No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
“تمہیں کیا لگتا ہے حازم سالار یہ ڈرامہ کرکے ایس پی حبہ کو بے وقوف بنا لو گے۔۔۔۔ “
اُس کی گردن میں بازو حمائل کرتے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے وہ اُسے باور کروا گئی تھی کہ اُسے بے وقوف بنانا اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔
جبکہ اُس کی یہ دلربانہ ادا حازم سالار کے دل پر بجلیاں گرا گئی تھی۔۔۔۔
وہ اُسے دور کرتا اُٹھا کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
“تمہیں کس نے کہا تھا اِسی فیلڈ کو جوائن کرو۔۔۔ باقی عام لڑکیوں کی طرح کوئی نارمل کام نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔”
حازم اُسے پوری طرح اگنور کرنے کی کوشش میں پانی کا گلاس اُٹھاتا ہونٹوں سے لگا چکا تھا۔۔۔
“اگر یہ فیلڈ جوائن نہ کرتی تو تم تک کیسے پہنچ پاتی میر حازم سالار۔۔۔ “
حبہ اُس کے مقابل آن کھڑی ہوتی اُسے بخشنے کے موڈ میں بالکل بھی نہیں تھی آج۔۔۔۔
“تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ تم مجھ تک پہنچ چکی ہو۔۔۔۔”
حازم نے اُس کی جانب دیکھتے سوال کیا تھا۔۔۔ جس کی آنکھوں کی چمک انوکھی تھی۔۔۔۔
“ہاں اور بہت جلد تمہارے گینگ کو ختم کرکے اپنے شوہر کو واپس پا لوں گی۔۔۔۔”
حبہ اُس کی اصلیت جان کر بھی اُس سے نفرت نہیں کر پائی تھی۔۔۔ وہ اُسے سدھارنا چاہتی تھی۔۔۔۔
وہ چاہتی تھی حازم اِن اندھیروں سے نکل کر اُس کے ساتھ ایک نارمل زندگی گزارے۔۔۔۔
“ایسا ناممکن ہے۔۔۔ جو میرے گینگ کی جانب بُری نگاہ سے دیکھے گا۔۔۔ اُسے سب سے پہلے مجھ سے ٹکرانا ہوگا۔۔۔ میرے ساتھی، میرے لوگ میری زندگی ہیں۔۔۔ جن کے بغیر حازم سالار اب کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔”
حازم کا انداز بے لچک تھا۔۔۔
جبکہ اُس کی بات پر حبہ تپ اُٹھی تھی۔۔۔
“تو تم اپنے اُن برائی میں گھرے لوگوں کی خاطر مجھے بھی نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرو گے۔۔۔”
حبہ اُس کا گریبان مٹھیوں میں دبوچتے اُس کے مقابل آئی تھی۔۔۔۔
جبکہ حازم اُس کے اِس بپھرے انداز پر اپنی مسکراہٹ روک نہیں پایا تھا۔۔۔
“تم تو میری جان ہو۔۔۔ تمہیں نقصان پہنچانے سے پہلے حازم سالار خود کو نہ ختم کردے۔۔۔”
اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتا وہ اُسے اپنے قریب کر گیا تھا۔۔۔ جبکہ حبہ نے اُلجھی نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
“تم مجھے گھما رہے ہو حازم سالار۔۔۔ کیوں لائے ہو مجھے یہاں۔۔۔ کرنا کیا چاہتے ہو۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ کو حازم کا پر اسرار انداز ٹھٹھکا گیا تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے اُس کے کانوں میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دی تھیں۔۔۔
“یہ فائر کہاں ہوئے ہیں۔۔۔۔؟؟؟”
حبہ نے تشویش بھری نگاہوں سے حازم کو دیکھا تھا۔۔۔
“وڈیرا قربان شاہ کے آدمیوں کو فورس کے لوگوں کے یہاں آنے کی خبر ہوچکی ہے۔۔۔ یہ ابھی جو فائرنگ ہوئی ہے یہ تمہارے ہی ساتھیوں کو مارا گیا ہے۔۔۔ اور جن لوگوں کو تم مارنے جارہی تھی۔۔۔ وہ سب جاگ رہے تھے۔۔۔ اور تمہاری جانب سے ہی کسی حملے کے منتظر تھے۔۔۔ تمہارے آفیسر کی عقل لگتا کے گھاس چڑنے جا چکی ہے۔۔۔ کتنی بار اُن تک پیغام بھجوایا گیا ہے کہ یہاں اپنے آدمیوں کے بھیج کر اُن کی جان خطرے میں مت ڈالیں۔۔۔ مگر اُنہیں تو بس ایک چیز ہی دکھائی دے رہی ہے۔۔۔۔ وڈیرا قربان شاہ کو ختم کرنا آسان نہیں ہے۔۔۔ اُس کے مخبر پولیس فورس میں بڑے بڑے عہدوں پر موجود ہیں۔۔۔ جنہیں پیسہ کھلا کر وہ اپنا غلام بنا چکا ہے۔۔۔۔ ایک لیڈی آفیسر یہاں آئی ہے۔۔۔ اِس بات کی خبر تمہارے یہاں پہنچنے سے پہلے اُس تک پہنچ چکی تھی۔۔۔ تمہاری بہتری اِسی میں ہے کہ تم یہاِں سے لوٹ جاؤ۔۔۔۔”
حازم نے اُسے تفصیل بتاتے اُس کا فق پڑتا چہرا دیکھا تھا۔۔۔۔ اپنے لوگوں کے مارے جانے کا دکھ آنسو بن کر اُس کی آنکھوں سے بہہ نکلا تھا۔۔۔
اُن کے اپنے لوگ ہی جب اُن کے خلاف تھے تو وہ بھلا کس طرح ایسے وڈیروں کا مقابلہ کر پاتی۔۔۔۔
“تم مجھے کمزور اور بزدل سمجھتے ہو۔۔۔ جو یوں ڈر کر بھاگ جاؤں گی میں۔۔۔۔ اُن لوگوں کے ساتھ ساتھ تم بھی قاتل ہو میرے لوگوں کے۔۔۔ تمہیں پتا تھا نا کہ وہ اُنہیں مارنے والے ہیں تو بتایا کیوں نہیں مجھے۔۔۔ حازم سالار میرا دل تمہاری اصلیت جان لینے کے بعد بھی یہ بات نہ ماننے پر بضد تھا کہ تم اتنے بُرے انسان نہیں ہوسکتے۔۔۔ جو انسانی جانوں سے کھیلنے جیسا گھناؤنا فعل کرو۔۔۔ مگر آج تم نے ثابت کردیا ہے۔۔۔ کہ تم ایک انتہائی۔۔۔۔”
حبہ نے اُس سے خود آزاد کرواتے بنا اُسے سمجھے۔۔۔ اُس پر الزامات کی بارش کر دی تھی۔۔۔
حازم خاموشی سے کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
مگر اُس کی آخری بات برداشت نہ کر پاتے وہ اُس کی کلائی اپنی گرفت میں لیتا اُسے کھینچ کر دیوار سے لگاتا اُس کے ہونٹوں پر اپنی مضبوط ہتھیلی جما گیا تھا۔۔۔
“ہاں ہوں میں انسانوں کی زندگیاں نگلنے والا خونی درندہ۔۔۔ جان لیتا ہوں میں لوگوں کی۔۔۔۔ اور یہ بھی جانتا تھا کہ تم سمیت تمہارے دونوں پولیس اہلکاروں کو مارنے والا ہے وہ وڈیرا۔۔۔ سب کچھ جانتا ہوں۔۔۔۔ دنیا کا سب سے بُرا انسان ہوں میں۔۔۔ جس کے لیے انسانی جانیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔۔۔۔ یہی ہے میری اصلیت۔۔۔ اور میں اپنی اِس پہچان کے ساتھ بے پناہ خوش بھی ہوں۔۔۔۔ ایس پی حبہ حازم سالار تم مجھ جیسے بلیک سٹار کو کبھی سمجھ ہی نہیں پاؤ گی۔۔۔۔ کیونکہ تم اب ایک پولیس والی ہو۔۔۔ حازم کی حبہ نہیں۔۔۔ جو میرے بنا بولے میری ہر بات سمجھ جایا کرتی تھی۔۔۔۔ میں تمہیں اپنے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دوں گا۔۔۔۔ “
حازم اُسے آزاد کرتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
جب حبہ نے اُسے پیچھے سے جاتے اُس کی کمر میں بازو حمائل کرتے ایک کک رسید کرتے اُسے نیچے گرانا چاہا تھا۔۔۔
جب اُسی لمحے حازم واپس پلٹا تھا۔۔۔
اور گرتے گرتے اُسے بھی اپنے ساتھ کھینچ گیا تھا۔۔۔
دونوں ایک ساتھ پیچھے رکھے پلنگ پر جاگرے تھے۔۔۔
اُن کے پورے وزن سے گرتے ہی زور دار آواز کے ساتھ پلنگ ٹوٹتا پورے کمرے میں وزن پیدا کر گیا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
“مجھے اندھیرے سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ پلیز لائٹ آن کر دو۔۔۔”
پریسا نے اُس سے التجا کی تھی۔۔۔
“میری دنیا میں اندھیروں کے سوا کچھ نہیں ملے گا تمہیں۔۔۔ اِس لیے جو کہنے آئی ہو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول جاؤ۔۔۔ “
شاہ ویز اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس کی جانب بڑھتا بے لچک اور بے حسی بھرے انداز میں گویا ہوا تھا۔۔۔۔
پریسا کا دل اُس کی اِس قدر سنگدلی پر کانپ گیا تھا۔۔۔
پریسا اپنے بہت قریب اُس کی دلفریب مہک محسوس کرتی چند قدم پیچھے ہٹی تھی۔۔۔
اُسے روم میں کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ شاہ ویز کے سیگریٹ کا دھواں اُس کے نتھنوں سے ٹکراتا اُسے کھانسنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔
“شاہ ویز سکندر ہر شے پر تمہارا اختیار نہیں چل سکتا۔۔۔۔”
پریسا کی آنکھوں سے آنسو پھسلا تھا۔۔۔
“تمہیں میری بات سننی ہوگی۔۔۔ “
پریسا اُس سے بنا ڈرے اپنا لہجہ مضبوط کرتے بولی تھی۔۔۔۔
“بولو۔۔۔۔”
شاہ ویز نے ہاتھ بڑھا کر ساری لائٹس آن کردی تھیں۔۔۔ چند سیکنڈز کے اندر پورا کمرہ روشنیوں میں جگمگا گیا تھا۔۔۔
پریسا نے نگاہیں اُٹھا کر بے قراری سے اُس کے جلے بازو کو دیکھا تھا۔۔۔
جس پر اُس شخص نے ابھی تک کچھ نہیں لگاتا تھا۔۔۔
سیاہ لباس میں اپنے مغرور نقوش پر سختی بھرے تاثرات سجائے وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“تم اتنے بے رحم کیوں ہو۔۔۔ تمہیں خود پر بھی زرا رحم نہیں آتا۔۔ کوئی انسان بھلا خود کو اتنی تکلیف کیسے دے سکتا ہے۔۔۔”
اُس کا زخم دیکھ پریسا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی جاری ہوچکی تھی۔۔۔
“تم کچھ کہنے والی تھی۔۔۔۔”
شاہ ویز اُس کے آنسو دیکھ سختی سے اپنی مُٹھیاں بھینچ گیا تھا۔۔۔
“میں نے کہا نا ہر بات پر تمہارا اختیار نہیں چلے گا شاہ ویز سکندر۔۔۔ “
پریسا اُس کی بات کو اگنور کرتی الماری کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ اور وہاں سے فرسٹ ایڈ باکس نکالتے واپس سے شاہ ویز کے قریب آئی تھی۔۔۔
اُس نے ابھی شاہ ویز کا بازو تھامنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا۔۔۔ جب شاہ ویز اُس کے ہاتھ سے باکس چھین کر دور اُچھال گیا تھا۔۔۔۔
اور اُس کی کلائی تھام کر کمر کے پیچھے موڑتے اُس نے جھٹکے سے پریسا کو اپنے قریب کیا تھا۔۔۔
پریسا اُس کے اِس جارحانہ عمل پر گھبرا گئی تھی۔۔۔
“پریسا آفندی میں تمہاری موجودگی زیادہ دیر یہاں برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔ میرے پاس ہر بات کا اختیار ہے۔۔۔ تمہیں یہاں سے باہر پھینکوانے کا بھی۔۔۔۔ “
شاہ ویز نے لال آنکھیں اُس کی آنکھوں میں گاڑھے بولتا اُسے خود سے خوفزدہ کرنا چاہا تھا۔۔۔
وہ اِس لڑکی کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ برداشت نہیں کر پارہا تھا۔۔۔ اُس کے اندر اک اَن دیکھی جنگ چھڑ چکی تھی۔۔۔
اُس نے پریسا کی کلائی اتنی سختی سے مروڑ رکھی تھی کہ پریسا کا چہرا تکلیف کے مارے زرد پڑ چکا تھا۔۔۔
“نہیں ہر شے پر اختیار نہیں ہے تمہارا شاہ ویز سکندر۔۔۔ مجھ پر اور میرے دل پر تو بالکل بھی نہیں۔۔۔ تم مجھے خود سے نفرت کروانا چاہتے تھے نا۔۔ مگر دیکھو نفرت نہیں کر پائی میں تم سے۔۔۔ محبت کرنے لگی ہوں میں تم۔۔۔ شدید محبت۔۔۔۔ “
پریسا تکلیف کے باوجود اُس کی لال وحشت ناک آنکھوں میں جھانکتے بولتی اپنی محبت کا اظہار کر گئی تھی۔۔۔
جبکہ اُس کی بات سن کر شاہ ویز کی گرفت مزید سخت ہوئی تھی۔۔۔
“مگر مجھے نفرت ہے تم سے۔۔۔۔ شدید نفرت۔۔۔۔ “
شاہ ویز نے اُسے خود سے دور جھٹکتے پریسا کو قہر برساتی نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔
جبکہ اُس کے انداز میں اپنے لیے اتنی حقارت دیکھ پریسا لرز اُٹھی تھی۔۔۔ اُس کے الفاظ پریسا آفندی کا دل چیر گئے تھے۔۔۔ جس نے آج تک کسی کے سامنے اپنی زرا سی پسندیدگی کا اظہار نہیں تھا۔۔۔ وہ لڑکی آج ہر لحاظ بلائے تاک رکھتی سامنے کھڑے بے درد انسان کے سامنے محبت کا اظہار کر گئی تھی۔۔۔ مگر ہمیشہ کی طرح وہ اپنی سفاکیت کی انتہاء کرتا اُس کا دل چکنا چور کر گیا تھا۔۔۔
“تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔ اگر تم مجھ سے اتنی نفرت کرتے ہوتے تو اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہر بار مجھے بچانے نہیں آتے۔۔۔۔ “
پریسا نے فوراً نفی میں سرہلاتے اُسے دیکھا تھا۔۔۔
جس کی آنکھوں میں نظر آتے نفرت بھرے تاثرات وہ برداشت نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
“تمہاری جان میں نے تمہاری محبت میں پاگل ہوتے نہیں بچائی۔۔۔ تمہاری اور تمہارے خاندان کی بربادی کی خاطر تمہارا زندہ رہنا میرے لیے بہت ضروری ہے۔۔۔ تم میرا سب سے اہم مہرا ہو۔۔۔ جسے اتنی آسان موت نہیں مرنے دے سکتا میں۔۔۔ “
شاہ ویز کی بات سن کر پریسا لڑکھڑائی تھی۔۔۔۔ اپنے لیے اُس شخص کی آنکھوں میں اتنی نفرت دیکھنا جس سے آپ محبت کرتے ہوں انتہائی درد ناک تھا۔۔۔
پریسا کی حالت اِس وقت ایسی ہی تھی۔۔۔
اُس نے بے اختیار پاس رکھی کرسی کو تھامتے خود کو گرنے سے بچایا تھا۔۔۔
“اِس نفرت کی وجہ جان سکتی ہوں۔۔۔۔ “
پریسا بمشکل بول پائی تھی۔۔۔
اُس کی بھیگتی آنکھوں کے پیچھے شاہ ویز کا عکس دھندلا چکا تھا۔۔۔
“آفندی مینشن جاکر اپنے چچا شہباز آفندی اور ہونے والے شوہر سفیان آفندی سے پوچھنا۔۔۔ بہت تفصیل سے بتائیں گے تمہیں۔۔۔۔ اب جا سکتی ہو تم یہاں سے۔۔۔ بہت جلد آؤں گا میں آفندی مینشن تم سب کی بربادی بن کر۔۔۔۔”
شاہ ویز نفرت سے چور لہجے میں بولتا اُس کی جانب سے رُخ موڑ گیا تھا۔۔۔
جبکہ پریسا کی حالت اِس قدر خراب ہوچکی تھی کہ اُس سے اپنے قدموں پر کھڑا ہو پانا بھی مشکل ہوا تھا۔۔۔
سفیان اور اپنے باقی خاندان والوں کی خود غرضی دیکھنے کے بعد اُس کا دل صرف اور صرف شاہ ویز سکندر کی طلب کرنے لگا تھا۔۔۔
اُسے یہی لگا تھا کہ جو انسان اُس کی خاطر آگ میں کود سکتا تھا۔۔۔ وہ اُس سے کس قدر بے پناہ محبت کرتا ہوگا۔۔۔ مگر شاہ ویز سکندر کا یہ نیا رُوپ اُس کی ہستی فنا کر گیا تھا۔۔۔
اُسے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ شاہ ویز سکندر اُس سے اتنی نفرت کرتا ہوگا۔۔۔۔ اُسے اِس وقت اپنے دل پر بے پناہ غصہ آرہا تھا کہ جسے محبت ہوئی بھی تھی تو کیسے بے رحم انسان سے۔۔۔ جو تکلیف دینے کے سوا کچھ جانتا ہی نہیں تھا۔۔۔
پریسا شاہ ویز کے پاس آنے سے پہلے سفیان سے شادی سے انکار کا پورا ارادہ کر چکی تھی۔۔۔
مگر اب شاہ ویز کی باتوں سے دلبرداشتہ ہو کر خود کو سزا دینے کے لیے اُس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب سفیان آفندی سے شادی ضرور کرے گی۔۔۔ اب وہ ہر وہ کام کرے گی۔۔ جس سے اُسے اذیت ملے۔۔۔۔
وہ خود کو خود ہی اِس محبت کی سزا دینا چاہتی تھی۔۔۔
وہ بنا کسی کو بتائے بلیک ہاؤس سے نکل آئی تھی۔۔۔
اُس کا دوپٹہ زمین پر گھسٹتا جا رہا تھا۔۔۔
مگر اُسے کسی بھی شے کا کوئی ہوش نہیں تھا۔۔۔۔
اُسے بس خود کو اذیت دے کر اپنے دل کی اُس تکلیف کو کم کرنا تھا جو شاہ ویز سکندر کی اپنے لیے نفرت جان کر ملی تھی اُسے۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
صدیقی ولا میں حمدان اور مہروسہ کے نکاح میں شرکت کرنے کے لیے تمام مہمان صبح صبح ہی پہنچ چکے تھے۔۔۔ حمدان کی خواہش پر نکاح پوری دھوم دھام کے ساتھ کیا جارہا تھا۔۔۔
جس میں اُس نے اپنے اُن اُن رشتہ داروں کو بھی بلوایا تھا جن سے وہ خود بمشکل چند ایک بار ملا تھا۔۔۔
اُس کا مقصد صرف مہروسہ کو کسی بھی صورت گھر سے نہ نکلنے دینا تھا۔۔۔۔
مہروسہ کا نہ تو کسی سے رابطہ ہو پارہا تھا اور نہ ہی حمدان کی اتنی ساری کزنز کے بیچ وہ باہر نکل پارہی تھی۔۔۔۔
مہروسہ کی حالت بہت خراب تھی۔۔۔ جنید کے سر پر موت منڈلا رہی تھی اور وہ جانتے بوجھتے کچھ نہیں کر پارہی تھی۔۔۔ اُس نے اپنے نجانے کتنے آدمیوں کے نمبر پر فون کر ڈالا تھا مگر اُس کی کال ہی نہیں جا پا رہی تھی۔۔۔
مہروسہ بہت اچھے سے سمجھ رہی تھی کہ حمدان یہ سب جان بوجھ کر رہا ہے۔۔۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ حمدان یہ سب نکاح کا بھی صرف ایک ناٹک ہی کررہا تھا۔۔۔
ایس پی حمدان اُس جیسی لڑکی سے کبھی نکاح نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔
مریم کے چہرے کے پرسکون تاثرات دیکھ ہی مہروسہ سمجھ گئی تھی کہ مریم کو بھی حمدان نے اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔۔۔۔
مہروسہ کی پریشانی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھ رہی تھی۔۔۔ اُس کا کئی بار دل چاہا تھا کہ جنید کی زندگی بچانے کی خاطر وہ حمدان کے سامنے جاکر اپنی حقیقت بتا دے۔۔۔ مگر وہ جانتی تھی اگر اُس نے ایسا کردیا تو شاہ ویز اور حازم اُسے کبھی معاف نہیں کریں گے۔۔۔
اِس لیے وہ چاہنے کے باوجود ایسا کچھ نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
“مہرو تم پریشان لگ رہی ہو مجھے۔۔۔۔ سب خیریت ہے۔۔۔”
نسرین بیگم جو مہروسہ کی سچائی سے واقف تھیں۔۔۔ صبح سے اُسے بے چین سا دیکھ وہ پوچھے بنا نہیں رہ پائی تھیں۔۔۔۔
“خالہ جان خیریت بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔ میں بہت زیادہ پریشان ہوں۔۔۔ آپ کا وہ اُلٹی کھونپڑی والا بھتیجا جنید کو مارنا چاہتا ہے۔۔ وہ اُس تک پہنچ چکا ہے۔۔۔۔ اور جنید کو خبر تک نہیں ہے۔۔۔ میں صبح سے کوشش کررہی ہوں۔۔ مگر اُس نے نجانے میرے موبائل کو کیا کردیا ہے۔۔۔ میں کسی کو کال ہی نہیں کر پارہی۔۔۔۔ فرح آپی کے موبائل سے بھی ٹرائے کیا ہے۔۔۔ مگر نیٹ ورک بہت ڈاؤن جا رہا ہے۔۔۔ مجھے بہت گھبراہٹ ہورہی ہے۔۔۔ جنید کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔ “
مہروسہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔
اُن تینوں بلیک سٹارز کے لیے اپنے لوگ بہت قیمتی اور اہم تھے۔۔۔ جن پر آئی زرا سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔
اُس کی بات سن کر نسرین بیگم بھی پریشان ہو اُٹھی تھیں۔۔۔ وہ ایک دو بار جنید سے مل چکی تھیں۔۔۔ یہ خبر سن کر وہ بھی پریشان ہوئی تھیں۔۔۔
“حمدان ایسا کیوں کرنا چاہتا ہے۔۔۔ جنید تو اتنا اچھا بچا ہے۔۔۔ آج تک میں نے اُسے دوسروں کے ساتھ بھلا کرتے ہی دیکھا ہے۔۔۔ مہرو کچھ بھی کرکے اسے بچا لو۔۔۔ کیا میں اِس معاملے میں تمہاری کوئی مدد کر سکتی ہوں۔۔۔؟؟”
نسرین بیگم نے ابھی اتنا ہی کہا تھا۔۔ جب کسی خیال کے تحت مہروسہ کی آنکھیں چمک اُٹھی تھیں۔۔۔
“وہ کوئی رسم ہوتی ہے نا۔۔۔ جس میں دلہے کو رخصتی سے پہلے دلہن سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔۔ آپ بس اُسی کا شور مچا دیں۔۔۔ اور حمنہ کو یہاں بھیج دیں۔۔۔ میں اُسے یہاں بیٹھا کر باہر جاؤں گی۔۔۔ اور آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں لوں گی۔۔۔۔۔”
مہروسہ نے اُنہیں حامی بھرتے دیکھ جلدی سے کہا تھا۔۔۔
“تم بے فکر ہوکر جاؤ میں سب سنبھال لیتی ہوں۔۔۔”
نسرین بیگم اُسے سیاہ شال نکال کر تھمائی تھی۔۔۔
جب اُسی لمحے دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ ہی حمدان اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔
اُسے وہاں آتا دیکھ مہروسہ کا رنگ فق ہوا تھا۔۔۔ اُسے جنید کی بہت فکر ہوئی تھی۔۔۔ اُس نے جلدی سے شال اپنے پیچھے کرتے حمدان سے چھپائی تھی۔۔۔
مگر حمدان کی نظر اندر داخل ہوتے ہی شال پر پڑ چکی تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
