Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 11)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

ولید بھائی سہانا کہاں ہے۔۔۔

سہانا ارہان کے نکاح کے بعد سے غائب تھی شازل نے پورے گھر میں اسے ڈھونڈنے کے بعد ولید سے پوچھا۔۔۔

لان میں جاتے دیکھا تھا میں نے اسے۔۔۔

اس نے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوئے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔۔۔

لیکن شازل اسے لان میں دیکھ چکا تھا وہ وہاں نہیں تھی۔۔۔

شازل نے ایک بار پھر سے تسلی کرنے کے لیے لان کی طرف قدم بڑھائے سہانا وہاں نہیں تھی وہ وہاں سے چلنے لگا کہ اچانک لان کی پچھلی جگہ ذہن میں آتے رکا۔۔۔

رات گہری تھی اور پچھلی طرف کوئی لائٹ بھی نہیں جل رہی تھی شازل جیسے ہی وہاں پہنچا سہانا دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بت بنے بیٹھی تھی۔۔۔

سہانا یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔ شازل نے فوراً لائٹ آن کی سہانا سرخ آنکھوں سے کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔۔۔

سہانا کی یہ حالت دیکھ کر شازل کے اندر تک تکلیف اٹھی تھی وہ تیزی سے گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھا۔۔۔

کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے کیا ہوا ہے۔۔۔

اس کے بکھرے بالوں کو سمیٹتے ہوئے اس نے فکر سے پوچھا۔۔۔

وہ ابھی بھی نگاہ ایک جگہ ٹکائے ہوئے تھی جیسے کسی بڑے صدمے میں تھی۔۔۔

سہانا جواب دو تم بول کیوں نہیں رہی۔۔۔

شازل کو اس کی خاموشی مزید پریشان کر رہی تھی وہ ابھی اسی سوچ میں تھا کہ سہانا نے پھر سے رونا شروع کیا۔۔۔

کیوں رو رہی ہو۔۔۔ اس کے رونے کی وجہ وہ جان کر بھی انجان بن رہا تھا۔۔۔

بے آواز روتے ہوئے سہانا شدت سے شازل کے سینے سے لگی اب وہ اونچی آواز میں رو رہی تھی لیکن اس کی آواز شازل کے سینے میں دب کر وہیں ختم ہو رہی تھی۔۔۔

سہانا۔۔۔ اسے تکلیف میں دیکھ کر اس کا اپنا دل کٹ رہا تھا۔۔۔

ک۔۔کیوں م۔۔میرے ساتھ ہی کیوں شازل۔۔۔ ہچکیوں سے روتے ہوئے وہ بمشکل بولی۔۔۔

کیوں کیا ارہان نے میرے ساتھ ایسے۔۔۔ میں نے بچپن سے اب تک۔۔۔صرف اسی سے محبت کی۔۔۔ پھر مجھے یہ اذیت کیوں ملی۔۔۔

اس کی بات سن کر شازل نے دکھ سے آنکھیں بند کیں۔۔۔

میرا کیا گناہ تھا۔۔۔ کیوں ہوا میرے ساتھ یہ۔۔۔

آج پہلی بار تھا کہ سہانا شازل سے اس طرح بات کر رہی تھی شاید وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی تھی ورنہ وہ اپنے جذبات اس سے کبھی شیئر نہیں کرتی تھی۔۔۔

کیوں اسے کبھی میری محبت محسوس نہیں ہوئی۔۔۔ کیوں اس نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی مجھے اتنی بڑی تکلیف دی۔۔۔

شازل کو اپنی شرٹ اس کے آنسوؤں سے بھیگتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

م۔۔میں مر جاؤں گی شازل۔۔۔

نہیں میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔

شازل نے سختی سے اس کے گرد بازوؤں کا گھیرا باندھا۔۔۔

کچھ نہیں ہو گا تمہیں سمجھی تم۔۔۔

شدت سے آنکھیں بند کیے وہ تکلیف سے بولا۔۔۔

کاش تمہیں کبھی میری محبت بھی نظر آتی سہانا کاش تمہیں میرا چھپ چھپ کر دیکھنا کبھی سمجھ میں آتا۔۔۔

جب جب تم ارہان کو دیکھتی تھی میرے دل پہ کیا گزرتی تھی کاش تم سمجھ پاتی۔۔۔

آج تک میں نے تمہارے علاؤہ کسی کا تصور بھی نہیں کیا تمہیں میری یہ محبت نظر کیوں نہیں آئی۔۔۔

کیا ارہان کی محبت نے تمہیں اتنا اندھا کر دیا جو سب کچھ سامنے ہونے کے باوجود تم کبھی میری بولتی آنکھوں کو سمجھ نہیں پائی۔۔۔

شازل کی آنکھ سے آنسو نکل کر سہانا کے کندھے پر بہہ گیا تھا وہ آج بھی اس سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پایا تھا۔۔۔

جانے کیسا خوف تھا شاید وہ اس سے کبھی نہ کہہ پاتا کہ وہ اسے کس قدر چاہتا ہے۔۔۔

یا شاید اس میں اتنی ہمت ہی نہ تھی کہ وہ اسے کبھی اپنے دل کا حال بتا پائے شاید وہ سہانا کو کھونے سے ڈرتا تھا۔۔۔

وہ ابھی بھی ہچکیوں سے روتی ہوئی اس کے سینے میں چھپی ہوئی تھی۔۔۔

ولید جو کہ سہانا کو دیکھنے کے لیے لان میں آیا تھا پچھلی طرف لائٹ آن دیکھ کر وہ اس طرف بڑھا تھا۔۔۔

سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے پاؤں تلے سے زمین نکلی وہ سہانا کی سبھی باتیں سن چکا تھا اس کا پھوٹ پھوٹ کر رونا وہ دیکھ چکا تھا۔۔۔

لیکن شازل کی آنکھ سے نکلنے والا آنسو ولید کو اس کے دل میں چھپی سہانا کے لیے محبت سے آگاہ کر چکا تھا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

محمود صاحب کو ہوش آچکا تھا سب ان سے مل چکے تھے وہ بار بار ماہی کا پوچھ رہے تھے۔۔۔

سفینہ بیگم نے بہانا لگا دیا تھا کہ ماہی ٹرپ کے ساتھ گئی ہے۔۔۔

محمود صاحب حیران تو ہوئے تھے لیکن مزید کچھ نہیں کہا۔۔۔

انہوں نے جب کال پہ بات کرنے کا کہا تو سفینہ بیگم نے فون بند ہونے کا کہہ کر ٹال دیا۔۔۔

ڈاکٹر نے انہیں پریشانی کی بات بتانے سے منع کیا تھا۔۔۔

ماہی کے غائب ہونے پر کوئی سوراغ نہیں مل پا رہا تھا جس وجہ سے ماہی کو ڈھونڈنا ناممکن ہوتا جا رہا تھا۔۔۔

عباد کا آج صبح سے دل گھبرا رہا تھا ماہی کی شدت سے یاد آرہی تھی۔۔۔

سفینہ بیگم نے الگ سے رو رو کر برا حال کر رکھا تھا۔۔۔

ماہی کس حال میں ہے یہ سوچ سوچ کر وہ دن بہ دن کمزور ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ہاں تو میڈم کیا کہہ رہی تھی کہ مجھ سے نکاح نہیں کرے گی۔۔۔

ہونٹوں پہ طنزیہ مسکراہٹ لیے وہ ماہی کو چِڑاتے ہوئے بولا۔۔۔

ویسے بس اتنا ہی دم تھا کیا۔۔۔؟؟

پہلے تو اپنے دم پر بہت اتراتی تھی آج کیا ہوا ڈر گئی۔۔۔؟؟؟

چچ چچ چچ۔۔۔۔

وہ ہنستا ہوا اسے تپا گیا تھا۔۔۔

بکواس بند کرو خونی ہو تم۔۔۔

وہ بیڈ کے ساتھ دبک کر بیٹھی ہوئی دل ہی دل میں واقع ہی اس سے ڈر رہی تھی۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔ اس کی بات پر ارہان کا قہقہ گونج اٹھا۔۔۔

میڈم کے تیور بدلے بدلے سے لگ رہے ہیں آواز میں وہ رعب بھی نہیں رہا اور آنکھوں میں وہ بہادری بھی دکھائی نہیں دے رہی۔۔۔

وہ اس کے پاس بیٹھ کر اس کے چہرہ کا دائیں بائیں بغور جائزہ لیتے ہوئے بولا۔۔۔

دور ہٹو مجھ سے مجھے تم جیسے درندے کے ساتھ بات نہیں کرنی۔۔۔۔

وہ منہ موڑے اسے غصہ دکھانے لگی۔۔۔

ایک بار پھر سے ارہان نے قہقہ لگایا وہ اس کے یوں ڈر جانے پر بہت لطف اٹھا رہا تھا۔۔۔

آہ۔۔۔ بہت تھکاوٹ ہو گئی ہے آجاؤ شاباش میری ٹانگیں دباؤ۔۔۔

بستر پر سیدھا لیٹتے ہوئے اس نے نہایت آرام سے کہا جبکہ ماہی آنکھیں پھاڑے اس کی فرمائش پر اسے گھورنے لگی۔۔۔

گھور کیا رہی ہو ٹانگیں دباؤ۔۔۔

نہیں دباؤں گی تمہاری نوکر نہیں ہوں میں۔۔۔

ڈر اپنی جگہ لیکن انا اپنی جگہ رکھتے ہوئے اس نے تڑخ کر جواب دیا۔۔۔

ارہان اس کی دیدہ دلیری پر حیران ہوا۔۔۔

ٹانگیں بھی دباؤ گی تم آج نہیں تو کل یہ کام تو تم سے کروا کے ہی رہوں گا۔۔۔

دل میں سوچتے ہوئے اس نے پینٹ کی جیب سے سگریٹ اور لائٹر نکالا۔۔۔

ماہی نے حیرت سے سگریٹ کی طرف دیکھا اسے سگریٹ کے دھوئیں سے شدید نفرت تھی۔۔۔

ارہان نے جیسے ہی سگریٹ سلگائی وہ بول اٹھی۔۔۔

باہر جا کر پیو مجھے سگریٹ نہیں پسند۔۔۔

تمہیں نہیں پسند تو مجھے کیا مجھے پسند ہے تبھی پی رہا ہوں۔۔۔

دھوئیں کے کش چھوڑتا ہوا وہ اٹھ کر بیٹھا۔۔۔

سگریٹ کا دھواں جیسے ہی ماہی کے نتھنوں میں داخل ہوا اس نے تیزی سے ناک پر ہاتھ رکھا۔۔۔

ارہان نے دو انگلیوں سے سگریٹ منہ میں رکھتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ میں قابو کیا۔۔۔

چھوڑو میرے ہاتھ۔۔۔

دانت پیستے ہوئے اس نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا۔۔۔

ارہان نے ایک لمبا کش لینے کے بعد دھواں سیدھا اس کے چہرے پر پھونکا۔۔۔

ماہی ایک طرف چہرہ کیے کھانسنے لگی۔۔۔

انتہائی گھٹیا انسان ہو تم۔۔۔ وہ غصے سے پھنکاری۔۔۔

اور کمینہ بھی۔۔۔

ارہان نے اسے وہ بات یاد دلائی جب لاؤنچ میں بیٹھے اس نے سب کے سامنے ارہان کو کمینہ کہا تھا۔۔۔۔

ہے نا۔۔۔؟؟؟ منہ آگے کرتے ہوئے اس نے ایک بار پھر سے دھواں اس کے منہ پر پھونکا۔۔۔

وہ بری طرح کھانس رہی تھی۔۔۔

معافی مانگو مجھ سے۔۔۔

وہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔

کبھی نہیں۔۔۔ غصیلی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔۔

معافی مانگو آخری بار کہہ رہا ہوں ورنہ انجام اچھا نہیں ہو گا۔۔۔

معافی مانگتی میری جوتی بند کرو سگریٹ۔۔۔ وہ غصے سے چلّائی

ارہان کی آنکھیں سرخ ہونے لگی اس نے ایک لمبا کش لیتے ہوئے سگریٹ کو ہاتھ سے مسل کر ایک طرف پھینکا پھر ماہی کے بال جکڑتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر کیا۔۔۔

آہ۔۔۔ ماہی اس اچانک عمل پر چلّائی تبھی ارہان نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے وہ سگریٹ کا دھواں تھوڑا تھوڑا کر کے اس کے اندر اتار رہا تھا۔۔۔

ماہی کے دونوں ہاتھ اس کے مظبوط ہاتھ کی گرفت میں تھے وہ خود کو اس سے دور کرنا چاہتی تھی۔۔۔

اپنے اندر اترتے دھوئیں سے اسے کھانسی ہو رہی تھی لیکن ارہان نے اس کی کھانسی کو بھی روک رکھا تھا۔۔۔

اس کے منہ سے نکلتی دبی دبی آوازوں کو وہ اپنے اندر اتار رہا تھا۔۔۔

ماہی نے پوری طاقت لگاتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا وہ اس کے سینے پہ مکے برسانے لگی تھی۔۔۔

وہ کھانسنا چاہتی تھی دھوئیں سے برا حال ہو رہا تھا لیکن ارہان نے اس کا سر مظبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔

مکمل دھواں ختم ہونے کے بعد ارہان نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا ماہی کا چہرہ خون کی مانند سرخ پڑ گیا تھا کھانسی روکنے کی وجہ سے سرخ آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔۔۔

جیسے ہی ارہان نے اسے چھوڑا وہ کھانستے ہوئے واش روم کی طرف بھاگی۔۔۔

کچھ دیر میں خود کو پر سکون کرنے کے بعد وہ واپس کمرے میں آئی۔۔۔

انتہائی جاہل انسان ہو تم مینرز نام کی چیز نہیں ہے تم میں۔۔۔

اچھااا۔۔۔ تم میں جیسے بہت ہے تمہیں کسی نے نہیں بتایا کہ شوہر کے ساتھ کیسے بات کرتے ہیں۔۔۔

ارہان نے بھنویں اچکاتے پوچھا۔۔۔

ہونہہ شوہر مائی فٹ۔۔۔

غصے سے کہتی ہوئی وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف چلنے لگی جب ارہان نے چار قدم کا فاصلہ دو قدموں میں طے کرتے ہوئے اسے دیوار کے ساتھ لگایا۔۔۔

اس کا چہرہ دیوار کی طرف تھا اور کمر ارہان کی طرف۔۔۔

شوہر تسلیم کرو ورنہ وہ کروں گا کہ شوہر کہنے پر مجبور ہو جاؤ گی۔۔۔

اس کے کان کے قریب ہونٹ کرتے ہوئے وہ لفظوں کو چبا کر بولا۔۔۔

چھوڑو مجھے جنگلی جانور۔۔۔

اس کے جنگلی جانور کہنے پر ارہان نے اس کے کندھے پر اپنے دانت گاڑھے۔۔۔

ولید بھائی۔۔۔۔ ماہی نے اتنی زور سے چینج لگائی کہ ولید کے کانوں تک پہنچ گئی۔۔۔

ولید نے فوراً اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔

ارہان تیزی سے اس سے دور ہوا ولید کو آواز لگانے پر اس نے ماہی کو غصے سے گھورا۔۔۔

خبردار جو بھائی کو کچھ بتایا تو۔۔۔ اس نے انگلی دکھاتے ہوئے کہا۔۔۔

کیا بات ہے ماہی چلّا کیوں رہی ہے۔۔۔

ارہان کے دروازہ کھولتے ہی ولید نے پوچھا۔۔۔

کچھ نہیں وہ کاکروچ دیکھ لیا تھا اس لیے چلّانے لگی۔۔۔

ولید نے حیرت سے ارہان کو دیکھا بھلا کاکروچ دیکھنے پر وہ ولید کو آواز کیوں لگائے گی۔۔۔

کاکروچ نہیں بھائی میں نے ایک جنگلی جانور دیکھ لیا تھا جس نے مجھ پر حملہ کر دیا تبھی چلّائی ہوں۔۔۔

ماہی ارہان کے مقابل آن کھڑی ہوئی۔۔۔

کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔ ولید نے بھنویں اچکائیں۔۔۔

بھائی یہ دیکھیں اس جنگلی جانور کے کام میں اس کے کمرے میں نہیں رہوں گی مجھے کوئی اور کمرہ دیں۔۔۔

ماہی نے کندھے سے دوپٹہ ہٹاتے ہوئے ولید کو زخم دکھایا جہاں ارہان نے کچھ دیر پہلے دانت گاڑھے تھے۔۔۔

ولید اس کے کندھے پہ زخم دیکھ کر بے یقینی سے ارہان کو دیکھنے لگا۔۔۔

جبکہ ارہان مٹھیاں بھینچتا ہوا ماہی کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

ارہان ابھی میرے کمرے میں آؤ۔۔۔

غصیلی آواز سے کہتا ہوا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

تم زرا صبر کرو میں ابھی آیا۔۔۔

ارہان ماہی کو گھورتے ہوئے وہاں سے نکلا۔۔۔

تم یہ کیا کر رہے ہو ارہان۔۔۔

ولید نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔۔۔

کیا کر رہا ہوں۔۔۔ وہ لاپرواہی سے کرسی کھینچتا بیٹھا۔۔۔

اگر تم نے اس کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرنا تھا تو میں تمہارا اس سے نکاح کیوں کرواتا اس نکاح کی وجہ صرف یہ تھی کہ ماہی کا یہاں دل لگ جائے اسے یہاں جینے کی وجہ مل جائے لیکن تم ہو کہ کام سدھارنے کی بجائے بگاڑ رہے ہو اور یہ کونسا طریقہ ہے لڑنے کا تم نے کب سے سیکھ لیا یہ سب مجھے تم سے ہرگز یہ امید نہیں تھی۔۔۔۔

ولید کی باتوں پر وہ شرمندگی سے نظریں جھکا گیا۔۔۔

اسے بیوی سمجھو عزت دو پیار سے بات کرو یہاں تک کہ تم سے محبت کرنے لگے وہ اور پھر یہاں سے بھاگنے کا یا اپنے گھر والوں کو ہماری حقیقت بتانے کا سوچے بھی نہ۔۔۔

لیکن تم نے تو مجھے حیران کر دیا وہ تو ماہی نے مجھے بتا دیا وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں ہے جو چپ چاپ ظلم سہتی ہیں اس کی جگہ کوئی اور ہوتی تو تمہارے ایسا کرنے سے تم سے اس کی نفرت بڑھتی جانی تھی پھر بدلے میں ہمارا ہی نقصان ہونا تھا۔۔۔

وعدہ کرو مجھ سے اب اس سے یہ وحشیوں والا سلوک اختیار نہیں کرو گے۔۔۔

ولید کی بات پر ارہان نے لمبی سانس خارج کی۔۔۔

اوکے بھائی آئی پرامس۔۔۔

گڈ اب جاؤ اور پیار سے پیش آنا اس سے۔۔۔

ارہان وہاں سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف آیا۔۔۔

وہ اس سے پیار سے کیسے پیش آئے جب وہ ہی اسے گالیاں دے کر غصہ دلاتی ہے۔۔۔

ارہان نے دانت پیستے ہوئے دروازہ کھولا ماہی بیڈ کے درمیان ٹانگیں کھلی کیے کمفرٹر سر تک اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔

اسے دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز سنائی دی لیکن وہ ویسے ہی لیٹی رہی۔۔۔

میں کہاں سوؤں گا۔۔۔

ارہان نے چِڑ کر پوچھا۔۔۔

مجھے نہیں پتہ لیکن آج یہاں میں سوؤں گی۔۔۔

کمفرٹر کے اندر سے ارہان کو اس کی آواز سنائی دی۔۔۔

میرا کمرہ اور مجھ پر ہی حکم چلا رہی ہے ابھی بتاتا ہوں اسے۔۔۔

منہ میں بڑبڑاتے ہوئے وہ کمفرٹر کو کھینچ کر اس کے ساتھ لیٹ گیا۔۔۔

وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی۔۔۔

ک۔۔کیا دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا۔۔۔

وہ کھسک کر اس سے دور ہوئی۔۔۔

ہاں خراب ہے لیکن تم سے کم اب چپ کر کے سو جاؤ مجھے بھی نیند آرہی ہے۔۔۔

میں نہیں سوؤں گی ایسے۔۔۔

تو کیسے سونے کا ارادہ ہے۔۔۔ ارہان نے معنی خیز سا پوچھا۔۔۔

ماہی اس کی بات پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

دیکھو سونا تو یہی پڑے گا ورنہ زمین پر سو جاؤ۔۔۔

ماہی نے آنکھیں پھاڑتے اسے دیکھا۔۔۔

صوفہ تو ڈھنگ کا رکھ لینا تھا دو نشستوں والا رکھا ہوا ہے کنگال کہیں کے۔۔۔

ماہی نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔۔۔

ارہان سینے تک کمفرٹر اوڑھے آنکھیں موند چکا تھا جبکہ ماہی کوئی جگاڑ لگانے کے انتظار میں تھی۔۔۔

وارڈ ڈروب کھولا تو ایک چادر اٹھائی بیڈ کے درمیان تکیہ رکھتے ہوئے وہ چادر اوڑھے لیٹ گئی۔۔۔

ارہان نے کمفرٹر سے ایک آنکھ نکالتے ہوئے تکیے کو دیکھا پھر اس کی طرف دیکھا جو پاؤں سے سر تک چادر میں گھسی ہوئی تھی۔۔۔

ایک طرف لیٹتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *