Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal NovelR50584 Tere Dil K Dar Py (Episode 29)
Rate this Novel
Tere Dil K Dar Py (Episode 29)
Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal
اس کی آنکھ کھلی تو اپنے دائیں طرف ارہان کو اوندھے منہ لیٹے پایا رات کے گزرے حسین لمحوں کو یاد کر کے انابی ہونٹوں پر لجائی سی مسکراہٹ سج گئی تھی ایک نازک سی انگڑائی لیتے ہوئے وہ اٹھ کر بیٹھی۔۔۔
کہاں جا رہی ہو۔۔۔ ارہان نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔
ماہی نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا تو وہ آنکھیں بند کیے ہوئے تھا۔۔۔
فریش ہونا ہے مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔ ماہی اس سے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ہونٹوں پر ہنوز وہی مسکراہٹ تھی۔۔۔
کہیں نہیں جا رہی تم ادھر لیٹو میرے پاس۔۔۔
ارے ایسے کیسے بھوک لگی ہے مجھے ناشتہ کرنا ہے۔۔۔ ماہی نے اسے گھور کر دیکھا جو اب آنکھیں کھولے اسے بڑے شوق سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
پہلے مجھے ناشتہ کرواؤ۔۔۔ شرارتاً کہتے ہوئے ایک آنکھ بند کی۔۔۔
کیا مطلب ہے۔۔۔ ماہی نے گھور کر اسے دیکھا شاید ارہان کے صبح صبح بننے والے اس موڈ پر اسے یقین نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
ارہان نے جھٹکے سے اسے کھینچتے ہوئے خود پر جھکایا۔۔۔
آؤچ۔۔۔ ماہی نے اپنی ناک پہ ہاتھ رکھا جو ارہان کے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔
اففف سینہ ہے کہ پتھر۔۔۔ ناک پہ بل چڑھائے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
ارہان نے اس کی بات پر لب دانتوں تلے دبائے۔۔۔
چھوڑیں بھوک لگی ہے۔۔۔ اس نے منہ بسورا
نہیں جانا پہلے میری بھوک کا کچھ کرو۔۔۔ اس نے ماہی کی گردن میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔
آپ کے لیے بھی تیار کروں گی ناشتہ اب جانے دیں۔۔۔
مجھے وہ والا ناشتہ نہیں کرنا۔۔۔
تو پھر۔۔۔ اس نے آنکھیں پھیلائیں تو ارہان نے اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ کا انگوٹھا پھیرا۔۔۔
ن۔۔نہیں ارہان۔۔۔ وہ ابھی اتنا ہی بول پائی تھی کہ وہ ایک بار پھر سے اسے زیر کر چکا تھا۔۔۔



یہ کیا کہہ رہی ہو آپا نصار ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔ شمیم نے زور سے نفی میں سر ہلایا وہ کچھ دیر پہلے ہی نصار صاحب کے ساتھ ان کے گھر کچھ رقم مانگنے کی غرض سے آئی تھی۔۔۔
تم یقین کرو نہ کرو شمیم لیکن نصار نے کیا ہے یہ سب کچھ۔۔۔ سفینہ بیگم کی تلخ آواز لاؤنچ میں گونج اٹھی تھی۔۔۔
آپا کیا ہو گیا ہے آپ محمود میرے بڑے بھائی ہیں اور میں ان کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہوں۔۔۔ نصار صاحب ہونق بنے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔
بس نصار رہنے دو یہی بات تو ہمیں تکلیف دیتی ہے کہ تم محمود کو بڑا بھائی کہتے تھے۔۔۔ سفینہ بیگم بھی آج اگلا پچھلا حساب چکتا کرنے پہ تلی بیٹھی تھیں جبکہ محمود صاحب نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا شاید ان میں اتنی ہمت نہ تھی جسے سگے بھائی سا عزیز سمجھا وہ ہی اس کا دشمن نکلا تھا۔۔۔
آپ مجھے کھل کر بات کریں آخر آپ نے اس بات پر یقین بھی کیسے کر لیا کہ بھائی صاحب کو میں غلط ڈاکٹر سے ٹریٹمنٹ کرواتا رہا ہوں۔۔۔ ہاتھوں کو ہوا میں معلق کیے نہایت حیرت سے بولے۔۔۔
غلط ٹریٹمنٹ ہی تھا جو ایک معمولی سا بخار معزوری تک پہنچ گیا اور آج دیکھو جب سے ڈاکٹر بدلا ہے محمود اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل ہو گئے ہیں اللہ کے فضل سے۔۔۔ غصیلی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے سفینہ بیگم نے جواب دیا۔۔۔
اللہ گواہ ہے آپا میرے دل میں نہ کبھی کھوٹ تھی اور نہ ہے آپ کے دل میں نہ جانے کس نے شک کا بیج بویا ہے لیکن یہ سچ نہیں ہے میں نے بھائی صاحب کا آج تک برا نہیں چاہا اور چاہوں گا بھی کیوں۔۔۔ ماتھے پہ حیرت کے بل ڈالے انہوں نے سوال کیا۔۔۔
جائیداد کی خاطر اور کس لیے۔۔۔ تمہاری اصلیت ہمارے سامنے آچکی ہے اب جتنی بھی صفائیاں دے لو سب بیکار ہے۔۔۔
جائیداد کا لفظ سن کر نصار صاحب کو سر پہ پہاڑ ٹوٹتا محسوس ہوا بے یقینی سے سفینہ بیگم کی طرف دیکھنے لگے جبکہ یہی حال شمیم بیگم کا تھا۔۔۔
آپا۔۔۔ آپ کو نصار ایسے لگتے ہیں۔۔۔؟؟؟
کیا وہ جائیداد کی خاطر محمود بھائی کی جان لے سکتے ہیں؟؟؟
شمیم بیگم آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھ رہی تھی جبکہ سفینہ بیگم کی اگلی بات پر ان دونوں کے قدموں سے کسی نے زمین کھینچ لی تھی۔۔۔
جان لے سکتے نہیں جان لے چکے ہیں کیوں نصار سچ کہہ رہی ہو نا میں۔۔۔ گھٹنوں پہ ہاتھ ٹکائے تڑخ کر بولیں۔۔۔
ک۔۔۔کیا۔۔۔ میں نے جان لی ہے۔۔۔ لیکن کس کی۔۔۔؟؟؟ نصار صاحب کے جسم میں جھرجھریاں اٹھنے لگی تھیں رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔
اپنے دوست کاشف اس کی بیوی اور اس کی بہو کی۔۔۔ سفینہ بیگم نے حقارت سے اسے دیکھ کر کہا۔۔۔
تم نے تو اس بچے کا بھی نہ سوچا جو ابھی اس دنیا میں آیا بھی نہیں تھا اتنے گھٹیا نکلو گے تم میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔
سفینہ بیگم بول رہی تھیں جبکہ نصار صاحب مجسم بنے بیٹھے تھے اس کا دوست کاشف جس کی ایکسیڈنٹ کی خبر اسے کاشف کے مرنے کے ایک ہفتے بعد معلوم ہوئی تھی۔۔۔
پھٹی آنکھوں سے وہ سفینہ بیگم کو دیکھ رہے تھے جب شمیم کے ہلانے پر وہ ہوش میں آئے۔۔۔
نصار کیا کہہ رہی ہیں آپا کچھ بولتے کیوں نہیں بتائیں انہیں کہ یہ سچ نہیں ہے۔۔۔ شمیم اب رونے لگی تھی اس کی بہن سراسر اس کے شوہر پر الزام پہ الزام باندھ رہی تھی۔۔۔
ہوں۔۔۔ یہ کیا بولیں گے خیر اللہ نے مکافات عمل دکھا دیا ہے دوسروں کی جائیداد چھین کر قبضہ کرنے والا آج خود بھیکاری بنا پھرتا ہے سب کچھ بک گیا۔۔۔
سفینہ بیگم نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا جبکہ شمیم کے رونے میں اضافہ ہو چکا تھا۔۔۔
نصار صاحب فوراً وہاں سے کھڑے ہو کر باہر نکل گئے شمیم اسے آوازیں لگاتی اس کے پیچھے لپکی تھی۔۔۔
وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھے دماغ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی دماغ میں ایک ہی بات گھوم رہی تھی۔۔۔
” اپنے دوست کاشف اس کی بیوی اور اس کی بہو کی”
گیٹ سے باہر نکلتے ہوئے سڑک پر آئے آنکھوں کے سامنے رنگ برنگے دھبے گردش کرنے لگے تھے۔۔۔
تبھی سامنے آتی کار نے انہیں ٹکر ماری اور پھر ایک چینخ کی آواز پر شمیم نے بے ساختہ کھلے منہ پر دونوں ہاتھ جمائے۔۔۔



عباد اللہ سب کچھ پہلے کی طرح کر دے گا پلیز آپ پریشان مت ہوں۔۔۔ رائمہ اس کے پاس بیٹھی اسے تسلی دے رہی تھی۔۔۔
کیسے پریشان نہ ہوں ہماری پچاس کروڑ کی جائیداد سب مٹی میں مل گیا۔۔۔ عباد نے پریشانی سے ماتھے کو انگلیوں سے مسلا۔۔۔
اللہ پہ بھروسہ رکھیں وہ بہتر کارساز ہے۔۔۔ رائمہ کو اسے یوں پریشان دیکھ کر بہت دکھ ہو رہا تھا۔۔۔
رائمہ تم مجھے چھوڑ تو نہیں جاؤ گی نا دیکھو مجھے جانے کیوں ایسا لگ رہا ہے کچھ بہت برا ہونے والا ہے میرے ساتھ۔۔۔
اس نے دکھ سے کہتے ہویے رائمہ کا ہاتھ پکڑا۔۔۔
اللہ نہ کرے آپ کے ساتھ کچھ برا ہو سوچیے گا بھی مت اور آپ نے یہ کیسے کہہ دیا میں آپ کو چھوڑ دوں گی۔۔۔ اس نے خفگی سے عباد کو گھورا۔۔۔
جانے کیوں دل گھبرا رہا ہے میرا ایسے لگ رہا ہے میرا دل کوئی جکڑ رہا ہے مجھے تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے رائمہ۔۔۔ وہ اس کے مزید قریب ہوا
عباد میں آپ کے پاس ہوں آپ کے ساتھ ہوں آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں۔۔۔ رائمہ نے دکھ بھری نظروں سے اسے دیکھا جو مضبوطی سے اس کے دونوں ہاتھ تھامے ہوئے تھا۔۔۔
تم مجھ سے وعدہ کرو حالات جیسے بھی ہوں تم مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤ گی۔۔۔ اس نے رائمہ کے ہاتھوں پر گرفت مزید سخت کی جس سے رائمہ کو اب تکلیف کا احساس ہونے لگا تھا۔۔۔
م۔۔میں وعدہ کرتی ہوں کبھی آپ کو نہیں چھوڑ کر جاؤں گی اب ایسی بات دوبارہ مت کیجیے گا پلیز۔۔۔
اس کے وعدہ کرنے پر عباد نے تیزی سے اسے خود میں بھینچ لیا رائمہ اس کے اس رویے پر حیران تھی عباد پہلی بار ایسے جنونی انداز میں پیش آرہا تھا۔۔۔
عباد کے فون کی گھنٹی بجنے پر اس نے رائمہ کو نرمی سے خود سے الگ کیا مسکرا کر اس کی طرف دیکھا ایک ہاتھ سے اس کی گال کو سہلایا اور دوسرے ہاتھ سے کوٹ کی جیب سے موبائل نکال کر کان کو لگایا۔۔۔
کیا۔۔۔؟؟؟
وہ بجلی کی تیزی سے کھڑا ہوا جبکہ اسے یوں صدمے میں کھڑا دیکھ کر رائمہ بھی پریشانی سے کھڑی ہوئی۔۔۔
کیا ہوا عباد۔۔۔
رائمہ۔۔۔ پاپا کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔۔۔ اس نے فون بند کرتے ہوئے صدمے کی حالت میں رائمہ کو بتایا۔۔۔
اوہ خدایا۔۔۔ لیکن کیسے اور کب ہوا یہ۔۔۔
رائمہ نے دل پہ ہاتھ رکھا جس کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔۔۔
ہمیں ہاسپٹل جانا ہے اسی وقت۔۔۔ وہ تیزی سے دروازے کی طرف لپکا رائمہ بھی اس کے پیچھے بھاگی۔۔۔



شازل آپ کو میں نے سرخ دوپٹہ لانے کو کہا تھا کہاں ہے۔۔۔ شازل ابھی آفس سے واپسی پر آیا تھا کہ سہانا نے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔
او ہو میں تو بھول گیا۔۔۔ شازل نے بیچارہ سا منہ بنایا۔۔۔
کیا۔۔۔ بھول گئے اب میں ڈنر پہ جانے کے لیے کونسا دوپٹہ لوں گی ساتھ شادی کے بعد پہلی بار تو جا رہے ہیں۔۔۔ سہانا نے خفگی سے اسے دیکھا۔۔۔
تو کوئی اور ڈریس پہن لو نا جانم یہ ضروری تو نہیں۔۔۔ وہ ٹائی ڈھیلی کرتا ہوا صوفے پر بیٹھا چہرے پہ تھکن کے آثار واضح تھے۔۔۔
نہیں مجھے وہی پہننا ہے اتنا پسند ہے مجھے وہ سوٹ آپ جب ٹو پیس لائے تھے تو دوپٹہ بھی ساتھ لینا تھا نا کیوں نہیں لیا۔۔۔
وہ منہ بنائے بیڈ پر بیٹھی۔۔۔
اچھا نا سوری صبح لا دوں گا آج تم کوئی اور سوٹ پہن لو اور دیکھو شوہر تھکا ہوا گھر آیا ہے پانی کا بھی نہیں پوچھا۔۔۔ شازل نے منہ بسورتے ہوئے اسے یاد دلایا تو سہانا نے آنکھیں پھیلائیں۔۔۔
میں ابھی لاتی ہوں پانی لیکن یہ نہ سمجھیے گا کہ میں مان گئی ہوں۔۔۔ وہ کہتی ہوئی کمرے سے نکل گئی جبکہ شازل اس کی بات سن کر مسکرا کر رہ گیا۔۔۔
سہانا ماہی کے کمرے سے پاس سے گزرتے ہوئے کچن جانے لگی جب اس کے ذہن میں ماہی سے دوپٹہ لینے کا خیال آیا کیوں کہ اس نے بھی ماہی کے پاس سرخ دوپٹہ دیکھا تھا۔۔۔
وہ دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔۔۔
ماہی۔۔۔ خالی کمرہ دیکھ کر اس نے آواز دی واش روم سے آہٹ سنائی دی تھی۔۔۔
اگلے لمحے ارہان واش روم سے نکلا وہ شرٹ کے بغیر اس کے سامنے تھا سہانا نے فوراً نظریں جھکائیں ارہان نے حیرت سے اسے دیکھا وہ یہاں کیا کر رہی تھی۔۔۔
س۔۔سوری میں ماہی سے کچھ بات کرنے آئی تھی۔۔۔ اسے اس حالت میں اپنے سامنے دیکھ کر وہ جی بھر کر شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔
وہ کچن میں ہے۔۔۔ ارہان اسے جواب دے کر بیڈ پر موجود شرٹ اٹھانے لگا تھا۔۔۔
سہانا دروازے کی طرف بڑھی کہ اس کا پاؤں بری طرح سے مڑا وہ گرنے ہی والی تھی ارہان نے اسے کمر سے پکڑ کر گرنے سے بچایا۔۔۔
سہانا کا چہرہ اس کے سینے کے پاس تھا وہ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ وہ دونوں ہی ابھی سکتے کی حالت میں تھے۔۔۔
شازل کو پانی کی طلب شدت سے محسوس ہو رہی تھی سہانا کے نہ آنے پر وہ اسے دیکھنے کچن میں جانے کے لیے کمرے سے باہر نکلا جب ارہان اور سہانا کو اس حالت میں اپنے سامنے دیکھ کر اس کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔۔۔
ماہی بھی کچن سے واپس آگئی تھی شازل کو ہونق بنا دیکھ کر وہ حیران ہوئی اور آگے بڑھتے ہوئے شازل کی نظروں کا مرکز نوٹ کیا۔۔۔
ارہان نے گڑبڑاتے ہوئے اسے چھوڑا سہانا باہر کی طرف بھاگنے لگی کہ قدم وہیں جم گئے پاؤں پہ جیسے کسی نے پتھر رکھ دیے تھے۔۔۔
ارہان بھی ان دونوں کو دروازے پہ کھڑا دیکھ چکا تھا ماہی حیرت سے ارہان کو دیکھ رہی تھی جبکہ شازل کی آنکھوں میں طیش بھر چکا تھا۔۔۔
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی سہانا کو ہاتھ لگانے کی۔۔۔ وہ غصے سے چلّایا اس کی آواز اتنی اونچی تھی کہ سہانا کو اپنے کان پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔۔۔
گرنے والی تھی وہ اسے صرف سہارا دیا ہے میں نے۔۔۔ ارہان مٹھیاں بھینچتے ہوئے ضبط سے بولا۔۔۔
تو گر جانے دیتے لیکن چھوا کیوں اسے اور سہانا تم۔۔۔ تم کیا رہی تھی یہاں جبکہ تم دیکھ چکی تھی ماہی یہاں نہیں ہے۔۔۔ وہ سہانا پر چلّایا تو سہانا نے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا کیا وہ اس پہ بھی شک کر رہا تھا۔۔۔؟؟؟
بکواس بند کرو اپنی وہ ماہی سے بات کرنے آئی تھی یہاں۔۔۔ ارہان نے شازل کو گھور کر کہا اسے شازل کی سوچ اس وقت نہایت گھٹیا لگ رہی تھی۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔ ولید اپنے کمرے سے چلّانے کی آواز سن کر فوراً یہاں آیا تھا۔۔۔
بھائی دیکھیں میری بیوی کے سامنے کس حالت میں کھڑا ہے اور اسے کمر سے پکڑ رکھا تھا اس نے۔۔۔ شازل ولید کو بتانے لگا جبکہ سہانا اس کے رویے اور باتوں سے صدمے سے دوچار ہو رہی تھی۔۔۔
چپ کرو تم۔۔۔ ولید نے شازل کو کہا پھر سہانا کی طرف دیکھا۔۔۔
سہانا بتاؤ کیا بات ہے۔۔۔
سہانا کی زبان کو جیسے تالا لگ گیا تھا شازل کی بات نے دل آری سے چیر دیا تھا آنکھوں سے نکلنے والے آنسو اس کی تکلیف بیاں کر رہے تھے۔۔۔
سہانا بتاؤ میرے بچے کیا ہوا ہے رو کیوں رہی ہو۔۔۔
ولید نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا۔۔۔
بھ۔۔بھائی میں ماہی سے د۔۔دوپٹہ پوچھنے آئی تھی ارہان واش روم سے نکلا۔۔۔ میں واپس آنے لگی تھی کہ میرا پاؤں مڑا تبھی اس نے مجھے پکڑ کر گرنے سے بچایا۔۔۔ سہانا نے روتے ہوئے ولید کو پوری بات بتائی۔۔۔
شازل تمہیں شرم آنی چاہیے ارہان کو لے کر تمہارے دماغ میں کیا چلتا ہے یہ تو میں پہلے سے جانتا ہوں لیکن تم نے سہانا پر بھی شک کیا مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔
بھائی میں نے سہانا پہ شک نہیں کیا۔۔۔ شازل فوراً آگے بڑھا تو ولید کا ہوا میں ہاتھ اٹھا۔۔۔
بس وہیں رہو۔۔۔ سن چکا ہوں میں تم اسے جو کہہ چکے ہو اتنے کم ذہنیت کے مالک ہو تم۔۔۔؟؟؟ ولید نے غصیلی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
بھائی ارہان نے اسے کیوں چھوا مجھے اس بات کا غصہ تھا۔۔۔ وہ ابھی بھی ارہان کو غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اچھاااا۔۔۔ تو اس کا مطلب سہانا گر جاتی اس کے پاؤں کو موچ آجاتی اسے تکلیف ہوتی یہ چاہتے تھے تم۔۔۔
نہیں بھائی۔۔۔ شازل نے سر جھکایا سہانا کو تکلیف آئے وہ کیسے برداشت کر سکتا تھا۔۔۔
تمہارے دماغ میں جو بھی خناس بھرا ہے اسے اپنے دماغ سے نکال کر باہر پھینکو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔
اس کی بات پر شازل خاموش ہی رہا تھا۔۔۔
چلو سہانا۔۔۔ تم آج میرے کمرے میں سوؤ گی میں سٹڈی روم میں سو جاؤں گا۔۔۔
بھائی۔۔۔ شازل اسے پکارتا ہوا خاموش ہوا۔۔۔
تم سٹڈی روم میں آکے میری بات سنو۔۔۔ ولید نے حکمیہ انداز میں کہا اور سہانا کو لیے وہاں سے نکل گیا۔۔۔



تم کیا سمجھتے ہو ارہان تمہاری بیوی پر غلط نظر رکھے گا یہ مت بھولو اس کی رگوں میں بھی وہی خون دوڑ رہا ہے جو تمہاری رگوں میں ہے۔۔۔ مجھے تو اب بھی یقین نہیں ہو رہا کہ تم اتنا چیپ بھی سوچ سکتے ہو۔۔۔
بھائی مجھے معاف کر دیں پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا۔۔۔ اس نے شرمندگی سے نظریں جھکائیں۔۔۔
معافی مجھ سے نہیں ارہان سے مانگو جس کے ساتھ تم پچھلے نو دس سال سے اتنا برا سلوک کرتے آرہے ہو۔۔۔
ولید کی بات پر شازل نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
کیا بھائی۔۔۔ میں ارہان سے معافی مانگوں۔۔۔؟؟؟ اس نے ماتھے پہ ڈھیروں بل ڈالے۔۔۔
ہاں تم۔۔۔ میں جانتا ہوں تم اس سے اسی لیے نفرت کرتے ہو کیونکہ سہانا اسے چاہتی تھی اور تم سہانا کو۔۔۔ لیکن تمہیں کبھی یہ نظر کیوں نہیں آیا کہ ارہان نے اس سے کبھی بنا مطلب کے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔ کیا تم نے کبھی دیکھا ارہان کو سہانا کی پسندیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے۔۔۔؟؟؟
وہ آج تک سہانا سے بات نہیں کرتا صرف اس لیے تا کہ سہانا کے دل میں اس کے لیے جو جذبات ہیں وہ اس کی بے رخی سے ختم ہو جائیں۔۔۔ اور جب میں نے تم سے کہا تھا کہ تم ماہی سے نکاح کر لو تو تمہیں یاد ہی ہو گا ارہان نے جھٹ سے ہاں کر دی تھی نکاح کے لیے جانتے ہو کیوں۔۔۔
اس نے بھنویں اچکاتے ہوئے شازل کو دیکھا جس پر شازل نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
تا کہ تم سہانا سے نکاح کر سکو۔۔۔
ولید کی بات پر شازل مجسم بن گیا تھا۔۔۔
ماہی سے اس کی ناپسندیدگی ہم میں سے کسی سے بھی نہیں چھپی تھی وہ دونوں کیسے جھگڑتے تھے تمہیں بھی معلوم ہے اس کے باوجود اس نے ماہی سے نکاح کے لیے ہاں کی تا کہ تمہاری قسمت میں سہانا آسکے لیکن تم اس قدر بے وقوف ہو کہ آج تک اسے سمجھ نہیں پائے۔۔۔
تمہارا بھائی ہے وہ دشمن نہیں ہے۔۔۔ وہ غصے کا تیز ضرور ہے لیکن دل ہے اس کے سینے میں احساسات وہ بھی رکھتا ہے۔۔۔ کیا تمہاری آج کی باتوں سے اسے تکلیف نہیں ہوئی ہو گی۔۔۔؟؟؟
شازل کا سر ہنوز جھکا ہوا تھا ندامت کا احساس شدت سے محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
جاؤ معافی مانگو اس سے اور اپنا دل صاف کرو وہ اب ماہی کے ساتھ خوش ہے۔۔۔
اس نے لیپ ٹاپ گود میں رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
شازل مردہ قدموں سے باہر آیا پچھلے دس سالوں کا منظر آنکھوں کے آگے فلم کی طرح چلنے لگا تھا اس نے تو واقعی سہانا کو کبھی ترجیح نہیں دی تھی نا ہی اس سے بات کرنا پسند کرتا تھا جہاں تک شازل کو یاد ہے جب وہ تینوں چھوٹے تھے تو ارہان کی سہانا سے زیادہ بنتی تھی اس کا مطلب وہ اسی کی خاطر سہانا سے ایسا رویہ اختیار کر چکا تھا۔۔۔
لاؤنج سے گزرتے ہوئے لان کی طرف نظر اٹھی آج وہ چار ماہ بعد سگریٹ نوشی کر رہا تھا بے چینی سے لان میں ٹہلتا ہوا وہ سگریٹ کا دھواں ہوا میں معلق کر رہا تھا۔۔۔
شازل نے آنکھیں بند کرتے ہوئے ہمت اکٹھا کی اور لان کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔
ارہان شازل سے بے نیاز کھڑا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا ہاتھ میں موجود سگریٹ جلتی ہوئی اندھیرے میں جگمگا رہی تھی۔۔۔
شازل نے اس کی پشت پہ نظریں جمائیں اتنے سال وہ بلاوجہ اس سے حسد کرتا آیا تھا وہ تو بھول ہی گیا تھا کہ ارہان اس کا بڑا بھائی ہے۔۔۔
ہلکی سی آہٹ پر ارہان نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہ شازل کو یوں کھڑا دیکھ کر ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ شازل بنا کچھ کہے اس سے لپٹ گیا۔۔۔
ارہان کے ہاتھ سے سگریٹ زمین پر گری حیرت سے دونوں ہاتھ ہوا میں معلق ہوئے شازل سختی سے اسے جکڑ رہا تھا ارہان کو لگا وہ رو رہا ہے اور ایسا ہی تھا وہ رو رہا تھا۔۔۔
کیا ہوا رو کیوں رہے ہو۔۔۔ ارہان نے اسے خود سے الگ کرنا چاہا اس کی کوشش کو شازل نے ناکام کیا شاید وہ اس سے نظریں ملانے کے قابل نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔
مجھے معاف کر دو بھائی۔۔۔ شازل نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا جبکہ ارہان “بھائی” لفظ پر مجسم ہو گیا تھا۔۔۔
میں نے آج تک بہت غلط کیا خود سے سب سوچتا آیا میں آج تک حسد کرتا رہا آپ سے کیونکہ سہانا مجھے نہیں آپ کو پسند کرتی تھی لیکن میں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ آپ سہانا سے بات تک کرنا چھوڑ گئے اس کے پیچھے بھی تو کوئی وجہ ہو گی نا اور وہ وجہ آپ کے دل میں میرا پیار تھا۔۔۔
وہ روتے ہوئے آج دل کا غبار نکال رہا تھا ارہان نے اس کے گرد بازو پھیلائے آنکھیں بھیگ چکی تھیں جبکہ ہونٹ دھیمے سے مسکرا رہے تھے۔۔۔
اچھا اب بس بھی کرو ماہی اور سہانا نے دیکھ لیا تو ہم پر شک کریں گی۔۔۔ ارہان نے اس کا ذہن اور طرف لگانے کے لیے یہ بے تکا سا مذاق کیا جس پر شازل کی روتے میں بھی ہنسی نکل گئی تھی۔۔۔
شازل ہنستے ہوئے اس سے الگ ہوا ارہان نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے آنسو کو انگلی سے صاف کیا۔۔۔
آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے نا بھائی۔۔۔
میں تم سے ناراض کب تھا میں تو قسمت سے ناراض تھا جس نے میرے بھائی کو مجھ سے دور کر دیا تھا۔۔۔ اس نے شازل کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔
قسمت کا قصور نہیں ہے بھائی انسان غلطی خود کرتا ہے اور قصور وار قسمت کو ٹھہرا دیتا ہے سب غلطیاں میری تھیں۔۔۔ اس نے شرمندگی سے سر جھکایا۔۔۔
بس بس چھوٹے ہو چھوٹے رہو بڑا بننے کی ضرورت نہیں۔۔۔ ارہان نے اسے ڈپٹا جس پر شازل پھر سے مسکرایا۔۔۔
سہانا کو منا لیا ہے۔۔۔
نہیں ابھی منانا ہے اسے۔۔۔
چلو شاباش مناؤ اسے ورنہ روتی رہے گی پوری رات۔۔۔
آپ بھی جائیں اپنے کمرے میں ٹھنڈ بہت ہو رہی ہے باہر طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔
اس کی بات پر ارہان مسکراتا ہوا اس کے ساتھ لاؤنچ کی طرف چل دیا۔
