Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

شہریار عبیرہ زور سے چلائی۔کیونکہ ازیر صاحب کی پستول سے نکلنے والی گولی سیدھی۔۔شہریار کے سینے پر لگی۔ وہ ایک دم لڑکھڑایا۔عبیرہ بھاگ کر اس تک آئی اور اسے تھام لیا۔۔پر وہ زمین پر گڑا۔۔

تبھی پیچھے سے ایک اور گولی چلی۔۔ جو کہ پولیس نے ازیر صاحب پر چلائی۔۔کیونکہ وہ ایک بار پھر شہریار پر نشانہ سادھے کھڑے تھے۔۔لیکن یہ گولی سیدھی فاخرہ بیگم کو لگی۔

فاخرہ ، ماما شمائلہ ازیر دونوں فاخرہ کو نیچے گرتے دیکھ چلاۓ۔۔

ماموں جان گاڑی نکالیں۔۔۔عبیرہ شہریار کی بند ہوتی آنکھیں دیکھ زور سے چلائی۔۔۔

فرحان صاحب جو یہ سب دیکھ صدمے میں چلے گے تھے۔عبیرہ کی پکار پر ہوش میں آۓ۔۔۔

وہ کانپتی ٹانگوں سے گھر کے اندر بھاگے اور گاڑی کی چابی لاۓ۔۔۔

شہریار شہریار پلیز آنکھیں کھولی رکھیں۔ آپ آپ کو کو کچھ نہیں نہیں ہو گا۔ عبیرہ روتے ہوۓ بولی۔پر شہریار سے آنکھیں کھولنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔

فرحان صاحب گاڑی کی چابی لے کر باہر کو آ رہے تھے

۔گولیوں کی آوازیں سن کر نور اور عمیر بھی باہر بھاگے۔۔۔۔

انکل آپ مجھے دیں میں ڈرائیو کرتا ہوں۔ وہی کھڑا ایک پولیس مین بولا۔۔۔فرحان صاحب نے چابی اسے دی۔۔۔باقیوں نے مل کر شہریار کو گاڑی میں لٹایا۔۔

پولیس نے ازیر صاحب کو گرفتار کر لیا تھا۔۔شمائلہ فاخرہ بیگم کو لے کر ہسپتال چلی گئی۔۔۔

ماما ماما بابا کو کیا ہوا ہے۔۔ہمیں بھی ساتھ جانا ہے۔نور اور عمیر روتے ہوۓ بولے۔۔۔۔عبیرہ کو اپنا آپ سھنمبالنا مشکل ہو رہا تھا۔وہ نور اور عمیر کو کیا سھنمبالتی۔۔۔۔

فرحان صاحب انہیں لے کر آگے بیٹھ گے۔۔عبیرہ شہریار کا سر اپنی گود میں لیے پیچھے بیٹھی۔۔۔۔گاڑی روڈپر دورنے لگی۔۔۔

شہریار نیم بے ہوش تھا۔

عبیرہ کی نظریں اس کے درد بھرے چہرے پر تھیں۔۔وہ رو رہی تھی۔۔۔

عبیییرہہہ شہریار نے لڑکھڑاۓ ہوۓ لہجے میں بولا۔۔۔

میں یہی ہو آپ کے پاس آنکھیں کھولی رکھیے پلیز۔۔وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔

میری باتتت سنووو ۔۔اگر مجھےےےے کچھ۔۔۔۔۔ہوا۔۔۔تو تم ہمت مت۔۔۔۔ہارنا۔۔۔۔شہریار بول رہا تھا۔اور عبیرہ روتے ہوۓ نا میں سر ہلا رہی تھی۔۔۔۔۔

آپ کو کچھ نہیں ہو گا۔۔۔عبیرہ اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔۔جو شہریار کے خون سے تر ہو چکا تھا۔۔۔

شہریار مسکرا دیا۔۔تبھی گاڑی رُکی۔۔۔تب تک وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔۔۔۔

ڈاکٹر نے سٹریچر لایا۔۔۔شہریار کو اس پر لٹایا اور آئی سی یو کی طرف لے کر بھاگے۔۔۔۔پولییس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے جلدی ایڈمیٹ کر لیا گیا۔۔۔۔

اس وقت شہریار آئی سی یو میں تھا۔اور باقی سب باہر کوریڈور میں بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔

عبیرہ روتے ہوۓ اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔جو کہ اب خون الودہ تھے۔۔۔

فرحان صاحب کھڑے تھے وہ ایک دم لڑکھراۓ۔۔

ماموں جان یہاں بیٹھیں عبیرہ نے جلدی سے انہیں بینچ پر بیٹھایا۔۔

میرا بچہ میرا شہریار اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں کیا کروں گا۔۔فرحان صاحب ٹوٹے ہوۓ لہجے میں بولے۔۔۔

ماموں ایسا مت سوچیں دیکھے گا ڈاکٹرز انہیں ٹھیک کر دیں گے۔۔۔آپ ہمت سے کام لیں۔۔۔عبیرہ ناجانے ان کو یا خود کو سمجھا رہی تھی۔۔۔

مجھے یہ سب کرنے کی اجاذت ہی نہیں دینی چاہیے تھے
مجھے اندازہ ہونا چاہیے تھا ازیر ایسی حرکت کر سکتا ہے
۔فرحان صاحب اپنا سر ہاتھوں پر گراتے ہوۓ بولے۔۔۔۔۔۔۔

ماما بابا کو گولی لگی۔انہیں کچھ ہو گا تو نہیں۔عمیر روتا ہوا عبیرہ کے پاس آیا۔۔۔۔

عبیرہ نے نور اور عمیر کی طرف دیکھا۔نور ایک طرف بیٹھ کر رو رہی تھی۔۔اور عمیر اس کے پاس کھڑا تھا۔۔۔

کچھ نہیں ہو گا۔۔۔کچھ نہیں ہو گا۔۔عبیرہ عمیر کو سینے سے لگاتے ہوۓ بولی۔۔۔وہ اسے لیے نور کے پاس بیٹھی۔۔اور اسے بھی اپنی آغوش میں لے لیا۔۔۔

شش۔ چپ رونے سے کچھ نہیں ہو گا۔۔ہم کو اللہ میاں سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ آپ کے بابا کو ٹھیک کر دیں۔۔عبیرہ دونوں کو چپ کرواتے ہوۓ بولی۔۔

اور پتہ ہے اللہ میاں بچوں کی دعائیں بہت جلدی سن لیتے ہیں۔۔۔چلو دعا کرو۔۔

اللہ میاں جی پلیز میرے میرے بابا جان کو کچھ مت کیجیے گا۔ ہم ان کے بغیر نہیں رہ سکتے پلیز اللہ جی ہلیز اللہ جی۔۔۔۔نور اپنے ہاتھوں کو دعا کی شکل میں کر کے رو کر دعا مانگ رہی تھی۔۔عمیر بھی اس کو دیکھتے اسی جی طرح کر رہا تھا۔۔۔

فرحان صاحب اور عبیرہ ان دونوں کو دیکھ ایک طار پھر رو دیے۔۔۔۔

اپریشن تین گھنٹے چلتا رہا۔۔۔علینہ بھی آ گئی۔۔فرحان صاحب نے اسے خود فون کر کے بلایا۔تھا۔

بالآخر تین گھنٹے کے بعد اپریشن ختم ہوا۔۔ڈاکٹرز کی ٹیم آئی سی یو سے باہر نکلی۔۔سب اس کی طرف بڑھے۔۔۔۔

دیکھیں پیشنٹ کو گولی سینے پر لگی۔۔یہ تو اللہ پاک کا کرم ہے کہ گولی دل پر نہیں لگی۔۔ہم نے بہت مشکل سے گولی نکالی ہے۔۔ ابھی وہ خطرے سے باہر ہیں ۔۔۔پر ڈاکٹر رکا۔۔
پر کیا ڈاکٹر عبیرہ بولی۔۔۔

پر اگلے چوبیس گھنٹوں میں انہیں ہوش آنا لازمی ہے ۔۔ورنہ ہم کچھ کہ نہیں سکتے۔۔۔ڈاکٹر بول کر چلا گیا۔سب کے سب بے چین ہو گے۔۔۔۔۔

پاپا یہاں بیٹھیں علینہ نے انہیں بینچ پر بیٹھا۔۔۔

پاپا ریکس رہیں اللہ سب ٹھیک کرے گا۔۔ میرا بھائی بہت بہادر ہے دیکھیے گا کچھ ہی دیر بعد اسے ہوش آجاۓ گا۔۔۔علینہ انہیں زبردستی پانی پلاتے ہوۓ بولی۔۔۔

شہریار کو کمرت میں شیفٹ کر دیا گیا۔۔۔جہاں ابھی بھی اسے مسنوئی سانس دے رہے تھے۔۔

اس کمرے میں صرف ایک آدمی کو جانے کی اجازت تھی۔

۔نرس ہر ایک گھنٹے بعد آ کر چیک کر کے جاتی۔۔۔وقت ریت کی طرف پھیسلاتا جا رہا تھا۔۔وقت کے ساتھ ساتھ سب کی دل کی دھڑکنیں بڑھ رہیں تھیں۔۔۔رات کے تین بج چکے تھے اور ابھی تک شہریا رکو ہوش نہیں آیا تھا۔۔۔ اس حادثے کو دس گھنٹے گزر چکے تھے۔

رات کو ویسے بھی پیشنٹ کے ساتھ صرف ایک ہی شخص رک سکتا تھا۔تو عبیرہ نے خود رُکنے کا فیصلہ کیا۔۔باقی سب کو زبردستی گھر بھیج دیا۔۔۔۔

وہ پچھے دو گھنٹے سے شہریار کے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے وہ خاموش بس اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

تبھی اسے کل رات والی بات یاد آ گئی۔۔

تم مجھے کبھی آئی لو یو کیوں نہیں بولتی۔۔شہریار عبیرہ کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا۔تبھی اچانک بولا۔۔

مجھے کہنے کی ضرورت نہیں عبیرہ کتاب کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔

پھر بھی دیکھو میں نے تو اظہارے محبت لفظوں میں کیا تھا تمہیں بھی کرنا چاہیے۔شہریار کتاب لے کر سائیڈ ہر رکھتے ہوۓ بولا۔۔۔

محبت کو تو محسوس کرنا چاہیے بولنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔عبیرہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔

پھر بھی بولو تو سہی مجھے اچھا لگے گا۔۔دیکھو ایسے بولو۔۔شہریار آئی لو یو۔ وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔۔۔

شہریار پلیز مجھ سے نہیں ہو گا۔۔وہ اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔۔۔

دیکھنا ایک دن تم بولو گئی لیکن میں جواب نہین دوں گا۔۔شہریار ناراض ہوتے ہوۓ بولا۔۔عبیرہ کا دل ایک پل کو دھڑکا۔۔۔۔

تبھی نرس کمرے میں داخل ہوئی۔۔عبیرہ حال میں لوٹی۔۔۔

۔نرس آگے بڑھی اس نے ماسک لگایا ہوا تھا۔۔۔

عبیرہ اپنا چہرہ دھونے کے لیے واشروم میں چلی گئی۔۔

تبھی دروازہ کھولا اور ایک اور نرس کمرے میں داخل ہوئی پہلے والی چلی گئی۔۔انے والی نے ماسک اتار وہ اور کوئی نہیں شمائلہ تھی۔۔۔۔

واہ شہریار ویسے بہت اچھے ایکٹر ہو۔۔پندرہ دن کیا مست پیار کا کھیل کھیلا۔۔اور میں بے وقوف تمہارے پیار میں پھنستی گئی۔۔کل تم نے میری ساری کی ساری عزت خاک میں ملادی۔۔اب کوئی میرا یقین نہیں کرے گا۔ سب مجھے جھوٹ سمجھتے ہیں۔۔میرا کیا ہو گا۔۔میں کیسے اپنی زندگی گزاروں گئی۔۔وہاں میرا باپ جیل میں ہے ابھی ابھی میری ماں مر گئی۔۔پر تم تم زندہ ہو ۔تم خوش رہو گے اس عبیرہ کے ساتھ۔۔۔شمائلہ آہستہ آواز میں بول رہی تھی بالکل شہریار کے کان میں آ کر۔۔

ویسے بہت سماٹ ہو مجھے سائیڈ ہر ہٹا کر ساری پراپرٹ حاصل کرنا چاہتے تھے۔۔پر یہاں تمہاری پلینگ ناص ہو گئی۔۔جب میرے باہ نے تم ہر گولی چلا دی جس کی وجہ سے تم آج یہاں ہو۔چچچ بہت تقلیف میں ہو چلو تمہاری تقلیف ختم کر دیتی ہوں۔۔یہ زہر کا انجکشن تمہیں لگاؤں گئی۔۔پھر تمہاری اس درد سے جان چھوٹ جاۓ گیی۔۔میری بےعزتی کا کچھ حصہ ختم ہو جاۓ گا۔۔اور میری ماں کا قاتل بھی مر جاۓ گا۔۔واؤمزہ آۓ گا۔۔۔وہ اس وقت بالکل پاگل لگ رہی تھی۔۔۔سامنے بیڈ پر شہریار بے خبر بےہوش پڑا تھا۔۔۔
شمائلہ نے انجکشن بھرا ۔اور مسکراتے ہوۓ شہریار کی ڈرپب کی طرف آئی۔۔۔۔

شمائلہ کیا کر رہی ہو۔۔۔تبھی عبیرہ واشروم سے باہر نکلی اس کی نظر شمایلہ کے ہاتھ میں پکڑے انجکشن پر تھیں جو وہ بوتل میں لگانے والی تھی۔۔

عبیرہ بھاگ کر اس تک آئی۔۔اور انجکشن کھینچ کر ہھینک دیا۔۔ہر دو قطرے اندر چلے گے تھے۔۔۔عبیرہ نے جلدی سے شہریار کی ڈریپ اتاری۔۔اور باہر ڈاکٹر کی آوازیں دینے لگی۔۔۔اگلے ہی سیکنڈ ڈاکٹر اندر آۓ۔۔۔

وہ شہریار کو چیک کرنے لگے۔۔عبیرہ غصے سے شمائلہ کی طرف آئی۔

ٹھاہ عبیرہ نے کھینچ کر اسے تھپر مارا۔۔۔

تم پاگل ہو کیا کر رہی تھی۔۔عبیرہ زور سے چلائی۔۔۔

مین تمہیں مار دوں گئی عبیرہ اب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔شمائلہ اس کی طرف بڑھی اور عبیرہ کا گلا پکڑ لیا۔۔ تبھی نرسز نے اسے پکڑا۔۔

میں تمہیں مار دوں گئی مین سب کو مار دوں گئی۔۔۔۔ہاہاہ سب ختم کو جاؤ گے۔۔۔کوئی شمایلہ کو ہرا نہیں سکا ۔۔

۔کویی بھی نہین ہاہاہاہا سب مرو گے۔۔وہ پاگلوں کی طرح چلا رہی تھی۔۔۔اسے دوسرے کمرے میں بے ہوشی کا انجکشن دے دیا گیا۔۔۔

عبیرہ اپنا سانس بھال کر شہریار کی طرف آئی جہاں ڈاکٹرز اسے چیک کر رہے تھے۔۔۔۔

شکر ہے آپ نے وقت ہر دیکھ لیا ورنہ زہر اندر رک جا سکتا تھا یہ آپ کی سوج بوجھ کا نتجہ ہے جو آپ نے جلدی سے ڈریپ نکال دی۔۔ورنہ اگر ایک بھی قطرہ اندر جاتا تو بہت بری مشکل ہو جاتی داکٹر بول کر چلا گیا۔۔۔

عبیرہ کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔شہریار پلز اُٹھ جائیں وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔۔

وہ اُٹھی اور وضو کرنے چلی گئی۔۔۔۔اور نماز پڑھنے لگی۔۔۔

فجر کا وقت ہو چکا تھا۔۔۔باہر آذانِ ہو چکی تھیں۔۔عبیرہ جاۓ نماز بھیچھاۓ اپنے رب سے اپنے شوہر کی زندگی مانگ رہی تھی۔۔۔

یااللہ میرے اندر اتنی ہمت نہیں میں شہریار کو کھو پاؤں۔۔میں نے امی ابو کو کھویا ہے۔۔۔اب میں شہریار کو کھونے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔اللہ جی انہیں ٹھیک کر دو۔۔انہیں ہوش آجاۓ۔۔۔۔وہ روتے ہوۓ اپنےر ب سے دعا کر رہی تھی۔۔

عبیرہ صبح کے چھے بجے عبیرہ وہی کرسی پر بیٹھی شہریار کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیے اپنا سر بیڈپر ٹکاۓ سو رہی تھی۔۔۔اور خواب میں بھی اسی کی سلامتی کی دعائین کر رہی تھی۔تبھی اسے دو بار اپبے کانوں میں شہریار کی آواز سنایی دی۔۔۔تیسری بار کہنے پر وہ جھٹ سے اُٹھ گئی۔۔۔اس کی نظر ہلکی سی آنکھیں کھولے شہریار ہر پڑی۔

۔جو بار بار اس کا نام پکار رہا تھا۔۔

شہریار آپ کو ہوش ا گیا۔۔۔یا اللہ شکر ہے۔۔۔عبیرہ خوشی سے رو پڑی۔۔۔شہریار نے اہنی انکھیں کھولنے کی کوشش کی۔۔پر کھول نا پایا۔۔ وہ بھاگ کر باہر گئی اور ڈاکٹر کو بلا کر لے آئی۔۔۔۔

اب یہ بالکل ٹھیک ہیں۔۔ لیکن پھر بھی ہم کچھ دو دن انہیں یہیں رکھیں گے۔ ڈاکٹر شہریار کا چیک اپ کر کے چلا گیا۔۔۔اب شہریار تھوڑا ہوش میں آیا تھا۔۔۔۔

آئی لو یو شہریار پلیز دوبارہ میرے صبر کا امتحان مت لیجے گا۔۔عبیرہ روتے ہوۓ اس کا چہرہ ہاتھ میں لیے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔

مجھے نہیں پتہہہ تھااا آئی لو یووو سننے کے لیے گولی کھانےے کی ضرورت ہے ورنہہہ پہلےےے ہی کھا۔۔۔۔لیتا۔۔۔۔شہریار مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔

آپ ریسٹ کریں میں جلدی سے ماموں کو فون کر لوں ۔۔۔عبیرہ جلدی سے فون ملانے لگی۔۔

کال کر کے دو دوبارہ شہریار کے پاس آئی جو آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔۔۔۔۔

میں نے آپ کو بولا تھا مت کریں یہ سب پھر بھی آپ نے کیا۔اور دیکھیں کیا ہو گیا۔۔۔عبیرہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔

یہ گولی تو مجھے لگنی ہی تھی۔۔۔وہ چاہے۔۔۔ چاچو کے ہاتھ سے لگتی یا کسی اور کے۔ ۔۔شہریار اس کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔۔

پتہ ہے کتنا ڈر گئی تھی۔۔آپ کو کھونے کا سوچ کر ہی جان نکل رہی تھی۔۔عبیرہ اپنے آنسوں پونچھتے ہوۓ بولی۔۔۔

جانتا ہوں ادھر آؤ۔۔شہریار اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف بلا رہا تھا۔۔۔

شہریار آپ کے سینے پر زخم ہے۔۔میں کیسے۔۔۔۔۔۔عبیرہ رکی۔۔۔

تم میرے قریب آؤ گئی تو درد نہیں سکون ملے گا۔۔شہریار نے اسے گلے سے لگا لیا

میں بہت بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔۔ عمیر نور ماموں علینہ سب بہت ڈر گے تھے۔۔ عبیرہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔ اس کے لہجے میں چھپا ڈر شہریار محسوس کر سکتا تھا۔۔۔۔

شش چپ مجھے کچھ نہیں ہوا تم سب کی دعائیوں نے مجھے کچھ ہونے ہی نہیں دیا۔۔ شہریار اس کے بال سہلاتے ہوۓ بولا۔۔۔

تبھی دروازہ کھٹکا۔۔عبیرہ۔ شہریار سے دور ہوئی۔۔۔فرحان صاحب علینہ نور اور عمیر چاروں اندر آۓ ۔۔۔

شکر ہے اللہ پاک کا میرے بیٹے کو ہوش آگیا۔۔ فرحان صاحب اندر داخل ہوتے ہوۓ بولے۔۔۔

نور اور عمیر شہریار کے آس پاس آکر بیٹھ گے۔۔ علینہ کرسی پر بیٹھی۔۔عبیرہ سب سے چھپ کر واشروم میں چلی گئی۔۔۔۔

دو دن اسی طرح گزے۔ عبیرہ دو دن وہی شہریار کے پاس رُکی۔۔۔دو دن بعد ڈاکٹر کی آجازت سے وہ گھر آ گے۔ وہی دوسری طرف فاخرہ بیگم کی اسی دن تدفین کر دی گئی۔۔۔شمائلہ اپنے ہواس کھو چکی تھی۔ وہ جب بھی اُٹھتی یوہنی چلاتی رہتی۔ڈاکٹرز نے اسے پاگل خانے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ازیر صاحب پر دھوکے سے پارپرٹی حاصل کرنے اور شہریار پر قاتلنا حملہ کرنے کا مقدمہ چل رہا تھا۔

آپ پہلے یہ سوپ پیں لیں پھر میں آپ کو دوائی کھلاتی ہوں۔۔اور ہاں آپ کی پٹی بھی تبدیل کرنی ہے۔۔۔عبیرہ جب سے گھر واپس آئی تھی۔تب سے شہریار کے لیے سوپ بنا رہی تھی۔۔

ادھر بیٹھو شہریار نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب بیٹھایا۔

میری تیمارداری کرنے کے علاوہ تمہیں خود کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔۔مین کل سے نوٹ کر رہا ہوں۔ تم پریشان ہو اور کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھا رہی بولو کیا ہوا۔۔شہریار جو نوٹ کر رہا تھا وہی بولا۔۔۔

نہیں ایسی بات نہیں۔۔عبیرہ نظریں چراتے ہوۓ بولی۔لیکن وہ یہ بھول گئی تھی سامنے والا اس کی آنکھوں کے رستے سب جانے کا ہنر رکھتا تھا۔۔

عبیرہ تم دوبارہ سے جھوٹ بول رہی ہو۔۔؟ شہریار سخت لیجے میں بولا۔۔۔

نہیں ایسی بات نہیں میں تو بس سوچ رہی تھی۔ اگر میری آپ سے شادی نا ہوئی ہوتی تو آپ پر یہ سب مصیبتں نا آتیں۔ نا وہ فاہد آپ کے آفس آتا اور نا ہی آپ پراپرٹی کے پیپرز سائین کرتے۔نا پراپرٹی کو واپس پانے کے لیے آپ کو یہ سب کرنا پڑتا اور نا ہی آج آپ اس حالت میں ہوتے عبیرہ اپنا چہرہ نیچے کرتے ہوۓ بولی۔ شہریار سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔

اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں۔۔ہاں یہ سب فاہد نے پیسوں کے لیے شروع کیا پر تم ایک چیز بھول رہی ہو اس سب میں چچا بھی شامل تھے۔۔اور یہ سارا پلین انہی کا تھا۔۔جس کی سزا ان کو مل جاۓ گئی۔۔۔فاہد کو بھی قانون ہی سزا دے گا۔۔ شمائلہ کو تو ویسے ہی حسد کی سزا مل چکی ہے ساری زندگی وہ پاگل خانے میں گزارے گئی۔۔پر تم مجھے بھی سزا دے رہی ہو۔۔۔شہریار بولا۔۔

آپ کو میں نے کیا سزا دی۔۔عبیرہ نے حیرانگی سے سر اُٹھا کر پوچھا۔

میرا وعدہ توڑنے کی سزا۔۔میں نے خود سے وعدہ کیا تھا۔اس خوبصورت لڑکی کی آنکھوں میں کبھی آنسوں نہیں آنے دوں گا۔۔پر تم نے وہ وعدہ توڑ دیا پچھلے تین دنوں سے مسلسل رو رو کر پاکستان کے پانی کے ٹینک ختم کر دیے۔۔شہریاد مسکراہٹ دبا کر بولا۔۔۔

آپ زیادہ باتین مت کریں اور یہ سوپ پیں عبیرہ نے سوپ کا چمچ بھر کر شہریار کے منہ میں ڈالا۔۔۔

ایک بات پھر کہو۔شہریار بولا۔۔

کیا بولوں۔۔عبیرہ حیرانگی سے بولی۔۔۔

وہی جو ہسپتال میں بولا تھا۔۔۔۔۔شہریار مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔۔

کیا بولا تھا مجھے تو کچھ یاد نہیں۔۔عبیرہ جلدی سے بیڈ سے اُٹھی۔۔اس سے پہلے کے وہ شہریار کے ہاتھ آتی۔وہ دروازے کے قریب پہنچی۔۔۔

رُکو کہاں بھاگ رہی ہو۔۔۔۔۔شہریار زور سے چلایا۔۔۔

وہ سب بس ایک دفع ہی بولا جاتا ہے۔۔اب ساری زندگی آپ کو ہی بولنا پڑے گا۔۔۔وہ ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔

وہ تو دیکھیں گے مسز شہریار۔۔۔۔شہریاراونچی بولا۔۔تب تک عبیرہ کمرے سے باہر جا چکی تھی۔۔پر شہریار کے الفاظ اس کے کان میں پڑے۔۔وہ مسکرا دی۔۔۔۔


بابا آپ نے بالکل ٹھیک کہا تھا عبیرہ ہی اس گھر کو چلا سکتی ہے۔۔وہی ہے جو دوبارہ سے بھائی کو خوشیان دے سکتی ہے۔۔۔علینہ فرحان صاحب کے ساتھ ٹیوی لاونج میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔

ہاں اور مجھے آج اپنے فیصلے پر بہت خوشی ہے ۔عبیرہ نے بالکل تحمل صبر اور پیار سے اس گھر کے ہر شخص کو اپنایا۔۔جیسا میں نے سوچا تھا۔۔عبیرہ مین مجھے تمہاری ماں کی جھلک دیکھتی ہے۔۔۔فرحان صاحب مسکراتے ہوۓ بولے ۔۔

ویسے مجھے ایک شیکایت ہے آپ سے علینہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔۔۔

اب ہماری پیاری سی بیٹی کو کیا شیکایت ہو گئی۔۔۔فرحان صاحب نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔

پلیز پاپا اب آپ یہ پیار دیکھا کر مجھے پھگلانے کی کوشش نا کریں۔ اتنا کچھ گھر مین ہو رہا تھا اور کسی نے مجھے بتانا مناسب نہین سمجھا۔۔وہ ناراض ہوتے ہوۓ بولی۔۔۔

میرے بچے تم اپنے گھر مین تھی میں نے ہی منا کیا تھا تم ہریشان ہو جاتی۔فرحان صاحب اسے سمجھاتے ہوۓ بولے۔۔۔

پاپا کیا میری شادی ہو گئی تو آپ نے مجھے پرایا کر دیا۔ وہ ناراض ہوتے ہوۓ بولی۔۔

ہاہاہا میرا بچہ بالکل نہیں جتنا مشکل ایک باپ کو بیٹی کو پراۓ گھر بھیجنا ہے۔۔اس سے مشکل دنیا میں اور کوئی کام نہیں۔۔بس ہر باپ کی طرح مین بھی تمہیں پریشان نہین کرنا چاہتا تھا۔۔فرحان صاحب نے اس کے سرپر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔۔۔

کیا پاپا ایموشنل کر دیا۔۔چلیں کوئی بات نہیں پر آئیندہ مجھ سے کچھ مت چھہاۓ گا۔۔۔علینہ انہیں ہگ کرتے ہوۓ بولی۔۔۔فتحان صاحب مسکرا دیے۔۔۔


پانچ سال بعد۔۔

یہ پانچ سال کیسے گزرے کسی کو پتہ ہی نا چلا۔۔۔ ان پابچ سالوں میں شہریار اور عبیرہ کی زندگی بہت خوبصورت ہو گئی۔۔نور اور عمیر نو سال کے ہو گے۔۔۔اللہ نے شہریار اور عبیرہ کو ایک پیاری سی بیٹی عطا کی جس کا نام انہوں نے ماہا رکھا۔۔۔وہ نور اور عمیر سے بھی زیادہ شرارتی تھی۔۔۔سب کی دادی اماں بنی رہتی۔۔۔

عبیرہ کو کبھی کبھی ان تینوں کو سھنمبالنا بہت مشکل ہو جاتا۔۔فرحان صاحب بس اب گھر مین اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ رہتے۔۔۔پراپرٹی کا کیس چھے مہینے مین ہی ختم ہوگیا۔ازیر صاحب کو بیس سال عمر قید کی سزا سنائی گئی۔۔فاہد کو تین سال کی قید سنائی گئی۔۔۔کیونکہ اس کے کیس کی جب تفتیش کی گئی تو اور بھی ناجائیز کاموں میں ملوث پایا گیا۔۔شمائلہ اسی طرح پاگل خانے میں بند تھی۔۔۔۔

شہریار اُٹھ جائیں آج اتوار ہے اور آپ کو یاد ہے ہمیں بچوں کو لے کر شاپنگ پر جانا ہے۔۔ماموں کے لیے بھی شاپنگ کرنی ہے۔۔اور علینہ علینہ بھی تو بول رہی تھی اسے بھی شاپنگ کرنی ہے۔۔ پرسوں علینہ کے بیٹے کا برتھ ڈے ہے تو اس کے لیے بھی تحفے لینے ہیں اس کے بعد تو آپ کے پاس وقت ہی نہیں ہو گا۔۔ شہریار اُٹھ جائین وہ کب سے شہریار کو اُٹھا رہی تھی پر وہ اُٹھنے کا نام ہی نہین لے رہا تھا۔۔

عبیرہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنے بال بنا رہی تھی۔

بہت زیادہ بولتی ہو۔ پہلے تو تمہارے گلے سے آواز بھی نہیں نکلتی تھی پر اب تو۔۔۔۔۔۔شہریار اسے پیچھے سے پکڑتے ہوۓ بولا۔

ہاں اب مجھے ہتہ چل گیا یے میں شہریار کی بیوی ہون اور اسے تو بولنا ہی پڑے گا۔۔۔عبیرہ مسکراہت دباتے ہوۓ بولی۔۔
اچھا جی ۔۔۔شہریار نے ا سکا چہرہ اپنی طرف کیا۔۔۔

شہریار کیا کر رہے ہیں بچے آ جائیں گے۔۔۔عبیرہ اپنا آپ چھڑواتے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔

واہ تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہارے بچوں سے ڈرتا ہوں۔۔ چھوڑو۔۔۔۔شہریار بولا۔۔

بابا بابا تبھی پیچھے سے ماہا نوراور عمیر کی آواز آئی۔ شہریار نے جلدی سے عبیرہ کو چھوڑا اور ان کی طرف مُڑا
ہاہاہاہا میں کسی سے نہیں ڈرتا عبیرہ اس کی نکل اتارتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

شہریار مسکراتا ہوا ان تینوں کے پاس آیا۔۔۔

بابا مجھے اپنی گڑیا کا گھر لینا ہے پہلے والا ٹوٹ گیا ہے۔۔ماہا شہریار کے پاس آ کر بولی۔۔

اور بابا مجھے اپنی ڈریس لینی ہے جو مین پھوہھو کے گھر پہن کر جاؤن گئی۔۔نور بولی۔۔

اور بابا مجھے گیم لے دیں پلیز عمیر بولا۔۔۔

اچھا جی سب کی فرمائیشں پوری ہوں گئی۔۔پہلے مجھے ہگ چاہیے شہریار نیچے زمین پر گھنٹوں کے بل بیٹھ کر بولا۔۔۔تینوں بھاگ کر اس سے چمٹ گے۔۔شہریار نے تینوں کو اپنی آغوش میں لیا۔۔۔۔

یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے اتنے پیارے بچے اور شہریار جیسا شوہر دیا۔۔عبیرہ اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔۔جو کہ خوشی کے آنسوں تھے۔۔۔وہ ان چاروں کو دیکھ کر مسکرا دی جو اس کی ساری دنیا تھے۔۔۔۔

ختم شدہ۔۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔