No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
بتاؤ بھی کسی مراقبہ میں چلی گئی ہو۔وہ اسے شاک سے انداز میں تصویروں کو گھورتے ہوۓ دیکھ کر بولا۔۔۔
یہ کیا ہے؟؟ وہ حیرانگی سے تصویریں دیکھ کر بولی۔۔۔
تمہیں پتہ ہو گا۔ اس تصویر میں تم ہی ہو۔ شہریار غصے سے بولا۔۔
عبیرہ نے نظریں اُٹھا کر شہریار کو دیکھا۔ جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
آپ شک کر رہے ہیں۔وہ لڑکھڑاتے ہوۓ لہجے میں بولی۔۔۔
شک نہیں کر رہا بتاؤ کون ہے یہ؟
شک ہی ہوا۔اور آپ کی اطلاع کے لیے بتا دوں۔ میں اس دن ماہین کے ساتھ ریسٹورینٹ میں گئی تھی۔
اور یہ لڑکا جس کی بیک اس تصویر میں نظر آ رہی ہے وہ اسی کا کوئی فرینڈ تھا۔ جس نے مجھ سے بدتمیز کی۔ اور میں نے اسے تھپر بھی مارا تھا۔۔ اسی لیے میں اس دن رکشےپر واپس آ گئی۔ اگر آپ نے دھیان سے دیکھا ہوتا تو ضرور سمجھ میں آتا میرے چہرے سے صاف غصہ جھلک رہا ہے۔۔ عبیرہ غصے سے تصویریں شہریار کی۔طرف پھینکتے ہوۓ بولی۔۔شہریار حیرانگی سے اسے سن رہا تھا۔۔
اگر آپ کو اب بھی یقین نہیں تو ماہین سے پوچھ لیں۔وہ غصے سے کہتی شہریار کا جواب سنے بغیر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
اف حد ہے میں ایسے کیسے بات کر سکتا ہے۔اور ویسے بھی یہ تصویریں نیلم نے بھیجں تھیں میں نے یقین کیسے کر لیا۔وہ تصویرون کو پھارتے ہوۓ بولا۔اپنا سر ہاتھوں پر گِرا کر وہ صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔
دوسری طرف عبیرہ روم سے نکل کر بھاگتی ہوئی بچوں کےکمرے میں آئی۔ اور جلدی سے واشروم۔مین گھس گئی۔
یااللہ یہ سب کیا ہو گیا۔۔ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی۔اور زمین پر بیٹھ گئی۔۔
میں نے شہریار سے جھوٹ کیوں بولا۔کیوں انہیں وہ سب نہیں بتایا۔ الٹا انہی پر غصہ کر کے آ گئی۔۔ وہ اپنا ہاتھ نیچے زمین پر مارتے ہوۓ بولی۔ہاتھوں پر پہنی چوڑیوں میں سے کچھ چوڑیاں ٹوٹ کر اس کے بازو پر لگ گئیں۔۔۔
میں کیسے ایسا کر سکتی ہوں۔ مجھے وہاں نہیں جانا چاہیے تھا۔نا میں وہاں جاتی۔نا وہ فاہد تصویریں لیتا اور نا مجھے شہریار سے جھوٹ بولنا پڑتا۔وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔
اپنے آپ کو سھنمبال کر وہ اُٹھی اور منہ دھو کر واشروم سے باہر نکلی۔ کمرے میں واپس جانے کی تو ہمت نہیں ہو رہی تھی۔تو کیچن کی طرف چلی آئی۔
یہ ابھی تک نہیں آئی میں خود ہی دیکھتا ہوں۔۔شہریار کافی دیر سے بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔پر عبیرہ ابھی تک واپس کمرے میں نہہں آئی تھی۔۔تو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ خود ہی باہر چلا آیا۔
وہ سیدھا باہر آیا۔۔ہال میں نظر دوڑائی تو عبیرہ نظر نا آئی۔۔دوسری طرف کیچن سے کچھ آوازیں سنائی دیں تو وہ سیدھا کیچن کی طرف آ گیا۔ وہ دروازے میں آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
سامنے وہ سینک میں رکھے برتنوں کو دھو رہی تھی۔۔اور ساتھ ساتھ رو رہی تھی۔۔شہریار کو خود پر غصہ آیا۔۔وہ چلتا ہوا اس کے پیچھے کھڑا ہوا۔
عبیرہ اس کی موجودگی محسوس کر چکی تھی۔وہ مُڑی نہیں۔۔
ایم سوری بیگم تبھی پیچھے سے شہریار نے اسے ہگ کرتے ہوۓ کہا۔عبیرہ کو ایک بار پھر سے رونا آ گیا۔۔۔
آئی نو میرا لہجہ بہت خراب تھا وعدہ میری جان آج کے بعد کبھی اس طریقے سے بات نہیں کروں گا۔۔ وہ اس کے کندھے پر تھوڑی رکھے ہوۓ گویا ہوا۔۔
عبیرہ سے اور برداشت نہیں ہوا وہ ایک دم مُڑی اور شہریار کے چوڑے سینے سے لگ گئی۔۔شہریار نے اسے اپنی محفوظ پناہوں میں لیا۔۔۔
وہ کچھ بول نہیں رہی تھی بس روۓ جا رہی تھی۔۔۔
عبیرہ پلیز چپ کر جاؤ۔ایم سوری نا۔ شہریار دوبارہ بولا۔۔ لیکن وہ روتی رہی آج شائد وہ سارے غم آنسوں کے رستے بہا دینا چاہتی تھی۔۔۔
شہریار پریشان ہو گیا۔ اس نے عبیرہ کو علیحدہ کر کے پاس پڑے ٹول پر بیٹھایا۔ اور اسے ایک گلاس پانی کا پلایا۔جیسے پی کر وہ تھوڑی نارمل ہوئی۔ وہ شہریار کی طرف نہیں دیکھ پا رہی تھی۔اس لیے اپنی نظریں نیچے کیے ہوۓ تھیں۔
یہ کیسے ہوا۔؟شہریار کی نظر اس کی کلائی پر پڑی
خود کی لکریں کلائی پر واضع تھیں۔
وہ کیچن کے کیبلینٹ میں سے فسٹ ایڈ لے کر اس کے قریب نیچے زمین پر بیٹھا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔اور فسٹ اید کرنے لگا۔۔
جب غصہ مجھ پر تھا تو مجھے مارتی یوں خود کو
چوٹ پھنچانے کا کیا فائدہ۔ شہریار پٹی لگاتے ہوۓ بولا۔۔۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں بھلا میں کیسے آپ کو مار سکتی ہوں۔ وہ بے اختیار بولی۔۔جسے سن کر شہریار کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔
کیوں بھای جب لگے کہ میں غلط جا رہا ہوں۔ دو لگا دینا۔وہ شرارتی انداز میں بولا۔عبیرہ کے لبوں کو بھی مسکراہٹ نے چھوا۔۔۔
شکر ہے تم۔مسکرائی اگین سوری شہریار اس کے ماتھے ہر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔ ایک آنسوں عبیرہ کے چہرے پر بہا۔
اللہ جانے کہاں سے اتنا پانی آتا ہے۔۔شہریار اس کے چہرے سے آنسوں اپنی انگلی پرلیتے ہوۓ بولا۔۔
میں آپ جو معاف کر دوں گئی پہلے وعدہ کریں آپ کبھی کسی کے کہنے پر مجھ پر شک نہیں کریں گے۔
اگر کبھی زندگی میں مجھ سے کوئی غلطی ہو جاۓ پھر بھی آپ پہلے میری بات سنیں گے۔ بعد میں کوئی فیصلہ کریں گے۔ عبیرہ اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
وعدہ بیگم شہریار ا سکے ہاتھ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
چلو اب بہت منانا ہو گیا لیٹ کافی ہو چکی ہے۔ صبح جلدی اُٹھنا ہے۔۔مجھے وکیل کے پاس بھی جانا ہے۔ شہریار اسے کھڑا کرتے ہوۓ بولا۔۔
وکیل کے پاس کیا لینے ؟ عبیرہ حیرانگی سے بولی۔۔
آؤ بتاتا ہوں شہریار اسے لیے کمرے میں آیا۔اور صوفے کے سامنے پڑے ٹیبل سے فائل اُٹھائی اور کھول کر عبیرہ کو دیکھانے لگا۔۔۔
آج جب میں آفس میں تھا تب یہ پیپرز ملے۔ نیلم نےبچوں کی کسٹڈی کے لے دوبارہ کیس اوپن کروایا ہے۔ شہریار فائل دیکھاتے ہوۓ بولا۔۔۔
کیایا اللہ اب کیا ہو گا۔۔کہی وہ ہم سے عمیر اور نور کو چھین نا لے۔ عبیرہ پر یہ خبر بہت بری طرح گڑی۔۔
ایسا ممکن نہیں مجھے شہریار فرحان کو ہرانا اتنا اسان نہیں اور ویسے بھی یہ کیس بہت کمزور ہے صرف ایک پیشی کی مار ہے۔۔شہریار فائل کو الماری میں رکھتے ہوۓ بولا۔۔
اگر اگر اس نے بچوں کو چھین لیا۔شہریار میں ان دونوں کے بغیر نہیں رہ سکتی عبیرہ روتے ہوۓ بولی۔۔
میں ہوں نا میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ شہریار اسے سینے سے لگاتے ہوۓ بولا۔۔
عبیرہ کی حالت دیکھ کر شہریار اسے یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ نیلم بھی یہ کیس جیت سکتی ہے۔وہ ایک جھوٹی عورت یے وہ اپنے مفاد کے لیے کسی بھی حد تک گڑ سکتی ہے۔۔۔
سو جاؤ کچھ نہیں ہو گا۔۔شہریار اسے بیڈ پر لیٹاتے ہوۓ بولا۔ پر عبیرہ کو اب کہاں نیند آنے والی تھی۔۔۔۔
وہ اس وقت آفس میں بیٹھا ہوا تھا۔ بچوں کے کیس کی وجہ سے وہ کافی پریشان تھا۔بھی فاہد اجازت لے کر آفس میں ایا۔۔
بولو فاہد کیا کام ہے شہریار لیپ ٹاپ پر مصروف انداز میں بولا۔۔۔
سر یہ کچھ فائلز تھیں اس پر سائن چاہیں۔ وہ فائلوں کو ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولا۔۔
شہریار بے گردن ہلا کر فائلز پکڑیں۔۔اور پر کر سائن کرنے لگا تبھی اس کے وکیل کا فون آیا۔کال کو بول توتھ کے ساتھ اٹیچ کر کے وہ وکیل سے بات کرنے لگا۔اور جلدی جلدی بنا دیکھے پیپرز پر سائن کرنے لگا۔۔سائن مکمل کر کے فائلز سائڈ پر کیں۔فاہد نے جلدی سے فایلز پکڑیں۔۔اور مسکراتے ہوۓ باہر نکلا۔۔
کام ہو گیا۔۔ فاہد شمائلہ اور نیلم کے نمبر پر میسج کیا۔اور اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا۔۔
شہریار وکیل کی بات سن کرتھوڑا پریشان تھا۔۔ تبھی ازیر صاحب آفس میں داخل ہوۓ۔
کیسے ہو برخردار وہ اندر داخل ہوتے ہوۓ بولے۔۔شہریار نے فون بند کر دیا۔۔
ٹھیک ہو آپ کیسے ہیں۔ وہ انہیں کرسی پر بیٹھاتے ہوۓ بولا۔۔
مجھے فیکٹری کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ وہ فیکٹرک بھائی صاحب کی پہلی فیکٹری تھی۔اور اسے بھی اگ لگ گئی۔۔وہ دکھی لہجے میں بولے۔۔۔
جی جو ہوا وہ اچھا تو نہیں ہوا پر کیا کر سکتے ہیں اس میں اللہ پاک نے ہمارے لیے کوئی بہتری ہی رکھی ہو گئی دو کافی کا آڈر دیا۔۔
ہاں یہ تو سہی کہا۔ویسے تم نے انویسٹیگیشن نہین کروائی کیا نکلا۔ وہ تھوڑا انٹرسٹ لیتے ہوۓ بولے۔۔
چاچو اس سب سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پر ابھی پولیس کام پر لگی ہوئی ہے ہو سکتا ہے کوئی سُراگ مل جاۓ۔شہریار بات کو ختم کرتے ہوۓ بولا۔۔
ہممم تبھی شمائلہ اندر آئی۔ تینوں کافی دیر باتیں کرتے رہے۔۔۔
عبیرہ آج یونی نہیں گئی تھی۔اس کا دل تو یونی کو چھورنے کا تھا۔پر شہریار کو کیا وجہ بتاتی۔۔اج طبعیت خرابی کا بہانا بنا کر اس نے چھٹی کی تھی۔۔
دوپہر سے اسے عجیب بے چینی سی لگی ہوئی تھی جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔وہ بہت پریشان تھی۔نور اور احمد کے ساتھ بیٹھی وہ اپنے دل کو بہلا رہی تھی۔
اپنا موبائل اُٹھا کر اس نے فری کو کال ملائی۔پر آگے سے فون نہیں اُٹھایا گیا۔۔گھر پر فون کیا وہاں بھی یہی حال تھا۔۔
اسی بے چینی میں اسنے بے دلی سے رات کا کھانا بنایا۔۔ وہ کھانا ٹیبل پر لگا رہی تھی۔جب شہریار گھر میں داخل ہوا۔ وہ کافی پریشان لگ رہا تھا۔۔
کیا ہوا آپ اتنا پریشان کیوں ہیں عبیرہ اس کے پاس آ کر بولی۔۔
وہ موحد کا فون تھا وہ پھوپھو کو ہاٹ اٹیک آیا ہے۔وہ ہسپتال میں آئی سی یو میں ہیں۔شہریار نے آہستہ اہستہ بتایا۔۔۔
امی عبیرہ ایک دم لڑکھڑائی۔ شہریارنے اسے سھنمبالا۔۔
سھنمبالو خود کو وہ ہسپتال میں ہیں ہمیں جلدی سے نکلنا ہو گا۔۔شہریار اسے پانی ہلاتے ہوۓ بولا۔۔
میری امی کو کچھ ہو گا تو نہیں۔مجھے مجھے ان سےملنا ہے پلیز مجھے لے کر جائیں۔۔ عبیرہ روتے ہوۓ بولی۔۔
میں گاڑی نکالتا ہوں تم جلدی سے بچون کو۔ لے کر باہر لے کر آؤ۔۔شہریار اسے بول کر باہر نکلا۔۔اور فرحان صاحب کو کال ملا دی۔۔اسے کچھ دیر پہلے موحد کی کال آئی تھی۔۔نجمہ بیگم کو ہاٹ اٹیک ہوا تھا۔ اور ان کی حالت کافی سیریس تھی۔ان کے پاس دو تین گھنٹےسے زیادہ وقت نہیں ہے۔۔۔یہ بات وہ عبیرہ کو نہیں بتانا چاہتا تھا۔
فرحان صاحب کو بتا کر وہ گاڑی میں آ کر بیٹھا۔۔عبیرہ بچوں کو لے کر بھاگتی ہوئی گاڑی میں آ کر بیٹھی۔
شہریار نے گاڑی باہر نکالی۔۔اور اسے فل سپیڈ پر ڈال دیا۔۔
میری امی کو کچھ نہیں ہو گا۔۔وہ ٹھیک ہو جائیں گئی۔۔میرے پاس صرف امی ہیں میں انہیں نہیں کھو سکتی۔۔وہ روتے ہوۓ دعائیں کر رہی تھی۔
ماما کیا ہوا؟؟ نور اور عمیر پریشان سی صورت بنا کر عبیرہ کو دیکھ رہے تھے۔ عمیر اگے آ کر عبیرہ کی گود میں بیٹھ گیا۔ شہریارتیزی سے گاڑی بھگا رہا تھا۔۔۔۔
نور عمیر آپ دونوں دعا کرو میری امی کو کچھ نا ہو۔ اللہ پاک بچوں کی دعائیں۔بہت جلد سنتے ہیں۔ عبیرہ دونوں کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
آپ مت روئیں میں اللہ پاک سے دعا کرتا ہوں۔ عمیر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے عبیرہ کے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولا۔
اللہ جی ہماری ماما کی امی کو ٹھیک کر دیں عمیر اور نور دونوں اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں اُٹھاۓ دعا کر رہے تھے۔ عبیرہ عمیر کو گلے سے لگا کر رو دی۔۔۔
شہریار نے اپنی انکھ میں آۓ آنسوں کو صاف کیا۔ بہت پہلے وہ بھی یہ سب فیس کر چکا تھا۔ وہ دل سے دعا کر رہا تھا۔کوئی مجزہ ہو جاۓ اور نجمہ بیگم بچ جائیں۔۔۔
تین گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد وہ ہسپتال پہنچے۔یہ گاؤں سے دور شہر کا مشہور ہسپتال تھا۔
جیسے ہی وہ لوگ ہسپتال پہنچے عبیرہ ایک منٹ کا بھی انتظار کیے بنا دروازہ کھول کر اندر کی طرف بھاگی۔۔۔شہریار عمیر اور نور کو لے کر ا سکے پیچھے آگیا۔۔
عبیرہ جیسے ہی اندر آئی سامنے کوڑیڈول میں رخشندہ خالہ کے۔ ساتھ فری بیٹھی نظر آئی۔۔عبیرہ بھاگ کر ان تک آئی۔
امی کہاں ہیں۔وہ وہ ٹھیک تو ہیں نا عبیرہ نے رخشندہ خالہ کے پاس آ کر پوچھا۔۔
میری بچی وہ اندر آئی سی یو میں ہے رخشندہ خالہ روتے ہوۓ بولیں۔
عبیرہ سامنے آئی سی یو کی طرف بھاگی۔۔ اس سے اندر سامنے وینٹی لیٹر پر لیٹی نجمہ بیگم نظر آ رہین تھیں ۔امی وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
عبیرہ امی کو کچھ نہیں ہو گا۔تبھی اسے اپنے قریب سے موحد کی آواز آئی۔۔
آپ کیوں آۓ عبیرہ نے اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکا۔۔۔
سب اسے کے آنے سے ہوا ہے۔نا یہ آتا اور نا آج میری بہن اس حال میں ہوتی رخشندہ خالہ غصے سے بولیں۔۔۔شہریار نور اور عمیر کو لیے وہاں پہنچا۔۔۔
موحد آج اجالا اور ابراہیم کو لے کر گھر آیا تھا۔نجمہ تو ایک دفع پھر سے جی اُٹھی تھی انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئی پر یہ دونوں تو اپنے لالچ کو ہی آئیں تھے۔
مگر دوپہر کو موحد نے نجمہ سے گھر کو بیچنے کی بات کی جیسے نجمہ نے انکار کر دیا۔۔دونون میں بحث شروع ہو گئی۔یہ امی ماں سے اتنی بدتمیزی سے بات کر رہا تھا۔نجمہ نے ا س بات کی بہت ٹینشن لی اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا دل کا دورہ پڑگیا۔۔۔آخر میں رخشندہ خالہ رو دیں۔۔
آپ ایسا کیسے کر سکتے ہو۔پہلے ساری زندگی آپ نے مجھے اور میری امی کی پرواہ نا کی۔اور پھر اپنی مرضعی سے چھوڑ کر چلے گے۔۔تو اب کیوں امی سے ابا کی آخری نشانی گھر چھیننے آ گے۔۔عبیرہ سب سن کر روتے ہوۓ بولی۔۔
مجھے پتہ ہے میں نے بہت برا کیا پلیز امی کو بولو ٹھیک ہو جائیں میں خود ان سے معافی مانگ لوں گا۔۔موحد روتے ہوۓ بولا۔اج پہلی بار اسے اپنی غلطیوں کا احساس ہو رہا تھا۔۔
یا اللہ موحد بھائی آپ اتنے شلفیش کیسے ہو سکتے ہو۔۔کیوں آپ کو صرف پیسا نظر آیا ۔کیوں امی کی آنکھوں میں اپ کو بیٹے کے جدائی کے دکھ نظر نہیں آیا۔نا کبھی آپ نے بھائی ہونے کا فرض ادا کیا اور نا ہی بیٹا ہونے کا۔اگر کوئی فرض ادا کیا تو وہ صرف شوہر ہونے کا۔اگر امی کو کچھ ہوا با قسم سے کبھی معاف نہیں کروں گئی۔۔وہ آخر میں انگلی اُٹحا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولی۔۔
کچھ نہیں ہو گا۔ فری عبیرہ کو گلے سے لگاتے ہوۓ بولی۔۔۔عبیرہ سسک پری فری نے اسے بینچ پر بیٹھایا۔۔۔۔شہریار پانی لے کر آیا۔۔
وہ عبیرہ کے پاس بیٹھا اسے تسلی دیتے ہوۓ۔ پانی پلانے لگا۔۔۔
شہریار مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔وہ ڈرے ہوۓ لہجے میں شہریار نے بے اختیار اسے ساتھ لگا لیا۔۔۔
تبھی آئی سی یو سے ڈاکٹر باہر نکلا۔۔اور ان کی طرف آۓ سبھی اس کی طرف بڑھے۔۔
میری امی کیسی ہیں وہ ٹھیک تو ہیں نا عبیرہ جلدی سے بولی۔۔۔
دیکھیں آپ کی مدر نے بہت زیادہ ٹینشن لی تھی جس کی وجہ سے انہیں بہت سوئیر ہاٹ اٹیک ہوا۔ہم نے انہیں بچانے کی بہت کوشش کی مگر افسوس ہم انہیں نہیں بچا پاۓ۔۔ڈاکٹر اپنا چشمہ اتارتے ہوۓ افسردہ لہجے میں بولا۔ یہ خبر سب کے اوپر بجلی کی طرح گِری۔۔
نہیں امی امی۔ عبیرہ انہیں پکارتے ہوۓ شہریار کے بازوں میں ہی بے ہوش ہو گئی۔۔
عبیرہ آنکھیں کھولو۔شہریار نے اسے اُٹھانے کی کوشش کی۔۔۔
موحد ایک دم لڑکھڑایا۔۔اس کے آس پاس یہ جملے دور رہے تھے۔۔۔۔
نجمہ بیگم کی باڈی کو ایمبولینس میں لے جایا گیا۔۔
بہت کوشیشوں کے بعد عبیرہ کو ہوش آ گیا۔شہریار اسے لے کر گھر آیا۔۔
سامنے چھوٹے سے حال میں نجمہ بیگم کی میت کو رکھا گیا۔۔پاس بہت ساری گاؤں کی عورتیں عجیب غریب سے بین لگا رہین تھیں۔۔
عبیرہ بس پاس بیٹھی اپنی ماں کا چہرہ تکے جا رہی تھی۔ اور اس کی آنکھوں سے آنسوں بہے جا رہے تھے۔۔وہ بار بار اپنی ماں کا ماتھا چومتی۔۔۔
شہریار باہر دوسرے انتظام دیکھ رہا تھا۔ کچھ گھنٹوں بعد نجمہ بیگم کی میت کو اُٹھانے کے لیے شہریار موحد اور دو چار بندے اندر آۓ۔۔۔
جب وہ میت کو اُٹھانے لگے عبیرہ کو ہوش آیا۔وہ زور زور سے رونے لگی۔۔ اور اپنی ماں کے گلے لگ گئی۔رخشندہ خالہ نے اور فری نے اسے الگ کیا۔۔۔سبھی مردوں نے میت کواُٹھایا اور لے گے۔۔
میری امی کو مت لے کر جاؤ۔۔خدارا مت لے کر جاؤ۔خالہ انہیں رُکو میرا دل پھٹ جاۓ گا۔ وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ چلائی۔ اور ایک بار پھر سے رخشندہ خالہ کے ہاتھوں میں بے ہوش ہو گئی۔۔۔
شہریار اور موحد قبرستان سے واپس آۓ۔۔۔ موحد بہت زیادہ رو رہا تھا۔۔شہریار نے اسے گلے سے لگا لیا۔
میں نے بہت غلط کیا۔ میں کیا کرو اب کسے امی سے معافی مانگوں وہ روتے ہوۓ بولا۔۔۔
(کچھ چیزون کی کبھی معافی نہیں ملتی۔۔ اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرنے کی معافی تو بالکل نہیں ملتی۔۔اور جو موحد نے اپنی بیوہ ماں کے ساتھ
لیا تھا۔اس کی معافی ملنا نا ممکن تھی۔۔
پتہ نہیں نئی جنریشن ماں باپ کے بغیر رہنے میں کیوں خوشی محسوس کرتی ہے۔ ایسی کون سی خوشیاں ہیں جو مان باپ کے بغیر ملتی ہیں۔ وہ مان باپ جنہوں نے اپنی ساری زندگی اب بچوں کے نام کر دی وہ ان کی دیکھ بال کرنے کے ٹائم پیٹھ دیکھا کر بھاگ جاتے ہیں۔ افسوس ہے ایسی اولاد پر۔۔پھر موحد جیسے انسان رہ جاتے ہیں جو ساری زندگی صرف پچھتا سکتے ہیں۔۔۔)
چل گھر چلتے ہیں۔شہریار اسے لیے گھر آ گیا۔۔۔۔وہ دونوں مردان خانہ میں موجود تھے۔۔۔
اس وقت دوپہر کا 1بجا ہوا تھا۔ عبیرہ پچھلے دو گھنٹوں سے کبھی ہوش میں آتی اور پھر بے ہوش ہو جاتی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط اتوار کو ملے گئی۔۔۔۔
