Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13 Part 1

میں نے کہا نا خبردار جو قریب آئی۔۔اور کس حق کی بات کر رہی ہو۔۔یاد کرو۔۔اپنی خواہشات کے لیے تم بچوں کی کسٹڈی مجھے دے چکی ہو۔کیا ہوا اب خواہشات پوری ہو گئیں جو بچوں کی یاد آ گئی۔شہریار طنزیہ انداز میں بولا۔۔

تم شائ بھول رہے ہو شہریار کسٹڈی میں لکھا ہے میں اپنے بچوں سے مہینے میں ایک بار مل سکتی ہوں آخر کو ماں ہوں۔ وہ کچھ یاد دیلاتے ہوۓ بولی۔۔۔

اگر اتنی ہی فکر ہوتی تو معصوم بچوں کو چھوڑ کر نا جاتی۔۔میں نہیں چاہتا یہاں بھرے بازار میں تماشا لگے۔ تو دفع ہو جاؤ۔۔ شہریار اپنی آواز کو بہ مشکل آہستہ کرتے ہوۓ غصے سے بولا۔۔۔عمیر پریشان سا سب دیکھ رہا تھا۔۔۔

مسٹر شہریار زیادہ اُڑو مت۔ میں اگر لینے پر آئی تو اپنے بچے عدالت کے ذریعے لے لوں گئی۔اور تم روک بھی نہیں پاؤ گے۔۔۔۔

تم کر لو جو کرنا ہے۔۔شہریار کہ کر عمیر کو لے کر دوسری شاپ کی طرف چلا گیا۔۔۔

اب تو چیلنج بن گیا ہے۔اب میں پراپرٹی اور بچے دونوں تم سے چھین لوں گئی۔ نیلم اپنے پاوچ سے موبائل نکال کر کسی کو فون ملاتی مال سے نکل گئی۔۔

شہریار عمیر کو لیے عبیرہ کے پاس آیا۔ عمیر کافی سہما ہوا تھا۔

ماما وہ جلدی سے عبیرہ کو پکارتا اس کی گود میں چلا گیا۔۔

کیا ہوا عمیر عبیرہ اسکا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوۓ
پوچھا۔وہ دوبارہ عبیرہ کے گلے لگ گیا۔۔

شہریار دونوں بچے بہت تھک چکے ہیں۔ ویسے بھی بہت شاپنگ ہو گئی۔ چلیں گھر چلتے ہیں۔عبیرہ عمیر کے بالوں کو سہلاتے ہوۓ بولی۔۔۔

پہلے کچھ کھا لیتے ہیں پھر گھر چلیں گے۔شہریار اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ بولا۔۔اور نور کو اُٹھا کر بل پے کر کے سارے شاپنگ بیگز گاڑی میں رکھے اور گاڑی کو ریسٹورینٹ کی طرف موڑ دیا۔۔۔

کھانا کھا کر وہ شام پانچ بجے تک گھر واپس آۓ۔۔
نور اور عمیر تو فریش ہو کر اپنی کتابیں لے کر بیٹھ گے۔۔۔ شہریار دوبارہ آفس چلا گیا ۔

نو بجے کے قریب شہریار گھر آیا۔۔ سب نے مل کر ڈنر کیا۔ عبیرہ نے نور اور عمیر کو سُلا دیا۔اور خود کیچن کے کام کرنے لگی۔۔۔

وہ کیچن کی کھڑکی سے باہر گارڈن میں دیکھ رہی تھی جہاں شہریار لوہے جے بنے جھولے پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ پریشان نظر آ رہا تھا۔۔۔

عبیرہ دو کپ کافی بنا کر گارڈن میں آ گئی۔

کافی اس نے کافی کا مگ شہریار کے آگے کیا۔۔۔

تمہیں پتہ چل جاتا ہے مجھے کب کیا چاہیے۔۔شہریار مسکرا کر کپ اس کے ہاتھوں سے لیتے ہوۓ بولا۔۔

بیوی ہوں پتہ کیوں نہیں چلے گا عبیرہ اس کے برابر میں بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔

ہاہا چلیں بیوی جی شکریہ وہ کافی کا مگ اوپر کرتے ہوۓ بولا۔ عبیرہ نے اسے بہت کم مسکراتے ہوۓ دیکھا تھا۔۔

آپ جب سے شاپنگ سے آۓ ہیں تب سے میں نوٹ کر رہی ہوں آپ کچھ پریشان ہیں۔ کیا بات ہے؟

ویسے اللہ نے بیوی کے اندر ایسا کون سا ٹریسر فٹ کیا ہوا ہے جس سے اسے شوہر کے دماغ میں کیا چل رہا ہے وہ پتہ چل جاتا ہے۔۔شہریار شرارتی انداز میں بولا۔۔۔

اب اس کا مجھے نہیں پتہ آپ کو بتانا ہے تو بتا دیں ورنہ رہنے دیں۔وہ سادہ انداز میں بولی۔۔۔

ہمممم آج شاپنگ مال میں نیلم ملی تھی۔۔وہ لمبا سانس لے کر بولا۔۔۔

عبیرہ نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔۔

اچھا کیا بولا عبیرہ نے پوچھا۔۔

کہتی ہے تم سے تمہارے بچے چھین لوں گئی۔ شہریار اوپر آسمان کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔

واٹ لیکن وہ تو خود چھوڑ کر گئی تھی نا تو ایسے کیسے وہ چھین سکتی ہے۔ بالکل بھی نہیں میں بچوں کو کہی نہیں جانے دونوں گئی میں اس نیلم کا سر پھار دوں گئی۔۔۔وہ روندھے ہوۓ لہجے میں بولی۔۔۔ یہ سوچ کر ہی اس کی جان نکل رہی تھی عمیر اور نور کہی اس سے چھن نا جائیں۔۔

ریلکس عبیرہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔وہ ایسا کر بھی نہیں سکتی اگر اس نے دوبارہ کیس اوپن کرنے کی کوشش کی بھی تو بھی اس کا کیس بہت کمزور ہے۔ شہریار عبیرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا۔۔۔

میں تو پریشان اس لیے ہوں اگر کیس دوبارہ اوپن ہوا تو بچوں کو بہت سفر کرنا پڑے گا۔۔ان کو دوبارہ سے عدالت کے چکر اور طرح طرح کی باتین سننی پڑیں گئی۔شہریار نے اپنی اصل پریشانی بتائی ۔۔

اگر اسے پتہ ہے کہ اس کا کیس اتنا کمزور ہے تو مجھے نہیں لگتا وہ کیس کو دوبارہ اوپن کروانی کی بے وقوفی دوبارہ کرے گی۔۔عبیرہ سوچتے ہوۓ بولی۔۔

اور ویسے بھی اوپن کر بھی لے تب بھی بچ
ے ہمارے پاس رہیں گے۔ تم نے ان مہینوں میں اتنا پیار ان دنون کو دے دیا ہے جو شائد میں پوری زندگی نا دے پاتا۔ ویسے ایک بات بتاؤ تم اتنی پیاری کیسی ہو۔ میرے اتنے بُرے سلوک پر بھی تم نے بچوں کے پیار میں زرا برابر کمی نہین لائی۔۔شہریار اس کا دھیان بٹانا چاہتا تھا۔

مین یہ نہین کہوں گئی کہ مجھے آپ کا رویہ برا نہیں لگتا تھا۔ انفیکٹ مجھے آپ کی باتوں میں ایک ڈرا سہما سا انسان نظر آتا تھا۔ جو اپنے غصے میں اپنا ڈر چھپا کر رکھتا ہے۔ جیسے ہمیشہ کسی اپنے قریبی کے کھو جانے کا ڈر لگا رہتا تھا۔ آپ نے ہمیشہ مجھے انسلٹ کیا۔ کیونکہ اپ کو ڈر تھا کہی میں بچوں کے ساتھ ساتھ آپ کے دل پر بھی راج نا کر جاؤ۔ عبیرہ کافی پیتے ہوۓ مسکراتے ہوۓ بولی۔ شہریار بس اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔

صحیح سمجھی تمہین پتہ ہے نیلم میری زندگی کی سب سے بری غلطی تھی۔ میں نے اسے بے انتہا محبت دی۔۔ہماری پسند کی شادی تھی۔ میں نے اسے زندگی کی ہر آشائش دی۔ میری اتنی محبت کو ایک پل مین روندھ کر وہ برے آرام سے مجھے اور بچوں کو چھوڑ کر چلی گئی۔۔تمہیں پتہ ہے یہ عمیر اور نور سارا سارا دن روتے رہتے تھے۔ ان دونون کو اگر کسی نے سھنمبالا ہے تو وہ صرف پاپا اور خالہ ہیں۔۔ان دونوں کی وجہ سے دونوں سھنمبلے ہیں۔ شہریار آج اپنے دل کی وہ باتیں کر رہا تھا جو آج تک اس کے دل مین دفن تھیں۔۔عبیرہ بہت غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ اس کے اندر چھپے درد کو محسوس کر رہی تھی۔۔

تم سے اسطرح کے سلوک کی وجہ یہ ہی تھی کل کو اگر تم بھی اسکی طرح دھوکہ دے کر چلی جاتی تو اس دفع نا تو میں سھنمبل پاتا نا عمیر اور نور لیکن تم نے مجھے غلط ثابت کیا۔مجھے اس بات کو مانے پر مجبور کر دیا دنیا میں لڑکی نیلم جیسی خود غرض ناشکری دھوکے باز نہیں ہوتی۔ بالکہ کچھ لڑکیاں تمہاری طرح مخلص،بے انتہا محبت پھیلانے والی اور دوسروں کے دلوں کو فتح کر لینے والی بھی ہوتی ہیں۔شہریار اسے اپنی انکھوں میں بساۓ بول رہا تھا۔اس کا ہر لفظ عبیرہ کو اپنے دل کی گہرائیوں میں اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔

اگر تمہیں میرے الفاظوں پر یقین آ رہا ہے تو کیا تم مجھے آج تک کے ہر فعل کے لیے معاف کرو گئی؟شہریار اپنا کافی کا کپ جس میں کافی کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی اسے ایک طرف دکھ کر مکمل عبیرہ کی طرف مُڑا۔۔۔

کروں گئی لیکن میری کچھ دو شرطیں ہیں۔ عبیرہ لڑکھراتے ہوۓ لہجے مین بولی۔۔کہی وہ دوبارہ سے غصہ نا ہو جاۓ۔۔

بولو۔۔۔۔۔

پہلی شرئط ہے آپ کو ہر روز مجھے اور بچوں کو دو گھنٹے دینے پڑیں گے۔

اوکے مائی لوڈ ضرور دوں گا۔۔ شہریار اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا۔۔

اور دوسری شرئط یہ ہے کہ زندگی میں ہمارے ساتھ کچھ بھی ہو جاۓ کتنی بھی مشکلات آ جائیں آپ صرف اور صرف مجھ پر یقین کریں گے۔ اور کبھی بھی مجھے نہیں چھوڑیں گے۔ عبیرہ نے اپنی سب سے بری شرط بتائی۔۔۔

ایک پاک اور مظبوط رشتے کی پہلی سیڑھی ہی اعتماد اور یقین ہوتی ہے۔۔میں وعدہ کرتا ہوں ہمارے رشتے میں اس چیز کی کبھی کمی نہیں آئے گی۔ لیکن تمہین بھی ایک بات کا خیال رکھنا پڑے گا۔۔کبھی زندگی میں مجھ سے جھوٹ مت بولنا۔ شہریار نے کہا تو ایک پل کے لیے وہ چپ ہو گئی۔

ایک پل کے لیےاس کا دل کیا شہریار کو فاہد کے بارے میں سب بتا دے پر وہ چپ رہ۔ گئی۔۔ابھی ابھی تو ان دونوں کے رشتے میں بہتری ہوئی تھی کیسے وہ پھر سے سب بیگاڑ سکتی تھی۔۔

اوکے کبھی کچھ نہیں چھپاؤں گئی۔وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔

چلو شکر ہے میری بیگم مان گئی۔۔شہریار مسکرایا۔۔۔
شکر کریں مان گئی ہوں ورنہ مجھے منانا اتنا آسان نہیں ہے وہ اکڑتے ہوۓ۔۔۔

ہاہا شہریار کھل کر ہنس دیا۔ عبیرہ نے دل میں اس کی ہنسی اسج طرح برقرار رہنے کی دعا کی۔

آج ان دونون کے درمیان سب ٹھیک تو ہو گیا تھا پر کون جانے جو اتنے وعدے کیے تھے وہ پورے بھی ہو پائیں گے یا نہیں۔۔


اگلی صبح جب وہ اُٹھی تو اس کی نظر شہریار پر پڑی جو کہ بیڈ کی دوسری طرف سویا ہوا تھا اس کا رخ عبیرہ کی طرف تھا۔۔
عبیرہ مسکراتے ہوۓ اُٹھی۔اور واشروم میں گھس گئی۔۔فریش ہو کر وضو کیا اور جاۓ نماز بیچھائی۔۔
نماز پڑ کر اپنے ہاتھوں کو دعا کی نیت سے اُٹھایا۔۔

یا اللہ تیری یہ بندی تیرا شکر ادا کرتی ہے۔یا اللہ ہم دونون نے دل سے اس رشتے کو قبول کر لیا۔۔بس اب تو اس رشتے میں برکت پیدا فرما۔ہم دونوں کے دلوں مین ایک دوسرے کے لیے بے انتہا محبت پیدا کر دے۔۔مجھے اتنی ہمت دینا کہ میں ان سب کو جوڑ کر رکھ سکوں۔۔۔۔ عبیرہ مگن سے اپنے رب سے باتیں کر رہی تھی۔۔ دعا پوری کر کے اس نے جاۓ نماز کو سمیٹا اور کبڈ میں رکھا۔۔ اور خود بچوں کے کمرے کی طرف آ گئی۔۔

شہریار کی انکھ کھولی تو کمرے میں عبیرہ نہین تحی اور نیچے سے بچوں کی اور اس کی ملی جُلی آوازیں آ رہیں تھیں۔۔

وہ نہا کر آفس کے لیے تیار ہوا اور نیچے چلا آیا۔۔
جہاں عبیرہ جلدی سے ہاتھ چلاتی ناشتہ بنا کر دے رہی تھی۔۔

واؤ اج تو پراٹھے بنے ہیں۔ کیوں پرنسس شہریار نور کو اپنی گود میں لے کر کرسی پر بیٹھا۔

عمیر تم کھا کیوں نہیں رہے جلدی سے کھا دیر ہو رہی ہے عبیرہ اسے ڈانٹتے ہوۓ بولی۔۔

وہ منہ بنا کر کھانے لگا۔۔اسے پڑاٹھے بالکل پسند نہیں تھے۔

تم بھی کھالو یونی نہیں جانا شہریار عبیرہ کو کرسی پر بیٹھاتے ہوۓ بولا۔۔

جانا ہے۔ ان دونوں نے لیٹ کر وا دی۔۔کب کی اُٹھا رہی تھی۔پر دنوں جب رات کو دیر سے سوئیں گے تو صبح کیسے اُٹھیں گے۔۔عبیرہ جلدی جلدی پڑاٹھا کھانے لگی اور ساتھ میں زبردستی عمیر کو بھی کھلانے لگی۔۔جو وہ منہ بسور بسور کر کھا رہا تھا۔۔

افراتفری میں ناشتہ کیا اور جلدی سے تیار ہو کر وہ نیچے گاڑی میں آ کر بیٹھی جہاں شہریار نور اور عمیر کے ساتھ پہلے سے انتظار کر رہا تھا۔۔

تم دونوں لنچ فنش کرناورنہ میں آج میکرونی نہیں بناؤن گئی۔۔عبیرہ نے دونوں کو دھمکی دی۔۔۔وہ جانتی تھی یہ دھمکی کام آ جاۓ گئی۔۔۔

شہریار نے عمیر اور نور کو سکول چھوڑا اور گاڑی یونی کی طرف گھوما دی۔۔

کیا ہو گیا بیگم صبح صبح اتنی پریشان کیوں؟ شہریار نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔

سر نے آسائمنٹ دی تھی اور میں بنانا بھول گئی۔وہ منہ پھولا کر بولی۔۔

ہاہاہاہا تم بھی نا یونی جا کر بنا لینا شہریار ہنستے ہوۓ بولا۔۔

پتہ نہیں کوشش کروں گئی۔۔اسی طرح باتوں باتوں مین یونی ا گئی۔عبیرہ بھاگتی ہوئی اندر داخل ہو گئی۔شہریار بے گاڑی آفس کی طرف موڑ لی۔۔۔


دوپہر کے دو بجے تھے عبیرہ کلاس لے کر فارغ ہو کر باہر کینٹین کی طرف آئی۔۔

یار بہت بھوک لگی ہے ماہین اپنی کتابیں ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولی۔۔۔

چلو کچھ آڈر کرو۔۔عبیرہ نے موبائل نکالتے ہوۓ کہا۔۔

ماہین نے برگر آڈر کر دیے۔ تبھی اسے اپنی ایک دوست نظر آ گئی وہ اس سے ملنے چلی گئی۔۔

عبیرہ موبائل چلا رہی تھی تبھی اسے ایک ان نو نمبر سے میسج آیا۔۔اس بے دھڑکتے دل کے ساتھ میسج کھولا۔۔

میری رانی کل بارہ بجے ایس این کیفے ا جانا بہت اہم بات کرنی ہے ۔ویسے بھی تمہارے شوہر کے آفس میں مینیجر ہوں اگر تم نا آئی تو مجھے تمہارا اور میرا رشتہ بتانے میں دو سیکنڈ نہیں لگیں گے۔۔ تمہارا
فاہد۔۔۔
عبیرہ نے جیسے ہی میسج پڑا اس کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔۔۔

یااللہ فاہد اور وہ بھی شہریار کے آفس میں یہ سب کب ہوا۔۔وہ خود سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔تبھی ویٹر برگر لے کر ا گیا۔۔ماہین بھی اس کے پاس ا کر بیٹھ گئی۔ وہ اپنے اپ کو نارمل کرنے لگی۔۔لیکن ابھی بھی
اس کے ذہین میں فاہد کا میسج گھوم رہا تھا۔۔۔

جانے اب دونوں کی زندگیوں نے کیا موڑ لینا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔
پاٹ ٹو کل انشااللہ