No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
شہریار شہریار فرحان صاحب اسے پکارتے ہوۓ اس کے کمرے میں آ گے۔وہ کافی غصے میں لگ رہے تھے۔
جی پاپا کیا ہوا؟ وہ صوفے پر بیٹھا کام کرنے میں مصروف تھا۔ نور اور عمیر کو اس نے بیڈ پر سُلا دیا تھا۔
کیا ہوا کے بچے عبیرہ پر تم نے ہاتھ کیسے اُٹھایا؟ وہ غصے سے بولے۔۔۔
کیوں آپ کو اس نے یہ نہیں بتایا کہ وجہ کیا تھی۔ وہ صوفے سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔
مجھے اس نے کچھ نہیں بتایا۔وہ بچاری تو اتنی ذلت کے بعد بھی نیچے کھانا بنانے میں مصروف ہے تمہاری اطلاع کے لیے بتا دوں مجھے یہ سب زہرہ بھابھی نے کال پر بتایا ہے۔ وہ بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوۓ بولے۔۔۔
میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔اگر میرے سامنے میرے بچوں کو کوئی مارے گا۔ تو میں اس کا وہی حشر کروں گا۔
اور اگر میری بچی کے ساتھ کوئی ایسا کرے گا
تو میں اس کا بھر وہ حشر کروں گا جو تم سوچ بھی نہین سکتے۔وہ لاوارث نہیں ہے۔خبردار جو تم نے کبھی دوبارہ اس پر ہاتھ اُٹھایا۔ فرحان صاحب وارنگ دیتے ہوۓ بولے۔ شہریار حیران سا ان کو دیکھ رہا تھا۔۔
آپ کا کیا مطلب ہے میں نے اسے جان بوجھ کر مارا ہے۔اپنی آنکھوں سے میں نے اسے بچوں کو مارتے ہوۓ دیکھا۔شہریار بھی غصے میں آگیا۔۔
مجھے عبیرہ پر پورا بھروسہ ہے۔وہ بچوں پر ہاتھ اُٹھا ہی نہیں سکتی۔ اور دوسری بات اگر اس نے ایسا کیا ہے۔ تب بھی کوئی وجہ ہو گئی۔ پر افسوس تو اس بات کا ہے۔میں نے تمہیں بیوی پر ہاتھ اُٹھانا تو نہیں سیکھایا تھا۔پتہ نہیں یہ سبق کہاں سے سیکھ آۓ ہو۔ فرحان صاحب کہتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گے۔
تم بہت پھنچی ہوئی چیز ہو۔ مس عبیرہ ۔۔میرا پاپا کو بری آسانی سے اپنی طرف کر لیا۔لیکن میں نے بھی کوئی کچی گوٹیاں نہیں کھلیں۔ تمہیں بہت اچھے سے جواب دو گا۔۔۔۔
عبیرہ کیچن میں کھانا بنا رہی تھی۔اس نے کھانا ٹیبل پر لگایا۔ تبھی فرحان صاحب شہریار کے کمرے سے باہر نکلتے ہوۓ دیکھائی دیے۔۔۔
ماموں میں نے کھانا لگا دیا ہے۔آپ بیٹھیں میں شہریار اور بچون کو بلا کر لاتی ہوں۔وہ ٹیبل پر پانی رکھتے ہوۓ بولی۔اسے یہ تھا فرحان صاح اس واقع کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔۔
کوئی ضرورت نہیں اس نالائق کو بلا کر لانے کی۔
عمیر اور نور سو چکے ہیں۔چلو بیٹھو تم میرے ساتھ کھانا کھاؤ۔مجھے تم سے کچھ اہم بات کرنی ہے۔۔فرحان صاحب کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوۓ بولے۔وہ چپ کر کے بیٹھ گئی۔۔۔
آج جو کچھ بھی ہوا مجھے اس کا علم ہے۔فرحان صاحب پانی ڈالتے ہوۓ بولے۔۔۔
ماموں جان وہ بدتمیزی کر رہے تھے۔ عبیرہ آہستہ سے بولی۔۔۔
مجھے اندازہ ہے میں بھی ان دونوں کا بدلہ ہوا رویہ نوٹ کر رہا ہوں۔ تم نے جو کیا وہ بالکل ٹھیک ہے۔ پر جو شہریار نے کیا مین اس کے لیے بہت شرمندہ ہوں۔فرحان صاحب معزرت دانہ انداز میں بولے۔۔
ماموں جو عمیر اور نور نے بدتمیزی کی۔ وہ سب ان معصوموں کے دلوں میں ڈالی گئی تھی۔ورنہ وہ دونوں تو بہت سویٹ ہیں۔۔ میں انہیں مارنے والی نہیں تھی میں تو بس ڈرا رہی تھی۔۔پر شہریار نے غلط سمجھ لیا۔۔عبیرہ نیچے منہ کر کے بولی۔۔۔
اس گدھے کی تو بات ہی مت کرو۔ تم کہو تو میں
عمیر اور نور سے بات کروں۔
نہیں ماموں اپ ان سے کچھ مت بولیں۔مجھے اب ان کے بی ہیویر کی وجہ سمجھ آ گئی ہے۔
اور مین گرنٹی دیتی ہوں تھوڑے ہی دنوں میں وہ دونوں بالکل بدلے ہوۓ ہوں گے۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔
اور شہریار اس کا کیا کرنا ہے۔فرحان صاحب بولے۔۔
مجھے لگتا ہے تھوڑا سا ٹائم دینا پڑے گا۔ شائد وہ ابھی مجھے سمجھے نہیں۔ جب سمجھ جائیں گے۔تو سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ وہ جبران مسکرائی۔۔
فرحان صاحب نے کھانا کھایا۔وہ سارے دن کے تھکے ہوۓ تھے۔تو وہ سونے چلے گے۔ عبیرہ نے تھوڑا سا کھانا کھایا۔برتن سمیٹ کر وہ باہر گارڈن میں آگئی۔ اور واک کرنے لگی۔۔۔
شمائلہ جو تم نے ان معصوم بچوں کو میرے خیلاف بڑھکانے کی کوشش کی ہے۔اس کی سزا تو اب میں تمہیں دوں گی۔ وہ گھاس پر ننگے پاؤں چل رہی تھی۔۔وہ کافی دیر وہی اکیلی واک کرتی رہی۔ جب بارہ بج گے۔تو وہ کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔
جیسے ہی وہ اندر آئی۔سامنے بیڈ پر عمیر نور اور شہریار تینوں مزے سے سو رہے تھے۔۔ وہ آگے بڑھی عمیر اور نور پر کمبل ٹھیک کیا۔اور خود صوفے پر آ کر لیٹ گئی۔وہ آنکھیں کھولے اوپر چھت کو دیکھ رہی تھی۔اتنے سے دنوں مین کیا کچھ نہیں ہوا گیا تھا۔۔وہ ان سب کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
اس کے دماغ میں سے شہریار کی آج کی جانے والی باتیں نہیں جا رہیں تھیں۔ایک آنسوں چپکے سے اس کی آنکھ سے نکل کر بالوں میں جذب ہو گیا۔یہی سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی۔۔
ڈرامے باز شہریار جو اسے بیڈ سے دیکھ رہا تھا۔منہ میں بربرایا
عمیر نور اُٹھو بیٹا سکول جانا ہے۔وہ دونوں کے اوپر سے کمبل اتارتے ہوۓ بولی۔
سونے دیں مجھے نہیں جانا عمیرا منہ پر دوبارہ سے کمبل لیتے ہوۓ بولا۔
پانچ منٹ میں فریش ہو جاؤ میں ناشتہ بنانے لگی ہوں۔ وہ ان کے کپڑے صوفے پر رکھتے ہوۓ بولی۔ شہریار تو صبح اُٹھ کر جاگنگ پر چلا گیا تھا۔۔۔
وہ کیچن میں آئی۔ناشتہ بنا کر وہ دوبارہ سے ان دونوں کو اُٹھانے چلی گئی۔۔
دونون مزےسے کمبل مین سو رہے تھے۔
عمیر جلدی اُٹھو اس نے اسے زبردستی اُٹھا کر واش روم میں بھیجا۔
تبھی شہریار جوگینگ کر کے واپس آیا تھا۔ عبیرہ نے اسے فل اگنور کیا ہوا تھا۔
عمیر سکول کے یونی فام میں فل ریڈی ہو کر باہر نکلا۔
شہریار نہانے کے لیے واشروم میں چلا گیا۔۔
عبیرہ نے دونوں کو جلدی جلدی تیار کر کے نیچے لایا۔ اس نے ان سے تھوڑی تھوڑی باتیں کرنا چاہیں۔پر دونوں نے اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔۔
شہریار جیسے نہا کر کمرے مین آیا۔سامنے بیڈ پر اسے اپنے کپڑے واچ والٹ سب کچھ رکھا ہوا ملا۔ اس نے ساری چیزیں واپس کبڈ میں رکھیں۔اور کبڈ سے دوسرے کپڑے نکال کر پہنے۔تیار ہو کر نیچے آ گیا۔جہاں سارے ناشتہ کر رہے تھے۔۔
ناشتہ کر کے سب اپنے اپنے کاموں چلے گے۔ فرحان صاحب نے دوبارہ سے آفس جانا شروع کر دیا تھا۔۔۔
عبیرہ سب سے پہلے عمیراور نور کے کمرے میں گئی۔وہان اس نے کچھ سیٹنگ کی اس کے بعد وہ کیچن میں آ گئی۔۔
سر میں نے انٹرویوز لے کر نیا مینیجر رکھ لیا ہے۔
اس کی سیکٹری بولی۔۔
ہمم اچھا کیا۔۔ ابھی میری کتنے بجے میٹنگ ہے۔وہ لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔۔
سر آج آپ کی میٹنگ مسٹر ثاقب سے بارہ بجے ہے۔ یہ میٹنگ میں ایف اے ہوٹل میں رکھی ہویی ہے۔وہ سارا شیڈیول بتا رہی تھی۔۔
اوکے مجھے مسٹر ہمدان والے پروجیکٹ کی فائل لا کر دو۔
جی سر وہ کہتی ہوئی باہر چلی گئی۔۔
کچھ دیر بعد ایک لڑکا آفس کا دروازہ کھٹکٹا کر اندر آیا۔۔۔
سر یہ مسٹر ہمدان والے پروجیکٹ کی فائل ہے۔۔
اس نے فائل ٹیبل پر رکھتے ہوۓ کہا۔
ہمم تم یہاں نئے ہو۔اس نے ایک پل اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔
جی سر میرا نام فاہد ہے اور میں یہان مینیجر کی پوسٹ پر کل اپویینٹ ہوا تھا۔۔وہ بولا۔۔
ٹھیک ہے جاؤ شہریار بولا۔وہ چلا گیا۔۔
ہاۓ شہریار شمائلہ مسکراتے ہوۓ اندر آئی۔۔
تمہیں تمیز نہیں ہے یہ میرا آفس ہے۔اور میں یہاں کا بوس ہوں۔ یون منہ اُٹھا کر اندر کیوں آئی۔اسے شمائلہ کی یہ حرکت پسند نا آئی۔۔
کیا یار تم میرے کزن ہو اور کزن سے کون آجازت لے کر اندر آتا ہے۔وہ بے تقلف ہو کر کرسی پر بیٹھی۔۔۔۔
تمہیں شائد پتہ نہیں مین اپنے آفس کے رولز کے بارے میں کتنا سخت ہوں۔۔یہ میں تمہاری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں۔بولو کیوں آئی ہو۔وہ سخت لہجے میں بولا۔۔
تم بھی نا یوں ہی غصہ کرتے رہتے ہو۔ میں تو بس کہنے آئی تھی۔آج لنچ ساتھ کرتے ہیں۔ آئی نو تم نے بھی اس گوار کے ہاتھ کا ناشتہ نہیں کیا ہو گا۔آخر اس نے تمہارے بچوں پر ہاتھ اُٹھایا ہے۔۔وہ دوبارہ وہی باتیں کرنی لگی۔۔۔
شہریار لو ایک دم صبح کا ناشتہ یاد آ گیا۔۔جو بہت مزے کا بنا ہوا تھا۔۔اور وہ خوب بیٹ بھر کر کھا کر آیا تھا۔۔
وہ شمائلہ کو کچھ بولنے والا تھا تبھی اس کا موبائل بجا۔۔اس نے فوراً کال پیک کی۔۔۔
ہیلو جی مسٹر شہریار آپ سکول آ جائین آپ کے بچون کے متعلق کچھ اہم باتیں کرنی ہیں۔کال اُٹاھتے ہی آگے سے پرنسپل بولا۔
اوکے آتا ہو۔شہریار کہتا ہوا کرسی سے کھڑا ہو گیا۔۔
کیا ہوا کس کی کال تھی۔۔شمایلہ فوراً بولی۔۔
سکول سے کال تھی مجھے ابھی جانا ہو گا۔۔تم شہلا کو بول کر ساری میٹنگ کینسل کروا دو۔۔وہ کہتا ہوا آفس سے باہر نکلا۔۔۔
ایک گھنٹے میں وہ سکول پہنچا۔ وہ سیدھا پرنسپل آفس آیا۔۔۔
جی مسٹر شہریار بیٹھے پرنسپل نے اسے بیٹھنے کا کہا۔۔
ایک طرف عمیر اور نور منہ نیچے کیے کھڑے تھے۔۔۔
جی کیا ہوا آپ نے ایسے کیوں بلایا۔۔ شہریار بولا۔۔
دیکھے مسٹر شہریار آپ کے دونوں بچے آج کلاس میں ایک لڑکے سے جھگڑتے ہوے پاۓ گے۔ اور یہ آج کا کام نہیں ہر روز ہی یہ دونوں کسی نا کسی سے لڑتے ہوۓ پاۓ جاتے ہوۓ ہیں ہم نے بہت دفع وارنگ دی پر یہ دونوں پھر اگلے دن ویسے ہی ہو جاتے ہیں۔پرنسپل کافی غصے میں لگ رہا تھا۔
شہریار نے سخت نظروں سے نور اور عمیر کو دیکھا دونوں نے ڈر کے مارے نظریں نیچیں کر لیں۔۔۔
یہ دیکھیے ان دونون کی ہر مہینے کی ریپوٹ ہر بک میں dگڑیڈ فل نالائق بچوں میں شمار ہوتے ہیں۔جب کچھ پڑھاؤ تو آگے سے کچھ بولتے ہی نہیں۔ ہر وقت کوئی نا کوئی شرارت کرتے رہتے ہیں۔ساری کلاس کا ماحول خراب کر کے رکھا ہے۔۔ایک ٹیچر نے فائل شہریار کے آگے رکھی۔۔
دیکھیے آپ کے پاس صرف ایک لاسٹ چانس ہے اپ اپنے بچوں کو سدھاریں ان کو پڑھایا کریں۔ورنہ ہم ان دونوں کو سکول سے نکال دیں گے۔ پرنسپل نے صاف صاف لفظوں میں کہا۔۔
اوکے سر میں ان پر توجہ دوں گا آپ کو شکایت کاموقع نہیں ملے گا۔۔شہریار اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوۓ کرسی سے کھڑا ہو کر بولا۔۔
چلو بیگ لے کر آؤ۔شہریار نے دونوں کو کہا۔ویسے بھی چھٹی ہو چکی تھی۔وہ مل کر آفس سے باہر آگیا۔۔
عمیر اور نور منہ نیچے کر کے اس اپنے بیگ لے کر آ گے۔۔
شہریار نے دونوں کو گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی گھر کی روڈ پر ڈال دی۔ابھی وہ ان دونوں کو کچھ نہیں بول رہا تھا۔۔۔
اس نے گاڑی گھر کے اندر داخل کی۔ اور دونوں کو بازون سے پکڑ کر اندر آیا۔ فرحان صاحب آفس سے جلدی آ گے تھے اور ابھی وہ عبیرہ کے ساتھ بیٹھے چاۓ پی رہے تھے۔۔۔
شہریار دونوں کو کھینچتا ہوا ان دونوں کے پاس لایا۔ عبیرہ نے چونک کر ان کو دیکھا۔۔
کیا ہوا اتنے غصے میں کیوں ہو فرحان صاحب نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔
اپ کے ان دو ہونہاروں کی وجہ سے پتہ ہے آج پرنسپل نے سکول بلوایا تھا۔ ان دونون کے کانامے بتانے کے لیے۔یہ دیکھین فایل شہریار نے غصے سے فائل سامنے ٹیبل پر پھینکی۔۔عمیر اور نور دونوں ڈر کے مارے کانپنے لگے۔۔۔
عبیرہ نے فائل اُٹھائی اور دیکھنے لگی۔۔
اتنی شرمندگی مجھے آج تک نہیں ہوئی جتنی آج پرنسپل کے سامنے ہوئی۔ اس نے کہا آپ کے بچے انتہا کے بدتمیرز ہیں۔ ہر وقت لڑتے رہتے ہیں اور ایک نمبر کے نالائق ہیں۔شہریار غصے سے بولا۔۔
بتاؤ کیون نہین پڑتے اتنے اچھے سکول میں اڈمیشن کروایا ہے۔اور تم دونون انتہا کے نالائق ہو۔۔شہریار نے دونون کو اپنے سامنے کر کے ڈانٹنا شروع کیا۔۔۔دونوں نے رونا شروع کر دیا۔۔
کیا ہو گیا ہے چھوڑیں بچوں کو عبیرہ نے اُٹھ کر دونوں کے ہاتھ چھڑواۓ۔اور ایک طرف کیا۔۔۔
تم اس معملے میں مت آؤ۔ہٹو سائیڈ پر شہریار سجت لہجے مین بولا۔۔
کیوں نا آؤں میں اس معملے میں یہ میرے بچوں کا معملا ہے اور آپ کو کوئی حق نہین بنتا ان پر چلانے کا۔آپ بتائیں کس دن آپ ان کے سکول گے ان کی ریپوٹ لینے یا کس دن آپ نے ان دونوں کو بیٹھا کر پڑھایا۔جو آج یوں ڈانٹ رہے ہیں۔ عبیرہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
فرحان صاحب مسکرا دیے۔شہریار ایک پل کے لیے چپ ہو گیا۔۔
تم زیادہ بول رہی ہو حد میں رہو۔ وہ انگلی اُٹھا کر بولا۔۔
ڈرتی نہیں ہوں میں کر لین جو کرنا ہے پر بچوں پر چلانے کی آجازت میں آپ کو بالکل نہیں دوں گئی۔ وہ کہتے ہوۓ ان دونون کی طرف موڑی جو رو رہے تھے۔۔
شہریار نے فرحان صاحب کی طرف دیکھا جو مسکرا رہے تھے۔۔آج پہلی بار کسی نے شہریار کی بولتی بند کی تھی۔ وہ دانٹ پیستا ہوا لاونج سے باہر چلا گیا۔وہ گاڑی کی طرف آیا۔ وہ گاڑی کو لیے آفس کی طرف چلا گیا۔۔
سمجھتی کیا ہے خود کو بری آئی اب میں اس سے آجازت لوں گا اپنے بچوں ڈانٹنے کا۔۔وہ غصے میں گاڑی کی سپیڈتیز کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
تمہیں میں نے جس مقصد کے لیے یہاں رکھا ہے وہ جلد از جلد پورا کرو پھر مین تمہیں جتنا بولون گے اتنے پیسے دوں گئی۔ پر کام جلدی ہونا چاہیے۔۔وہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔۔۔
تم بس پیسے تیار رکھو بہت جلد میں یہ کام پورا کر دوں گا۔۔آگے سے آواز ابھری۔۔۔۔
مجھے یہ پراپرٹی کسی بھی حالت میں چاہیے۔۔۔۔
سمجھے اس کے بعد جو تمہیں چاہیے وہی تمہیں ملے گا۔۔۔۔اس نے بول کر کال بند کر دی۔۔
ارے چپ چپ عبیرہ ان دونوں کو کافی دیر سے چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی پر وہ دونون روۓ جا رہے تھے۔۔
ماموں میں ان کے کپڑے چینج کروا کر لاتی ہوں۔عبیرہ کہتی ہوئی ان دونوں کو لے کر کمرے میں آ گئی۔۔
ایک بات بتاؤں میں نے آج تم دونوں کے لیے میکرونی بنائی ہے۔وہ جانتی تھی یہ ڈیش ان دونوں کی فیورٹ ہے۔۔ آپ دونوں کپڑے چینج کرو مین میکرونی لے کر آتی ہوں۔عبیرہ کہتی ہوئی کیچن کی طرف چلی گئی۔۔
وہ جب واپس آئی۔ دونوں کپڑے چینج کیے بیڈ پر منہ بنا کر بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔
یہ رہی میکرونی چلو جلدی جلدی کھاتے ہیں۔عبیرہ مسکراتے ہوۓ ٹرے ان دونون کے پاس رکھتے ہوے بولی۔اور خود بھی ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔
سوری عمیر اور نور آہستہ سے بولے۔۔
شمائلہ آنٹی غلط بول رہی تھی آپ چڑیل نہیں ہو۔اور نا آپ گندی ہو ۔ آپ اچھی ہو آپ نے آج ہمیں پاپا کی ڈانٹ سے بچایا۔ہمارے لیے میکرونی بنائی۔ عمیر بولا۔۔
ہممم ویسے یہ کیسے پتہ چلا میں چڑیل نہین ہوں عبیرہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔
وہ میری ایک دوست نے بتایا چڑیلوں کے پاؤں ٹیرے ہوتے ہیں۔پر آپ کے تو سیدھے ہیں۔نور معصومیت سے بولی۔۔۔
ہاہاہاہا عبیرہ نے قہقہ لگایا۔۔
اچھا چلو اب ہم تینوں دوست بم جاتے ہیں۔ ہم بہت مستی کیا کریں گے۔۔کھلیں گے پڑھیں گے۔مزے مزے کی ڈیشش کھائیں گے۔۔ عبیرہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔
اوکے ڈن نور اور عمیر دونوں ایک ساتھ بولے۔۔۔
اچھا پر ایک وعدہ کرو آج کے بعد تم دونوں کسی سے بھی بدتمیزی نہیں کروں گے۔۔سب سے اچھے سے بات کرو گے۔عبیرہ دونوں کو گلے سے لگاتے ہوۓ بولی۔۔۔
اوکے نئی ماما نور اس کے گال پر بوسہ دیتے ہوۓ بولی۔۔عبیرہ کھل کر مسکرائی ۔۔۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا عمیر اور نور اتنی جلدی سمجھ جائیں گے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کل اس لیے نہیں دی کیونکہ میں دوائی لینے گئی تھی اب اس قسط پر مجھے اچھے لائیق اور کومینٹ چاہیں۔۔۔
