No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
دروازہ کھلتے ہی فاہد نے عبیرہ کو خد سے علحیدہ کر دیا۔پر یہ منظر بای سب دیکھ چکے تھے۔ شہریار شاک سا یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ہاۓ ہاۓ توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے۔ شادی شدہ ہو کر ایک غیر مرد کے گلے لگی ہوئی ہو۔فاخرہ بیگم کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کرتے ہوۓ بولیں۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ شہریار نے غصے سے بھری نظروں سے فاہد کی طرف دیکھا اور اسے گِربان سے پکڑ کر پوچھا۔۔
مجھے تو عبیرہ نے بلایا تھا۔فاہد چوڑا ہوتے ہوۓ بولا۔۔۔
شہریار نے عبیرہ کی طرف دیکھا جو نا میں سر ہلا رہی تھی۔آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے۔۔
چچچ عبیرہ تمہیں زرا شرم نہیں آئی یوں پراۓ مرد کو ایک بند کمرے میں بلاتے ہوۓ ۔۔فاخرہ بیگم دوبارہ سے بولیں وہ جان بوجھ کر اونچا اونچا بول رہیں تھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اکھٹے ہو سکیں۔۔۔
جھوٹ مت بولنا۔سچ سچ بتا کس کے کہنے پر آیا ہے۔شہریار اس جھنجھورتے ہوۓ بولا۔
بولا نا عبیرہ کے کہنےپر آیا ہوں۔۔اسی نے مجھے ملنے بُلایا ہے۔ دوپہر میں اس نے فون کیا کہ آج پارٹی ہے تو آ جانا مل لیں گے۔ فاہدنے کمال مہارت سے کھوٹ کی بنیاد رکھی۔۔۔
ارے کسی پراۓ کو مارنے سے پہلے اپنی بیوی سے پوچھو کہ وہ یہاں کیا کر رہی تھی۔شمائلہ بھی اب اس کا حصہ بن گئی۔۔۔۔ لڑائی ہوتے دیکھ کر عمیر بھاگتا ہوا باہر آیا اور فرحان صاحب کو اندر لے کر آگیا۔۔۔۔
بکواس بند کر بتا۔ کس کے کہنے پر یہ سب کر رہا ہے شہریار اس کے منہ پر مکہ مارتے ہوۓ بولا۔اور اسے پکڑ کر دروازے سے باہر پھینکا۔وہ منہ کے بل فرش پر گِڑا۔۔چونکہ یہ نیچلے فلور پر ہو رہا تھا۔عبیرہ فل کانپ رہی تھی یہ سوچ کر ہی اس کی جان نکل رہی تھی کہ اب اس کا پاسٹ کھل جاۓ گا۔اس کے بعد کیا ہو گا؟؟؟؟؟؟
بتا بھے لڑکے تمہارا عبیرہ کے ساتھ کیا رشتہ ہے جو تو یوں چپکا ہوا تھا۔فاخرہ بیگم اب کہاں چپ کرنے والیں تھیں۔وہ فاہد کے پاس آ کر بولیں۔۔جو زمین سے اُٹھ کر کھڑا ہوا تھا اور اپنے ناک سے بہ رہے خون کو صاف کر رہا تھا۔۔
ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔کچھ مشکلوں کی وجہ سے ہماری شادی نا ہو سکی۔عبیرہ کی امی نے شہریار سے اس کی شادی کروا دی۔ ا سکے بعد عبیرہ مجھ سے ملی بھی تھی۔۔فاہد بول رہا تھا اور شہریار شاک سا اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سن رہا تھا۔۔
بکواس کرتا ہے۔ سالے تجھےنہیں چھوڑوں گا شہریار سے اور برداشت نا ہوااور اس نے دوبارہ سے اسے مارنا شروع کر دی۔۔۔۔
سر۔۔۔مجھے مجھے مارنے سے۔ پہلے۔ پہلے اپنی بیوی سے پوچھو کیا وہ شادی سے پہلے مجھ سے پیار نہیں کرتی تھی؟ کیا وہ شادی کے بعد مجھ سے ملنے کیفے نہیں آئی تھی۔۔۔فاہد ہانپتے ہوۓ بولا۔شہریار کے ہاتھ ایک پل کو تھم گے۔۔
واہ اب مزہ آۓ گا جب عبیرہ ہاں بولے گئی۔واہ میرے چیتے کیا گیم کھیلی ہے۔دور کھڑی۔ شمائلہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔
فرحان صاحب پریشان سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔۔
بول بتا جو وہ پوچھ رہا ہے؟ فاخرہ بیگم عبیرہ کے پاس آکر اسے بازو سے ہلاتے ہوۓ بولیں ۔
عبیرہ کب کی صوفے کا سہارا لیے کھڑی تھی اس نے ایک بار بھی پلکیں نہیں اُٹھائیں تھیں۔۔وہ کانپتی ہوئی بس سن رہی تھی۔۔
شہریار کے کان اسی طرف تھے۔
بول بھی الفی لگ گئی ہے۔۔۔۔۔
میں میں فاہد کو جانتی تھی ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے۔۔۔۔۔عبیرہ کے منہ سے نکلنے ولے الفاظ شہریار کو تیر کی طرح چھبے۔۔۔
پر شہریار میرا اللہ جانتا ہے جس دن میری آپ سے شادی ہو گئی۔۔میں نے ایک پل بھی آپ کے علاوہ کسی اور کے بارے میں نہیں سوچا۔۔ ہاں میں ملنے گئی تھی۔پر صرف اس لیے کیونکہ فاہد مجھے بلیک میل کر رہا تھا۔عبیرہ بھاگ کر شہریار کے پاس آئی اور اسے اپنی سچائی کا یقین دلوانے کی کوشش کرنے لگی۔شہریار بس لال انگاڑے بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔عبیرہ کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔۔
جب شہریار کافی دیر تک نا بولا۔تب شمائلہ نے موبائل نکال کر فاہد کو میسج کیا۔۔فاہد نے ہلکے سے جیب سے موبائل نکال کر دیکھا جہاں شمائلہ کا میسج تھا۔۔
پلین بی ایکٹیویٹ کرو۔۔۔جیسے پڑھ کر فاہد کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ ابھری۔۔
عبیرہ پلیز تم ڈرو مت۔اب ہم۔دو پیار کرنے والوں کو کوئی علحیدہ نہیں کر سکتا۔ اور تم جھوٹ کیوں بولا رہی ہوکہ ہم صرف ایک بار ملے تم۔جانتی ہو ہم پارکس میں ،کیفے میں،پیزہ ہٹ میں،اور آج صبح ہی ہم ہسپتال میں ملے تھے۔ جہاں آج ہی لیڈی ڈاکٹر سے ملے ہم دونوں تمہارے اور شہریار کے بچے کے ابوشن کے لیے ٹائم لے کر آۓ ہیں۔۔ ۔فاہد اگے ہوتے ہوے بولا
۔جیسے سن کر عبیرہ کے پاؤں تلے زمین نکل گئی اس کا دل کیا ابھی زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جاۓ۔ وہ سوچ بھی نہین سکتی تھی فاہد اس گندے لیول تک جا سکتا ہے۔۔۔ فاہد کی اتنی بری اور گھٹیا بات سن کر شہریار کا دماغ گھوم گیا ۔باقی سب کے سب شاک میں آگے۔۔فرحان صاحبنے بے اختیار صوفے کا سہارا لیا۔۔۔
کافی لوگ چہ مگویاں کرنے لگے۔۔بس فاخرہ اور شمائلہ مسکرا رہیں تھیں۔۔۔
نہیں شہریار مجھے میری مری ماں کی قسم میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔اس سے پہلے کے وہ کچھ اور بولتی شہریار کو ہاتھ اُٹھا۔۔۔
ٹھاہ۔۔۔۔۔۔عبیرہ نے بے اختیار اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔پر یہ کیا وہ تھپڑ عبیرہ کو نہیں بلکہ فاہد کے گال پر پڑا تھا۔۔
۔۔
کمینے گھٹیا انسان تجھے کیا لگا تو میرے گھر میں کھڑا ہو کر میری بیوی کے کردار کی دھجیاں بکھیرے گا میں مین تیری ہر بات پر یقین کر لوں گا۔۔شہریار فاہد کو پیٹتے ہوۓ بولا۔
بیوی ہے وہ میری سمجھا بیوی۔ اور مجھے پورا یقین ہے یہاں کھڑا ہر انسان گڑ سکتا ہے پر عبیرہ کبھی ایسی حرکت نہیں کر سکتی۔۔مجھے خود سے بھی زیادہ اس پر یقین ہے۔ شہریار اسے مارتے ہوۓ بول رہا تھا وہ پورا جنونی ہو چکا تھا۔۔
عبیرہ نے آنکھیں بند کر کے لمبا سانس لیا۔۔اسے لگا جیسے شہریار کے سارے الفاظوں نے بھری محفل میں اسے داغ دار ہونے سے بچا لیا ہے۔۔وہ زمین ہر بیٹھتی چلی گئی وہ رو رہی تھی۔۔۔
تیری ہمت بھی کیسے ہوئی شہریار فرحان کی بیوی کو بلیک میل کرنے کی۔ شہریار نے مار مار کر فاہد کا برا حال کر دیا تھا۔۔شمائلہ شہریار کا یہ ری ایکشن دیکھ کر غصے سے پیر پٹکھتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔
شہریار نے پاس پڑا واس پکڑا اور اسے فاید کے سر پر مارنے لگا جب کسی نے آکر اسے رُوکا۔۔۔
فرحان صاحب نے پولیس بلوا لی تھی جو کہ اندر آ کر فاہد کو لے کر جا چکی تھی۔۔
شہریار نے وہی واس زمین ہر دے مارا۔۔اور پلٹ کر عبیرہ کے پاس آیا۔اسے پکڑ کر زمین سے اُٹھایا۔اور اسے بازو سے پکڑ کر اوپر کمرے میں لے گیا۔۔۔فرحان صاحب مسکرا دیے ۔انہیں خوشی ہوئی کہ شہریار نے عبیرہ پر یقین کیا۔نا کہ کسی کی باتوں پر یقین کر کے اسے غلط سمجھا۔۔
\
شہریار غصے سے عبیرہ کو لے کر کمرے میں آیا۔اور دروازہ بند کر دیا۔اور اسے کھینچ کر اپنے سامنے کیا۔
جب اتنی بری بری چیزیں ہو رہیں تھیں۔وہ کمینہ تمہیں بلیک میل کر رہا تھا تب تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔۔کیا تمہیں مجھ پر زرا سا بھروسہ نہیں۔شہریار اسے کے دونوں بازوں کو زور سے پکڑتے ہوۓ بولا۔ اس کا لہجہ غصے سے بھرا ہو اتھا
ایم سوری مجھے لگا کہی آپ مجھے غلط۔۔۔۔۔ عبیرہ ہکلاتے ہوۓ بولی ۔۔
غلط اور آج اگر اج میں تمہیں غلط سمجھ لیتا تو کیا کرتی بولو۔۔آگر آج میں اس سالے کی باتوں پر یقین کر لیتا تب کیا کرتی۔ شہریار اسے جھنجھورتے ہوتے ہوۓ بولا۔۔
میں نے بہت بار سوچا آپ کو بتا دوں پر ہر بار ناجانے کیوں چپ رہ جاتی ایم سوری شہریار عبیرہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
بس کرو عبیرہ اب میرے سامنے یہ رونا دھونا شروع مت کرنا اور اس دن جب میں نے اپنے دل کی ہر بات بتا دی تب تم کیوں نہیں بولی۔۔جب اس رات یقین کرنے کے اتنی بری بری باتیں کر رہی تھی۔تب بھی تمہیں خیال نا آیا کہ میں بتا دوں شہریار اسے چھوڑتے ہوۓ بولا۔۔اور اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی۔ کوشش کرنے لگا۔۔۔
مجھے لگا آپ کو اگر یہ پتہ چلے گا کہ میں شادی سے پہلے کسی سے پیار کرتی تھی تو آپ مجھ سے بدگمان گمان ہو جائیں گے۔ اور ہمارا رشتہ جو ابھی شروع ہی ہوا تھا وہ کہی ختم۔نا ہو جاۓ۔۔عبیرہ اسے سمجھاتے ہوۓ بولی۔۔
واہ عبیرہ واہ تمہیں میری سوچ اتنی چھوٹی لگی ہے۔۔تمہیں کیا لگا جب مجھ یہ سب پتہ چکے گا میں تمہیں چھوڑ دوں گا ۔۔تم نے مجھ پر اتنا سا بھی بھروسہ نہیں کیا۔۔جب میرا پاسٹ ہو سکتا ہے تو تمہارا بھی ہو سکتا ہے۔ میں کیوں پچھلی چیزون کو لے کر تم سے ناراض ہوتا لیکن نہیں تم نے سچ بتانے کی بجاۓ جھوٹ بولنا زیادہ بہتر سمجھا اس دن وہ فوٹوز میں بھی وہی تھی۔۔اس پر بھی تم۔نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔۔شہریار اس کی سوچ سن کر ار غصہ آرہا تھ۔ا۔
وہ کچھ نا بولی بس روتی رہی۔۔۔
آج تم نے مجھ دو کوڑی کا کر دیا ہے جس کی بیوی اس پر یقین تک نہیں کرتی ۔۔ صرف تم جیسی پاگل لڑکیاں ہوتیں ہیں جو بلیک میلنگ والوں کے بارے میں چھپاتی ہیں اور بعد میں صرف اپنا ہی کھسارہ کرتی ہیں۔اور تم کر چکی ہو۔تم نے مجھے بہت ٹھیس پہنچائی ہے۔شہریار غصے سے بول کر بنا اس کی سنے دروازہ کھول کر باہر چلا گیا۔۔۔
نیچے فرحان صاحب نے ساری پارٹی ختم کر دی تھی۔شہریار بنا کسی سے بات کیے غصے سے گاڑی کو لے کر باہر چلا گیا۔۔۔۔
عبیرہ اندر اپنی بے وقوفیوں پر رو رہی تھی۔شہریار اس سے بہت زیادہ ناراض ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
حد ہو گئی اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی کون ہے جو اپنے بیوی پر یقین کر سکتا ہے۔۔شمائلہ کب سے اپنے کمرے میں چکر لگا رہی تھی۔۔۔۔
اور اب تو فاہد کو بھی پولیس پکڑکر لے گئی ہے۔کہی وہ میرا نام نا لے لے ۔میں پھنس جاؤں گئی۔۔نہیں مجھے سب سے پہلے سم بند کرنی ہو گئی۔۔شمائلہ گھبڑاتی ہوئی موبائل میں سے سم نکال کر واشروم میں آئی اور اسے فلش کر دیا۔۔۔
ان دونوں کو الگ کرنے کے لیے کچھ اور کرنا ہو گا۔۔۔وہ چکر لگاتے ہوۓ سوچ رہی تھی۔۔۔
★***
شہریار بہت غصے میں تھا اسے رہ رہ کر عبیرہ کی بے وقوفی پر غصہ آ رہا تھا۔۔وہ بے مقصد گاڑ چلاتا رہا۔۔رات کو تین بجے وہ گھر واپس آیا۔۔
اوپر روم میں جانے کی بجاۓ۔وہ باہر ہی صوفے پر لیٹ گیا۔۔۔
صبح عبیرہ اُٹھی تو اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی وہ کسی کا سامنہ کرے۔۔وہ چار بجے تک شہریار کا انتظار کرتی رہی۔۔
وہ نہا کر نیچے آئی۔تو اس کی نظر سامنے صوفے پر بامشکل سے سوتے ہوۓ شہریار پر پڑی۔۔اس کے قدم با اختیار شہریار کے صوفے کی طرف بڑھے۔۔وہ آرام سے صوفے کے پاس نیچے زمین پر بیٹھ گئی۔۔۔
ایم سوری شہریار جانتی ہوں مجھ سے بہت بری غلطی ہو گئی۔لیکن کل آپ نے بری محفل میں کسی اور پر یقین کرنے کی بجاۓ مجھ پر یقین کر کے مجھے بہت سکون دیا۔ جانتی ہوں آپ بہت زیادہ ناراض لیکن میں آپ کو منا لوں گئی۔۔عبیرہ آگے بڑھی اور شہریار کے ماتھے پر بوسہ دے دیا۔۔۔اور اپنا ہاتھ اس کی تھوڑی سے بڑھی شیو ہر رکھ دیا۔اور مسکرا دی۔تھوڑ دیر بیٹھ کر وہ اُٹھی اور کیچن میں چلی گئی۔
تمہاری بھول ہے کہ میں تمہیں اتنی آسانی سے معاف کر دوں گا اب تمہیں تمہاری غلطی کی سزا ملے گئی جو ساری زندگی یاد رہے گئی۔۔جب عبیرہ آکر بیٹھی تب شہریار سویا نہیں تھا۔اس کے جانے کے بعد صوفے ہر اُٹھ کت بیٹھ گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
