No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
نکاح ہو گیا۔ شہریار نے کس دل سے سائین کیے یہ صرف وہی جانتا تھا۔ نور اور عمیر بہت خوش تھے۔کھانا وغیرہ کھا لینے کے بعد اب فرحان صاحب نے رخصتی کا بولا۔۔
بھائی صاحب تھوڑی دیر بیٹھ جائیں۔نجمہ بیگم فرحان صاحب کی بات سن کر بولیں
نجمہ ہمیں واپس جانا ہے۔اور تم جانتی ہو واپس جانے میں کتنے گھنٹے لگ جائیں گے۔
چلیں ٹھیک ہے۔نجمہ بیگم کہتی ہوئیں عبیرہ کے کمرے میں آ گئیں۔
میری بچی رخصتی کا وقت ہو چکا ہے۔میں اس وقت تجھے بس اتنا کہوں گئی۔
ان بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر پیار کرنا۔اور اپنے شوہر کی ہر بات ماننا۔ نجمہ بیگم نے اسے اپنے گلے سے لگاتے ہوۓ کہا۔وہ رو دی۔
آپ بھی وعدہ کریں اپنا بہت خیال رکھیں گئی۔اور کھانا وقت پر کھائیں گئی۔اور ہاں دوائی لینا مت بھولیے گا۔ عبیرہ انہیں چپ کرواتے ہوۓ بولی۔۔
امی کافی دیر ہو گئی ہے۔ماموں نیچے انتظار کر رہے ہیں۔چلو عبیرہ۔موحد اس کے پاس آیا۔فری نے اس کے چہرے پر چادر ڈال دی۔ موحد اسے کندھوں سے تھام کر کمرے سے باہر نکلا۔ وہ اپنے آپ کو بہت زیادہ کنٹرول کر رہی تھی۔کہ نا روۓ وہ جانتی تھی اگر وہ رو دی تو نجمہ بیگم بھی رو دیں گئی۔اس سے ان کی طبعیت خراب ہو سکتی ہے۔۔
قرآن پاس کے ساۓ میں اسے رخصت کیا گیا۔ جیسے وہ گاڑی میں بیٹھی اس کے صبر کا پیمانہ لبرلیز ہو گئی۔اور وہ پھوٹ کر رو دی۔
گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر شہریار بیٹھا۔ اس کے ساتھ والی سیٹ پر نور اور عمیر بیٹھے پچھلی سیٹ پر عبیرہ کے ساتھ شہریار کی بہن علینہ اپنے بیٹے ہادی کو لیے بیٹھی تھی۔۔۔
شہریار نے گاڑی چلا دی۔باقی گاڑیاں ابھی پیچھے تھیں۔۔۔
نور اور عمیر تو گاڑی میں ہی سو گے۔ پانچ گھنٹوں کے مسلسل سفر کے بعد با آخر وہ لوگ گھر پہنچ گے۔۔۔
شہریار گاڑی پارک کر کے بچوں کو اُٹھاۓ انہیں ان کے کمرے میں لے گیا۔۔
چلو عبیرہ باہر آ جاؤ۔علینہ نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا تو وہ باہر نکلی۔ چادر اب تک اس کے کندھوں تک آ چکی تھی۔۔
علینہ اسے لیے شہریار کے کمرے میں آ گئی۔
تم یہاں بیٹھو۔میں ہادی کو سلا کر آتی ہوں۔عبیرہ اسے کمرے میں چھوڑ کر باہر چلی گئی۔
وہ کمرے کے درمیان میں کھڑی کمرے کو دیکھنے لگی۔۔سامنے بہت خوبصورت بیڈ پڑا ہوا تھا۔ سامنے دیوار پر بہت خوبصورت عمیر نور اور شہریار کی تصویریں لگی ہوئیں تھیں۔ وہ چلتی ہوئی بیڈ کے اس طرف آئی اپنے پاؤں کو ہیل سے آزاد کر کے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔اسے یوں بری بری ہیلز پہنے کی عادت نہیں تھی۔
اتنے لمبے سفر کے بعد وہ بہت تھک چکی تھی۔تو بیڈ گرون سے ٹیک لگا کر اس نے آنکھیں مُندھ لیں۔۔
علینہ بچے عبیرہ کو کمرے میں چھوڑ آئی۔فرحان صاحب پوچھا۔
جی پاپا میں نے بیٹھا دیا۔وہ ہادی بہت تنگ کر رہا تھا اسی لیے میں اسے سلانے آ گئی۔ آپ کو کچھ چاہیے۔علینہ ان کے پاس آ کر بولی۔۔
نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے مجھے بس اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنی ہیں۔ آؤ فرحان صاحب اسے لیے صوفے پر بیٹھ گے۔۔
پاپا ایک بات پوچھوں آپ نے اتنی جلدی میں بھائی کی شادی کیوں کی۔وہ بھی عبیرہ سے پاپا وہ گاؤں کی لڑکی ہے۔وہ کیسے اس گھر کو سھنمبال سکے گئی۔علینہ نے اپنے دل میں چھپے سوال پوچھے۔۔
میں جانتا ہوں تمہیں یہ سوال بہت تنگ کر رہے ہوں گے۔۔پر آگر میں یہ فیصلہ آج نا لیتا تو کل کو شہریار خود کسی نا کسی لڑکی کو اپنی بیوی بنا کر کے آتا۔
میرے ذہین میں جب شہریار کی شادی کا خیال آیا۔تو صرف عبیرہ ہی اس کے قابل لگی۔وہی ہے جو اس کے بچوں کو اپنے بچے بنا کر رکھے گئی۔
اور وہی ایک لڑکی ہے کو تمہارے بھائی کو سیدھا کر دے گئی۔یہ تم لکھوا لو۔فرحان صاحب مسکرا کر بولے۔۔
چلیں دیکھتے ہیں آپ کا اندازہ کتنی حد تک درست ہوتا ہے۔ علینہ بھی مسکرا دی۔۔وہ وہی بیٹھے کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔۔۔۔
شہریار دو گھنٹے بعد کمرے میں داخل ہوا۔تو اس کی نظر سامنے بیڈ پر بیٹھی بیٹھی سوئی ہوئی عبیرہ پر پڑی۔۔وہ غصے سے اس کی طرف آیا۔
اُٹھو شہریار نے اسے اس کے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑتے ہوۓ اُٹھا۔
یااللہ کیا ہوا عبیرہ ایک دم ڈر کر اُٹھ بیٹھی۔۔
میرے بیڈ سے نیچے اترو۔شہریار نے اسے بازو سے پکڑتے ہوۓ بیڈ سے اتارا۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بیڈ پر بیٹھنے کی۔
وہ اس کا بازو کو زور سے دباتے ہوۓ بولا۔۔۔
وہ وہ علینہ آپی نے بولا عبیرہ آہستہ آوازمیں بولی۔۔۔
خبردار جو آج کے بعد تم میرے بیڈ پر سوئی۔
وہ رہا صوفہ اس پر سو۔اس نے عبیرہ کو صوفے کی طرف دھکا دیا۔
اور خود ڈرار سے سگریٹ نکال کر پینے لگا۔۔
اپنی اتنی تزلیل پر وہ حقہ بقہ رہ گئی۔اسے بہت غصہ آیا۔وہ ایک دم پلٹ کر اس کے قریب آئی۔۔
آپ نے مجھ سے نکاح کیا ہے۔ تو اس کمرے پر اس بیڈ پر میرا پورا حق بنتا ہے۔آپ کو کوئی حق نہیں بنتا میری اتنی بے عزتی کرنے کا۔وہ ایک دم پلٹ کر غصے سے بولی۔۔۔
ہاہا نکاح تم ذیادہ خوش فہمی میں مت رہو۔۔میں نے یہ نکاح صرف اور صرف پاپا کے دباؤ کی وجہ سے کیا ہے۔ ورنہ تم جیسی گاؤں کی گوار کو تو میں منہ بھی نا لگاؤں وہ اس کا مزاق اُڑاتے ہوۓ بولا۔۔
اپنے اپ کو اتنی امپوٹینس دینے کی ضرورت نہیں میں کوئی آپ سے شادی کرنے کے لیے مری نہیں جا رہی تھی۔اور ویسے اگر میں اتنی ہی ناپسند تھی تو انکار کیوں نہیں کیا۔ عبیرہ کا اس کی باتیں سن کر پارہ ہائی ہو گیا۔۔
میری چھوڑو تم نے انکار کیوں نہیں کیا؟ مجھے پتہ تم جیسی مڈل کلاس لڑکیوں کی سوچ کیسی ہوتی ہے۔ تم نے بھی سوچا ہو گا۔ اتنا امیر پیسے والا بندہ ہے۔اس سے شادی کر لیتی ہوں ساری زندگی عیش کروں گئی۔ وہ طنزیہ ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔
ہاں آپ کو تو صرف امریکہ والی لڑکیاں اچھی لگتی ہوں گئی جو پانچ سال بعد بھی چھوڑ کر چلی جاتی ہیں۔ عبیرہ نے بھی طنزیہ انداز میں جواب دیا۔۔
شٹ اپ خبردار اگر تم ایک بھی لفظ اور بولی۔۔
وہ اسے گردن سے پکڑتے ہوۓ دھاڑا۔آدھے سے زیادہ بال شہریار کے ہاتھ میں آگے۔۔
آہ چھوڑیں مجھے آہ پلیز وہ چلائی۔
جب اتنے سے بھی اس کا دل نا بھرا تو ہاتھ میں پکڑا سگرٹ اس کی سرخ مہندی سے بھری ہتیلی پر رکھ دی۔۔
آہ شہریار چھوڑیں مجھے وہ اپنی ہتھیلی چھڑوانے لگی۔اس کی آنکھوں میں آنسوں آ گے۔۔۔
تم بہت زیادہ بول رہی ہو۔میری شرافت کا ناجائیز فائدہ اُٹھا رہی تھی۔۔خبردار اگر آج کے بعد تم نے مجھ سے بحس کی یا مجھے کوئی بھی طعنہ دیا۔تو اس سے بھی زیادہ برا حال کروں گا۔۔شہریار نے اسے صوفے کی طرف پھینکا۔ عبیرہ نے اپنے آپ کو سھنمبالا ورنہ وہ زمین پر گرنے والی تھی۔۔۔
جاہل گوار وہ سگرٹ کو زمین پر پھینکتا اس پر پاؤں مسل کر غصے سے کہتا ہوا واشروم میں گھس گی۔۔
آہ یااللہ یہ تو پاگل وحشی انسان ہے۔عبیرہ روتے ہوۓ اپنی ہتھیلی کو دیکھنے لگی۔۔
آدھے گھنٹے بعد وہ واشروم سے نکلا تو وہ ویسے ہی بیٹھی اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہی تھی۔اور رو رہی تھی۔۔
تم جیسی لڑکیوں کے پاس یہ آنسوں کا ہتھیار ہی ہوتا۔وہ کوئی اور مرد ہوتے ہوں گے۔جو ان آنسوں پر مرتے ہیں میرے نزدیک نا تو تم اہمیت رکھتی ہو اور نا تمہارے یہ دو کوڑی کے آنسوں مجھے سونا ہے اب مجھے تمہاری آواز نا آۓ۔وہ تولیے کو صوفے پر پھینکتا لائیٹیں آف کرتا لینپ آن کر کے بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔
عبیرہ ویسے ہی بیٹھی رہی۔ اسے شدت سے اپنی تزلیل پر رونا آ رہا تھا۔اس نے کبھی ایسی بے رنگ زندگی کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ وہ آنکھیں بند کر کے صوفے پر لیٹ گئی۔ روتے روتے اس کی آنکھ لگ گئی۔ شہریار کب کا سو چکا تھا۔۔۔۔
چار بجے کے قریب اس کی آنکھ کھل گئی۔باہر سے اذانوں کی آواز آ رہی تھی۔۔
کچھ پل کے لیے وہ بھول گئی وہ کہاں ہے۔پھر ایک دم رات کا سارا واقعہ یاد آیا۔ وہ صوفے سے اُٹھی۔ اور اپنے بیگ کی طرف بڑھی۔اس میں سے
ریڈ کلر کی فراق نکالی اور واشروم میں چلی گئی۔۔
نہا کر کپڑے تبدیل کر کے وہ کمرے میں واپس آئی۔اور اپنے رات والے کپڑوں کو طے کر کے سامنے بنی کبڈ میں رکھا۔۔
اس نے وضو کیا ہوا تھا۔ کبڈ کے ایک خانے میں جاۓنماز پڑا ہوا تھا۔اسے زمین پر بیچھا کر وہ نماز پڑھنے لگی۔
سلام پھیر کر اس نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھاۓ ۔۔
پہلی نظر اس کی جلی ہوئی ہتھیلی پر پڑی۔وہ خاموش سی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھنے لگے۔پھر دل میں بولی۔۔
یااللہ تو برا رحیم ہے۔ تو میرے اوپر رحم کر۔ مجھے ہمت دینا میں اپنی اس نئی زندگی کو
سہ پاؤ۔
یا اللہ نکاح کے بولوں میں تو بہت طاقت ہوتی ہے۔وہ دو اجنبوں کے دلوں کو ایک کر دیتا ہے۔ یا اللہ ہم دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے بے پناہ محبت پیدا کر دے۔وہ دعا تو مانگ رہی تھی پر اس کی آنکھوں سے آنسوں روانہ ہو رہے تھے۔جو اس کے چہرے کے ساتھ اس کی چادر کو بھگو رہے تھے۔۔کافی دیر وہ اللہ سے باتیں کرتی رہی۔ پھر وہ جاۓ نماز کو طے کر کے کبڈ میں رکھ کر مُڑی۔
اب اسے نیند تو آنے سے رہی۔وہ اُٹھی اور کمرے کا دروازہ کھول کر باہر چلی گئی۔۔ وہ چلتے ہوۓ باہر گارڈن میں آئی۔اور واک کرنے لگی۔
واہ دلہن صاحبہ آپ تو بہت جلدی اُٹھ گئی۔ ویسے حیرانگی نہیں ہے گاؤں میں تو لوگ بہت جلد اُٹھ جاتے ہیں۔فاخرہ بیگم شمائلہ کے ساتھ ہاتھوں میں کھانے کے بول لے گھر کے داخلی دروازے سے اندر آتے ہوۓ بولیں۔ ساتھ میں دو اور نوکر تھے جن کے ہاتھوں میں بھی کھانا تھا۔۔
السلام علیکم مامی عبیرہ نے فوراً سلام کیا۔۔
وعلیکم السلام ویسے تیری ماں بہت چھپی رستم نکلی۔ کتنا لمبا ہاتھ مارا۔ہمارا اتنا پڑھا لکھا
فیکٹریاں سھنمبالنے والا گبرو جوان بچہ تمہارے جیسے ان پڑھ اور نکمی کے ساتھ جوڑ دیا۔ ان کے لہجے میں واضع نفرت محسوس کی جا سکتی تھی۔۔
آپ ایسے کیوں بول رہی ہیں۔ اچھا چھوڑیں ان باتوں کو اندر چلتے ہیں۔عبیرہ مسکراتے ہوۓ بولی۔اسے یہ باتیں حیران کن نہیں لگیں وہ فاخرہ بیگم کی عادات جانتی تھی۔۔
ہمیں تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں۔میرے تایا جان کا گھر ہے۔ بری آئی شمائلہ ناک چڑھا کر فاخرہ بیگم کو کر اندر چلی گئیں۔۔
حد ہو گئی عبیرہ کہتی ہوئی ان دونوں کے پیچھے اندر آ گئی۔۔
علینہ اور فرحان صاحب بھی اُٹھی چکے تھے۔۔
بھائی صاحب میں نے سوچا آج دلہن کی پہلی صبح ہے تو کیونکہ ناشتہ لے کر آؤ۔ اس کی ماں تو لانے سے رہی۔ وہ بول ڈائینگ ٹیبل پر رکھتےہوۓ بولیں۔۔۔
اتنا لمبا سفر کر کے میری بہن صرف ناشتہ لے کر کیوں آتی۔فرحان صاحب بھی جوابً بولے۔۔
عمیر اور نور نہیں اُٹھے میں اُٹھا کر لاتی ہوں۔ شمائلہ پھرتری سے کہتی سامنے بنے کمرے میں چلی گئی۔۔
عبیرہ تم شہریار کو اُٹھا دو۔ فرحان صاحب نے کہا تو عبیرہ ہاں میں گردن ہلاتی اوپر کمرے کی طرف چلی گئی۔۔
“*
شمائلہ نے بچوں کو اُٹھایا۔۔
نور نئی ماما سےملنے چلیں کل بھی نہیں مل پاۓ عمیر ایکسائیٹمنٹ میں بولا۔۔
ہاں چلو نور بیڈ سے نیچے اترنے لگے تب شمائلہ نے روکا۔۔
وہ تمہاری اصلی ماما نہیں ہے وہ تمہاری سوتیلی ماما ہے۔ اور جو سوتیلی ماما ہوتیں ہیں وہ بہت مارتیں ہیں۔تم دونوں اس کے پاس بالکل مت جانا۔
اور اگر وہ بات کرنا چاہے تو آگے سے بدتمیزی کرنا۔ یا جواب نا دینا۔ ورنہ وہ تمہارے پاپا کو بھی لے کر چلی جائیں گئی۔شمائلہ معصوم بچون کے دلوں میں نفرت ڈالنے لگی۔۔۔
پر دادا جان نے تو کہا تھا۔وہ بہت اچھی ہیں عمیر ساری باتیں سن کر پریشان سا ہو گیا۔۔
بالکل نہیں وہ بہت گندی ہے۔ایک دم چڑیل ہے۔جس نے تمہارے پاپا کو چھین لیا ہے۔ شمائلہ فوراً بولی ۔۔
ہم اسےنہیں چھوڑیں گے۔ نور اور عمیر دونوں اکھٹے بولے۔۔
چلو ابھی تم دونوں برش کر کے نیچے چلو ۔۔
ناشتہ کرتے ہیں۔شمائلہ نے انہیں بیڈ سے نیچے اتارا۔وہ دونوں کافی سہم گے تھے۔اس نے انہیں واشروم میں بھیجا
اب مزہ آۓ گا۔عبیرہ بی بی وہ قہقہ لگاتے ہوۓ بولی۔۔۔
عبیرہ کمرے میں آئی تب تک شہریار اُٹھ چکا تھا۔اور آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔۔
شہریار وہ ایم سوری مجھے رات کو اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔عبیرہ اس کے قریب ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آ کر بولی۔۔
آئیندہ اپنی زبان میرے سامنے کھولنے سے پہلے سو دفع سوچنا۔ ورنہ میں اس سے بھی برا پیش آؤں گا۔ وہ برش ڈریسنگ ٹیبل پر پھینکتے ہوۓ بولا۔ بیڈ سے کوٹ پکڑ کر پہنتے ہوۓ کمرے سے باہر نکلا۔۔۔
پتہ نہیں اتنی اکڑ کس نام کی ہے۔ میں نے بھی فضول میں معافی مانگ لی۔حالکہ معافی تو ان کو مانگنی چاہیے تھی۔۔ وہ منہ میں بڑبراتی اس کے پیچھے ہی نیچے چلی آئی۔۔۔
ماشاءاللّٰه آؤ بچو ناشتہ کرتے ہیں فرحان صاحب نے دونوں کو ایک ساتھ آتے دیکھا تو بولے۔۔
نور اور عمیر چپ کر کے بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔
باقی سب بھی بیٹھ گے۔۔۔
میں سوچ رہا ہوں کل ولیمہ کر لیتے ہیں کیا کہتے ہو شہریار؟ فرحان صاحب ناشتہ کرتے ہوۓ شہریار سے مخاطب ہوۓ۔
پاپا ابھی یہ ولیمہ مت کریں۔میں بہت مصروف ہوں۔دبی والے کلائینٹ سے آج میری میٹنگ ہے۔ اگر آج پراجیکٹ سائن ہو گیا تو دو مہینے کے لیے میں بہت مصروف ہو جاؤں گا۔ تو پلیز آپ یہ سب رہنے دیں۔بعد مین کر لیجیے گا۔۔وہ چاۓ پیتے ہوۓ بولا۔۔
بیٹے ولیمہ بہت ضروری ہے۔فرحان صاحب نے اسے منانا چاہا۔ عبیرہ نے اس کی طرف دیکھا۔۔
پاپا آپ کی ایک بات میں نے مانی ہے تو پلیز اب میری بھی مان لیں۔وہ کرسی پیچھے دکھیل کر کھڑا ہو گیا۔اور باہر کی طرف بڑھا۔۔
ٹھیک ہے۔فرحان صاحب نے بات کر بڑھانا مناسب نا سمجھا۔
پاپا مجھے بھی آج واپس جانا پڑے گا۔وہ میری ساس کی طبعیت کچھ خراب ہے۔تو جمیل بول رہے ہیں واپس آ جاؤ۔علینہ شہریار کے جانے کے بعد بولی۔۔
ٹھیک ہےمیں چھوڑ آؤں گا۔اور تمہاری ساس کی طبعیت بھی معلوم کر لوں گا۔
جاری ہے۔۔
