Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

آئس کریم کھانے کے بعد وہ تینوں واپس گاڑی میں آکر بیٹھے تھے۔۔۔
ایک گھنٹہ لیٹ ہو جانے کی وجہ سے رائمہ پریشان تھی،،،
رائمہ کیوں پریشان ہوتی ہو میں ہوں نا انکل آنٹی سے بات کر لوں گی،،،
اگلی نشست پہ بیٹھی ماہی نے گردن موڑ کر رائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ویسے کل رات منگنی کے فنکشن پر تو رائمہ کافی بول رہی تھی اور اب تو اسے سانپ ہی سونگھ گیا ہے،،،
عباد نے مرر سے اس کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
ایسی ہی ہے یہ اپنی مرضی کی مالک ہے اس کا جب دل چاہے زیادہ بولتی ہے جب دل چاہے کم بولتی ہے۔۔۔
مجھے تو سمجھ نہیں آتی اس کی اب کل رات بھی تو میں نے انکل آنٹی کو کال کر کے بتا دیا تھا اور ڈرائیور اسے چھوڑ آیا تھا اور اب دیکھو دن دیہاڑے اسے ڈر لگ رہا ہے،،،
میں ڈر نہیں رہی ہوں ماہی بس اسی لیے پریشان ہوں ایک تو کل میں پہلی بار رات کے وقت اتنی دیر تک باہر رہی اور آج پھر لیٹ میرا یہی حال رہا نا تو امی ابو نے یونیورسٹی آنا بند کروا دینا ہے۔۔۔
اس نے پریشان لہجے میں ماہی کو سمجھانا چاہا۔۔
اوہو نہیں ہوتا تمہارا یونیورسٹی آنا بند اب چپ کر کے آرام سے بیٹھو جب تک میں ہوں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اوکے،،،
ماہی اسے تسلی دیتی ہوئی سامنے کی طرف رخ کر گئی۔۔۔
عباد نے رائمہ کے گھر کے آگے گاڑی روکی چونکہ عباد روز ماہی کو یونیورسٹی سے پِک کرنے آتا تھا اور ماہی ہمیشہ رائمہ کو اپنے ساتھ لے جاتی اور اس کے گھر چھوڑتی اسی لیے عباد کو اس کے گھر کا ایڈریس اب زبانی یاد ہو چکا تھا،،،
وہ دونوں گاڑی سے باہر نکلیں اور گھر میں داخل ہوئیں۔۔۔
رائمہ درمیانے طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اس کا گھر بھی اس کی حیثیت کے ہی مطابق تھا،،،
ارے ماہی بیٹا،،،
رائمہ کی امی سیکنہ بیگم نے اٹھ کر ماہی کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔
کیسی ہیں آپ آنٹی،،،
میں بلکل ٹھیک ہوں بیٹا تم کیسی ہو،،،
وہ نہایت شفقت سے بولیں۔۔۔
جی میں بھی ٹھیک ہوں دراصل میں آپ کو بتانے آئی تھی کہ آج یونی میں ہمارا ایک ایکسٹرا لیکچر تھا اسی لیے رائمہ لیٹ ہو گئی،،،
ماہی نے جھوٹ بولا تو رائمہ نے آنکھیں پھاڑے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
اگلے پل ماہی نے اسے کہنی ماری جس کا مطلب تھا اپنے منہ کا زاویہ درست رکھو،،،
کوئی بات نہیں بیٹا بس میں تھوڑی پریشان ہو رہی تھی لیکن خیر ہے لیکچر تھا تو پڑھنے ہی تو بھیجتے ہیں اسے،،،
جی آنٹی بلکل صحیح کہا آپ نے چلیں اب میں چلتی ہوں عباد میرا ویٹ کر رہا ہے،،،
اتنے دنوں بعد گھر آئی ہو بیٹھو کچھ کھا پی لو،،،
آنٹی ابھی تو چلتی ہوں پہلے ہی لیٹ ہو چکی ہے نیکسٹ ٹائم ضرور کچھ کھاؤں گی،،،
ٹھیک ہے بیٹا فی امان اللہ،،،
انہوں نے پھر سے ماہی کے سر پر ہاتھ رکھا اور ماہی باہر کے دروازے کی طرف چل دی۔۔۔
بہت پیاری بچی ہے اللہ ہمیشہ خوش رکھے اتنے امیر خاندان سے ہو کر بھی ہم غریبوں کو اتنی عزت دیتی ہے ورنہ ایسے گھرانوں میں اس طرح کا سلیقہ کب سیکھایا جاتا ہے،،،
سکینہ بیگم نے رائمہ سے کہا جس پر رائمہ نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
ماہی جیسے ہی گاڑی میں آکر بیٹھی عباد بولا،،،
جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی بتا دیتی کہ آئس کریم کھانے میں دیر ہو گئی،،،
کیا یہ میں آنٹی کو بتاتی تمہیں پتہ تو ہے وہ مڈل کلاس لوگ ہیں ایسی باتوں کو وہ اچھا نہیں سمجھتے کہ ان کی جوان بیٹی ہوں ریسٹورنٹ میں جاتی پھرے اس لیے بہتر تھا جھوٹ ہی بول دوں،،،
اچھا چھوڑو ساری باتیں یہ بتاؤ رات نیند کیسی آئی،،،
نیند کیسی آنی تھی جیسی پہلے آتی تھی ویسی ہی آئی،،،
ماہی نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔
کل رات ہمارے لیے سپیشل تھی کل ہماری انگیجمینٹ ہوئی تھی،،،
ہاں تو،،،
ماہی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا جب عباد نے بنا کچھ کہے اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا۔۔۔
تو یہ کہ تمہارا شہزادہ تمہارے خواب میں نہیں آیا کیا،،، عباد کا اچانک رومانٹک موڈ ہو جانے پر ماہی کو حیرت کا جھٹکا لگا
ہائے ہائے چھوڑو میرا ہاتھ یہ اچانک تمہیں رومانٹک ہونے کا کونسا شوق چڑھ جاتا ہے،،،
اوہ خدایا میں کیا کروں یہ لڑکی کب سیرئیس ہو گی،،، عباد نے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
کبھی بھی نہیں۔۔۔
یہ کہتے ہی ماہی نے قہقہ لگایا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *