Shikast E Muhabbat By Fatima Tariq Readelle50123

Shikast E Muhabbat By Fatima Tariq Readelle50123 Last updated: 30 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shikast E Muhabbat

By Fatima Tariq

میری بچی رخصتی کا وقت ہو چکا ہے۔میں اس وقت تجھے بس اتنا کہوں گئی۔ ان بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر پیار کرنا۔اور اپنے شوہر کی ہر بات ماننا۔ نجمہ بیگم نے اسے اپنے گلے سے لگاتے ہوۓ کہا۔وہ رو دی۔

آپ بھی وعدہ کریں اپنا بہت خیال رکھیں گئی۔اور کھانا وقت پر کھائیں گئی۔اور ہاں دوائی لینا مت بھولیے گا۔ عبیرہ انہیں چپ کرواتے ہوۓ بولی۔۔

امی کافی دیر ہو گئی ہے۔ماموں نیچے انتظار کر رہے ہیں۔چلو عبیرہ۔موحد اس کے پاس آیا۔فری نے اس کے چہرے پر چادر ڈال دی۔ موحد اسے کندھوں سے تھام کر کمرے سے باہر نکلا۔ وہ اپنے آپ کو بہت زیادہ کنٹرول کر رہی تھی۔کہ نا روۓ وہ جانتی تھی اگر وہ رو دی تو نجمہ بیگم بھی رو دیں گئی۔اس سے ان کی طبعیت خراب ہو سکتی ہے۔۔

قرآن پاس کے ساۓ میں اسے رخصت کیا گیا۔ جیسے وہ گاڑی میں بیٹھی اس کے صبر کا پیمانہ لبرلیز ہو گئی۔اور وہ پھوٹ کر رو دی۔

گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر شہریار بیٹھا۔ اس کے ساتھ والی سیٹ پر نور اور عمیر بیٹھے پچھلی سیٹ پر عبیرہ کے ساتھ شہریار کی بہن علینہ اپنے بیٹے ہادی کو لیے بیٹھی تھی۔۔۔

شہریار نے گاڑی چلا دی۔باقی گاڑیاں ابھی پیچھے تھیں۔۔۔

نور اور عمیر تو گاڑی میں ہی سو گے۔ پانچ گھنٹوں کے مسلسل سفر کے بعد با آخر وہ لوگ گھر پہنچ گے۔۔۔

شہریار گاڑی پارک کر کے بچوں کو اُٹھاۓ انہیں ان کے کمرے میں لے گیا۔۔

چلو عبیرہ باہر آ جاؤ۔علینہ نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا تو وہ باہر نکلی۔ چادر اب تک اس کے کندھوں تک آ چکی تھی۔۔

علینہ اسے لیے شہریار کے کمرے میں آ گئی۔

تم یہاں بیٹھو۔میں ہادی کو سلا کر آتی ہوں۔عبیرہ اسے کمرے میں چھوڑ کر باہر چلی گئی۔

وہ کمرے کے درمیان میں کھڑی کمرے کو دیکھنے لگی۔۔سامنے بہت خوبصورت بیڈ پڑا ہوا تھا۔ سامنے دیوار پر بہت خوبصورت عمیر نور اور شہریار کی تصویریں لگی ہوئیں تھیں۔ وہ چلتی ہوئی بیڈ کے اس طرف آئی اپنے پاؤں کو ہیل سے آزاد کر کے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔اسے یوں بری بری ہیلز پہنے کی عادت نہیں تھی۔

اتنے لمبے سفر کے بعد وہ بہت تھک چکی تھی۔تو بیڈ گرون سے ٹیک لگا کر اس نے آنکھیں مُندھ لیں۔۔

*****