No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
“جواب ہاں میں ہونا چاہیے ڈئیر کزن۔۔۔ ورنہ یہ ایس پی لاشیں گرا دے گا۔۔۔۔”
مہروسہ کی آنکھوں میں دیکھ کر اُسے بہت گہری بات کہتا وہ وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔ اُس کا لہجہ جتنا محبت بھرا اور نرم تھا۔۔۔۔ آنکھوں کا تاثر اُتنا ہی پُر اصرار سا تھا۔۔۔۔۔
مہروسہ نے اپنے روم میں جاتے جلدی سے شاہ ویز کا نمبر ڈائل کرتے حازم کو بھی کانفرنس کال میں لیا تھا۔۔۔۔۔۔
“کیا ہوا مہرو۔۔۔۔؟؟ تم ٹھیک ہو؟؟”
وہ دونوں اُس کے یوں اچانک ایک ساتھ کرنے پر فوراً الرٹ ہوتے اپنا کام چھوڑ چھاڑ اُس کی جانب آنے کے لیے اُٹھے تھے۔۔۔۔
“اوہ ہو۔۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ وہ ایک پرابلم ہوگئی ہے۔۔۔ اور مجھے سمجھ نہیں آرہا اِس پرابلم سے کیسے نکلوں۔۔۔”
مہرو اُن کی پریشانی سمجھتی جلدی سے بولی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی اُن کے لیے وہ کیا حیثیت رکھتی ہے۔۔۔ وہ اُسے مشکل میں دیکھ ایک منٹ کے لیے بھی نہیں رُک پائیں گے۔۔۔۔۔ اُن میں سے کسی ایک کو بھی کچھ ہونے پر اُن تینوں کی جان ایک ساتھ اٹک جاتی تھی۔۔۔
اُن کے درمیان کیا رشتہ تھا کبھی کوئی جان نہیں پایا تھا۔۔۔ مگر اتنا مضبوط رشتہ آج تک کسی نے دیکھا بھی نہیں تھا،،،
“یہ پہلیاں بجھوانا بند کرکے تم سیدھی طرح سے بولو گی مہرو۔۔۔ ہمیں فکر ہورہی ہے تمہاری۔۔۔۔”
حازم تشویش بھرے لہجے میں بولتا اُسے ڈپٹ گیا تھا۔۔
“وہ۔۔۔ ایس پی حمدان صدیقی نے مجھے پرپوز کردیا ہے۔۔۔ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔”
یہ الفاظ ادا کرتے مہروسہ رو دی تھی۔۔۔۔
“چلو جی۔۔۔۔ اِس کی کمی تھی۔۔۔”
شاہ ویز غصے سے پہلو بدلتا سیگریٹ سلگھا گیا تھا۔۔۔
جبکہ حازم کا چھت پھاڑ قہقہ فون کے سپیکر میں گونجتا اُن دونوں کو فون کان سے دور کرنے پر مجبور کرگیا تھا۔۔۔
“مہرو تو اِس میں رونے والی کیا بات ہے۔۔۔۔؟؟”
حازم اُسے پھوٹ پھوٹ کر روتا دیکھ سنجیدہ ہوتا دیکھ بولا۔۔۔
“میں کیا کروں۔۔۔؟؟؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔”
مہروسہ اِس وقت چھوٹے بچے کی طرح رو رہی تھی۔۔۔
“مہرو تم بھول رہی ہو شاید کہ تم کوئی عام لڑکی نہیں بلیک سٹار ہو۔۔۔ یہ کوئی پرابلم نہیں ہے۔۔۔ اِس سے بڑے بڑے مسائل حل کیے ہیں تم نے۔۔۔ فوراً انکار کردو اُس ایس پی کو۔۔۔۔ “
شاہ ویز نے سرد و سپاٹ انداز میں اُس کی سرزنش کرتے اُس کے آنسو کو فوراً منجمند کردیا تھا۔۔۔
“شاہ تم کیا کہہ رہے ہو؟؟؟ اگر مہرو نے انکار کیا تو اُسے شک ہوجائے گا۔۔۔ اور ہمارا پلان اور مہرو کی اتنی محنت ضائع چلی جائے گی۔۔۔”
حازم نے شاہ ویز کو ٹوکا تھا۔۔۔۔
“میرے لیے کسی بھی پلان سے اوپر مہرو کی خوشی ہے۔۔۔ اور وہ شخص کی طرف محبت بھرا ہاتھ نہیں بڑھا رہا۔۔ اُسے مہرو پر شک ہے۔۔۔ جس کی خاطر وہ یہ کھیل کھیل رہا ہے۔۔ میں نہیں چاہتا مہرو کا دل ٹوٹے۔۔۔۔”
شاہ ویز سکندر نے پہلی بار یوں سامنے آکر اپنی فکر کا اظہار کیا تھا۔۔۔
اُن دونوں کو خاموشی سے سنتی مہروسہ کی آنکھوں سے ایک بار پھر رواں ہوچکے تھے۔۔۔ وہ دونوں آپس میں اُس کی خاطر لڑ رہے تھے۔۔۔ دونوں کو ہی اُس کی فکر تھی۔۔۔ مگر دونوں کی سوچ اور انداز ایک دوسرے سے بہت مختلف تھے۔۔۔
حازم اُس کی حمدان سے پسندیدگی سے واقف تھا۔۔ وہ چاہتا تھا مہروسہ کو اُس کی محبت مل جائے۔۔ مگر وہیں شاہ ویز کو ڈر تھا کہ اگر ایسا ہوا تو بعد میں مہروسہ کا دل ٹوٹے گا۔۔۔ اور وہ اپنے بلیک سٹار کو ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
“مہرو محبت کرتی ہے ایس پی سے۔۔۔۔”
حازم نے اُسے آگاہ کرنا چاہا تھا۔۔۔
“جانتا ہوں اِسی لیے کہہ رہا ہوں۔۔۔”
شاہ ویز نے سیگریٹ کا گہرا کش لیتے دھواں خارج کرتے بے تاثر لہجے میں جواب دیا تھا۔۔۔
“ایس پی نکاح نہیں کرے گا۔۔۔ وہ صرف ناٹک کررہا ہے۔۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا مہروسہ واقعی کوئی کھیل کھیل رہی ہے یا نہیں۔۔۔”
حازم نے اپنی معلومات کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔۔۔
“بہت ایماندار ہے وہ۔۔۔۔ اپنی ڈیوٹی کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگا سکتا ہے تو زندگی بھی لگا دے گا۔۔۔۔ میں یہ فیصلہ مہرو پر ہی چھوڑتا ہوں۔۔۔ وہ جو کرنا چاہے کرسکتی ہے۔۔۔ لیکن اگر اِس سب میں مہرو کا نقصان پہنچا تو میں اُس ایس پی کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ یہ بات یاد رکھنا تم لوگ۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنی بات ختم کرتا کال ڈسکنکٹ کر چکا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کی آخر میں بولی بات مہروسہ کا دل چیر گئی تھی۔۔۔۔
“میر سر میں کیا کروں اب۔۔۔۔”
مہروسہ کے آنسو ایک بار پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
“شاہ بالکل ٹھیک کہتا تھا۔۔۔ دل کے معاملات کو بیچ میں نہیں لانا چاہیئے تھا ہمیں۔۔۔ بہت تکلیف دیں گے۔۔۔”
حازم لال آنکھوں کو سختی سے میچتے بولا تھا۔۔ جس میں مہروسہ نے بھی اُس کی بھرپور تائید کی تھی۔۔۔
“تم ہاں بول دو اُس ایس پی کو۔۔۔۔”
حازم نے اپنے اندر کی بے چینی دور کرنے کے لیے سیگریٹ سلگھایا تھا۔۔۔۔
“اگر اُنہوں نے مجھے نقصان۔۔۔۔ شاہ سر اُنہیں۔۔۔۔”
مہروسہ اِس مقام پر آکر خوفزدہ ہوئی تھی۔۔۔
وہ نہیں چاہتی تھی کبھی شاہ ویز اور حازم کا ٹکراؤ اُس کی وجہ سے حمدان سے ہو۔۔۔ کیونکہ یہ تینوں ہی اُس کے لیے زندگی کے برابر تھے۔۔۔
“قسمت کے لکھے کو آج تک کوئی نہیں روک پایا مہرو۔۔۔ خود کو ہلکان کرنے سے بہتر ہے وہی کرو جو تمہارا دل چاہتا ہے۔۔۔۔ مجھے اور شاہ کو ہمیشہ اپنے ساتھ ہی پاؤ گی۔۔۔۔ کوئی تمہارا بال بھی بیکار نہیں کرسکتا۔۔۔ تمہیں نقصان پہنچانے سے پہلے اُنہیں ہمارا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔..”
حازم ہمیشہ کی طرح اُسے فل سپورٹ کرتا کال بند کرگیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“حبہ میری جان کیا ہوا ہے آپ کو۔۔۔؟؟؟ آپ ڈنر کرنے بھی نہیں آئیں۔۔۔ کیوں شام سے خود کو روم میں قید کرکے رکھا ہوا ہے۔۔۔۔”
نجمہ بیگم حبہ کے روم کی لائٹ آن کرتے اُس کے قریب آئی تھیں۔۔۔ اُس کی حالت دیکھ اُن کا کلیجہ منہ کو آیا تھا۔۔۔۔ اُس کی ایسی حالت اُنہوں نے تب دیکھی تھی جب اُس نے اپنے باپ اور شوہر کو ایک ساتھ کھویا تھا۔۔۔
“ماما وہ۔۔۔”
حبہ اُن کے قریب آنے پر اپنا ضبط کھوتی اُن کے سینے سء لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔
“ماما حازم زندہ ہیں۔۔۔ میں کہتی تھی نا آپ سے۔۔۔۔ آپ نے کبھی میری بات مانی ہی نہیں۔۔۔”
حبہ اُن کے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔
اُس کے بہتے آنسو نجمہ بیگم کو اپنے دل پر گرتے محسوس ہوئے تھے۔۔۔
مگر اُنہوں نے اُسے چپ نہیں کروایا تھا۔۔۔۔
وہ اُسے اپنے اندر کا غبار نکال دینا چاہتی تھیں۔۔۔ جو اتنے سالوں سے وہ اپنے اندر دبا کر بیٹھی تھی۔۔۔
“میں جانتی ہوں حازم زندہ ہے۔۔”
نجمہ بیگم کے انکشاف پر حبہ جھٹکے سے اُن سے دور ہوتی شاکی نگاہوں سے اُنہیں دیکھنے لگی تھی۔۔۔
“ایک ہفتہ پہلے ہی پتا چلی ہے مجھے یہ بات۔۔۔۔ حازم یہاں آیا تھا۔۔۔۔ میں تمہیں بتانا چاہتی تھی مگر حازم نے منع کردیا۔۔۔۔ “
نجمہ بیگم اُس کے نارضگی بھرے تاثرات دیکھ فوراً وضاحت دیتے بولی تھیں۔۔۔۔
جبکہ حبہ کو اُس پر بے پناہ غصہ آیا تھا۔۔۔ وہ اُسے آخر کس بات کی سزا دے رہا تھا۔۔۔۔
“ماما وہ ایک گینگیسٹر۔۔۔۔۔”
حبہ سے جملہ مکمل نہیں ہو پایا تھا۔۔
“میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔”
نجمہ بیگم نے اُس کے آنسو صاف کرتے اُسے پانی پلایا تھا۔۔۔
“ماما پلیز آپ اُن سے کہیں نا کہ وہ یہ سب چھوڑ کر واپس ہمارے پاس لوٹ آئیں۔۔۔ وہ بہت غلط کام ہے۔۔۔ اُس سے چھٹکارا پالیں۔۔۔ میں سروائیول میں پوری مدد کروں گی اُن کی۔۔۔۔ پلیز وہ آپ کی بات نہیں ٹالیں گے۔۔۔”
حبہ اُن کے ہاتھ تھامتی ملتجی لہجے میں بولی تھی۔۔۔
“میں ایسا نہیں کروں گی حبہ۔۔۔ دنیا والوں کے لیے وہ چاہے گینگسٹر ہو یا اِس سے بھی زیادہ بُرا انسان۔۔۔ مگر میرے لیے وہ میرا بیٹا ہے۔۔ جس پر اِس ماں کو پورا یقین ہے کہ وہ کبھی کوئی غلطی نہیں کرے گا۔۔۔ اور نہ کبھی غلط کرسکتا ہے۔۔۔۔”
نجمہ بیگم اپنا ہاتھ اُس کی گرفت سے نکالتیں اُسے وہیں ٹوک گئی تھیں۔۔
“ماما یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے بے یقینی بھری نظروں سے اُنہیں دیکھا تھا۔۔۔
“میں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں۔۔”
نجمہ بیگم مضبوط لہجے میں بولتیں اپنی جگہ سے اُٹھی تھیں۔۔۔
“ماما وہ بلیک سٹارز ہیں جنہوں نے نجانے کتنے گھر برباد کیے ہیں۔۔۔ کتنے لوگوں کا خون بہایا ہے۔۔۔ معزز سیاسیتدانوں کو اُن کے گھروں میں گھس کر مارا ہے۔۔۔ چوری چکاری، بینک لوٹنے جیسے یہ سب غلط فعل کرتا ہے آپ کا داماد۔۔۔ کیا آپ پھر بھی اُسے سپورٹ کریں گی۔۔۔”
حبہ کو اپنی ماں کی بالکل سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔
“ہم کیسے یقین کرلیں آپ پر آپی۔۔۔ کھڑے کھڑے تو کوئی بھی کسی پر بہت سارے الزام لگا سکتا ہے۔۔۔ آپ کے پاس کوئی ایک بھی پروف ہے ایسا۔۔۔ جس میں حازم بھائی کا کوئی بھی غلط فعل ثابت ہوسکے۔۔۔ یا کوئی ایک بھی ایسا مظلوم انسان ہمارے سامنے لاسکتی ہیں۔۔۔ جس پر حازم بھائی یا اُن کے کسی گینگ نے ظلم ڈھایا ہو۔۔۔
مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا پولیس آفیسر بننے کے بعد انسان دل اور جذبات سے بالکل عاری ہوجاتا ہے۔۔۔ حازم بھائی اتنے عرصے سے آپ کے سامنے اِسی خوف سے نہیں آرہے تھے۔۔۔
کیونکہ اُنہیں خوف تھا کہ آپ ایسے ہی اُن پر یقین نہیں کریں گی۔۔۔۔ “
صبا آنکھوں میں نمی بھرتے بولتی حبہ کا دل بے چین کر گئی تھی۔۔۔ اُسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔۔۔
اُس کے محکمے کا موسٹ وانٹڈ گینگسٹر تھا وہ۔۔۔ جسے پکڑنے پر بہت بڑی قیمت رکھی گئی تھی۔۔۔
آج تک اُس کے حوالے سے نجانے کتنے کیسز اُس کی فائل میں درج ہوچکے تھے۔۔۔
پھر اُس کے گھر والے کیوں ماننے کو تیار نہیں تھے۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“چلو پری سفیان بھائی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھو۔۔۔ سب ایک ساتھ ہی شاپنگ پر نکلیں گے۔۔۔۔”
دو دن بعد پریسا کا نکاح تھا۔۔۔ جس کی شاپنگ کے لیے آج وہ سب خواتین ہی جارہی تھیں۔۔۔۔ اور ساتھ میں سفیان، حمد اور طلحہ بھی تھے۔۔۔
پریسا کی اُس دن کے بعد سے سفیان سے کوئی خاص بات نہیں ہوئی تھی۔۔ سفیان اُس سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔ مگر وہ خود ہی سفیان کو زیادہ لفٹ نہیں کروا رہی رہی تھی۔۔۔۔۔
اُسے نجانے کیوں اب سفیان کے ساتھ ہونے اور اُس کے دیکھنے سے اُلجھن سی محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔۔ اور وہ ستمگر اپنی ہٹ دھرمی اور دھمکی آمیز رویہ کے ساتھ بھی اُسے نجانے کیوں اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔
اُس کے دل و دماغ ناچاہتے ہوئے بھی اُس کے بارے میں سوچنے لگتے تھے۔۔۔
اِس وقت بھی بیٹھی وہ سفیان کے ساتھ تھی۔۔۔ مگر اُس کا زہن بھٹک بھٹک کر شاہ ویز سکندر کی جانب جارہا تھا۔۔۔۔۔
جب اچانک سفیان نے اُس کا ہاتھ تھامتے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔۔۔
“ناراض ہو ابھی بھی۔۔۔۔۔”
سفیان کا انداز انتہائی محبت لیے ہوئے تھا۔۔۔
“نن نہیں۔۔۔۔ میں بالکل بھی ناراض نہیں ہوں۔۔۔”
پریسا نے اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ کھینچتے نارمل سے انداز میں جواب دیا تھا۔۔۔
سفیان کو اُس کا انداز بہت عجیب سا لگا تھا۔۔۔ مگر وہ لوگ شاپنگ مال پہنچ چکے تھے۔۔۔ اِس لیے وہ کچھ بول نہیں پایا تھا۔۔۔
“واؤ یہ کتنا خوبصورت لہنگا ہے۔۔۔۔ پری پر کتنا سوٹ کرے گا۔۔۔۔”
اُنہیں شاپنگ کرتے کرتے رات کے نو بج چکے تھے۔۔۔۔
اب بس ایک نکاح کا جوڑا رہ گیا تھا۔۔۔ جو کسی سے بھی ڈیسائیڈ نہیں ہو پارہا تھا۔۔۔ پریسا پوری شاپنگ میں اکتائی اُکتائی دی رہی تھی۔۔۔۔
اُس کی نظریں پورا ٹائم اِدھر اُدھر ہی گھومتی رہی تھیں۔۔۔ مگر کہیں بھی اُسے اپنا مطلوبہ انسان نہیں دکھ پایا تھا۔۔۔
“پری آؤ اُوپر والے فلور پر چلتے ہیں اپنی فیورٹ چاکلیٹ آئسکریم کھانے۔۔۔۔”
وہ لوگ اِس وقت بلنڈنگ کے ففتھ فلور پر تھے۔۔۔ اور فجر ابھی مزید اُوپر جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔ جہاں اُن کا فیورٹ آئسکریم بار تھا۔۔۔
پریسا نے انکار کرنا چاہا تھا مگر وہ سب ینگ پارٹی اُسے ساتھ گھسیٹتی لفٹ میں داخل ہوچکی تھی۔۔۔۔
پریسا کو اُن سب کے چہروں پر عجیب سی مسکراہٹ دکھائی دی تھی۔۔۔ جس کا مطلب وہ سمجھ نہیں پائی تھی۔۔۔۔ مگر بنا کسی سے استفسار کیے ایسے ہی گم صم سی کھڑی رہی تھی۔۔۔
لفٹ سے نکل کر وہ سب دائیں جانب بنے ہال میں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔ مگر وہاں کا منظر دیکھ پریسا نے بے یقینی بھری نظروں سے اُن سب کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جو آنکھوں میں محبت بھرے اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
پورے ہال کو اُس کے فیورٹ پھولوں اور بے شمار چاکلیٹس سے سجایا گیا تھا۔۔۔ جن کے عین بیچ میں اُس کا فیورٹ چاکلیٹ کیک رکھا گیا تھا۔۔۔ جس کے عین اُوپر بڑا سا سوری لکھا ہوا تھا۔۔۔
“سفیان بھائی تم سے بہت شرمندہ تھے اُس دن کی وجہ سے۔۔۔۔ یہ سب اُنہوں نے ہی کیا ہے تمہارے لیے۔۔۔ “
فجر اُس کا بازو تھامتی سفیان کے سامنے کھڑا کر چکی تھی۔۔۔
“اُس دن جو ہوا میں اُس کے لیے خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گا۔۔۔ مگر میرا یقین کرو پری مجھے اُس وقت کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ اچانک سے وہ سب کیا ہوا ہے۔۔۔ میں تمہیں کھونے کے خیال سے بہت ڈر گیا تھا۔۔۔ تم جان نہیں سکتی میں کتنی محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔ تم میرے لیے بہت امپورٹنٹ ہو۔۔۔ وعدہ کرتا ہوں آئندہ کبھی زندگی کے کسی بھی موڑ پر تمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔ میں تمہاری ناراضگی برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔”
سفیان اُس کے سامنے دوزانو بیٹھا شرمندگی سے چور لہجے میں بولتا پریسا کا سارا غصہ پگھلا گیا تھا۔۔۔ مگر اُس کے دل میں اب بھی اِس انسان کے لیے وہ احساس پیدا نہیں ہوسکا تھا۔۔۔ جو وہ شاہ ویز سکندر کے لیے اتنے دنوں سے محسوس کر رہی تھی۔۔۔
مگر اِس وقت اُس نے اُس ستمگر کا خیال جھٹکتے جھک کر سفیان کا بڑھا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔۔۔ جو دیکھ کر سب کزنز خوش ہوتے ہوٹنگ کرنے لگے تھے۔۔۔
سفیان اُس کا ہاتھ تھامے مسکراتے ہوئے اُسے لیے کیک کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
“اللہ جی پلیز میری مدد کریں۔۔۔ یہ کیا ہورہا ہے میرے ساتھ۔۔۔ اگر اُس انسان کو میرے نصیب میں لکھا ہی نہیں ہے تو دل میں کیوں داخل کردیا۔۔۔ کیوں میں اُس انسان کی جانب کھینچی جارہی ہوں۔۔ جو میرا کچھ بھی نہیں لگتا۔۔۔ جس کے نزدیک میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔۔۔ جس کے لیے میرا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔۔۔ پلیز اللہ جی میرا دل اُس کے لیے کیوں اتنا بے چین ہورہا ہے۔۔۔ پلیز کچھ ایسا کردیں۔۔ جس سے میرے دل کو سکون مل جائے۔۔۔ میرے سامنے اُس انسان کی صورت واضح ہوجائے جو میرے لیے سب سے بہتر ہے۔۔۔۔”
پریسا نے آنکھیں جھپکتے اُن میں آئے آنسوؤں کو اندر دھکیلتے اپنے رب سے دعا کی تھی۔۔۔۔
جب اُسی لمحے اچانک سے ہال کے دائیں جانب زور دار دھماکا ہوا تھا۔۔۔ اور اُس کے ساتھ ہی آگ کے شعلے ہر طرف بھڑک اُٹھے تھے۔۔۔۔
وہاں کا سٹاف آگ کو بجھانے کی پوری کوشش کررہے تھے۔۔۔ مگر وہ آگ بجھنے کے بجائے لمحہ با لمحہ مزید بھڑکتی جارہی تھی۔۔۔
وہ سب لوگ افراتفری میں باہر کی جانب بھاگے تھے۔۔۔ کسی کو دوسرے کا ہوش نہیں رہا تھا۔۔۔ سب ہی اپنی جان بچانے کے لیے اندھا دھند سیڑھیوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔۔ پریسا نے بے یقین نگاہوں سے ہاتھ چھڑوا کر بھاگتے سفیان کو دیکھا تھا۔۔۔
کچھ دیر پہلے کے کیے اُس کے سارے عہد ایک ہی سیکنڈ میں ٹوٹتے اِن آگ کے شعلوں میں بھسم ہوگئے تھے۔۔۔۔
پریسا بھی بھاگنا چاہتی تھی۔۔ اپنی جان بچانا چاہتی تھی۔۔۔ مگر وہاں ہوتی دھکم پہل میں اپنا راستہ بنا کر نیچے جانے کی سکت اُس میں نہیں تھی۔۔۔ وہاں پھیلتے دھویں کی وجہ وہ بُری طرح کھانستے ایک جانب دیوار کو تھام کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔۔
وہ مرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ مگر اِس وقت اپنی جان بچانے کے لیے کچھ کر بھی نہیں پارہی تھی۔۔۔۔
اُسے سیڑھیاں اُترتے لوگوں میں کہیں بھی سفیان سمیت کوئی بھی شناسا چہرہ دیکھائی نہیں دیا تھا۔۔ شاید وہ سب وہاں سے نکل چکے تھے۔۔۔۔
سیڑھیوں کا راستہ خالی ہوتے دیکھ اُس نے بُری طرح کھانستے آگے جانا چاہا تھا۔۔۔ جب تیزی سے بھڑکتی آگ سیڑھیوں کی ریلنگ کو اپنی لپیٹ میں لیتی اُس کا بچ نکلنے کا راستہ بند کر گئی تھی۔۔۔
وہاں ہر طرف اندھیرا پھیل چکا تھا۔۔۔ آگ کے شعلوں کی خوفناک روشنی پریسا کی جان نکال رہی تھی۔۔۔۔
وہ خوف کے عالم میں بُری طرح سسکتے وہیں دیوار کے ساتھ لگتی نیچے بیٹھ گئی تھی۔۔۔
تو کیا اُس کی موت کا وقت آچکا تھا۔۔۔؟؟
لمحہ با لمحہ قریب آتی آگ کو دیکھتے پریسا نے خوف کے عالم میں سوچا تھا۔۔۔
کیونکہ اِس پوری دنیا میں وہ کسی کے لیے بھی اتنی اہم نہیں تھی۔۔۔ کہ کوئی اپنی جان داؤ پر لگا کر اُسے بچانے آتا۔۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے اُس سے محبت کا دعوے دار۔۔۔ اُس کی جان دینے کے وعدے کرنے والا۔۔۔ ایک بار پھر اُسے فراموش کرتا اپنی جان بچا کر بھاگ نکلا تھا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
