Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 05)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

شمیم نصار نہیں آیا،،،

سفینہ بیگم نے اسے گلے ملتے ہوئے پوچھا۔۔۔

آپا ان کو آفس میں لیٹ ہو گئی تھی ابھی فریش ہو کر آتے ہی ہوں گے عباد نے کہا کہ ہم چلتے ہیں کہیں ماہی ناراض نہ ہو جائے ہمارے لیٹ آنے سے،،،

یہ تو عباد نے بلکل ٹھیک کہا،،، سفینہ بیگم مسکرائیں

عباد کی نظریں ماہی کو تلاشنے لگیں،،،

آنٹی ماہی اندر ہے کیا،،، عباد نے پوچھا

ہاں بیٹا اپنے روم میں ہو گی،،، سفینہ بیگم نے جواب دیا

اوکے میں اسے بلانے کے لیے جا رہا ہوں ورنہ اس نے تو گھنٹوں شیشے کے آگے کھڑی رہنا ہے،،،

عباد کی بات پر سفینہ بیگم مسکرانے لگیں اور اثبات میں سر ہلایا پھر عباد نے اندر کا رخ کیا،،،

وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ماہی کے کمرے کے دروازے تک آیا جو کہ کھلا تھا،،،

وہ خوبصورت سیاہ رنگ کا سوٹ پہنے بیڈ کے پاس کھڑی تھی اس کی پشت عباد کی طرف تھی،،،

عباد بے آواز قدموں سے اس کے پاس آیا اور اس کے سلکی بالوں پر ایک پھونک ماری۔۔۔

کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے رائمہ تیزی سے مڑی اور عباد کے سینے سے ٹکرا گئی۔۔۔

اچانک عباد کو دیکھ کر وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔

ہیل والے سینڈل ہونے کی وجہ سے اس کا پاؤں مڑا اور وہ بیڈ پر گرنے ہی لگی تھی کہ اس نے عباد کو پکڑ لیا۔۔۔

عباد بھی اس اچانک ہونے والے عمل پر کو سنبھال نہ سکا اور وہ دونوں بیڈ پر ایک ساتھ گرے عباد اس کے اوپر تھا،،،

رائمہ نے اکھڑتی سانسوں اور لرزتی پلکوں سے عباد کی طرف دیکھا عباد بھی ہونقوں کی طرح اسے ہی دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ رائمہ کو ماہی سمجھ بیٹھا تھا۔۔۔ ۔۔۔

یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ وہ دونوں ہی سکتے کی حالت میں تھے،،،

آج پہلی بار خود کو اس کے حصار میں پا کر رائمہ کے دل کی دھڑکنیں عروج پر پہنچ چکی تھیں،،،

رائمہ اندر آؤ آئی نیڈ یؤر ہیلپ،،،

ماہی کی آواز پر وہ دونوں ہوش میں آئے عباد خود کو سنبھالتا ہوا تیزی سے رائمہ سے الگ ہوا۔۔۔

وہ بنا اس کی طرف دیکھے دھڑکتے دل کے ساتھ واش روم گھس گئی جہاں ماہی ڈریس پہنے کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی،،،

ہ۔۔۔ہاں کیا ہوا،،،

خشک ہونٹوں پہ زبان پھیرتے ہوئے رائمہ بمشکل بول پائی۔۔۔

میکسی کا ہک بند کرو مجھ سے نہیں ہو رہا،،،

ماہی نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔۔۔

رائمہ کانپتے ہاتھوں سے ہک بند کرنے لگی لیکن اس کے ہاتھ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے ہک سے اس کے ہاتھ بار بار پھسل رہے تھے،،،

کیا ہو گیا ہے گھنٹہ لگا دیا تم نے اتنی دیر میں تو میں نے خود کر لینا تھا،،،

ماہی نے منہ کا زاویہ بگاڑتے ہوئے کہا۔۔۔

کر رہی ہوں یار صبر بھی کر لیا کرو،،،

بالآخر رائمہ نے پوری کوشش کرتے ہوئے ہک بند کیا۔۔۔

کیسی لگ رہی ہوں میں،،،

ماہی نے رخ اس کی طرف کیا آسمانی رنگ کی بہت خوبصورت میکسی جو فرش پر پھیلی ہوئی تھی ماہی ایک باربی ڈول ہی لگ رہی تھی،،،

بہت اچھی،،، رائمہ نے کہا تو ماہی نے اسے گھوری سے نوازہ

صرف اچھی،،،؟؟؟

ماہی نے اسے گھوری سے نوازہ۔۔۔

رائمہ سے ابھی تک اپنا دل نہیں سمبھل پا رہا تھا عباد کے لمس کو وہ ابھی بھی اپنے وجود پر محسوس کر رہی تھی،،،

کیا ہوا تمہارا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے،،، ماہی نے غور سے اس کی طرف دیکھا

ن۔۔۔نہیں تو میں ٹھیک ہوں،،،

رائمہ پریشان ہونے لگی کمرے میں عباد بھی تھا کہیں ماہی کو کسی قسم کا کوئی شک نہ ہو جائے۔۔۔

مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی کچھ ہوا ہے تو بتاؤ مجھے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے،،،

نہیں ماہی کچھ نہیں ہوا بس لیٹ نائٹ گھر سے باہر ہوں یہی وجہ سے،،،

رائمہ ایک لگاؤں گی تمہیں، تمہارے گھر سے تمہارے ماں باپ کی پرمیشن سے لے کر آئی ہوں پھر بھی بیگم صاحبہ کا ڈر ختم نہیں ہوتا،،،

سوری ماہی اب بلکل نہیں کروں گی ایسے،،،

رائمہ نے خود کو کنٹرول کیا۔۔۔

چلو باہر اب ہوا لو تھوڑی،،، ماہی نے گھورتے ہوئے کہا تو وہ دونوں واش روم سے باہر نکلیں

کمرے میں آتے ہی رائمہ نے دیکھا کہ عباد وہاں نہیں تھا اس نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا ورنہ وہ اس کے سامنے خود کو نارمل نہ کر پاتی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ارہان،،،

گیارہ بجے ولید ارہان کے کمرے میں داخل ہوا،،،

ارہان کھڑکی میں کھڑا باہر دیکھ رہا تھا اس شہر میں آئے انہیں ابھی کچھ ہی ماہ ہوئے تھے،،،

ارہان نے گردن موڑ کر دیکھا،،،

اس شخص کے گھر کا اڈریس مل گیا ہے،،،

ولید کی بات سن کر ارہان کی آنکھوں میں لالگی اتر آئی۔۔۔

کیا واقعی کیا اڈریس ہے بتائیں مجھے،،،

وہ بے صبری سے ولید کے قریب آیا۔۔۔

ارہان پہلے مجھ سے وعدہ کرو تم مجھے بنا بتائے کچھ نہیں کرو گے،،،

ولید کی بات پر ارہان نے خود پر قابو پایا ورنہ اس کا دل تو چاہتا تھا کہ اس شخص کے سامنے آتے ہی اسے موت کی گھاٹ اتار دے۔۔۔

اوکے میں وعدہ کرتا ہوں،،،

ارہان نے آنکھیں بند کر کے کہا۔۔۔

تم جانتے ہو اسے ڈائریکٹ مار دینے سے ہمارا انتقام پورا نہیں ہو گا بلکہ ہمیں پہلے اسے آسمان سے زمین پر لانا ہے اسے پل پل تڑپانا ہے بھوک کیا ہوتی ہے اسے یہ احساس دلانا ہے۔۔۔

بلکل ایسا ہی ہو گا بھائی آپ فکر مت کریں اسے اتنی آسان موت کبھی نصیب نہیں ہو گی۔۔۔

ولید نے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر ارہان کو اس کے گھر کی لوکیشن دکھائی،،،

یہاں ہے اس کا گھر،،، اس نے ایک جگہ انگلی رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

اب ہمیں کیا کرنا ہے،،، ارہان تیزی سے بولا

ابھی تھوڑا انتظار کرو ہم نے جو پلین بنایا ہے سب اس کے مطابق ہی کریں گے۔۔۔

لیکن کب آج ہی کر لیتے ہیں،،، ارہان تیزی سے بولا

ارہان تم ہر کام میں تیزی کیوں کرتے ہو صبر کرنا سیکھو،،،

ولید تلخ لہجے میں بولا۔۔۔

اوکے،،، ارہان نے خود پر قابو پایا

میں اب جا رہا ہوں اپنے روم میں اور صبح بتاؤں گا کب اور کیا کرنا ہے میں نہیں چاہتا جلد بازی میں ہم اپنے پاؤں پر ہی کلہاڑی مار بیٹھیں،،،

اوکے،،، ارہان مختصر بولا اور ولید کمرے سے باہر نکل گیا،،،

♥️
♥️
♥️

ماہی اور رائمہ گھر کے اندرونی دروازے سے لان میں داخل ہوئیں سب کی نظریں ماہی پر ہی جم گئیں تھیں وہ تھی ہی اتنی پیاری اور آج تو بلکل گڑیا لگ رہی تھی،،،

ماشاءاللّٰه‎ اللہ نظرِبد سے بجائے میری بچی کو،،، بے ساختہ سفینہ بیگم کے منہ سے نکلا

عباد کی نظر رائمہ پر پڑی جو گھبرائی سی اس سے نظریں چرا رہی تھی۔۔۔

اگلے لمحے اس کی نظر رائمہ کے ساتھ کھڑی ماہی پر پڑی تو وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا،،،

آج وہ بہت الگ دکھائی رہی تھی سب اسے باربی ڈول کہہ رہے تھے عباد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھرنے لگی،،،

اس نے ماہی کی طرف قدم بڑھائے ماہی اسے دیکھ کر مسکرانے لگی،،،

رائمہ میں اب اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ نظریں اٹھا کر عباد کو دیکھ سکے اس لیے وہ نظریں جھکائے کھڑی رہی،،،

سب کی موجودگی میں وہ ماہی کی تعریف بھی نہیں کر سکتا تھا،،،

انکل نہیں آئے،،، ماہی نے پوچھا

وہ بھی آتے ہی ہوں گے انہیں آفس سے زرا دیر ہو گئی تھی،،، شمیم بیگم نے وضاحت پیش کی

بارہ بجے سے پہلے انکل آجائیں ورنہ میں کیک نہیں کاٹوں گی،،،

ماہی کی بات پر وہ مسکرانے لگی۔۔۔

پریشان کیوں ہو رہی ہو میری بات ہوئی ہے ان سے بس آتے ہی ہوں گے،،،

اوکے آنی اور آپ نے بتایا نہیں میں کیسی لگ رہی ہوں،،،

بہت پیاری لگ رہی ہو بلکل گڑیا جیسی،،، شمیم بیگم مسکراتے ہوئے بولی

تھینک یو،،،

اپنی تعریف پر وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔۔۔

ادھر عباد دانت پیستا ہوا کھڑا تھا اس کا شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ ماہی کو ایک سائیڈ پر لے جائے اور بتائے وہ کتنی خوبصورت لگ رہی ہے،،،

♥️
♥️
♥️

ارہان سے مزید انتظار نہیں ہو رہا تھا ولید کے جانے کے بعد سے وہ اپنے کمرے میں چکر پر چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔

اس نے سوچا کہ ایک بار وہ اس شخص کے گھر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے،،،

لاؤنج میں کھڑے ہو کر اس نے سب کے کمروں کی طرف دیکھا کسی کے کمرے کی لائٹ آن نہیں تھی۔۔۔۔

ہاتھ پر بندھی گھڑی پر اس نے ٹائم دیکھا جو رات کے گیارہ پندرہ کا ٹائم دکھا رہی تھی،،،

اپنے موبائل سے اس نے لوکیشن گوگل کی گیٹ کھول کر بائیک نکالی اور ہیلمیٹ پہنے ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو گیا،،،

پندرہ منٹ بعد وہ حیرت سے اس جگہ کو دیکھنے لگا جہاں وہ جا رہا تھا۔۔۔

اس نے بائیک کی رفتار تیز کی اگلے پندرہ منٹ تک اس کی بائیک ایک گھر کے آگے آکر رکی لیکن ارہان کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا یہ وہی گھر تھا جہاں کل رات اس نے ایک لڑکے کو ڈراپ کیا تھا،،،

شِٹ۔۔۔۔

غصے سے ارہان نے اپنی مٹھیاں بھینچیں اس کا دشمن اس کے ساتھ تھا اور اسے معلوم ہی نہ ہوا،،،

واچ مین گیٹ کھولنے لگا تو ارہان نے تیزی سے بائیک سٹارٹ کی اور ایک طرف کھڑا ہوا،،،

نصار صاحب گاڑی میں بیٹھے تھے اور ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا،،،

جیسے ہی گاڑی آگے بڑھی ارہان اس کا پیچھا کرنے لگا،،،

دس منٹ بعد گاڑی ایک بنگلے کے آگے آکر رکی جہاں اندر سے جگمگاتی روشنیاں باہر تک نظر آرہی تھی،،،

نصار صاحب کی گاڑی گھر کے اندر داخل ہو گئی،،،

ارہان گھر کی پچھلی طرف گیا بائیک دیوار کے ساتھ لگا کر وہ بائیک پر کھڑا ہوا پھر دیوار پر چڑھ کر گھر میں کود گیا،،،

اندر سے کافی شور شرابے کی آوازیں آرہی تھیں اسے معلوم ہو چکا تھا یہاں کوئی فنکشن چل رہا ہے،،،

ایک طرف سے ہوتا ہوا وہ دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا،،،

بارہ بجنے میں ایک منٹ رہ گیا تھا ماہی ٹیبل کے پاس کھڑی تھی جہاں بہت بڑا کیک تہہ در تہہ سجایا گیا تھا،،،

اب سب کی آواز ایک ساتھ آرہی تھی۔۔۔

ٹین۔۔۔

نائن۔۔۔

ایٹ۔۔۔

سیوین۔۔۔

ارہان کی نظر اس لڑکی پر پڑی جو آسمانی رنگ کی انتہائی خوبصورت میکسی پہنے باربی ڈول لگ رہی تھی لیکن اس کی کمر ارہان کی طرف تھی جس وجہ سے وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا تھا،،،

ٹو۔۔۔

ون۔۔۔

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ہیپی برتھ ڈے ڈئیر ماہی،،،

سب مل کر اسے گنگناتے ہوئے وش کر رہے تھے۔۔۔

برتھ ڈے کا اتنا بڑا فنکشن دیکھ کر ارہان خود بھی حیران ہوا۔۔۔

ماہی نے کیک کا ایک ٹکڑا کاٹ کر سفینہ بیگم کو اور پھر محمود صاحب کو کھلایا،،،

ارہان ماہی کے ہر عمل کو غور سے دیکھ رہا تھا لیکن اس کا چہرہ وہ ابھی بھی نہیں دیکھ پایا تھا،،،

اچانک اس کی نظر نصار صاحب پر پڑی تو اس کی آنکھوں میں وحشت اترنے لگی،،،

اس نے اپنے ہاتھ کی مٹھی کو سختی سے بند کیا اور الٹے پاؤں واپس مڑ گیا،،،

♥️
♥️
♥️

سب ماہی کو باری باری تحائف دے رہے تھے جسے ماہی خوشی خوشی پکڑ رہی تھی۔۔۔

جیسے ہی وہ اس کام سے فارغ ہوئی عباد نے اسے ایک طرف کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور وہ بیٹھ گئی،،،

وہ بھی اس کے پاس آ کر سامنے پڑے گول میز پہ کہنیاں ٹکائے بیٹھ گیا،،،

تم نے ابھی تک مجھے گفٹ نہیں دیا،،،

ماہی نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔

میں خود پورا کا پورا تمہارا ہوں تمہیں گفٹ کی کیا ضرورت ہے،،، وہ مسکریا

کیوں نہیں ضرورت تمہیں معلوم ہے نا مجھے گفٹس کتنے پسند ہیں کیوں کہ یہ سرپرائز ہوتا ہے اور اس سے دوسرے انسان کی محبت کا بھی پتہ چلتا ہے،،،

اچھا جی تو میں اگر تمہیں گفٹ نہ دوں تو کیا بے وفا کہلاؤں گا،،،

وہ ٹھوڑی ہتھیلی پہ ٹکائے اس کی طرف محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔

نہیں بے وفا تو نہیں لیکن لا پرواہ ضرور کہلاؤ گے،،، ماہی نے سوچتے ہوئے کہا

ہممم تو یہ لاپرواہ والے ٹائٹل سے بچنے کے لیے میں جناب کو گفٹ دے ہی دیتا ہوں،،،

سچ تم گفٹ لائے ہو پھر مجھے تنگ کیوں کر رہے تھے،،، اس نے پہلی بات حیرت اور دوسری بات منہ بسورتے ہوئے کی تھی۔۔۔

کبھی کبھی تمہیں تنگ کرنے میں بہت مزہ آتا ہے،،، وہ ہنسنے لگا

عباد نے جیکٹ کی پاکٹ سے ایک ڈبیہ نکالی جسے کھولتے ہی ڈائمنڈ کی خوبصورت بریسلیٹ نے ماہی کی آنکھیں چمکائیں،،،

واؤ اٹس بیوٹیفل،،، بے ساختہ ماہی کے منہ سے نکلا

اپنا ہاتھ دو،،،

ماہی نے عباد کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا

عباد نے محبت سے اس کی کلائی میں بریسلیٹ پہنائی اور ادھر ادھر دیکھنے لگا،،،

کیا ہوا،،، ماہی نے تجسس سے پوچھا

عباد نے جب دیکھا کہ سب خوش گپیوں میں مصروف ہیں اور ان کی طرف کسی کی توجہ نہیں تو اس نے جلدی سے ماہی کے ہاتھ پر اپنے لب رکھے،،،

عباد،،، ماہی نے تیزی سے اپنا ہاتھ کھینچا

کیا کر رہے ہو سب کے سامنے،،،

تو کیا اکیلے میں کروں،،،

وہ خمار بھری نظروں سے بولا تو ماہی حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

اففف میرا مطلب وہ نہیں تھا،،،

اچھا جی تو کیا مطلب تھا،،،

ہمارا کونسا نکاح ہوا ہے اور تمہیں یہ کرتے ہوئے کوئی دیکھ لیتا تو کیا سوچتا،،،

نہیں ہوا تو جلد ہی ہو جائے گا،،،

جلد کیسے ہو گا میری سٹڈی کمپلیٹ ہونے میں ابھی ڈیڑھ سال رہتا ہے،،،

ماہی اچھی خاصی سنجیدہ ہو گئی تھی۔۔۔

تو کیا ہوا ماہی سٹڈی میرے پاس آکر کمپلیٹ کر لینا،،،

نہیں بلکل نہیں شادی کے بعد کیسے پڑھا جائے گا،،، وہ حیران ہوئی۔۔۔

ماہی میرے جذبات کو بھی سمجھو میں زیادہ عرصہ تک تم سے دور نہیں رہ سکتا بہت مشکل ہو گیا ہے یار،،،

لیکن عباد آنی سے میری بات ہو چکی ہے اور وہ مان بھی گئی ہیں شادی لیٹ کرنے پر،،،

ماہی تم جو بھی کہو میں بس دو ماہ کے اندر اندر تمہیں اپنے گھر لے جانے والا ہوں،،،

عباد،،، ماہی حیرت سے اسے دیکھتی ہوئی بولی

بس اب کچھ نہیں کہو گی میرا یہ رومانٹک موڈ خراب مت کرو،،، وہ مسکرایا

ماہی بظاہر مسکرانے لگی لیکن اندر سے وہ پریشان تھی کیونکہ اس کا ابھی شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔

ایک طرف کھڑی رائمہ کب سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی عباد کا یوں ماہی کا ہاتھ چومنا اسے بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا،،،

لیکن وہ پریشان تھی اپنے احساسات پر قابو پانا اس کے بس سے باہر ہو رہا تھا۔۔۔

ماہی اس کی واحد دوست تھی جس سے وہ بہت پیار بھی کرتی تھی اور اپنی دوست کو ہی دھوکہ دینے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔

لیکن عباد کے لیے اس کے بڑھتے جذبات اسے مزید پریشانی میں مبتلا کر رہے تھے۔۔۔

♥️
♥️
♥️

محمود صاحب آج آپ کی نیند پوری نہیں ہو رہی،،، سفینہ بیگم نے ان کے پاس آکر کہا لیکن آگے سے کوئی جواب نہ آیا،،،

ناشتے کا ٹائم ہو چکا تھا اور محمود صاحب ابھی تک نہیں اٹھے تھے،،،

محمود صاحب،،،

سفینہ بیگم نے ان کو کندھے سے پکڑ کر ہلایا لیکن آگے سے کوئی ردعمل نہ ملا۔۔۔

وہ پریشان ہونے لگیں شاید محمود صاحب بے ہوش ہو چکے تھے۔۔۔

انہوں نے تیز قدموں سے چلتے ہوئے بیڈ کی دوسری طرف میز پر پڑا اپنا موبائل اٹھایا اور نصار کو کال کرنے لگیں،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *