Shikast E Muhabbat By Fatima Tariq Readelle50123 Episode 9 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9 Part 2
سننا چاہتے ہیں تو سننے۔ آپ اگر کسی دوسری عورت کے ساتھ ڈانس نا کرتے تو اس لڑکے کی ہمت نا ہو تی مجھ سے بدتمیزی کرنے کی۔ عبیرہ غصے میں بولی۔۔۔
او ریلی تو تم چاہتی تھی میں تمہارے ساتھ ڈانس کرو۔۔تو بتا دیتی۔۔ شہریار طنزیہ ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔
بالکل بھی نہیں۔۔میں صرف یہ بول رہی ہوں۔اگر آپ کسی کے ساتھ ناچ سکتے ہیں تو آپ کو اتنا غصہ نہیں آنا چاہیے اگر کوئی مجھے اپنے ساتھ ڈانس کرنے کو بولیں۔کیونکہ جس کے ساتھ آپ ڈانس کر رہے تھے وہ بھی کسی کی بیوی تھی۔ عبیرہ بولی۔۔
اچھا تو تم یہ چاہتی ہو اگر میرے سامنے میری بیوی کو کوئی چھیڑے تو مجھے ہاتھ میں چوڑیاں پہن کر بیٹھ جانا چاہیے اب اب وہ میرے سامنے آ جاۓ تو اس سالے جا قتل کر دوں۔۔شہریار نے غصے سے اپنے ہاتھ کا مُکہ گاڑی کے سامنے والے شیشے پر دے مارا۔ شیشہ ایک طرف سے کریک ہوا اور شہریار کے ہاتھ پر لگ گیا۔۔خون نکل آیا۔۔
بس آپ یہی کر سکتے ہیں اور بیوی کیا آپ نے آج تک مجھے بیوی مانا ہے۔۔ارے بیوی تو چھوڑو آپ نے تو مجھے اپنی کزن ہونے کی حسیت تک نہیں دی۔
جس دن سے میری آپ کے ساتھ شادی ہوئی ہے۔اس دن سے آپ مجھے صرف اور صرف بےعزت کرتے آ رہے ہیں۔میں نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ اگر مجھے بچوں کے ساتھ پیار ہے تو اس کو بھی آپ غلط سمجھ کر مجھے انسلٹ کرتے رہے۔ عبیرہ کی آواز میں غم غصہ تھا اور شہریار شاک سا اسے سن رہا تھا۔ہر طرف خاموشی تھی بس عبیرہ کی آواز گونج رہی تھی۔۔
اور آج میں نے آپ کو بولا تھا نا کہ مجھے یہ لباس نہیں پہنا۔لیکن پھر بھی آپ نے زبردستی اپنا حکم مجھ پر لاگو کیا۔۔عبیرہ اپنی ساڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
اس میں غلط کیا ہے ۔میرے سرکل میں ہر لڑکی اس طرح کی ڈریسنگ کرتی ہے تو پھر تمہیں کیا مسلہ ہے۔۔۔شہریار اپنے ہاتھ کو جھتکتے ہوۓ بولا۔اس کے ہاتھ سے خون نکل کر زمین پر گڑ رہا تھا۔۔۔عبیرہ نے اس کے ہاتھ سے نظریں چُڑا کر اس کی طرف دیکھا جو اس کے جواب کا منتظر تھا۔
ٹھیک کہا آپ کے سرکل کی ہر لڑکی اس طرح کی ڈریسنگ کرتی ہے۔پر میں آپ کے سرکل کی لڑکی نہین ہوں شہریار میں اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے نمائش میں نہیں لا سکتی۔ عبیرہ نم لہجے میں بولی۔۔۔۔
آپ نہیں سمجھ سکتے۔ مجھ سے نہیں برداشت ہوتا آپ کا یہ روڈ بی ہیویر۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے میں آپ کے گھر پر پڑا کوئی شوپیس ہو جیسے آپ جس چاہے توڑ دیتے ہیں پھر واپس الفی لگا کر جوڑ لیتے ہیں شہریار اتنا مت توڑیں کہ کل کو وہ الفی سے بھی جُڑ نا پائیں۔۔عبیرہ روتے ہوۓ بولی۔۔بنا اس کی طرف دیکھے وہ گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی۔۔۔
شہریار حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا۔وہ پلٹ کر اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھا اور گاڑی چلا دی۔۔۔
عبیرہ شیشے سے باہر منہ کیے اپنی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوں کو روک نہیں پا رہی تھی۔۔وہ دھندلی آنکھوں سے باہر کا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
شہریار نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ باہر دیکھ رہی تھی۔۔شہریار کی نظر اس کے بازوں اور پچھلے برے گلے پر پڑی۔۔وہ ٹھیک سے سمجھ گیا عبیرہ کیا کہنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
یونہی گھر بھی آ گیا۔ عبیرہ بنا اس کی طرف دیکھے گھر کے دروازے سے اندر چلی گئی۔
شہریار باہر نکلا اور اندر کی طرف بڑھا۔۔وہ اپنے کمرے میں آیا اسے عبیرہ واشروم سے کپڑے تبدیل کر کے نکلتی ہوئی نظر آئی۔۔۔
عبیرہ کی نظر اس کے ہاتھ پر پڑی جہاں خون جم چلا تھا۔۔۔
شہریار اسے اگنور کیے اپنے کپڑے لے کر اندر چینج کرنے چلا گیا۔۔
وہ چینج کر کے کمرے میں آیا۔تو اسے کمرہ خالی ملا۔۔وہ بیڈ پر ا کر بیٹھ گیا۔۔اور اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگا۔۔۔
تبھی عبیرہ اپنے ہاتھ میں فسٹ ایڈ باکس لیے کمرے میں آئی۔۔۔اور اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے اس پر مرحم پٹی کرنے لگی شہریار نے بھی اسے نہیں روکا۔۔۔
آپ کا سب سے برا دشمن آپ کا غصہ ہے۔ آپ جب غصے میں ہوتے ہیں تب آپ یہ نہیں جانتے آپ کیا کر رہے ہیں۔
آپ کے ساتھ رہتے ہوۓ مجھے ایک بات ضرور پتہ چلی ہے۔۔عبیرہ پٹی کرتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔شہریار نے ایک پل اس کی طرف دیکھا۔۔
آپ اپنی زندگی کی ہر کمزوری کو اس غصے کے پیچھے دبانا چاہتے ہیں۔ آپ ابھی تک اپنے ماض
ی سے نکل نہیں پاۓ۔ آپ غصہ تو کرتے ہیں۔لیکن آپ کے اندر ایک ڈرا ہوا انسان رہتا ہے۔ عبیرہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔۔۔پٹی تو وہ مکلمل کر چکی تھی۔۔
وہ شہریار کو حیران چھوڑ کر کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔
شہریار کافی دیر ویسا ہی بیٹھا رہا اور اس کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔۔۔۔
وہ رات کافی دیر تک بالکنی میں بیٹھا سگرٹ پر سگڑٹ پیتا رہا۔ا سکی سوچ کا مرکز اس وقت صرف اور صرف عبیرہ کی ذات بنی ہوئی تھی۔وہ آج ہوئی باتوں کو سوچ رہا تھا۔۔۔
تھک ہار کر وہ اُٹھا اور اندر کمرے میں آیا۔تبھی اس کی نظر عبیرہ کے وجود پر پڑی جو سمٹی ہوئی صوفے پر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔
وہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا۔۔اور خاموشی سے بنا آواز کیے اس کے پاس زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔
تم نے سچ کہا۔۔میں اپنے غصے میں اپنی کمزوریوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہوں۔۔تم مجھے پہچان گئی۔میں ایک ڈرا ہوا بے بس انسان ہوں۔جیسے اس بات کا ڈر ہے۔اگر اس نے تمہارے لیے اپنے دل کے دروازے کھول دیے۔اور اگر تم اس کے دل پر تو تم بھی نیلم۔کی طرح میرے وجود میرے بھروسے میرے پیار کے ٹکڑے ٹکڑے نا کر دو۔۔
جسے اس بات کا ڈر یے۔ کہی تم بھی مجھے دھوکہ نا دے دو۔ میں تمہیں اپنے دل کی سلطنت پر حکمرانی کی آجازت نہیں دے سکتا۔۔شہریار اسے دیکھے ہوۓ آہستہ سی آواز میں بولا۔۔۔
اور وہی صوفے پر سر ٹکا کر بیٹھ گیا۔۔۔اور وہی اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔
عبیرہ کی آنکھ نماز کے وقت کھولی وہ جیسے ہی اُٹھنے لگی۔۔اسے پاس شہریار بیٹھا بیٹھا سویا نظر آیا۔۔۔
عبیرہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔
سوۓ ہوۓ بہت معصوم لگ رہے ہیں لیکن اصل میں بہت کھڑوس ہیں وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔
وہ اُٹھ کر بیٹھی۔شہریار اُٹھیں بیڈ پر چلے جائیں۔۔عبیرہ نے اسے کہا۔پر وہ ہلا تک نہیں۔۔۔۔
شہریار عبیرہ نے اس بار اسے کندھے سے ہلایا۔تو اسے 8_+*7@شہریار کا جسم بہت گرم لگا۔۔
عبیرہ نے جلدی سے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو اسے وہ حد سے زیادہ تپا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
یا اللہ انہیں اتنا بخار شہریار اُٹھیں بیڈ ہر چلیں۔۔عبیرہ نےاس پکڑ کر ہلایا۔شہریار نے اپنی آنکھیں کھولنے کی ناکام کوشش کی عبیرہ اسے بری مشکل سے بیڈ تک لائی۔۔۔
اب کیا کروں۔وہ پریشانی سے ادھر اُدھر چکر لگانے لگی۔
وہ بھاگتی ہوئی باہر آئی اور ٹیوی لاونج میں رکھے فون کے پاس پڑی ڈائری سے ڈاکٹر کا نمبر نکال کر ڈاکٹر کو فون کربے لگی۔۔۔
ڈاکٹرسے بات کرنے کے بعد وہ کیچن مین ائی اور ٹھندا پانی اور ساتھ میں کپڑا لے کر وہ جلدی جلدی کمرے میں آئی۔۔۔
شہریار نیم بے ہوشی میں کچھ بربرا رہا تھا۔۔
عبیرہ اس کے پاس بیٹھی اسے پانی کی پٹیاں کر رہی تھی۔۔۔
وہ سورت پر کر شہریار پر پھونک مار رہی تھی۔۔
وہ بہت زیادہ پریشان ہو گئی۔۔۔
ایک گھنٹے بعد جا کر اشہریار کا بخار تھوڑا سا کم ہوا۔لیکن اسے ہوش ابھی بھی نا ایا۔۔۔ عبیرہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ابھی تک ڈاکٹر بھی نہیں آیا تھا۔
اف اگر مجھے گاڑی چلانی آتی تو مین کب کی انہیں ہسپتال لے کر چلی جاتی۔۔عبیرہ پریشانی سے ماتھا مسلتے ہوۓ بولی۔۔۔
تبھی باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی۔۔
عبیرہ باہر آئی تو ڈاکٹر آتے ہوۓ دیکھائی دیے۔ ڈاکٹر حنان ان کے فیملی ڈاکٹر تھے۔۔عبیرہ انہیں لیے کمرے میں آئی۔۔۔
ڈاکٹر حنان نے شہریار کا چیک اپ کیا۔ انہوں نے شہریار کو بوتل لگائی۔۔
بیٹا میں نے چیک اپ کر لیا ہے بہت کمزوری ہو گئی تھی میں نے بوتل لگا دی ہے۔کچھ ہی دیر میں ہوش بھی ا جاۓ گا۔۔
تم شہریار کو کچھ کھلا کر یہ دوائی دے دینا۔۔تم نے بہت اچھا کیا جو ٹھنڈے پانی کی پٹیان کیں۔۔اب بخار بہت کم ہے۔۔پھر بھی اگر کوئی مسلے والی بات ہوتو مجھے فون کر دینا حنان صاحب اپنا باکس بند کر کے اُٹھ کھرے ہوۓ۔۔
عبیرہ انہیں گاڑی تک چھوڑ کر واپس کمرے میں آئی۔۔۔
عبیرہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
آپ یوں خاموش اچھے نہیں لگتے آپ صرف بولتے ہوۓ اچھے لگتے ہیں۔عبیرہ کو شہریار کی یہ حالت دیکھ کر رونا آ رہا تھا۔۔
مجھے آپ سے نفرت کرنے کے بہت موقعے ملے پر پتہ نہیں کیوں آپ میرے دل کے بہت اندر بس گے۔ آپ کے درد کو اب میں خود اپنے اندر محسوس کر سکتی ہوں۔۔عبیرہ اس کے سینے سے لگ گئی اور نم آنکھوں سے بولی۔۔۔۔
احساس ہونے پر وہ جلدی سے پڑے ہٹی شہریار کو اسی طرح لیٹے دیکھ کر وہ اُٹھی اور واشروم میں چلی گئی۔۔
شہریار نے اپنے آنکھیں کھول لیں۔۔جب وہ باہر گئی تھی۔تبھی اسے ہوش آ چکا تھا پر وہ جان بوجھ کر انکھیں بند کر گیا۔
وہ ماتھے پر بازو رکھے گہری سوچ میں مگن تھا۔۔
عبیرہ باہر نکلی تو شہریار کو جاگے ہوۓ دیکھا۔۔
شکر ہے اپ کو ہوش ا گیا۔۔میں کچھ لے کر آتی ہوں پھر آپ دوائی کھا لینا عبیرہ جلدی جلدی کہتی کمرے سے باہر چلی گئی۔شہریار گہری نظروں سے اسے تکے جا رہا تھا۔۔
شہریار کو دوائی کھلا کر وہ نیچے آ گئی۔۔۔گھر کے کام کرنے میں مصروف ہو گئی
ماما ماما عبیرہ کیچن میں شہریار کے لیے سوپ بنا رہی تھی کہ تبھی عمیر اور نور کی آوازیں آنے لگی۔۔۔
میرے بچے عبیرہ نے انہیں گلے سے لگا لیا۔ان کے ماتھے چومنے لگی۔۔۔
ماما ہمین پھوپھو کے گھر بہت مزہ آیا۔۔عمیر خوشی سے بولا۔۔۔
ماما آج بابا گھر ہیں مجھے ان کے ساتھ باسکٹ بال کھیلنی ہے۔انہوں نے وعدہ کیا تھا۔۔عمیر کہتا ہوا شہریار کے کمرے کی طرف بھاگا۔۔
میری بات سنو۔عمیر عبیرہ اسے روکتی رہی لیکن وہ بھاگ گیا۔۔۔
نور جاؤ عمیر کو روکو تمہارے بابا کو بخار ہے وہ سو رہے ہیں انہیں ڈسٹرب مت کرو۔ عبیرہ اسے جانے کے لیے بولی۔۔۔
میں ابھی جاتی ہوں نور سن کر کمرے کی طرف چلی گئی۔۔
عبیرہ باول میں سوپ ڈال کر اسے ٹرے مین رکھے خود بھی کمرے میں آئی۔۔۔
جب وہ اندر داخل ہوئی عمیر شہریار کی گود میں تھا وہ اُٹھ کر بیٹھ چکا تھا۔۔۔
عمیر ہٹو بابا کو سونے دو ان کو بخار ہے۔۔نور اسے پیچھے ہٹاتے ہوۓ بولی۔۔۔
بابا آپ لیٹ جاؤ میں آپ کا سر دباتی ہوں۔۔نور اسے لٹانے لگی۔۔
اُو ہو میری پرنسس اتنی بری ہو گئی۔ مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا شہریار نے اسے گود میں لے لیا۔۔
نور ہٹو مجھے بابا کی گود میں بیٹھنا ہے۔عمیر نے اسے ہٹانا چاہا ۔۔
میرا پرنس بھی میری گود میں آ جاۓ شہریار نے اسے بھی گود میں بیٹھا لیا۔اور ان دونوں سے بات کرنے لگا ۔۔
عبیرہ کو یہ منظر بہت خوبصورت لگا۔وہ مسکراتے ہوۓ آگے بڑھی۔۔
پر ابھی آپ تینوں یہ سوپ پیو۔۔۔ عبیرہ نے ان کو سوپ پکڑایا۔۔۔۔۔
نو ماما آئس کریم کھانی ہے۔نور منہ بنا کر بولی۔۔۔
نور میڈم کچھ طاقت والی بھی چیزیں کھا لو۔ ورنہ یہ ہاتھ ٹھیک نہیں ہو گا۔۔عبیرہ اسے خود سوپ پلانے لگی۔۔۔۔
شہریار سپاٹ چہرے سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔۔
جی خالہ کیا ہوا آپ نے یوں اچانک کیوں فون کیا عبیرہ رات کو موبائل پر آنے والی کال پر بات کر رہی تھی۔۔۔
بیٹا تم جب کی گئی ہو پلٹ کر دیکھا نہیں ایک دفعہ بھی نہیں۔ آگے سے جواب آیا۔۔
جی خالہ بس فرصت ہی نہیں ملی۔۔عبیرہ صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔۔
میں نے تو یہ بتانا تمہاری ماں اکیلی ہے وہ تمہیں بہت یاد کر رہی ہے۔اس سے ایک دفعہ مل جاؤ۔۔
کیا اکیلی یہ کیا بول رہی ہیں۔عبیرہ حیرانگی سے بولی۔۔۔
وہ سب یہی آ کر پوچھ لینا مجھے تو فون کرنے کے لیے بولا تھا۔۔تم کچھ دنون کے لیے آ جاؤ۔۔۔اگے سے خالہ بولی۔۔۔
ٹھیک ہے خالہ میں کل ہی آ جاؤں گئی۔۔عبیرہ نے کہ کر فون بند کر دیا۔۔
پھر اپنے گھر کے نمبر پر کال کرنے لگی پر کسی بے فون نہیں اُٹھایا۔۔
موہد اور اجالا۔کے نمبر پر بھی ٹرائی کیا پر دونوں کا نمبر بند تھا۔۔
جاری ہے۔۔۔
