No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
امی جی میں جا رہی ہوں۔ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔آج بچوں کا پیپر ہے۔دو بجے تک آ جاؤں گی۔ وہ کافی عجلت میں لگ رہی تھی۔۔
پر بیٹا ناشتہ تو کرتی جا۔نجمہ بیگم نے اس کے ہاتھ میں پڑاٹھا پکڑاتے ہوۓ کہا۔
امی جی پہلے ہی دیر ہو چکی ہے۔میں وہی کچھ کحا لون گی۔اللہ حافظ۔وہ پڑاٹھا وہی رکھتی جلدی سے باہر کو بھاگی۔۔۔
موحد جبیتا جاتے وقت بہن کو بھی لے جایا کر۔وہ کب تک یوں بسوں میں دھکے کھاتی رہے گئی۔۔نجمہ بیگم موحد سے مخاطب ہوئیں جوکرسی پر بیٹھا پراٹھا کھا رہا تھا۔۔
کچھ نہیں ہوتا اُسے اور ویسے بھی اس کا سکول دوسری طرف ہے۔ وہاں جاتے ہی ادھا گھنٹہ لگ جاتا ہے ۔اور میں یہ نہیں چاہتا کہ جو رو رو کہ نوکری ملی ہے وہ بھی میرے ہاتھوں سے نکل جاۓ۔نوکری چلی گئی تو یہ گھر اس میڈم کے دو ہزار روپیوں سے تو چلنے سے رہی۔ اور پیٹرول بے فالتو کا ضائع ہو گا۔ موحد غصے سے بول رہا تھا۔نجمہ بیگم اپنے بیٹے سے ایسے باتیں سن کر سر جھکاگئیں۔۔
بالکل ٹھیک بول رہےہیں۔موحد میں تو یہی مشورہ دوں گی۔جتنی جلدی ہو سکے عبیرہ کی شادی کر دیں۔ویسے بھی چوبیس کی ہو چکی ہے۔اور کتنی دیر کرنی ہی۔ اجالا چاۓ موحد کے سامنے رکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
یہ بحس تو چلتی رہے گی۔مجھے آفس سے لیٹ ہو رہی ہے میں چلتا ہوں۔ مدحد ناشتہ ادھورا چھوڑ کر چلا گیا۔اجالا بھی اپنے کمرے میں سونے چلی گئی۔ عبیرہ ہی صبح چار بجی اُٹھ جاتی تھی۔نماز پڑھ کر وہ سارے گھر کی صفائی کرتی۔ اور ناشتہ بنا کر جلدی جلدی میں چلی جاتی۔۔وہ ایک سکول میں ٹیچر تھی۔ نجمہ بیگم نے افسوس سے نا میں سر ہلا۔ دیا۔۔۔
دادو دادو کچھ تھانا ہے۔دو سالہ ابراہیم نجمہ بیگم کے ڈوپٹے کو کھینچتے ہوۓ بولا۔۔
ارے میرا لاڈلہ ادھر آ بول کیا کھانا ہے۔۔انہوں نے اسے گود میں اُٹھا لیا اور کیچن کی طرف برھ گئیں۔
یہ ایک چھوٹا پانچ مرلے کا گھر تھا جہاں پانچ لوگ رہتے تھے۔نجمہ بیگم ان کا بیٹا موحد اس کی بیوی اجالا ایک بیٹی عبیرہ اور ایک پوتا ابراہیم۔۔ان کے شوہر کا دس سال پہلے ہی کار حادثے میں انتقال ہو چکا تھا۔
وہ جیسے ہی سکول پہنچی۔پیپر شروع ہو چکا تھ۔جو جلدی جلدی ایک کلاس میں ڈیوٹی کرنے پہنچی۔۔۔
بچے آرام سے اپنا پیپر کر رہے تھے۔وہ ان پر نظر رکھے ہوۓ تھی۔۔
اس وقت وہ کالی قمیض شلوار میں ملبوس تھی۔ڈوپٹہ سر پر ٹیکا ہوا تھا۔بالوں کو چوٹی بنا کر کمر پر ڈالا تھا۔ کالے لباس میں اس کی سفید رنگت خوب کھل کر آ رہی تھی۔ آنکھون میں کاجل ڈالا ہوا تھا۔وہ اپنی منہ پر کوئی میک اپ لگانا پسند نہیں کرتی تھی۔ اس کا ماننا تھا۔
خوبصورتی صرف سادگی میں ہے۔۔۔
وہ خود بھی سادہ طبیت کی مالک تھی۔سجنا سورنا تو جیسے اسے آتا ہی نا تھا۔
ٹیچر ٹیچر میں نے اپنا پیپر پورا کر لیا۔۔ایک طرف سے ایک چھوٹی سی بچی کی آواز آئی۔۔
ویری گڈ لاؤ عبیرہ نے پیپر اس کے ہاتھ سے لے لیا۔
وہ پیپرز اکھٹے کر کے رکھ رہی تھی تبھی سکول کی پرنسپل نے اسے اپنے کمرے میں بولایا۔۔۔وہ سب چھوڑ کر ان کے پاس گئی۔۔
جی میم آپ نے بلایا تھا وہ کمرے میں داخل ہو کر بولی۔۔
جی مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔دیکھیے آپ ہر روز سکول لیٹآتیں ہیں اور مجھے اپنے سکول میں یہ سب پسند نہیں میں آپ کو لاسٹ وارنگ دے رہی ہوں۔آگر آئندہ لیٹ آئیں تو میں آپ کو نوکری سے چھٹی دے دوں گی۔۔اب آپ جا سکتی ہیں۔۔۔پرنسپل کافی کھڑوس لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
عبیرہ خاموشی سے سن کر باہر آ گئی۔وہ جانتی تھی۔اب کچھ ہی دنوں میں اس کی یہ نوکری بھی چھوٹنے والی ہے۔۔
دوبجے کے قریب وہ سکول سے نکلی۔ سامنے بنی دکان سے اس نے نجمہ بیگم کی دوائیاں لیں۔ تو کچھ فروٹ بھی لے لیا۔ اور واپسی کے لیے بس کا انتظار کرنے لگی۔۔
پندرہ منٹ بعد بس آ گئی۔۔ ایک گھنٹے بعد وہ گھر پہنچی۔۔
جیسے ہی وہ گھر پہنچی ٹیوی لونیج میں سے کچھ آوازیں آ رہی تھی۔ وہ اندر بڑھ گئی۔۔
ماموں جان آپ کب آۓ۔اندر صوفے پر ادھیر عمر
کا آدمی بیٹھیا ہوا تھا۔۔
عبیرہ بیٹی آ گی۔۔ وہ اُٹھ کر اس سے ملے۔۔
آپ کب آۓ۔اور امی آپ نے مجھے فون کیوں نہیں کیا میں جلدی آ جاتی۔۔عبیرہ شکوہ کناہ نظروں سے نجمہ بیگم کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
بیٹا میں تو ابھی دس منٹ پہلے آیا ہوں۔۔ تم یہاں آ کر میرے پاس بیٹھو۔ بہت عرصے بعد تم لوگوں کو دیکھ رہا ہوں۔ وہ نم آواز میں بولے۔۔
چلیں میں آپ کے ساتھ ہی بیٹھ جاتی ہوں۔مجھے بھی آپ کی بہت یاد آ رہی تھی۔پر آئی نو کوئی بہت برا ریزن ہو گا۔جو آپ نہیں آ پاۓ۔ عبیرہ ان کے پاس ہی بیٹھ گئی۔۔
بس بیٹا تم تو جانتی ہو تمہاری ممانی کے گزر جانے کے بعد میں نے اپنے آپ کو کام بہت مصروف کر لیا۔ کسی سے ملنے کا دل نہیں کرتا تھا۔اوپر سے فیکٹریوں میں بہت اتار چراو آۓ۔۔
پر اب شہریار نے سب سھنبال لیا ہے تو میں بھہ تھوڑا ریلیکس ہو گیا ہوں۔تو سوچا تم لوگوں سے مل لوں۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولے۔۔
بھائی آپ آج روکیں گے نا۔ نجمہ بیگم نے پوچھا۔
نہیں مجھے رات تک واپس جانا ہے۔فرحان صاحب نے نا میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔۔۔
انکل یہ لیں چاۓ پیں۔اور بتائیں۔شہریار کیسا ہے۔میں نے سنا اس کی طلاق ہو گئی۔ اجالا چاۓ فرحان صاحب کو دیتے ہوۓ بولی۔۔
اجالا بس کرو۔نجمہ بیگم نے اسے ڈانٹا۔۔
ہاں اجالا بیٹی جب قسمت بری ہو تو کچھ نہیں کیا جاتا۔ وہ امریکہ کی رہنے والی تھی۔اور اس جیسا آزاد ماحول یہاں کیسے مل سکتا ہے۔ وہ ماڈلنگ کرنا چاہتی تھی۔اور شہریار کو یہ سب نا پسند ہے۔روز لڑیاں ہوتیں تھیں۔اور آخر وہی ہوا وہ طلاق لے کر وہ ماڈلن کے شعبے میں چلی گئی۔ فرحان صاحب افسردہ لہجے میں بولے۔۔۔
بھائی صاحب اب بچے کون سھنمبالتا ہے۔نجمہ بیگم بولیں۔ عبیرہ اُٹھ کر کیچن میں کھانا بنانے چلی گئی۔
بس نجمہ بچے اپنی ماں کے بغیر پل رہے ہیں۔ خیر چھوڑو۔ تم سناؤ۔۔فرحان صاحب نے ٹاپک بدل دیا۔۔۔
تم کیا سمجھتے تھے مجھے یہ سب پتہ نہیں لگے گا۔تم جو پچھلے دو مہینوں سے پیسوں میں ہیرا پھیری کر رہے ہو۔وہ سب مجھے پتہ نہیں چلے گا۔ بولو وہ غصے سے مینیجر پر چلا رہا تھا۔۔
ایم سوری سر مینیجر آہستہ آواز میں بولا۔۔۔
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ میری ڈکشنری میں یہ لفظ نہیں ہے۔ وہ روبدار آواز میں بولا۔
سر معاف کر دیں اسے ایک چانس دے دیں۔ اس کا سیکٹری بولی۔۔۔۔
تم شائد بھول رہے ہو۔ مجھے جھوٹ اور فریبکاری سے سخت نفرت ہے۔ اور اس نے تو چوری کی ہے۔ اس کی شکل مجھے اب آفس میں نظر نا آۓ۔ دور کرو اس کو میری نظروں سے ۔۔۔اس کی آواز میں ایسی سختی تھی کہ سامنے والا کانپ جاتا۔۔۔
سیکٹری نے اسے کمرے سے باہر نکال دیا۔۔
سر آپ کے لیے کافی منگواں ۔۔۔۔
ابھی تم یہاں سے جاؤ۔ اور انور کو بولو بچوں کو سکول سے پک کر کے گھر پہنچاۓ۔وہ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوۓ بولا۔۔۔
جی سر وہ ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ باہر چل گئی۔۔۔
پتہ نہیں پاپا کہاں چلے گے۔ فون بھی بند کیا ہوا ہے۔ وہ فون پر بار بار کال ملا رہا تھا پر آگے سے فون بند تھا۔۔۔۔
بیٹے آج بہت دنوں بعد اتنا اچھا کھانا کھایا ہے۔بہت مزے کا بنا ہے۔فرحان صاحب کھانا کر بولے۔۔۔
شکریہ ماموں میں نا اپنے ہاتھ کا شپیشل کہوہ بنا کر لاتی ہوں۔وہ مسکراتے ہوۓ برتن اُٹھا کر کیچن میں چلی گی۔۔
فرحان صاحب باقی سب کے ساتھ ٹیوی لاونج میں بیٹھ گے
نجمہ اب چونکہ موحد بھی آ چکا ہے۔تو میں جس مقصد کے لیے یہاں آیا تھا وہ کر لیتا ہوں۔
فرحان صاحب اپنا کوٹ ٹھیک کرتے ہوۓ بولے۔۔
جی جی بولیں بھائی صاحب کیا بات ہے۔۔
وہ دراصل میں چاہتا ہوں کہ عبیرہ بیٹی کو میں اپنے شہریار کی دلہن بنا لوں۔ انہوں نے آہستہ آہستہ اپنی بات پوری کی۔۔
پر بھائی صاحب شہریار تو نجمہ بیگم نے بات ادھوری چھوڑ دی۔۔
مجھے پتہ ہے یہ کوئی آسان بات نہیں پر تم تو جانتی ہوں میں تو شروع سے ہی عبیرہ بیٹی کو ہی اپنی بہو بنانا چاہتا تھا۔پر پھر شہریار نے اپنی پسند کی شادی کر لی۔
اب جب میں اس کے دو معصوم بچوں کو دیکھتا ہوں تو دل یہ سوچ کر گھبڑا جاتا ہے۔کل کو اگر
کوئی اسی لڑکی بیاہ کر آگی جو بچوں کو ایکسپٹ نا کرے تو کیا ہو گا۔ فرحان صاحب نے سمجھانا چاہا۔۔۔
جی جی ماموں آپ ٹینشن مت لیں۔ آپ یہ رشتہ بس پکہ سمجھیں۔موحد مسکراتے ہوۓ بولا۔۔
بھائی صاحب آپ اگر برا نا مانے تو میں کل آپ کو فون پر جواب دے دوں گی۔مجھے اپنی بیٹی سے بھی تو پوچھنا ہے۔ نجمہ بیگم نے کہا۔۔
ہاں ہاں کوئی بات نہیں میں انتظار کر لوں گی۔شہریار عبیرہ کو بہت خوش رکھے گا۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولے۔۔۔
اندر کیچن میں کھڑی عبیرہ نے ساری بات سن لی۔وہ اپنا چکراتا ہوا سکر سھنمبال کر پاس پڑی کرسی پر بیٹھی۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔اس نے اپنا سر اپنے ہاتھوں پر گِرا دیا۔
اپنے آپ کو سھنمبال کر وہ کہوے لے کپس لے کر باہر آئی۔اور ان کو پکڑا کر خود اپنے کمرے میں آ گئی۔
اس نے کمرے کے دروازے کو لاک لگایا۔۔اور جلدی سے فون پر کوئی نمبر ڈائل کیا۔۔۔
ہیلو فاہد دیکھو تمہیں کل ہی میرے گھر رشتہ بھیجنا پڑے گا۔اب میں اور کوئی بہانا نہیں سنوں گی۔ تم جلدی سے اپنی امی کو بھیجو۔وہ جلدی جلدی بولی۔۔
ایسی بھی کیا جلدی ہے آگے سے آواز اُبڑھی۔۔
جلدی میرے ماموں اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آۓ ہیں۔کل تک میری امی انہیں جواب بھی دے دیں گی۔اور تم بول رہے ہو جلدی۔۔ اسے غصہ آ گیا۔۔۔
دیکھو تم جانتی تو ہو میرے اوپر کتنی ذمہ داریاں ہیں مجھے پہلے اپنی بہنوں کی شادی کرنی ہے پھر میں تم سے شادی کا سوچ سکتا ہوں۔آگے سے فاہد بولا۔۔
اس چکر میں میری شادی کہی بھی ہو جاۓ۔عبیرہ کی آواز بہت مشکل سے نکلی۔۔
دیکھو میں ابھی تم سے شادی نہیں کر سکتا۔
تو کیا میں انکار سمجھوں اسے اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی
ہاں تم نا سمجھو۔کیونکہ میں ابھی خود شادی کے موڈ میں نہیں ہوں اور ویسے بھی مجھے کسی امیر لڑکی سے شادی کرنی ہے۔ تم تو بس ٹائم پاس تھی۔۔وہ ہنستے ہوۓ بولا۔۔
عبیرہ کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔
ٹائم پاس میں ٹائم پاس تھی۔اس کی آواز میں نمی تھی۔۔۔
ہاں اب تم میری جان چھوڑو۔بری آئی شادی کر لو۔باۓ۔ فاہد نے چڑ کر فون بند کر دیا۔۔
عبیرہ آنسوں سے بھری آنکھوں سے فون کی سکرین کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
عبیرہ باہر آؤ انکل جا رہے ہیں۔باہر سے اجالا کی آواز آئی۔۔۔
جی آئی وہ اپنے آپ کو سھنمبال کر اُٹھی اور منہ دھو کر باہر چلی گئی۔۔فرحان صاحب کو الواع کر کے وہ واپس کمرے میں بند ہو گئی۔۔
وہ بار بار فاہد کا نمبر ڈائل کر رہی تھی۔پر آگے سے نمبر بند آ رہا تھا۔۔۔
تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا۔مجھے تو یقین نہیں آ رہا تین سال کی محبت بھلا دھوکہ فریب کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔کوئی اتنا جھوٹ کیسے بولا سکتا ہے۔۔ وہ اوپر چھت کو دیکھ کر سوچ رہی تھی۔ساتھ میں آنسوں اس کی آنکھوں سے روک ہی نہیں رہے تھے۔۔۔
اسے اب بھی یاد تھا تین سال پہلے یونیورسٹی میں اسے فاہد سے محبت ہو گئی تھی۔ وہ دوں رات کو گھنٹوں ایک دوسرے سے باتیں کرتے۔ فاہد اس کا بہت زیادہ خیال رکھا۔ وہ دوسرے گاؤں کا تھا۔ اور غریب بھی تھا۔ اکثر وہ اس سے پیسے بھی لیتا رہتا تھا۔اب عبیرہ کو وہ سب سمجھ میں آ رہا تھا۔۔۔
میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔تم میرے مجرم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
اگر پسند آئی ہو تو پلیز کومینٹ میں ضرور بتائے گا۔۔
