Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

وہ ساری رات پریشان رہی۔ نیند تو آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ عجیب بُرے بُرے وہم ستاۓ جا رہے تھے۔۔

رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے اس کی آنکھ ٹائم پر کھل نا پائی۔ جب وہ اُٹھی تو اس کی نظر سامنے دیوار پر لگے کلاک پر پڑی جہاں گھڑی آٹھ کی سوئی پر تھی۔وہ ایک جھٹکے سے اُٹھی۔۔

اف خدایا میں اتنی دیر کیسے سوتی رہ گئی۔ وہ جلدی جلدی پاؤں میں چپل ڈال کر کمرے سے باہر کی طرف بھاگی۔۔

جب وہ نیچے آئی۔تو سامنے شہریار نور اور عمیر کو تیار کر رہا تھا۔ جو کہ اس کے لیے زندگی کا سب سے مشکل کام تھا۔۔

بابا میرے بال کیوں کھینچے جا رہے ہیں۔۔نور چلاتے ہوۓ بولی۔۔شہریار اس کے بالوں کو کھنگھی کر رہا تھا۔۔

بابا ماما کو اُٹھائیں مجھے بھوک لگی ہے۔عمیر بولا۔۔

ایم سو سو سوری پتہ نہیں میں اتنی دیر کیسے سوتی رہ گئی۔ عبیرہ جلدی جلدی شہریار سے برش لے کر نور کو کھنگھی کرنے لگی۔۔ ۔

شہریار سکون کا سانس لے کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔
وہ جلدی جلدی ہاتھ چلا رہی تھی۔

عبیرہ نے جلدی سے تینوں کے لیے ناشتہ بنایا۔عمیر اور نور ناشتہ کر کے اپنے بیگز لیے باہر شہریار کی گاڑی میں بیٹھ گے۔۔۔

شہریار بھی کرسی سے اُٹھا اور جانے لگا۔۔جب عبیرہ بولی۔۔

وہ شہریار مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مڑورتے ہوۓ بولی۔۔۔
ان انگلیوں پر ظلم ڈھانہ بند کرو اور جلدی بولو کیا بات ہے۔ اور ویسے آج تو تمہاری یونیورسٹی کا پہلا دن تھا تو تیار کیوں نہیں ہوئی ؟ شہریار اس کی حرکت پر چوٹ کرتے ہوۓ بولا۔۔

وہ کل رات کو خالہ کا فون آیا تھا۔وہ ہمارے پڑوس میں رہتی ہیں۔وہ بتا رہیں تھیں اپنی کی طبعیت بہت خراب ہے۔ پتہ نہیں کس بات کی ٹینشن لی ہے۔اوپر سے موحد بھائی اور اجالا بھابھی کا فون بھی نہیں لگ رہا۔۔ مجھے بہت ٹینشن ہو رہی ہے۔۔مجھے آج جانا ہے۔۔ امی پتہ نہیں کیسی ہوں گئی۔۔ شادی کے بعد میں نے ایک دفعہ بھی چکر نہیں لگایا۔۔عبیرہ کی آخر میں آواز نم ہو گئی۔اور آنسوں گالوں پر گڑ گے۔شہریار غور سے اسے سن اور دیکھ رہا تھا۔۔۔

اس میں رونے والی کیا بات ہے۔ تم دوپہر کو تیار رہنا میں ڈرائیور کو بھیج دوں گا۔وہ تمہیں گاؤں چھوڑ آۓ گا۔۔۔۔۔شہریار اس کے آنسوں سے نظریں چڑا کر بولا۔۔

اگر عمیر اور نور کو پتہ چلا کہ میں کچھ دن کے لیے جا رہی ہوں۔تو وہ بھی میرے ساتھ جانے کی ضد کریں گے
پہلے ہی ان کی اسٹڈی کا بہت نقصان ہوا ہے۔آپ انہیں ابھی مت بتاۓ گا۔۔عبیرہ ریلکس ہوتے ہوۓ بولی۔۔۔

ٹھیک ہے شہریار کہتا ہوا آنکھوں پر گلاسس چڑھا کر باہر کی طرف بڑھا۔


شہریار آفس آیا گیا۔۔وہ اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا۔۔۔

تبھی شمائلہ ازیر صاحب لے ساتھ اندر داخل ہوئی۔۔
شہریار انہیں دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا۔۔۔

وہ سلام کرتا ان سے گلے ملنے لگا۔۔

کیا میاں جب سے شادی ہوئی تم تو عید کا چاند ہو گے۔۔وہ روٹھے ہوۓ لہجے میں بولے۔۔

ارے نہیں چچا جان ایسی بات نہیں ہے۔ وہ پراجیکٹ بہت سارے ہیں تو انہی میں مصروف ہوتا ہوں۔۔شہریار عاجزی سے بولا۔اور انہیں کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔

اور خود انٹرکام پر چاۓ کا آڈر دیا۔۔۔

میں نے سنا تم نے مسٹر حماد کی کمپنی کے ساتھ پروجیکٹ سائن بھی کر دیا۔ازیر صاحب اپنے مطلب کی بات پر آۓ۔۔( کیونکہ وہ خود اس پروجیکٹ کو حاصل کرنے میں لگے تھے۔پر آخر میں شہریار نے بازی مار ہی تھی۔۔)

ہاں چاچو پروجیکٹ اچھا لگا تو سائن کر لیا۔ شہریار مسکراتے ہوۓ بولا۔۔

پر بندہ کوئی مشورہ ہی کر لیتا ہے میں بھی تمہارا اپنا ہوں۔بھائی صاحب بھی ادھر۔ نہیں۔مگر تمہیں تو اپنی مرضعی چلانے کی عادت ہو چکی ہے۔۔وہ تھوڑا سخت لہجے میں بولے ۔

چاچو میرے پاپا کو مجھ پر یقین ہے۔ اور مجھے نہیں لگتا مجھے اپنے بزنس میں کسی کی کوئی راۓ لینی چاہیے۔۔میں جو کرتا ہوں خود کرتا ہوں۔مجھے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ شہریار بولا تو اس کے الفاظ ہی اگلے کو چپ کروانے کو کافی تھے۔۔۔

چھوڑوں ان سب باتوں کو میں ضروری بات کرنے آیا تھا۔تم شمائلہ کو تھوڑے مہینے اپنی کمپنی میں ٹرین کرو تا کہ کل کو وہ میری کمپنی کو اچھے سے سھنمبال پاۓ۔۔ازیر صاحب نے شمائلہ کے دل کی بات کی۔۔۔

شہریار نے ایک نظر شمائلہ کو دیکھا۔

چاچو شمائلہ کی انٹرنشپ پوری ہو چکی ہے۔مجھے نہیں لگتا اب اس کو میرے آفس میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔۔شہریار نے صاف انکار کر دیا۔۔۔

میرے کہنے پر رکھ لو۔۔ازیر صاحب بولے۔۔۔

چلیں ٹھیک ہے آپ کہتے ہیں تو تین مہینے کی ٹرینگ میں رکھ سکتا ہوں۔اس سے زیادہ نہیں شہریار کو ازیر صاحب کو بار بار منا کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔اس لیے اس نے ہاں کر دی۔۔۔۔

چاۓ آ چکی تھی تینوں باتیں کرتے کرتے چاۓ پینے لگے۔۔۔

ازیر صاحب اور شمائلہ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے پر مسکرا رہے تھے۔۔
جانے اب یہ دونوں کیا کرنے والے تھے؟؟؟؟؟


عبیرہ کب کی تیار ہو کر بیٹھی ہوئی تھی۔اس نے لنچ بنا دیا تھا۔ وہ سارا دن بے چین رہی تھی۔دوپہر کے وقت شہریار نے ڈرائیور بھیج دیا تھا۔۔۔

عبیرہ چادر اُوڑھ کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔پانچ گھنٹے لا سفر تھا۔۔۔

جو عبیرہ کے لیے بہت مشکل تھا۔اسے عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی۔جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔۔

بلاخر سفر ختم ہوا گاڑی عبیرہ کے گھر کے سامنے رُکی۔۔ عبیرہ ٹرالی لیے گاڑی سے اتری۔اور دروازے پر بیل دی۔۔۔دو منٹ بعد کسی نے دروازہ کھولا۔۔عبیرہ اندر آ گئی۔۔وہ ساتھ والی پروسن تھی۔ جس نے اسے فون کیا تھا۔۔۔ڈرائیور اتار کر جا چکا تھا۔۔

خالہ امی کہا ہیں۔۔عبیرہ انداز داخل ہو کر بے چینی سے بولی۔۔۔

بیٹا وہ اندر کمرے میں ہیں۔ خالہ بولیں۔۔عبیرہ جلدی جلدی نجمہ بیگم کے کمرے میں گئی۔۔۔سامنے بیڈ پر نجمہ بیگم بیٹھیں ہوئیں تھیں۔وہ کافی کمزور لگ رہیں تھیں۔۔

امی کیا ہوا آپ کو عبیرہ بھاگتی ہوئی ان کے گلے لگ گئی۔ انہوں نے اپنے کمزور ہاتھوں سے عبیرہ کو اپنے سینے سے لگایا۔۔۔

کچھ نہیں بیٹی یہ تو رخشندہ نے ایوئی فون کر دیا۔
بس یوہنی تھوڑا سا بخار ہو گیا تھا۔نجمہ بیگم بولیں۔۔۔

تھوڑا سا بخار عبیرہ تمہاری ماں جھوٹ بول رہی ہے۔۔ایک ہفتے سے بستر پر لگی ہے۔نا دوائی کھاتی ہے۔نا ڈاکٹر کے پاس جانے کو تیار ہے۔بس دن بھر ایسے ہی سوچوں میں گم رہتی ہے۔۔رخشندہ خالہ بھٹ پڑیں۔وہ نجمہ بیگم کی بہت گہری دوست تھیں۔۔

امی کیا یہ سچ ہے۔آپ نے وعدہ کیا تھا آپ ہر روز دوائی کھائیں۔ گئی۔۔عبیرہ ناراصغی سے بولی۔۔

ا سکو بات کا بتنگر بنا خوب آتا ہے۔تم آ گئی ہو اب میں جلدی ٹھیک ہو جاؤں گئی۔نجمہ بیگم پیار سے بولیں۔۔۔

وہ تو ٹھیک ہے پر یہ اجالا بھابھی ابراہیم اور فاحد بھائی کہاں ہیں نظر کیوں نہیں آ رہے۔۔اور بھائی آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے کر کیوں نہیں گے۔۔عبیرہ حیرانگی سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولے۔۔۔

نجمہ بیگم کے چہرے پر گم کے ساۓ لہراۓ۔۔جو عبیرہ نے خوب نوٹ کیا۔۔۔

وہ باہر گے ہیں۔نجمہ بیگم نے جھوٹ بولا۔۔

بس کرو نجمہ اب مزید جھوٹ مت بولوں۔میں بتاتی ہوں۔رخشندہ خالہ بولیں۔۔

جھوٹ کیا مطلب خالہ آخر بات کیا ہے۔۔عبیرہ پریشانی سے بولی۔
۔
بس بیٹا جس دن کی تمہاری شادی ہوئی ہے۔اس سے ایک ہفتے بعد ہی تمہارا بھائی اور بھابھی اپنے بیٹے کو لے کر شہر چلے گے ہیں۔اور آج تک مڑ کر اپنی ماں کو نہیں دیکھا۔ اور وہی گم تمہارے ماں کو بستر پر لے آیا۔۔رخشندہ خالہ غم زدہ لہجے میں بولیں۔

کیا اور امی آپ نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔ عبیرہ روندھے ہوۓ لہجے میں بولی۔۔۔

میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔نجمہ بیگم آہستہ آواز میں بولیں۔۔۔

موحد بھائی ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔انہیں اپنی بہن کی نا سہی اپنی ماں تک کی پرواہ نہیں رہی۔۔عبیرہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔

اسے اگر پرواہ ہوتی تو وہ ہمارے ساتھ ہوتا یوں چھوڑ کر نا جاتا نجمہ بیگم غم زدہ لہجے میں بولیں۔۔

اچھا آپ اب پریشان مت ہوں میں کچھ بنا کر لاتی ہوں پھر آپ دوائی کھا کر سو جانا ۔۔عبیرہ نے ان کی طرف دیکھا پھر اپنے آپ کو سھنمبال کر بولی۔۔۔

وہ باہر چلی گئی۔رخشندہ خالہ اس کے پیچھے آئیں۔۔

عبیرہ بیٹی اب تم آ گئی ہو تو میں گھر چلی جاتی ہوں۔۔وہ اس کے پاس ا کر بولیں۔۔

بہت بہت شکریہ خالہ آپ نے امی کا بہت خیال رکھا۔۔
جب ان کے اپنے ان کے پاس نہیں تھیں۔تو آپ نے غیر ہو کر بھی اپنوں سے بڑھ کر ان کا خیال رکھا۔۔۔عبیرہ ان کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ بولی۔۔۔

وہ مسکراتے ہوۓ عبیرہ کے سر پر ہاتھ پھرتے ہوۓ چلی گئیں۔۔۔

عبیرہ نے کھانا بنایا۔۔اور نجمہ بیگم کو کھلا کر دوائی کھلائی۔۔ان کو سُلا کر وہ بیڈ کی دوسرہ طرف لیٹ گئی۔۔وہ بہت تھکی ہوئی تھی تھوڑی دیر میں ہی اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔


شہریار عمیر اور نور کو سکول سے پِک کر کے جلدی گھر آ گیا۔
عمیر اور نور کو جب کا پتہ چلا عبیرہ گھر نہیں ہے۔وہ تب کے رو رہے تھے۔شہریار انہیں چپ کروا کروا کے تھک چکا تھا۔۔

آخر وہ انہیں لیے باہر آ گیا۔ پارک میں لے گیا۔۔جس سے ان کا دل بھل گیا۔۔ وہ رات کو کھانا کھا کر واپس آۓ آتے ہوۓ دونوں سو چکے تھے۔۔

شہریار ان دونوں کے لیے بہت پریشان تھا۔۔ وہ انہیں ان کے کمرے میں سُلا کر واپس اپنے کمرے میں آیا۔۔۔

وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا اس کی نظر سامنے الماری پر نظر پڑی۔ جہاں اسے اکثر عبیرہ کھڑی ہوئی نظر آتی۔۔۔

اس نے اپنے بیڈ کو خالی پایا۔جہاں ہمیشہ اس کے آنے سے پہلے عبیرہ اس کے کپڑے اور دوسری چیزیں رکھ دیتی تھی۔۔۔

وہ سر جھٹکتا آگے بڑھا اور کپڑے نکال کر فریش ہونے چلا گیا۔۔کچھ دیر بعد وہ نہا کر باہر نکلا۔۔۔

اور لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔۔

عبیرہ کافی لا دو۔دو گھنٹے مسلسل کام کرنے کے بعد آچانک اس کے منہ سے نکلا۔وہ چونکہ اپنے اور سر جھٹکتا نیچے کیچن میں آ گیا۔۔کافی بنا کر لے آیا۔۔

یَخ یہ کیا بن گیا۔۔ ایک سپ لیتے ہی اس نے کافی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔۔وہ بہت بدمزہ بنی تھی۔۔

عبیرہ کے ہاتھ کی مزے کی ہوتی تھی۔بے اختیا اس کے منہ سے نکلا۔۔

اف یہ مجھے بار بار اس کا خیال کیوں آ رہا ہے۔ وہ اپنے آپ کو کوستہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔

دوبارہ اپنا دھیان کام پر لگانے لگا۔ پر اب تو توجہ بھٹ چکی تھی۔وہ عجیب چڑ چڑا ہو رہا تھا۔۔

بے اختیاری میں موبائل اُٹھا کر عبیرہ کو کال ملا دی۔۔

عبیرہ نجمہ بیگم کے پاس سوئی ہوئی تھی۔رات کے دو بج چکے تھے جب اچانک موبائل پر کال آنے لگی۔ وہ نیند سے جاگی۔ ادھر اُدھر ہاتھ مار کر موبائل کو ڈھونڈا بنا دیکھے کال اُٹھا لی۔۔۔
السلام علیکم عبیرہ بولی۔۔۔
وعلیکم السلام شہریار نے اپنے سانس اندر کھینچ کر کہا۔جیسے بے چینی کو سکون مل گیا ہو۔۔

عبیرہ شہریار کی آواز سن کر ایک دم بیڈ سے اُٹھی۔۔نجمہ بیگم کی طرف دیکھا۔جو سوئی ہوئیں تھیں۔ وہ اپنا ڈوپٹہ لے کر کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔

آپ نے اس وقت فون کیا سب ٹھیک تو ہے نا عمیر اور نور تو ٹھیک ہیں نا۔عبیرہ ایک دم بولی۔۔۔۔

لو یہاں میں بے چین ہوں وہاں میڈم کو صرف بچوں کی پڑی ہوئی ہے۔۔شہریار دل ہی دل میں بولا۔۔۔

وہ ٹھیک ہیں۔میں تو تمہاری خیریت پوچھنے کے لیے کال کی تھی۔ شہریار بولا۔۔

ہاں میں تو سات بجے کے قریب ہی پھنچ گئی تھی۔۔عبیرہ صوفے پر بیٹھ گئی۔۔

اچھا پھوپھو کیسی ہیں۔وہ ٹھیک ہیں نا۔ شہریار نے نجمہ بیگم کے بارے میں پوچھا۔

ہاں ٹھیک ہیں کل ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے۔ وہاں سارے ٹیسٹ وغیرہ کروانے کے بعد پتہ چلے گا کیا مسلہ ہے۔۔ عبیرہ بول

ہمم چلو ٹھیک ہے اللہ حافظ۔۔۔شہریار نے کہ کر فون بند کر دیا۔۔۔

عجیب بندہ ہے۔ عبیرہ حیرانگی سے فون کو دیکھتے ہوۓ بولی۔ اور اُٹھ کر کمرے میں آ گئی۔۔

پتہ نہیں مجھے کیا ہو راہ ہے۔دوسری طرف شہریار بات کر کے اب خود ہی کو ہی کوس رہا تھا۔۔


عبیرہ اگلی صبح اُٹھی سب کام کیے۔دوپہر میں نجمہ بیگم کو لے کر جانا تھا۔
دس بجے کے قریب فری اس سے ملنے آ گئی۔۔اب وہ دونوں باہر چھوٹے سے لان میں لگے جھولے پر بیٹھ کر چاۓ پی رہیں تھیں۔۔۔

اور سنا شہریار بھائی کیسے ہیں۔۔فری چاۓ پیتے ہوۓ بولی۔۔۔

ٹھیک ہیں۔۔عبیرہ بس اتنا ہی بولی۔۔

عبیرہ تو مجھے خوش کیوں نہیں لگ رہی کیا بات ہے۔ فری پریشانی سے بولی۔۔

خوش ہاہ یہ بہت برا لفظ ہے فری۔ میری زندگی بس عمیر اور نور کے گرد گھومتی ہے۔ اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ملا اور شائد ساری زندگی ہی نا ملے۔۔۔۔
وہ کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولی۔۔

کیوں شہریار بھائی کا رویہ کیا تمہارے ساتھ ٹھیک نہیں۔ فری بولی۔۔۔

فری میری زندگی بہت عجیب ہے۔میں شہریار کے ساتھ اس کی انچاہی بیوی بن کر زندگی گزار رہی ہوں۔ وہ بولی تو اس کے لہجے میں چھپے دکھ کو فری محسوس کر رہی تھی۔۔

کیا ابھی بھی تم فاہد۔۔۔فری ہکلاتے ہوۓ بولی۔۔۔

ارے نہیں بالکل بھی نہیں۔وہ تو میری زندگی کی سب سے بری غلطی تھی۔۔اور اللہ کا شکر ہے اس نے مجھے اس گند میں کودنے سے پہلے ہی بچا لیا۔۔بس اب دعا کرنا وہ عذاب دوبارہ سے میری زندگی میں قدم نا رکھے۔وہ ڈرے ہوۓ لہجے میں بولی۔۔۔

کیا مطلب کیا ہوا ؟؟کیا اس نے دوبارہ سے کونٹیکٹ کیا۔۔فری بھی پریشان ہو گئی۔

ہاں۔پھر عبیرہ نے اس دن والی بات فری کو بتا دی۔۔۔

اللہ یہ فاہد کا بچہ بہت کمینہ ہے۔۔فری ساری بات سن کر بولی۔۔۔

مجھے ڈر ہے کہی وہ دوبارہ سے میری بنی بنائی زندگی کو تباہ نا کر دے۔۔۔عبیرہ کا لہجہ خوفزدہ تھا۔۔

تو اس سب پر دھیان مت دے۔چل آنٹی کو ہسپتال لے کر چلیں۔فری نے اس کا دھیان بٹانے کے لیے کہا۔۔۔

عبیرہ سر جھٹک کر اس کے ساتھ اندرچل دی۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

سوری میں جلدی نہیں دے پائی اصل میں میں بہت مصروف تھی۔ کل لکھنے لگی تو مہمان آ گے۔ ابھی لکھی ہے۔ اگلی قسط کل ملے گی۔۔۔۔