No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
شہریار آفس پہنچ گیا تھا۔۔وہ اپنے کیبن میں بیٹھا آج صبب ہو جانے والی تلخ کلامی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس وقت فرحان صاحب گھر نہین تھے ورنہ شہریار کی عزت افزائی ضرور ہو جاتی۔۔
اسے بار بار عبیرہ کے آنسوں سے بھری آنکھیں دیکھ رہیں تھیں۔۔وہ بہت مضطرب دیکھائی دے رہا تھا۔۔وہ انہی سوچوں میں گھرا تھا کہ تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔
فاہد کچھ فائلز لے کر اندر آیا۔۔
سر اس پر سائن چاہیے اس نے فائلز شہریار کے آگے ٹیبل پر رکھ دیں۔۔۔۔
شہریار نے فائل کھولی اور پڑھ کر سائن کرنے لگا۔۔۔
تم کہاں کے ہو شہریار نے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
سر یہی چار پانچ گھنٹے کے فاصلے سے بس ایک چھوٹے سے گاؤں کا ہوں۔ فاہد نے جھوٹ بولا۔۔۔
اتنی دور اسلام آباد میں جاب کرنے کی کیا وجہ ہے شہریار کو کچھ عجیب فیل ہوا۔۔۔
بس سر گھر کی مجبوریاں ماں اور بہنوں کی زمہ داریاں ہے۔شادیان کروانی ہیں۔۔ چھوٹی موٹی نوکری سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا تھا تو سوچا شاید یہاں کچھ اچھی نوکری مل جاۓ۔۔۔فاہد معصوم شکل بنا کر بولا۔۔۔
اچھی سوچ ہے۔۔شادی ہو گئی تمہاری۔ شہریار بولا۔۔
کہاں سر اب تو شادی کے نام سے ہی چڑ مچتی ہے۔وہ
تھوڑا غصے سے بولا۔۔
کوئی خاص وجہ؟؟ شہریار کو اس کا جواب کچھ حیران کن لگا۔۔۔
بس سر محبت مین بہت برے دھوکے کھاۓ ہیں۔ تو شادی جیسی چیز سے یقین اُٹھ چکا ہے۔ فاہد افسردہ منہ بنا کر بولا۔۔۔
کیوں ایسا کیا ہوا تھا۔۔شہریار کو اس کی کہانی میں انٹرسٹ پیدا ہوا۔۔
اس دنیا میں دو قدم چلنے پر ہی چور مل جاتے ہیں۔وہ لڑکی مجھے یونی میں ملی تھی۔ بس محبت ہوئی اور سر محبت تو آنکھوں پر کالی پٹی کی طرح ہوتی ہے۔بس وہ محبت کے جال مین پھانستی گئی اور مین پھنستا گیا۔میرے سارے پیسے لے کر بھاگ گئی۔کچھ دن پہلے ہی پتہ چلا اس کی شادی ہو گئی ہے۔۔اسی شہر مین ہے۔۔۔فاہد جھوٹی موٹی کہانی بنانے لگا۔۔
ہمم افسوس ہوا۔لیکن یاد رکھنا جو دھوکہ دیتا ہے وہ کبھی بھی خوش نہیں رہتا۔ ایک دن وہ لڑکی ضرور تھوکر کھا کر گڑے گئی۔۔شہریار اس کی کہانی سن کر بولا۔۔
اوکے سر میں چلتا ہوں بہت کام ہے۔فاہد کہتا ہوا باہر چلا گیا۔۔۔
وہ جیسے ہی باہر نکلا اس کے فون پر میسج آیا۔۔۔
مجھ سے کل میرے گھر آ کر ملو۔۔۔۔فاہد نے میسج پر کر موبائل آف کر کے پاکٹ میں رکھا۔۔
عبیرہ سارا دن نور اور عمیر کو سھنمبالتی رہی۔ عمیر تو چل پھر رہا تھا۔لیکن نور کو بازو میں بہت درد ہو رہی تھی۔عبیرہ نے اسے دوائی کھلائی۔۔۔
ماما مین بہت بور ہو رہی ہوں۔۔نور منہ بنا کر بولی۔۔۔
اوکے تو میری بیٹی بتاۓ۔کیا کرنا ہے۔کچھ کھیلنا ہے عبیرہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔۔
مجھے دادا جان کے پاس جانا ہے۔
اوکے مائی ڈول چلو عبیرہ اسے گود میں اُٹھاۓ نیچے لے آئی۔۔فرحان صاحب ٹیوی لوونج میں بیٹھے ٹیوی پر نیوز دیکھ رہے تھے۔۔
ارے واہ میری گڑیا آ گئی۔ فرحان صاحب نے اسے گود میں بیٹھایا۔۔۔
ماموں آپ کی گڑیا بہت بور ہو رہی ہے۔بول رہی ہے کچھ کھیلنا ہے۔ عبیرہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔
ہینڈس اپ تبھی عمیر عبیرہ کی کمر پر بندوق رکھ کر بولا۔۔وہ اپنے ہاتھوں میں بندوق پکڑے پولیس والا بنا ہوا تھا۔۔
میں نے کیا کر دیا جو مجھے پولیس نے پکڑ لیا۔۔عبیرہ ڈرتے ہوۓ بولی۔
آپ نے ابھی تک میرے نوڈلز نہین بناۓ عمیر غصے سے منہ پھلا کر بولا۔۔
سوری پولیس جی میں ابھی لے کر آتی ہوں۔عبیرہ اس کے گال پر بوسہ دیتے ہوۓ بولی۔ اور ہنستے ہوۓ کیچن میں چلی گئی۔۔۔
اج ہم اپنی گڑیا کے ساتھ لڈو کھلیں گے فرحان صاحب لڈو کو سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولے۔۔۔
دادا جان میرا سٹنٹ دیکھیں۔عمیر پانچ سیڑیوں سے چھلانگ لگانے لگا۔۔
عمیر تمہارا دماغ خراب ہے۔ ابھی کل ہی تمہین اتنی چوٹیں لگیں ہیں۔آج پھر تم سیڑیوں پر سرکس شروع کرنے لگے۔ جاؤ وہان بیٹھو میں نوڈلز لے کر آ رہی ہوں۔۔عبیرہ کیچن کے دروازے سے ہی عمیر پر چلائی۔۔۔
وہ منہ بنا کر فرحان صاحب کے پاس چلا گیا۔۔۔
رات کے آٹھ بج چکے تھے۔شہریار اپنے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ اور کچھ فائلز پکڑے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا۔۔۔۔
تبھی اس کی نظر ٹیوی لانج میں ان چاروں پر پڑی۔۔جہان وہ لڈو کھیل رہے تھے۔۔۔اسے عمیر اور نور بہت خوش دیکھائی دے رہے تھے۔ شہریار کو ان کے بی ہیویر میں بہت بدلاؤ بھی محسوس کیا تھا۔۔۔
وہ ان سب کو اگنور کرتا اوپر کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔
بابا آپ بھی کھیلیں ہمارے ساتھ نور اونچی آواز میں بولی۔۔۔
نہیں بیٹا تم سب کھیلو میں فریش ہو لوں شہریار کہتا ہوا اوپر کمرے میں چلا گیا۔۔۔
بابا ہم سے بالکل پیار نہیں کرتے نور کی آنکھ میں آنسوں آ گے۔۔۔
ارے نہیں بیٹا ایسی بات نہین وہ مصروف ہوتا ہے۔۔فرحان صاحب نے اپنی گود میں بیٹھی نور کے گالوں سے آنسوں صاف کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں انہیں لے کر آتی ہوں۔ہماری نور اپنے بابا کے ساتھ کھیلنا چاہتی ہے۔۔تو انہیں آنا پڑے گا۔ عبیرہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔اور پھر اوپر کمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔
وہ شہریار سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔لیکن اب نور کی وجہ سے وہ کمرے میں آئی۔۔
شہریار نہا کر کپڑے چینج کر کے واشروم سے باہر نکلا۔۔تبھی عبیرہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔
آپ نیچے چلیں نور آپ کے ساتھ لڈو کھیلنا چاہتی ہے۔ عبیرہ اس کے پاس آ کر بولی۔۔۔
تمہیں میں بچہ لگتا ہو جو یہ بچوں والی گیم کھیلوں گا۔ شہریار شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے بال بنانے لگا۔۔۔
بچوں کے ساتھ بچوں والی ہی گیمز کھیلی جاتی ہیں۔ عبیرہ بولی۔۔۔
مجھے بہت کام ہے جاؤ یہاں سے جب دیکھو سر پر سوار رہتی ہو۔ شہریار اپنا لیپ ٹاپ نکلا کر بیٹھ گیا۔۔۔
اگر اپنے وقت سے تھوڑا سا وقت اپنے بچوں کے لیے نکال لین گے۔تو آپ کے آفس کے کاموں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔۔ عبیرہ غصے سے اس کا لیپ ٹاپ بند کرتے ہوۓ بولی۔۔
خبردار جو آئیندہ میرا چیزین کو اس طرح ہاتھ لگانے کی کوشش کی۔۔جاؤ یہاں سے دماغ خراب کر کے رکھا ہوا ہے۔ شہریار اس پر چلایا
۔ وہ ایک دم کھڑی ہو گئی۔۔دل تو کیا ابھی چلی جاو لیکن اگر اب۔ چلی گئی تو یہ ڈھیٹ انسان کبھی نہیں سدھرے گا۔۔وہ دل میں سوچ کر خود کو تھوڑا نارمل کرنے لگی۔۔۔
میں صرف ایک بات بولوں گئی۔۔
بچے صرف پیدا ہی نہین کرنے ہوتے۔اپنے بچون کو وقت بھی دینا ہوتا ہے۔ان کی تھوڑی کیر بھی کرنی پڑتی ہے۔ صرف ایک دن میں ایک گھنٹہ بھی بچوں کے ساتھ گزار دیں۔تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔۔۔
تھوڑی دیر ان کے ساتھ بیٹھیں دیکھے گا۔ اپ کا یہ سٹریس خود بخود بھاگ جاۓ گا۔۔ عبیرہ بول کر ا سکا جواب سنے بغیر کمرے سے نکل گئی۔۔۔
کیا مصیبت ہے شہریار نے اپنا سر اپنے ہاتھ پر گرا دیا۔۔۔
کیا ہوا ماما بابا نہیں آۓ نا مجھے پتہ تھا۔نور افسردہ منہ بنا کر بیٹھی گئی۔۔ عبیرہ ان کے پاس آ کر بیٹھی۔۔۔
کس نے بولا نہیں آیا۔میری پرنسس بولاۓ اور میں نا آؤں ایسا ہو سکتا ہے۔۔شہریار عبیرہ کی باتوں سے تھوڑا تو پگھلا تھا وہ نیچے چلا آیا۔۔۔
یس بابا عبیرہ فرحان صاحب کی گود سے جمپ مار کر کھڑی ہوئی اور بھاگ کر شہریار کے سینے سے لگی۔۔۔
شہریارنے اسے گود میں اُٹھا لیا۔۔۔
بتاؤ میرے بچوں کو میرے ساتھ کیا کھیلنا ہے۔شہریار دونوں کے گالوں پر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔۔اور ٹیبل کی ایک طرف نیچے کلین پر بیٹھ گیا۔۔۔
لڈو کھیلنی ہے عمیر بولا۔۔
چلو کھیلتے ہیں شہریار مسکراتے ہوۓ بولا۔۔
میں بابا کی ٹیم میں ہوں۔نور شہریار کی گود میں بیٹھتے ہوۓ خوشی سے چلائی۔۔
میری ٹیم میں ماما ہیں عمیر عبیرہ کے پاس بیٹھا۔۔۔
لیکن مجھے تو کھانا بنانا ہے آپ سب کھیلوں عبیرہ بولتی ہوئی اُٹھنے لگی۔۔۔
عبیرہ بچے تم کھیلوں کھانا بعد میں بنا لینا فرحان صاحب بولے۔۔۔
چاروں کھیلنے لگے۔ شہریار شائد بہت سالوں بعد اس طرح ہنس رہا تھا۔جس طرح وہ ابھی بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوۓ ہنس رہا تھا۔۔۔
فرحان صاحب ان چاروں کو دیکھ کر مسکرا دیے۔
دیکھا بیگم میرا عبیرہ کو بہو بنانے کا فیصلہ کتنا اچھا ثابت ہو رہا ہے۔۔وہ دل ہی دل میں بولے۔۔۔۔
گیم ختم ہونے کے بعد عبیرہ تو کھانا بنانے چلے گئی۔پر شہریار عمیر اور نور کے ساتھ باتین کرنے لگا۔۔ان کی معصوم باتوں پر کبھی مسکرا دیتا تو کبھی زور سے ہنس دیتا۔۔
عبیرہ نے کھانا لگا دیا تھا۔۔سب نے مل کر کھانا کھایا۔
چلو اب تم دونوں سو جاؤ۔ عبیرہ نے نور اور عمیر کو دوائی کھلا کر ان کے کمرے میں سلانے لے گئی۔۔
شہریار مجھے کچھ دنوں کے لیے امریکہ جانا پڑے گا۔ وہاں کے پراجیکٹ میں کوئی مسلہ بن گیا ہے۔۔مجھے وہاں جا کر خود دیکھنا پڑے گا۔ مین سوچ رہا ہون جب تک وہ پورا نہیں ہو جاتا وہی رہوں۔۔ ساتھ میں کمپنی کے مالک سے بات بھی کر لوں گا۔۔فرحان صاحب چاۓ پیتے ہوۓ بولے۔۔
پاپا آپ کیوں جائیں گے میں چلا جاتا ہوں۔ شہریار فوراً بولا۔۔۔
نہیں تمہیں یہاں والا پراجیکٹ دیکھنا ہے۔تم جانتے ہو وہ ہماری کمپنی کے لیے کتنا اہم ہے۔دو مہنیوں تک تو پورا ہو جاۓ گا۔۔میں تب واپس آ جاؤں گا۔۔فرحان صاحب اسے سمجھانے لگے۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے۔ جیسا آپ کو مناسب لگے۔کس دن جانا ہے۔۔شہریار بولا۔۔۔
میں سوچ رہا ہوں کل رات کی فلائٹ لے کر چلا جاؤں گا۔۔فرحان صاحب طے شدہ پلین بتانے لگے۔۔۔
ہممم ٹھیک ہے آپ آرام کر لیں میں بھی تھوڑی سی فائلز کو دیکھ لوں شہریار کہتا ہوا کھڑا ہو گیا۔اور کمرے میں آ گیا۔۔۔۔
فرحان صاحب اپنے کمرے میں آگے۔۔۔۔
عبیرہ دونوں کو سُلا کر کمرے میں آ گئی۔ وہ وضو کر کے نماز پڑنے لگی۔۔۔
شہریار اپنی فائلز میں مصروف تھا۔۔نماز پڑنے کے بعد وہ یونی کے فام لے کر صوفے پر بیٹھ گئی۔جو آج ہی فرحان صاحب نے اسے لا کر دیے تھے۔۔۔۔
وہ مصروف انداز میں فام فل کرنے لگی۔ ایک پل کو اس نے شہریار کی طرف دیکھا جو اپنے کام میں حد سے زیادہ کھویا ہوا تھا۔
عبیرہ اُٹھی اور کچن میں آئی۔وہ دس منٹ بعد کافی کا کپ لے کر کمرے میں آئی۔۔شہریار اتنا کام میں کھویا ہوا تھا کہ اسے عبیرہ کے جانے اور واپس آنے کا پتہ ہی نا چلا۔۔
وہ تب چونکا جب عبیرہ نے کپ اس کے آگے کیا۔۔
شہریار نے سر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔
کافی پی لیں ورنہ کچھ دیر مین سر میں درد شروع ہو جاۓ گا۔۔عبیرہ کپ اسے پکڑا کر واپس صوفے پر آ کر بیٹھ گئی۔۔۔
شہریار نے ایک دفعہ کافی کو اور دوسری دفعہ عبیرہ کو دیکھا۔ جو اپنے ڈاکومینٹس فام کے ساتھ چپکا رہی تھی۔وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔۔
ان دونوں کے درمیان بس بچوں کے ریلیٹڈ بات ہوتی تھی۔اس میں بھی شہریار ٹھیک سے جواب نہیں دیتا تھا۔عبیرہ بس اپنا فرض پورا کر وہی تھی۔ وہ بچون کا پورا خیال رکھتی۔وہ ان سے بہت اٹیچ ہو چکی تھی۔
وہ شہریار کا ہر کام کر دیتی تھی۔ پہلے پہلے تو شہریار نے ایک دو دفع ڈانٹا لیکن عبیرہ بھی اپنی ضد میں لگی رہی۔اب وہ کچھ نہیں بولتا تھا۔۔۔
اگلی صبح شہریار تیار ہو کر آفس جانے کے لیے تیار ہوا۔۔۔
شہریار آپ یہ یونی میں سبمیٹ کروا دیں گے۔۔وہ جیسے ہی وہ جانے لگا عبیرہ نے روک کر فام والی فائل شہریار کو دیا۔۔۔
یہ کیا ہے شہریار نے فائل پکڑتے ہوۓ پوچھا۔۔
فام ہے میں نے کل عبیرہ کا یونی میں ایڈمیشن کروا دیا تھا۔تم جما کروا دو تا کہ وہ کل سے جوائن کر سکے۔فرحان صاحب کھانا کھاتے ہوۓ بولے۔۔۔
شہریار نے فائل پکڑ لی اور باہر کی طرف چلا گیا۔۔۔
ویسے ماموں آپ نے اچھا نہیں کیا آپ مجھے اپنے کھڑوس بیٹے کے ساتھ چھوڑ کر خود امریکہ جا رہے ہیں وہ بھی دو مہینے کے لیے۔۔۔عبیرہ ان کے پاس کرسی پر آ کر بیٹھی۔۔
تو بیٹا جی وہ کھڑوس تمہارا شوہر ہے۔
کیسا شوہر ڈھنگ سے بات تو کرتے نہیں۔مجھے دیکھتے ہی ان کے چہرے پر بارہ بچ جاتے ہیں۔عبیرہ فرحان صاحب کے اچانک اتنی دور جانے پر خفا تھی۔۔۔
ہاہاہا بالکل جھلی ہو۔۔اپنے ماموں کی ایک بات مانوں گئی۔فرحان صاحب بولے۔۔۔
بالکل مانوں گی آپ حکم کریں۔عبیرہ مسکرائی۔۔
بیٹا میں جانتا ہوں شہریار غصے والا ہے۔پر وہ ایسا بالکل نہیں تھا وہ تو بہت ہنس مکھ تھا لیکن جب سے اس کی شادی نیلم سے ہوئی وہ بہت بدل گیا۔۔
اور طلاق کے بعد تو وہ ہر وقت غصے میں رہتا تھا۔میں کل بہت خوش ہوا جب وہ بچوں کے ساتھ اتنی دیر بیٹھا اور ہنسا۔
عبیرہ تمہیں اب شہریار سے ڈرانا نہیں ہے۔اگر وہ تمہیں ڈانٹے تو دو ٹوک جواب دو۔اس پر حق جتاؤ۔۔
اس سے باتیں کیا کرو۔تمہیں شہریار کی خود پر بنائی ہوئی دیوار کو توڑنا ہو گیا۔۔اسے اپنے ہونے کا احساس کرانا ہو گا۔۔تبھی وہ تم سے محبت کر پاۓ گا۔۔فرحان صاحب اسے سمجھا رہے تھے۔۔۔
میں جانتی ہوں ماموں جب ایک انسان اندر سے بالکل ٹوٹ چکا ہو تو وہ جلد کسی پر بھروسہ نہیں کر پاتا۔مجھے ان کا بھروسہ ان کا پیار جیتنے کے لیے جو بھی کرنا پڑے میں وہ سب کروں گئی۔آپ بس پریشان نا ہوں۔۔عبیرہ مسکرا کر بولی۔۔۔۔
شاباش تم میری سمجدار بیٹی ہو۔۔فرحان صاحب نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔۔۔
چلین میں آپ کی پیکنگ کر دیتی ہوں۔۔عبیرہ کہتی ہوئی ان کے کمرے میں چلی آگئی۔۔۔
یااللہ مین نہین چاہتا ایک یتیم بچی میرے بیٹے کی وجہ سے غم جھیلے بس ان دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت پیدا کر دے۔۔فرحان صاحب نے دل سے دعا کی۔۔۔۔
★★★
شہریار سیدھا آفس آیا۔اس نے ہاتھ میں پکڑی فایلز ٹیبل پر رکھیں۔تب اس کی نظر عبیرہ والی فائل پر پڑی۔۔۔
شیٹ یہ تو جمع کروانی تھی۔ شہریار نے اپنی سیکٹری کو اندر بلوایا۔۔۔
یہ کسی کو بول کر یونی میں جمع کرو دو۔۔اسنے فائل اپنی سیکٹری کو دی۔۔۔۔
سیکٹری فائل کے کر باہر آئی۔۔۔اور ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔۔۔
کیا ہوا مس کوئی کام تھا فاہد ا سکے پاس پہنچا۔۔
ہاں وہ سر نے یہ فائل یونی جمع کروانے کو کہا ہے۔۔پر کون جاے گا؟؟ وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔۔۔
مین کروا دیتا ہوں۔فاہد نے فائل اسکے ہاتھ سے لے لی۔۔۔وہ فایل دے کر چلی گئی۔۔
فاہد فائل کو لیے اپنے کیبن میں آیا اور فائل کو کھول کر دیکھنے لگا۔۔
اوو تو مس عبیرہ یہ ہے تمہارا نمبر بری چلاق نکلی نمبر بدل لیا ۔۔فاہد نے جلدی سے نمبر نوٹ کیا اوت فائل پکڑے آفس سے باہر نکلا۔۔۔
اس نے فائل یونی جمع کروائی۔اور پھر اپنی میڈم سے ملنے اس کے گھر چلا گیا۔۔۔
یہ گھر زیادہ برا نہیں تھا ایک چھوٹا سا اپاٹمنٹ تھا۔۔
وہ اندر آیا تو سامنے صوفے پر دو لڑکیان بیٹھی ہوئیں تھین۔۔
شکر ہے تم آگے۔۔چلو جلدی بیٹھو پلین ڈسکیس کرنا ہے۔ شمائلہ بولی۔۔
جی بالکل فاہد فوراً سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔
مجھے شمائلہ کا تو وپتہ ہے لیکن آپ کا نام نہیں جانتا۔۔وہ سامنے بیٹھی دوسری لڑکی سے مخاطب ہوا۔۔
میں نیلم ہوں۔ میں شہریار کی پہلی بیوی تھی۔ سامنے بیٹھی لڑکی بولی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
اب بتائے اگے عبیرہ اور شہریار کی زندگی میں کیا ٹوسٹ آنے والا ہے۔۔۔۔
