Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

عبیرہ نجمہ بیگم کو لے کر ہسپتال آئی۔۔فری بھی ساتھ ہی تھی۔۔ ڈاکٹر سے پہلے ہی اپائٹیمنٹ لے لی تھی۔۔اس وقت نجمہ بیگم کے سارے ٹیسٹ ہو رہے تھے۔نرس انہیں لیے ایک کمرے میں گئی تھی۔فری اور عبیرہ ایک بینچ پر بیٹھی ہوئیں تھیں۔۔۔

یار بھوک بہت لگی ہوئی ہے۔تو ایسا کر یہی بیٹھ میں کچھ کھانے کے لیے لے آئی ہوں۔۔فری اُٹھتے ہوۓ بولی۔۔۔

عبیرہ نے صرف ہاں میں سر ہلایا۔وہ نجمہ بیگم کی وجہ سے پریشان تھی۔۔۔

فری جلدی سے باہر کی طرف بڑھی۔۔۔
ابھی عبیرہ کو بیٹھے پانچ منٹ ہی ہوۓ تھے تبھی اسے اپنے عقب سے آواز آئی۔

ہاۓ ڈارلنگ کیسی ہے میری جان عبیرہ نے مڑ کر دیکھا تو اسے اپنے بالکل پاس فاہد بیٹھا ہوا دیکھئی دیا۔۔

تم تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔وہ ایک دم اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔

ارے سوئیٹی میں تم سے ملنے آیا ہوں۔ کیا یار ایک بار میں نے نا کیا کر دی تم نے تو جھٹ سے اتنے امیر آدمی سے شادی کر لی۔۔ وہ ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔اور اس کے مقابل کھڑا ہو گیا۔۔۔

تم دفع ہو جاؤ۔مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔ عبیرہ اس سے دور ہوتے ہوۓ بولی۔۔۔

ارے روکو میری جان اتنی جلدی تو میں تمہارا پیچھا چھوڑنے والا نہیں۔۔فاہد سے جھٹ سے عبیرہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔وہ اندر تک کانپ گئی۔۔اور اہنے ہاتھ کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔

لو چھوڑ دیا فاہد نے ہاتھ چھوڑتے ہوۓ کہا۔۔عبیرہ نے جلدی سے اپنے دونوں ہاتھ چادر کے اندر کر لیے۔۔۔

فاہد میں تمہیں آخری دفع بول رہی ہوں میرا پیچھا چھوڑ دو۔۔ورنہ میں شہریار کو سب بتا دوں گئی۔پھر وہ اپنے طور پر تم سے نپٹ لیں گے۔۔۔عبیرہ اسے وارنگ دیتے ہوۓ انداز میں بولی۔۔۔

ہاہا شہریار تمہارا شوہر جس نے آج تک تمہیں بیوی تک نہیں مانا۔وہ تمہارا یقین کرے گا۔۔مس عبیرہ اس خوش فہمی سے نکلو۔ اور یہ جان لو۔اگر تم نے میرا فون نا اُٹھایا یا آگے سے میرا نمبر بلاک کیا۔میری کسی بھی بات کو انکار کیا۔تو پھر میں خود جا کر
تمہارے شوہر کو سب بتا دوں گا۔۔اور ایسا بتاؤں گا
کہ اسی دن تم گھر سے بے دخل کر دی جاؤ گئی۔۔۔میرے پاس تمہارے سارے میسجیز ہیں۔۔ وہ سب دیکھا دوں گا۔۔۔وہ شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ بولا۔۔۔

عبیرہ کے پاؤں تلے سے زمین نکلی۔

وہ اسے طنزیہ نظروں سے دیکھتا واپس مڑ گیا۔۔۔عبیرہ ایک دم بینچ پر بیٹھی۔۔تبھی فری ہاتھ میں کچھ کھانے کے لیے لیتے ہوۓ ا سکے قریب آئی۔۔۔
لو کھا لو۔۔وہ اس کے قریب چیزین رکھتے ہوۓ بولی۔۔
کیا ہوا عبیرہ رو کیوں رہی ہو۔۔آنٹی تو ٹھیک ہیں۔۔فری ایک دن اس کے قریب نیچے بیٹھ کر بولی۔۔۔

فری فری فاہد فاہد آیا تھا یہاں۔۔۔۔۔۔عبیرہ نے بہ مشکل اپنے الفاظ پورے کیے۔۔۔۔

واٹ کیا بولا اسنے وہ فوراً بولی۔۔۔۔

عبیرہ نے سب بتا دیا۔۔۔جیسے ان کر فری بھی ڈر گئی۔۔

عبیرہ ا سکے بتانے سے پہلے تم بتا دو۔ شہریار بھائی ضرور سمجھے گیں۔۔فری اسے ساتھ لگاتے ہوۓ بولی۔۔۔

نہیں فری۔وہ کبھی بھی نہیں سمجھیں گے۔۔انہیں تو پیلے ہی مجھ پر یقین نہیں اس سے کے بعد تو وہ مجھے گھر سے ہی نکال دیں گے۔۔اگر میرے ماتھے پر طلاق کا دھبہ لگ گیا۔تو امی تو جی نہیں پائیں گئی۔۔وہ اپنا سر ہاتھوں پر گرا کر بولی۔۔۔

تبھی نرس ان کے قریب آئی۔۔۔مس عبیرہ آپ کی امی کے سارے ٹیسٹ ہو گے ہیں۔بس دو گھنٹے تک ساری ریپوٹس مل جائیں گئی تب آپ ڈاکٹر سے مل لیجیے گا۔۔نرس بول کر چلی گئی۔۔۔

عبیرہ پریشان سی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
دو گھنٹے بعد ریپورٹس مل گئی۔۔عبیرہ ڈاکٹر سے ملی۔ڈاکٹر کا کہنا تھا نجمہ بیگم کا دل بہت کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ اور ساتھ میں بی پی ہائی کا بھی مسلہ ہے۔۔وہ ٹیشن بہت زیادہ لے رہی ہیں۔ اگر انہوں نے اسی طرح ٹینشن لی تو معملا خطرناک ہو سکتا ہے۔۔۔عبیرہ ڈاکٹر سے مل کر دوائیاں لے کر وہ گھر آ گئیں۔۔۔
شام ہو گئی تھی۔فری اپنے گھر چلی گئی۔ عبیرہ پریشان سی کیچن میں کام کرنے لگی۔۔نجمہ بیگم تھکاوٹ کی وجہ سے آتے ہی سو گئیں۔۔۔
عبیرہ کھانا بنا کر فارغ ہوئی تو اپنے لیے چاۓ لیے وہ ٹیوی کے پاس پرے صوفے پر آ کر بیٹھ گئی۔اور آج کے واقع کو سوچنے لگی۔۔۔

تبھی فون کی گھنٹی بجی۔۔عبیرہ کا دل دھڑک اُٹھا۔۔۔
لیکن فون پر گھر کا نمبر دیکھ کر اسے سکون ملا۔۔۔

عبیرہ نے فون اُٹھایا۔۔۔تو آگے سے نور کی آواز آئی۔۔۔

السلام علیکم ماما نور بولی۔
وعلیکم السلام میری جان عبیرہ خوشدلی سے بولی۔۔۔
ماما آپ نانو کے گھر چلی گئیں۔۔اور ہم سے مل کر بھی نہیں گئیں۔۔۔آپ کو پتہ ہے عمیر کو آج سکول سے واپس آتے ہوۓ اتنا تیز بخار ہو گیا ہے۔گھر میں کوئی بھی نہیں ہے میں نے بابا کو کال کی انہوں نے بولا وہ آ جائیں گے۔ پر عمیر بہت رو رہا ہے۔۔وہ روندھے ہوۓ انداز میں بولی۔۔۔عبیرہ کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا۔۔۔

نور بیٹاآپ فکر مت کرو۔ آپ کے بابا آتے ہی ہوں گے۔۔وہ ڈاکٹر کو لے کر آئیں گے۔ آپ عمیر کا خیال رکھو میں جلد ہی آ جاؤں گئی۔ عبیرہ بولی۔۔۔

ماما جلدی آ جاؤ۔ہمیں آپ کی بہت یاد آ رہی ہے۔۔نور روتے ہوۓ بولی۔۔۔

نور میری جان آپ رونا بند کرو میں جلدی آ جاؤں گئی۔۔عبیرہ بول رہی تھی جب نور کی آواز آئی۔۔

بابا آگے وہ فون کو رکھ چکی تھی۔۔۔

عبیرہ عمیر کے لیے پریشان ہو گئی۔۔وہ شہریار کے نمبر پر کال کرنے لگی لیکن نمبر بند آ رہا تھا۔۔۔


شہریار ڈاکٹر کو لے کر عمیر کے کمرے میں آیا۔۔ڈاکٹر نے اسے چیک کیا۔ اور کچھ دوائیاں دیے کر ڈاکٹر چلا گیا۔۔۔

شہریار نے عمیر کو کچھ کھلایا اور دوائی دی۔۔۔عمیر اس کی گود میں سر رکھے سو رہا تھا۔۔۔

نور پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے عمیر کا سر دبا رہی تھی۔۔

میری گڑیا رو کیوں رہی ہے۔۔۔شہریار نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ پوچھا۔۔

بابا عمیر کو کچھ ہو گا تو نہیں۔ دیکھیں اسے کتنا بخار ہے نور اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔۔

بابا ماما کب آئیں گئی۔۔نور بولی۔۔

میری گڑیا وہ ٹھیک ہے بس دوائی لے کر سویا ہے آپ بھی سو جاؤ کل سکول جانا ہے اور اپ کی ماما جلد ہی آ جائیں گئی۔۔۔ شہریار نے عمیر کو بستر پر لیٹایا۔اور خود چینج کر کے دونوں کے ساتھ لیٹ گیا۔۔۔دونوں کے سونے کے بعد وہ اُٹھا اور لیپ ٹاپ پر کام کرنے لگا۔۔۔


اگلی صبح عبیرہ جلدی اُٹھ گئی۔ وہ ناشتہ لے کر نجمہ بیگم کے کمرے میں آئی۔

اور ان کے ساتھ مل کر ناشتہ کرنے لگی۔۔۔

امی میں آج واپس جا رہی ہوں۔ عمیر کو بہت بخار ہے۔اور مجھے پتہ ہے شہریار سے وہ سھنمبل نہیں پاۓ گا۔ مجھے جانا پڑے گا۔۔عبیرہ چاۓ پیتے ہوۓ بولی۔۔۔

چلی جانا۔۔مجھے بہت خوشی ہے تم اپنے گھر خوش ہو۔۔ نجمہ بیگم مسکراتے ہوۓ بولیں۔۔۔

اس سے پہلے آپ وعدہ کریں کسی قسم کی ٹینشن نہیں لے گئی۔۔میں نے میڈ کا انتظام کر دیا ہے۔۔اور آنٹی بھی زیادہ وقت آپ کے ساتھ رہیں گئی۔۔آپ کوئی کام نہیں کریں گئی۔صرف آرام کریں گی۔۔۔اور کسی قسم کی ٹیشن نہیں لیں گی۔۔عبیرہ ان کی طرف دیکھ کر بولی۔۔

میں پہلے کب کوئی ٹینشن لیتی ہوں نجمہ بیگم نظریں چُراتے ہوۓ بولیں۔۔۔

ادھر دیکھیں۔۔ایک تو آپ ماں باپ نا اپنے بچوں ک نادان سمجھتے ہیں۔۔آپ کو لگتا ہے مجھ سے جھوٹ بولنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔۔۔امی آپ جس کی ٹینشن لے رہی ہیں۔اسے اگر آپ کی یا میری زرا برابر بھی فکر ہوتی تو آج وہ شہر میں نہیں بالکہ آپ کے ساتھ یہی ہوتا۔۔عبیرہ تلخیہ انداز مین بولی۔۔

جانتی ہوں۔لیکن وہ ہے تو میرا بیٹا نا میں اسے کیسے بھول سکتی ہوں۔۔اسے اپنی ماں یار نا ہو تو کیا میں بھی بھول جاؤں۔۔نجمہ بیگم رنجیدہ انداز میں بولیں۔۔

امی بھائی کو جب ہماری یاد آۓ گئی وہ خود آ جائیں گے۔آپ پلیز ان کی ٹینشن نا لیں۔۔ اس سے آپ کہ ہیلتھ پر اثر پڑے گا۔ جو مین برداشت نہیں کر سکتی۔امی میرے پاس ابو نہیں ہیں۔ میرے پاس صرف آپ ہیں۔ اور پلیز آپ اپنا خیال رکھیں ورنہ اللہ قسم میں یہی رہ جاؤں گئی واپس نہیں جاؤں گئی۔۔عبیرہ منہ بناتے ہوۓ بولی۔۔۔

پگلی تو جانے کی تیار کر میں وعدہ کرتی ہوں بالکل ٹینشن نہی لوں گئی۔۔خوش رہوں گی۔۔نجمہ بیگم اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ بولیں۔۔۔
چلیں پھر میرے ساتھ باہر بیٹھیں۔باتیں کرتے ہیں۔ گیارہ بجے تک ڈرائیور آ جاۓ گا۔ پھر مجھے نکلنا پڑے گا۔۔عبیرہ انہیں اپنے ساتھ لے کر باہر ا گئی۔۔۔دونوں ماں بیٹی نے کافی وقت ساتھ بتایا۔اور خوب باتیں کیں۔۔دس بجے تک ایک میڈ بھی ا گئی۔جو نجمہ بیگم کے ساتھ ہی رہنے والی تھی عبیرہ نے اسے سب سمجھا دیا۔۔۔
گیارہ نجے کے قریب ڈرائیور آ گیا۔۔

امی ڈرائیور آ گیا ہے مجھے جانا ہو گا۔۔۔ عبیرہ بیگ باہر لاتے ہوۓ بولی۔۔۔

نجمہ بیگم نے اسے سینے سے لگا لیا۔وہ چادر لے کر باہر آئی تو فری اور رخشندہ خالہ بھی آ گئیں۔۔عبیرہ تینوں سے ملی۔۔

فری اور رخشندہ خالہ آپ دونون پلیز امی کا خیال رکھیے گا۔۔اگر عمیر کی طبعیت خراب نا ہوتی تو میں کچھ دن اور رکتی۔پر اب مجھے جانا پڑے گا۔۔عبیرہ ان سے ملتے ہوۓ بولی۔۔

تم اپنا خیال رکھنا اور کسی قسم کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں۔ فری نے اسے سمجھایا۔۔جو عبیرہ کو سمجھ آ گیاوہ فاہد کی بات کر رہی تھی۔۔۔

عبیرہ ان سے مل کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔ڈراییور نے گاری چلا دی۔۔عبیرہ شیشہ نیچے کیے ہاتھ باہر نکال کر باۓ کرنے لگی۔۔۔جب سب ا سکی نظروں سے اُجھل ہوۓ تو وہ اپنا چہرہ اندر کر گئی۔اور اپنی آنکھوں میں آۓ آنسوں صاف کیے۔۔۔۔


آج نور اکیلی سکول گئی تھی۔ عمیر کا بخار کچھ کم ہوا۔ شہریار نے آفس جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔وہ عمیر کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر کیسے جا سکتا تھا۔۔۔

نور دو بجے کے قریب گھر آئی تو شہریار اسے عمیر کا خیال رکھنے کا کہ کر خود آفس آ گیا۔۔۔اسے عبیرہ کے آنے کا پتہ نہیں تھا۔۔وہ عمیر کو لے کر پریشان تھا اس چکر میں اس نے ڈرائیور کا مس ہونا بھی نوٹ نا کیا۔۔۔

نور عمیر کے کمرے میں آئی تو وہ سویا ہوا تھا۔ وہ خود باہر آ کر ٹیوی لگا کر بیٹھ گئی۔وہ کارٹون دیکھنے لگی۔۔۔

چار بجے کے قریب عبیرہ گھر پہنچی۔وہ گاڑی سے سامان نکال کر اندر آئی۔۔نور منہ بنا کر چینل چینج کر رہی تھی۔۔

نور عبیرہ نے اسے پکارہ۔

ماما ماما نور عبیرہ کی آواز سن کر بھاگتی ہوئی اس کے قریب آئی۔۔عبیرہ نے جھٹ سے اسے گلے سے لگا لیا۔۔اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔

اچھا ہوا آپ آ گئیں۔پتہ میں نے آپ کو کتنا مس کیا۔۔وہ عبیرہ کے گال پر کس کرتے ہوۓ بولی۔۔۔

میں نے بھی بہت مس کیا۔۔عمیر کہاں ہے اس کا بخار اترا۔۔عبیرہ نے پریشانی سے پوچھا۔

وہ کمرے میں سویا ہوا ہے۔نور بولی تبھی عمیر کے رونے کی آواز آئی۔عبیرہ اپنی چادر اتار کر صوفے پر رکھتے ہوۓ نور کو لیے ان دونون کے کمرے میں آ گیی۔جہاں عمیر بیڈ پر بیٹھا رو رہا تھا۔۔

عمیر میرے بچے عبیرہ نے اسے جلدی سے اُٹھایا۔ اس کا بخار کم تو تھا پر اس کو کمزوری بہت تھی۔۔عبیرہ اسے لیے باہر آئی۔۔اور اسے چپ کروانے لگی۔۔تھوڑی ہی دیر میں وہ چپ ہو گیا۔۔

آپ ہمیں چھوڑ کر چلین گئیں تھیں۔۔وہ منہ بنا کر ناراض لہجے میں بولا۔۔

ایم سوری اب سے نہیں جاؤن گی۔۔اگر گئی بھی تو اپنے یہ دو انمول بچوں کو لے کر جاؤں گئی۔۔عبیرہ دونوں کو ساتھ لگاتے ہوۓ بولی۔۔

ماما آپ ہمین لے جاتیں ویسے بھی مجھے گاؤں دیکھنے کا اتنا شوق ہے ۔نور بولی۔۔۔

اچھا جی لے جاؤں گی۔پہلے یہ بتاؤ آپ دونون گھر پر اکیلے ہو بابا کہاں ہے۔۔عبیرہ نے شہریار کے بارے میں پوچھا۔۔

وہ تو دوپہر میں آفس چلے گے۔۔ میں نے کچھ کھایا بھی نہیں۔۔نور منہ بسورتے ہوۓ بولی۔۔

چلو پھر تم دونوں ٹیوی دیکھو میں جلدی سے کچھ بنا لیتی ہوں۔۔عبیرہ ان دونوں کو صوفے پر بیٹھا کر کیچن میں آئی۔۔

وہان کی حالت دیکھ کر اسے غش آۓ۔۔سارا کیچن گندہ تھا۔۔اتنے سارے برتن پڑے ہوۓ تھے۔۔اس نے جب غور کیا تو گھر سارا اسے کافی گندہ لگا۔

اف اللہ دو دن میں گھر کو کبار خانہ بنا دیا۔۔عبیرہ اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولی۔۔

پہلے ان دونون کو کچھ کھانے کے لیے دیتی ہوں پھر صفائی شروع کروں گئی۔۔عبیرہ جلدی سے سوپ بنانے لگی۔۔۔سوپ بنا کر ان دونوں کو پلایا۔۔عمیر کو دوائی دے کر سلا دیا۔۔ار خود کیچن میں گھس گئی۔۔ایک گھنٹے کی محنت کے بعد سارا کیچن صاف کیا۔۔نور پاس بیٹھی باتیں سنا رہی تھی۔۔جیسے عبیرہ مسکراتے ہوۓ سن رہی تھی۔اور ساتھ میں جواب دے رہی تھی۔۔۔

اس کے بعد گھر کی تھوڑی بہت صفائی کی۔ اور اب نور اور وہ دونوں کیچن میں گھسیں کھانا بنا رہیں تھی۔

عبیرہ بریانی کے ساتھ کسٹڈ بنا رہی تھی۔ وہ ہنستے ہوۓ نور سے باتیں کر رہی تھی ساتھ میں بریانی کا مثالہ بنا رہی تھی۔۔رات کے آٹھ بج چکے تھے۔۔۔وہ دونوں آپس میں مگن تھیں۔۔۔

شہریار ایک ہاتھ میں آفس بیگ لیے اور دوسری ہاتھ میں کوٹ پکڑے گھر کے اندر داخل ہوا۔۔وہ ایک دم تھٹکا سامنے اسے گھر بہت صاف ستھرا نظر آیا۔۔تبھی اسے نور کی ہنسنے کی آواز آئی۔۔وہ چلتا ہوا کیچن میں آیا۔ وہاں پر کھڑے وجود کو دیکھ کر اسے کافی حیرانگی ہوئی۔۔اور حیرانگی کے ساتھ ساتھ اس کو ایک سکون سا محسوس ہوا۔۔۔

عبیرہ ہنستے ہوۓ پلٹی۔ نور کسی بات پر کھلکھلا رہی تھی۔ وہ جیسے ہی پلٹی سامنے دروازے میں کھڑے شہریار کو دیکھ کر وہ چپ ہو گئی۔۔۔

شہریار کو اسے دیکھ کر اپنے اندر سکون اترتا ہوا محسوس ہوا۔وہ اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔عبیرہ کنفیوز سی واپس پلٹی۔۔۔
۔۔تم کب آئی۔۔وہ اپنے آپ کو سھنبمالتے ہوۓ بولا۔۔

چار بجے کے قریب آئی تھی۔۔میں نے صبح ہی ڈرائیور کو بلا لیا تھا۔۔

تم مجھے بلا لیتی میں خود لینے آ جاتا۔۔ شہریار بے خود ہو کر بولا۔۔

مجھے لگا آپ مصروف ہوں گے۔۔خیر مصروف تو اب بھی ہیں گھر میں عمیر کی طبعیت اتنی خراب تھی۔اور آپ دونوں معصوم بچوں کو گھر مین چھوڑ کر خود آفس چلے گے۔۔اور دوسری بات آپ نے انہیں دو دن کیا کھلایا ہے میں نے سب دیکھ لیا۔۔مجھے سواۓ پیزے اور برگر کے ریپر کے اور کچھ نظر نہیں آیا۔۔اسی وجہا ے میرا بچہ بیمار ہو گیا۔۔ عبیرہ غصے سے بولی۔۔

شہریار حیران سا اس کا لہجہ نوٹ کر رہا تھا۔۔

اگر اتنی فکر تھی تو اپنے بچوں کو ساتھ لے کر جاتی۔ خود تو مل کر بھی نہیں گئی تھی۔۔شہریار بھی اسی ٹون میں بولا۔۔۔

مجھے لگا آپ لے کر جانے نہیں دیں گے اسی لیے نہیں کر گئی ورنہ کبھی چھوڑ کر نا جاتی۔ عبیرہ بھی آگے سے بولی۔۔

شہریار کو ا سکی باتیں بری نہیں لگ رہیں تھی باکہ وہ اس کا یوں بیویوں والا انداز دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔۔۔اسے اس کا یہ روپ اچھا لگا۔۔

اب آپ کھڑے کھڑے وقت ضائع مت کریں اور جا کر فریش ہو جائیں بس آدھے گھنٹے میں کھانا بن جاۓ گا عبیرہ چیمچ کو ہلاتے ہوۓ بولی۔۔۔

شہریار اگنور کرتا کمرے میں آ گیا۔۔۔

اس کے جانے کے بعد عبیرہ نے اپنے آپ کو سھنمبالا۔۔
کہی ان کو برا نا لگ گیا ہو۔۔اگر لگ بھی جاۓ تو کیا میں کوئی ڈرتی ہوں۔اور ایک بھی بات غلط نہیں بولی۔۔ وہ۔ خود سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔

نو بجے کے قریب سب نے مل کر کھانا کھایا۔۔۔عمیر اب کافی فریش لگ رہا تھا۔۔۔

عبیرہ دونوں کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھیلا رہی تھی۔۔شہریار ان تینوں کو دیکھ کر مسکرا دیا۔۔اب اسے یہ فیملی پرفیکٹ لگ رہی تھی۔دو دن سے جو چیز اسے ادھوری لگ رہی تھی۔۔وہ عبیرہ کا اس گھر میں نا ہونا تھا۔۔تبھی اسے فرحان صاحب کی بات یاد آئی۔۔

شہریا ر بیٹا گھر میں عورت کا وجود ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔۔۔ورنہ گھر سُونا سُونا لگتا ہے۔اور آج شہریار کو یہ بات سمجھ آگئی تھی۔۔۔

عبیرہ نے اس کی طرف دیکھا تو اسے یوں مسکراتے ہوۓ دیکھ کر اس نے نظریں نیچیں کر لیں۔۔آج اسے بھی شہریار میں بہت بدلاؤ نظر آیا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔