Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20 Part 2

ایم سوری بابا شہریار لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ ہر رہا تھا جب اسے آواز آئی شہریار نے گردن اُٹھا کر دیکھا سامنے چہرہ جھکاۓ عمیر کھڑا تھا۔۔ وہ اپنے کانوں کو پکڑکر سوری کر رہا تھا۔

آگےسے ایسی بدتمیزی کرو گے۔۔شہریار اپنی تھوڑی کو انگلیوں سے پکڑ کر بولا۔۔۔

نو نیور اب کبھی بدتمیزی نہیں کروں گا۔ وہ نا میں سر ہلانے لگا۔ عبیرہ صوفے پر بیٹھی مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔پاس نور اپنا ورک پورا کر رہی تھی۔ عبیرہ نے ہی عمیر کو معافی مانگنے کے لیےکہا۔۔۔۔۔

اٹیس اوکے تمہیں تمہاری غلطی کا احساس ہو گیا۔اتنا بہت ہے۔۔شہریار عمیر کو سینے سے لگاتےہوۓ بولا۔۔

آئی لو یو بابا عمیر شہریار کے گال پر بوسہ دے کر بھاگ گیا۔۔شہریار مسکرا دیا۔۔۔۔

غلطی کا احساس تو مجھے بھی ہوا ہے۔تو مجھے بھی معاف کر سکتے ہیں۔عبیرہ رجسٹر پر سوری لکھ کر شہریار کے قریب رکھتے ہوۓ بولی۔۔۔

تمہاری غلطی نہیں بے وقوفی تھی میرے نزدیک جان بوجھ کر بے وقوفی کرنے والوں کو معافی نہیں ملتی۔ شہریار رجسٹر کو بند کرتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔۔

شہریار باہرآئس کریم کھانے چلیں۔ابھی عبیرہ اور کچھ کہنے ہی والی تھی کہ پیچھے سے شمائلہ کی آواز آئی۔۔۔

ہاں چلو ۔۔شہریار نے ایک پل عبیرہ کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔اور اُٹھ کر شمائلہ کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔

عبیرہ کی ہمت ہی نا ہوئی کہ اسے روکے۔۔وہ وہی بیٹھی بند رجسٹر کو دیکھنے لگی۔۔۔۔


اس طرح ایک ہفتہ گزر گیا۔ عبیرہ نے شہریار کو بہت منانے کی کوشش کی پر وہ نہیں مانا۔۔۔۔شمائلہ شہریار کے مذید قریب ہوتی گئی۔۔۔

میرے کمرے میں آؤ بات کرنی ہے۔۔شہریار ٹیوی لونج میں بیٹھا ہوا تھا جب فرحان صاحب داخل ہوتے ہوۓ بولے۔۔وہ ان کے پیچھے کمرے میں چلا آیا۔۔۔

بیٹھو فرحان صاحب نے شہریار کو سامنے کرسی پر بیٹھنے کا کہا۔

میں پچھلے کافی دنوں سے محسوس کر رہا ہوں تم عبیرہ کےساتھ بات نہیں کرتے نا ہی ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہو۔ اور شمائلہ کے ساتھ تمہارا زیادہ ہی اُٹھنا بیٹھنا ہو گیا ہے۔۔وجہ بتانا ضروری سمجھتے ہو تو بتا دو۔۔فرحان صاحب کافی اپ سیٹ اور غصے میں لگ رہے تھے۔۔انہیں شہریار کا رویہ پسند نہیں آ رہا تھا۔

پاپا آپ فکر مت کریں میں جو کر رہا ہوں مجھے بہت اچھے سے پتہ ہے۔ اب جو میں کرنے والا ہو بس آپ اس میں میرا ساتھ دیجیے گا۔۔اپنی ہر کھوئی ہوئی چیز کو پانے کے لیے میں کچھ بھی کروں گا۔میری وجہ سے آج ہم اس حال میں ہیں۔پلیز مجھے یہ سب ٹھیک کرنے دیں۔۔شہریار اس کے پیروں میں بیٹھ کر بولا۔۔

اچھا ٹھیک ہے میں نہیں پوچھوں گا۔تم کیا کر رہے ہو۔۔میں تمہارا ساتھ بھی دے دوں گا میرا اگر اس سب میں میری بھانجی کا زیادہ دل دُکھا تو میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔۔۔فرحان صاحب اسے اُٹھاتے ہوۓ بولے۔۔۔

آئی نو آپ میرے پاپا نہیں بالکہ اپنی بھانجی کے ماموں زیادہ ہیں۔ اور بھانجی کے ماموں جی میں بس اسے تھوڑا سا تنگ کر رہا ہوں۔بہت جلد بات کر لوں گا۔۔شہریار مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔

گدھا اس چکر میں اگر وہ زیادہ روئی تو دیکھ لینا اس کا ماموں ہمیشہ اس کے ساتھ ہے۔۔فرحان صاحب شہریار کے سر پر ہلکا سا تھپر مارتے ہوۓ بولے۔۔۔۔

ہاہاہا ٹھیک ہے کیا اب میں جاؤں؟ شہریار ہنستے ہوۓ بولا فرحان صاحب نے مسکرا کر ہاں میں گردن ہلا دی ۔وہ باہر نکل آیا۔۔۔۔

**

ھی رات کے دس بج رہے تھے جب عبیرہ عمیر اور نور کو سُلا کر اپنے کمرے میں آئی۔ جب اس کی نظر بیڈ بیٹھے شہریار اور شمائلہ پر پڑی جو دونوں مگن سے انداز میں ٹیوی پر لگی فلم دیکھ رہے تھے۔شمائلہ مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہی تھی۔۔ اور شہریار بھی مسکرا کر ہی جواب دے رہا تھا۔۔۔

اور اب عبیرہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔۔۔۔وہ سویچ بوڈ کی طرف گئی۔ اور ٹیوی کی تار نکال دی۔۔۔۔ٹیوی کی سکرین بلیک ہو گئی۔۔۔شمائلہ اور شہریار نے اس کی طرف دیکھا۔۔
تم اندھی ہو دیکھا نہیں ہم مووی دیکھ رہے تھے۔ٹیوی کیوں بند کر دیا۔ شمائلہ بیڈ سے اتر کر اس کے پاس آتے ہوۓ بولی۔۔۔

یہ میرا کمرہ ہے اور مجھے نیند آرہی ہے۔تمہیں مووی دیکھنی ہے تو اپنے کمرے میں جا کر دیکھو۔عبیرہ اسے باہر کا رستہ دیکھاتے ہوۓ بولی۔۔۔

فائن چلو شہریار میرے کمرے میں جا کر دیکھتے ہیں۔شمائلہ طنزیہ مسکراہٹ عبیرہ کی طرف اچھالتے ہوۓ بولی۔۔۔

ہاں چلو چلتے ہیں۔۔شہریار جان بوجھ کر کھڑا ہو گیا۔۔شمائلہ کھل کر مسکرا دی۔۔۔

عبیرہ نے غصے سے بھی آنکھوں سے شمائلہ اور شہریار کی طرف دیکھا۔شہریار اس کے ساتھ جانے لگا جب اسے اپنا بازو کسی کی پکڑمیں محسوس ہوا۔اس نے مڑ کر دیکھا۔ تو عبیرہ اسے کا بازو دونوں ہاتھوں سے پکڑکر کھڑ تھی۔۔۔

بالکل نہیں آپ کہی نہیں جائیں گے مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔عبیرہ اسے بیڈپر بیٹھاتے ہوۓ بولی۔۔
ہم صبح بات کریں گے۔شہریار بول کر اُٹھا

بولا نا ابھی کرنی ہے۔عبیرہ نے دوبارہ نیچے بیٹھایا۔۔

پر مجھے فلم شہریار کچھ بولنے ہی والا تھا۔جب عبیرہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں ہر رکھ کر اس کی بولتی بند کر دی۔۔

آپ کو ایک بار میں سمجھ نہیں آتی۔۔لگتا ہے آپ کا دماغ زیادہ ہی خراب ہو گیا ہے۔۔عبیرہ کافی غصے سے بولی۔۔

لگتا ہے میڈم کو کافی غصے آ گیا ہے۔شہریار اس کے غصے سے پھولے ہوۓ چہرہ کو دیکھ کردل میں مسکرایا۔۔۔

اور تم جا سکتی ہو۔کب سے ہمارے سر پر کھڑی ہو۔دیکھ نہیں رہی مجھے اپنے شوہر سے اہم بات کرنی ہے۔۔عبیرہ شمائلہ پر غصے کرتے ہوۓ بولی۔۔۔

شمائلہ ان دونوں کو ایسے دیکھ کر اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوۓ باہر کی طرف چلی گئی۔۔۔

اس کے جاتے ہی عبیرہ نے شہریار کے منہ سے ہاتھ ہٹایا اور دروازے کی طرف آئی۔کمرے کا دروازہ زور سے بند کیا۔۔۔۔

پچھلے ایک ہفتے سے میں آپ کے نکھرے سہ رہی ہوں۔۔معاف مانگ مانگ کر میرا برا حشر ہو گیا ہے۔۔اور آپ پر کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا۔ آپ مزے سے اس چڑیل کے ساتھ گھوم پھیر رہے ہیں۔ کیا چاہتے کیا ہیں آپ عبیرہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کمرے پر رکھتے ہوۓ غصےسے بولی۔۔۔

شہریار حیرانگی سے اس کا بدلا ہوا روپ دیکھ رہا تھا۔۔۔
مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔ شہریار بول کر الماری کی طرف چلا گیا۔۔۔

مت کریں بات اب میں بھی معافی نہیں مانگوں گئی۔ارے ہو گئی غلطی مانگ لی معافی۔۔۔۔نہیں بات کرنی مت کریں اب میں بھی نہیں بولوں گئی۔۔۔جاۓ جا کر اس شمائلہ کے پاس چلے جائیں۔۔وہ واشروم کی طرف جا رہا تھا جب عبیرہ نے کُش پکڑ کر شہریار کو مارا۔۔شہریار اگنور کرتا واشروم میں چلا گیا۔۔

ہاہا ہا وہ واشروم میں آکر ہنس دیا۔۔

مجھے نہیں پتہ تھا اسے بھی غصہ آتا ہے۔۔ویسے کچھ بھی کہو آجکل بہت پیاری لگتی ہے۔اور غصہ کرتے وقت تو حد سے زیادہ پیاری لگتی ہے ۔۔وہ اپنے آپ کو شیشے میں دیکھتے ہوۓ بوۓ بولا۔۔۔

اندر وہ ہنس رہا تھا اور باہر عبیرہ غصے سے پاگل ہو رہی تھی۔۔

جب دیکھو اس کے ساتھ چپکے ہوتے ہیں۔ ارے ہو گئی غلطی معاف کرو آگے بڑھو پر نہیں صاحب جی کو تو اپنا بے فضول سا غصہ اور اکڑ دیکھانی ہے۔ مناؤ اور مناؤ اب تو بات بھی نہیں کروں گئی۔۔۔وہ بیڈ پر لیٹتے ہوۓ خود سے بول رہی تھی۔۔۔

شہریار واشروم سے باہر نکلا۔۔ تو اس کی نظربیڈ پر لیٹی عبیرہ پر پڑی۔۔۔۔

اپنا گیلا تولیہ اس نے عبیرہ کے چہرے ہر پھینک دیا۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے؟ وہ چلا کر اُٹھ بیٹھی۔اور تولیہ سٹینڈ پر رکھنے چلی گئی۔۔

تبھی اسے زور کا چکر آیا۔وہ گِڑنے لگی۔تبھی شہریار نے جلدی سے اسے تھام لیا۔

کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟ وہ جلدی سے بولا۔اور اسے بیڈ پر لا کر بیٹھایا۔عبیرہ اپنے سر کو تھام کر بیٹھ گئی۔۔۔

عبیرہ پانی پیو۔ شہریار نے پانی کا گلاس اس کے قریب کیا۔۔۔۔

دور رہیں مری نہیں ہوں جو پانی بھی نا پی سکوں۔۔آپ جائیں آپ کا مجھ سے بات نا کرنے والا روزہ ٹوٹ جاۓ گا۔۔عبیرہ پانی کا گلاس پکڑتے ہوۓ غصے سے بولی۔۔۔۔

چپ کر کے لیٹو۔بہت بول رہی ہو۔۔شہریار نےا سے پانی پلا کر زبردستی بیڈ پر لیٹایا۔اور خود پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

عبیرہ کے آنسوں نکل آۓ۔۔شہریار نے دیکھ لیا۔۔

عبیرہ اب یہ ڈرامہ بند کرو اور سو جاؤ۔شہریار اس کے آنسوں پر چوٹ کرتے ہوۓ بولا۔۔

آپ کو تو ہر چیز ہی ڈرامہ لگتی ہے جائیں یہاں سے عبیرہ غصے سے بولی۔اور اپنے منہ پر کمبل لے لیا۔۔۔

شہریار کا دل کیا اسے اپنے سینے سے لگا لے پر اپنے آپ کو روکتا ہوا وہ اپنی سائیڈپر آکر لیٹ گیا۔۔۔

اللہ میاں آپ اب مجھے آپ کے ساتھ کی بہت ضرورت ہے۔ کل جو میں کرنے جا رہا ہو اس کو کرنے کے لیے مجھے ہمت کی ضرورت ہے۔۔میری ہمت نا ٹوٹے اور میں اپنے کام پر اٹل رہوں۔۔۔۔وہ اوپر چھت کو دیکھتے ہوۓ دل میں بولا۔۔۔

اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔۔وہ اپنے پلین کے بارےمیں سچ رہا تھا۔اسی میں کافی وقت گزر گیا۔جب اسے اپنے سینے پر کسی بھاری وجود کا احساس ہوا۔۔اپنا سر اُٹھا کر دیکھا تو عبیرہ اس کے سینے سے لگی سو رہی تھی۔۔۔۔۔

شہریار کے چہرے پر مسکراہٹ کھل گئی۔۔

کل جو میں کروں گا آئی ہوپ تم مجھے سمجھو گئی اور میرا ساتھ دو گئی۔ شہریار اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔۔وہ نیند میں کسمسائی۔ شہریار نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔اور اپنی انکھیں بند کر دیں۔۔۔

شہریار آفس سے آیا۔۔۔۔ تو عبیرہ بیچاری ہمشہ کی طرح کیچن میں لگی ہوئی تھی۔ شہریار کو اس کے اتنا کام کرنے پر ہمشہ سے غصہ آتا تھا۔۔

وہ فریش ہو کر عمیر اور نور کے ساتھ بیٹھ گیا ان سے باتیں کرنے لگا۔۔۔

آج نا تو عبیرہ اسے دیکھ کر ا سکے پاس آ کر سلام کیا تھا اور نا ہی اسے پانی دیا تھا جووہ ہر روز کرتی تھی۔۔جس کا مطلب صاف تھا۔۔۔ا۔ وہ ناراض ہو گئی ہے۔۔۔ شہریار کو کب سے اس کا انتظار تھا۔پر وہ کیچن میں گھسی ہوئی تھی۔۔۔۔
رات کا کھانا کھانے کے لیے سب ٹیبل پر بیٹھے ہوۓ تھے
چاچو مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔شہریار ہمت کر کے بولا۔۔۔

بولو کیا بات کرنی ہے۔۔۔پیسے چاہیں۔۔ مجھے پتہ ہے میں نے تمہارا اور بھائی صاحب کا بینک اکاونٹ بند کر دیا۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا تم سب کی فضول خرچی سے میرے پیسے کم ہوں۔۔ ازیر صاحب طنزیہ انداز میں بولے۔۔۔

نہیں چاچو مجھے پیسے نہیں چاپیے۔یہ بات میں بھی مانتا ہوں ہم سب واقع میں بہت فضول خرچ ہو چکے تھے۔

۔شہریار نے اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوۓ کہا۔۔۔

چلو اچھی بات ہے تمہیں سمجھ آ گئی۔۔ازیر صاحب مسکراتے ہوۓ بولے۔۔۔فرحان صاحب نے شہریار کی طرف دیکھا۔۔۔

بات یہ ہے کہ جو ہو گیا اس کو بھول کر ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔۔یہ بات بھی بہت اچھے سے مانتا ہوں کہ آپ سے بہتر بزنس کو کوئی نہیں چلا سکتا۔ آپ بزنس کو سھنمبالیں۔پر میری ایک خواہش پوری کر دیں۔شہریار ازیر صاحب کی طرف دیکھ کر بولا۔جو غور سے اسے سن رہے تھے۔۔

بولنے سے پہلے شہریار نے ایک نظر عبیرہ کی طرف ڈالی۔۔جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔

میں اور شمائلہ ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں شہریار کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سب کے سر پر بم کے طرح گِڑے سواۓ شمائلہ کے وہ یہ سب جانتی تھی۔۔۔

یہ تم کیا بکواس کر رہے ہو۔ہوش میں تو ہو۔۔کہی ۔پاگل تو نہیں ہو گے ۔۔ فرحان صاحب غصے سے کھڑے ہو گے۔۔۔

جی پاپا بالکل ہوش میں ہوں۔ عبیرہ سے شادی سے پہلے میں نے آپ کو بولا تھا کل کو اگر مجھے عبیرہ پسند نا آئی۔
۔تو جب چاہے چھوڑدینا۔۔بس اب مجھے عبیرہ کی حرکتیں پسند نہیں آرہیں۔ میں اسے چھوڑنا چاہتا ہوں۔۔شہریار بھی کھڑے ہوتے ہوا بولا۔۔۔

دیکھا میرا کمال کیسا برین واش کیا ہے۔۔شمائلہ فاخرہ بیگم کے کان میں بولی ۔۔

عبیرہ شاک سی پھٹی ہوئی انکھوں سے شہریار کے منہ سے ایسے الفاظ سن رہی تھی۔

بس شہریار بہت ہوا شادی کوئی گڈے گُڈی کا کھیل نہیں ایک پسند نا آئی تو دوسری سے کر لو۔ فرحان صاحب غصے سے چلاۓ۔۔

مجھے اپنی بیٹی کی شادی کرنے میں کوئی مسلہ نہیں بس تم عبیرہ کو طلاق دے دو۔میں شادی کروادوں گا۔ ازیر صاحب کچھ سوچ کر بولے

ٹھیک ہے چاچو آج سے دو ہفتے بعد میری اور شمائلہ کی شادی کر دیں میں بچے کے پیدا ہونے کے بعد عبیرہ کو طلاق دے دوں گا۔۔اس سے پہلے ویسے بھی طلاق نہیں ہو سکتی۔شہریار بہت ہمت کر کے بولا۔

شہریار کے منہ سے نکلنے والے الفاظ عبیرہ کو تیر کی طرح گھائیل کر رہے تھے۔۔اپنی اور بےعزتی کروانے سے بہتر اس نے اُٹھ کر جانا سمجھا وہ اپنے آپ کو سھنمبال کر اوپر کمرے کی طرف چلی گئی۔۔اسے اپنا ہر قدم بہت بھاری محسوس ہو رہا تھا۔۔اس کا دل کیا وہ ابھی کے ابھی مر جاۓ۔۔۔۔۔

جو جی میں آتا ہے وہ کرو پر میری لاش کو کندھا مت دینا ۔۔۔میں تم۔سے یہ حق چھینتا ہوں۔ فرحان صاحب غصے سے کہ کر اپنے کمرے کی طرف چلے گے۔۔۔۔۔

فاخرہ بیگم۔ازیر صاحب کے پیچھے کمرے میں چلیں گییں۔۔
مجھے تو یقین نہیں آ رہا سب مان گے شکر ہے اب ہم دو ہفتوں بعد شادی کر لیں گے جلد ہو اس عبیرہ گوار سے جان چھوٹ جاۓ گئی۔۔۔شمائلہ ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔۔

شمائلہ ابھی مجھے آرام کرنا ہے۔میں اپنے کمرے میں جاتا ہوں۔تم جاؤ جا کر شادی کی پلینگ کرو۔۔۔شہریار اسے کہتا ہوا اوپر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔شمائلہ مسکراتے ہوۓ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔