Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حیا نہاں کر آئی جب اس کی نظر بیڈ پر گئی جہاں روہان بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے اسے دیکھ رہا تھا،
آپ!! جی میں آپ تو یاد کرتی نہیں سوچا میں ہی آجاؤ روہان نے بیڈ سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا پر چہرے پر مسکراہٹ تھی،
پاکستان آنے کے بعد روہان حیا کو اس کے میکے میں چھوڑ کے خود کہی چلا گیا تھا پھر سب کچھ ٹھیک ہونے کے بعد آگلے دن روہان واپس لندن چلا گیا اپنا بزنس سب کلوز کرنے اب اس کا ارادہ پاکستان رہنے کا تھا اور اس نے یہاں ایک خوبصورت گھر بھی دیکھ لیا تھا آج پورے ایک ہفتے بعد وہ اپنی لٹل گرل کو دیکھ رہا تھا،
روہان قدم قدم چلتا ہوا اس کے پاس آیا حیا کی نظریں خود بخود جھک گئی وہ ایک ہفتے سے روہان کو بہت مس کر رہی تھی ہر وقت اسے دیکھنے کی عادت جو ہوگئی تھی،
اپنے گھر چلیں روہان نے حیا کے گیلے بالوں کی لٹ اس کے کان کے پیچھے کی اس وقت وہ بلیک فراک میں بہت سے بھی زیادہ پیاری لگ رہی تھی،
اپنے گھر!!! حیا نے نہ سمجھی سے روہان کو دیکھا،ہاں اپنا گھر میرا جو کام تھا وہ سب میں یہاں شفٹ کر چکا ہوں اور میں نے یہاں بہت پیارا گھر بھی لیا ہے اب بتاؤ کب چلنا ہے روہان نے پیار سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
کیا ہوا لٹل گرل آپ کو خوشی نہیں ہوئی حیا کا چہرہ دیکھ کر روہان کی بھی مسکراہٹ غائب ہوئی،
مجھے لگا ہم فاروق انکل والے گھر میں رہے گے حیا کے کہنے پر روہان کے ماتھے پر بل آئے وہ دو قدم پیچھے ہوا،
وہ میرا گھر نہیں ہے روہان نے دوسری طرف منہ کر کے سختی سے کہا اس وقت اس کے چہرے پر تھوڑی دیر پہلے والا کوئی بھی پیار جزبہ نہیں تھا،
پر وہ آپ کے پاپا ہیں تو وہی ہمارا گھر ہوا نہ حیا نے روہان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے کہا،
مجھے اپنے ماں باپ سے نفرت ہے سنا تم نے نفرت کرتا ہوں میں ان سے روہان نے ایک دم موڑ کے حیا کو کندھے سے پکڑ کر چیختے ہوئے کہا حیا نے زور سے اپنی آنکھیں میچ لی
ان لوگوں نے ہمیشہ اپنے بارے میں سوچا میرے بارے میں نہیں ان کو کبھی بھی میری پروا نہیں تھی روہان کی آواز اب بہت آہستہ تھی حیا سے دور ہو کر وہ بیڈ پر بیٹھ گیا اس وقت اس کے چہرے پر اذیت صاف نظر آ رہی تھی،
حیا نے آنکھیں کھول کر پہلے روہان کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں درد ہی درد تھا وہ آرام سے چل کر اس کے پاس آ کر بیڈ پر بیٹھی،
تھوڑا جھجکتے ہوئے اس نے روہان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا،نفرت تو کوئی بھی اپنے ماں باپ سے کبھی نہیں کرتا جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں کتنی غلطیاں کرتے ہیں پھر بھی ہمارے ماں باپ ہمارے ہر غلطی کو معاف کر دیتے ہیں ہم سے نفرت نہیں کرتے بے شک ان کی غلطی بہت بڑی ہے پر معاف کرنے والا تو سب سے بڑا ہوتا ہے نہ،
روہان کی طرف دیکھ کے وہ پیار سے اسے سمجھا رہی تھی روہان نے اپنی لٹل گرل کے چہرے کی طرف دیکھا،
آپ ان سے نفرت نہیں کرتے بس ان سے ناراض ہیں ایک بار انہیں آپ کو منانے کا موقع تو دیں روہان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے اتنے پیار سے کہا کے روہان نے ایک دم اسے اپنے سینے سے لگا کر آنکھیں بند کرلی،
مجھے تو پتا بھی نہیں تھا میری لٹل گرل اتنی بڑی ہوگئی ہے حیا سے دور ہوتے ہوئے روہان نے اس کا ناک پکڑ کر پیار سے کھینچا حیا نے مسکرا کر نظریں جھکا لی،
*************
بلال جب اندر آیا تو دعا آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی اس کیس کی بھاگ دوڑ میں وہ ہاسپیٹل نہیں آ سکا تھا آج وہ پورے ایک ہفتے بعد آیا تھا
صائمہ بیگم اور علی صاحب کو ابھی اس نے گھر بھیجا اور خود اندر آگیا علی صاحب نے بتایا تھا کے دعا کو ہوش آگیا پر ابھی وہ سو رہی ہے،
دعا کے پاس بیٹھ کے اس نے بغور دعا کے چہرے کو دیکھا کچھ ہی دنوں میں وہ برسوں کی بیمار لگ رہی تھی،
مس میوٹ تم نے تو میری جان ہی لے لی تھی بلال نے جھک کے بہت پیار سے دعا کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے،اس ایک ہفتے میں اسے اچھے سے معلوم ہو گیا تھا دعا کی اس کی زندگی میں کیا اہمیت ہے،
بلال پیچھے ہو کر دعا کے پاس بیٹھا اس کے ہاتھ کو پیار سے اپنے ہاتھ میں تھاما،مس میوٹ تم مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جانا مجھے یہ بات اب معلوم ہوئی کے بلال بھی کسی چیز سے ڈرتا ہے اور وہ ڈر ہے دعا کو کھونے کا ڈر،
اس کے ہاتھوں کو اپنے آنکھوں پر رکھے وہ بہت آہستہ سے بول رہا تھا،اب تم مجھ سے کبھی دور نہیں ہونا بلال نے بولتے ہوئے آنکھیں کھولی دعا اسی کو دیکھ رہی تھی،
بلال کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اسے معلوم بھی نا ہوا دعا اس کا اظہارِ محبت کب سے سن رہی ہے،اٹھ گئی مس میوٹ بلال نے آرام سے اس کا ہاتھ واپس بیڈ پر رکھا،
بلال کے اس طرح دیکھنے سے دعا نے نظریں جھکا لی، مس میوٹ ٹھیک ہونا اب تم اس کے گال پر پیار سے ہاتھ رکھے وہ اسے جذبہ لٹاتی نظروں سے دیکھ رہا تھا،
جی میں ٹھیک ہوں!!!! نیچے منہ کیے اس نے بہت آرام سے کہا بلال نے ایک دم اس کے چہرے کی طرف دیکھا،
تم___تم نے کچھ کہا بلال کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا کیا اس نے دعا کی ہی آواز سنی ہے،
جی میجر سر میں اب بول سکتی ہوں دعا نے بلکل آرام سے بہت بڑا دھماکا کیا تھا،بلال ایک دم کھڑا ہو گیا کچھ قدم اس نے الٹے لیے پھر ایک دم پلٹ کر روم سے باہر نکل گیا،
دعا نے حیرت سے اسے دیکھا انہیں کیا ہوا،دعا اٹھ کے کھڑی ہوئی آج شام اسے ہاسپیٹل سے چھٹی مل جاتی وہ روم سے باہر آئی اس وقت دعا نے لائٹ سے کلر کے سوٹ پر دوپٹے کو نماز کی طرح باندھا ہوا تھا،
جو ابھی باہر آئے وہ کہاں گئے ہیں ایک نرس کو روک کر دعا نے آرام سے پوچھا اسے سمجھ نہیں آیا بلال ایسے کیوں چلا گیا،جی وہ اس روم میں گئے ہیں نرس بول کر چلی گئی،
دعا آرام آرام سے قدم قدم چلتی ہوئی اس روم کے پاس آئی، اس نے آرام سے روم کا دروازا کھول کر اندر قدم رکھا،سامنے بلال کو دیکھ کر ایک دم دعا نیچے بیٹھ گئی اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے،
بلال سجدے میں سر رکھے رو رہا تھا اس کا پورا جسم جھٹکے کھا رہا تھا دعا کو صاف معلوم ہو رہا تھا اس کا میجر بچوں کی طرح رو رہا ہے،
دعا ہمت کر کے اس کے پاس آئی کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے بلال کے کندھے پر ہاتھ رکھا میجر سر!!!
بلال نے اٹھ کے اس کی طرف دیکھا اس وقت بلال کی آنکھیں رونے سے سرخ ہو رہی تھی بلال نے ایک دم اسے اپنے پاس کر کے اپنے سینے سے لگا لیا،
میں بتا نہیں سکتا تمہاری آواز سن کر مجھے ایسا لگ رہا ہے مجھے سب کچھ مل گیا اب کوئی بھی خواہش نہیں ہے دل میں جب مجھے معلوم ہوا تھا تم بول نہیں سکتی میں نے اس کے بعد ہر وقت رب سے تمہاری آواز مانگی ہے، بلال اسے خود میں بھینچے بولا جا رہا تھا دعا کی آنکھوں سے آنسو لڑی کی سورت بہنے لگے
اس نے تو کبھی سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا اسے اتنا پیارا ساتھی ملے گا جو اس سے اتنا پیار کرے گا،
میں اللّٰہ کا شکر ادا کرنے یہاں آیا تھا تم سے اپنے دل کا حال بیان کرنے سے پہلے میں اللّٰہ کا شکر ادا کرنا چاہتا تھا بے شک وہ رب سب کی سنتا ہے دعا کا چہرہ ہاتھوں میں لیے وہ پیار سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا،
ایک بار مجھے پکارو پلز اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ بچوں کی طرح ضد کر رہا تھا
میجر سر !! دعا نے نظریں جھکا ثجر آرام سے کہا،میجر سر نہیں بلال کہو بلال نے پیار سے اس کے بال ایک طرف سے کان کے پیچھے کیے بلال کی اتنی قربت پر دعا کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا،
بلال!!!! دعا نے بولتے کے ساتھ ہی ایک دم اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا لیا دعا کے چہرے پر بہت خوبصورت مسکراہٹ تھی بے شک اللّٰہ نے اسے بہترین ساتھی عطا کیا ہے بلال نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے اندر سمیٹ لیا،
***************
6 مہینے بعد
یہاں پر لگا دو یہ پھول بلال نے ایک آدمی کو بولتے ہوئے سامنے دروازے کی طرف اشارہ کیا،
ہاں یہ سب سامان یہاں رکھ دو اور دیکھوں کھانے کا جو آرڈر دیا تھا اس کا کیا ہوا برہان نے دو تین آدمیوں سے سامان اندر رکھوایا اب وہ فون نکال کر کسی کو کال کر رہا تھا،بلال جا کے تیار ہوجا تیرا بھی ولیمہ ہے بھائی احمد نے بلال کو پیچھے سے پکڑا،
اوئے تو آگیا بلال جھٹ سے اس کے گلے لگا پھر دور ہوکر ایک مکا اس کی ناک پر مارا احمد نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا یہ مکا کس خوشی میں،
اتنی دیر سے آنے کی خوشی میں صبح سے میں اکیلا کاموں میں لگا ہوں میرا ولیمہ ہے اور کسی کو میری فکر ہی نہیں ہے بلال نے منہ بنا کر کہا،
ہاں میں نے فکر کی تو نے میرے منہ پر مکا مار دیا ایسے بندے کی فکر کون کرے گا احمد کا دل کیا سالے کو بہت مارے پر آج وہ دلھا تھا اس لیے لحاظ کرنا پڑا،
صمد کہاں ہے احمد کی آواز پر آمنہ بیگم ان کی طرف آئی، بیٹا صمد مشعل اور دعا کو لے کر پارلر گیا ہوا ہے اور بلال بیٹا آپ تیار ہو جاؤ آمنہ بیگم نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا،
اس وقت وہ لوگ سب حیدر کے گھر میں موجود تھے خالد حسن سے سب انفارمیشن نکال کر اس کے سب کالے دھندے بند کر دیے گئے ان کے آدمیوں کو بھی پکڑ لیا بیٹی اور بیوی کی نفرت خالد حسن سے برداشت نہیں ہوئی اور اس نے جیل کے اندر ہی سوسائیڈ کرلی آمنہ بیگم کے لیے یہ صدمہ بہت بڑا تھا پر ایسے آدمی کا انجام اچھا کیسے ہو سکتا تھا، حیدر انہیں اور مشعل کو اپنے ساتھ لے آیا آمنہ بیگم کی عدت ختم ہونے کے کچھ دن بعد یہ پروگرام رکھا،
جس میں دعا اور بلال کے ولیمے کے ساتھ مشعل کی رخصتی بھی تھی،جی جی پھوپھو میں بس جا رہا ہوں وہ آپ کا داماد ہے نا صبح سے کوئی کام نہیں کیا بلکہ سب کام مجھ معصوم سے کروائے بلال کے منہ بنا کر کہنے پر آمنہ بیگم مسکرا دی
کرلی میری برائی حیدر نے پیچھے سے اس کا کان پکڑا بلال نے ایک دم اپنی زبان دانتوں تلے دبا لی،
ارے حیدر تو آگیا میں ابھی پھوپھو کو یہی بتا رہا تھا کے تو نے صبح سے کتنا کام کیا ہے اور میں تو آج سو کر ہی دیر سے اٹھا بلال کے جلدی سے بات بدلنے پر جہاں احمد نے اسے گھورا وہی حیدر اور آمنہ بیگم مسکرا دیے
************
حنا کچن میں صائمہ بیگم کے ساتھ کاموں میں لگی ہوئی تھی انوشے کے اغواء ہونے سے واپس ملنے تک میں وہ پوری بدل گئی تھی اسے یہ احساس ہو گیا تھا کے دوسرے کے ساتھ برا کرنے والے کے ساتھ کبھی اچھا نہیں ہوتا آج وہ آگے بڑھ بڑھ کے سب کام کر رہی تھی،
بھابھی اس میں چینی نہیں ہے حیا نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے کہا حنا نے مسکرا کر اس سے کپ لیا ابھی حنا نے کپ پکڑا ہی تھا جب حیا کو زور سے چکر آئے،
کیا ہوا گڑیا حنا اور صائمہ بیگم نے جلدی سے اسے پکڑا،کچھ نہیں بھابھی صبح سے بار بار چکر آرہے ہیں حیا کے اس طرح کہنے پر جہاں حنا نے صائمہ بیگم کو دیکھا وہی صائمہ بیگم بھی حنا کو دیکھ کر مسکرائی،
یہ چائے کس کو دینی تھی صائمہ بیگم نے اپنی ہنسی دبا کر حیا سے پوچھا،
وہ فاروق انکل کے لیے لے کر جا رہی تھی چچا اور فاروق انکل ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں حیا کے بتانے پر صائمہ بیگم نے ہاں میں سر ہلایا،
حنا تم حیا کو روم میں لے جاؤ میں اندر چائے دے دوں گی صائمہ بیگم کے کہنے پر حنا نے ہاں میں سر ہلایا،اور اسے اندر لے گئی
حنا کی ایک دوست جو کے ڈاکٹر تھی اسے حنا حیا کے کمرے میں لے گئی جہاں ان کا شک یقین میں بدل گیا،اب تمہیں اپنا بہت سارا دھیان رکھنا ہوگا حنا کی بات پر حیا نے شرما کر نظریں جھکا لی ابھی حنا کچھ اور کہتی اس سے پہلے روم کا دروازا نوک ہوا
حنا نے دروازا کھولا تو سامنے روہان کھڑا تھا جس کے چہرے پر پریشانی تھی،
کیا ہوا حیا کو !! ابھی مجھے چچی نے بتایا کے اسے چکر آرہے تھے کہاں ہے حیا روہان نے پریشانی میں حنا کے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ نہیں دیکھی روہان کی نظر جیسے ہی حیا پر گئی وہ جلدی سے اندر آگیا حنا نے ایک نظر انہیں مسکرا کر دیکھا اور روم سے باہر چلی گئی پر جاتے جاتے روم کا دروازا بند کرنا نہیں بھولی،
کیا ہوا لٹل گرل دروازا بند ہوتے ہی روہان نے حیا کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اس کے چہرے پر اس وقت حیا کے لیے فکر ہی فکر تھی حیا میں ہر وقت اس کی جان اٹکی رہتی تھی،
حیا نے ایک نظر روہان کو دیکھ کر نظرے جھکا لی اس وقت اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہو رہا تھا کچھ تو بولو یار میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں اور تم کچھ جواب نہیں دے رہی روہان نے پریشانی سے کہا،
میں ٹھیک ہوں حیا نے نیچے نظریں کیے آرام سے کہا،کیسے ٹھیک ہو لٹل گرل ابھی مجھے چچی نے بتایا تمہیں چکر آرہے تھے روہان نے پیار سے حیا کا چہرہ اپنے ہاتھ میں تھام لیا،
وہ__وہ حیا نے بولنا چاہا پر اس کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے روہان دھیان سے حیا کی بات سن رہا تھا اس نے بغور حیا کا چہرہ دیکھا جو کوئی بات بتانے کے چکر میں شرم سے لال ہو گیا تھا،
روہان نے ایک دم اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھینک یو میری جان تھینک یو سو مچ وہ اب اتنا بھی نہ سمجھ نہیں تھا اور ویسے بھی وہ حیا کے بن کہے اس کی آنکھوں سے ہی اس کی ہر بات جان جاتا تھا
روہان کی آنکھیں ہلکی سی نم ہوئی اس نے نم آنکھوں سے حیا کا ماتھا چوم لیا آج تم نے مجھے مکمل کر دیا روہان کے اتنے پیار سے کہنے پر حیا نے سرخ چہرے کے ساتھ نظرے جھکا لی،
روہان اور حیا اب فاروق صاحب کے گھر میں ہی رہتے تھے روہان نے حیا کے کہنے پر ایک قدم بڑھایا فاروق صاحب نے جب انہیں اپنے گھر دیکھا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ان کا فیصلہ بلکل سہی تھا حیا ہی وہ لڑکی تھی جس کے ذریعے روہان واپس ان کے نزدیک آ سکتا تھا فاروق صاحب اور روہان میں سب دوریاں ختم ہوگئی تھی اب روہان ان کے ساتھ مل کر بزنس کر رہا تھا فاروق صاحب اپنے بیٹے کو پاکر بہت خوش تھے،
آپ روہان کو لگ رہا تھا اب اس کی فیملی مکمل ہو گئی ایک وقت تھا جب وہ بلکل اکیلا تھا اور اب اس کے پاس ایک فیملی تھی روہان نے پیار سے اسے اپنے حسار میں لے لیا،
***************
مشعل نے ڈارک ریڈ کلر کا لہنگا پہن رکھا تھا جس پر گولڈن کلر کا کام ہو رہا تھا پالر کے میکپ نے اس کے حسن کو ایک الگ طرح سے نکھار دیا تھا حیدر کی نظرے بار بار اس کی طرف اٹھ رہی تھی،
حیدر خود بھی بلیک پین کوٹ میں چھا جانے کی حد تک اچھا لگ رہا تھا آپ سامنے دیکھیں مشعل نے مسکرا کے نظریں نیچے کیے حیدر سے کہا جو جب سے بس اسے ہی دیکھ رہا تھا،
مسسز حیدر آج تم پوری ہتھیار لیس ہو کر آئی ہو اب میں بچارا کیا کروں حیدر کے مسکرا کر کہنے پر مشعل کے چہرے پر حیا کی لالی بکھر گئی،
وائٹ اور پنک کلر کی میکسی میں دعا حور ہی تو لگ رہی تھی بلال کے ساتھ جب اس کی انٹری ہوئی تو ہر ایک نظر ان پر تھی وائٹ کلر کے پین کوٹ میں وہ بھی تو سب سے منفرد لگ رہا تھا،
یار تم مجھ سے زیادہ اچھی کیسے لگ سکتی ہو بلال کے اس طرح کہنے پر دعا نے حیرت سے اسے دیکھا ،
تمہیں پتا ہے میں نے کتنی تیاری کی تھی آج کے لیے اور تم مجھ سے اچھی لگ رہی اب ہر کوئی تمہیں ہی دیکھ رہا ہے بلال کے اس طرح منہ بنا کر کہنے پر دعا کی ایک دم ہنسی چھوٹ گئی کیمرا مین نے یہ حسین منظر اپنے کمرے میں سیف کر لیا،
حیا اور روہان ایک ساتھ اسٹیج پر آئے روہان کی فرمائش پر آج حیا نے ساڑھی باندھی تھی اور بلیک ساڑھی میں وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کے روہان نے اس کا ہاتھ ایک منٹ کے لیے نہیں چھوڑا تھا اور اب تو وہ اور زیادہ حیا کا خیال رکھ رہا تھا اس نے آرام سے حیا کو اسٹیج پر لاکر مشعل کے پاس بیٹھایا اور خود حیدر کے پاس بیٹھ گیا
بلال نے دور سے احمد اور صمد کو ایک ساتھ کھڑے باتیں کرتے دیکھا تو خود بھی وہی آگیا
بیچارا !!!بلال نے احمد کو دیکھتے ہوئے کہا جو صمد سے باتوں میں مصروف تھا،
میں بچارا کیوں احمد نے بلال کی طرف دیکھا، ہماری تو شادی ہوگئی پر تو کوں آرا رہ گیا میں تیرا دکھ سمجھ سکتا ہوں بلال نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا احمد نے اسے غصے سے دیکھا،
بلال ابھی اسٹیج سے سیدھا ان کے پاس آیا تھا اور حیدر کو بھی اس نے یہاں آنے کا اشارہ کیا حیدر نے دور سے ان تینوں کو دیکھا پھر وہ بھی یہی آگیا،
بیٹا مجھے کوئی شادی کی جلدی نہیں ہے اور پیار ویار پر مجھے یقین نہیں ہے میں ان فالتوں کاموں میں نہیں پڑتا حیدر قریب آیا تو احمد کی آواز اس کے کانوں میں پڑی،
تجھے لگتا ہے ہم نے فالتوں کام کیا ہے بلال نے ہاتھ کا مکا بنا کر اسے دیکھایا حیدر دیکھ یہ کیا بول رہا بلال نے حیدر کو کہا جو مسکرا کر اسٹیج کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں مشعل ہنس ہنس کے اپنی دوست سے بات کر رہی تھی
دیکھ لے سہی بول رہا ہوں اچھا خاصا آرمی آفسر ایسے ہی پاگل ہو گیا پیار میں احمد نے حیدر پر طنز کیا
احمد کے کہنے پر حیدر نے اسے گھورا میں تو ایسے ہی اسٹیج پر دیکھ رہا حیدر نے اپنا سر کھجایا،
ہاں ہاں اسٹیج پر تو_____ احمد کے الفاظ منہ میں ہی رہے گئے جب اس کی نظر مشعل کے پاس بیٹھی لڑکی پر پڑی،صاف رنگت لائٹ سے اسکین کلر کے سوٹ میں وہ سادگی میں بھی غضب ڈھا رہی تھی،
حیدر نے جب اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اسے مشعل کی دوست مہک نظر آئی،
او ہو و و و______ بلال صمد اور حیدر نے ایک ساتھ کہا جس پر احمد گڑبڑا گیا،
میں تو ایسے ہی دیکھ رہا تھا احمد کے جلدی سے بات بنانے پر تینوں کا قہقہہ جاندار تھا
*************
ختم شدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *