No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
فاہد میں نے ہی تمہیں اس آفس میں مینیجر کی پوسٹ دلوائی ہے۔ تمہیں بس وہاں کسی بھی طرح اپنی جگہ برقرار رکھنی ہے۔ شمائلہ جوس کا گلاس اُٹھاتے ہوۓ بولی۔۔۔
ہم تینوں کا ایک ہی مقصد ہے۔ مجھے شہریار کی کمپنی چاہیے اس کی پراپرٹی چاہیے۔جب سے میں نے اس سے طلاق لی ہے۔۔کچھ دیر تو اچھے پراجکیٹ ملے پر ابھی کوئی اچھا پراجیکٹ نہیں ملتا بس میں نے یہی فیصلہ کیا ہے۔مجھے ہر حالت میں شہریار کی کمپنی چاہیے۔۔ نیلم بولی۔۔۔
دیکھو فاہد نیلم کو پراپرٹی چاہیے اور مجھے شہریار
تم بس کسی طرح اس عبیرہ کے شہریار کے گھر اس کی زندگی سے باہر نکال دو۔۔قدم سے تجھے مالا مال کر دیں گے۔۔تمہاری ہر مشکل دور ہو جاۓ گئی۔۔تم راتوں رات امیر ہو جاؤ گے۔۔۔شمائلہ اسے سمجھاتے ہوۓ بولی۔۔
تم دونوں بے فکر رہو۔میرے پاس بہت اچھا پلین ہے۔۔
مجھے بس ایک مہینے کا وقت چاہیے میں تم دونوں کی ہر دلی خواہش پوری کر دوں گا۔۔انفیکٹ میں نے اپنا پہلا داؤ چل دیا ہے۔ پر کچھ ایڈوانس چاہیے۔ فاہد اپنے مطلب کی بات پر آیا۔۔
نیلم نے اپنے بیگ سے پانچ لاکھ نکال کر سامنے ٹیبل پر رکھے۔۔۔۔
واؤ ٹھینک یو فاہد نے فٹ سے سارے پیسے پکڑ لیے۔
اچھا اب مین آفس چلتا ہوں۔۔زیادہ دیر باہر نہیں رہ سکتا۔۔فاہد پیسے اپنے بیگ میں رکھتے ہوۓ بولا۔اور اُٹھ کر باہر چلا گیا۔
اس لڑکے پر اعتبار کرنا کیا مناسب رہے گا۔۔نیلم نے شمائلہ کی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔
یہ عبیرہ کا بوائی فرینڈ تھا۔ شادی سے کچھ دن پہلے ہی ان کا برےکپ ہوا تھا۔ میرے ہاتھ میں عبیرہ
کا وہ راز ہے جو اس کے گھر والوں کو بھی معلوم نہیں تھا۔۔بس تم دیکھتی جاؤ میں کیا کرتی ہوں شمائلہ شیطانی مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجاۓ بولی۔۔۔
واہ پر تجھے اس کا پتہ کیسے چلا۔۔۔نیلم نے اپنے ذہین مین آیا سوال پوچھا۔۔
بس چل گیا۔تم اتنی گہرائی میں مت جاؤ۔۔مین بھی چلتی ہوں۔آفس پہچنا ہے۔۔شمائلہ اپنا بیگ اُٹھا کر کھڑی ہو گئی۔اور نیلم سے مل کر چلی گئی۔۔
نور اور عمیر آجکل سکول نہیں جا رہے تھے۔لیکن عبیرہ کا ارادہ انہیں کل سے سکول بھیجنے کا تھا۔۔۔آج تو فرحان صاحب جا رہے تھے۔اور انہیں چھوڑنے
سب جا رہے تھے۔۔۔
علینہ دوپہر کو ہی ہادی کو لے کر آ چکی تھی۔اسے صبح ہی فرحان صاحب نے فون کر کے بتایا تھا۔وہ مل کر جا چکی تھی۔۔۔
شہریار آج ٹائم سے گھر واپس آ گیا تھا۔۔فرحان صاحب تیار ہو چکے تھے۔۔۔کچھ دیر میں سب انہیں ایرپوٹ چھوڑنے جانے والے تھے۔۔۔
شہریار کمرے میں چینج کرنے آیا۔۔تو عبیرہ کو اپنے کاموں مین مصروف پایا۔ وہ شہریار کے کپڑے نکال کر بیڈ ہر رکھ رہی تھی۔۔
شہریار کی نظر اس کے بالوں پر پڑی۔۔جو شائد ابھی گیلے تھے۔ وہ بلو کلر کی قیمض شلوار میں ملبوس تھی۔۔ڈوپٹہ ایک طرف کندھے پر لٹکا ہوا تھا۔۔۔
شہریار اس کا بھرپور جائزہ لیتے ہوۓ اند آیا۔۔۔۔
آپ نہا کر فریش ہو جائیں میں نے کپڑے نکال دیے ہیں۔۔تب تک میں دوسری چیزیں نکالتی ہوں۔۔عبیرہ اپنے پاؤں میں جوتی پہنتے ہوۓ بولی۔۔۔
شہریار اسے اگنور کرتا واشروم میں چلا گیا۔۔۔
جب وہ واپس آیا۔تب تک عبیرہ کمرے سے جا چکی تھی۔۔۔اس کی نظر بیڈ پر رکھی چیزوں پر پڑی کو اسے ضرورت تھی سب وہاں رکھی ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔۔
شہریار جلدی جلدی تیار ہو کر نیچے آیا۔۔۔
سب فرحان صاحب کو چھوڑنے ایڑپوٹ چلے گے۔۔۔۔
ایک گھنٹے میں سب ا یرپوٹ پر پہنچ گے۔۔۔ فرحان سب سے مل رہے تھے۔۔وہ ملتے ہوۓ شہریار کے پاس آۓ۔۔۔
میں اپنی بچی کو تمہارے حوالےکر کے پردیس جا رہا ہوں۔خبردار جو تم نے اسے ڈانٹا۔ میری ایک بات یاد رکھنا۔ وہ بچی تمہارے نکاح میں ہے۔۔تمہاری ذمہ داری ہے۔۔یہ لفظ بہت برے ہیں اگر تم سمجھ جاؤ۔۔فرحان صاحباسے گلے سے لگاتے ہوۓ اس کےکان میں بولے۔۔۔۔
دادا جان نور اور عمیر روتے ہوۓ فرحان صاحب کے گلے لگے۔۔۔۔
میرے بچوں میں جلد واپس آ جاؤں گا۔۔ فرحان صاحب انہویں گلے سے لگاتے ہوۓ بولے۔۔۔
پاپا ٹائم ہو گیا ہے شہریار عمیر کو ان سے الگ کرتے ہوۓ بولا۔۔۔عبیرہ نے نور کو پکڑا۔۔۔دونوں بہت زیادہ رو رہے تھے۔۔۔
فرحان صاحب سب سے مل کر اندر چلے گے۔۔۔۔
چلو سب بیٹھو گاڑی میں شہریار ان سب کو لے کر گاڑی کی طرف بڑھا۔۔
عبیرہ اگلی سیٹ کا دروازہ کھول کر اس میں بیٹھ گئی۔نور اس کی گود میں تھی عمیر بھی روتے ہوۓ اس کے پاس آ گیا۔۔۔
اتنے برے ہو کر تم دونوں رو رہے ہو دادا جان جلدی ہی واپس آ جائیں گے۔۔چپ کر جاؤ عبیرہ دونوں کو چپ کروانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔ مگر وہ روۓ ہی جا رہے تھے۔۔۔
شہریار آپ مجھے آئس کریم کھلا دیں۔۔روتے ہوۓ بچون کو تو آئس کریم کھلائی ہی نہیں جاتی۔۔عبیرہ شہریار کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
شہریاراسے اتنا فرینک دیکھ کر حیران ہوا۔۔۔
عبیرہ جانتی تھی دونوں آئس کریم کے نام پر دو منٹ میں چپ ہو جائین گے۔۔۔
آئس کریم میں تو نہیں رو رہی تو مجھے ملے گئی۔ عمیر رو ریا ہے اسے نہیں ملے گئی۔۔۔نور اپنے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
میں کب رو رہا ہوں۔جھوٹی عمیر اپنے آنسوں صاحب کرتے ہوۓ بولا۔۔
اوکے اوکے شہریار آپ مجھے اور میرے بچوں کو آئس کریم کھیلا دیں۔۔وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔
شہریا رکو وہ ایک پل کے لیے اپنے بچوں کو اصلی ماں لگی۔۔جو ان کے رونے پر انہیں بہلاتی ہے۔۔جو ان کی چھوٹی سی چوٹ پر ان سے بھی زیادہ خود روتی ہے۔۔جو اپنے بچوں کی بیماری میں ساری ساری رات اُٹھی ہے۔۔۔۔ یہ سب شہریار کو عبیرہ میں نظر آیا۔
ااس نے آئس کریم پالر کی طرف گاڑی موڑ لی۔۔۔
تینوں کے لیے آئس کریم لینے وہ دوکان کے اندر چلا گیا۔۔آئس کریم لے کر وہ واپس گاڑی میں آیا۔۔
بابا آپ نے نہیں کھانی۔عمیر شہریار کی طرف دیکھ کر بولا۔۔
نہیں تم کھاؤ شہریارنے مسکرا کر کہا۔۔۔
کھا لیں میٹھی ہوتی ہے۔کڑوی نہیں ہوتی۔۔عبیرہ شرارت بھری نظرون سے شہریار کی طرف دیکھ کر بولی۔۔اور ایک چمیچ آئیس کریم اس کی طرف بڑھائی۔۔۔
نہین مجھے کڑوی چیزیں ہی پسند ہیں تم میٹھی کھاؤ۔۔شہریار اس کی شرارت سمجھ چکا تھا۔وہ اسی کو کڑوا کہ رہی تھی۔۔۔۔۔
تینون کے کھا لینے کے بعد شہریار نے گاڑی گھر کی طرف بڑھا دی۔۔رستے میں عمیر اور نور عبیرہ کی گود میں ہی سو چکے تھے۔۔
آپ کو پتہ ہے بچپن میں نا میں جب بھی روتی۔ابو مجھے اسی طرح آئس کریم کا لالچ دے کر چپ کروا لیتے تھے۔۔ موحد بھائی مجھے آئس کریم کے نام پر اپنے سارے کام کروا لیتے تھے۔عبیرہ سامنے شیشے سے باہر دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
شہریار نے اس کے لہجے میں مہرومی دیکھی۔۔۔
شہریار یہ دنیا یتیم بچوں کے لیے بہت بری ہے۔بہت بری ہے۔اگر کسی بچے کے ماں یا باپ زندہ نا ہوں۔
تو اس کے اندر وہ وہ مہرومیاں آ جاتی ہیں۔۔جو آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔
جب میں آپ کے گھر میں آئی تھی۔مجھے نور اور عمیر کے اندر وہی مہرومیاں دیکھائی دیں۔جو میرے اندر ہوا کرتیں تھیں۔۔عبیرہ کھوۓ ہوۓ لہجے میں بول رہی تھی۔۔اور شہریار ہم تن اسے سن رہا تھا۔۔۔
آپ شائد مجھے غلط سمجھتے ہوں آپ کو شائد بچوں کے ساتھ میرا رویہ ڈرامہ لگے لیکن میں بس ان کو ایک ماں کا پیار دے رہی ہوں۔ بس آپ انہیں ایک باپ کی توجہ دے دیا کریں۔ یہی ان کی تربیت کے دن ہیں۔جو وہ آج سیکھیں گے وہی وہ آگے کی پوری زندگی کریں گے۔۔عبیرہ دونوں کے سروں پر بوسہ دیتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
شہریار اس کی باتوں کی گہرائی کو محسوس کر سکتا تھا۔اسے اپنے کچھ دن پہلے کہے جانے والے الفاظ یاد آگے۔۔عبیرہ کو لگا وہ ڈانٹ نا دے پر وہ اسے گہری سوچ میں گم دیکھ کر چپ ہو گئی۔۔۔
گھر بھی آ گیا۔۔۔ نور اور عمیر کو کمرے میں سُلا کر عبیرہ کیچن میں آ گئی۔۔جلدی سے کھانا بنایا۔۔اور ٹیبل پر لگایا۔۔
شہریار ٹیوی لاونج میں بیٹھا کسی دوست سے بات کر رہا تھا۔۔۔
بس تو کل میرے گھر دعوت پر آ رہا ہے۔۔یہ فائنل ہے۔سالے اتنے سالون بعد بات ہو رہی ہے۔۔بھابھی اور بچوں کو بھی لے کر آنا۔۔۔شہریار ہنستے ہوۓ اس سے باتیں کر رہا ہے۔۔
اوکے ڈن میں آ جاؤن گا۔۔۔۔۔ارحم کہتا ہو فون بند کر دیا۔۔
شہریار مسکراتا ہوا کرسی پر آ کر بیٹھا۔ عبیرہ بھی دوسری کرسی پر بیٹھ گئی۔۔
کل میرا دوست اپنے بیوی بچوں کے ساتھ دعوت پر آ رہا ہے۔میں کھانے کا آڈر دے دوں گا تم گھر کی اچھی سی صفائی کر لینا۔۔ شہریار کھانا کھاتے ہوۓ بولا۔۔۔
باہر سے کھانا۔۔نہیں میں خود بنا لوں گئی۔کتنے لوگ ہوں گے۔۔ عبیرہ بولی۔۔۔
میں بنا لوں گئی۔آپ بس سامان لا دیجیے گا۔۔عبیرہ بولی۔۔۔
ٹھیک ہے پر ہاں تم اپنا لباس تھوڑا سا اچھا پہننا۔۔یہ گاؤں والا لباس بالکل مت پہننا۔ شہریار اس کی قمیض شلوار پر چوٹ کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
اچھا۔۔عبیرہ بس اتنا ہی بول پائی۔اسے شہریار کی یہ بات بالکل اچھی نہیں لگی تھی۔۔۔۔
یونہی خاموشی سے کھانا کھایا گیا۔شہریار تو اپنا کام لے کر بیٹھ گیا۔۔عبیرہ عمیر اور نور کے کمرے میں سو گئی۔۔۔۔۔
عبیرہ شہریار اور بچوں کو سکول بھیج کر کام کرنے لگ گئی۔۔
وہ سارے گھر کی صفائی کر کے اب کیچن میں لگی ہوئی تھی۔دوپہر کے دو بچ چکے تھے۔اور دعوت شام سات بجے تھی۔۔
وہ جلدی جلدی ہاتھ چلا رہی تھی۔ تبھی اس کے فون پر کسی کی کال آئی۔
اس نے دیکھے بنا کال اُٹھا لی۔
ہیلو کون وہ پیاز کاٹتے ہوۓ بولی۔۔۔
ہیلو کون ہے جواب تو دو۔۔۔عبیرہ دوبارہ بولی۔۔پر آگے سے کوئی جواب نہیں آیا۔۔عبیرہ نے تنگ آ کر کال کاٹ دی۔۔۔۔
وہ اسے اگنور کیے کھانا بنانے لگی۔۔۔۔
سر پرسوں رات کو آپ کو اپنی وائف کے ساتھ پارٹی پر جانا ہو گا۔ سر یہ پارٹی بہت ضروری ہے۔آپ کو اس میں ضرور جانا ہو گا۔یہ ہمارے پراجیکٹ ملے میں بہت مددگار ثابت ہو گئی۔اور آپ جانتے ہیں وہ پراجیکٹ ہمارے لیے کتنا ضروری ہے۔۔۔۔سیکٹری شہریار کے کمرے میں آ کر بولی۔۔۔
ہممم ٹھیک ہے۔۔تمہیں میں نے کل جو فائل یونی جمع کروانے کے لیے دی تھی۔شہریار لیپ ٹاپنپر انگلیاں چلاتے ہوۓ بولا۔۔۔
جی سر اور وہاں سے کال آ چکی ہے۔ایڈ میشن ہو چکا ہے۔ سوموار کو جوائن کر سکتے ہیں۔۔سیکٹری بولی۔۔
ہممم ٹھیک ہے۔ابھی تم میرے لیے ایک کافی بھیجو۔۔شہریار مصروف انداز میں بولا۔۔۔
سکیٹری ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ۔ چلی گئی۔۔۔
عبیرہ کو میں پارٹی میں کیسے کے کر جاؤں گا۔۔وہ تو ہے ہی ڈفر۔۔نا پہنے کا ڈھنگ اور نا ہی بولنے کا۔۔شہریار لپپ ٹاپ بند کرتے ہوے خود سے مخاطب ہوا۔۔۔۔
نور اور عمیر سکول سے واپس آ چکے تھے عبیرہ نے انہیں اچھے سے کپڑے پہناۓ۔۔سارا کھانا وہ بنا چکی تھی۔وہ خود نہانے چلی گئی۔۔
اس نے کالی سادی سی فراق پہنی تھی۔ بالوں کو پونی میں قید کر دیا تھا۔۔ہلکا سامیک اپ کیے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
وہ تیار ہو کر کیچن میں آئی۔۔ بریانی کو دم سے ہٹاۓ وہ انہیں چیک کر رہی تھی۔۔
(خالہ تو مینے پہلے ہی نوکری چھوڑ کر اپنے برے بیٹے کے ساتھ چلی گئی تھی۔۔تب سے عبیرہ اکیلی ہی گھر کا سارا کام سھنمبالتی تھی۔یہ سب اس کے لیے مشکل نہین تھا کیونکہ اپنے گھر میں بھی وہ سب کام اکیلے ہی کرتی تھی۔)
ابھی بھی وہ کھیر کو آخری ٹچ دے ری تھی۔۔نور اور عمیر باہر لان میں کھیل رہے تھے۔۔۔
شہریار ا چکا تھا وہ اپنے کمرے سے تیار ہو کر کیچن کی طرف آیا۔۔۔۔
کیچن میں عبیرہ کو جلدی جلدی ہاتھ چلاتے دیکھ وہ اس کے قریب آیا۔۔۔
سب بن گیا۔۔وہ اس کے قریب ہو کر بولا۔۔۔
آہ عبیرہ جو اپنے دھیان میں کام کر رہی تھی۔اتنی پاس سے آواز سن کر ایک دم ڈر گئی۔۔
آپ نے تو ڈرا ہی دیا۔۔وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔ ۔
مجھے نہیں پتہ تھا میں بھوت ہوں جو تم اتنی ڈر گئی۔۔شہریار اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔
ایسی بات نہیں جب آپ یوں پاس آ کر بولین گے تو ڈروں گئی نا عبیرہ کھیر میں چمچ ہلاتے ہوۓ بولی۔۔
ایسی بات مت کہو۔ابھی پاس تو میں ایا ہی نہین تو ڈر کس بات کا۔۔۔شہریار دو معنی انداز میں بولا۔۔۔
عبیرہ کا ہاتھ کھیر کے چمچ کو ہلاتے ہوۓ ایک پل کے لیے روکا۔۔اس نے شہریار سے نظریں چڑائیں۔۔۔
ہممم اچھے سے پیش آنا مجھے کسی بات میں گواروں والا لہجہ نہین چاہیے وہ اپنے آپ کو کمپوز کرتے ہوۓ بولا۔اور باہر چلا گیا۔۔۔۔
گواروں والا لہجہ حد ہے۔مجھے تو خود سب سے برے گوار لگتے ہیں وہ خود سے بربرائی۔۔۔تبھی باہر سے آوازیں آنے لگیں۔۔۔
عبیرہ چولہا بند کرتی باہر آ گئی۔۔
باہر شہریار ہنستے۔ ہوۓ اپنے دوست ارحن سے مل رہا تھا۔
سالے ایسا باہر گیا۔مُڑ کے دیکھا ہی نہیں۔ ارحم اسے مکہ مارتے ہوۓ بولا۔۔۔
ہاہاہا تو ملا تو تھا کچھ سال پہلے اب ایسا بھی مت بول۔۔دو تین دفعہ مل چکا ہوں۔شہریار قہقہ لگاتے ہوۓ بولا۔۔۔
عبیرہ مسکراتے ہوۓ باہر آئی اور ارحم۔کی بیوی آمنہ سے ملی۔۔۔
پرے ہٹ میں بھابھی سے مل لو۔۔ارحم اسے پیچھے کرتا ہوا عبیرہ کی طرف بڑھا۔۔۔
السلام علیکم بھابھی جی۔۔کیسی ہیں آپ ویسے مجھے حیرانگی ہو رہی ہے۔آپ نے اس اکڑو سے شادی کیسے کر لی۔ وی عبیرہ کے پاس آ کر فرینک انداز میں بولا۔۔
وعلیکم السلام عبیرہ بس اتنا ہی بولی۔۔۔
ویسے بھابھی ایک بات بتاتا ہوں۔۔ہمارے گروپ میں پانچ ممبر ہوتے تھے۔۔تین لڑکے اور دو لڑکیاں جو یہ رہیں اور گروپ مین سب سے کھڑوس صرف اور صرف آپ کا شوہر ہی تھا۔۔ارحم بولا۔۔
میں سمجھ سکتی ہوں وہ واقعی میں کھڑوس ہیں۔ عبیرہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔
عبیرہ بہت اچھے سے ملی۔وہ امنہ سے جلدی کھل مل جانے والے تھے۔۔شہریار ارحم۔اور آمنہ کے ساتھ ٹیوی لاونج میں بیتھگ باتیں کر رہے تھے۔۔ان کے قہقہوں کی آوازیں کیچن تک آ رہیں تھیں۔۔۔
عبیرہ کول ڈرنک لے کر ٹیوی لاونج میں آئی سب کو سرو کرنے کے بعد وہ واپس جانے لگی جب ارحم کی بیوی بولی۔۔
عبیرہ یہی بیٹھو۔ ہمارے پاس اس نے عبیرہ کو اپنے پاس بیٹھا لیا۔۔۔
بھابھی ایک بات بتاتا ہوں۔۔آپ کو پتہ ہے آپ کے شوہر کا پہلا پیار کون تھا۔ارحم کھڑا ہو کر سامنے آیا۔۔۔
کون ؟ عبیرہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔شہریار نے وہاب کو گھورا۔۔
تو سننیے ہم دونوں بچپن سے لے کر ایک ساتھ پڑھے ہیں۔۔آپ کے شوہر کا پہلا پیار ہماری کمسٹری والی ٹیچر تھیں۔اور یہ بندہ گھنٹوں ہاس ٹیچر کے گھر کے نیچے کھڑا رہتا تھا۔۔۔ارحم ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔۔
یہ کھڑوس ایسا بھی تھا بری بات ہے۔۔عبیرہ حیران ہوئی۔۔
ارحم سالے چپ کر کے بیٹھ جا ورنہ میں بہت برا کروں گا ۔ شہریار اسے کوشن مارتے ہوۓ بولا۔۔
چاروں آپس میں باتیں کرنے لگے
۔۔۔کافی خاشگوار ماحول بن چکا تھا۔۔۔
عبیرہ اُٹھی اور کھانا لگانے لگی۔تھوڑی دیر بعد سب کھانا کھا رہے تھے۔۔۔
عبیرک بھی ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
واہ بھابھی کیا بریانی بنائی ہے۔میری بیوی کو تھوڑی سی عقل دے دیں اسے کچھ بھی بنانا نہیں آتا ہے۔۔۔
ارحم بریانی کھاتے ہوۓ بولا۔۔۔
کتنا برا جھوٹا ہے۔۔پہلے تو بھابھی کے کھانوں کی برہ تعاریفیں کر رہا تھا۔۔اب برایاں نکلالنے لگ گیا۔۔یقینًا بھابھی کھانا بناتین ہوں گئی۔لیکن تو سب کھا جاتا ہو گا جیسا ابھی لگا ہوا یے۔۔شہریار اسے چھیڑتے ہوۓ بولا۔۔
ٹھیک ہے میں نہین کھاتا تو اپنا کھانا اپنے پاس رکھ ارحم روٹھے ہوۓ انداز۔ میں بولا۔۔۔
کیا کہ رہے ہیں شہریار۔۔ارحم بھائی آپ کو جتنا کھانا ہے کھائے۔۔عبیرہ شہریار کو گھورتے ہوۓ بولی۔۔
میں بس بھابھی کے کہنے پر کھا رہا ہوں۔وہ دوبارہ کھاتے ہوۓ بولا۔۔
عبیرہ تم کھاؤ ان کے ڈرامے تو چلتے رہتے ہیں۔۔آمنہ بولی۔۔۔
ماما تبھی نور روتے ہوۓ اندر آئی۔وہ عمیر اور ماہین رخسار کے ساتھ باہر کھیل رہی تھی۔۔۔
کیا ہوا عبیرہ کھانا ادھورا چھوڑتے ہوۓ اُٹھی اور اسے گود میں لیا۔۔۔
میرا ہاتھ درد کر رہا ہے۔۔عمیر نے مارا ہے۔۔نور روتے ہوۓ بولی۔۔۔
عمیر آپ نے کیوں مارا پتہ ہے نا نور کے ہاتھ پر چوٹ لگی ہوئی ہے۔۔عبیرہ اسے ڈانٹتے ہوۓ بولی۔۔۔
میں ابھی دوائی کھلا دیتی ہوں۔۔عبیرہ اسے لیے چپ کرواتے کیچن میں لے آئی اسے دوا دے کر باہر لے آئی۔۔
میں نے دوائی دی ہے۔۔میں اسے سلا کر آتی ہوں۔۔وہ ان کے پاس آ کر بولی۔۔۔
تحیک ہے۔۔امنہ بولی۔۔۔
سبھی نے کھانا کھایا۔۔عبیرہ اسے سلا کر آ گئی۔۔برتن اُٹھا کر کیچن میں رکھے اور واپس ان کے پاس آ گئی۔
یاد گیارہ بج چکے ہیں اب ہمیں چلنا چاہے۔۔بچوں نے کل سکول بھی جانا ہے۔۔ارحم کھڑے ہوتے ہوۓ بولا۔۔۔
وہ شہریار کے گلے لگا۔
عبیرہ دو کھڑی آمنہ سے باتین کرنے لگی۔اتنی دیر میں ہی ان کی دوستی ہو چکی تھی عبیرہ اس سے نمبر لے رہی تھی۔۔۔
ایک بات بولون گا دوست۔ تجھے ہیرا ملا ہے۔۔ا سکی قدر کرنا مجھے احساس ہوا ہے۔تو بھابھی سے بات تک نہیں کرتا۔ انہین دیکھ ان میں بالکل آنٹی والی جھلک نظر آتی ہے۔۔مخلس ہر کسی کے بارے میں سوچنے والی۔ ارحم اس کے گلے لگتے ہوۓ بولا۔۔۔
ضروری نہیں جو دیکھ رہا ہو وہی سچ ہو اچھی تو نیلم بھی تھی۔۔شہریار اس کی طرف دیکھ کر بولا۔۔
شہریار تو نیلم جیسی سلفیش لڑکی کو عبیرہ جیسی لڑکی سے کمپیر کر رہا ہے۔۔اپنے بچون کو دیکھ اتنے مہینوں میں کیسے عبیرہ کے کلوز ہو چکے ہیں۔نور کو چوٹ ہر درد ہوا تو وہ تیرے پاس نہیں بلکہ عبیرہ کے پاس آئی۔۔تجھے اتنی سی بات سے سمجھ جانا چاہیے۔۔وہ کتنی اہم ہو چکی ہے۔۔ وہ بہت اچھی ہے۔۔۔ارحم اسے سمجھاتے ہوۓ بولا۔۔۔
بس پڑ لیے اپنی بھابھی کی شان میں قصیدے تو چل شہریار چڑتے ہوۓ بولا۔۔۔
سالے سمجھ جا قدر کر عبیرہ کی ورنہ ہاتھ ملتا رہ جاۓ گا۔۔۔ارحم کہتا ہوا باہر کی طرف بڑھا۔۔
وہ سب سے مل کر گاڑی میں بیٹھے۔۔اور چلے گے۔۔
عبیرہ عمیر کو سلانے کمرے میں آئی۔
شہریار باہر گارڈن میں چلا گیا۔۔۔
وہ گہری سوچوں میں گم واک کر رہا تھا۔۔ اس کی سوچ کا مرکز عبیرہ کی ذات بنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
جاری ہ ے۔۔۔
کیسی لگی۔۔کومینٹ میں بتائے گا۔۔۔
