Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

شاہ ویز سکندر اِس وقت بلیک بیسٹ بنا خود کو روکنے کی کوشش کرتے راستے میں آئے ہر انسان اور چیزوں کو ٹھوکروں سے اُڑاتا اُوپر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
بلنڈنگ سے سب لوگوں کو نکال دیا گیا تھا۔۔۔۔ کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔ مگر وہ سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے گارڈ اُس بلیک بیسٹ کو نہیں روک پائے تھے۔۔۔
جو چاروں پورشن کراس کرتا اب پانچویں پورشن کی بھڑکتی آگ میں کودنے کو تیار کھڑا تھا۔۔۔۔
وہاں جلتے آگ کے شعلوں کو دیکھ کر لمحہ بھر کو شاہ ویز سکندر کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ کیونکہ انہیں دیکھ اندر موجود انسان کے بچ جانے کے ایک پرسنٹ چانسز بھی موجود نہیں تھے۔۔۔۔
“پریسا۔۔۔۔۔۔”
وہ آگ میں جمپ کرتا پوری شدت سے دھاڑا تھا۔۔۔۔۔
ہر طرف دھواں اور آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے،،، کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
ہر شے جل رہی تھی۔۔۔ یہ جلتی آگ شاہ ویز سکندر کے دل کو جلا کر راکھ کررہی تھی۔۔۔ اُسے اِس آگ میں سالوں پہلے کا منظر یاد آرہا تھا۔۔ جب اُس نے اپنے ماں باپ۔۔۔ اپنی پوری دنیا کو جلتے دیکھا تھا۔۔۔۔ مگر آج وہ ایسا کچھ نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
پریسا آہستہ آہستہ اپنے حواس کھو رہی تھی۔۔۔ اُس نے بہت مشکل سے خود کو سنبھالا ہوا تھا۔۔۔۔ کسی بھی لمحے وہ بے ہوش ہوکر اِن شعلوں کی نظر ہوسکتی تھی۔۔۔
جب اُسی لمحے اُسے اپنے کانوں میں شاہ ویز کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔۔
پریسا کو لگا تھا شاید یہ اُس کا وہم ہے۔۔۔ بھلا اِس آگ میں کوئی پاگل ہی اُس کی خاطر کود سکتا تھا۔۔۔ اور وہ پاگل شاہ ویز سکندر کبھی نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔ وہ تو اُس سے نفرت کرتا تھا پھر وہ بھلا کیسے آسکتا تھا۔۔۔
پریسا نے اذیت سے سوچتے اپنے چکراتے سر کا تھاما تھا۔۔۔۔ جب اُسے دائیں جانب سے دروازہ گرنے کی آواز آئی تھی۔۔۔۔
آگ کے شعلوں میں لپٹا دروازہ اُس سے کچھ فاصلے پر جا گرا تھا۔۔۔۔
خوف کے عالم میں پریسا کے منہ سے دلخراش چیخ برآمد ہوئی تھی۔۔۔۔
شاہ ویز جس نے وہ دروازہ گرا کر اندر آنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ پریسا کی چیخ کانوں میں پڑتے وہ جلدی سے آگے بڑھا تھا۔۔۔ پریسا جو خوف کے عالم میں لرزتی کانپتی اُسی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ آگ کے شعلوں کے پیچھے آن کھڑے ہوتے شاہ ویز کو دیکھ اُسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں رہا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز سکندر اُسے بچانے کی خاطر۔۔۔۔
اِس احساس کے ساتھ ہی کئی آنسو ٹوٹ کر اُس کے چہرے کو بھیگو گئے تھے۔۔۔۔۔
تو کیا وہ اِس انسان کے لیے اتنی ضروری تھی کہ وہ اُس کی خاطر آگ سے بھی بھڑ گیا تھا۔۔۔۔
“شاہ ویز۔۔۔۔۔”
اُس کی جانب دیکھتے پریسا کے لب پھڑپھڑائے تھے۔۔۔۔
شاہ ویز کی نظر بھی ایک کونے میں سکڑی سمٹی بیٹھی پریسا پر پڑ چکی تھی۔۔۔۔
“تم کیوں آئے ہو یہاں۔۔۔۔۔؟؟؟ واپس چلے جاؤ۔۔۔۔ تم مجھ تک نہیں پہنچ پاؤ گے۔۔۔۔”
پریسا اور شاہ ویز کے درمیان میں آگ بہت زیادہ تھی۔۔۔ جہاں سے گزر پانا آسان نہیں تھا۔۔۔ پریسا نہیں چاہتی تھی کہ شاہ ویز اُس کی وجہ سے خود کو نقصان پہنچائے۔۔۔ جس بات کی کشمکش میں وہ اتنے دنوں سے ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔ اُسے آج اُس کا جواب مل چکا تھا۔۔۔
وہ نجانے کب اور کیسے اِس وحشی انسان سے محبت کرنے لگی تھی۔۔۔ جس کے ساتھ ایک بار بھی اُس کی خوشگوار انداز میں بات نہیں ہوئی تھی۔۔ مگر پھر بھی وہ اُسے چاہنے لگی تھی۔۔۔ کیونکہ یہی واحد انسان تھا اُس کی زندگی میں جو اُسے بچانے۔۔ اُس کی حفاظت کرنے کہیں بھی پہنچ سکتا تھا۔۔۔
جس کے لیے وہ اہم تھی۔۔۔۔۔ پریسا کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔ آگ سے اُس کا سارا خوف ختم ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ وہ جانتی تھی سامنے کھڑا شخص اب اُسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔۔۔۔
مگر اُس کا دل شاہ ویز سکندر کو آگ میں کودنے کے ارادے سے آگے آتا دیکھ تڑپ اُٹھا تھا۔۔۔
“تم تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا مجھے۔۔۔ یہ آگ بھی نہیں۔۔۔۔۔ خاموشی سے کھڑی رہو۔۔۔ ہلنا مت وہاں سے۔۔۔۔”
شاہ ویز اُسے صحیح سلامت وہاں کھڑا دیکھ اب کافی حد تک ریلیکس ہوچکا تھا۔۔۔۔
اُسے خود پر یقین تھا اب وہ پریسا آفندی کو کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔۔۔
پریسا نے بھیگی آنکھوں سے گھور کر اُسے دیکھا تھا۔۔۔ جو یہاں بھی اُسے ڈانٹنے سے باز نہیں آیا تھا۔۔۔۔
“وحشی انسان کہیں کا۔۔۔۔ “
پریسا رونے کے بیچ اُسے اُس کے لقب سے نوازنا نہیں بھولی تھی۔۔۔۔
“آگے مت آنا۔۔۔۔”
شاہ ویز اونچی آواز میں اُسے ایک بار پھر وارن کرتا آگ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔ وہ لانگ جمپ کرنے والا تھا۔۔۔ مگر وہ جانتا تھا کہ فاصلہ زیادہ ہے۔۔۔ وہ آگ میں کودے بغیر آگے نہیں جاسکتا۔۔۔۔ اِس لیے خود کو کچھ سیکنڈ کے لیے آگ کی لپیٹ میں دینے کے لیے وہ خود کو مینٹلی تیار کر چکا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز پوری طاقت لگا کر جمپ کرتا آگ میں کودا تھا۔۔۔ پریسا کا دل ساکت ہوا تھا۔۔۔۔ کیونکہ شاہ ویز کے بازو کو آگ کے شعلے اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے۔۔۔۔
“نن نہیں۔۔۔ “
پریسا کو ایک پل میں پوری دنیا فنا ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ بنا اپنی پرواہ کیے شاہ ویز کی جانب بھاگی تھی۔۔۔ جب اُسی لمحے ایک جانب سے آگ میں لپٹا پلر اُس پر آن گرنے کو تھا۔۔۔ جب شاہ ویز واپس اُس کی جانب جمپ کرتا اُسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔۔۔۔
وہ دونوں دیوار سے ٹکراتے نیچے جاگرے تھے۔۔۔۔ پریسا کو شاہ ویز نے پوری طرح اپنے حصار میں قید کرتے چوٹ لگنے سے بچایا تھا۔۔۔ جبکہ خود اُس کا سر بہت بُری طرح سے دیوار سے ٹکراتا ٹیسیں چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔
“تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔؟؟؟”
شاہ ویز نے اپنے سینے سے لگی خوف سے کپکپاتی پریسا کو پکارا تھا۔۔۔۔
وہ اُسے اِسی طرح اپنے ساتھ لگائے واپس سے کھڑا ہوچکا تھا۔۔۔۔
اُس کی نہایت قریب سے آتی آواز پر پریسا نے اُس کے سینے سے زرا سا چہرا اُوپر اُٹھاتے اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔
شاہ ویز نے بھی اُسی لمحے پریسا پر نظر ڈالی تھی۔۔۔
مگر یہ ایک لمحہ شاہ ویز سکندر کے دل کی دنیا پر قیامت برپا کر گیا تھا۔۔۔
وہ سہمی سی ہرنی آگ سے بچ کر اُس کے وجود میں چھپنے کی کوشش کرتی شاہ ویز سکندر کے دل و دماغ پر بہت گہرا اثر چھوڑ گئی تھی۔۔۔
“ہم یہاں سے کیسے نکلیں گے۔۔۔۔؟؟ میں مرنا نہیں چاہتی۔۔۔۔”
پریسا اُس کے گرد بازو سختی سے باندھے۔۔۔ خوف سے لرزتے بھیگے لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔
آج ہی تو اُس پر اپنی محبت کا ادراک ہوا تھا۔۔۔۔ وہ اِس محبت کا اقرار کیے بغیر نہیں مرنا چاہتی تھی۔۔۔ نجانے کیوں مگر دل میں اِس انسان کے ساتھ جینے کی شدید خواہش جاگ اُٹھی تھی۔۔۔۔
اُس نے چہرا موڑ کر شاہ ویز کا بازو دیکھا تھا۔۔۔ اُس کے ہاتھ سے اُوپر کا حصہ جل گیا تھا۔۔۔۔ مگر وہ اپنی تکلیف بھلائے بس اُسی کے لیے فکر مند تھا۔۔۔۔
“یہ آگ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔۔۔ تمہیں اگر کسی ڈرنا چاہیے تو وہ ہے شاہ ویز سکندر۔۔۔ میرے علاوہ کوئی شے تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔۔۔۔ ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔۔”
شاہ ویز اپنا کوٹ اُتار کر پریسا کو پہنا چکا تھا۔۔۔۔
آگ میں کودنے کے بعد بھی اِس کوٹ سے اُس کی کافی بچت ہوئی تھی۔۔۔ اُس کا کوٹ پریسا کے نازک وجود کو آدھے سے زیادہ کور کر چلا تھا۔۔۔۔
“تم یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ کیوں۔۔۔۔ تمہیں آگ۔۔۔ “
پریسا کو اُس کی فکر ہوئی تھی۔۔۔ جو اپنے آہنی وجود کے پیچھے صرف اُسے کور کر رہا تھا۔۔۔ جیسے اُس کی حفاظت سے ضروری شاہ ویز سکندر کے لیے کوئی نہیں تھا۔۔۔
پریسا کا سر بہت بُری طرح چکرا رہا تھا۔۔۔۔ آہستہ آہستہ اُسے ہر منظر دھندلا ہوتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔
شاہ ویز اُس کے بے جان وجود کو اُٹھاتا آگے بڑھا تھا۔۔۔ اُس کا رُخ ونڈو کی جانب تھا۔۔۔ جہاں سے وہ نیچے اُتر سکتا تھا۔۔۔۔
کانچ کی کھڑکی توڑنے میں اُسے زیادہ ٹائم نہیں لگا تھا۔۔۔
پریسا کو کندھے پر ڈالتے وہ باہر اُتر چکا تھا۔۔۔۔
اُسے سیدھے دروازے سے زیادہ اِن راستوں سے جانے کی عادت تھی۔۔۔ اِس لیے پائپ سے گزر کر وہ بہت ہی آرام سے نچلے پورشن میں اُتر گیا تھا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

رات کے دو بجے کا وقت تھا۔۔۔ ہر جانب ہو کا عالم چھایا ہوا تھا۔۔۔ سردیوں کی گہری ٹھٹھرتی رات میں سب لوگ اپنے بستروں میں دبکے سو رہے تھے۔۔۔۔
مگر اُن سب میں ایک وجود ایسا تھا جو آج کی رات سکون کی نیند نہیں سو پایا تھا۔۔۔
اُسے رہ رہ کر اُن اوباش لڑکوں کی بُری نظریں یاد آرہی تھیں۔۔۔ جن سے اب تک وہ اِس گاؤں کی ہر لڑکی کو حراساں کرتے آئے تھے۔۔۔۔ مگر آج وہ یہ حرکت بہت غلط لڑکی کے ساتھ کر گئے تھے۔۔۔۔
حبہ اپنی ساتھ سوئی رضیہ کو ایک نظر دیکھتی اپنا پسٹل اپنی پاکٹ میں چیک کرتی۔۔۔ نائٹ ٹراؤزر شرٹ کے اُوپر سیاہ شال لپیٹے وہ وہاں سے نکل آئی تھی۔۔
وہ سونے سے پہلے رضیہ سے اُن لوگوں کی ساری معلومات لے چکی تھی۔۔۔ وہ لڑکے یہاں کے وڈیرے کے ڈیرے پر رہتے تھے۔۔۔
جو اُن کے گھر سے دس منٹ کی مسافت پر تھا۔۔۔۔
حبہ اُن کو آج ایسا مزا چکھانا چاہتی تھی کہ آئندہ وہ کسی لڑکی کی جانب دیکھنے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔۔۔
وہ جیسے ہی وہاں پہنچی۔۔۔ اُسے سامنے ہی پانچ چارپائیاں پڑی نظر آئی تھیں۔۔۔۔
آنکھوں میں نفرت بھرے وہ جیسے ہی اُن کی جانب بڑھی۔۔۔۔ کسی نے پیچھے سے اُس کی کلائی تھام کر اُسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔
حبہ نے اُس کے سینے پر پنچ مارتے اُس سے خود کو بچانا چاہا تھا۔۔۔۔ مگر مقابل اُس کو زرا سی بھی مہلت دیئے بغیر اُس کی کلائیاں کمر کے پیچھے مڑورتا اُسے پوری طرح اپنے گرفت میں قید کر گیا تھا۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔ “
حبہ بنا دیکھے ہی سمجھ گئی تھی کہ یہ لمس اور خوشبو کس انسان کی تھی۔۔۔۔ اور ہمیشہ اُس کی طاقت کا اندازہ لگا کر کون اُسے قابو کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔۔۔
“تمہارا دماغ اِس قدر خراب ہے مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔ تم جیسی جذباتی لڑکی کو بھلا پولیس والی بنایا کس نے ہے۔۔۔۔ “
حازم اُس کے باوز کمر پر باندھ چکا تھا۔۔۔
جبکہ حبہ اُس کی یہاں موجودگی اور اب اِس حرکت پر آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔
“آپ یہاں کیا کررہے ہیں۔۔۔؟؟ تو کیا آپ اِس وڈیرے کے بُرے کاموں میں بھی اِس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔۔۔۔”
حبہ نے بے یقینی سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔
جبکہ اُس کی اِس بات کا بھی بنا کوئی جواب دیئے۔۔۔ حازم اُس کے منہ پر بھی رومال باندھ گیا تھا۔۔۔۔
“میں گینگسٹر ہوں۔۔۔ کچھ بھی کرسکتا ہوں۔۔۔ اِس میں اتنی حیران ہونے والی کیا بات ہے۔۔۔۔؟؟؟”
حازم اُسے بانہوں میں اُٹھائے واپس مڑتے بولا تھا۔۔۔
جبکہ اُسے نجانے کس جانب جاتا دیکھ ہاتھ پاؤں مارنے لگی تھی۔۔۔۔
حازم اُسے ایسے ہی اُٹھائے کافی دور نکل آیا تھا۔۔۔ وہاں پہاڑوں پر قدرے اونچائی پر ایک چھوٹا سا گھر نظر آیا تھا۔۔۔۔ حازم کا رُخ اُسی جانب تھا۔۔۔۔
وہ اندر داخل ہوکر گھر کا دروازہ بند کر گیا تھا۔۔۔۔ چھوٹا سا صحن عبور کرتے وہ اندر بنے ایک روم میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔ جہاں چھوٹا سا پلنگ۔۔۔ دو کرسیاں اور کپڑوں کی ایک چھوٹی سی الماری رکھی گئی تھی۔۔۔۔
اُسے نیچے اُتارتے حازم اُس کے منہ سے رومال کھول چکا تھا۔۔۔۔ مگر ہاتھ ابھی بھی نہیں کھولے تھے۔۔۔
“بیٹھ سکتی ہو تم۔۔۔۔ اور جتنا مرضی چلانا ہے چلا بھی سکتی ہو۔۔۔۔۔”
حازم اُسے پلنگ پر بیٹھنے کا اشارہ کرتا خود کرسی پر بیٹھتا سیگریٹ سلگھا گیا تھا۔۔۔۔
حبہ نے وہیں کھڑے کھڑے اُسے غصے بھری نگاہوں سے گھورا تھا۔۔۔۔ جو اُس کی جانب دیکھنے سے بھی گریزاں تھا۔۔۔۔
“اگر مجھے اپنانے میں اتنا مسئلہ ہے آپ کو۔۔۔ تو مجھے میرا کام کیوں نہیں کرنے دیا۔۔۔۔ “
حبہ کو اُس پر کتنا غصہ تھا وہ بیان نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
حبہ اُس سے ملنے۔۔۔ اُسے واپس دیکھنے کے لیے دو دن سے کتنی تڑپی تھی۔۔۔ مگر یہ شخص ایک بار بھی اُس کے سامنے تک نہیں آیا تھا۔۔۔ اُسے سنبھالنا اور چپ کروانا تو بہت دور کی بات تھی۔۔۔۔
“تم میرے آدمیوں کو مارنے جاؤ گی۔۔۔ اور تمہیں لگتا ہے۔۔۔ میں اتنے آرام سے دیکھتا رہوں گا۔۔۔۔”
حازم نے سیگریٹ کا گہرا کش لگاتے اُس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆

مہروسہ بستر پر کروٹ بدلتے بدلتے تھک گئی تھی۔۔۔۔ مگر نیند آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔ جب آخر کار تنگ آکر وہ بیڈ سے اُٹھ آئی تھی۔۔۔
روم سے نکل کر وہ بے مقصد کوریڈور میں چکر کاٹتی ٹیرس پر آن کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ جب اُس کی نظر گیٹ سے زرا فاصلے پر بنی انیکسی کے ساتھ بنائے گئے جم خانے پر پڑی تھی۔۔۔ فرح سے ہی اُسے پتا چلا تھا کہ یہ جم خانہ خاص طور پر حمدان کے لیے بنوایا گیا تھا۔۔۔۔
مگر رات کے اِس پہر جم خانے کی لائٹ آن دیکھ مہروسہ کا حیرت ہوئی تھی۔۔۔ اُس کی حیرت بے یقینی میں اُس وقت بدلی جب اُس نے مریم کو وہاں داخل ہوتا دیکھا تھا۔۔۔۔
“یہ لڑکی اِس وقت کیوں جارہی ہے وہاں۔۔۔؟؟ مگر لائٹ تو پہلے سے آن ہے۔۔۔۔ تو اِس کا مطلب وہاں پہلے سے کوئی ہے۔۔۔۔۔”
مہروسہ اِس سوچ کے ساتھ ہی اندر سے جل بھن اُٹھی تھی۔۔۔ حمدان صدیقی رات کے اِس پہر تنہا مریم کے ساتھ تھا۔۔۔ مہروسہ کے اندر کی مشرقی لڑکی یہ بات برداشت نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔
وہ فوراً نیچے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتے وہ انیکسی کی جانب بڑھی تھی۔۔۔ لیکن دروازے تک پہنچتے وہ وہیں رُک گئی تھی۔۔۔ اُسے اندر سے مریم کے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔۔
مہروسہ کی آنکھیِں نم ہوئی تھیں۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ حمدان صدیقی اپنی دلی رضامندی سے شادی بالکل بھی نہیں کررہا تھا۔۔۔ مگر وہ کسی اور سے محبت کرتا تھا یہ بات بھی مہروسہ کے لیے بہت زیادہ تکلیف کا باعث تھی۔۔۔
“مجھے جلد از جلد اپنا کام مکمل کرکے یہاں سے جانا ہوگا۔۔۔ میں مزید یہاں رہ کر خود کو مزید کمزور نہیں کرسکتی۔۔۔ میں ایک طوائف کی بیٹی ہوں۔۔۔ جس کے لیے نہ تو محبت بنی ہے اور نہ ہی حمدان صدیقی جیسا باکردار قبول کرے گا۔۔۔۔
میرے پیارے پروردگار کیوں لکھی آپ نے محبت کی یہ اذیت میری قسمت میں۔۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میری محبت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔۔۔۔
مہروسہ بھیگتی آواز کے ساتھ وہاں سے پلٹ آئی تھی۔۔۔
“ارے اُجالا تم یہاں۔۔۔۔”
مہروسہ ابھی آدھے راستے میں ہی پہنچی تھی۔۔۔ جب اُسے مریم کی حیران سی آواز سنائی دی تھی۔۔۔
ناچاہتے ہوئے بھی اُسے واپس مُڑنا پڑا تھا۔۔۔
مریم کے ساتھ کھڑے حمدان کو کھڑا دیکھ مہروسہ نے مُٹھیاں بھینچ کر اپنے غصے کو دبایا تھا۔۔۔
سیاہ ٹراؤزر پر سیاہ بنیان پہنے وہ رف سے حلیے میں بھی بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔ اُس کا لمبا چوڑا کسرتی وجود بہت ہی متاثر کن تھا۔۔۔
“ہاں وہ مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔۔ تو باہر آگئی۔۔۔”
مہروسہ نے فوراً بہانہ بنایا تھا۔۔۔
جبکہ حمدان صدیقی کی نظریں اُس کی روئی آنکھوں اور بھینچی مُٹھیوں پر تھیں۔۔۔
“اوہ اچھا۔۔۔ روم میں چلی جاؤ۔۔۔ بہت ٹھنڈ ہے کہیں بیمار نہ پڑ جاؤ۔۔۔۔ گڈ نائٹ حمدان۔۔۔۔”
اُسے سر سے پیر تک عجیب سے انداز میں گھورتی مریم حمدان کو مسکرا کر گڈ نائٹ کہتی وہاں سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
مہروسہ بھی بنا حمدان کی جانب دیکھے واپس پلٹنے ہی لگی تھی جب اُس نے دیئے جانے والے آرڈر پر مہروسہ نے گھور کر اُسے دیکھا تھا۔۔۔
“اُجالا میرے لیے بلیک کافی بنا کر لاؤ۔۔۔۔ میں اندر ہی ہوں۔۔۔”
اُسے حکم دیتا وہ واپس پلٹ گیا تھا۔۔۔ اُس کا حاکمانہ انداز بالکل شوہروں والا تھا۔۔۔
جبکہ مہروسہ آنکھیں پھاڑے اُس کی چوڑی پشت کو گھور کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
“اپنی چہیتی سے ہی بنواتے نا کافی۔۔۔ جس کے ساتھ بیٹھ کر آدھی رات کو بڑے قہقہے لگائے جارہے تھے۔۔۔ ویسے تو بڑا شریف بنتا ہے یہ ایڈیٹ ایس پی۔۔۔ مگر ابھی اِن لڑکی کے ساتھ ہوتے ساری شرافت ختم ہوجاتی ہے۔۔۔۔ ایسی کافی پلاؤں گی کہ ساری زندگی میری کافی کا ذائقہ منہ سے نہیں جائے گا۔۔۔”
مہروسہ سے مریم اور حمدان کی یہ آدھی رات کی ملاقات ہضم نہیں ہوپائی تھی۔۔۔ اُوپر سے اُس کے دیئے گئے آرڈر پر الگ جلتی بھنتی وہ اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
آخر کو ایس پی صاحب کو اُن کی فیورٹ بلیک کافی بنا کر بھی دینی تھی نا۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ ٹرے میں کافی کا مگ رکھے حمدان کے اُس لگژری سے جم خانے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔ جہاں ایکسرسائز کی تمام جدید مشینریز موجود تھیں۔۔۔
مگر سامنے کا منظر دیکھ اُس کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔