No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
شہریار آج کل بہت مصروف رہنے لگا۔وہ ہم۔وقت آفس کے کاموں میں لگا رہتا۔ عبیرہ یونی تو جاتی پر گھر کے کاموں کی وجہ سے وہ ٹھیک سے پڑ نا پاتی۔ شمائلہ اور فاخرہ بیگم نے گھر کا ماحول خراب کر کے رکھا تھا۔ِ۔۔ وہ ہر دوسرے دن یاتو کسی پارٹی پر گئی ہوتیں یا گھر پر پارٹی کر لیتیں۔۔۔۔اس پارٹی میں بہت ساری مہمان ہوتے جن میں لڑکے لڑکیاں آنٹیاں اور انکل شامل ہوتے۔۔۔۔
شکر ہے آج گھر میں خاموشی ہے ورنہ کل تو اتنا تیز میوزک تھا سر پھٹ رہا تھا۔عبیرہ چاۓ بناتے ہوۓ خود سے بولی۔۔۔ویسے بھی آج کل اس کی طبعیت کچھ گِری گِری رہتی تھی۔۔ابھی بھی سر درد کر رہا تھا تو چاۓ بنانے آ گئی۔۔۔
عمیر اور نور کے لیے نوڈلز ایک سائیڈ پر بن رہے تھے۔ انہیں نکال کر باول میں ڈالے وہ دونوں کو دے آئی جو باہر ٹیوی پر کارٹوں دیکھ رہے تھے۔۔۔
چاۓ بنا کر اس نے ٹرے اُٹھائی اور فرحان صاحب کے کمرے میں آگئی جہاں وہ اہنے کسی دوست کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔
۔۔۔اپنی چاۓ لے کر وہ بچوں کے پاس آ گئی۔اور اپنا سر صوفے پر ٹیکا دیا۔۔
ماما کیا ہوا آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہےنا نور اپنے بال پیچھے کرتے ہوۓ بولی۔ جو اسے کافی دیر سے تنگ کر رہے تھے۔۔
میں ٹھیک ہوں بس سر میں درد ہو رہا ہے۔۔عبیرہ مسکرا کر بولی۔
میں ابھی اپنی ماما کا سر دبا دیتا ہوں۔پر درد یوں ختم ہو جاۓ گا۔ اُٹھ کر اس کے پاس آکر بیٹھے ہوۓ بولا۔
عبیرہ اس کی بات سن کر مسکرا دی۔ وہ اہنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے عبیرہ کا سر دبانے لگا۔نور بھی ساتھ لگ گئی۔
ہاۓ ہاۓ اللہ رحم۔کرے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اپنے خدمت کرنے میں لگایا ہوا ہے۔۔تبھی پیچھے سے فاخرہ بیگم کی آواز آئی۔۔عبیرہ جھٹ سے سیدھی ہوئی۔۔اور حیرانگی سے ان کی طرف دیکھنے لگی۔۔
ہم اپنی ماما کا سر دبا رہے تھے آپ کو کیا مسلہ ہے۔ نور اور عمیر دونوں اکھٹے بولے۔۔۔
چچ کتنے بدتمیز بچے ہیں تمہیں اتنے مہینے ہو گے یہاں آۓ ہوۓ تم نے ان دنوں کو زرا بھی تمیز نہیں سیکھائی۔فاخرہ بیگم اپنے کانوں پرہاتھ رکھتے ہوۓ بولیں۔عبیرہ بس ان کی باتین سن رہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی۔کہ عمیر اور نور کے سامنے کوئی ایسی ویسی بات ہو۔۔
یہ کیوں سیکھاۓ گئی۔یہ تو سوتیلی ماں ہے۔اور سوتیلی تو سوتیلی ہی رہتی ہے کبھی سگھی نہیں بنتی۔۔سیڑھیاں اترتے ہوۓ شمائلہ نے کہاں۔۔۔
شٹ اپ شمائلہ اپنی بکواس بند رکھو عبیرہ انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولی۔۔۔
او پلیز اپنی یہ ہمت اپنے پاس رکھو گاؤں کی گوار شمائلہ طنصیہ انداز میں ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔
اگر شہر کے پڑھے لکھے تم جیسے جاہل ہوتے ہیں تو الحمداللہ میں گاؤں کی گوار ہی ٹھیک ہوں۔۔عبیرہ بھی ترکی باترکی بولی عمیر اور نور کا ہاتھ پکڑ کر انہیں لیے اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔
دونوں کو پڑھانے لگی ۔پر اس کے دماغ میں وہی باتیں گھوم رہیں تھیں اسے رہ رہ کر شمائلہ پر غصہ آ رہا تھا۔۔
دونوں کو پڑھا کر وہ انہیں گیمز لگا کر دے آئی اور خود نیچے کیچن میں رات کا کھانا بنانے لگے۔۔۔
آج اسے کھانا بناتے ہوۓ تھوڑی دیر ہو گئی تھی۔ رات کے نو بج رہے تھے۔۔وہ بہت تھک چکی تھی۔ وہ کھانا بنا رہی تھی جب اسے ایک دم چکر آۓ۔۔ شلف کو زور سے پکڑکر کھڑی ہوگئی۔۔
عبیرہ کیا ہوا۔ اپنے پیچھے سے اسے شہریار کی آواز آئی جو ابھی ابھی گھر آیا تھا۔اور عبیرہ لو آواز لگاتا وہ کیچن میں آیا۔۔جہاں اسے لڑکھڑاتے ہوۓ دیکھا تو فوراً اس کے قریب آ کر اسے گڑنے سے تھام لیا۔۔
اسے کرسی پر بیٹھا کر پانی کا گلاس پیلایا۔۔۔
ٹھیک ہو۔۔شہریار پریشانی سے اسے دیکھ کر بولا۔۔۔
ہممم وہ بس سر ہلا کر بولی۔۔۔
صبح سے کچھ کھایا ہے۔یا بھوکی بیٹھی ہو۔۔شہریار نے پوچھا۔۔
دل نہیں کر رہا تھا۔۔اس لیے نہیں کھایا چاۓ پی وہ اہنے سر کو دباتے ہوۓ بولی۔۔۔
اسی لیے یہ سب ہو رہا ہے۔۔سارے گھر کا خیال رکھنا سواۓ اپنے۔ شہریار اسے ڈانٹ رہا تھا اور عبیرہ اس کی اس میٹھی ڈانٹ پر مسکرا رہی تھی۔۔
مسکرا کیوں رہی ہو۔۔یہ لو جوس پیو شہریار نے ایک گلاس جوس اسے تھمایا۔۔
عبیرہ نے تھام لیا اور پینے لگی۔۔
اب تم کوئی کام نہیں کرو گئی۔ اُٹھو کمرے میں چلو شہریار اس کا ہاتھ پکڑکر اسے اُٹھاۓ کمرے میں لے آیا۔۔۔
تم بیٹھو یہاں میں کھانا لے کر آتا ہوں شہریار نے اسے بیڈ پر بیٹھایا اور خود نیچے آ گیا۔۔فرحان صاحب تو اپنے دوست کے ساتھ باہر ڈنر پر گے تھے شہریار نے ٹرے میں کھانا نکالا اور کمرے میں لے آیا۔۔
میں دل نہیں کر رہا عبیرہ نے کھانے سے انکار کیا۔۔
ٹرے کو بیڈ کے درمیان میں رکھ کر خود عبیرہ کے سامنے بیٹھ گیا۔ نور اور عمیر کو بھی کھانے کا کہا۔دونوں مزے سے کھانا کھانے لگے۔ شہریار عبیرہ کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھیلانے لگا۔۔
ابھی اس نے تھوڑا سا ہی کھایا تھا کہ وہ جلدی سے اُٹھی اور اہنے منہ ہر ہاتھ رکھ کر واشروم میں بھاگ گئی۔۔شہریار پریشانی سے اسے دیکھنے لگا ۔
وہ منہ دھو کر باہر آئی۔
بولا تھا نا میرا دل نہیں کر رہا کھانے کو دیکھ لیا۔اور زیادہ طبعیت خراب ہو گئی۔۔وہ چلتی ہوئی باہر آئی۔۔
چلو میں ڈاکٹر کے پاس لے کر چلتا ہوں۔شہریار اسے کندھوں سے تھام کر بیڈ پر لے آیا۔۔
شہریار میں نے کہی نہیں جانا کل جائیں گے۔۔وہ بیڈ پر لیتے ہوۓ بولی۔۔۔
شہریار نے زیادہ فورس نا کیا دونوں کو کھانا کھلا کر وہ ٹرے نیچے کیچن میں رکھ آیا۔۔
جب وہ کمرے میں آیا تو عمیر اور نور عبیرہ سے کچھ پوچھ رہے تھے۔۔
ماما یہ سوتیلی ماما کیا ہوتا ہے؟
عبیرہ ان کو سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔تبھی عمیر بولا۔۔اس کے دماغ میں شمائلہ کے لفظ گھوم رہے تھے۔۔
کیا یہ بہت گندھا لفظ ہے۔۔ نور بولی۔عبیرہ کو سمجھ نا آیا کیا بولے۔۔۔
میں بتاتا ہوں شہریار دروازہ بند کر کے ان سب کےپاس بیٹھ کر بولا۔۔۔
سوتیلی ماں مطلب ایک بہت ہی خوبصورت محبت کرنے والی بنا اپنا فائدہ نکالے ہمیشہ دوسروں کا بھلا سوچنے والی ماں ہوتی ہے جس کا دل اللہ نے محبت سے بھر دیا ہوتا ہے۔۔ایسی ماں بہت کم کسی بچے کو نصیب ہوتی ہے۔تو اسے صرف ماما بولتے ہیں۔اور یہ سوتیلی لفظ کچھ نہیں ہوتا سمجھے میرے بچوں شہریار عبیرہ کی طرف دیکھ کر بولا۔
۔۔اور آخر میں عمیر اور نور دونون کے گال کھینچے۔۔
سمجھے سوتیلی مطلب خوبصورت ماما۔۔۔۔
آئی لو یو ماما دونوں نے عبیرہ کے دونوں گالوں پر بوسہ دیا۔۔اور سونے کے لیے لیٹ گے۔۔عبیرہ نے دونوں کے ماتھے پر بوسہ دیا۔اور اپنی آنکھیں صاف کرتی اُٹھ گئی۔۔شہریار فریش ہو کر آیا۔تو عبیرہ کو کھڑی کے سامنے کھڑا پایا۔۔وہ باہر کی طرف دیکھ رہی تھی
کیا ہوا سوئی نہیں طبعیت زیادہ تو خراب نہیں ہوئی۔شہریار عبیرہ کے پاس آ کر فکرمندی سے بولا۔۔۔
شکریہ عبیرہ ایک دم اس کے چورے سینے سے لگ گئی۔۔دو آنسوں شہریار کی قمیض کو بگھو گے۔شہریار نے اس کے گرد بازوں کا گھیرا تنگ کر لیا۔۔۔
آج جب شمائلہ نے دونوں کے سامنے مجھے سوتیلی ماں کہا۔ تومجھے بہت برا لگا۔۔مجھے ڈر تھا کہ کہی عمیر یا نور یہ سوال نا کر لیں۔پر آپ نے انہیں بہت اچھے سے سمجھایا۔۔عبیرہ اس کے سینے سے لگے بولی۔
میں نے بس وہ بولا جو تم ہو۔تم ہو ہی اتنی بے لوث محبت کرنے والی۔۔آج مجھے یہ کہنے میں کوئی پریشانی نہیں عبیرہ شہریار کہ تم نے اپنےنرم مجاز،خوبصورت اور بے لوث مجبت سے مجھ جیسے بندے کو جیت لیا ہے۔۔تم نے وہ جگہ اس دل میں بنا لی ہے جو شائد آج تک کسی نے نہیں بنائی۔۔
تمہاری وجہ سے میں زندگی کی خوشیوں کی طرف واپس آیا۔صرف تمہاری وجہ سے میں بچوں کے قریب ہوا۔۔اور آج میں اپنے ہوش و ہواس میں یہ اقرار کرنا چاہتا ہوں۔کہ مجھے عبیرہ شہریار سے بے انتہا محبت ہو گئ ہے شہریا اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیے اس کی آنکھوں میں اپنی انکھیں ڈالے جزب کے عالم میں اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا اور عبیرہ حیران سی اس کے منہ سے نکلنے والے ہر ایک لفظ کر سن اور اپنے اندر تک اتار رہی تھی۔۔
شہریار نے اسے یوں اپنے آپ کو تکتے ہوۓ دیکھا تو مسکراتا ہوا اس کے ماتھے پر بوسہ دینے لگا۔۔۔
عبیرہ نے اپنی انکھیں بند کر لیں دو آنسں اس کے گال کو بھیگو گے۔۔وہ تو آ تک یہ سمجھتی تھی شہریار نے اسے صرف سمجھوتہ کر کے اپنایا ہے۔وہ اس سے بالکل بھی محبت نہیں کرتا پر آج یوں محبت کا اظہار سن کر وہ بہت حیران او رخوش ہوئی۔
کیا ہوا بیگم کس مراقبے میں چلی گئی کہی ابھی تم بھی تو ظہارے محبت تو نہیں کرنے والی۔۔۔شہریار نے اس کے کان کے قریب ہو کر بولا۔۔عبیرہ شرما کر اس کے گلے لگ گئی۔۔شہریار کو اس کا یوں شرمانا بہت پسند آیا۔اس کے گرد بازوں کا گھیرا تنگ کرتے اس کا قہقہ بلند ہوا۔۔۔۔
دونوں کو ہنستا مسکراتا دیکھ باہر چاند بھی مسکرا دیا۔۔پر کچھ ہی دیر بعد چاند ہر کالے بادل آ گے۔ کیا پتہ یہ کالے بادل کہی ان کی زندگی کی خوشیوں ہر بھی تو آنے والا نہیں۔۔۔
★*
اگلے دن عبیرہ یونی سے سیدھی ڈاکٹر کے پاس گئی۔بس یہ کنفرم کرنے جو وہ سوچ رہی یے کیا وہ سب سچ ہے۔۔۔
ڈاکٹر سے مل کر وہ بہت خوش تھی۔جو فائل اس کے ہاتھ میں تھی اس میں اس کے خوشیاں لکھی ہوئی تھیں وہ مسکراتی ہوئی رکشہ لے کر گھر ا گئی۔۔۔
کمرے سے فریش ہو کر وہ جیسے نیچے آئی باہر لان میں کچھ ارینج منٹ ہو رہا تھا۔۔شہریار وہاں کھڑا خود سب کروا رہا تھا۔۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔عبیرہ حیرانگی سے سب دیکھ رہی تھی۔
بیٹے آج گھر میں پارٹی ہے۔۔ہم نے بہت برا پروجیکٹ مکمل کیا ہے تو اس کی خوشی میں پارٹی رکھی گئی ہے۔۔کافی زیادہ مہمان ہوں گے۔۔فرحان صاح نے عبیرہ کو بتایا۔۔۔
عبیرہ تم شام تک بچوں کو اور خود اچھا سا تیار ہو جانا بہت سارے گیسٹس آنے والے ہیں۔۔۔شہریار مصروف انداز میں بولا۔۔۔۔
شام کو عبیرہ نے عمیر اور نور کو بہت پیار سے کپڑے پہناۓ اور تیار کر کے انہیں نیچے بھیج دیا۔۔۔
خود کپڑے پہن کر وہ شیشے کے سامنے تیار ہونے لگی۔ بیلک پاؤں تک آتی فراق پینے بالوں کو سٹریٹکر کے پیچھے کھلا چھوڑ کر وہ میک اپ کر رہی تھی۔۔
آج رات شہریار کو بتاؤں گی۔ وہ کتنا خوش ہوں گے۔۔عبیرہ لیپ سٹک لگاتے ہوۓ بولی۔۔۔
اہممم لگتا ہے کسی کے خیالوں میں گم ہو کہی وہ نا چیز بندہ میں تو نہیں تبھی عبیرہ کو اپنے پیچھے سے شہریار کی آواز سنائی دی۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔شہریار نے اسے پیچھے کمرے سے تھام لیا اور اس کے کندھے پر تھوڑی ٹکا دی۔۔۔
آپ نے کہ دیا۔بس اتنے میں ہی خوبصورت ہو گئی۔۔عبیرہ شرماتے ہوۓ بولی۔
نہیں میں نے تو ابھی غور کیا تم تھوڑی سی موٹی ہو گئی ہو۔ شہریار شرارتن انداز میں بولا۔۔
عبیرہ اہنے آپ کو دیکھنے لگی۔
شہریار اگر میں اور زیادہ موٹی ہو گئی تو آپ کا پیار کم تو نہیں ہو جاۓ گا۔ وہ شہریار کی شرارت کو سمجھے بغیر شیشے میں دیکھتے ہوۓ بولی۔۔
ہاہاہا جانِ شہریار اب تو مر کر بھی میرا ہیار ختم نہیں ہو گا۔۔شہریار ہنستا ہوا اس کے سر ہر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔۔اور مسکراتا کمرے سے باہر چلا گی۔۔۔
عبیرہ کو اپنا آپ بہت معتبر لگنے لگا۔۔
وہ مسکراتی ہوئی شیشے میں خود کو دیکھنے لگی اور ہاس پری جوتی پاؤن میں ڈالنے لگی۔۔وہ تیار ہو کر ڈوپٹہ ڈال کر کمرے سے باہر آ گئی۔۔۔
“”
یہ تمہارا آخری کام ہے اس کو پورا کر دو قسم سے مالا مال کر دوں گئی۔۔شمایلہ فون پر فاہد سے بات کر رہی تھی۔۔
میں بس آ رہا ہوں تم کسی بھی طرح اسے اس کمرے میں بھیج دو پھر دیکھا مین کیا کرتا ہوں۔۔۔اگے سے فاہد بولا۔۔
چلو تم آؤ میں نے کمرے کی کھڑکی کھول رکھی ہے ۔ شمائلہ ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولی اور فون بند کر دیا۔۔
باہر کافی مہمان آ چکے تھے۔۔ عبیرہ سب کو بہت اچھے سے ڈیل کر رہی تھی۔ دانین بھی حماد صاحب کے ساتھ آئی تھی۔۔۔
آنٹی آنٹی وہ عمیر کمرے میں بند ہو گیا ہے چلو جلدی چلو۔عبیرہ ایک طرف کھڑی ویٹر کو کچھ بتا رہی تھی تبھی ایک چھوٹی سی بچی آئی اور عبیرہ کو کہنے لگی۔۔
وہ بھاگتی ہوئی اندر آئی اور اس بطی کے بتاۓ ہوۓ کمرے کی طرف بڑھی وہ فاخرہ اور ازیر چچا کا روم تھا۔عبیرہ نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی
تبھی دروازہ کھولا اور کسی نے اس کا بازو پکڑ کر اندر کھینچا۔۔
عبیرہ کی چیخ نکلنے سے پہلے ایک بھاری ہاتھ اس کے منہ پر آیا۔۔
عبیرہ نے ڈر سے انکھیں بند کر لیں لیکن جب خود کو کسی کے بازوں میں جکھڑے پایا تو فوراً آکھیں کھولیں۔۔
اور جب اس نظر سامنے کھڑے مسکراتے ہوۓ فاہد پر پڑی تو ایک پل کے لیے اس کے پاؤں سے زمین کھسک گئی۔زبردستی اپنا آپ چھڑوایا۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو عبیرہ غصے سے بولی۔۔۔
بس جانِ من تم سے ملنے آیا ہوں اور ایک بہت ضروری کام پورا کرنے آیا ہوں فاہد مسکرا کر بولا۔۔
عبیرہ نے اس کی بکواس سننا مناسب نا سمجھا اور دروازہ کھولنے لگی پر یہ کیا دروازہ باہر سے بند تھا۔۔۔
یہ سوچتے ہی کہ باہر کتنے زیادہ مہمان ہیں اور اگر کسی نے اسے فاہد کے ساتھ اکیلے روم میں بند فیکھ لیا تو کیا سے کیا ہو سکتا ہے۔
تم پاگل ہو مجھے باہر جانا ہے کھولو اسے عبیرہ ا س پر چلائی۔۔
کھل جاے گا کھل جاۓ گا۔۔بس دو منٹ پھر تمہارا سب کچھ ختم ہو جاگ گا آج میں تمہیں پوری طرح برباد کر دوں گا۔ تمہارے کردار کی آج دھجیاں بکھریں گئی۔۔فاہد شیطانی مسکراہت نکالتے ہوۓ بولا۔۔
وہ شیشے کے سامنے گیا اور اپنی شرٹ کے بٹن کھول دیے اپنے بال بکھیر دیے۔۔۔
عبیرہ کو کسی انہونی کا خوف ہوا۔۔تبھی باہر سے فاخرہ بیگم۔کی آواز آئی۔ جو دروازے کو بجا رہیں تھی۔۔۔
عبیرہ کے کانوں میں اور بھی آوازیں پڑیں
اور جس آواز نے اس کے پاؤں سے زمین کھینچ لی وہ شہریار کی اواز تھی جو گھر میں ہوتے شور کو سن کر اس طرف آیا تھا سامنے فاخرہ بیگم اپنے کمرے کے دروازے کو بجا رہیں تھیں۔۔
کیا ہوا کیون شور کر رہے ہیں باہر اتنے مہمان آۓ ہوۓ پیں شہریار سخت لیجے میں بولا۔۔
شہریار اندر کوئی ہے دروازہ نہیں کھول رہا مجھ لگ رہا کے کوئی چور کھس گیا ہے میرا اتنا زیور اندر چھپا ہے۔ فاخرہ بیگم کمال کی۔ایکٹنگ کرتے ہوۓ بولی۔
۔۔
شہریار اہنے کمرے کی طرف گیا اور وہاں سے ڈوپلیکیٹ چابی نکال کر لیا اور دروازہ کھولنے لگا۔۔۔
جیسے جیسے دروازے کو کھولا جا رہا تھا ویسے ویسے عبیرہ کی دھڑکنیں بڑھ رہیں تھیں۔تبھی اچانک فاہد نے عبیرہ کو کھنچ کر گلے سے لگا لیا۔۔۔
اس سے پہلے کے عبیرہ اپنا آپ چھڑواتی۔ دروازہ کھولا ۔۔شہریارنے اندر کا منظر دیکھا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط رات کو چاہیے تو 150 کومینٹس اور 300 لائیکس دو۔۔اگلی قسط آپ کی سوچ سے بھی زیادہ شاکنگ ہونے والی ہے۔۔۔اب اپنی اپنی سوچ لڑاؤ اور بتاؤکہ اب شہریار کیا کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔🤔🤔🤔۔
