No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
شہریار کھانا کھا کر کمرے میں آ گیا۔۔عبیرہ نے بچوں کو ٹیوی لگا کر دیا۔۔۔۔عمیر اب بالکل ٹھیک ہو چکا تھا۔۔سب کام ختم کر کے وہ کمرے میں آئی۔اور کل کے لیے کپڑے نکالنے لگی۔ کل اس کا یونی میں پہلا دن تھا۔
شہریار بیڈ پر بیٹھ کر کام کرنے میں مصروف تھا۔پر اس کی نظر بھٹک بھٹک کر عبیرہ پر جا رہی تھی۔۔۔
وہ آج صاف بات کرنا چاہتا تھا۔یا یوں کہو اپنا رشتہ کو نیا موڑ دینا چاہتا تھا۔۔
شہریار آپ کل مجھے یونی چھوڑ دیں گے۔میں واپسی پر آ جاؤں گئی۔۔بس رستے کی سمجھ لگ جاۓ تو لوکل چلی جایا کروں گئی۔ وہ مصروف انداز میں بولی۔۔۔
یہاں آؤ۔شہریار لیپ ٹاپ کو ایک سائیڈ پر رکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
عبیرہ کے ہاتھ کام کرتے ایک پل کے لیے روکے۔۔اس نے ہاتھ میں پکڑا سوٹ صوفے پر رکھا اور اس کے پاس آ کر کھڑی ہوئی۔۔
جی کیا ہوا؟ کافی لاؤ۔۔۔اسے لگا شائد کافی منگوانی ہو۔۔۔
بیٹھو ادھر شہریار نے بازو سے پکڑ کر اسے بیٹھایا۔۔۔
وہ ایک پل کو گھبڑا گئی۔۔۔اپنی گھبڑاہٹ پر قابو پا کر اس نے شہریار کی طرف دیکھا۔۔۔
سمجھ نہیں آ رہا بات کہاں سے شروع کروں۔ جانتا ہوں تمہارا اور میرا رشتہ کبھی ایسی منزل پر نہیں آیا جہاں ہم دونوں کھل کر بات کر سکیں۔۔ لیکن اب شائد ہمیں میچور انسانوں کی طرح فیصلہ لے لینا چاہیے۔۔۔شہریار کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کیسے بات کرے۔۔۔۔
عبیرہ کا دل ایک دم دھڑکا۔۔اسے لگا شائد وہ اسے طلاق دینے کی بات کرے گا۔۔یا دوسری شادی کی بات ہو گئی
ایسی کیا بات ہے جو آپ اتنی لمبی تمہید باندھ رہے ہیں۔وہ اپنے ڈر پر قابو پاتے ہوۓ بولی۔
عبیرہ مجھے زیادہ گھوما پھیرا کر بات کرنا نہیں آتی۔مجھے لگتا ہے ہمیں اس رشتے کو موقع دینا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کو اپنا لینا چاہیے۔ وہ اس کی طرف دیکھ کر بولا۔
عبیرہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔وہ آج اس کی سوچ کے بالکل براعکس بولا تھا۔۔
جانتا ہوں تمہارے لیے یہ سب اتنا آسان نہیں ہو گا۔ جس دن سے تم اس گھر میں آئی ہو میں صرف تمہیں دھدکار، ہی ہے۔۔۔کبھی تمہیں عزت نہیں دی۔ ہر وقت صرف تمہیں بے عزت ہی کیا۔۔لیکن پتہ نہیں کچھ دنوں سے کیا ہو گیا ہے۔ مجھے تمہاری کمی کھلنے لگی ہے۔۔تمہاری فکر رہتی ہے۔۔۔میں یہ نہیں کہوں گا کہ مجھے تم سے اندھی دھند محبت ہو گئی ہے۔۔ہاں اتنا ضرور کہوں گا مجھے تمہاری عادت ہو گئی ہے۔۔
اور کہتے ہیں محبت سے زیادہ جان لیوا عادت ہوتی ہے۔ وہ اس کی آنکھوں میں اپنی گہری آنکھیں ڈالے سہر زرہ الفاظ بول رہا تھا۔۔۔
اور عبیرہ دم سادھے اس کے الفاظوں کو سن رہی تھی۔۔۔
عبیرہ مجھے تمہاری سادگی، تمارے منفرد انداز ،اور تمہارے پاک اور صاف دل نے تماری طرف متوجہ ہونے کیا۔ تمہارا میرے بچوں کو بے حد خلوص سے اپنانا انہیں مجھ سے بھی کئی حد زیادہ پیارا کرنا مجھے تمہاری طرف راغب کر گیا۔۔۔۔وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا۔۔۔
وہ میرے بھی بچے ہیں۔۔۔عبیرہ بے ساختہ بولی۔۔
شہریار اس کے بے ساختہ کہنے پر مسکرا دیا۔۔۔
میں اپنے آج تک کیے گے سارے غلط رویوں کے لیے مافعی مانگتا ہوں۔۔کیا تم مجھے اور بچوں کو اپنانے کے لیے تیار ہو کیا تم میری زندگی کو خوبصورت بناؤ گئی۔۔۔وہ بولا۔۔ پر آگے سے عبیرہ خاموش تھی۔۔اس کے دماغ میں ہر وہ بات دوڑ رہی تھی۔جو آج تک اس کے ساتھ ہوئی تھی۔۔۔
کوئی بات نہیں میں فورس نہیں کروں گا۔۔جانتا ہوں میرا غلط رویہ بھولنے کے قابل نہیں۔اس کے لیے تم مجھے جو بھی سزا دو گئی مجھے وہ منظور ہے۔ اور اس سوال کا جواب دینے کے لیے جتنا بھی وقت چاہیے میں تمہیں دیتا ہوں۔اس کے بعد جو بھی تمہارا فیصلہ ہو گا مجھے وہ منظور ہو گا۔۔۔تم اگر چاہو گئی تو طلاق بھی دے دوں گا شہریار ایک پل رک کر بولا۔۔۔۔
عبیرہ کی دھڑکینیں طلاق کے نام پر رُک سی گئیں۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی۔تبھی دروازہ کھول کر عمیر اور نور بھاگتے ہوۓ اندر آۓ اور فوراً بیڈ پر چڑ گے۔۔عبیرہ نے ایک دم ہاتھ چھڑواۓ۔۔
بابا یہ بہت گندہ ہے نیچے ڈراونی فلم لگا کر بیٹھا تھا۔ میں نے بہت بولا بدلو لیکن یہ وہی لگا کر بیٹھ گیا۔۔
ہاہاہا اور ماما میں نے اسے ہاؤ کر کے ڈرایا تو یہ ڈر کر بھاگ گئی۔ عمیر ہنستے ہوۓ اپنی کارستانی بتانے لگا۔۔۔
اس میں اتنی بری چڑیل تھی۔۔جو سب کومار رہی تھی۔ نور ڈرے ہوۓ لہجے میں بولی۔۔۔
شیطان کہی کے تم نے میری پرنسس کو ڈرا دیا۔ شہریار نے عمیر کے سر پر تھپر مارتے ہوۓ کہا۔ اور نور کو گود میں لے لیا۔۔۔
بابا میری ٹیم میں ہیں۔ اب تمہیں روز ڈانٹ پڑے گئی۔۔وہی بیٹھے نور عمیر جو چڑاتے ہوۓ بولی۔۔۔
میری ٹیم میں ماما ہیں۔اگر بابا مجھے ڈانٹیں گے تو ماما انہیں ڈانیٹیں گی۔۔بولو ماما آپ ڈانٹو گئی نا۔۔عمیر عبیرہ کی گود میں بیٹھتے ہوۓ بولا۔عبیرہ سٹپٹا گئی۔۔
بولو نا۔۔عمیر پھر بولا۔
ہاں ڈانٹوں گئی۔اب چلو تم دونوں سو جاؤ۔ کل صبح سکول بھی تو جانا ہے اگر لیٹ سوۓ تو صبح لیٹ ہو جاۓ گئی عبیرہ جلدی جلدی بول کر جان چھڑواتے ہوۓ انداز میں بولی۔اور دونوں کو لے کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔۔۔
شہریار نے لمبا سانس لے کر خود کو پرسکون کیا۔ آج ساری باتیں کر کے وہ اچھا محسوس کر رہا تھا اب ناجانے عبیرہ کیا فیصلہ کرنے والی تھی۔۔۔
کافی دیر بعد وہ بچوں کو سُلا کر اندر کمرے میں آئی تو شہریار لیمپ جلا کر لحاف لیے سو رہا تھا۔
کب سے شہریار کی باتیں اس کے دماغ میں گھوم رہیں تھیں۔۔وہی سوچتے سوچتے وہ صوفے پر آ کر لیٹ گئی۔۔
اگلی صبح وہ سب ناشتہ کر کے شہریار کی گاڑی میں بیٹھے۔
عمیر اور نور کو سکول چھوڑ کر شہریار نے گاڑی عبیرہ کی یونی کی طرف موڑ لی۔۔
عبیرہ خاموشی سے کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔
تھوڑی دیر بعد گاڑی یونی کے قریب آ کر رُکی۔ وہ باہر نکلنے جب شہریار نے پکارا۔۔
عبیرہ یہ رکھ لو کام آ سکتے ہیں۔میں نے ساری فارمیلٹیز پوری کر دیں ہیں۔ شہریار پانچ پانچ ہزار کے چار پانچ نوٹ نکال کر عبیرہ کی طرف بڑھاتے ہوۓ بولا۔۔
مجھے ان کی ضرورت نہیں میرے پاس پیسے ہیں وہ عام سے لہجے میں بولی۔۔۔
بیوی ہونے کے ناطے تمہارا حق میری ہر چیز پر ہے۔۔ یہ رکھ لو میں اپنا فرض پورا کر رہا ہوں۔ واپسی پر میں ہی لینے آؤں گا لوکل آنے کی ضرورت نہیں۔۔شہریار مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔اور پیسے اس کے ہاتھ میں رکھ دیے۔۔۔
عبیرہ خاموش نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔۔بنا کچھ بولے وہ باہر نکلی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ یونی میں داخل ہو گئی۔۔۔۔
شہریار نے جب دیکھا وہ یونی میں داخل ہو چکی ہے اس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
میں عبیرہ کی ذات سے کتنا غافل تھا۔اللہ پاک نے اسے میری ذمہ داری بنایا تھا۔اور میں صرف اپنے ماضعی میں ہی کھویا رہا۔۔کبھی اس سے یہ نہیں پوچھا اسے کسی چیز کی ضرورت ہے۔۔۔وہ خود کو قصوار ٹھراتے ہوۓ بولا۔۔۔
عبیرہ کلاس کا پتہ لگا کر وہاں آئی۔ وہ کئی سالوں بعد اس طرح یونی ورسٹی آئی تھی۔ آگے پڑھانا تو بس اس کا خواب ہی رہ گیا تھا۔وہ صرف خواب میں پڑھنے کا سوچ سکتی تھی پر آج حقیقت میں یوں کلاس روم میں بیٹھے اسے بہت خوشی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
ہاۓ کیا آپ مسسز شہریار ہیں۔تبھی اسے اپنے قریب سے کسی لڑکی کی آواز آئی۔۔۔
عبیرہ نے سر اُٹھا کر دیکھا تو چہرہ جانا پہچانا لگا۔۔
جی میں ہوں پر ایم سوری میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔
ارے کوئی بات نہیں میں اپنا تعارف کروا دیتی ہوں۔میں ہو ماہین حماد اور آپ میری پارٹی پر آئیں تھیں۔۔وہ چہکتے ہوۓ بولی اور ہاتھ ملانے کے لیے آگے کیا۔۔۔
اُو ہاں یاد آ گیا عبیرہ نے بھی مسکراتے ہوۓ ہاتھ ملا دیا۔۔۔
ٹھینگ گاڈ آپ کو یاد آ گیا ورنہ بہت ٹائم یاد کروانے میں ویسٹ ہو جاتا۔۔چلو اب سے تم میری دوست وہ اسی کے ساتھ بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔۔
عبیرہ کو حیرانگی ہوئی اتنی جلدی وہ دوست بھی بن گئی۔۔
ویسے مجھے تو یقین نہیں ہو رہا تم شادی شدہ ہو۔
ڈیڈ نے مجھے بہت کہا شادی کر لو شادی کر لو پر مجھے ابھی فل حال اس جحنجھٹ میں نہیں پڑنا۔۔ویسے میں تمہیں تم بول رہی ہوں تو کوئی ہرابلم تو نہیں۔ وہ سوالیہ انداز میں بولی۔۔۔
بالکل بھی نہیں تم مجھے تم بول سکتی ہو۔۔اور ویسے میں 23 کی ہوں۔ تو اتنی چھوٹی تو نا ہوئی۔۔
عبیرہ کو اس سے باتیں کرنے میں مزہ آ رہا تھا۔۔
ویسے شہریار بھائی بہت اچھے ہیں وہ دو تین دفع
ہمارے گھر آ چکے ہیں وہ بہت سویٹ ہیں۔۔۔ انفیکٹ میری ان سے کافی اچھی دوستی ہو گئی ہے۔۔۔وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔
عبیرہ کا دھیان سویٹ لفظ پر اٹک گیا۔
سویٹ اگر اسنے شہریار کو غصے والی حالت میں دیکھا تو جو ابھی سویت سویٹ بول رہی سب بھول جاۓ گئی عبیرہ سوچتے ہوۓ دل مین مسکرائی۔۔۔
خیر چھوڑو۔چلو کچھ کھاتے ہیں۔ بہت بھوک لگی ہے ماہی اس کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولی۔۔
میں نے ناشتہ کیا تھا۔۔عبیرہ بولی۔۔
لیکن مین نے نہیں کیا اور دوست ہونے کے ناطے تمہیں میرے ساتھ جانا ہو گا۔ وہ عبیرہ کا ہاتھ پکڑ کر کینٹین لے گئی۔۔۔
سارا دن وہ عبیرہ کے ساتھ ہی رہی اور اسے اچھی خاصی کمپنی دی۔۔شہریار نے پرسنلی ماہین کو کال کر کے عبیرہ کے متعلق بتایا تھا۔ ماہین نے عبیرہ کو ایک پل کے لیے بھی بور نہیں ہونے دیا۔۔۔
پیپرز تو بن چکے ہیں بس ان پر کسی بھی طریقے سے سائن لینا ہے۔ وہ بھی اس طرح کہ شہریار اسے پڑھے بھی نا اور سائن کر دے۔۔۔نیلم پیپرز فاہد کو دیتے ہوۓ بولی۔۔
ہے ایک طریقے جس سے سانپ بھی مر جاۓ گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گئی۔۔
جیسے میں بہت اچھا طریقے سے ہتھیار بنا کر یوز کروں گا۔ وہ شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ بولا۔۔۔
تم بس بکواس کرتے رہنا یہ نا ہو ادھر ہم پلین بناتے رہین ادھر وہ عبیرہ کی بچی سارے گھر پر اور شہریار ہر قبضہ کر جاۓ۔ شمائلہ غصے سے بولی۔۔۔
تو خود بھی کچھ کرو سب میرے اوپر پھینکا ہوا ہے۔ اتنی ہمت ہے تو خود کیوں نہیں ان دونوں کا رشتہ خراب کرتی۔۔فاہد بھی جواباً غصے سے بھرپور لہجے میں بولا۔۔
ہاں کر لوں گئی۔۔تم سے تو بہتر ہی پلین کر سکتی ہوں۔۔۔
بس کرو تم دونوں آپس میں لڑنے سے کچھ نہیں ہو گا۔جب ہم تینوں کا مقصد ایک ہے تو یوں لڑنے سے کیا فائدہ ہم تینوں کو مل کر ایسا سولیڈ پلین بنا نا
پڑے گا جس سے سب جلدی جلدی ہو جاۓ۔۔نیلم سوچتے ہوۓ بولی۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے ابھی فل حال مین یہ پیپرز سائن کروانے کے لیے کچھ جُگاڑ لگاتا ہوں۔۔فاہد پیپرز لے کر اُٹھا اور بکیفے سے باہرنکل گیا۔۔۔
مجھے تو یہ بے کار لگتا ہے بس لمبی لمبی چھوڑ رہا ہے۔۔اس کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔۔شمائلہ نیلم سے بولی۔۔۔
تم میں صبر نہیں مجھے یقین ہے جلدی ہی ہم اپنے مقصد تک پینچے گے۔۔۔۔۔
شہریار تینوں کو لے کر شاپنگ مال آ گیا۔۔
شہریار بچے تھکے ہوۓ ہیں اوپر سے آپ شاپنگ کروانے لے آۓ۔۔وہ کار سے نکلتے ہوۓ بولی۔۔
نو ماما ہم بالکل نہیں تھکے اور مجھے تو بہت سارے ٹوائز لینے ہیں۔۔عمیر فوراً بولا۔۔
چلیں میڈم اندر چلتے ہیں۔شہریار انہیں لے کر مال کے اندر آ گیا۔۔۔
عبیرہ کبھی اتنے برے مال میں نہیں آئی تھی۔ ابھی بھی وہ تھوڑی کنفیوز ہو رہی تھی۔۔۔
شہریار نے اس کا جھجھکنا نوٹ کیا تو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور چلنے لگا۔۔۔
وہ انہیں لیے بچوں والی دکان میں آ گیا۔۔۔
عبیرہ ریلکیس ہو کر دونوں کے لیے کپڑے لے رہی تھی۔ اس نے بہت سارے کپڑے پیک کرواۓ۔۔
شہریار انہیں لیے لیڈیز شاپ میں آیا۔
شہریار میرے پاس پہلے ہی بہت کپڑے ہیں۔ابھی مجھے کچھ نہیں چاہیے اور ویسے بھی یہ بہت مہنگے ہیں۔۔۔۔عبیرہ ا سکے قریب آ کر بولی۔جو ریک میں لگے کرتوں کو دیکھ رہا تھا۔۔
تم کیسی بیوی ہو باقیوں کی بیویاں شوہروں کا سارا وائلٹ خالی کر دیتی ہیں اور ایک تم ہو اپنے ہی کپڑے لینے پر شرما رہی ہو۔۔۔شہریار نے اسے ڈانٹا۔۔
تو ٹھیک ہے اب مت کہیے گا کتنا بل بنوادیا ہے۔۔عبیرہ غصے سے کہتی پلٹی اور کپڑے لینے لگی۔۔۔
شہریار مسکرا کر پکٹا اور عمیر کو لیے باہر آ گیا۔۔نور وہی عبیرہ کے پاس تھی۔۔۔دونوں کپڑے پسند کر رہیں تھیں۔۔۔
شہریار عمیر کو لیے ٹوائیز کی دکان پر آیا اور عمیر کو بہت سارے ٹوائیز لے کر دینے لگا۔۔۔
وہ دونوں کھولنے لے رہے تھے۔۔تبھی شہریار کو اپنے قریب سے آواز آئی۔۔
ارے واہ آج تو مجھے میرے بچ سے خدا نے ملوا ہی دیا۔۔۔شہریار کو اپنے پیچھے سے نیلم کی آواز سنائی دی جو عمیر کی طرف دیکھ کر بولی۔اور اسے اُٹھانے کے لیے آگے بڑھی۔۔۔
خبردار جو میرے بچے کے قریب بھی آئی۔اپنی حد میں رہو۔۔۔شہریار سخت لہجے میں بولا۔۔اور عمیر کو گود مین اُٹھالیا۔۔
تم ایسا نہین کر سکتے یہ میرے بھی بچے ہیں ور ان سے ملنے کا پورا پورا حق ہے۔۔ وہ دوبارہ عمیر کو ہاتھ لگانے لگی۔۔۔
میں نے کہا نا خبردار جو قریب آئی۔۔او رکس حق کی بات کر رہی ہو۔۔یاد کرو۔۔اپنی خواہشات کے لیے تم بچوں کی کسٹڈی مجھے دے چکی ہو۔کیا ہوا اب خواہشات پوری ہو گئیں جو بچوں کی یاد آ گئی۔شہریار طنزیہ انداز میں بولا۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
