Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

ایم سوری عبیرہ تمہیں آۓ ابھی ایک دن بھی نہیں ہوا اور میں واپس جا رہی ہوں۔پر مجبوری ہے جانا پڑے گا۔علینہ عبیرہ کے گلے ملتے ہوۓ بولی۔۔۔

کوئی بات نہیں آپ کو جب بھی موقع ملے آپ آ جانا۔ عبیرہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔

یہ عمیر اور نور کہاں ہیں۔شائد سو گے۔چلو کوئی بات نہیں۔ چلیں پاپا علینہ ہادی کو گود میں لیتے ہوۓ بولی۔۔۔

عبیرہ بیٹی میں علینہ کو چھوڑ کر آتا ہوں۔ تم تب تک بچوں کو دیکھ لو۔ فرحان صاحب کہ کر علینہ کے ساتھ باہر چلے گے۔۔۔

جی ماموں وہ کہتی ہوئی کیچن کی طرف گئی۔۔فرحان صاحب علینہ کو چھوڑنے چلے گے۔۔۔

عبیرہ کیچن میں آئی۔ دو گلاس ملک شیک کے رکھے اور عمیر اور نور کے کمرے کی طرف چلی آئی۔۔

السلام علیکم! کیسے ہو آپ دونوں کل میرا آپ سے تعارف نہیں ہوا تھا۔تو میں نے سوچا ذرا
آپ دونوں سے مل کر آؤں۔ وہ مسکراتے ہوۓ کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی۔اس نے گلس سائیڈ ٹیبل پر رکھے۔۔

وہ دونوں بیڈ پر بیٹھے ٹیبلٹ پر گیم کھیل رہے تھے۔انہوں نے کوئی جواب نا دیا۔

کیا ہوا مجھ سے بات کرو۔ عبیرہ بیڈ پر ان کے قریب بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔

اُٹھو ہمیں آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ آپ۔ گندی ہو۔ عمیر بیڈ سے نیچے اتر کر عبیرہ کو بیڈ سے اُٹھاتے ہوۓ بولا۔۔۔

یہ کیا بول رہے ہو۔وہ حیرانگی سے بولی۔۔

ہمیں کوئی بات نہیں کرنی۔آپ ہماری ماما نہیں ہو۔ آپ میرے بابا کو چھیننے آئی ہو۔۔نور ہو با ہو
شمائلہ کے لفظ بول رہی۔۔۔

نکلو دونوں نے اسے کمرے سے باہر نکلا اور دروازہ بند کر دیا۔۔عبیرہ حیران پریشان سی ان پچوں کے لفظوں پر غور کر رہی تھی۔۔۔۔

وہ دونوں اندر ہی بیٹھے رہے۔ عبیرہ ٹیوی لاونج میں اکیلی بیٹھی رہی۔جب بیٹھے بیٹھے وہ تھک گئی۔ تو اُٹھ کر اپنے کمرے میں آئی۔ اور کبڈ میں اپنے کپڑے سیٹ کرنے لگی۔۔۔

عبیرہ بی بی میں نے کھانا بنا دیا ہے۔ مجھے اب آجازت دیں۔ مجھے آج جلدی گھر جانا ہے۔فائزہ خالہ عبیرہ کے کمرے میں آ کر بولیں۔۔۔

آپ مجھے عبیرہ بولیں۔آپ مجھ سے اتنی بری ہیں۔یون بی بی کہنا اچھا نہیں لگتا۔آپ مجھے کافی پریشان دیکھ رہی ہیں۔سب ٹھیک تو ہے نا
عبیرہ کبڈ کا دروازہ بند کر کے ان کے قریب آ کر بولیں۔۔

وہ اصل میں مجھے اپنی بیٹی کو ہسپتال لے کر جانا ہے۔وہ ایک مہینے سے بیمار ہے اس کا بخار اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔۔وہ بہت پریشان دیکھ رہیں تھیں۔۔۔

آپ بالکل پریشان نا ہوں۔یہ کچھ پیسے رکھیں اور اس کا کسی اچھے ہسپتال سے علاج کروائیں۔اور کچھ دن گھر پر رہیں اپنی بیٹی کا دھیان رکھیں۔عبیرہ جلدی سے کچھ ہزار کے نوٹ نکال ہر فائزہ خالہ کے ہاتھ پر رکھ کر بولی۔۔۔

نہیں بیٹی میں یہ کیسے لے سکتی ہوں۔اور چھوٹی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تم ابھی کل ہی تو شادی کر کے آئی ہو۔ فائزہ خالہ پیسے واپس کرتے ہوۓ بولیں۔۔

خالہ آپ یہ رکھیں۔بچوں کی صحت سے بڑھ کر کچھ نہین ہوتا۔۔اور یہ گھر تو میرا ہی ہے نا تا آپ اس کی ٹینشن مت لیں میں سب سھنمبال لوں گئی۔۔عبیرہ مسکراتے ہوۓ انہیں دوبارہ پیسے دینے لگی۔۔

وہ اسے پیار دے کر چلی گئیں۔ عبیرہ واپس کبد مین کچھ ڈھونڈنے لگی۔۔۔

رات آٹھ بجے کے قریب فرحان صاحب اور شہریار دونوں اکھٹے ہی گھر آۓ۔

عبیرہ نے کھانا لگایا کھانے کے بعد وہ سب چاۓ پینے لاونچ میں بیٹھے۔۔۔۔

نور ادھر آؤ دیکھو میں آپ کے لیے کیا لے کر آیا ہو۔ فرحان صاحب نے چاکلیٹس کا ڈبہ آگے کرتے ہوۓ کہا۔۔

دادا جی ٹھینک یو سو مچ نور کھل کھلا کر ہنسی۔۔۔

مجھے پتہ تھا میری بیٹی اس سے خوش ہو جاۓ گی۔

چلو نور عمیر سو جاؤ صبح سکول بھی جانا ہے۔
شہریار موبائل چلاتے ہوۓ بولا۔۔۔

اوکے پاپا دونوں منہ بنا کر چلے گے۔۔۔

پاپا مجھے بہت کام ہے میں چلتا ہوں۔شہریار کہتا ہوا کمرے میں آ گیا۔۔

وہ سیدھا کبڈ کی طرف گیا۔جیسے ہی اس نے کھولا۔سامنے اسے ایک طرف اپنے اور دوسری طرف عبیرہ کے کپڑے ٹنگے ہوۓ دیکھائی دیے۔۔

واہ میرے کمرے ہر حق چتا رہی ہے ابھی بتاتا ہوں۔اس نے عبیرہ کے سارے کپڑے کبڈ سے باہر نکالے اور صوفے پر پھینک دیے۔
اور اپنا سوٹ پکڑ کر واشروم کی طرف چلا گیا۔۔۔

عبیرہ جب کمرے میں داخل ہوئی تو اپنے دو گھنٹے کی محنت کو اس طرح بے مول ہوتے دیکھ کر اسے بہت غصہ آیا۔۔

شہریار اپنا کام کر کے اب سکون سے سامنے بیڈ پر فائلز پھیلا کر بیٹھا ہوا تھا۔۔

وہ اپنے غصے کو بامشکل کنٹرول کرتی صوفے کی طرف بڑھی۔اور دوبارہ سے کپڑوں کو ہینگر
مین ڈالنے لگی۔اور دوبارہ سے کبڈ کا دروازہ کھول کر کپڑے اندر رکھنے لگی۔ شہریار غصے سے اپنا پین زمین پر مار کر اُٹھ کر اس۔ کے قریب آیا۔۔

مجھے نا تو اپنی زندگی میں اور نا ہی کبڈ میں فالتو چیزیں پسند ہیں۔۔وہ اس کے قریب ہو کر بولا۔اور دوبارہ سے اس کے کپڑے نکال کر صوفے پر پھینکے۔۔۔

عبیرہ کو اپنی اتنی انسلٹ پر رونا سا آ گیا۔ پر اس نے کنٹرول کر لیا۔۔

تو میں یہ سب کہاں رکھوں۔ وہ اس کی انکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوۓ بولی۔۔۔

اپنے سستے سے کپڑے جہاں چاہے مرضعی رکھو پر میری کبڈ میں یہ گند رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم خود بھی ان سستے کپڑوں جیسی ہو۔ پتہ نہیں پاپا نے کیا سوچ کر تم جیسی لڑکی کو میرے پلے باندھ دیا۔جیسے نا تو فیشن کی عقل ہے۔ اور نا بولنے کی۔۔عبیرہ کو اس کے لہجے میں اپنے لیے نفرت ہی محسوس ہوئی۔وہ واپس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔

عبیرہ کافی دیر چپ رہی۔۔

مجھے کبھی یہ نہیں سیکھایا گیا۔مہنگے کپڑے پہنو گی تو ہی خوبصورت دیکھو گئی۔ مجھے بس اتنا سیکھایا گیا خوبصورتی انسان کے اندر کی ہوتی ہے۔یہ مہنگے کپڑے اور میک اپ تو صرف آپ کی اندرونی اصلیت کو چھپانے میں کام آتے ہیں۔مجھے افسوس ہوا آپ کی سوچ پر۔۔
آپ یہ غلط فہمی نکال دیں کہ مجھے آپ کے پیسے میں ایک پرسنٹ بھی انٹرسٹ ہے۔۔۔
وہ دکھ بھرے لہجے میں کہتی اپنے کپڑے دوبارہ
بیگ میں رکھتے ہوۓ بولی۔۔

شہریار ایک پل کو چپ ہو گیا۔۔عبیرہ اس کے بعد کچھ نا بولی۔بس اپنا بیگ سائیڈ پر رکھ کر صوفے پر لیٹ گئ اور آنکھیں موند لیں۔

شہریار نے ایک پل اس کی طرف دیکھا۔وہ آنکھیں بند کیے سونے کی کوشش کر رہی تھی۔اس کی نظر سے وہ ایک آنسوں چھپا نا رہ سکا جو عبیرہ کی آنکھ سے بہا۔اس نے اپنا دھیان اس سے ہٹایا۔۔


ماما میں نے محسوس کیا ہے۔شہریار اس سے بالکل بھی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔صرف تایا جی کے
زور پر شادی کی ہو گئی۔شمائلہ فاخرہ بیگم کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔

تجھے بھی بولا تھا اس کے بچوں پر تھوڑی سی توجہ دے لے۔ فرحان بھائی کی نظر تم پر ٹھر جاتی۔۔پر نہین تمہیں تو اپنے اوٹ پٹنگے دوستوں کے ساتھ پارٹیاں کرنے سے ہی فرصت نہیں تو بھلا ان بچون کو خود سے اٹیچ کہاں کرتی۔
آج اگر تم شہریار کی بیوی ہوتی تو ساری زندگی ا سگھر پر راج کرتی۔فاخرہ بیگم اسے ڈانٹتے ہوۓ بولیں۔۔

تو ماما اب بھی میں یہ کر سکتی ہوں۔آپ بس دیکھتی جاؤ۔کیسے میں اس عبیرہ کا پتہ صاف کرتی ہوں اور اپنا ٹانکا فٹ کرتی ہوں۔انفیکٹ کل میں اپنی چال کی پہلی کیل ٹھوک بھی آئی ہوں۔۔وہ فجریہ انداز میں کل کی بات بتانے لگی۔۔

ارے واہ ویسے یہ بچے ہمارے بہت کام آ سکتے ہیں۔۔فاخرہ بیگم ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔۔

ہاں بس دیکھو آگے میں کیا کیا کرتی ہوں۔اس لڑکی کو بہت جلدی اس گھر سے باہر پھینک دوں گئی۔فل حال مجھے آفس جانا ہے۔تاکہ میں شہریار کے قریب رہ سکوں۔۔فاخرہ کہتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔

تیار ہو کر وہ آفس کے لیے نکلی۔ اس نے انٹرنشپ کا بہانا بنا کر شہریار کے آفس میں جگہ بنائی تھی۔


وہ ہمیشہ کی طرح صبح ٹائم سےاُٹھ گئی۔نماز ہڑھ کر وہ نیچے آئی۔ اور باہر لان میں واک کرنے لگی۔۔۔۔

شہریار تیار ہو کر جوگینگ کے لیے چلا گیا۔ عبیرہ
کیچن میں آئی۔ وہ سب کے لیے جلدی جلدی ناشتہ بنانے لگی۔
تب تک فرحان صاحب اُٹھ گے۔۔۔
عبیرہ بیٹی تم کیچن مین کیا کر رہی ہو۔فرحان صاحب نےاسے یوں صبح صبح کیچن میں دیکھا تو اندر آ کر بولے۔۔۔

مامون مین ناشتی بنا رہی ہوں وہ جوس کو گلاسوں مین ڈالتے ہوۓ بولی۔۔۔

فائزہ بی بی کہاں ہیں۔بیٹی ابھی تمہاری شادی کو دو دن نہین ہوۓ اور تم یوں کیچن میں گھسی ہوئی ہو۔چلو باہر فرحان صاحب نے اسے ڈانٹا۔۔

مامون ایک طرف آپ مجھے بیٹی کہتے ہیں اور دوسری طرف کام بھی نہیں کرنے دیتے۔یہ اب میرا اپنا گھر ہے اور اپنے گھر مین کام تو کرتے ہیں نا۔اور فائزہ خالہ کو مین نے کچھ دنون کی چھٹی دی ہے۔ان کی بیٹی کی طبعیت کچھ خراب تھی۔۔وہ جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ہوۓ بولی ۔۔

ٹھیک ہے۔چلو مین نور اور عمیر کو اُٹھا دیتا ہوں۔
فرحان صاحب اس کی مانتے باہر آ گے۔۔۔

شہریار تیار ہو کر نیچے آیا۔ نور اپنے بال کھولے خود برش کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔

بابا میرے بال بنا دو۔نور کھنگی لیتے ہوۓ شہریار کے پاس آئی۔۔وہ بہت مشکل سے اسے برش کرنے لگا۔۔پہلے یہ سب فائزہ خالہ کرتی تھین تو کسی کو محسوس نہیں ہوتا تھا۔۔

اہ بابا مجھے درد ہو رہا ہے۔نور روتے ہوے بولی۔۔

عبیرہ سارا ناشتہ ٹیبل پر لگا کر ان دونون کے پاس آئی۔۔

ادھر دیں مین کرتی ہوں۔۔عبیرہ نے شہریار کے ہاتھ سے برش لیا۔ اور نور کو برش کرنے لگی۔

اتنا مشکل کام ہے شہریار کہتا ہوا ٹیبل کی طرف بڑھا۔۔

واہ عبیرہ بیٹی پراٹھے بہت کمال کے بنے ہیں بالکل جیسے بچپن میں کھاتے تھے۔۔پتہ نجمہ ہمیشہ مجھے یہی والے پراٹھے بنا کر دیتی تھی۔۔فرحان صاحب ہنستے ہوۓ بولے۔۔

مجھے پتہ ہے ماموں اپ کو یہ والے پراٹھے بہت پسند ہیں۔مجھے امی اکثر بتایا کرتی تھیں۔اسی لیے میں نے بناۓ۔وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔

کیسے پاپا کو اپنی مٹھی مین کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ان سمال ٹاؤن کی لڑکیوں کی یہی کوشش ہوتی ہے۔ کھانا بنا کر سب کو اپنا دیوانا بنا لو ۔۔شہریار دل ہی دل میں کڑ رہا تھا۔۔۔

پاپا یاد ہے نا آج آپ کو آفس جانا پڑے گا۔ آپ ایک دفع کونٹریکت دیکھ لیں پھر ڈیل فائنل کر لین گے۔۔شہریار چاۓ پیتے ہوۓ بولا۔۔۔

ہاں یاد ہے اسی لیے تو تیار ہوا ہوں۔فرحان صاحب بہت شوق سے پراٹھے کھاتے ہوۓ بولے۔۔۔

وہ سب اکھٹے چلے گے۔گھر میں عبیرہ اکیلی رہ گئی۔۔

وہ ٹیوی لونج مین بیٹھی نجمہ بیگم سے بات کرنے لگی۔۔

ہاں امی میں یہاں بہت بہت خوش ہوں۔ یہاں سب بہت اچھے ہیں۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔

اور شہریار اس کا رویہ کیسا ہے۔۔ نجمی بیگم کی آواز مین واضع پریشانی تھی۔۔

وہ وہ تو بہت اچھے ہین پتہ کتنا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔عمیر اور نور بھی بہت پیارے ہیں۔۔
عبیرہ اپنے آنسوں کو بمشکل روکتے ہوۓ بولی۔۔۔

چلو اللہ کا شکر ہے۔تم اپنا خیال رکھو میں ابراہیم کو دیکھ لو۔نجمہ بیگم نے دعائیں دے کر فون بند کر دیا۔۔۔

اپنا دکھ اپنی مان سے چھپانا سب سے مشکل کام ہے۔پر ان کی صحت کے لیے مین ان سے شہریار کا رویہ۔ شیر نہیں کر سکتی۔ وہ اپنے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔۔

سارا دن وہ باولی باولی گھر مین پھرتی رہی ۔۔دو بجے کے قریب عمیر اور نور گھر واپس آۓ۔وہ آتے ہی بنا کچھ بولے کمرے میں بند ہو گے۔۔۔

عبیرہ نے ان سے بات کرنی چاہی پر ان کے رویے سے وہ چپ ہو گئی۔۔
اسے بچون جا اس طرح کرنے کی وجہ بالکل سمجھ نہیں رہی تھی۔۔۔

وہ کافی دیر تک ان کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگی۔ پر وہ دو گھنٹے سے کمرے میں بند تھے۔۔۔

عمیر نور دروازہ کھولو۔تم دونوں نے کچھ نہیں کھایا چلو کچھ کھا لو۔۔وہ ہاتھ میں جوس کے گلاس لیے دروازہ کھول کر اندر آئی۔۔

اپ کو سمجھ نہیں آتا ہمیں اپ سے بات نہیں کرنی چلو جاؤ یہاں سے عمیر اسے دھکہ دہتے ہوے بولا۔۔

عبیرہ لڑ کھڑائی اور جوس کے گلاس اس سے زمین پر گِڑ گے۔۔۔

عمیر تمیز سے بات کرو یہ کوئی طریقہ ہے بات کرنے کا۔عبیرہ تھوڑے غصے سے بولی۔۔

شمائلہ آپی سچ بول رہی تھیں آپ چڑیل ہو۔ آپ صرف ہمارے پاپا کو چھیننے آئی ہو نور غصے سے اسے دھکہ دیتے ہوۓ بولی۔۔۔

تم دونوں اتنے چھوٹے ہو کر اتنی بدتمیزی سے بات کر رہے ہو۔عبیرہ غصے سے بولی۔۔

شٹ اپ سچ میں تم ہماری سوتیلی ماں جو صرف ہمین ہمارے پاپا سے دور کرنے آئی ہے۔ نکلو یہاں سے ہمارے گھر سے نکلو نکلو عمیر اور نور دونوں اسے دھکہ دیتے ہوے بولی۔۔

بس بہت ہو گیا عبیرہ کب سے ان کی باتیں سن رہی تھی غصے مین اس سے ہاتھ اُٹھا جو ہوا مین ہی ٹھر گیا۔۔۔

نور اور عمیر رونے لگے۔۔۔

عبیرہ پیچھے سے کسی کی آواز آئی۔اس نے ایک دم مڑ کر دیکھا۔تو اس کی سانسین تھم گئیں۔۔داخلی دروازے میں شہریار اور شمائلہ کھڑے تھے۔جو ابھی ایک منٹ پہلے ہی آۓ تھے۔انہوں نے عبیرہ کا اُٹھا ہوا ہاتھ ہی دیکھا۔۔

شہریار غصے سے فائل پھینکتا ہوا اس کی طرف آیا۔۔
ٹھاہ تھپڑ کی آواز پورے حال میں گھونجی۔ شہریار نے اسے تھپڑ مارا تھا۔وہ اپیا بیلنس برقرار نا رکھ پائی اور زمین پر گڑ گئی۔۔زمین پر پڑے کانچ اس کے بازو میں چھب گے۔۔۔

تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرے بچوں پر ہاتھ اُٹھانے کی۔۔شہریار نے اسے زور سے بازو سے پکڑ کر اپبے سامنے کھڑا کیا۔۔

میں نے وہ کچھ بولنے ہی والی تھی۔۔

چپ خبردار آگر تم بے آج کے بعد میرے بچوں پر ہاتھ اُٹھایا۔۔شہریار نے اسے ایک طرف دکھیلا۔وہ عمیر اور نور کو اُٹھا کر اوپر اپنے کمرے کی طرف لے آیا۔۔۔

چچ چچ بہت افسوس ہوا ایک دن کی بیوی کو کتنی بےدردی سے مارا۔پر کیا کر سکتے ہیں۔تم جیسی گاؤن کی گوار یہی ڈیزو کرتی ہے۔۔شمائلہ طنزیہ انداز میں کہتی گھر سے باہر نکل گئی۔وہ جلد سے جلدیہ خبر فاخرہ کو سنانا چاہتی تھی۔۔

عبیرہ وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔اور رونے لگی۔۔
۔

جاری ہے۔۔

مجھے بہت بہت زیادہ خوشی ہوئی آپ سب نے میرے ناول کو اتنا زیادہ پیار دیا
اگلی قسط کل رات کو آۓ گئی۔۔😊😊😊