Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

وہ اپنے کمرے میں آ گیا۔۔سامنے صوفے پر عبیرہ بیٹھی پوئی تھی۔۔ وہ اپنا سر گھٹنوں پر رکھ کر رو رہی تھی۔۔۔دروازے کے بند ہونے کی آہٹ سے اس نے اپنا چہرہ اوپر کیا۔ سامنے شہریار کھڑا تھا وہ اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔

اس غلطی کی سزا آپ مجھے ایسے دیں گے۔۔ اگر آپ کو مجھ پر یقین نہیں تھا تو اسی دن کیوں نہیں بولے۔۔کیونکہ اس دن بھری محفل میں مجھ پر یقین کیا۔۔جب یوں بعد میں بے عزت کرنا تھا۔ وہ چل کر اس تک آئی۔۔

شہریار نیچے زمین کی طرف دیکھ رہا تھا۔

شہریار اللہ کا واسطہ ہے۔مجھے معاف کر دیں زندگی میں کبھی ایسی غلطی نہیں کروں گئی۔ مجھ پر میرے بچوں پر اتنا برا ظلم مت کریں۔میں ان کے بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔۔ عبیرہ ہاتھ جوڑ کر روتے ہوۓ .بولی۔۔۔۔

اگر آپ کہتے ہو تو میں آپ کے پاؤں پر پکڑکر بھیگ مانگتی ہوں۔ عبیرہ روتے ہوۓ اس کے پیروں میں بیٹھ گئی۔۔۔

عبیرہ پاگل ہو گئی ہو اُٹھو شہریار نے اسے دونوں بازوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں گِڑاۓ رو رہی تھی۔وہ ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی

میں بھی بے وقوف ہوں خامخا اس کی طبعیت خراب کر دی۔۔شہریار خود کو کوسنے لگا

ایم سوری چپ کر جاؤ۔۔شہریار نے کھینج کر اسے اپنی سینے سے لگا لیا۔۔ عبیرہ کی ہمت ٹوٹ گئی وہناور زیادہ رونے لگی شہریار سے سھنمبالنا مشکل ہو رہا تھ۔ا

عبیرہ چپ کر جاؤ طبعیت خراب ہو جاۓ گئی۔۔۔شہریار اسے لے کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔

ایم سوری پلیز طلاق مت دینا میں کہاں جاؤں گئی۔ عبیرہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔

چپ عبیرہ میری جان میں بھلا تمہیں چھوڑ سکتا ہوں۔ تمہیں چھوڑنے سے پہلے مجھے خود کو ختم کرنا ہو گا۔

۔صرف موت کی صورت میں ہی ہم ایک دوسرے سے جدا ہو سکتے ہیں۔۔۔شہریار اسے چپ کرواتے ہوۓ بولا۔۔۔

تو آپ نے ڈائینگ ٹیبل پر وہ سب کیون۔ بولا۔۔کیا آپ سچ میں شادی کر لیں گے۔شہریار کو عبیرہ کے لہجے میں واضع خوف محسوس ہوا۔شہریار کے چھین جانے کا خوف۔۔
بکواس کر رہا تھا۔پاگل ہوں نا چلو پہلے تم پہلے رونا بند کرو پھر بتاتا ہوں۔۔شہریار اس کے آنسوں صاف کرتے ہوے بولا۔

دیکھو میں یہ سب اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کر رہا ہوں۔۔ پہلےبتو میرا ارادہ تمہیں کچھ بھی نا بتانے کا تھا۔لیکن اب مجھے بہت اچھے سے سمجھ آ رہی ہے۔۔اگر اب نا بتایا تو رو رو کر تم نے خود کو اور ہمارے بے بی کو ضرور نقصان پہنچا لینا ہے۔۔شہریاراس کے بال سہلاتے ہوۓ بولا۔۔۔
۔
کس مقصد کے لیے میں سمجھی نہیں عبیرہ نے تعجب سے سر اُٹھا کر کہا۔۔۔

میرے پاس ایک ایسا پلین ہے جس سے ہم ساری پراپرٹی واپس لے سکتے ہیں۔۔ میں یہ سب کسی اور طریقے سے بھی لے سکتا تھا۔لیکن مجھے اب ان سب سے اپنے باپ کی بےعزتی کا بدلہ لینا ہے۔تمہاری بے عزتی کا بدلہ لینا ہے۔ شہریار اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا۔۔۔

آپ کیا کرنے والے ہیں۔شمائلہ سے شادی کریں گے۔۔۔میں نے اپنی زندگی میں سب کھو دیا ہے۔ اگرآپ کو کھو دیا خدا کی قسم مر جاؤں گئی۔۔۔۔عبیرہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔

شش چپ میں اس سے شادی نہیں کرنے والا۔ تمہیں شروع سے بتاتا ہوں۔۔۔جب ہماری فیکٹری میں آگ لگی تھی اسکے بعد مجھے پولیس آفیسر نے ایک فوٹیج بھیجی تھی جس میں ازہر چچا آگ لگانے والے کو پیسے دے رہے تھے۔وہ سب دیکھ کر میں شاک ہو گیا میں نے وہ بات کسی کو نہیں بتائی پاپا کو بتاتا تو وہ ٹوٹ جاتے۔۔پہلے ہی ان کی صحت اچھی نہیں رہتی۔۔اس کے بعد نیلم کا یوں بچوں کی کسٹڈی کا نوٹس بھیجنا جس سے میں مینٹلی اپ سیٹ ہو گیا۔۔اور اسے پریشانی کے چکر میں جانے کب میں نے ان پیپرز پر سائین کردیے۔۔اب ہماری پراپرٹی کا 70٪ حصے چچا لے نام ہے جس کا مطلب جانتی ہو کیا ہے۔۔وہ ہم پر ہر چیز بند کر سکتے ہیں۔۔اور آج تم نے دیکھ پی لیا کیسے انہوں نے بینک اکاونٹ بند کروا دیے۔اس سارے معاملے کو بجاۓ جوش کے ہوش سے سھنمبالنا ہو گا۔اور یہ بات تو تم ہی کہتی ہو جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں۔ اس دن جو فاہد نے بولا وہ سب شمائلہ نے کروایا تھا۔وہ تمہیں میری زندگی سے نکالنا چاہتی ہے۔ بس اب میں اسے بتاؤں گا الظام لگانا کسے کہتے ہیں۔۔۔۔شہریار کی آنکھیں غصے سے لال ہو رہیں تھیں۔۔۔۔

عبیرہ یہ سب سن کر حیران ہو گئی۔۔۔۔۔

تو اتنے دنوں سے ہوں منہ پھلا کر بیٹھنے کا کیا مطلب تھا۔ میں معافیاں مانگ مانگ کر تھک گئی۔۔اور جناب نے مُڑ کر بھی نہیں دیکھا۔عبیرہ کا موڈ اب تھوڑا سا ٹھیک ہوا تو اپنا غصہ نکالنے لگی۔

وہ تو میں تمہیں تنگ کر رہا تھا۔ ویسے قسم سے سوری بولتے وقت بہت کیوٹ لگی ہو۔۔ اور تمہارا سوری سن سن کر مجھے برا مزہ آ رہا تھا۔ شہریار اس کے گال کھنچتے ہوۓ بولا۔۔۔

آہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔ عبیرہ زور سے چلائی۔۔۔۔

سو چ رہا ہو موٹی ہو کر میرے ساتھ کھڑے ہوتے ہوۓ کیسی لگو گئی۔ کہاں میں اتنا ہینڈسم اور کہاں تم اتنی موٹی ہو جاؤ گئی۔ شہریار اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔۔۔

کیا سچ میں آپ یہ سوچ رہے ہیں۔ویسے تو بہت پیار کے دعوے کر رہے تھے اب کہاں گیا وہ پیار ابھی تو میں موٹی ہوئی بھی نہیں عبیرہ صدمے سے بولی۔۔۔۔

ہاہہا اف کتنی جلدی ڈر جاتی ہو۔تم موٹی ہو یا پتلی مجھء فرق نہیں پڑتا۔تم نے میرے دل جو چھوا ہے اور جو دل کو بھا جا پھر وہ کیسے بھی ہو فرق نہیں پڑتا اور یہ تو میں جانتا ہو تم موٹی ہو کر اور خوبصورت ہو جاؤ گئی۔۔شہریار اس کے بال ماتھے سے پیچھے پر کے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔۔عبیرہ کو اپنا آپ معتبعر لگنے لگا۔وہ آگے بھر کر اپنے محافظ کی پناہوں میں چھپ گئی۔۔۔۔

ویسے ان کچھ دنوں کی لڑائی سے ایک فائدہ ہوا مجھے یہ پتہ چل گیاجو میری بیوی بھی مجھ سے بے انتہا محبت کرنے لگ گئی ہے۔شہریار اس کے کان کے قریب ہو کر بولا۔عبیرہ نے شرما کر اپنا چہرہ اس کی شرٹ میں چھپا لیا۔
شہریار کا قہقہ بلند ہوا۔۔ باہر نکلا چاند بھی ان دونوں کے ساتھ مسکرا دیا۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح شہریار تیار ہو کر سیدھا فرحان صاحب کے کمرے میں آیا۔جہاں وہ کرسی پر بیٹھے کوئی کتاب پڑ رہے تھے۔ کتابیں پڑھنا ان کا مشغلہ تھا۔

السلام علیکم پاپا شہریار دروازہ بند کر کے اندر داخل ہوتے ہوۓ بولا۔

وعلیکم السلام یہاں کیوں آۓ۔وہ کتاب کے صفے پر نظریں جماۓ ہوۓ بولے۔۔

آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔شہریار ان کے قریب آکر کھڑا ہوا۔۔فرحان صاحب نے کتاب بند کر کے سائیڈ پر رکھی اور کھڑے ہو گے۔ ۔

مجھے تم جیسے نافرمان بیٹے سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔فرحان صاحب منہ پھیرتے ہوۓ بولے۔۔۔

ہاہاہا شہریار دے اور برداشت نا ہوا وہ قہقہ لگانے لگا

۔فرحان صاحب بھی اس کے قہقے کے ساتھ شامل ہو گے۔۔۔۔

ہاہاہا مزہ ا گیا۔۔پاپا ویسے آپ کمال کی ایکٹنگ کرتے ہیں۔ جو جی میں آتا ہے وہ کرو۔پر میری لاش کو کندھا مت دینا میں تم سے یہ حق چھینتا ہو ۔۔۔ہاہاہا پاپا بہت فلمی لائین ماری ۔۔شہریار ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔

تو اور کیا کرتا جو ذہین میں آیا بول دیا۔ مجھے تو سب کے چہرے دیکھ کر ہنسی آرہی تھی۔پر بیٹے عبیرہ بہت ٹوٹ گئی ہے اسے بتا دو مجھ سے اس بچی کا مرجھایا ہوا چہرہ نہیں دیکھا جاتا۔۔۔فرحان صاحب بولے۔۔۔

جانتا ہوں اسی لیے رات کو بتا دیا تھا۔مجھے پتہ تھا وہ کچھ بولے گئی نہیں پر اندر ہی اندر ٹوٹ جاۓ گئی ۔اور اسے توڑکر بھلا میں زندہ رہ پاؤں گا۔ شہریار مسکرایا ۔۔۔

میں تم دونوں کو ساتھ دیکھ کر بہت خوش ہوں۔۔۔تم۔نے اپنی زندگی کو ایک موقع دیا۔ مجھے بہت اچھا لگا۔۔ ویسے تم اب بہت بدلے بدلے لگتے ہو بالکہ آج سے دس سال پہلے والے شہریار لگتے ہو۔فرحان صاحب اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولے۔۔۔

بس پاپا مجھے نہیں پتہ کیسے عبیرہ نے مجھے بدل دیا۔۔مجھے اس کی معصومیت ، صبر نے میرے مرجھاۓ ہوۓ دل میں محبت کے پھول کھیلا دیے۔ اور پتہ نہیں اس میں کیسی کشش ہے۔جو مجھے ہمیشہ اس کی اور کھینچتی ہے۔۔۔آپ نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔عبیرہ نے میری زندگی بدل دی اور مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے۔۔شہریار کھوۓ ہوۓ انداز میں بولا۔۔۔

بہت باتیں کر لیں چلیں مین آفس چلتا ہوں۔شہریار فرحان صاحب کے گلے مل کر باہر آ گیا۔۔۔

***۔

گھر میں سب شادی کی تیاریاں کر رہے تھے ۔۔۔۔اس وقت صبح کے گیارہ بجے ہوۓ تھے۔۔۔

گھر میں کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔شہریار گیارہ بجے گھر آیا۔۔۔وہ چپکے سے سارا گھر چیک کر کے ازیر صاحب کے کمرے میں چلا گیا۔۔

کمرہ بالکل خالی تھا۔وہ جلدی سے الماری کی طرف آیا۔۔کافی دیر تک وہ پورے کمرے کو چیک کرتا رہا۔۔جب اپنے مطلب کی چیز نا ملی تو واپس مڑنے لگا تبھی اس کی نظر الماری کےاوپر رکھے صندوق پر پڑی۔۔شہریار نے جلدی سے اسے نیچے اتارا

صندوق پر کویی تالا یا کوڈ نہیں تھا۔۔شہریار نے جلدی سے اسے کھولا۔

چیزوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھا تھوڑی ہی دیر میں اپنے مطلب کی چیز مل گئی۔۔۔

یسسسس شہریار اسے باہر نکال کر باقی کا کمرہ ٹھیک کر کے اسے لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔

اپنے کمرے میں پہنچ کر اس نے فایل اوپن۔ کی ۔۔

فائینلی مجھے مل گئی۔۔۔شہریار فائل کو دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔یہ پراپڑٹی کے پیپرز تھے۔ شہریار نے وہ پیپرز الماری میں دراز کے اندر چھپا کر تالا لگا دیا۔۔اور خود باہر آ گیا ۔جلدی سےگاڑی آفس کی طرف بڑھائی ۔


رات کو جب وہ گھر آیا تو سب ڈایینگ ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔۔۔۔شہریار فریش ہو کر بیچے آیا۔۔۔

عبیرہ سب کے سامنے شہریار سے بات نہیں کرتی تھی اگر کرتی بھی تو روڈ انداز میں کرتی۔۔ایسا شہریار نے ہی کرنے کو بولا تھا تاکہ کسی کو شک نا ہو۔۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد شہریار ٹیوی لوونج میں بیٹھا ٹیوی دیکھ رہا تھا۔۔پاس ہی شمائلہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔

عبیرہ کافی لا دو۔۔شہریار زور سے بولا۔۔۔عبیرہ کیچن میں کھڑی نگینہ( میڈ جو کل ہی آئی تھی ) عبیرہ اسے کام بتا رہی تھی جب شہریار کی آواز آئی۔۔۔

عبیرہ نے کیچن کے دروازے سے باہر جھانکا تو شہریار کو شمائلہ کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتے دیکھ غصہ آ گیا۔
ان کو تو میں بتاتی ہو۔وہ ان دونوں کے پاس آئی۔۔۔

مسٹر شہریار میں آپ کی نوکرانی نہیں جو یوں آڈر دے رہے ہیں۔ویسے بھی کچھ مہینوں بعد تو چھوڑینے والے ہیں۔۔

۔ابھی نا آپ پڑھی لکھی سمجھدار ہونے والی بیوی کو بولیں وہ آپ کو کافی بنا دے۔۔ عبیرہ بیوی لفظ پر دانت پیستے ہوۓ بولی۔۔۔

شہریار حیرانگی سے اس کا یہ روپ دیکھ رہا تھا۔۔۔

تم شائید بھول رہی ہو تم بیوی ہو میری۔۔۔شہریار کھڑا ہو کر بولا۔۔۔

ابھی میرے پاس وقت نہیں مجھے اپنے بچوں کو دیکھنا یے۔۔اوکے

عبیرہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔اور مڑ کر اوپر کمرے کی طرف چلی گیی۔۔

شہریار چھوڑو اسے میں بنا دیتی ہوں۔۔شمائلہ کھڑی ہو کر اس کے قریب ہو کر بولی۔۔

تم یہی روکو میں زرا اس کو درست کر کے آتا ہوں۔۔مجھ سے بدتمیزی کی ہمت بھی کیسے ہوئی شہریار غصے سے کہتا اوپر کمرے کی طرف بڑھا۔۔

واؤ اب مزہ آۓ گا۔۔۔شمائلہ ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔

شہریار اوپر اپنے کمرے میں آیا۔اور دروازہ بند کر دیا۔۔
تم زیادہ ہی نہیں بول رہی۔ شہریار اس کو بازو سے پکڑتے ہوۓ اپنی طرف موڑتے ہوۓ بولا۔۔

بالکل نہیں اور ویسے بھی مجھے بہت مزہ آیا آپ پرغصہ کر کے۔۔ مطلب جس کو کوئی چپ نہیں کروا سکتا اسے میں نے عبیرہ شہریار نے چپ کروا دیا۔۔وہ مسکراتے ہوۓ اکڑکر بولی۔۔۔

اچھا جی۔ مطلب مجھے اب کھینچ کر رکھنا پڑے گا۔۔کہی میرا پیار میرے پر ہی الٹا نا پڑجاۓ۔۔شہریار اسے کمر سے پکڑکر کھینچ کر خود کے نزدیک کرتے ہوۓ بولا۔۔۔

ہاہ آپ کچھ کر کے تو دیکھیں میرے پاس تین تین ہتھیار ہیں۔ میرے بچے اور ماموں جان وہ تینوں آپ کو ہی سیدھا کر دیں گے۔۔۔عبیرہ اس کہ گردن کے گرد اپنے دونوں بازو ہمائیل کرتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

جانتا ہوں ماموں کی بھانجی بہت اچھے سے جانتا ہوں اور ویسے بھی مجھے اپنی بیگم سے ڈانٹ کھانے میں مزہ آ رہا ہے۔۔۔شہریار اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔۔۔عبیرہ کھلکھلا اُٹھی۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔😊