Shikast E Muhabbat By Fatima Tariq Readelle50123 Episode 20 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20 Part 1
ماموں جان آپ ہاہر ناشتہ کرنے کیوں نہیں آۓ۔ سب ناشتہ کرکے اپنے اپنے کام پر چلے گے۔۔۔شہریار بنا ناشتہ کیے گیا۔تبھی عبیرہ کھانے کی ٹرے لے کر فرحان صاحب کے کمرے میں آئی۔ سامنے فرحان صاحب کچھ ڈاکومینٹس دیکھ رہے تھے۔
بس بیٹا دل نہیں کر رہا تھا۔اور مجھے یقین ہے ابھی تک تم نے بھی نہیں کھایا ہو گا۔۔فرحان صاحب فائلز کے کاغذ کو پلٹتے ہوۓ بولے۔۔
ماموں جان آپ مجھ سے ناراض ہیں؟ وہ اپنی انگلیاں پٹچکتے ہوۓ بولی۔
نہیں میں بھلا تمہارا کیا لگتا ہوں جو تم سے ناراض ہوں گا۔ فرحان صاحب کی آواز میں واضع ناراضغی تھی۔
ایسی بات نہیں ماموں عبیرہ جلدی سے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر فرحان صاحب کے پاس بیٹھ کر بولی۔۔۔
اگر ایسی بات نہیں تو کیوں اتنی بری بری باتیں چھپائیں۔انہوں نے فائل بند کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
بس میں ڈر گئی تھی۔ میں نہیں چاہتی تھی۔میرے پاسٹ کے بارے میں کوئی بھی بات باہر آۓ۔ مجھے لگا اگر کچھ بھی ایسی ویسی بات باہر آ گئی تو آپ سب مجھ سے بدگمان نا ہو جائیں۔ بہت بار سوچا شہریار کو اس بات کے میں بتا دوں۔پر پتہ نہیں کیوں ہمیشہ خاموش ہو جاتی۔ کاش پہلے بتا دیتی تو آج یوں آپ سب ناراض نا ہوتے۔۔۔۔ آخر میں اس کی آواز نم ہوگی۔۔
چلو کوئی بات نہیں میری بیٹی روتے ہوۓ بالکل بھی اچھی نہیں لگتی۔۔ ابھی نور یا عمیر نے تمہیں روتے ہوۓ دیکھ لیا ہوتا تو مجھ سے ہی لڑنا شروع ہو جاتے کہ دادا جان ہماری ماما کو کیوں رُولایا۔۔فرحان صاحب عبیرہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولے۔
ہاہا عبیرہ ہنس دی۔۔کیونکہ وہ بالکل سچ بول رہے تھے۔ ۔
ایک بات کی مجھے بہت خوشی ہوئی۔فرحان صاحب بولے۔۔عبیرہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
مجھے خوشی ہوئی کہ کل شہریار نے تمہاری سچائی پر یقین کیا۔نا کہ اس لڑکے کے جھوٹ پر۔ میرے بیٹے کو پورا بدل کر رکھ دیا۔آج سے پہلے میں نے اس کی نظروں میں کسی کے لیے اتنا بھروسہ نہیں دیکھا۔ فرحان صاحب مسکراتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
عبیرہ کو ایک بار پھر شرمندگی نے گھیر لیا۔۔ کہ اس نے شہریار کے بھروسے کا مان نہیں رکھا۔
عبیرہ کھانے کی ٹرے وہی رکھ کر باہر آئی۔اور سیدھی اپنا موبائل لے کر بیٹھ گئی۔۔اور دانین سے بات کرنے لگی۔۔وہ کافی دنوں سے یونی نہیں گئی تھی۔۔تو اس نے سوچا آج یونی چلی جاۓ پہلا لیکچر تو مس ہو گیا تھا۔لیکن باقی کے لیکچر کا شیڈیول پتہ کر کے وہ یونی جانے کے لیے تیار ہو گئی۔۔۔
اس نے کچھ بولا۔۔شہریار آفس میں بیٹھا اپنے ایس پی دوست سے فون پر بات کر رہا تھا۔۔۔۔
ہاں بولا۔ زیادہ کوشش نہیں کرنی پڑی۔بہت ہی کوئی عام کھیلاڑی ہے۔ میرے دو ڈنڈے پڑنے پر ہی سب اگل دیا۔۔۔ کسی شمائلہ اور نیلم کا نام لیا ہے۔ انہوں نے پیسے دے کر تمہاری پراپڑٹی کے پیپرز سائن کرواۓ ہیں۔ اور جو بھی بھابھی کے بارے میں بکواس کر رہا تھا وہ شمائلہ کے کہنے پر کر رہا رھا۔ ایس پی منیب بولا۔۔۔
اپنی پراپرٹی واپس لینے کے لیے کیا اتنے ثبوت کافی ہوں گے۔۔ شہریار میز پر پڑے سگڑٹ سٹینڈمیں سیگرٹ بھجاتے ہوۓ بولا۔۔
نہیں اس سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہو گا ہمیں اور پلین کرنا پرے گا۔ یہ ثبوت بھی صحیح ہے پرہمیں اور بھی کافی ثبوت چاہیں۔ منیب بولا۔۔۔
چلوٹھیک ہے میں شام میں آکر ملتا ہوں۔شہریار نے باہر سے ازیر صاحب کو آتے ہوۓ دیکھا تو کال کاٹ دی۔۔۔۔
میں اس شمائلہ کو کیسے بھول سکتا ہوں۔مجھے پہلے کیوں یہ احساس نہیں ہوا وہ ایسی حرکت کر سکتی ہے۔ شہریار سگرٹ کا کش بھرتے ہوۓ سوچ رہا تھا۔۔
اب میں ان سب کو بتاؤں گا گیم کیسے کھیلتے ہیں۔۔انہیں ان ہی کی گیم میں الجھا نا دیا تو میرا نام شہریار نہیں۔وہ کش بھرتے ہوۓ مسکرایا۔۔۔۔
عبیرہ شہریار کو منانے کے لیے طریقہ ڈھونڈ رہی تھی۔ ابھی بھی وہ پچھلے مسلسل تین گھنٹوں سے شہریار کی فیورٹ چیزیں بنا رہی تھی۔۔ وہ کسی بھی طرح شہریار کو منانا چاہتی تھی۔۔صبح شہریار بنا کچھ کھاۓ چلا گیا۔تو عبیرہ نے بھی صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔
ویسے ماننا پڑے گا بری ہی کوئی آلا قسم کی ڈھیٹ اور بے غیرت ہو۔۔ عبیرہ مصروف سی کام کر رہی تھی۔تبھی فاخرہ بیگم کیچن میں داخل ہوتے ہوۓ بولیں۔۔۔
مامی آپ ایسے کیوں بات کر رہیں ۔ عبیرہ حیرانگی سے بولی۔۔۔۔
واہ تم تو جیسے پاک صاف اور بہت معصوم ہو۔ ابھی کل تو ایک یار آیا تھا۔ ناجانے اور کتنے رکھے ہوۓ تھے۔۔میرے معصوم سے بچے کی زندگی میں آ گئی۔ فاخرہ بیگم نہایت تلخ لہجے میں بولیں۔۔۔
عبیرہ کو ان کے الفاظ تیر کی طرح لگے۔۔۔آنسوں اس کے گالوں پر بہ رہے تھے ۔
اب بھی بچہ کر کے بیٹھ گئی ہو۔۔سب جانتی ہوں۔اس گھر میں اپنے پاؤں جمانا چاہتی ہو۔ تاکہ صرف اپنے بچے پر توجہ دو اور ان دو معصوموں کو بھول جاؤ۔۔۔فاخرہ بیگم۔کے دماغمیں جتنا زہر بھرا تھا وہ سب آج عبیرہ پر اندھیلنا چاہتی تھیں۔ سامنے کھڑی عبیرہ حیرانگی سے بس ان کی شکل دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
ماما پلیز جانے دیں نا بس دس منٹ میں واپس آ جاؤں گا۔ ابھی فاخرہ بیگم کچھ اور بھی بولتیں تبھی عمیر کیچن میں آیا۔۔۔وہ کب سے اپنے دوست کے گھر جانے کی ضد کر رہا تھا جیسے عبیرہ انکار کر رہی تھی۔۔
عمیر کی آواز سن کر عبیرہ نے جلدی سے اپنے آنسوں صاف کیے۔۔۔اور اس کے پاس آئی۔۔فاخرہ بیگم وہاں سے نکل گئیں۔۔۔
عمیر میں نے آپ کو پہلے بھی بولا ہے۔ آپ کے بابا آپ کو جانے نہیں دیں گے۔۔تو میں کیسے دے دوں ۔اور آپ کے دوست کا گھر بھی کافی دور ہے۔۔۔عبیرہ اس کے پاس نیچے بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
تو ٹھیک ہے اب میں کسی سے بات نہیں کروں گا۔۔عمیر منہ بنا کر باہر چلا گیا۔۔عبیرہ بس اسے روکتی ہی رہ گئی۔
اس کے دماغ میں فاخرہ بیگم کی باتیں گھوم رہیں تھیں۔وہ روتے ہوۓ کھانا بنانے لگی۔۔۔۔
رات نو بجے کے قریب سب کھانا کھا رہے تھے۔۔تبھی شہریار اپنا کوٹ بازو پر ڈالے اور ہاتھ میں سوٹ کیس لیے اندر آیا۔۔۔
شہریار فریش ہو کر نیچے آؤ۔ عبیرہ نے کھانا بنایا ہے۔۔سب تمہاری پسندیدہ چیزیں ہیں فرحان صاحب چاولوں کو پلیٹ میں نکالتے ہوۓ بولے۔۔۔۔۔
پاپا میں نے ڈینر کر لیا ہے۔ ابھی میں بہت تھکا ہوا ہوں۔ شہریار کہتا ہوا اوپر کمرے کی طرف چلا گیا۔ عبیرہ کو بہت برا لگا۔ وہ اپنی نم آنکھیں چھپاتے ہوۓ۔۔میں ابھی آتی ہوں کہ کر کیچن کی طرف چلی گئی۔۔
شمائلہ جس کاموڈکل سے خراب تھا۔وہ مسکرائی۔۔۔
★*
عمیر بیٹا کیا ہوا تم یہاں کیا کر رہے ہو اور کھانا کیوں نہیں کھایا۔۔۔شہریار جیسے ہی کمرے میں آیا۔ سامنے صوفے پر عمیر منہ بنا کر بیٹھا ہوا تھا۔
مجھے کسی سے بات نہیں کرنی۔ سب بہت برے ہیں۔ مجھے میرے دوست کے گھر نہیں جانے دیا۔۔اتنا مزہ آنا تھا باقی سب کے سب وہاں اکھٹے ہو کر کھیل رہے ہیں اور میں یہاں بند ہوں۔۔عمیر منہ پھلاتے ہوۓ بولا۔۔۔
عمیر میں نے پہلے بھی بولا ہے۔ میں تمہیں فل حال کہی جانے کی آجازت نہیں دے سکتا پہلے تھوڑے سے برے تو ہو جاؤ۔ پھر جہاں مرضی جانا۔۔شہریار اپنا بیگ اور فائل ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
مجھے جانا ہے مجھے نہیں پتہ ابھی کے ابھی چھوڑکر آئیں۔ مجھے جانا ہے مجھے جانا یے۔۔۔۔۔عمیر زور زور سے بولے جا رہا تھا۔۔۔۔۔
عمیر اسٹاپ ایٹ، چپ کرو۔شہریاراونچی بولا۔۔۔
نہیں مجھے نہیں پتہ مجھے جانا ہے مجھے جانا ہے۔ وہ بنا شہریار کی بات سنے اور اونچی اونچی بول رہا تھا۔۔۔شہریار کا پہلے ہی سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔
ٹھاہ شہریار سے اور برداشت نا ہوا تو اس کا ہاتھ اُٹھ گیا۔
شہریار یہ کیا کر رہے ہیں۔چھوڑیں۔تبھی عبیرہ جو عمیر کے لیے ٹرے لے کر آ ئی تھی۔۔سامنے شہریار کو عمیر پر ہاتھ اُٹھاتے ہوۓ دیکھ چکی تھی۔وہ ٹرے کو بیڈ پر رکھ کر دونوں کے درمیان آئی۔ اور عمیر کو اپنی آغوش میں لے لیا۔۔
تم درمیان میں مت آؤ۔ ہٹو شہریار نے عبیرہ کو ہٹانا چاہا۔۔۔
کیا ہو گیا ہے۔غصہ مجھ پر ہے تو مجھ پر نکالیں۔خبردار جو میرے بچوں پردوبارہ ہاتھ اُٹھایا۔ عبیرہ اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوۓ بولی۔۔۔اس کے سینے سے لگا عمیر رو اور کانپ رہا تھا۔۔
بھاڑ میں جاؤ تم سب اور اس کو تھوڑی سی تمیز سیکھاؤ۔شہریار غصے سے کہتا واشروم میں گھس گیا۔۔۔
چپ میرا بچہ عبیرہ عمیر کو گود میں لیے بیٹھ گئی۔۔۔۔
بابا نے ماراااا مارا عمیر روتے ہوۓ بولا۔۔۔
عمیر آپ نے کیوں اپنے بابا سے بدتمیزی کی۔
میں تو بس بولا تھا مجھے میرے دوست کے گھر چھوڑکر آئیں۔۔عمیر روتے ہوۓ بولا۔۔۔
بےبی جب میں نے آپ کو منا کر دیا تو کیوں دوبارہ سے وہی بات شروع کی۔ وہ تھکے ہوۓ آۓ اوپر سے آپ نے بدتمیزی سے بات کی تو انہیں تو غصہ آۓ گا۔۔عبیرہ اسے پیار سے سمجھانے لگی۔۔
تبھی شہریار فریش ہو کر باہر نکلا۔ دونوں کو صوفے پر بیٹھے باتیں کرتا دیکھ وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
چلو جاؤ منہ دھو کر آؤ اور کھانا کھاؤ۔۔ عبیرہ اسے گود سے اتارتے ہوۓ بولی۔۔۔
عمیر اپنے آنسوں صاف کرتا واشروم کی طرف بڑھا۔۔
★★★
شہریار نیچے آیا وہ باہر گارڈن کی طرف گیا وہاں پر رکھے جھولے پر بیٹھ گیا۔۔اور آج ایس پیس سے ہونے والی باتوں پر غور کرنے لگا۔۔
وہ کب سے اکیلا بیٹھا تھا۔۔
شہریار یہاں کیوں بیٹھے ہو۔تبھی سامنے سے شمائلہ آئی۔۔اور اس کے ساتھ جھولے پر بیٹھ گئی۔۔۔
ویسے ہی دماغ کو فریش کرنے کے لیے بیٹھا ہوں۔شہریار سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔
شمائلہ پتہ نہیں مجھے تم سے یہ بات کرنی بھی چاہیے یا نہیں۔۔۔شہریار کنفیوز سا ہو کر بولا۔۔۔
اگر کوئی پریشانی کی بات ہے تو بولو۔۔شمائلہ تو شہریار کے ایسے بلانے پر ہی خوش سے پھول نا سمائی۔۔
اصل میں بات یہ ہے۔۔کل جو کچھ بھی ہوا مجھے وہ سب بھول نہیں رہا کسی دوسرے مرد کا یوں آ کر میری بیوی کے بارے میں کہنا مجھے زرا ہضم نہیں یو رہا۔شہریار سامنے کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔
پتہ نہیں تم نے اس پر یقین کیسے کر لیا۔۔تمہیں کل ہی ہاتھ پکڑ کر اسے گھر سے باہر نکال دینا چاہیے تھا شمائلہ کے تو دل میں لڈو پھوٹ گے۔۔۔۔
پہلے میں ایسا ہی کرنے لگا پھر اپنی ریپوٹیشن کی فکر ہونے لگی۔ اگر اس طرح اپنی بیوی کو باہر نکالتا تو سارے زمانے والے میرے بارے میں کس قسم کی باتیں کرتےیہ تم جانتی ہو۔۔وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔۔۔
آئی نو میں سمجھ سکتی ہوں۔پر تم اب کیا کرو گے۔۔وہ شہریار کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔۔ تبھی شہریار کی نظر اوپر اپنے کمرے کی کھڑکی پر پڑی جہاں عبیرہ کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی۔۔شہریار نے اس کا ہاتھ نہیں ہٹایا۔۔ شمائلہ اور زیادہ خوش ہو گئی۔۔۔
کیا کر سکتا ہوں میرے پاس تو اب میری پراپڑٹی بھی نہیں رہی۔ اب اگر اس کو چھوڑدو تو کون سی ایسی لڑکی ہو گی جو دو بچوں کے کنگال باپ سے شادی کرے گی۔۔شہریار افسردہ لہجے میں بولا۔۔
میں ہو نا تمہارے ساتھ تم ٹیشن مت لو سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔شمائلہ اپنا ہاتھ شہریار کے ہاتھ پر رکھتے ہوۓ بولی۔۔
۔عبیرہ سے اب اور برداشت نا ہوا وہ کھڑکی سے ہٹ گئی۔
۔
شمائلہ کیا تم ایک کپ کافی بنا سکتی ہو سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔۔شہریار اس کا ہاتھ ہٹاٹے ہوۓ بولا۔۔۔
ہاں بالکل میں ابھی لائی۔۔۔وہ مسکراتے ہوۓ اُٹھی اور چلی گئی۔۔
ہمممم اب آۓ گا مزہ۔۔۔۔شہریار سگرٹ نکالتے ہولا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
