Shikast E Muhabbat By Fatima Tariq Readelle50123 Episode 9 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9 Part 1
شہریار ایک کیفے میں بیٹھا مسٹر حماد کے ساتھ پروجیکٹ کے سلسلے میں میٹنگ کر رہا تھا۔ یہ وہی پروجیکٹ تھا۔جس سے ان کی کمپنی کا فائنشنلی سٹیٹس بہتر ہو جاتا۔ شہریار اس پروجیکٹ کو کسی بھی قیمت میں حاصل کرنا چاہتا تھا۔۔۔
دیکھو شہریار مجھے تمہارا یہ پلین بہت پسند آیا ہے۔میں یہ پروجیکٹ تمہاری کمپنی کو دینے کے لیے تیار ہیں۔ مجھے خوشی ہوئی تم فرحان صاحب کے بیٹے ہو۔ اور کافی ٹیلنڈیڈ بھی ہو۔۔۔وہ خوشدلی سے بول رہے تھے۔۔
شکریہ بس آپ بتاۓ ہم کونٹریکٹ کب سائن کریں۔۔شہریار بولا۔۔۔
میں نے پہلے ہی تمہیں اپنی پارٹی کا انویٹیشن بھیجا ہے۔۔ تم اپنی بیوی کو ضرور لے کر آنا۔وہاں پر سب کپلز ہی ہوں گے۔۔پھر آج پارٹی میں ہی کونٹریکٹ سائین کر لیں گے۔۔وہ مسکراتے ہوۓ بولے۔۔۔
جی بالکل ابھی پھر اجازت دیں۔ شہریار اپنا فون پکڑتے ہوۓ اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
حماد صاحب اس سے ملے شہریار کیفے سے باہر نکل آیا۔۔۔۔۔۔۔
میں عبیرہ کو کیسے پارٹی میں لے کر جا سکتا ہوں۔وہ تو میری ناک کٹوا دے گئی۔ شہریار گاڑی میں بیٹھا سوچ رہا تھا۔۔۔۔
وہ گاڑی آفس کی طرف موڑ گیا۔۔۔۔آفس میں داخل ہوتے ہی اس کا سامنہ شمائلہ سے ہوا وہ بری بے پرواہی سے اپنی سیٹ پر بیٹھی چاۓ پی رہی تھی۔۔۔
شہریار نے ترچھی نظروں سے سارے سٹاف کو دیکھا سب شہریار کے غصے سے واقف تھے۔ سب کام میں مصروف ہو گے۔۔سواۓ شمائلہ کے شہریار اس کے کیبن کی طرف آیا۔۔۔
میرے آفس میں آؤ۔۔وہ اس کے پاس کھڑا ہو کر سخت لہجے میں بولا۔۔۔
شمائلہ ڈر کے مارے اچھلی پر تک وہ اپنے آفس میں چلا گیا۔۔شمائلہ بھی بھاگ کر اس کے آفس میں آئی۔
تم یہاں انٹرنشپ کرنے آئی تھی۔ ایک مہینہ پورا ہو چکا ہے۔ تمہاری انٹرنشپ کا وقت ختم ہو چکا ہے۔۔
تم کل سے أفس میں نہیں آؤ گئی۔شہریار اپنا کوٹ اتار کر سائد پر ٹانگتے ہوۓ بولا۔۔۔
لیکن شہریار مین تمہارے آفس میں کام کرنا چاہتی ہوں۔ شمائلہ ٹینشن میں آ گئی۔۔
تمہارے پاپا کا آفس ہے وہاں جا کر کام کرو۔۔تمہیں میں نے ان کے کہنے پر انٹرنشپ کی اجازت دی تھی۔۔کل سے تم آفس نہیں آؤ گئی مجھے اپنے آفس میں بے کار لوگ نہیں چاہیے شہریار اپنا لیپ ٹاپ کھولتے ہوۓ بولا۔۔
شہریار مین تمہاری کزن ہوں تم مجھے بے کار کہ رہے ہو۔وہ دکھ بھرے لہجے میں بولی۔۔۔
تمہیں شائد ایک بار میں سمجھ نہیں آتی۔۔جاؤ یہاں سے مجھے کام کرنا ہے۔۔وہ سخت نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
شمائلہ اپنی اتنی بےعزتی پر دانت پیستی وہاں سے نکل گئی۔۔۔
عبیرہ ٹیوی لونج میں بیٹھی ٹیوی دیکھنے میں مصروف تھی جب اس کے موبائل پر بیپ ہوئی۔۔۔
عبیرہ نے موبائل ہاتھ میں لیا تو اس پر میسج شو ہو رہاتھا۔۔۔
کیسی ہو میری جان۔۔۔۔ ان نو نمبر سے اس طرح کا میسج پڑھ کر عبیرہ ایک پل کو شاک ہو گئی۔۔۔
کون؟؟؟ عبیرہ نے رپلائی کیا۔۔۔۔
ہاہاہہاہا میری جان تمہارا عاشق اگے سے رپلائی آیا۔۔۔
عبیرہ کے ہاتھ پاؤں پھول گے۔
کیا بکواس ہے کون ہو تم ؟؟؟ عبیرہ نے اپنا آپ سھنمبالتے ہوۓ میسج کیا۔۔۔
کیا جان اتنی جلدی بھول گئی۔فاہد ہوں جس سے تم بے پناہ پیار کرتی تھی۔۔آگے سے میسج آیا۔۔۔
عبیرہ ایک دم صوفے سے اچھلی۔۔اس نے جلدی سے نمبر بلاک کیا اور موبائل آف کر دیا۔۔۔۔
یا اللہ اب یہ فاہد کہاں سے آ گیا۔۔۔ عبیرہ اپنے چہرے پر آۓ پسینے کو پونچھتے ہوۓ بولی۔
تبھی لین لائن پر کال آئی۔۔ عبیرہ کے چہرے کی ہوائیاں اُڑ گئیں۔۔
وہ فون نہین اُٹھانا چاہتی تھی۔۔۔لیکن مسلسل تین دفعہ کال آنے پر مجبورن اسے کال اُٹھانی پڑی۔۔۔
ہیلو۔اس نے گھبڑاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
کہان تھی تم کب سے فون کر رہا ہوں اور موبائل کیوں آف ہے۔۔آگے سے شہریار غصے سے بولا۔
عبیرہ کی جان مین جان آئی۔۔۔
وہ میں کیچن میں گھی اس نے بہانا بنایا۔۔۔
سنو رات کو ہم نے پارٹی پر جانا ہے۔۔ابھی میں ڈریس اور میک آرٹسٹ کو بھیج رہا ہوں۔ وہ شام پانچ بجے تک آ جاۓ گئی۔۔وہ آ کر تیار کر دے گئی۔۔شہریار بولا۔۔۔
پارٹی مجھے نہیں جانا عبیرہ پارٹی کا نام سن کر ہی پریشان ہو گئی۔۔۔
میں نے کوئی ایس کیوز نہیں سننا تم تیار رہنا میں آٹھ بجے تک پہنچ جاؤن گا۔۔شہریار نے بنا اس کی بات سنے کال کاٹ دی۔۔۔
عبیرہ پریشان سی صوفے پر بیٹھ گئی۔وہ فاہد کے بارے میں سوچ کر پریشان ہو رہی تھی۔۔۔۔
شام تک دو لڑکیاں آ چکیں تھیں۔
عبیرہ ساڑھی کو دیھکے کافی پریشان ہو گئی۔اس کے بازو چھوٹے چھوٹے سے تھے۔اور بیچھے سے گلا بھی تھوڑا برا تھا۔۔
اس نے ناچاہتے ہوۓ بھی وہ پہن لی۔۔۔ایک گھنٹے تک وہ باکل تیار ہو چکی تھی۔ میک آرٹیسٹ تیار کر کے جا چکین تھیں۔۔۔
عبیرہ اپنا آپ شیشے مین دیکھ کر بہت گندھا محسوس کر رہی تھی۔۔۔وہ اس وقت بلو ساڑھی میں ملبوس تھی۔۔جس کی آستین بہت چھوٹی تھیں۔جس میں اس کے سفید بازو نظر آ رہے تھے۔۔کمر پر تو اس نے بول بول کر بال کھلے چھڑواۓ تھے۔۔۔جس سے پیچھے کا برا گلا چھپ گیا تھا۔۔۔
اسے اس طرح کے ڈریسس بالکل پسند نہیں تھے۔وہ تو ہمیشہ اپنے آپ کو چادر کے اندر ڈھکے رکھتی تھی۔۔۔
وہ سر جھٹکتی الماری کی طرف بڑھی شہریار کے کپڑے نکال کر ایک طرف رکھے۔
نور اور عمیر دوپہر میں ویک اینڈ کے لیے علینہ کے گھر چلے گے تھے۔انہوں نے کل واپس آنا تھا۔۔۔۔
عبیرہ کو شہریار کی گاڑی کا ہان سنائی دیا۔۔ اس طرح کے لباس میں اسے بہت شرم محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
شہریار ہاتھ مین بیگ لے کر اندر آیا۔۔۔
تم تیار ہو وہ کمرے میں داخل ہوتے مصردف اندر میں بولا۔۔ عبیرہ کا منہ دوسری طرف تھا۔
ہان تیار ہوں وہ ناچاہتے بھی پلٹی۔۔
شہریار کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی وہ دم بخود اسے دیکھے گیا۔۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔عبیرہ
اتنی پیاری لگے گئی۔۔۔
عبیرہ گھبڑا کر اپنے بال ٹھیک کرنے لگی۔ وہ آپ کے کپڑے میں نے واشروم مین رکھ دیے ہیں آپ تیار ہو جائیں۔۔عبیرہ گھبڑاتے ہوۓ بولی۔۔۔وہ شہریار کی نگاہوں کی تپش محسوس کر رہی تھی۔۔۔
شہریار نے اپنی نگاہوں کا ذاویا بدلہ اور اپنے آپ کو کمپوز کرتا وہ واشروم مین گھوس گیا۔۔۔
عبیرہ صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔
شہریار چینج کر کے کمرے میں آیا۔اور شیشے کے سامنے کھڑا اپنے بال بنانے لگا۔۔۔
شہریار مجھے ایک بات کرنی تھی۔۔عبیرہ اپنی انگلیاں مڑوتی ہوئی بولی۔۔۔
بولو۔۔شہریار شیشے سے اس کی حرکتیں نوٹ کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
وہ مجھے یہ ڈریس بہت انکمفرٹیبل فیل ہو رہا ہے۔کیا مین کوئی اور ڈریس پہن لوں۔۔عبیرہ کھڑی ہو کر اس کے پاس آتے ہوۓ بولی۔۔۔
کیا خرابی ہے اس میں اچھا خاسہ تو ہے۔مجھے نا اب یہ فالتو کی باتین نہین سننی جلدی سے نیچے آ جاؤ۔
پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔۔شہریار اپنا موبائل پاکٹ میں رکھتا ہوا بولا ۔اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
عبیرہ نا چاہتے بھی اس کے ساتھ چل دی۔
دونوں ایک گھنٹے کے بعد پارٹی کی لوکیشن پر پہنچے۔۔۔
وہ ایک بہت برا فام ہاؤس تھا شہریار اسے ساتھ لیے اندر داخل ہوا۔۔۔
عبیرہ آج میں بہت برا پروجیکٹ سائن کرنے والا ہوں۔تو تم وہاں ایسی کوئی حرکت مت کرنا جس سے مجھے شرمندھا ہونا پڑے۔۔شہریار ا سکا ہاتھ اپنے ہاتھ مین لے کر آگے بڑھتے ہوۓ بولا۔
عبیرہ کنفیوز سی ہوتی اس کے ساتھ چلے جا رہی تھی۔
ہیلو شہریار حماد صاحب کے پاس آ کر بولا۔۔۔
ویلکم ویلکم میں اس کی بات کر رہا تھا یہ ہی شہریار ہے۔حماد صاحب مسکراتے ہوۓ اپنی کولیگ سے بولے۔شہریار ان سے بھی ملا۔۔۔
یہ میری وائف عبیرہ شہریار نے اس کا تعارف کروایا۔
ماشااللہ بہت پیاری جوڑی ہے۔حماد صاحب کی بیوی پاس آ کر بولی۔ عبیرہ مسکرا دی۔۔۔
ہیلو مسزِ حماد کیسی ہیں۔ تبھی شہریار کو اپنے پاس سے ایک آواز آئی۔۔ زندگی میں اسے اس آواز سے زیادہ نفرت آج تک کیسی سے نہیں تھی۔ وہ آگے برھ کر ان سے مل رہی تھی۔۔
عبیرہ نے جب اس کا چہرہ دیکھا وہ شاک میں آ گئی۔۔وہ اور کوئی نہیں بلکہ نیلم تھی۔۔۔
اس نے اپنے ساتھ کھڑے شہریار کی طرف دیکھا۔ وہ سپاٹ چہرہ لیے کھڑا تھا۔
عبیرہ تم میرے ساتھ آجاؤ۔۔۔ مسزِ حماد اسے ساتھ لیے دوسری طرف چلی گئیں۔حماد صاحب ایکسیوز کر کے کسی سے بات کرنے چلے گے۔۔۔
کیسے ہو میرے ایکس ہزبینڈ نیلم اپنے بال جھٹکتے شہریار سے مخاطب ہوئی۔۔۔
ایس کیوزمی مجھے فالتو لوگوں سے بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔۔شہریار سخت لہجے میں کہتا ہوا۔۔۔
اُو ایسا مت کہو۔شاید تم بھول رہے ہو میں تمہارے دو بچوں کی ماں ہوں۔ نیلم مسکراتے ہوۓ بولی۔۔
وہی بچے جنہیں تم روتا ہوا چھوڑ کو چلی گئی تھی۔۔اور مجھ سے دوبارہ مخاطب ہونے کی کوشش مت کرنا۔۔ورنہ اس بھری محفل میں اتنا بے عزت کروں گا کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہو گئی۔۔شہریار غصے سے اسے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
عبیرہ دور کھڑی باتیں کر رہی تھی۔جب اس کی نظر شمائلہ پر پڑی۔ وہ شہریار کے پاس کھڑی تھی۔
کیونکہ آج پروجیکٹ سائن ہونا تھا۔ تو آفس کے کچھ لوگ بھی انوائٹیڈ تھے۔۔۔شمائلہ اپنے ڈیڈ کے ساتھ اس پارٹی میں آئی تھی۔۔یہاں کافی مشہور مشہور کمپنی کے لوگ آۓ ہوۓ تھے۔۔
بہت ہی ہائی کلاس پارٹی تھی۔ عبیرہ نے گردن گھومائی تو اس کی نظر ایک طرف لگی شراب پر پڑی۔۔اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
ہیلو مسز شہریار وہاں ہمارا ٹھیک سے تعارف نہیں ہوا۔۔ میں بے سوچا یہاں بات کر لوں۔ نیلم اب عبیرہ کے پاس آ کر بولی۔۔عبیرہ ایک دم چونکی اور اسکی طرف دیکھا۔۔۔
لیکن میں آپ کو اچھے سے جانتی ہوں آپ ماڈل ہیں۔۔عبیرہ اسکی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
پر تم شائد یہ بھول رہی ہو میں تمہارے شوہر کی پہلی بیوی تھی۔۔اور میں اس کے دو بچوں کی ماں بھی۔۔نیلم اتراتے ہوۓ بولی۔۔
ویل آپ نے خود ہی مان لیا آپ میرے شوہر کی بیوی تھیں۔آپ ان کا ماضی تھیں۔اور میں ان کا حال ہوں۔۔اور رہی بچوں کی بات تو ان کی ماں صرف میں ہوں اور کوئی نہیں۔۔عبیرہ سخت لہجے میں بول کر نیلم کے چاروں شانے چت کر گئی۔۔۔
یہ تو وقت ہی بتاۓ گا کہ کیا ہوتا ہے۔۔تم اس کی بیوی رہتی بھی ہو کہ نہیں۔۔نیلم۔طنزیہ انداز میں کہتی وہاں سے نکل گئی۔۔۔
عبیرہ اب تک اس کی بات نہیں سمجھی تھی۔
ایسی عورتوں کو صرف اگنور کرنا چاہیے۔ یہ کبھی نا تو خود خوش رہتیں ہیں اور نا ہی دوسروں کو خوش رہنے دیتی ہیں۔۔تبھی عبیرہ کو اپنے بگل میں مسز حماد کی آواز آئی۔۔۔
تم اس کو اگنور کرو اور آؤ مین تمہین اپنی دوستوں سے ملواتی ہوں۔۔ مسز حماد عبیرہ کو لیے ایک طرف آ گئیں۔۔۔عبیرہ کو وہ عورت اچھی لگی۔۔۔
ایس کیوزمی لیڈیز اینڈ جینٹر مین میں آپ سب سے ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں۔ جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں یہ پارٹی میری بیٹی کی بی کام میں بوڈ میں پہلی پوزیشن لینے کی خوشی میں رکھی گئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مجھے آپ سب کو یہ بتاتے ہوۓ بہت خوشی ہو گئی۔۔کہ ہماری کمپنی مسٹر شہریار کی کمپنی کے ساتھ ہماری کمپنی کا سب سے برا پروجیکٹ کرنے والی ہے۔۔۔ اس پروجیکٹ کا کنٹریکٹ ہم آج اور ابھی سائن کرنے والے ہیں۔مسٹر حماد مائک پکڑے بول رہے تھے۔۔۔۔
سامنے ٹیبل پر ایک فائل رکھی ہوئی تھی۔ اس پر اب سے پہلے حماد صاحب نے اور پھر شہریار نے سائن کیے۔چاروں طرف سے تالیوں کی بھرپور آواز آئی۔
حماد صاحب نے میوزک آن کروا دیا۔ وہاں پر سب لڑکے لڑکیاں آپس میں ڈانس کرنے لگے۔۔۔۔۔
عبیرہ ایک طرف کھڑی دیکھ رہی تھی۔کہ شہریار بھی کسی لڑکی کے ساتھ ڈانس کر رہا تھا۔اسے بہت غصہ آ رہا تھا۔
ہاۓ پرٹی لیڈی کیا تم یہاں اکیلے اکیلے کیا کر رہی ہو چلو آؤ ڈانس کرتے ہیں۔۔عبیرہ کو اپنے پاس سے ایک آواز آئی۔اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک لڑکا کھڑا تھا۔۔جو بہت عجیب سے کپڑے پہنے ہوۓ تھا۔۔
نو ٹھیکنس عبیرہ نے اتنا بول کر واپس منہ موڑ لیا۔۔۔
اُووو نخرے پر جب حُسن ہو تو نزاکت آ ہی جاتی ہے۔۔چلو نا میرے ساتھ کوئی پاٹنر نہیں تم بھی اکیلی کھڑی ہو چلو ڈانس کرتے ہیں۔۔ وہ عبیرہ کا ہاتھ پکڑ کر بولا ۔۔
عبیرہ کو کیسے کرنٹ لگا اس نے جھٹ سے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔۔
خبر دار جو اب مجھے چھونے کی کوشش کی۔دور رہو۔۔وہ غصے سے بولی۔۔۔
او ریلیکس بےبی یو لونگ پرٹی۔اسی لیے میں تمہارے پاس آیا۔۔تم پر یہ ساڑھی بہت اچھی لگ رہی ہے۔۔ اور تمہارے یہ گورے بازو۔۔۔۔۔ وہ عبیرہ کے بازوں کو دوبارہ ہاتھ لگانے لگا جب درمیان میں ہی کیسی نے اس کا ہاتھ جکڑ لیا۔۔۔۔
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرے بیوی کو ہاتھ لگانے کی۔۔شہریار اس کا بازو مڑورتے ہوۓ بولا۔۔۔اور سیدھا اس کی ناک پر مکہ مار دیا۔۔سب ان کی طرف متوجہ ہونے لگے۔۔۔
شہریار چھوڑیں عبیرہ نے اسے دور کرنا چاہا۔۔شہریار نے سخت نظروں سے دیکھ تو وہ چپ ہو گئی۔
جب اپنی بیوی کو چھوڑ کو دوسری لڑکیوں کے ساتھ ڈانس کرو گے۔تو میں پوچھوں گا نہیں۔۔وہ لڑکا اپنے ناک پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔
چپ سالے تجھے جان سے ماڑ دوں گا شہریار اسے مارنے آگے بڑھا تبھی کچھ لوگوں نے آ کر چھڑوایا۔۔
وہ لڑکا اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگ گیا۔۔
حماد صاحب ہمیں اب اجازت دیں شہریار ان سے کہتا ہوا عبیرہ کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکل گیا۔ وہ انتہائی غصے میں تھا۔۔۔
شہریار اسے لیے گاڑی کی طرف بڑھا۔۔اسے آگے بیٹھا کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا۔۔۔
اس کی ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی وہ غصے میں گاڑی کی سپیڈ بڑھاتے ہوۓ بولا۔۔۔
جیسے آپ کی ہمت ہوئی کیسی اور کی بیوی کو ہاتھ لگانے کی عبیرہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔۔
واٹ میں نے کس کی بیوی کو ہاتھ لگایا۔۔شہریار عبیرہ کی بات پر شاک ہو گیا۔۔۔
بس کریں میرا منہ مت کھلوائیں۔۔ عبیرہ شیشے سے باہر دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
نہیں تم اپنا منہ کھولو بتاؤ بولو۔۔۔شہریار گاڑی ایک سائیڈ پر روکتے ہوۓ بولا۔۔ وہ جگہ پوری سنسان تھی۔۔۔
شہریار ابھی میں بہت ڈسٹرب ہوں۔گاڑی چلائیں۔۔عبیرہ اپنے ماتھے کو مسلتے ہوۓ بولی۔۔۔
بالکل بھی نہیں تم پہلے مجھے بتاؤ میں نے ایسا کیا شہریار گاڑی کو بند کرتے ہوۓ بولا۔
تو بیٹھیں رہیں۔۔ عبیرہ غصے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلتے ہوۓ بولی۔۔
واٹ دی ہیل شہریار غصے سے کہتا خود بھی باہر نکلا۔۔۔
جب ہمت نہیں ہے تو بولا کیوں۔بتاؤ۔ میں نے ایسا کیا کِیا یے۔۔۔شہریار اسے بازو سے پکڑ کر روکتے ہوۓ بولا۔۔۔
اگر آپ سننا چاہتے ہو تو سنیے۔۔۔عبیرہ غصے سے پلٹ کر بولی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
مجھے آپ سب سے ایک بات پوچھنی ہے کیا میرا ناول کسی جو بے مقصد لگ رہا ہے۔یا سٹوری کی سمجھ نا آ رہی ہو۔۔۔۔۔
میں بہت ڈس اپونٹ ہوئی ہو آپ سب کے لائکس دیکھ کر پہلی قسط پر لایک دیکھن اور اس پچھلی قسطوں پر دیکھں۔۔۔
اگر آپ لوگ چاہتے کو اس ناول کی قسط ہر روز آۓ تو مجھے کومینٹ میں بتائیں۔۔
