No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
وہ فاہد کو تھپڑ مار کر اسے اس کی اوقات تو یاد کروا آئی تھی۔۔ پر ابھی بھی وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی۔یونی واپس جانے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔فل حال تو وہ صرف اور صرف گھر جانا چاہتی تھی۔
سامنے کھڑے رکشے میں بیٹھ کر وہ اسے گھر کا پتہ بتانے لگی۔
اللہ یہ تو مجھے کن گناہوں کی سزا دے رہا ہے۔۔ فاہد میرے پیچھے کیوں پر گیا ہے۔ یا اللہ اسے میرے رستے سے ہٹا دے۔۔ آج میں نے اسے تھپر مارا ہے ناجانے اب وہ کیا کرے گا۔ وہ بہت کوشش کرنے پر بھی اپنے آنسوں روک نا پائی۔ اپنے چہرے کو چادر میں چھپاۓ وہ اپنے آنسوں صاف کرنے لگی۔ تبھی گھر بھی ا گیا۔ رکشے والے کو پیسے دے کر وہ بھاگ کر گھر میں داخل ہوئی۔
وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں آئی۔ بیڈ پر بیٹھ کر وہ زور و قطار رونے لگی۔ تبھی اس کے فون پر میسج ٹیون بجی۔۔۔
تم نے مجھے تھپر مارا نا اب دیکھ اس کا انجام تیرا گھر معلوم ہے۔ دیکھنا کیا کرتا ہوں۔ عبیرہ فاہد کا میسج دیکھ کر ایک چکرا کر رہ گئی۔۔۔
مجھے جانا ہی نہیں چاہیے تھا بہت بری غلطی ہو گئی۔میں اب سے کبھی یونی نہیں جاؤں گئی۔بس میں نہیں جاؤں گئی۔۔وہ فون کو دور پھینکتے ہوۓ بولی۔۔اور جلدی سے اپنے کمرے کی کھڑکی بند کرنے لگی۔۔کچھ سوچ کر وہ نیچے گئی اور ساری کھڑکیاں اور دروازے بند کرنے لگی۔۔وہ فاہد کی اج کی حرکت اور ابھی آۓ میسج سے بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔۔
وہ اپنا سر ہاتھوں میں دیے صوفے پر بیٹھ گئی۔ ایک گھنٹہ وہ وہی بیٹھی رہی تبھی مین ڈور پر دستک ہوئی۔۔وہ ڈر کے مارے صوفے سے اُچھلی۔دستک ایک مرتبہ پھر ہوئی۔
وہ اپنے دھڑکتے دل پر قابو پاتی دروازے کے قریب آئی۔کپکپاتے ہاتھوں سے دروازہ کھولو۔اور انکھیں بند کر لیں۔۔
ماما عمیر اور نور کی اواز اسے اپنے کانوں میں سنائی دی۔۔
یس ماما کی جان اندر آؤ۔ عبیرہ نے دونوں کو اندر کیا۔
تم دونون کس کے ساتھ آۓ شہریار تو نظر نہیں آ رہے۔عبیرہ نے حیرانگی سے دروازے سے باہر جھانکتے ہوۓ کہا۔۔
میرے ساتھ آۓ تبھی اسے فاہد کی آواز سنائی دی۔وہ ایک جھٹکے میں سیدھی ہوئی۔۔
تم۔ نور عمیر آپ دونوں اندر کمرے میں جا کر کپڑے چینج کرو میں نے نکال کر رکھے ہیں۔ دونوں اندر کی طرف بھاگے۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں قدم رکھنے کی۔ عبیرہ اپنے ڈر کو کنٹرول کرتی غصے سے بولی۔۔
ہاہ میری ہمت کی چھوڑو تم میں بری ہمت آ گئی ہے۔ خیر چھوڑو مارنے کے بہانے تم۔نے چھوا تو سہی قسم سے مزہ ا گیا۔۔وہ اپنے گال کو سہلاتے ہوۓ بولا۔۔
مجھے خود پر شرم آ رہی ہے کبھی زندگی میں نے تم جیسے لوفر انسان کو چاہا تھا۔ پر اللہ پاک کا شکر ہے اس نے مجھے گندے گٹر میں گڑنے سے بچا لیا۔ اور
شہریار جیسا اچھا انسان دیا۔
اُو واؤ نائس شہریار اچھا ہے۔ لیکن یہ مت بھولنا میں اس کے آفس میں کام کرتا ہوں اور کافی کلوز ہو چکا ہوں۔ وہ بہت یقین کرنے لگا ہے۔۔دیکھا نہیں آج تمہیں یونی اور بچوں کو سکول سے لینے کے لیے مجھے بھیجا۔ وہ طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔
فاہد ابھی کے ابھی نکلو یہاں سے ورنہ میں گارڈز کو بلا کر بے عزت کر وا کر باہر نکالوں گئی۔۔عبیرہ کو مزید غصہ کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔
زیادہ اُور نا ہو جا رہا ہوں۔دیکھنا ایک دن میں تمہیں اس گھر سے دھکے مار کر نکلواؤں گا۔۔وہ غصے سے کہتا پلٹ گیا۔۔
عبیرہ نے جلدی سے دروازہ بند کیا۔ وہ واقع آج اس کے گھر پہنچ گیا تھا۔۔
عبیرہ اپنے آپ کو سھنمبالتی کیچن میں آئی عمیر اور نور کے لیے کچھ بنا کر باہر لائی۔دونوں ٹیوی دیکھ رہے تھے۔
شہریار کو فیکٹری کا اتنا زیادہ نقصان ہوا تھا آج سارا دن وہ اسی فیکٹری کے متعلق لوگوں سے ملتا رہا تاکہ جلد سے جلد اسے دوبارہ سے پہلی پوزیشن پر لایا جاۓ۔ساری فیکٹری جل چکی تھی۔اندر زیادہ مشینیں خراب ہو چکی تھی۔۔
وہ اس فیکٹری کو بیچ نہیں سکتا تھا کیونکہ یہ فرحان صاحب کی پہلی فیکٹری تھی۔اور دوسری بات یہاں پر باقی فیکٹروں کے بانسبت زیادہ ہوتا تھا۔۔
اسی مصروفیت کی وجہ سے وہ عبیرہ اور بچوں کو نا لینے جا پایا۔اور فاہد کو بھیج دیا۔۔
سر میں بچوں کو گھر چھوڑ آیا ہوں۔فاہد شہریار کے پاس آ کر بولا۔۔
اور عبیرہ میڈم کو یونی سے لینے نہیں گے۔شہریار اس کی طرف پلٹ کر بولا۔۔
سر جب میں یونی پہنچا تو گاڈ نے بتایا کہ میڈم تین گھنٹے پہلے ہی یونی سے جا چکی ہیں۔ وہ بتا رہا تھا کوئی بری گاڑی میں لینے ایا تھا جب میں بچوں کو لے کر گھر پہنچا تو میڈم پہلے سے ہی گھر موجود تھیں۔۔فاہد سفاکی سے جھوٹ بول رہا تھا۔
شہریار اس کی بات سن کر حیران ہوا۔۔
ٹھیک ہے تم جاؤ۔ اسے بول کر وہ دوبارہ ورکر سے بات کرنے لگا۔۔
میں نے کام کر دیا لوہا گرم ہے ہتھوڑا مارو۔۔فاہد پلٹ گیا۔ اور اپنے موبائل سے شمائلہ کو میسج کر دیا۔۔
شہریار رات نو بجے کے قریب فارغ ہوا اور گھر کی طرف نکل گیا۔ تبھی اسے ایس پی کا فون آیا۔۔
گاری ڈرائیو کرتے ہوۓ اس نے کال اُٹھا لی۔۔
مسٹر شہریار مجھے اس آدمی کا پتہ چل گیا ہے جس نے آپ کی فیکٹری میں آگ لگوائی تھی۔آگے سے ایس پی بولا۔۔
جی بتائیں کون ہے شہریار نے گاڑی ایک طرف لگا دی۔
آگے سے ایس پی نے جو نام بتایا اسے سن کر شہریار کے ہاتھ ایک پل کو کانپ گے۔۔۔
آپ کنفرم بتا رہیں ہیں کوئی غلط فہمی تو نہیں ہوئی۔شہریار اپنے آپ کو سھنمبال کر بولا۔
افکورس مین آپ کو ویڈیو اور تصویریں بھیجتا ہوں۔ایس پی نے اگلے دو منٹ میں سب بھیج دیا۔۔
جیسے دیکھتے کر وہ ایک پل کے لیے سکتے میں چلا گیا۔۔
اُو گاڈ مجھے یقین نہیں آرہا۔ اج پتہ چلا کوئی پیٹھ پیچھے چھڑا کیسے گھوپتا ہے۔وہ دکھ بھرے لہجے میں بولا۔
سر کو جھٹکتے ہوۓ اس نے گاڑی سٹاٹ کر دی۔ کچھ دیر بعد وہ گھر پہنچا۔۔۔
وہ پریشان سا گھر آیا عمیر اور نور ہال مین کھیل رہے تھے۔۔
دونوں کو پیار کر کے وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگا تو ایک طرف کیچن میں عبیرہ کھانا بناتے ہوۓ دِیکھی۔۔
شہریار اپنا کوٹ اور بیگ صوفے پر رکھتا وہ کیچن میں آیا۔۔
کھانے مین کتنی دیر ہے۔بہت بھوک لگی ہے۔وہ اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوۓ اس کے قریب آ کر بولا۔۔
ہاں بس بن گیا ہے آپ فریش ہو جاؤ۔ وہ روٹیاں بناتے ہوۓ بولی۔۔۔
تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہے نا شہریار کو اس کا چہرہ بہت تھکا تھکا سا محسوس ہوا۔۔
ہاں وہ بس تھوڑا سی تھکاوٹ ہو گئی ہے۔ وہ روٹیان پکاتے ہوۓ بولی۔۔
تھوڑی سی تھکاوٹ ادھر دیکھو۔ شہریار نے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا اور ا سکے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔
یہ تھوڑی سی تھکاوٹ ہے۔بخار ہوا ہے اور تم ادھر لگی ہوئی ہو چھوڑو اسے میں باہر سے کھانا منگوا لیتا ہوں۔ شہریار چولہا بند کرتے ہوۓ بولا۔
معمولی سا بخار ہے میں ٹھیک ہوں۔ اور کھانا بالکل تیار ہے۔اگر اپ کے پاس بہت فالتو پیسہ ہے تو دیں میں غریبوں میں بانٹ دوں گئی۔۔عبیرہ دوبارہ سے چولہا جلاتے ہوۓ بولی۔۔۔
تو ٹھیک ہے میں بھی تمہارے ساتھ بناتا ہوں۔وہ چپچ پکڑتے ہوۓ بولا۔
اچھی بات ہے بنائیں میرے ساتھ ویسے بھی شوہر کو بھی بیوی کی تھوڑی سی مدد کرنی چاہیے۔ یہ لیں سیلٹ کے لیے پیاز کاٹیں۔عبیرہ اپنی مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولی۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے یہ پیاز میں کاٹ نہین پاؤں گا دو ادھر شہریار پیاز کاٹنے لگا۔
ایک بات بتاؤ یونی سے کس کے ساتھ آئی فاہد بتا رہا تھا تم جلدی گھر آ گئی تھی۔۔وہ اپنے کام مین مصروف نارمل انداز میں بولا۔عبیرہ کا دل ایک پل میں کانپا۔۔
وہ میرا دل گھبڑا رہا تھا تو میں رکشے پر گھر ا گئی۔ وہ روٹیاں بناتے ہوۓ اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوۓ بولی۔۔
شہریار کے ہاتھ پیاز کاٹتے روکے۔
میں ٹیبل پر کھانا لگاتی ہوں۔۔وہ وہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔جلدی جلدی گوشت باؤل میں نکال کر وہ اسے لیے باہر آئی۔۔
عبیرہ نے جھوٹ کیوں بولا۔شہریار اپنے دل میں سوچنے لگا۔۔اور خود بھی باہر آ گیا۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد عبیرہ نور اور عمیر کو ان کے کمرے میں پڑھایا۔گیارہ بجے کے قریب ان دونوں کو
سلا کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔۔
شہریار بیڈ لیٹا ہوا تھا۔ اور اپنی انکھوں پر بازو رکھے ہوۓ تھا۔ پر وہ اپنے پاؤں مسلسل ہلا رہا تھا وہ ابھی تک عبیرہ کے جھوٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔جس سے یہ اندازہ ہو گیا وہ سویا نہیں تھا۔
عبیرہ چینج کر کے روم میں آئی۔۔بیڈ پر لیٹ گئی۔۔کچھ پل میں اسے ناجانے کیا ہوا۔ وہ آگے بڑھی اور شہریار کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا۔۔شہریار چونکا۔اور اپنی انکھوں سے بازو ہٹایا۔اور اس کے کندھے پر پھیلایا۔۔
عبیرہ کیا ہوا؟ وہ اس کی طرف دیکھ کر بولا جو آنکھیں بند کیے لیٹی تھی۔۔
پتہ نہیں انجانا سا ڈر لگ رہا ہے۔وہ بولی تو شہریار کو اس کی آواز میں واضع ڈر محسوس ہوا۔
کچھ نہیں ہوتا میں ہوں نا سو جاؤ شہریار اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کے بال سہلانے لگا۔ اور اس کے سر پر بوسہ دیا۔
عبیرہ اپنے اپ جو محفوظ پناہ گاہ میں محسوس کر رہی تھی جیسے ان اس تک کوئی پریشانی نہیں آ پاۓ گئی۔۔۔۔
ضرور کوئی بات ہے جس کہ وجہ سے تم پریشان ہو اور جھوٹ بول رہی ہو۔۔مین بہت جلد پتہ لگا لوں گا۔۔شہریار اسے دیکھتے ہوۓ دل میں سوچ رہا تھا۔۔
اگلے دن شہریار مصروف سا اپنے کیبن میں بیٹھا کام کر رہا تھا۔۔
تبھی سیکٹری اندر آئی
سر یہ کچھ ڈاکومینٹس صبح ڈاکیا دے گیا تھا۔وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے دو خاکی لفافے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولی۔۔
ٹھیک ہے مین چیک کر لوں گا تم کافی بھیج دو وہ لیپ ٹاپ پر ٹاپنگ کرتے ہوۓ بولا۔۔سیکٹری چلی گئی۔۔
شہریار نے کچھ دیر بعد ایک لفافہ کھولا۔جس میں سے کچھ تصویریں باہر نکلیں۔۔
ان تصویرون کو دیکھ شہریار شاک ہو گیا۔ ساتھ میں ایک خط بھی تھا۔
مجھے تو بہت طعنے مارتے ہو اب اپنی باحیا بیوی کے کام دیکھو۔
ان الفاظون کو پڑ کر شہریار کو ایک پل نا لگا سمجھنے میں کہ یہ کام نیلم کا ہے۔ شہریار نے ایک ایک تصویر دیکھی۔جس میں صرف عبیرہ کا چہرہ دیکھائی دے رہا تھا اور لڑکے کا کی بیک نظر ا رہی تھی۔تصویر میں وہ ہاتھ پکڑے ہوۓ تھا۔۔
شہریار نے تصویریں سائڈ پر رکھیں۔۔اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوۓ دوسرا لفافہ کھولا۔۔
جس کو پڑھ کر شہریار نے غصے سے ٹیبل سے گلاس پکڑ کر سامنی دیوار پر مارا۔۔
وہ کوٹ کی طرف سے نوٹس تھا جس میں بچوں کی کسٹڈی کے حوالے سے کیس دوبارہ اوپن کیا گیا تھا۔۔یہ نوٹس نیلم کی طرف سے ایا تھا۔۔
بالکل نہیں میں دوبارہ تمہیں اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔شہریار غصے سے بھری لال آنکھوں سے پیپرز اور فوٹوز کو گھورتے ہوۓ بولا۔
لو کام ہو گیا۔ اب شہریار سے میں بچے لے کر رہوں گئی۔ رات کے بارہ بجے وہ تینوں نیلم۔کے گھر کے چھت پر بیٹھے ہوۓ تھے۔۔
مجھے نہیں لگتا شہریار اب عبیرہ کو اپنے گھر رکھے گا۔۔اور ویسے بھی وہ فوٹوز دیکھ کر کسی کو بھی غصہ ا سکتا ہے۔اور شہریار جیسا لوز ٹیمپر والا بندہ یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔۔شمائلہ کباب کھاتے ہوۓ بولی۔۔
اس سب کا کڑیڈیٹ مجھے جاتا ہے کل ایسی تیلی لگا کر آیا تھا دیکھنا آج دھماکہ ہو گا۔۔فاہد ہنستے ہوۓ بولا۔۔
بس اب جلدی سے شہریار اس گاؤں کی گوار کو اپنی زندگی سے نکال دے اور پھر میں اس سے شادی کر لوں۔شمائلہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔
اور بچوں کو کوٹ میرے حوالے ہی کرے گا۔۔ بس اب ایک کام رہ گیا ہے جلد سے جلد تمہیں پراپرٹی کے پیپرز پر سائن کروانے ہوں گے۔۔پھر ساری کی ساری بازی میرے ہاتھ مین ہو گی۔۔نیلم اپنے ہاتھ کو گھوماتے ہوۓ بولی۔۔
وہ سب تو ہو جاۓ گا بس آپ مجھے دس لاکھ دے دو۔ میری بہن کی شادی ہونے والی ہے۔۔فاہد اُٹھ کر بولا۔
ایک تو تم بول نا دے دوں گی۔ کل اپنے اکاونٹ میں دیکھنا بیج دون گئی۔شمائلہ غصے سے بولی۔۔۔
چلو فل حال تم تینوں نکلو۔ مجھے سونا ہے۔۔نیلم۔نے ان دونون کو اگلے دس منٹ میں اپنے گھر سے نکالا۔۔
شمائلہ غصے سے اپنی گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی۔۔
بری آئی ساری پراپرٹی مین اپنے نام کروا لوں ۔۔وہ اس کی نکل اتارتے ہوۓ بولی۔۔
میڈم نیلم تم بس میری چال دیکھتی جاؤ۔۔کیسے تم سب کے پتے نکالتی ہوں۔وہ گاڑی کا سٹاٹ کرتے ہوۓ بولی۔ناجانے اس کے دماغ میں کیا تھا۔۔
شہریار رات کو بارہ بجے گھر آیا۔۔اج عبیرہ تھوڑی سھنمبلی تھی آج فاہد نے اسے میسج نہیں کیا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی اسائمنٹ بنا رہی تھی۔۔
تبھی شہریار کمرے میں داخل ہوا۔وہ عبیرہ کو سخت نظروں سے دیکھ کر وہ واشروم کی طرف بڑھا۔
عبیرہ نے حیرانگی سے اسے جاتے دیکھا۔اج اس نے عبیرہ کو مخاطب نہیں کیا تھا۔ عبیرہ کو اندر ہی اندر بہت ڈر لگا۔۔
شہریار فریش ہو کر واپس کمرے میں آیا۔ اور تولیا سامنے صوفے پر پھینکا۔
کیا ہوا شہریار آپ۔۔ وہ ایک دم کھڑی ہو کر شہریار کے پاس آئی۔۔
دیکھو عبیرہ ابھی ہمارے رشتے کو صحیح ہوۓ کچھ ہی دن ہوۓ ہیں۔اور تم نے ابھی سے جھوٹ بولنا شروع کر دیا۔وہ غصے سے بولا۔۔
کیسا جھوٹ؟؟؟ عبیرہ لرکھڑاتے ہوۓ لہجے میں بولی۔۔
یہ جھوٹ شہریار نے تصویرین نکال کر عبیرہ کے ہاتھ پر رکھیں۔۔
وہ شاک میں گھرے ان تصویروں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
تو بتاۓ وہ کون ہے جس نے اگ لگائی۔اور اب عبیرہ کیا کرے گی۔۔کیا وہ شہریار کو سچ بتا دے گئی یا وہ دوبارہ جھوٹ بولے گئی۔بتاو بتاؤ میں بھی تو دیکھو🧐کون کتنا صحیح جواب دے سکتا ہے۔جس کا جواب صحیح اور یا زیادہ ریلٹو لگا ان میں سےٹاپ تین لوگوں کا نام اگلی قسط میں مینشن کروں گئی۔۔
آئی نو قسط 13 پاٹ 2 زیادہ لوگوں کو ملی نہیں ہو گی اس لیے میں اس کا لنک کومینٹ باکس مین دے رہی ہوں۔
