھیگے ہوئے تھے۔۔۔۔
کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہو۔۔۔
ارہان نے اس کی ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
پ۔۔پاپا ہاسپٹل میں تھے و۔۔وہ بہت بیمار تھے پتہ نہیں اب کیسے ہوں گے اور ماما نے ان کو میرا کیسے بتایا ہو گا مجھ۔۔مجھے بہت یاد آرہی ہے ان کی۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے سسکنے لگی تھی۔۔۔
ارہان کو اس کے لیے برا محسوس ہو رہا تھا اس کا رونا غلط نہیں تھا آخر وہ اپنے ماں باپ کو کیسے بھول سکتی تھی۔۔۔
م۔۔مجھے پاپا سے ملنا ہے۔۔۔
ارہان نے اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر اس کے آنسو صاف کیے۔۔۔
روؤ مت میں تمہیں تمہارے پاپا سے بہت جلد ملواؤں گا۔۔۔
ارہان کی بات سنتے ہی ماہی نے اس کی طرف دیکھا وہ روتے ہوئے اس کے سینے سے لپٹ گئی۔۔۔۔
کندھے پہ دباؤ پڑنے کی وجہ سے ارہان نے درد سے آنکھیں بند کیں لیکن اس نے ماہی کو پیچھے نہیں کیا تھا وہ رو رہی تھی اور ارہان بھی چاہتا تھا کہ وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لے اس نے ماہی کے گرد ایک بازو کا گھیرا بنایا۔۔۔
کچھ دیر بعد جب ماہی کا رونا بند ہوا تو وہ دھیرے سے ارہان سے الگ ہوئی ارہان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
ارہان سے آنکھیں ملاتے ہوئے ماہی کی پلکیں لرزنے لگیں وہ نظریں جھکا کر اس سے دور ہوئی۔۔۔
ارہان بیڈ پر بیٹھا نظریں ابھی بھی اسی پر ہی تھیں اسے پہلا منظر یاد آیا جب ماہی کو اس نے اس کی سالگرہ پر دیکھا تھا اس دن وہ کتنی خوش دکھائی دے رہی تھی گڑیا کی گھومتی پھر رہی تھی اور جب سے اس کے گھر میں آئی تھی اس نے ایک بار بھی ماہی کو ہنستے نہیں دیکھا تھا ارہان کو اس بات کا افسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔
ہ۔۔ہم کب جائیں گے۔۔۔ وہ بھی بیڈ کے دوسری طرف بیٹھ چکی تھی۔۔۔
کچھ دن انتظار کرو صحیح وقت آتے ہی تمہیں لے جاؤں گا۔۔۔
ماہی کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر اس کا دل بھی پر سکون سا ہو گیا تھا۔۔۔
تم تیاری کرو دو گھنٹے رہ گئے ہیں شازل اور سہانا کے نکاح میں۔۔۔
و۔۔وہ میں پہنوں کیا۔۔۔ ماہی نے لب بھینچتے ہوئے کہا۔۔۔
ارہان نے بیڈ سے پیکس اٹھائے جو کمرے میں آکر اس نے رکھے تھے۔۔۔
یہ کیا ہے۔۔۔ اس نے ماہی کی طرف بڑھایا تو ماہی نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
کھول کر دیکھ لو۔۔۔
ماہی نے پیک کھولا تو میں نیلے رنگ کی خوبصورت فراک تھی جسے دیکھتے ہی ماہی کی آنکھوں میں چمک ابھری جو ارہان بخوبی دیکھ سکتا تھا۔۔۔
ی۔۔یہ کب لائے۔۔۔ ماہی نے خوشی سے ارہان سے پوچھا۔۔۔
ابھی جب چیک اپ کروانے گیا تھا تمہیں پسند آئی کیا۔۔۔ہاں بہت خوبصورت ہے۔۔۔ وہ فراک کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
اب دوسرا پیک کھولو۔۔۔
ارہان کی آواز پر اس نے دوسرا پیک کھولا تو ہائی ہیل کے ساتھ سِلور رنگ کے خوبصورت سینڈل تھے ماہی کو تو پہلے ہی شاپنگ اور نئی چیزوں کا بڑا شوق تھا۔۔۔
اب وہ خوشی سے اس کے ساتھ میچنگ جیولری اور میک اپ کا سامان نکال کر دیکھ رہی تھی پورا بیڈ انہی چیزوں سے بھر گیا تھا۔۔۔
ارہان نے نظریں بھر بھر کر دیکھ رہا تھا اس نے آج پہلی بار ماہی کو ہنستے دیکھا تھا۔۔۔



میم ہو گیا ہے دیکھ لیں۔۔۔
پارلر والی لڑکی نے ماہی کو تیار کر کے فارغ ہوئی۔۔۔
ماہی نے خود کو آئینے میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو اس کی منگنی کے دن اس کی آنکھوں میں تھی۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئی خود کو دیکھ رہی تھی بالوں کو کھلا چھوڑ کر نیلے فراک کے ساتھ سِلور جیولری اور سلِور سینڈل میں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔
میں اب برائڈل کو تیار کر دیتی ہوں۔۔۔
ٹھیک ہے جاؤ۔۔۔ ماہی نے جواب دیا تو لڑکی سامان اٹھاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
لڑکی کو کمرے سے نکلتا دیکھ کر ارہان کمرے میں داخل ہوا تو کہ وہ پہلے ہی تیار ہو چکا تھا کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر ماہی پر پڑی تو بے ساختہ اس کے قدم رکے۔۔۔
ماہی نے ارہان کو یوں خود کو دیکھتا پایا تو نظریں جھکا گئی ارہان اس کے نزدیک آکر کھڑا ہوا اور اسے دیکھنے لگا۔۔۔
ماہی میں اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ ارہان سے نظریں ملا سکے ارہان نے اس کی ٹھوڑی پکڑتے ہوئے اس کا رخ اوپر کیا تو ماہی کی آنکھیں بے ساختہ ارہان کی آنکھوں سے ملیں۔۔۔
وہ ایک پل کے لیے ساکت ہوئی اس کے دل کی دھڑکن اتھل پتھل ہونے لگی تھی پلکیں لرز رہی تھیں وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی حالت پر قابو نہیں پا سکی تھی۔۔۔
کچھ دیر یوں ہی اسے دیکھتے رہنے کے بعد ارہان نے مزید قریب ہو کر اس کی پیشانی پر ہونٹ رکھے تو ماہی کی بے ساختہ آنکھیں بند ہوئیں۔۔۔
ارہان۔۔۔ باہر سے ولید کی آواز آنے پر ارہان اسے دیکھتا ہوا اس سے دور ہوا اور دروازہ کھولے باہر نکل گیا۔۔۔
اس کے جاتے ہی وہ اپنی سانسیں بحال کرنے لگی اس کی یہ حالت پہلی بار ہو رہی تھی یہ احساس پہلی بار اٹھا تھا۔۔۔
کیا یہ محبت ہے۔۔۔ ماہی نے بے ساختہ خود سے سوال کیا۔۔۔
تو پھر عباد کے ساتھ کیا تھا۔۔۔ ایک بار پھر سے اس نے خود سے سوال کیا۔۔۔
لیکن عباد کے ساتھ مجھے کبھی بھی ایسا احساس نہیں ہوا یہاں تک کہ اس نے بہت بار میرا ہاتھ بھی پکڑا پھر میرے دل کی دھڑکن تیز کیوں نہیں ہوتی تھی میری پلکیں کیوں نہیں لرزتی تھیں۔۔۔
وہ ساکت کھڑی خود سے کئی سوال کر رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر میں سہانا کو تیار کر دیا گیا تھا شازل کی باچھیں کھلی ہوئی تھیں ماہی بات بات پہ اسے سہانا کی لیے چھیڑ رہی تھی جبکہ سہانا کٹھ پتلی کی مانند ساکت بیٹھی تھی۔۔۔
نکاح کے مرحلے طے ہونے کے بعد سہانا کو شازل کے کمرے میں بیٹھا دیا گیا تھا۔۔۔
سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے جبکہ شازل ابھی تک اپنے کمرے میں نہیں گیا تھا وہ لان میں ٹہل رہا تھا جب ماہی کچن سے پانی لینے آئی تو اسے دیکھا۔۔۔
شازل تم یہاں کیا کر رہے ہو سہانا تمہارا انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔
ماہی نے حیرت سے اسے پوچھا۔۔۔
بھابھی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اس کے سامنے جانے سے۔۔۔
اس کی بات پر ماہی کا بے ساختہ قہقہ لگا۔۔۔
تم تو ایسے گھبرا رہے ہو جیسے دلہا نہیں دلہن ہو۔۔۔
بھابھی مذاق نہیں کریں پلیز میں واقع ہی گھبرا رہا ہوں سہانا کا سامنا کیسے کروں اس نے مجبوری میں یہ نکاح کیا ہے وہ ولید بھائی کو انکار نہیں کر سکتی تھی لیکن میں تو بھائی کو کہہ سکتا تھا کہ مجھے یہ نکاح نہیں کرنا لیکن میں اپنی محبت کے آگے مجبور تھا لیکن سہانا کو تو یہ بات نہیں معلوم کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اگر اس نے مجھے قبول نہ کیا تو۔۔۔
وہ گھبراتے ہوئے اسے کہہ رہا تھا۔۔۔
ارے تو بتا دو نا اسے کہ محبت کرتے ہو اس سے تبھی تو وہ تمہیں قبول کرے گی اور ویسے بھی نہ قبول کرنے کے تو چانسز ہی نہیں ہیں آخر اب تم اس کے شوہر ہو۔۔۔
لیکن بھابھی میں اسے نہیں بتا سکتا مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے۔۔۔
شازل تم ابھی اس کے پاس جاؤ گے اور اسے اپنے دل کی بات بتاؤ گے پرامس می۔۔۔
کیا پرامس۔۔۔ شازل کو اظہار محبت میں موت نظر آرہی تھی۔۔۔
ہاں کرو پرامس ابھی جلدی کرو۔۔۔ ماہی ضد پر آگئی تھی نہ چاہتے ہوئے بھی شازل کو وعدہ کرنا پڑا۔۔۔
اوکے پرامس۔۔۔
چلو جاؤ اب ورنہ وہ پریشان ہو گی کہ تم بھی اس کے ساتھ خوش نہیں ہو تبھی اس کے پاس نہیں جا رہے۔۔۔
اسے ڈانٹتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی اور شازل نے اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ کیا۔۔۔
دروازے کے پاس کھڑے ہو کر اس نے ایک دو بار لمبا سانس لیا پھر دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔۔۔
بیڈ کے پاس کھڑے ہو کر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے یا کیا کہے ہمت کرتے ہوئے وہ اس کے قریب بیٹھا۔۔۔
وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔
س۔۔سہانا و۔۔وہ۔۔۔
اس کے ہکلانے کی وجہ سے سہانا نے آنکھیں اٹھا کر اسے حیرت سے دیکھا۔۔۔
شازل کے چہرے کے رنگ اڑے ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر وہ عجیب تجسس کا شکار ہوئی آخر شازل ایسے کیوں پیش آرہا تھا۔۔۔
بالآخر اس نے بنا کچھ کہے سہانا کا ہاتھ پکڑ کر گولڈ کا کنگن اس کی ہاتھ میں پہنا دیا۔۔۔
سہانا نے ایک نظر کنگن کو دیکھا پھر اٹھنے لگی جب شازل نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔
سہانا نے اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے شازل کو اپنی ساری ہمت جاتی ہوئی لگ رہی تھی اس نے سہانا کا دوپٹہ آگے کر کے اس پر گھونگھٹ اوڑھ دیا۔۔۔
مجھے نہیں سمجھ آرہا کہ میں بات کہاں سے شروع کروں لیکن۔۔۔ آج میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔۔۔ وہ خاموش ہوا۔۔۔
گھونگھٹ کی اوڑھ میں سہانا حیرت زدہ سی اس کی بات سن رہی تھی۔۔۔
سہانا میں نے بچپن سے لے کر آج تک صرف ایک ہی لڑکی کو چاہا ہے ایک ہی لڑکی سے محبت کی ہے صرف ایک ہی لڑکی کو اپنی زندگی سمجھا ہے اس کے علاؤہ میں نے کبھی کسی کا تصور بھی نہیں کیا یہاں تک کہ کالج میں بہت سی لڑکیوں نے مجھے پرپوز کیا۔۔۔ وہ اپنی آخر بات پر رکا جبکہ پرپوز کی بات پر سہانا حیران ہوئی وہ ایسا لگتا تو نہیں تھا۔۔۔
پلیز غلط مت سمجھنا دراصل یہ میرا فرسٹ ٹائم ہے اس لیے کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ وہ اپنے سر میں تھپکی لگاتے ہوئے اسے کہنے لگا۔۔۔
کالج میں بہت لڑکیوں نے پرپوز کیا تھا لیکن میں نے کبھی کسی پر توجہ نہیں دی کیوں مجھے صرف ایک لڑکی پسند تھی جسے پرپوز کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔۔۔۔ وہ خاموش ہوا۔۔۔
سہانا ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ وہ لڑکی کون تھی جب شازل کی آواز پر وہ حیرت زدہ رہ گئی۔۔۔
اور وہ لڑکی تم تھی سہانا۔۔۔
تم تھی تم ہو اور تم ہی رہو گی۔۔۔ اس کی بات پر سہانا ششدر رہ گئی تھی شازل نے تو اسے کبھی محسوس بھی نہیں کروایا تھا کہ وہ اسے چاہتا ہے پھر اب اچانک یہ سب کیسے وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ شازل پھر سے بولا۔۔۔
تم نے مجھ سے بہت بار پوچھا کہ میں ارہان کے ساتھ بھائیوں کی طرح کیوں سلوک نہیں کرتا کیوں میں اس سے اکھڑا اکھڑا سا رہتا ہوں اس کا جواب بھی یہی ہے سہانا۔۔۔ میں تم سے محبت کرتا تھا لیکن تم ارہان کو چاہتی تھی یہی وجہ تھی کہ مجھے ارہان سے نفرت ہونے لگی آخر میرے ساتھ ایسے کیوں جسے میں نے چاہا اس کی دعاؤں میں میرے بھائی کا نام۔۔۔۔ وہ خاموش ہوا
لیکن دیکھو اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا میرے خاموشی میرے صبر کا پھل آج مجھے مل گیا اس نے تمہیں میری حصے میں لکھ دیا اور تم آج میری ہو کر میرے سامنے بیٹھی ہو۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں کبھی کوئی غم کبھی کوئی تکلیف نہیں دوں گا تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا بس میری محبت کو ٹھکرانا مت۔۔۔ میں آج تک ڈرتا آیا ہوں یہ سوچ کر کہ اگر تم سے اظہار کرنے پر تم نے میری محبت کو ٹھکرا دیا تو میں جی نہیں پاؤں گا میں یہ ازیت برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ بات کرتے کرتے اس کی آواز بھرنے لگی تھی۔۔۔
سہانا نے گھونگھٹ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں آنسو سے بھری ہوئی تھیں سہانا کو اسے وہ اپنے جیسا لگ رہا تھا جیسے ارہان کے ٹھکرانے پر سہانا کا دل ٹوٹا تھا اس میں جینے کی خواہش ختم ہو گئی تھی اسے شازل بھی بلکل ویسے ہی لگ رہا تھا اسے پا کر بھی ٹوٹا ہوا۔۔۔
جب وہ اس کے جیسا تھا تو پھر وہ اس کے غم کو کیسے نہ سمجھ پاتی بے ساختہ آگے بڑھ کر وہ اس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔
شازل جو اس کے ردعمل سے گھبرا رہا تھا سہانا کے یوں سینے سے لگ جانے پر آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے سہانا کے گرد بازوؤں کا گھیرا تنگ کیا۔۔۔
اگر مجھے معلوم ہوتا کوئی مجھ سے اتنی محبت بھی کرتا ہے تو میں اس پتھر دل انسان کے پیچھے اپنی زندگی کے اتنے سال کبھی ضائع نہ کرتی۔۔۔
سہانا کی بات پر شازل نے بے ساختہ آنکھیں کھولیں۔۔۔
تم اب میری زبان سے کبھی اس کا نام نہیں سنو گے میری زندگی میں میرے دل میں اب صرف تم خود کو ہی دیکھو گے شازل۔۔۔
وہ رو رہی تھی کیونکہ اسے اس کا ہمدرد مل گیا تھا۔۔۔۔
شازل نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کی پیشانی پر محبت کی پہلی مہر ثبت کی۔۔۔



ابھی چینج مت کرو۔۔۔
ماہی جو کپڑے بدلنے کے لیے واش روم جا رہی تھی ارہان کی آواز پر رکی۔۔۔
کیوں۔۔۔ اس نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
ارہان خاموش ہوا ورنہ دل تو چاہ رہا تھا اسے کہے کہ تمہیں دیکھنے سے ابھی دل نہیں بھرا۔۔۔
ماہی اس کی خاموشی سمجھتے ہوئے آرام سے بیٹھ گئی۔۔۔
آپ کی طبیعت اب کیسی ہے۔۔۔
کافی بہتر ہے اب تو۔۔۔
وہ دونوں دیواروں کو تکتے ہوئے کوئی موضوع تلاش کر رہے تھے تا کہ بات جاری رہے۔۔۔
تم پہلے کی طرح مجھ سے لڑتی کیوں نہیں۔۔۔
ارہان کے سوال پر وہ حیران ہوئی۔۔۔
کیوں آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ سے لڑوں۔۔۔ ماہی نے اسے گھورا
اب ایسا بھی نہیں کہہ رہا میں۔۔۔ وہ دھیرے سے مسکرایا
پھر کیا مطلب ہے آپ کا۔۔۔
یہی کہ آج کل لڑنے کی بجائے محبت سے بات کرتی ہو۔۔۔ ارہان اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا کہہ گیا جبکہ ماہی کا منہ کھل گیا۔۔۔
اس تبدیلی کہ وجہ جاننا چاہتا ہوں۔۔۔
ن۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے کب محبت سے بات کی آپ سے۔۔۔ وہ ہلکلانے لگی تھی جس پر ارہان کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔۔
کیا تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو۔۔۔
اچانک ارہان کے اس سوال پر ماہی کے اوسان خطا ہوئے۔۔۔
م۔۔مطلب۔۔۔ وہ انجان بنی۔۔۔
اتنا مشکل سوال تو نہیں پوچھا میں نے۔۔۔
مجھے ان کپڑوں میں گرمی لگ رہی ہے مجھے فریش ہونا ہے۔۔۔ وہ تیزی سے اٹھتے ہوئے واش روم گھس گئی۔۔
اس کے جانے کے بعد وہ کھل کے ہنسا تھا۔۔۔
جاری ہے
