No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
شادی کو ایک مہینا گزر چکا تھا۔ عمیر اور نور عبیرہ سے کافی مانوس ہو چکے تھے۔اس نے سارے گھر کو سھنمبال لیا تھا۔
شہریار ابھی بھی اس سے کافی چڑتا تھا۔اسی طرح بات کرتا تھا۔
وہ بچوں کو سُلا کر اپنے کمرے میں آئی تھی۔ شہریار ہمیشہ کی طرح بیڈ پر فائلز پھیلاۓ بیٹھا ہوا تھا۔۔
شہریار مجھے آپ سے ایک اہم بات کرنی ہے۔ وہ
اس کے پاس بیڈپر بیٹھتے پوۓ بولی۔۔۔
بولو کیا بات ہے پیسے چاہیں۔۔۔شہریار نے ایک پل کو اس کی طرف دیکھ کر کہا۔۔
جی نہیں مجھے آپ کی پیسے بالکل بھی نہیں چاہیں۔ میں گھر میں بیٹھے بہت بور ہو جاتیں ہوں تو میں کافی دن سے سوچ رہی تھی۔ کہ میں دوبارہ سے ایڈمیشن لے لوں۔۔ وہ آہستہ آواز میں بولی۔۔
واٹ ایڈمیشن میڈیم یہ بھی بتاؤ کون سی کلاس میں ایڈمیشن لینا ہے گیارویں میں یا ناویں میں وہ ہنستے ہوۓ بولا۔
آپ سے تو بات کرنا ہی بے کار ہے۔ وہ بیڈ سے اُٹھ گئی۔اور کمرے سے جانے لگی۔
آپ کی اطلاع کے لیے بتا دوں۔ اللہ کا شکر ہے مجھے میری ماں نے b.com تک پڑھایا ہے۔۔آگے نہیں پڑ پائی کیونکہ مجھ پر اپنی ماں کی کچھ ذمہ داریاں تھیں۔ دوسری بات میں نے ہمیشہ خود کمایا کبھی دوسروں کے آگے ہاتھ نہیں پھلایا۔ وہ ایک دم رکی اور پلٹ کر شہریار کو دیکھا کر بولی۔پلٹ کر کمرے سے نکل گئی۔۔۔
عجیب دماغ خراب کر کے رکھا ہے۔میں نے ایسا کیا کہ دیا تھا۔۔وہ غصے میں خد سے مخاطب ہوا۔۔
وہ باہر گاڈرن میں آ کر بیٹھ گئی۔ وہ بہت دُکھی ہوئی تھی۔
کیا میری زندگی میں شوہر کا پیار نہیں لکھا۔کیا ساری زندگی شہریار ایسا ہی بی ہیو کرتے رہیں گے۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کو غور سے دیکھتے ہوۓ سوچ رہی تھی۔۔
کیا ہوا میری بیٹی یوں اکیلی اکیلی اور اتنی چپ چاپ کیوں بیٹھی ہوئی ہے۔فرحان صاحب اس کے پاس کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولے۔۔
ماموں اپ ابھی تک سوے نہیں۔وہ ایک فم اپنے خیالوں سے نکلی۔۔۔
جب میری بیٹی یہاں اکیلی اور پریشان بیٹھی ہو تو بھلا مجھے نیند کیسے آ سکتی ہے۔وہ مسکرا کر بولے۔۔۔
نہیں ماموں میں پریشان نہیں ہوں بس ایسے ہی بیٹھی ہوئی تھی۔وہ بات کو ٹالنا چاہتی تھی ۔۔
مجھے اپنے باپ کی جگہ مان کر بتاؤ کیا پریشانی ہے فرحان صاحب بولے۔۔۔
آپ میرے لیے میرے ابا ہی ہیں۔مین تو بس یہ سوچ رہی تھی۔ آپ سب کے گھر سے چل6 جانے کے بعد مین بہت اکیلی ہو جاتی ہوں۔تو مین سوچ رہی تھی M.comمیں ایڈمیشن لے لوں۔b.com کے بعد ایسی پڑھائی چھوٹی کہ دوبارہ اس رہ گئی ہی نہیں۔اب بس دل کر رہا ہے۔ وہ چہرہ نیچے جھکاۓ بولی۔۔۔
بس اتنی سی بات پر ایوی پریشان ہو رہی ہو۔مین کل ہی اس شہر کی اچھی یونی ورسٹی میں تمہارا ایڈمیشن کروا دیتا ہوں۔پر ابھی تم اُٹھو اور جا کر سو جاؤ صبح کی کاموں میں لگی ہوئی ہوتی ہو۔کچھ اپنا بھی خیال رکھا کرو۔ فرحان صاحب اسے ڈانٹتے ہوۓ بولے۔۔
دونوں اندر چلے گے۔۔عبیرہ لائٹس آف کر کے کمرے میں آ گئی۔۔شہریار ابھی بھی کام کر رہا تھا۔وہ چلتی ہوئی صوفے پر آئی اور سونے کے لیے لیٹی۔۔
مجھے کافی لا کے دو۔ تبھی شہریار کی آواز ابھری۔۔۔
وہ بہت تھک چکی تھی پر پھر بھی وہ اُٹھی اور کافی بنانے چلی گئی۔ کافی دے کر وہ دوبارہ سے سونے چلی گئی۔ پانچ منٹ میں وہ سو چک تھی۔۔۔
رات کے تین بج چکے تھے تب وجدان نے اپنا کام مکمل کر کے لیٹ ٹاپ سائڈ ٹیبل پر رکھا ۔اور فائلز سمیٹنے لگا۔وہ بہت تھک چکا تھا۔ وہ جیسے ہی بیڈ پر لیٹا اس کی نظر سامنے صوفے پر سوئی عبیرہ پر گئی۔ چادر لیے وہ سمیٹ کر سو رہی تھی۔ کچھ بال اس کے چہرے پر آۓ ہوۓ تھے۔ اس وقت وہ اسے بہت پیاری لگ رہی تھی۔
خوبصورت تو تم ہو پر اس خوبصورتی کے جال میں مِیں نہیں آنے والا مس عبیرہ وہ اسے دیکھتے ہوۓ خود سے گویا ہوا۔اور آنکھیں موندھ گیا۔۔۔۔۔
اگلی صبح وہ اُٹھی نماز پڑھ کر وہ نیچے ناشتے کی تیاری کرنے آ گئی۔
بچوں کو تیار کر کے وہ ناشتہ ٹیبل پر لگانے لگی۔۔
ماما مجھے سکول نہیں جانا نور منہ پھلا کر کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔۔
کیوں نہیں جانا کیا ہوا۔ عبیرہ اس کی پلیٹ میں پراٹھا رکھتے ہوۓ بولی۔۔
مجھے بخار ہے وہ گھانستے ہوۓ بولی۔عبیرہ نے فوراً اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔جو واقع گرم تھا۔۔
بالکل نہیں کوئی چھٹی نہیں ہو گئی۔جلدی سے ناشتہ کرو اور سکول جاؤ شہریار کرسی کو کھینچ کر اس پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔
اسے بخار ہے طبعیت خراب میں وہ کیسے جاۓ گئی۔عبیرہ شہریار کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
ہر بات میں ٹانگ مت اڑایا کرو۔ نور عمیر پہلے ہی آپ دونوں کی بہت کمپلینز آئین تھیں۔مجھے کسی کا کوئی بہانا نہیں سننا شہریار دونوں کو وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔۔
عبیرہ کے منا کرنے کے باوجود شہریار خود ان دونوں کو سکول چھوڑنے چلا گیا۔
فرحان صاحب کو آج آفس میں کوئی کام نہیں تھا۔۔وہ ناشتہ کرنے کے بعد اپنے کسی دوست سے
ملنے چلے گے تھے۔
عبیرہ کا دل صبح سے گھبڑا رہا تھا۔وہ کب کی ادھر اُدھر چکر لگا رہی تھی۔وہ گھر میں اکیلی تھی۔۔تبھی لین لائین کی پر کال آئی۔اس نے فوراً کال ریسو کی۔۔
میں سٹی ہسپتال سے بول رہا ہوں۔ جی جن کے فون سے مین کال کر رہا ہوں۔وہ اور ان کے ساتھ دو بچوں کا کار ایکسیڈینٹ ہوا ہے اور ابھی وہ ہسپتال میں اڈمیٹ ہیں۔آپ پلیز جلد سے جلد آ جائیں۔۔۔
کیا یااللہ مہرے بچے عبیرہ روتے ہوۓ بولی۔
اگے سے اسے ہسپتال کا ایڈریس بتاتا گیا۔۔عبیرہ فون کو وہی چھوڑ کر چادر لیے باہر کی طرف بھاگی۔۔ڈرائیور تو چھٹی پر تھا۔وہ باہر رکشے میں بیٹھی۔اور سیدھی ہسپتال پہنچی۔وہ بار بار شہریار کا نمبر ڈائل کر رہی تھی پر اس کا نمبر بند آ رہا تھا۔۔۔
وہ بھاگتی ہوئی کوڑیڈول میں آئی۔۔۔میرے بچے کہاں ہیں۔۔وہ وہاں کھڑے ایک ڈاکٹر سے پوچھا۔۔
ابھی جو ایکسیدینٹ ریپوٹ ہوا ہے اس کے پیشنٹ اس روم میں ہیں۔۔۔ڈاکٹر نے ایک طرف اشارہ کیا۔۔
وہ بھاگتے ہوۓ اس کمرے میں گئی۔۔۔
شہریار بچوں کو سکول چھوڑنے کے بعد سیدھا آفس پہنچا۔۔اس کی آج میٹنگ تھی۔۔وہ سیدھا میٹنگ روم میں پہنچا جہاں پہلے سے ہی کلائینٹ بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔
میٹنگ چار گھنٹے چلی۔وہ چار گھنٹے کے بعد اپنے آفس میں آیا۔ اس نے پاکٹ سے فون نکالا۔ اور اسے آن کیا۔ پچاس مسڈ کال عبیرہ کے نمبر سے آئیں تھیں۔ وہ پریشان سا ہو گیا۔اور فوراً عبیرہ کے نمبر پر کال کی۔۔۔
شہریار آگے سے عبیرہ کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔۔
کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو سب ٹھیک تو ہے نا شہریار پریشان سا ہو گیا۔۔۔۔
کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ عبیرہ نے روتے ہوۓ سب بتایا۔۔شہریار کے ہاتھوں فون سلیپ ہوا اور زمیں پر گڑ گیا۔۔وہ الٹے پاؤں آفس سے بھاگا۔۔اندھا دھندا گاڑی چلا کر وہ آدھے گھنٹے میں ہسپتال پہنچا۔۔۔
وہ بھاگتا ہوا اس روم میں آیا۔۔جہاں عبیرہ عمیر اور نور کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔
جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا سامنے بیڈ پر عمیر اور نور لیٹے ہوۓ تھے۔ کرسی پر عبیرہ بیٹھی رو رہی تھی۔شور کی وجہ سے اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔دروازے کے سامنے کھڑے شہریار کو دیکھا۔تو وہ بھاگ کر اس کے گلے لگ گئی۔اور رونے لگی۔۔۔
تبھی ڈاکٹر اندر آیا۔ شہریار نے اسے خور سے علحیدہ کیا۔۔
مسٹر شہریار یہ آپ دونوں کی خوش قسمتی ہے۔آپ کے بچوں کی جان بچ گئی۔۔ورنہ ایکسیڈینٹ بہت برا ہوا تھا۔ڈاکٹر کمرے آ کر بچوں کو چیک کرتے ہوۓ بولا۔۔
آپ کی بیٹی کا بازو ٹوٹا ہے۔۔اور تھوڑی سی چوٹیں لگی ہیں۔آپ کے بیٹے کو معملی سے چوٹیں آئی ہیں جو کہ ہفتے کے اندر اندر ٹھیک ہو جائیں گئی۔پر آپ کو ان دونوں کا بہت زیادہ خیال رکھنا پڑے گا۔۔کچھ دیر بعد دونوں کو ہوش آ جاۓ گا۔رات تک آپ انہیں گھر لے کر جا سکتے ہیں ڈاکٹر چیک کر کے باہر چلا گیا۔۔۔
عبیرہ دوبارہ سے ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔۔شہریار نے آگے بڑھ کر دونوں کو پیار کیا۔۔
ریلکیس دونوں ٹھیک ہیں۔شہریار نے عبیرہ کی حالت دیکھ کر کہا۔وہ بہت زیادہ رو رہی تھی۔۔
نور کو دیکھیں وہ کتنی چھوٹی ہے اور اتنی زیادہ چوٹ لگی ہے عبیرہ اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔۔
میرے بچے بہت بہادر ہیں وہ جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔۔شہریارنے دونوں کے سروں پر بوسہ دیتے ہوۓ کہا۔۔
تھوڑی دیر بعد دونوں کو ہوش آ گیا۔۔۔
ماما نور نے آنکھ کھولتے ہی عبیرہ کو پکارا۔
جی میری جان میں یہی ہوں۔ عبیرہ اپنے آنسوں کو پونچھ کر اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ کر بولی۔۔تبھی عمیر کو بھی ہوش آ گیا۔۔اس نے بھی اُٹھ کر عبیرہ کو ہی پکارا۔۔
رات کو چھٹی مل گئی۔۔ شہریار ان تینوں کو لے کر گھر آ گیا ۔ان کا ڈرائیور ابھی ہسپتال مین ہی تھا اس کو کافی چوٹیں لگیں تھیں۔۔۔۔
فرحان صاحب پریشان سے ان کا انتظار کر رہے تھے۔ شہریار عمیر کو اُٹھاۓ اور عبیرہ نور کو اُٹھاۓ حال میں داخل ہوۓ۔ جہاں فرحان صاحب
بے چین سے ادھر اُدھر چکر لگا رہے تھے۔۔
ان کو دیکھتے ہی وہ ان کی طرف بڑھے۔۔اور آگے بڑھ کر دونوں بچوں کو گلے سے لگایا۔۔
پاپا ان کو آرام کرنے ک ضرورت ہے۔میں انہیں کمرے میں لے جاتا ہوں۔۔شہریار نور کو اُٹھاتے ہوۓ بولا۔۔۔
۔
فرحان صاحب عمیر کو لیے اس کے پیچھے کمرے میں آگے۔۔
عبیرہ کچن میں گئی۔اور سوپ بنانے لگی۔۔۔وہ سوپ بنا کر کمرے میں لائی۔جہاں عمیر اور نور بیڈ گراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھے شہریار اور فرحان صاحب سے باتیں کر رہے تھے۔۔۔
چلو تم دونوں جلدی سے یہ سوپ پی لو۔ وہ مسکراتے ہوۓ ان دونوں کے پاس بیٹھی۔۔
ماما نہیں پینا عمیر منہ بنا کر بولا۔۔
عمیر بیٹے یہ آپ کے لیے بہت ضروری ہے۔ چلو منہ کھولو۔۔ عبیرہ ان دونوں کو سوپ پلانے لگی۔۔۔
میں ان دونون کا صدقہ دے کر آتا ہوں۔فرحان صاحب اپنی آنکھ سے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولے۔اور کمرے سے چلے گے۔۔
شہریار بیڈ کی ایک سائڈ پر آ کر بیٹھا۔۔
یہ سب میری غلطی ہے مجھے تم دونو کو فورس کر کے سکول نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔شہریار عمیر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔۔
جو ہونا ہوتا ہے۔وہ ہو کر رہتا ہے۔اس میں ہم انسان کچھ نہیں کر سکتے۔۔اس سب میں آپ کا قصور نہیں ہے۔۔عبیرہ نور کا منہ صاف کرتے ہوۓ بولی۔
ماما مجھے یہی سونا ہے آپ کے ساتھ۔نور عبیرہ کا بازو پکڑتے ہوۓ بولی۔۔۔
بالکل میری جان میں بس یہ برتن رکھ کر آتی ہوں۔۔ عبیرہ برتن اُٹھاۓ باہر نکلی۔۔
وہ جیسے کمرے میں آئی۔عمیر اور نور سو چکے تھے۔۔اس نے انہیں ٹھیک سے لٹایا۔اور ان پر کمبل دیا۔ اور سورت پر کے دونوں پر پھونک مارنے لگی۔۔۔۔شہریار پاس بیٹھا اس کی ساری حرکتیں نوٹ کر رہا تھا۔۔۔
تم یہ سب کیوں کر رہی ہو وہ اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔۔
کیا میں سمجھی نہیں عبیرہ اس کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
یہی میرے بچوں کے ساتھ اتنا زیادہ اٹیچ کیوں ہو رہی ہو اس کے پیچھے تمہارا کیا مقصد ہے۔
وہ اس کی طرف آیا۔۔۔
کیا مطلب یے آپ کی ان سب باتوں کا وہ بیڈ سے کھڑا ہو کر اس کی طرف دیکھ کر حیرانگی سے بولی۔۔۔
وہی مطلب جو تم سمجھ رہی ہو۔کیوں اتنا اٹیچ ہو رہی ہو۔ یہاں ساری زندگی رہنے کا پلین ہے یا ماموں کے پیسے ہتھیانے کی یہ بچے سیڑھی ہیں۔
وہ اس کے بازو کو زور سے پکڑتے ہوۓ بولا۔۔۔
مجھے آپ کی سوچ پر بہت افسوس ہو رہا ہے۔
کیا آپ ہر وقت اپنے پیسوں کا روب جماتے رہتے ہیں۔ جائے اپنے پاپا سے پوچھ لیجیے میرے گھر وہ آپ کا رشتہ لے کر آۓ تھے۔میری ماں نے ہاتھ پھیلا کر مجھے آپ لوگوں کو نہیں دیا۔ چھوڑیں میرا بازو وہ غصے سے کہتی اپنا بازو چھڑوائی۔۔
تم جیسی ہر لڑکی یے یہ سب ڈرامے ہی ہوتے ہیں۔۔شہریار طنزیہ انداز مین ہنسا۔۔
مسٹر شہریار ضروری نہیں ایک انسان برا نکل آۓ تو ساری دنیا ہی بری ہو جاتی ہے۔ کبھی اپنی آنکھوں سے یہ نفرت اور پیسے کی پٹی اتار کر دیکھیں بہت کچھ اچھا نظر آۓ گا۔ اور جہاں تک رہی بچوں کی بات تو آج کے بعد ان کے اور میرے رشتے پر شک کرنے کی کوشش بھی مت کیجیے گا۔۔۔۔۔
بہت دل سے میں نے انہیں اپنے بچے مانا ہے۔جس دن آپ کو میری ذات پر یقین آ جاۓ گا اس دن شاید آپ کے منہ سے ایسی باتیں نہیں نکلیں گئی۔۔ عبیرہ کہتی ہوئی نور کے ساتھ لیٹ گئی۔۔ وہ دونوں تو گہری نیند میں سو چکے تھے۔۔۔
عبیرہ میڈم اپنی یہ خوش فہمی میں آج ختم کر لو کہ میں ساری زندگی تمہارے ساتھ گزاروں گا۔میں تو بہت جلد شادی کرنے والا ہے۔۔شہریار نے بیڈ کی دوسری سائد پر لیٹتے ہوۓ ایسے ہی ہوا میں تیر پھیکا۔۔۔
جس دن شادی کریں گے۔ مجھے بھی بلوا لیجیے گا۔آ جاؤں گئی۔۔وہ کہتی ہوئی آنکھیں موندھ گئی۔۔۔
رات کے دو بجے عبیرہ کی آنکھ کھولی اس نے دیکھا نور بخار میں تپ رہی ہے۔ وہ جلدی سے اُٹھی اور اسے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنے لگی۔۔۔
ساری رات وہ اسے پٹیاں کرتی رہی۔ صبح کے وقت اس کا بخار تھورا سا کم ہوا۔۔۔
وہ اُٹھی اور اپنے روز مرہ کے کام کرنے لگی۔۔شہریار جاگینگ سے آ چکا تھا اس وقت وہ نہا کر تیار ہو کر نور اور عمیر کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو کہ اُٹھ چکے تھے۔۔۔
آپ کا ناشتہ میں نے ٹیبل پر لگا دیا ہے۔۔عبیرہ ہاتھ میں ٹرے پکڑے عمیر اور نور کے لیے ناشتہ لے کر اندر کمرے میں آئی۔۔۔
شہریار نیچے چلا گیا۔ ناشتہ کرنے کے بعد وہ جیسے ہی نکلنے لگا دروازے سے شمائلہ اور فاخرہ بیگم داخل ہوئیں۔۔۔
شہریار میرے بچے نور اور عمیر کہاں ہیں مجھے تو ابھی پتہ چلا میں فوراً شمائلہ کو لیے آ گئی۔۔۔
فاخرہ بیگم روتا ہوا منہ بنا کر بولیں۔۔
اوپر میرے کمرے مین ہیں آپ مل لیں شہریار کہتا ہوا باہر نکل گیا۔۔دونوں اوپر چلیں گئیں۔
ہاۓ ہاۓ میرے بچوں کو کس منحوس کی نظر لگ گئی۔ یہ کس طرح کھلا رہی ہے۔ہٹ میں خود اہنے بچوں کو کھیلاتی ہوں۔فاخرہ بیگم عبیرہ سے سوپ کا بول چھینتے ہوۓ بولیں۔۔۔
آخر کو ہے تو سوتیلی نا بچوں کو بھلا کیا خیال رکھے گئی۔۔وہ اپنے منہ سے زہر اگل رہیں تھیں۔عبیرہ خاموشی سے ایک طرف کھڑی ہو گئی۔۔
سوتیلی کچھ نہیں ہوتا وہ ہماری ماما ہیں۔عمیر غصے سے بولا۔۔
شمائلہ تم نے جو ان معصوم بچوں کے دلوں میں زہر گھولا تھا۔دیکھو میں نے سب نکال دیا۔ ویسے تمہین شرم نہیں آئی یوں چھوٹے بچوں کو اس طرح کی باتیں سیکھاتے ہوۓ۔عبیرہ اس کے قریب آ کر بولی۔۔۔
ہاۓ ہاۓ دیکھو ہم پر الظام لگا رہی ہے۔ارے یہ ہمارے ہی بچے ہیں۔ ہم کیوں ان کو کچھ الٹا سیکھائں گے۔۔فاخرہ بیگم نے شہریار کو آتے دیکھ کر رونا شروع کر دیا۔۔عبیرہ حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ شہریار اندر آتے ہی بولا۔۔وہ اپنی گاڑی کی چابی لینے آیا تھا۔۔۔
ہاۓ ہاۓ شہریار تیری یہ بیوی ہمیں بول رہی ہے ہم اس کے گھر نا آیا کریں۔ ہم تیری بچوں کو غلط باتیں سیکھاتے ہیں۔چل شمائلہ اتنی بے عزتی کے بعد ہمیں یہاں نہیں رکنا وہ چھوٹ موٹ کو روتے ہوۓ بولیں۔۔۔
رکیں چچی جان شہریار نے انہیں روکا۔۔۔
یہ میں کیا سن رہا ہوں۔تم اتنی بکواس کیسے کر سکتی ہو۔ ابھی کے ابھی معافی مانگو ان سے شہریار اس کے پاس آتا غصے سے بازو پکڑتے ہوۓ بولا۔۔۔
میں نے ایسا کچھ عبیرہ ابھی بولنے لگی تھی کہ شہریار بولا پڑا۔۔
میں نے کیا کہا۔کوئی بحس نہیں معافی مانگو۔۔وہ دانت پیستے ہوۓ اس کے بازو پر گرفت کو ٹائیٹ کرتے ہوۓ بولا۔
عبیرہ کی آنکھوں میں آنسوں آگے۔اس نے بڑھی ہوۓ آنکھوں سے شہریار کو دیکھا۔پھر اپنے آپ کو سھنمبالتے ہوۓ۔۔۔
اپنا بازو چھڑوا کر وہ فاخرہ بیگم کے پاس گئی۔۔
مجھے معاف کیجیےگا۔اگر میرے منہ سے کچھ غلط الفاط نکلے ہوں۔وہ آہستہ آواز میں بولی۔ فاخرہ بیگم طنزیہ انداز میں مسکرائیں۔۔
عبیرہ ان کو اگنور کر کے واپس نور اور عمیر کی طرف آئی۔
اپنی آنکھ کے کونے سے اس نے آنسوں صاف کیا۔جو شہریار نے دیکھا۔جیسے اس کی آنکھیں شکوہ کر رہی ہوں۔۔۔۔
اچھا بیٹا اب ہم چلتے ہیں۔۔وہ شمائلہ کو لیے چلیں گئیں۔۔۔
شہریار اپنے ماتھے کو مسلتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
