No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
شام سات بجے کے قریب فرحان صاحب کا جہاز لینڈ ہوا۔ شہریار نے گاڑی بھیج دی۔۔وہ اس وقت مردوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔۔ جیسے ہی فرحان صاحب آۓ۔ شہریار ان کے پاس آ گیا۔وہ بہت ٹوٹے ہوۓ دیکھ رہے تھے۔کچھ سال پہلے اپنی بیوی کو کھونے کے بعد آج اپنی بہن کو بھی کھو دیا۔
پاپا آپ ٹھیک ہیں۔شہریار انہیں سھنمبالتے ہوۓ بولا۔
مجھے عبیرہ بیٹی کے پاس لے کر جاؤ۔ پتہ نہیں اس بچاری پر کیا گزر رہی ہو گئی۔۔فرحان صاحب بھیگے ہوۓ لہجے میں بولے۔۔۔
جی بالکل چلیں۔۔شہریار انہیں لیے عبیرہ کے کمرے میں آ گیا۔ جہاں بیڈ پر عبیرہ بیٹھی رو رہی تھی۔ نور اور عمیر بھی اس کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے۔۔وہی دوسری طرف صوفے پر فاخرہ بیگم شمائلہ کے ساتھ بیٹھیں ہوئیں تھیں۔ وہ واپس پلٹ گیا۔۔۔
عبیرہ بیٹی فرحان صاحب اس کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھے۔۔۔
ماموں جان میری امی عبیرہ ان کے گلے لگ کر روتے ہوۓ بولی۔۔۔
بس صبر کرو۔۔ میری بچی اللہ اس کی مغفرت کرے۔ فرحان صاحب اسے چپ کرواتے ہوۓ بولے۔لیکن وہ روۓ جا رہی تھی۔۔۔
ماموں مجھ سے صبر نہیں ہو رہا۔مجھے ہر جگہ امی نظر آ رہی ہیں۔۔وہ روتے ہوۓ بولی۔۔
میری بچی وہ تو اللہ کی امانت تھی جیسے اللہ نے واپس لے لیا۔ رو مت اس کی مغفرت کے لیے دعا کرو۔ چلو شاباش اُٹھ کر نماز پڑھو۔۔فرحان صاحب نے اسے بامشکل سھنمبالا۔۔وہ اُٹھ کر باہر مردوں کے پاس چلے گے۔
ماما آپ رو مت۔ہم دونوں آپ کی امی کے لیے دعا کرتے ہیں۔عبیرہ رو رہی تھی تبھی نور اور عمیر بولے۔۔
رو مت پلیز نور اس کے چہرے سے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔عبیرہ کو اور رونا آ گیا۔اس نے نور اور عمیر کو سینے سے لگا لیا۔۔
واٹ آ سلی ڈرامہ شمائلہ جو کب سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔دل میں بولی اور اُٹھ کر باہر کیچن کی طرف چلی آئی۔
رات کے بارہ بجے کے قریب سب گاؤں والے اپنے گھروں کو چلے گے۔۔گھر تو ویسے بھی چھوٹا تھا۔ازیر صاحب اور ان کی بیوی ایک کمرے میں سو گے۔
شمائلہ کو اتنے چھوٹے گھر میں رہنے کی عادت نہیں تھی۔وہ ٹیوی لونج میں رکھے صوفے پر بیٹھ کر موبائل چلانے لگی۔۔۔۔۔
شہریار سب کو رخصت کر کے گھر آیا۔ وہ سیدھا عبیرہ کے پاس جانا چاہتا تھا۔وہ جانتا تھا وہ کتنے قرب میں ہو گئی۔وہ چلتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔
شہریار بات سنو تبھی شمائلہ نے اسے روکا۔وہ ایک پل کو رُکا
آئی نو یہ بہت برا صدمہ ہے۔۔ عبیرہ کی امی کا اچانک یوں چھوڑ کر چلے جانا۔۔مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا۔۔۔وہ اس کے پاس آ کر افسرہ بھرے لہجے میں بولی۔۔
اگر تمہاری یاداشت کمزور ہے تو میں یاد دلا دو۔وہ صرف عبیرہ کی امی نہیں بالکہ تمہاری بھی کچھ لگتیں تھیں پھوپھو تھی نا تمہاری ویسے تمہیں یہ سب کیسے یاد ہو گا تم کون سا یہاں آتی تھی۔۔شہریار طنزیہ انداز میں بولا۔۔
ہاں اور مجھے کوئی شوق بھی نہیں اس پھٹیچر گھر میں آنے کا۔ اور تم تو ایسے بول رہے ہو جیسے روز آتے تھے شمائلہ طنزیہ انداز میں ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔۔
ہاں نہیں آتا تھا پر کم از کم رشتوں کا ضرور پتہ ہے۔ شہریار کہتا ہوا بنا اس کا جواب سنے چل دیا۔۔
برا آیا۔دیکھنا مسٹر شہریار تمہیں سیدھا کر دوں گی۔ایسا انگلی پر نچاؤں گئی۔کہ اس عبیرہ نامی بلا کو بھول جاؤگے۔۔ وہ کھلستے ہوۓ بولی اور واپس جا کر صوفے پر لیٹ گئی۔۔۔
شہریار شمائلہ سے جان چھڑوا کر سیدھا عبیرہ کے کمرے میں آیا۔وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا اس کی نظر سیدھی عبیرہ کی بیک پر پڑی۔۔
وہ جاے نماز بیچھے دعا مانگنے میں مصروف تھی۔ وہ روتے ہوۓ اپنے رب سے اپنی امی کی مغفرت کی دعائیں مانگ رہی تھی۔شہریار بنا شور کیے دروازہ بند کر کے روم سے اٹیچ باتھ روم میں گھس گیا۔۔تھوڑی دیر بعد جب وہ فریش ہو کر باہر نکلا۔ تب عبیرہ نماز ادا کر کے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔ شہریار نے نور اور عمیر پر چادر ٹھیک کی۔۔اور عبیرہ کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔
عبیرہ نے بنا کچھ بولے شہریار کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ شہریار نے اسے کندھے سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے بس آنسوں برسا رہی تھی۔شہریار نے اسے رونے دیا۔
ایسا کیوں ہوا؟ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولی۔۔۔
میں بھی یہی سوچتا تھا ایسا کیوں ہوا؟ جانتا ہوں اپنی ماں کو کھونا کتنا مشکل ہے۔۔ پر تم تو ان کی بہادر بیٹی ہو نا۔ تو ہمت سے کام لو۔ وہ اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔۔۔
یہ کہنا بہت آسان ہے ہمت سے کام لو پر یہ ہمت کہاں سے ملتی ہے۔ اور اب تو میرے سر سے ماں کا سایہ بھی اُٹھ گیا ابو تو پہلے ہی چھوڑ گے تھے۔ میں تو بالکل اکیلی ہو گئی۔۔وہ روتے ہوۓ بولی۔۔شہریار کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔
بس عبیرہ چپ کر جاؤ اتنا رو گئی تو بیمار پڑ جاؤ گئی۔ اور جہاں تک بات رہی ہمت کی تو اللہ پاک اگر کچھ چھینتا ہو تو اس کے درد کو سہنے کی ہمت بھی دیتا ہے۔۔۔ تم اکیلی نہیں ہو میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔۔شہریار اس کے آنسوں پونچھتے ہوۓ بولا۔۔۔
تمہیں بخار بھی ہو رہا ہے۔چلو لیٹ کر سو جاؤ۔ شہریار اسے زبردستی بیڈ پر لیٹاتے ہوۓ بولا۔اور خود بھی اس کے پاس لیٹ گیا۔۔عبیرہ کو نیند تو نہیں ا رہی تھی۔۔وہ شہریار کے سینے پر سر رکھے اس سے نجمہ بیگم کی باتیں کر رہی تھی۔۔اور شہریار اسے بہت پیار سے جواب دے رہا تھا۔۔
نجمہ بیگم کی وفات کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ ازیر صاحب تو اگلے دن ہی چلے تھے۔۔فرحان صاحب اور شہریار ہی عبیرہ کے ساتھ یہاں تھے۔ موحد اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ یہی تھا۔۔۔
شہریار کا کام اتنے دنوں کا رُکا ہوا تھا۔اسی لیے شہریار نے واپس جانے کا بولا۔عبیرہ کا دل تو نہیں کر رہا تھا پر واپس جانا بھی ضروری تھا نور اور عمیرکا پہلے ہی بہت نقصان ہو چکا تھا۔۔۔
وہ عمیر اور نور کا سامان پیک کر رہی تھی۔ جو شہریار بعد میں بازار سے لایا تھا۔ نجمہ بیگم کے کمرے میں جا کر کچھ چیزیں لے کر وہ اپنے کمرے میں آئی۔اور بیکنگ کرنے لگی۔۔۔۔
سب تیار ہو کر جانے کے لیے باہر آۓ۔۔وہ گھر کو دیکھتے ہوۓ ہاتھ میں چابی اور پیپرز لے کر موحد کے پاس آئی۔۔جو ایک طرف کھڑا تھا۔۔
آپ کو یہی چاہیے تھے۔جس کے لیے اس دن آپ نے امی سے بدتمیزی کی۔ اب آپ اس گھر کے ساتھ جو مرضی کریں کوئی پوچھینے والا نہیں۔۔جانتی ہوں اس گھر پر آپ کو اور میرا حق ہے۔پر میں اپنا حق معاف کرتی ہوں۔اج سے یہ گھر آپ کا ہوا۔۔عبیرہ پیپرز پر سائن کرتے ہوۓ بولی۔۔پیپرز اور گھر کی چابی موحد ہے ہاتھ پر رکھی۔اور بنا اس کا چہرہ دیکھے باہر کی طرف بڑھی۔
موحد شرمندگی سے ان پیپرز کو دیکھ رہا تھا۔اجالا بہت خوش تھی۔۔۔
وہ باہر آئی۔ شہریار پریشان سا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔سب گاڑی میں بیٹھے تو شہریار نے گاڑی چلا دی۔۔
عبیرہ نے مڑ کر آخری بار اس گھر کو دیکھا۔پچھلی بار جب وہ واپس جا رہی تھی نجمہ بیگم رخشندہ خالہ کے ساتھ کھڑیں اسے الواع کہ رہیں تھیں پر اس بار وہ جگہ بالکل ویران تھی۔۔تھوڑی دور جاتے عبیرہ نے چہرہ موڑ لیا۔۔
نہیں بس کچھ گھنٹوں تک میں واپس آنے والا ہوں۔ہاں سیدھا افس ہی آؤ گا۔۔تم فون رکھو مین مینیجر سے بات کرتا ہوں۔اس نے فون کاٹا اور مینیجر کو فون ملانے لگا۔۔
تین گھنٹے کی مسلسل ڈرائیو کرنے کے بعد بالآخر وہ
گھر پہنچ گے۔شہریار مسلسل فون ہر مصروف رہا۔۔۔سب کو گھر اتار کر وہ سیدھا آفس کے لیے نکلا۔فرحان صاحب جانتے تھے کچھ تو بہت اہم وجہ ہے اسی لیے وہ اتنا پریشان ہے تو وہ زبردستی اس کے ساتھ آفس آگے۔۔س
شہریار گاڑی کو بھگاتا ہوا آفس پہنچا۔۔ اپنے کمرے میں ایا۔
کیا بکواس کر رہے ہو۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔وہ فائل کو ٹیبل پر ٹچکتے ہوۓ بولا۔۔سبھی اس کے غصے سے گھبراتے تھے۔۔
تمہارا دماغ خراب ہے اگر اس چیکس پر میرے سائن نہیں تھے تو کیسے تم کسی کو بھی دو کڑور دے سکتے ہو۔۔شہریار ٹیبل پر ہاتھ مارا کر چِلایا۔۔
دیکھیں اس کے پاس سارے ڈاکومینٹس تھے تو ہم انکار کیسے کر سکتے تھے۔۔وکیل ہچکچاتے ہوۓ بولا۔۔
کس کے پاس ڈاکومینٹس تھے اور کون سے سائن تھے شہریار نا سمجھی میں بولا۔۔۔
میرے پاس تبھی دروازے سے آواز آئی۔ سب نے مڑ کر اس دروازے میں سے آتے ہوۓ انسان کو دیکھا۔۔۔
ازیر تم یہاں کیوں؟ فرحان صاحب بولے۔۔۔
ہاہاہا اب اپنے ہی آفس میں آنے کی بھلا مجھے کسی کی پرمیشن کی ضرورت نہیں۔ وہ ہنستے ہوۓ بولے۔۔
آپ شاید عقل سے پیدل ہو گے ہیں یہ میرا آفس ہے تم اپنی فیکٹری میں جاؤ۔شہریار غصے سے بولا۔پہلے ہی اتنا سب ہو جانے کی وجہ سے اس کا دماغ خراب ہو چکا تھا۔۔۔
ارے برخرداد صبر رکھو صبر۔ اور مجھ سے زرا تمیز سے بات کرو۔آخر اب میں اس آفس کا مالک ہوں وہ ہنستے ہوۓ بولے۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ سب فرحان صاحب غصے سے بولے۔۔
کیا بھائی صاحب یہ تو آپ اپنے بیٹےسے پوچھیے جس نے خود اپ کی ساری پراپرٹی کا 70٪ حصے میرے نام کیا ہے۔ ازیر صاحب نے سب پر بم پھوڑا۔۔
شہریار چکرا کر رہ گیا۔ فرحان صاحب ایک دم صوفے پر بیٹھے۔
واٹ یہ کیا بے وقوفانہ بات ہے میں کیا پاگل ہو جو یوں منہ اُٹھا کر 70٪ بزنس آپ کے نام کر دوں گا۔ شہریار غصے سے آگے بڑھا۔۔
میں جانتا تھا تمہیں میری بات پر یقین نہیں ہو گا تو یہ لو میں پروف ساتھ لایا ہو۔۔ازیر صاحب فائل اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ بولے۔۔
شہریار نے جلدی سے فائل پکڑی اور پیپرز پلٹ کر دیکھنے لگا۔۔تبھی وکیل نے فائل لے لی۔۔
جی سر یہ بالکل ٹھیک بول رہیے ہیں۔آپ نے خود ان پیپرز پر سائن کیا ہے۔ وکیل پیپرز چیک کرتے ہوۓ بولا۔۔
برے ہی بے وقوف ہو۔بنا پڑھے سارے کاغزوں پر دستخط بھی کر دیے۔۔۔کیا فرحان بھائی کیسا جھلا بیٹا ہے اپ کا۔۔وہ تمسخرانہ انداز میں بولے۔۔۔
شہریار کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔وہ اپنے بالوں مین ہاتھ ڈالے چکر لگا رہا تھا۔وہ اتنی بری بے وقوفی کیسے کر سکتا ہے۔۔۔
کیوں کیا تم نے ایسا مین تمہارا سگا بھائی ہوں۔۔فرحان صاحب دکھ بھرے لہجے میں ازیر کے پاس کھڑے ہو کر بولے۔۔
یہ تو خود سے پوچھیں۔۔برے بھائی صاحب۔ ہمیشہ مجھے ہی نیچا دیکھایا گیا۔۔وہ سکول ہو کالج ہو یا آفس ہو۔۔ہمیشہ صرف فرحان فرحان فرحان ازیر کہاں تھا۔۔فرحان امی ابو کا لاڈلا۔۔فرحان ہر کلاس کا ٹاپر فرحان کی مشہور انڈسٹری،بس فرحاب فرحان ان سب میں مین کہاں تھا۔۔اسی لیے میں نے آپ سے سب چھین لیا۔۔اور اپ کو نجمہ کی بیٹی نظر آئی اپنے بیٹے سے بیانے کے لیے میری بیٹی نظر نہیں آئی۔۔سوچا میری بیٹی کی اپ کے گھر شادی ہو گئی۔تو سب میری بیٹی کا آٹو میٹک میرا ہو جاۓ گا۔۔پر نہیں وہ منحوس عبیرہ کو لے آۓ۔۔۔ازیر اپنے اندر کا گند کھول رہے تھے۔ابھی اس آفس میں شہریار فرحان اور ازیر ہی تھے۔۔۔فرحان صاحب اس کے منہ سے اتنی نفرت سن کر حیران رہ گے۔۔۔
بس بس بہت ہوا چاچو ہم نے کبھی آپ کو کم نہیں سمجھا۔ مجھے تو آپ کی سوچ پر گھن آ رہی ہے۔۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو سوار کر کے اتنا گھنونا کھیل کھیلا۔۔ شہریار غصے سے چلایا۔۔۔
آواز نیچی رکھو اب فرحان انڈسٹریز کا میں مالک ہوں۔۔ابھی کے ابھی نکلو میرے آفس سے چلو ازیر غصے سے چلاۓ۔اور باہر سے سکیوڑٹی بلوائی۔۔
شہریار غصے سے کھولتا باہر کی طرف بڑھا۔
بہت پچھتاؤ گے تم فرحان صاحب دکھ بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولے۔۔اور مرے ہوۓ قدموں سے باہر نکلے۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا فائنلی یہ سب میرا ہوا کتنے پاپر بیلنے پڑے اس سب کے لیے۔۔۔وہ ہنستے ہوۓ شہریار کی کرسی پر آ کر بیٹھے۔۔۔
یہ سب کیا ہے تم نے ان پیپرز پر سائن کیون نہیں کرواۓ اور کون سے پیپرز پر سائن کرواۓ ہیں۔نیلم اج بیٹھ کر پیپرز چیک کرنے والی لگی تو پتہ چلا ان پیپرز پر سائن نہین ہوۓ۔۔۔تبھی اس نے شمائلہ اور فاہد کو اپنے گھر بلایا۔۔۔
انہی پر جن پر میں نے کروانے کو بولا تھا۔۔شمائلہ جوس سائڈ پر رکھتے ہوۓ بولی۔۔
کیا مطلب نیلم حیرانگی سے بولی۔۔۔
ارے برا آسان ہے۔۔میں نے نا ان پیپرز کو بدل دیا اور ان کی جگہ اپنے پاپا کے نام کے پیپرز رکھ دیے۔۔۔اب 70٪ حصہ ان کا ہو گیا ہے۔شمائلہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔
واٹ تمہارا دماغ تو خراب نہین یہ کیا بکواس کر رہی ہو ۔نیلم اس کی بات سن کر چلائی۔۔
ارے کول ڈون تم نے کیا سوچا ہم دونوں کو استمال کر کے سارے بزنس پر قبضہ کر لو گئی اور ہم تمہارا منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔۔تو نو بے بی مجھے شروع سے ہی تمہارے سارے پلین کا پتہ تھا۔تو سنو کیا ہوا۔۔۔
اس دن جوپیپرز تم نے فاہد کو دیے سائن کروانے کے لے وہ میں نے تبدیل کر دیے اور ان پیپرز کے بدلے میں نے اپنے پاپا کے نام کے پیپرز رکھ دیے۔۔اب ہو گا یہ کہ 70٪ حصہ تو پاپا کے نام ہے۔اور شہریار اس کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاے گا تو بس میں اسے بولوں گی عبیرہ کو طلاق دینے کو اور مجھ سے شادی کرنے کو اور اپنے پیسون کو واپس پانے کے لیے وہ وہی سب کرے گا۔۔جو مین کرواؤ گئی۔۔شمائلہ اترا کر سب بتاتی گئی۔۔
واٹ نان سینس فاہد تم اس کے ساتھ کیسے مل سکتے ہو۔میں نے تمہیں کتنے زیادہ پیسے دیے ہیں۔۔نیلم غصے سے فاہد پر چلائی۔۔
او میڈم میں تو ایسا بندہ ہوں جہاں اپنا تھوڑا سا فائدہ دیکھا وہی کا ہو گیا۔فاہد ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔
تم دونون میں چھوڑوں گئی نہیں تم دونوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔۔۔نیلم غصے سے ان دونوں کی طرف بڑھی۔۔۔
او پلیز مس نیلم اپنی اوقات مین رہو اور جا کر ماڈلنگ کرو۔ کچھ پیسے کماؤ۔ ورنہ جتنی تم۔کنگال ہو یہ گھر بھی چھوڑنا پڑے گا۔۔شمائلہ نے اسے دھکہ دیا وہ سیدھی زمین پر گِڑی۔۔۔
چلو فاہد شمائلہ اس کے ساتھ گھر سے نکل گئی۔۔۔پیچھے نیلم حیرانگی سے ساری سچویشن کو سمجھنے لگی۔۔آج اسے کسی نے بہت بری طرح سے ہرایا تھا۔اور وہ بھی اس سے چھوٹی لڑکی نے۔۔۔
شہریار فرحان صاحب کو لیے گھر آ گیا۔۔فرحان صاحب نے اسے ابھی تک کچھ نہیں بولا تھا۔۔
پاپا یقین جانیے مین نے وہ پیپرز پڑ کر سائن نہیں کیے۔۔مجھے نہیں پتہ یہ سب کیسے ہوا۔ شہریار ان کے کمرے میں ا کر بولا۔۔۔
شہریار ابھی میں بات کرنے کے موڈ مین نہیں ہوں تم۔جا سکتے ہو فرحان صاحب سخت لہجے میں
بولے۔شہریار غصے سے کمرے میں ا گیا۔۔۔
میں اتنا بے وقوف کیسے ہو سکتا ہوں۔۔وہ کمرے میں داخل ہو کر زور سے دروازہ مارتے ہوۓ بولا۔۔۔عبیرہ جو الماری میں کپڑے سیٹ کر رہی تھی۔۔شہریار کو اتنے غصے میں دیکھ کر فوراً اس کے پاس آ گئی
کیا ہوا آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں۔ وہ پریشانی سے بولی۔۔
سب کچھ ختم ہو گیا۔۔شہریار نے غصے سے سامنے پڑے شیشے کے گلدان کو سامنے والی دیوار پر دے مارا۔۔عبیرہ نے ڈر کر کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تبصرے والے کومینٹس چاہیے۔۔پلیز نیکسٹ اور نائیس والے نہیں۔۔۔۔۔۔
