Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

صرف اور صرف میری بے وقوفی کی وجہ سے سب ختم ہو گیا.وہ وہ غصے سے بیڈ پر بیٹھ گیا ۔

شہریار آپ کیا بول رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔عبیرہ شہریار کو اتنا غصے میں دیکھ کر پریشانی کے عالم میں اس کے قریب ہی بیٹھ کر بولی۔۔

کچھ مت پوچھو بہت برا ہوا۔ وہ اپنے بالوں کو مٹھی میں جکڑتے ہوۓ بولا۔۔۔

میرا دل بیٹھا جا رہا ہے پلیز بتائیں کیا بات ہے؟ عبیرہ شہریار کے عجیب غریب رویے کو دیکھ کر پریشان ہو گئی۔۔

شہریار نے اسے سب بتادیا۔ جیسے سن کر عبیرہ شاک کے انداز میں اسے دیکھے گئی۔۔

مجھے تو یہ بھی یاد نہیں میں نے کب پیپرز سائن کیے۔کس نے لا کر دیے۔ایسا آفس میں کون سا غدار ہو سکتا ہے جو اسطرح کی حرکت کرے۔ شہریار سوچتے ہوۓ بولا۔۔۔

عبیرہ کے ہاتھ ایک دم لرزے اسے ایک پل میں فاہد یاد آگیا۔۔یہ ضرور فاہد کا کام ہے یا اللہ وہ اتنا کیسے گڑ سکتا ہے۔وہ دل میں سوچ رہی تھی۔۔۔

ان سب جو لگ رہا ہے۔مجھ سے بچ جائیں گے۔ پر شائد یہ لوگ بھول چکے ہیں میں شہریار ہوں۔۔ان سب کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ غصے سے وہ بے قابو ہو رہا تھا۔

آپ یہ پانی پیں اللہ پاک سب بہتر کرے گا۔ عبیرہ اس کی بات سن کر خیال کی دنیا سے واپس آئی۔اور گلاس میں پانی ڈال کر شہریار کی طرف بڑھایا۔۔

شہریار نے پانی لے لیا ۔۔

آپ کیسے سب واپس لو گے۔جب لیگل پیپرز پر سائن ہو چکے ہیں تو اب کیا کرو گے۔۔وہ واپس اس کے قریب بیٹھ گئی۔۔۔

چاچو نے بہت غلط کیا پاپا کا بھروسہ توڑا ہے۔۔دیکھو زرا جا کر پاپا کی کیا حالت ہو گئی ہے۔۔ پراپرٹی کےجانے سے اتنے دکھی نہیں جتنے اپنوں کے پیٹھ پر چھوڑا گھونپے سے ہیں۔ قسم خدا کی ایک ایک کو سزا دوں گا۔اور سب سے پہلے خودکو۔۔شہریار غصے سے بولا اور ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑے گلاس کو زور سے دبایا شیشے کا گلاس ٹوٹ گیا اور ٹکڑے ہاتھ پر چھب گے۔۔۔

شہریار کیا کر رہے ہیں پاگل ہو گے ہیں۔ ضروری نہیں ہر مسلے کا حل غصہ ہو عبیرہ جلدی سے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر شیشے کو نکالنے لگی۔ پورا ہاتھ خون سے بھر گیا تھا۔۔۔

اسی ہاتھ نے سائن کیے تھے اچھا ہوا۔۔شہریار ہاتھ کو دیکھتے ہوۓ بولا۔۔

ادھر دیکھیں یہ سب کر کے کیا ہو جاۓ گا۔۔ کیا آپ وہ سب واپس لے لیں گے۔ ابھی آپ کو غصے سے نہیں بالکہ سمجھداری سے اور اپنی اس عقل کو کھول کر ٹھنڈے دماغ سے کام لینا ہے۔۔عبیرہ غصے سے اس کا چہرہ اپنی طرف کرتی آخر میں اس کے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

آرام سے تحمل سے کیسے کیسے کروں میں تحمل کیسے بولو۔میرا دل کر رہا ہے ابھی کے ابھی سب کو مار کر آؤ۔۔وہ غصے سے بولتا عبیرہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچتا کھڑا ہو گیا۔پاس پڑی کرسی کو زور سے پاؤں مار کر بولا۔۔۔۔

ٹھیک ہے جائیں اور جا کر لڑیں۔جائیں۔بتائیں اس سب سے کیا ہو گا۔ وہ آپ کو ساری پڑاپری واپس کر دیں گے۔ نہیں وہ پولیس کو بلا لیں گے۔۔اور آپ لاکپ میں بند ہو جائیں
ماموں جو اتنی پریشانی میں ہیں۔ وہ کیا کریں گے۔۔اپنے بیٹے کے لیے تھانے کے چکر کاٹیں گے۔۔۔۔ آپ کیوں نہیں سمجھ رہے۔۔عبیرہ اس کے پاس جا کر غصے سے چلائی۔۔ شہریار بس اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔

پلیز شہریار تحمل سے کام لیں۔ ہم نہیں چاہتے آپ کچھ غلط کریں۔۔۔عبیرہ اس کے سینے سے لگتے ہوۓ روندھی آواز میں بولی۔۔۔۔

شہریار نے اپنے دونوں بازوں کا گھیرا تنگ کر دیا۔اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔شائد وہ خود بھی ریکس ہونا چاہتا تھا۔وہ اسے مذید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔پہلے ہی وی نجمہ بیگم کی موت سے ندھال تھی۔۔


عبیرہ نے ناشتہ لگا دیا۔ فرحان صاحب سربراہی کرسی پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ نور اور عمیر کو عبیرہ زبردستی ناشتہ کروا رہی تھی۔۔۔

دونوں کو ناشتہ کروا کر ان کو ڈرائیور کے ساتھ سکول بھیج دیا۔۔اور خود شہریار کے لیے آملیٹ بنانے لگی۔

شہریار تیار ہو کر نیچے آیا۔ دور سے فرحان صاحب کو ناشتہ کرتے دیکھا تو بہت ہمت کر کے وہ چلتا ہوا ڈائینگ ٹیبل کی طرف آیا کرسی نکال کر بیٹھا۔۔

عبیرہ آملیٹ بنا کر لے آئی۔۔ڈائینگ ٹیبل پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔وہ بھی چپ کر کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھی۔۔۔

کیا بہت ہینڈسم لگ رہا ہوں جو دونوں گھورے جا رہے ہو۔۔۔فرحان صاحب مسکراتے ہوۓ بولے۔۔۔

افکورس آپ میرے ہینڈسم ماموں ہیں عبیرہ انہیں نارمل انداز میں دیکھ کر مسکراتے ہوۓ بولی۔۔

پاپا وہ شہریار اپنے الفاظ تلاش کرنے لگا۔۔

شہریار جو تم نے غلطی کی وہ مجھ سے بھی ہو سکتی تھی۔۔اب انہی پرانی باتوں کو دل پر لگانے صرف اور صرف بےبوقوفی ہے۔۔۔اور کچھ نہیں۔۔۔فرحان صاحب اسے دیکھتے ہوۓ بولے۔۔۔

پر پاپا اب۔۔۔۔۔۔۔

اب وہی کرنا ہو گا کو انہوں نے کیا۔۔۔ازیر نے جو تاش کے پتوں سے چالیں چلی ہیں۔۔ہمیں بس ایک ایک کر کے وہی چلیں ان پر الٹانیں ہو گئیں۔ فرحان صاحب مسکراتے ہوۓ بولے۔۔۔

جی پاپا میں سمجھ گیا۔ بس اب آپ دیکھیے گا میں کیا کرتا ہوں۔۔۔۔۔شہریار ہاں میں گردن ہلاتے ہوۓ بولا۔۔

لیکن اس سب میں تمہیں اپنے غصے کو قابو رکھنا ہو گا۔۔اور سوچ سمجھ کر ہر قدم اُٹھانا پڑے گا۔دیکھن وہ آج ہی آفس بھی آۓ گا۔۔۔۔

جی پاپا سمجھ گیا چلتا ہوں۔اپنے نئے باس سے ملنا ہے۔۔۔ شہریار کرسی سے اُٹھ کر کھڑا ہوا اور باہر کی طرف بڑھا۔۔

دیکھیے گا ماموں ہم پر جو مصبت آئی ہے وہ بہت جلد دو ہر جاۓ گی۔ عبیرہ نم آنکھوں سے بولی۔۔۔

بالکل اب تم مجھے یہ تھوڑی سی سویاں دے دو۔۔فرحان صاحب پاس پڑے باول کو دیکھتے ہوۓ بولے۔۔۔

ماموں جان بالکل نہیں آپ کی شوگر کا مسلہ ہے میں بالکل بھی نہیں دوں گی۔ عبیرہ نے جلدی سے باول سائڈ پر کر دیا۔۔۔

لو آج پھر سے سوئیوں کو میرا منہ نصیب نہیں ہوا۔۔۔پر سوئیوں تم سب برا مت ماننا میری بھانجی تھوڑی سی کھڑوس ہے۔۔فرحان صاحب سوئیوں کو دیکھتے ہوۓ بولے۔۔۔۔عبیرہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔اسے ہنستے ہوۓ
دیکھ مسکرا دیے۔۔۔۔۔۔۔۔


شہریار آفس میں داخل ہوا۔ وہ چلتے ہوۓ اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔دروازے کے نائب ہر ہاتھ رکھ کر گھومایا۔۔دروازہ کھولتا گیا۔۔شہریار کے اندر جاتے قدم تھم گے۔۔۔سامنے اپنی کرسی پر ازہر صاحب کو دیکھ کر وہ روک گے۔۔

ارے آؤ برخردا۔ آؤ دیکھو حماد صاحب آۓ ہیں۔ ازیر صاحب نے سامنے کرسی پر بیٹھے حماد صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔

حماد صاحب کرسی سے کھڑے ہو گے اور مُڑکر پیچھے دیکھا۔۔

شہریار میں تم سے ملنے آیا تھا پر یہاں آکر تو عجیب و غریب کہانیاں ہی سننے کو مل رہی ہیں۔۔حماد صاحب حیرانگی سے بولے۔۔۔

کیا مطلب کیسی باتیں شہریار چلتا ہوا ان کے پاس آ کر بولا۔۔۔

یہ صاحب بول رہے ہیں اب وہ پروجیکٹ یہ ہینڈل کریں گے۔ کیونکہ یہ اس آفس کے بوس ہیں۔۔حماف صاحب نے کچھ دیر پہلے ہوئی ازیر صاحب سے ہوئی باتیں بتائیں۔۔۔

بتاؤشہریار کہ میں بوس ہوں 70٪ حصہ میرا ہے اور 30٪ حصہ تمہارا تو اس حوالے سے میں ہی بوس ہوا۔۔۔ ازیر صاحب مسکراتے ہوۓ بولے۔۔

شہریار نے سب سن کر بامشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا۔۔۔

دیکھو مجھے اس فضول سی باتوں میں نہیں پڑنا۔۔چلو شہریار تم اپنے کیبن میں جاؤ اور اپنے گیسٹ کو بھی لے کر جاؤ ۔کافی وقت برباد کر دیا ہے۔میری اتنی میٹنگ ہیں وہ بھی اٹینڈکرنی ہیں۔۔ازیر صاحب مصروف انداز میں بولے۔۔

شہریار نے بحث کرنا مناسب نا سمجھا۔حماد صاحب کو لے کر وہ ساتھ بنے کیبن میں چلا گیا۔۔وہ کیبن بہت چھوٹا تھا۔۔وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کبھی زندگی میں اسے اس چھوٹے کمرے میں رہنا پڑے گا۔۔اور ایسے کسی کی باتیں سننی پڑیں گی۔۔۔

وہ حماد صاحب کو سب بتانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


رات کے سات بج رہے تھے۔۔باہر کالی گھاٹائیں چھائی ہوئیں تھیں۔بارش ہونے کا امکان تھا۔۔نور اور عمیر باہر جانے کی ضد کر رہے تھے ۔پر عبیرہ انہیں منا کر رہی تھی۔۔

تبھی باہر سے کچھ آوازیں آئیں۔ آوازیں کچھ جانی پہچانی تھی۔۔عبیرہ باہر کی طرف بڑھی۔۔۔

سامنے ازیر ،فاخرہ بیگم ،اور شمائلہ تینوں اپنے اپنے سامان کے ساتھ اندر حال میں کھڑے تھے۔۔۔عمیر اور نور موقع دیکھ کر باہر کی طرف بھاگ گے۔۔۔۔۔

یہ سب کیا ہے؟ فرحان صاحب شور سن کر اپنےبکمرے سے باہر نکلے ان تینوں کو یوں سامنے دیکھ کر حیرانگی سے بولے۔۔۔

بھائی صاحب ہم بس اپنے گھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنے کے لیے آۓ ہیں۔ ازیر صاحب مسکراتے ہوۓ بولے۔۔

کیا مطلب ہے تم یہاں رہو گے۔۔فرحان صاحب اپنا غصہ دباتے ہوۓ بولے۔۔

آپ کو شائد فارسی سمجھ میں آتی ہے میں نے یہی کہا۔ہم تینوں یہی رہیں گے آخر کو ساری پراپرٹی میں 70٪ کا حصے دار ہوں ۔۔ ازہر صاحب بدتمیزی سے بولے۔۔۔

پیسے کے غرور نے تمہارا خون ہی سفید کر دیا ہے۔ رشتوں کا لحاظ بھول گے ہو۔۔فرحان صاحب سخت لہجے میں بولے۔۔۔

ارے کہاں بھائی صاحب یہ تو آپ کو ماننا پڑے گا رشتوں کا لحاظ تو ابھی مجھ میں باقی ہے۔۔ورنہ ابھی تک آپ سب کے سب خالی ہاتھ اس گھر کے دروازے کے باہر کھڑے ہوتے۔بس آپ کی عمر کو دیکھ کر چپ کر گیا۔
اس عمر میں بڈھا کہاں دھکے کھاۓ گا۔ازیر صاحب بولے۔

بس چاچو بہت ہوا تمیز سے بات کریں تبھی پیچھے سے شہریار کی آواز گھونجی۔جو تھوڑی دیر پہلے ہی آیا تھا ازیر صاحب کی ساری باتیں سن لیں۔تواس سے برداشت نا ہوا۔۔

لو جی آ گیا ہیرو دیکھو شہریار ابھی میرے پاس وقت نہیں بعد میں بات کریں گے۔۔۔ابھی بہت تھکا ہوا ہوں تھوڑا سا آرام کروں گا۔۔ازیر صاحب بولتے ہوۓ اپنا سامان لے کر سامنے کمرے کی طرف بڑھے۔۔۔۔

عبیرہ ابھی ہم تھوڑا ریسٹ کر لیں تم نو بجے کے قریب کھانا لگا دینا اور ہاں کھانے میں نمک کم ہو ازیر کو بلد پریشر کا مسلہ ہے۔۔ فاخرہ بیگم حکم دینے کے انداز میں بولیں اور ازیر کے پیچھے چلیں گئیں۔۔۔

عبیرہ حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

فرحان صاحب اپنا چہرہ نیچے کرتے ہوۓ کمرے میں چلے گے۔۔۔۔۔

تم کسی کے لیے کھانا نہیں بناؤ گئی۔ کھانا ہو گا تو خود بنا لیں گے۔۔شہریار کو فاخرہ بیگم کا یوں عبیرہ کو بولنا بالکل پسند نہیں آیا تھا۔۔

آپ اس سب باتوں کو چھوڑیں اور اوپر جائیں فریش جائیں۔ میں کھانے کو دیکھ لوں۔۔عبیرہ بول کر کیچن میں چلی گئی۔۔۔

شہریار غصے سے بھرا کمرے میں چلا گیا۔۔اور واشروم میں فریش ہونے چلا گیا۔۔وہ کافی پریشان تھا ابھی تک اس مسلے کا کوئی حل نہیں نکل رہا تھا۔۔۔۔


عبیرہ نے کھانا بنایا۔وہ کھانا لگا کر سب کو بُلانے چلی گئی۔۔

ویسے ماننا پڑے گا ہو تو تم منحوس، دیکھو ایسی تم شہریار کی زندگی میں آئی بچارے کی زندگی جہنم ہو گئی۔
جس طرح تم دروازہ کھٹکھٹا کر نوکروں کی طرح اندر آئی ہو تم پر بہت سوٹ کرتا ہے۔۔تم جیسی لڑکی صرف کیچن میں ہی اچھی لگتی ہے۔شہریار جیسے ہینڈسم لڑکے کے ساتھ تو مجھ جیسی ماڈرن لڑکی ہی سوٹ کرتی ہے۔۔۔۔۔۔عبیرہ شمائلہ کے کمرے میں اسے کھانے کے لیے بُلانے آئی تھی۔۔اور وہی شمائلہ اپنے طنز کے تیر چلاتی ہوئی بولی۔۔۔

ہممم کافی اچھا بولتی ہو۔ تمہاری اطلاح کے لیے بتا دوں۔۔
میں اگر کیچن میں کام کرتی ہوں تو اپنے گھر میں کرتی ہوں اپنے گھر والوں کو کھلاتی ہوں۔ دوسری بات یہ کہنا بند کر دو کہ شہریار تمہارے ہو جائیں گے۔۔کیونکہ میڈم وہ تن اور من سے مجھے اپنی بیوی مان چکے ہیں۔۔تم بس اب اپانا رستہ ناپو۔۔ویسے شرم کرو شادی شدہ آدمی کے پیچھے پڑی ہوئی ہو۔۔عبیرہ اب اس کی مزید بکواس سننے کے موڈ میں نہیں تھی وہ بول کر بنا اس کی سنے اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔

اس کی اتنی ہمت یہ مجھے یہ سب بکواس بولے۔۔۔شمائلہ تو اتنا سن کر ہی غصے سے پاگل ہو گئی۔اسی غصے میں اس نے زور سے دروازہ بند کیا۔ اور باہر کی طرف بڑھی۔۔۔


عبیرہ جیسے ہی کمرے میں آئی شہریار آج معمول کی طرح بیڈ پر بیٹھا کام نہیں کر رہا تھا باکہ وہ کھڑکی کے سامنے کھڑا باہر برستی بارش کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

شہریار چلیں کھانا کھا لیں۔۔عبیرہ بیڈ پر رکھے تولیے کو اُٹھاتے ہوۓ بولی۔۔۔

تم یہی لے آؤ میں نیچے نہیں جانا چاہتا۔۔وہ اسی پوزیشن میں کھڑا۔ ہوتے ہوۓ بولا۔۔۔عبیرہ تولیہ سائیڈ پر رکھ کر اس کے قریب آئی۔۔۔

ایک بات بولوں۔۔۔۔۔

بولو۔۔۔وہ اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔

کبھی بھی اپنا حق کسی کو مت دیں۔ ورنہ لوگ آپ کے حق کی ساری چیزیں کھا کر آپ کو چھوٹے کیڑے کی طرح مثل کر آگے بھڑجائیں گے۔۔حالات سے ڈر کر رہنے کی بجاۓ ڈنگے کی چوٹ پر اس کا مقابلہ کریں۔۔۔اور پلیز اپنے آپ کو قصوروار ٹھہڑانا بند کریں۔وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔۔۔

ویسے اللہ پاک نے مجھے بیگم بہت سمجھدار دی ہے۔بہت خوبصورت باتیں کرتی ہے۔ اسے یہ بھی پتہ ہے۔مجھے میرے اندر کیا چل رہا ہے۔۔اور اسے کیسے ٹھیک کرنا ہے۔۔۔شہریار نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔وہ کٹی ہوئی شاخ کی طرح اس کے چوڑے سینے سے جا لگی۔۔۔۔

چھوڑیں کیا کر رہے ہیں۔ عبیری لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی۔۔وہ ہمیشہ ہی اس کی قربت میں گھبڑا جاتی تھی۔۔

ایک بات تو بتاؤ ابھی تو میں نے کچھ کیا بھی نہیں تو تماہرے یہ گال کیوں لال ہو گے ہیں۔۔شہریار مسکراہٹ دباتا
اس کے کان کے قریب ہو کر بولا۔۔۔

عبیرہ کی سانسیں تھم گئیں۔اور دھڑکن تیز ہو گئی

ماما بھوک لگی ہے۔۔۔۔تبھی دروازہ کھول کر نوراور عمیر اندر آئیے۔

شہریار نے ایک پل میں اسے خود سے علیحدہ کیا۔۔۔۔
ایک تو یہ بچے غلط وقت پر آتے ہیں شہریار دانت پیس کر بولا۔۔۔

ہاں ہاں چلو دیتی ہوں۔آپ بھی آ جائیں اسے تو اچھا موقع مل گیا تھا عمیر اور نور کو لے کر وہ دروازےکی طرف بھاگی۔۔۔۔

دیکھ لوں گا تمہیں۔شہریار زور سے بولا۔۔عبیرہ کھلکھلا کر چلی گئی۔۔دور کھڑی شمائلہ کو یہ کھلکھلاہٹ چُھبی۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔😅