Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29
بلیک کلر کی فراک پر لائٹ سا میکپ کیے وہ بہت سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی روہان سوٹ چینج کر کے باہر آیا سامنے وہ دشمن جان کھڑی اپنے بال سلجھا رہی تھی وہ خود بھی اس وقت بلیک سوٹ میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا،اگر وہ شہزادی تھی تو روہان بھی کسی شہزادے سے کم نہیں تھا،
لٹل گرل یہ تو تم میرے لیے مشکلیں بڑھا رہی ہو روہان قدم قدم چلتا ہوا اس کے پاس آیا حیا نے آئینے میں اسے دیکھا جو پیار لٹاتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا حیا کی پلکیں خود با خود جھک گئی،
میں تمہیں لوگوں کے سامنے کیسے لے کر جاؤ گا یار روہان نے اپنی تھوڑی حیا کے کندھے پر رکھی حیا سے تو پلکیں اُٹھانا مشکل ہوگیا،
یہ بال باندھ لو اس سے پہلے میں جانے کا ارادہ بدل لوں اس کے کان کے قریب اس نے گھمبیر آواز میں سرگوشی کی،حیا کا دل تیز تیز دھڑکنے لگے اور چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آگئی جب وہ لندن آئی تھی اس رشتے کی حقیقت وہ سہی سے نہیں سمجھتی تھی جو کچھ مشعل نے سمجھایا تھا اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتی تھی،
پر اب وہ اس رشتے کو سمجھنے لگی تھی روہان کی معنی خیز باتیں اس کی پیار لٹاتی نظرے اس کا لمس حیا کو اب روہان کی عادت ہونے لگی تھی چلو یار اب اسکاف باندھ لو ایسے نہیں لے کر جاؤ گا روہان کی بات پر حیا نے مسکراتے ہوئے اسکاف لیا اور اسے اسٹائلش طریقے سے باندھ لیا،
روہان کے ساتھ اس نے جیسے ہی اندر قدم رکھا کئی لوگوں کی نظرے ان پر تھی روہان کے ماتھے پر بل آئے لوگ موڑ موڑ کے اس کی لٹل گرل کو دیکھ رہے تھے جو اس کی برداشت سے باہر تھا،
حیا تم آگئی او مسٹر روہان کیسے ہیں آپ بریل نے پہلے حیا پھر روہان کو مخاطب کیا میں ٹھیک ہوں روہان نے سخت تاثر سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے جواب دیا،
حیا یو ار لوکنگ گورجئس بریل نے ہاتھ کے اشارے سے اس کی تعریف کی روہان نے ماتھے پر بل ڈھالے اسے غصے سے دیکھا او سوری میں تو بھول گیا تھا مسٹر کھڑوس بھی ساتھ ہیں بریل نے مزے سے روہان کو چھڑا،
آپ کا ہوگیا تو اب ہم اندر جائیں روہان نے تھوڑے غصے سے کہا،بریل نے مسکراتے ہوئے انہیں راستہ دیا حیا نے ہونٹ کے اشارے سے اسے سوری کیا روہان کا رویہ بریل کے ساتھ کچھ زیادہ ہی سخت ہوتا تھا،
بریل نے مسکراتے ہوئے ان کی پشت کو دیکھا روہان جیسا بھی تھا حیا کا خیال رکھتا تھا اور اس کی نظر میں حیا کے لیے روہان سے بہتر لائف پارٹنر نہیں ہو سکتا تھا،
حیا مجھے پتا تھا تم آؤ گی کیری نے اسے گلے لگایا میری نے بھی اس کے گال پر پیار کیا حیا نے روہان کی طرف دیکھا اس کے تاثر اب پہلے سے بھی زیادہ خراب تھے بریل تو اسے اس لیے برا لگتا تھا وہ ایک لڑکا تھا بے شک اس کی نیت صاف تھی پر یہ لوگ روہان کو ان کی نیت بھی صاف نہیں لگتی تھی وہ ایسے ہی تو نہیں بنا تھا لندن کا اتنا بڑا بزنس مین،
حیا سے ملنے کے بعد کیری نے روہان کے آگے ہاتھ کیا حیا نے ایک چور نظر اس پر ڈھالی روہان نے ایک نظر اس کے ہاتھ کو دیکھا پھر اسٹیج کی طرف دیکھنے لگا اس نے کیری میری کو بلکل اگنور کیا حیا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اسے اچھا لگا تھا روہان کا یہ انداز وہ تو حیا کو بھی نہیں معلوم تھا اسے کیوں اتنا اچھا لگا،
پارٹی شروع ہوگئی تھی کچھ لوگ کھانے پینے میں مگن تھے تو کچھ دانس کرنے میں ایسے میں حیا اور روہان ایک ٹیبل پر بیٹھے تھے روہان اسے ان سب سے دور لے آیا تھا پتا نہیں اس کا دل کیوں بیچین ہو رہا تھا،
میم جوس ویٹر نے حیا کے آگے جوس کیا حیا نے آگے ہاتھ کر کے جوس لیا ویٹر واپس چلا گیا حیا ایک گھونٹ لے تی اس سے پہلے روہان نے اس کا ہاتھ پکڑا،
کیا تم نے منگوایا تھا جوس روہان نے حیا کی طرف دیکھ کر کہا، اس نے پہلے جوس کو دیکھا پھر نفی میں سر ہلایا روہان کے ماتھے پر بل آئے لاؤ مجھے دو روہان نے اس کے ہاتھ سے جوس لیا
پہلے اسے اپنے قریب کر کے اس کی مہک کو محسوس کیا پھر اس کا ایک گھونٹ بھرا جوس بلکل اوکے تھا روہان تھوڑا ریلکس ہوا اس نے جوس واپس حیا کو دیا اب پی لو سوری سوئٹ ہارٹ تمہارے معاملے میں کوئی رزق نہیں لے سکتا حیا کے حیرت سے دیکھنے پر اس نے صفائی دی اور جوس واپس اسے دے دیا،
یہ تو ضرورت سے زیادہ ہی ہوشیار ہے کیری نے دور سے دیکھتے ہوئے براڈ کی طرف دیکھا اس لیے تو ہم نے جوس میں کچھ نہیں ملایا بس میں دیکھنا چاہتا تھا روہان کتنا ہوشیار ہے اپنی بیوی کے معاملے میں براڈ نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کیری کو جواب دیا اب تمہیں ایک کام کرنا ہے براڈ نے کیری اور میری کو کہا،
روہان حیا کو لیے ابھی اسٹیج کے قریب آیا ہی تھا جب بہت سے اسٹوڈنٹ ایک ساتھ آئے روہان کے ہاتھ سے حیا کا ہاتھ چھوٹ گیا،حیا!!!روہان نے اسے پکارا پر اتنے رش میں اسے حیا نظر نہیں آئئ جیسے ہی وہ سب سٹوڈنٹ وہاں سے گئے حیا وہاں نہیں تھی روہان نے جلدی سے اسے ہر جگہ دیکھا پر اسے حیا کہی نظر نہیں آئی ابھی وہ اس کے ساتھ تھی اور ایک پل میں غائب،
****************
پتا نہیں کیوں بار بار مشعل کا خیال ذہن میں آرہا ہے حیدر نے چئیر سے کھڑے ہوتے ہوئے کھڑکی کی طرف دیکھا میں کل تو اس سے مل کر آیا ہوں بلکل ٹھیک ہے پھر کیوں ایسا ہو رہا ہے حیدر نے جیب سے موبائل نکالا اس سے پہلے وہ مشعل کو کال کرتا اس کے موبائل پر روہان کا میسج آیا ہوا تھا اس نے میسج کھولا،
میں اور حیا کل صبح کی پہلی فلائٹ سے پاکستان آرہے ہیں
روہان
حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اس نے کال کی پر نمبر لگ نہیں رہا تھا ایک دو بار ٹرائے کرنے کے بعد اس نے کوشش طرق کردی،
کیوں مسکرا رہا ہے سب خیریت تو ہے نا بھائی بلال نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا حیدر نے مسکرا کے اس کی طرف دیکھا نیوز ہی ایسی ہے تو بھی سنے گا تو خوش ہو جائے گا حیدر نے خلاف معمول بغیر اجازت اندر آنے پر غصّہ نہیں کیا تھا، حیدر نے موبائل جیب میں واپس رکھا،
اچھا ایسی بھی کیا بات ہے بھائی مجھے بھی بتا جلدی سے بلال جو اس کے موبائل میں جھانک رہا تھا حیدر کے موبائل جیب میں رکھنے سے اس کا منہ بن گیا،
حیا اور روہان کل صبح پاکستان آرہے ہیں حیدر نے مسکراتے ہوئے کہا اس کی گڑیا آرہی تھی اس کا دل کر رہا تھا وہ یہی بھنگڑا ڈھالے حیدر تو صرف سوچ رہا تھا بلال تو شروع ہو چکا تھا
احمد اندر آیا تو بلال بھنگڑا کر رہا تھا احمد بھی بھنگڑا کرتے ہوئے اس کے پاس آگیا حیدر جو اب تک مسکرا رہا تھا ان دونوں کو دیکھ کے اس کے ماتھے پر بل آئے یہ آرمی کیمپس ہے انسان بن جاؤ،
پر وہ دونوں بغیر رکے بھنگڑا کر رہے تھے بلال خود میں مگن بھنگڑا کر رہا تھا جب اس کی نظر احمد پر پڑی جو اس سے بھی زیادہ جوش میں بھنگڑا کر رہا تھا،
لال نے رک کے احمد کی طرف دیکھا تو کیوں ڈانس کر رہا ہے احمد نے رک کے اسے دیکھا پھر حیدر کو میں تو تیرا ساتھ دے رہا تھا تجھے اکیلے بھنگڑا کرتے دیکھ مجھے اچھا نہیں لگا اس لیے میں بھی آگیا ویسے تو کیوں بھنگڑا کر رہا تھا احمد کو بھنگڑا کرنے کے بعد وجہ پوچھنے کا خیال آیا،
کیونکہ میری گڑیا آرہی ہے حیا مجھے تو ایسے لگ رہا کے پتا نہیں کتنے دن سے اسے نہیں دیکھا اب جب وہ آرہی ہے تو بھنگڑا تو کرنا تھا نہ بلال نے حیدر کی طرف دیکھا جو مسکرا رہا تھا،
اچھا بلال وہ داغ تو مٹ گیا تھا نا حیدر نے اچانک سوال کیا بلال کا مسکراتا چہرہ ایک دم سریس ہوا اس نے احمد کو دیکھا جو اپنے قہقہے پر قابو پا رہا تھا ،
ہنس ہنس کر مر جائے گا ایک دن تو بلال نے اسے گھورا، اچھا گھر گیا تھا کیا تو بلال کا اتنا سا منہ دیکھ کر حیدر نے ٹاپک بدلا،
نہیں ابھی تو نہیں گیا کیوں کیا ہوا بلال نے حیدر کی طرف دیکھا،کچھ نہیں بس ایسے ہی سب کیسے ہیں یہی جاننا تھا حیدر نے جیب سے واپس موبائل نکالا،
کل تو آیا ہے تو آج سب کی فکر ہوگئی احمد نے اس کی طرف دیکھا میں فون کر لیتا ہوں حیدر نے مشعل کا نمبر ملایا،
آج ایک دو کام ہے کل جائے گے گھر ٹھیک ہے بلال نے حیدر کو دیکھ کر کہا جس پر اس نے محض ہاں میں سر ہلایا،
تجھے بہت ہنسی آتی ہے نا بیٹا باہر چل بتاتا ہوں تجھے بلال نے اسے باہر آنے کا اشارہ کیا اور خود باہر چلا گیا احمد نے ایک نظر حیدر کو دیکھا جو فون کان سے لگائے اگلے انسان کے فون اٹھانے کا منتظر تھا، احمد بھی باہر چلا گیا،وہ جانتا تھا ابھی اس نے بلال سے مار کھانی ہے،
کیسی ہو فون اٹھاتے ہی مشعل سے اس نے سوال کیا میں ٹھیک ہوں آج فوجی صاحب کو ہماری یاد کیسے آگئی مشعل کی شرارتی آواز پر حیدر کا دل سکون میں آیا وہ ٹھیک تھی اس کے لیے یہ بہت تھا،
کیوں فوجی کے پاس دل نہیں ہوتا انہیں اپنی بیوی کی یاد نہیں آتی اب حیدر نے بھی مسکرا کر کہا،
فوجی کے پاس تو دل ہوتا ہے پر کھڑوس فوجی کے پاس نہیں مشعل نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے کہا، اچھا جی اس کا جواب ابھی دوں یا وہاں آکے حیدر کی آواز پر مشعل نے فون کو گھورا،ہاہاہا حیدر نے قہقہہ لگایا اسے فون میں سے بھی مشعل کا سرخ چہرہ صاف نظر آرہا تھا،
******************
حیا ڈئیر کیا ہوا کیری نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،حیا نے اسے دیکھا پھر واپس یہاں وہاں لوگوں میں روہان کو ڈھونڈنے لگی،
میں ان کے ساتھ تھی پھر اتنے سارے لوگ آگئے اور میں دور ہوگئی کسی نے مجھے پیچھے کی طرف کھینچ لیا اب میں واپس یہاں آئی ہوں تو روہان نہیں ہیں حیا کے چہرے پر پریشانی تھی،
اچھا روہان وہ تو اس طرف گئے ہیں میں نے دیکھا تھا کیری نے پوری بات سن کر آرام سے جواب دیا،
یہاں پر حیا نے ایک جگہ اشارہ کیا جہاں کافی سناٹا تھا ہاں یہی پر شاید تمہیں ڈھونڈنے گئے ہوں کیری نے سوچ کر جواب دیا،
ہاں ہو سکتا ہے انہوں نے کہا بھی تھا میں ان کے ساتھ رہوں حیا اس طرف جانے لگی پھر رکی،تم بھی میرے ساتھ چلو یہاں بہت سناٹا ہے حیا نے تھوڑا گھبراتے ہوئے کہا،
اچھا میں چلتی ہوں ساتھ کیری نے پیچھے چھپی میری کو اشارہ کیا اور حیا کو لیے آگے بڑھ گئی اس روم میں دیکھ لو کیری نے ایک روم کی طرف اشارہ کیا جس کا گیٹ تھوڑا سا کھولا ہوا تھا،
پر وہ روم میں کیوں جائے گے میں ان کو کہیں اور دیکھتی ہوں حیا بول کر آگے جانے لگی جب پیچھے سے کیری نے ایک دم اس کا اسکاف کھینچا،
یہ آپ کیا کر رہی ہو حیا کا پورا اسکاف کیری کے ہاتھ میں آچکا تھا کیری نے مسکرا کر حیا کو دیکھا جو اب خوف سے کانپ رہی تھی بال سب اس کے بکھر چکے تھے،
اب تم دیکھو ہم کیا کرتے ہیں کیری نے ایک دم اسے روم میں دھکا دیا اور باہر سے روم لاک کر دیا،روم میں گھپ آندھرا تھا حیا نے دروازا بجایا خوف سے اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا پر کوئی ہوتا تو سنتا ،
براڈ تم اب اس روم میں جا سکتے ہو وہاں اندھیرا اتنا ہے کے کچھ بھی نظر نہیں آرہا مزے تم کرو گے اور الزام آئے گا بریل پر اب جاؤ مزے کرو کیری نے مسکراتے ہوئے براڈ کو کہا جو کیری کے فون کا ہی انتظار کر رہا تھا،فون رکھتے ہی وہ اس روم کی طرف چل پڑا،
کہا گئی حیا روہان نے کافی سٹوڈنٹ سے پوچھا پر کسی نے اسے نہیں دیکھا اب روہان کا دل گھبرانے لگا تھا اس کی آنکھیں نم ہوگئی تھی اس کی لٹل گرل کہا گئی وہ کیا کرے اب،
کیا آپ حیا کو ڈھونڈ رہے میری نے چہرے پر فکر لیے اس سے پوچھا روہان نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا،
نہیں وہ آپ سب سے پوچھ رہے تو میں نے سنا اسے میں نے بریل کے ساتھ اس طرف جاتے ہوئے دیکھا تھا میری کے بولتے ہی روہان جلدی سے اس طرف گیا
پر وہ اپنی مرضی سے گئی ہے بول رہی تھی روہان کی آنکھوں میں دھول ڈھال کر آئی ہوں پیچھے سے میری کی آواز اس کے کان میں پڑی اس نے بغیر موڑے قدم آگے بڑھا دیے اس وقت اسے بس حیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا تھا،روہان کے جاتے ہی میری نے مسکرا کر دور کھڑی کیری کو دیکھا جو اسے انگوٹھا دیکھا کر اوکے کا سائن دے رہی تھی جب تک روہان وہاں جاتا حیا اپنی عزت کھو چکی ہوتی،
براڈ نے روم جیسے ہی کھولا سامنے ہی حیا کھڑی تھی اسے اندھیرے میں کوئی نظر نہیں آیا براڈ نے ہوڈ پہن کر اپنا گیٹپ بدلا ہوا تھا،
کو____ن کو__ن حیا نے قدم پیچھے لیے اندھیرے میں اسے پہلے سے ہی خوف آرہا تھا اور اس شخص کو دیکھ کر اسے کچھ دن پہلے والا منظر یاد آیا،
براڈ نے جیسے ہی حیا کو پکڑنا چاہا حیا نے اسے دور دھکا دیا اندھیرے میں وہ کسی بوکس وغیرہ پر جا گرا براڈ غصے میں اٹھ کے اس کے پاس آیا،حیا نے خوف سے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لیا،
ایک دم روم کا دروازا براڈ جو حیا کی طرف غصے سے بڑھ رہا تھا اس نے دروازے کی طرف دیکھا بریل نے ہاتھ مار کر روم کی لائٹ جلائی آنکھوں میں آنسوں لیے کانپتی ہوئی حیا کھڑی تھی اور غصے میں بھرا براڈ بریل نے آگے بڑھ کے براڈ کا گریبان پکڑا،
یہ تو کوں سی حرکت کر رہا ہے تجھے شرم نہیں آئی بریل نے اسےایک کے بعد ایک کئی مکے مارے تجھے لگا تجھے یہاں کوئی دیکھے گا نہیں،
جب حیا غائب ہوئی جب ہی میں سمجھ گیا تھا یہ تیرا کام ہے اور باہر پڑا ہوا حیا کا اسکاف بریل نے اپنے ہاتھ میں موجود اسکاف دیکھا اور روم سے چیزے گرنے کی آوازیں مجھے یہاں لے آئی،
بریل نے اسے دور ٹھوکر ماری تجھے شرم نہیں آئی اتنی اچھی لڑکی کے ساتھ یہ سب کرتے ہوئے بریل اس کو اور مارتا اس سے پہلے براڈ کھڑا ہوکر وہاں سے بھاگ چکا تھا،
بریل نے غصے سے دروازے کو دیکھا پھر حیا کو جو دوسری طرف منہ کیے کھڑی سلو سلو کانپ رہی تھی اس کے بال سب بکھرے ہوئے تھے بریل نے پیچھے سے اسکاف اس کے سر پر رکھا،
حیا نے اپنا اسکاف جلدی سے ٹھیک کیا پھر بریل کی طرف دیکھا آنکھوں میں اس کے آنسوں تھے بریل کچھ بولتا اس سے پہلے روہان ایک دم روم میں آیا،
بریل حیا کے بہت نزدیک کھڑا تھا حیا کا اسکاف بھی سہی سے نہیں بندھا ہوا تھا بریل کا بھی گریبان کھولا ہوا تھا اس وقت وہ دونوں ساتھ کھڑے ہوئے الگ ہی منظر پیش کر رہے تھے،
او ہو تو اپنے ہسبنڈ کو وہاں چھوڑ کر تم یہاں گل کھلا رہی ہو میری نے دروازے سے اندر آتے ہوئے کہا حیا نے اسے اگنور کیا اور آکر روہان کے سینے سے لگ گئی روہان خاموش تھا بلکل خاموش،
حیا نے اس کی شرٹ کو سختی سے پکڑا ہوا تھا وہ کانپ رہی تھی،اب یہ ناٹک کرنے سے کیا ہوگا اپنی
آنکھوں سے دیکھا ہے ہم نے کیری نے بھی بیچ میں آتے ہوئے کہا،
کیا دیکھا ہے بکواس نہیں کرو تم سب کو تو میں دیکھ لوں گا بریل نے غصے میں ان دونوں کو گھورا اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ براڈ کی طرح ان دونوں کو بھی مارتا،
اب پکڑے گئے تو ہم پر غصہ کر رہے ہو واہ میری نے مسکراتے ہوئے کہا،اور تم بہت بہن جی بنی پھرتی تھی یہ ہے تمہاری سچائی میری کچھ اور کہتی اس سے پہلے روہان کا تھپڑ اس کے گال پر تھا،
میری نے حیران نظروں سے اسے دیکھا حیا کو اپنے حسار میں لیے وہ غصے سے اسے دیکھ رہا تھا،اگر میری لٹل گرل کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو میں تم دونوں کی جان لے لوں گا مجھے اپنی لٹل گرل پر سب سے زیادہ بھروسہ ہے روہان نے غصے میں دھاڑتے ہوئے کہا،
حیا تو اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپائے بس رو رہی تھی،بریل نے ان دونوں کو غصے سے دیکھتے ہوئے روہان کو بتایا کے یہاں کیا ہوا تھا وہ یہاں کیسے آیا میرا یقین کرو حیا مجھے بہت اچھی لگتی ہے پر ایک بہن کی طرح یہ لوگ جھوٹے ہیں بریل کے کہنے پر روہان نے اسے مزید بولنے سے روکا،
میں جانتا ہوں تمہارا ان سب میں کوئی قصور نہیں اور میں تمہارا شکر گزار ہوں جو تم نے ہمارے لیے کیا روہان نے اسے بول کر ایک سخت نظر ان دونوں پر ڈھالی اور باہر آگیا،
گاڑی میں بھی حیا بلکل چپ تھی روہان نے ان سب کو اریسٹ کروا دیا تھا اس نے ایک نظر اپنی لٹل گرل کو دیکھا نا ہی وہ وہاں جاتا نا یہ سب ہوتا،
گھر کے اندر آکر روہان نے اسے بیڈ پر بیٹھایا اس کا اسکاف کھولا لٹل گرل یہاں دیکھوں روہان کی آواز پر حیا نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا،
یہاں سب بہت برے ہیں مجھے بھیا کے پاس لے کر چلو حیا نے نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اسے یہاں نہیں رہنا تھا اپنے بھیا کے پاس جانا تھا،
روہان نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا جو فیصلہ وہ کبھی نہیں کر سکا تھا وہ آج ایک پل میں کر لیا تھا وہ پاکستان جائے گا وہی رہے گا اب اس کی حیا کو فیملی کی ضرورت ہے وہ اسے پاکستان لے کر جائے گا،
سوئٹ ہارٹ ہم کل صبح ہی صبح پہلی فلائٹ سے پاکستان جا رہے ہیں روہان نے آہستہ آواز میں کہا حیا نے ایک دم اسے دیکھا سچ میں اس کی آنکھوں میں چمک آگئی،
جی سچ میں اپنی اور میری پیکنگ کر لو ہم پاکستان جائے گے جہاں آپ کی فیملی ہے روہان نے مسکرا کر اس کے ماتھے پر پیار کیا ہاں میں پیکنگ کر لیتی ہوں پھر جلدی سے،
حیا نے اپنے آنسوں صاف کیے اور اپنے سوٹ رکھنے لگی روہان نے اسے پیار سے دیکھا وہ بہت جلدی سمبھل گئی تھی اس نے شکر ادا کیا حیا پہلے کی طرح ڈری نہیں تھی،
حیا نے سب پیکنگ کی پھر روہان کے پاس آئی ہم کتنے دن کے لیے جائیں گیں حیا نے روہان کے چہرے کی طرف دیکھا،
ہمیشہ کے لیے روہان نے آنکھیں بند کیے آرام سے جواب دیا،آپ مزاق کر رہے ہیں نا حیا نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا کے کیا واقعی وہ مزاق کر رہا ہے یا نہیں،
سوئٹ ہارٹ میں مزاق نہیں کر رہا روہان نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے پاس کیا حیا کی پلکیں ایک دم جھک گئی،
میری لٹل گرل کی خوشی پاکستان میں ہے اس لیے اب ہم وہاں رہیں گے اس کے کان کے قریب روہان نے گھمبیر آواز میں کہتے ہوئے اسے اپنے اور پاس کر لیا،
پہلے ہم کچھ دن کے لیے جا رہے تھے پر اب ہمشہ کے لیے روہان نے اس کے گال سے اپنا گال چھوا حیا کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا،
تم صرف میری ہو سوئٹ ہارٹ بس روہان نے اسے اپنے حسار میں لیا حیا نے اپنی آنکھیں بند کر کے خود کے اپنے روہان کے حوالے کر دیا
*************
صبح کا سورج طلوع ہوچکا تھا آج کا دن ان سب کی زندگی کے لیے ایک مشکل ترین دن ثابت ہونے والا تھا،
بلال چل گھر چلنا ہے حیدر نے اس کے آفس میں آتے ہوئے کہا ابھی تو حیا کو آنے میں کچھ دیر ہے شام تک آئے گی وہ ابھی سے گھر کیوں بلال نے اپنے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں ٹائم دیکھا،
بس مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا میں مشعل کو ایک بار اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں حیدر نے بلال کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں بے چینی تھی،
کیا ہوا حیدر سب ٹھیک ہے نہ کل ہی تو تو نے بات کی ہے مشعل سے بلال نے اپنا سامان جیب میں رکھتے ہوئے کہا،
سب ٹھیک ہے بس مجھے اسے ایک بار دیکھنا ہے تو میرے ساتھ چل اور سر سے میں نے بات کرلی ہے ہم رات تک واپس آجائیں گے،
بلال نے ہاں میں سر ہلایا اور حیدر کے ساتھ باہر آگیا حیدر نے ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی بلال اس کے پاس والی سیٹ پر بیٹھ گیا گاڑی اسٹارٹ ہو چکی تھی بلال نے ایک نظرحیدر پر ڈھالی وہ بے چینی سے گاڑی چلا رہا تھا،
تو فون کر لیتا مشعل کو اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بلال نے اسے مشورہ دیا،
میں نے فون کیا تھا اس نے اٹین نہیں کیا ایک بار نہیں تین سے چار بار فون کیا کال جا دہی ہے لیکن وہ فون نہیں اٹھا رہی میں نے برہان بھائی کو کال کی وہ آفس میں بلکل ٹھیک ہے پر مجھے مشعل کا خیال آرہا ہے بار بار حیدر دیکھ سامنے رہا تھا پر بول بلال کو رہا تھا،
اچھا حیا سے کوئی بات ہوئی بلال نے کچھ دیر خاموشی کے بعد ایک اور سوال کیا،ہاں صبح روہان کا فون آیا تھا اور گڑیا سے بھی بات ہوئی ہے ان کی صبح والی فلائٹ مس ہوگئی اس لیے وہ لوگ شام تک آئے گے میں نے بتایا تھا نہ تجھے حیدر نے بولتے ہوئے ایک نظر اسے دیکھا،
ہاں تو نے یہ بتایا تھا وہ لوگ شام میں آئیں گے وہ بھی جب بتایا جب میں صبح ہی صبح گھر جا رہا تھا بلال نے حیدر کو جواب دیتے ہوئے اپنے جیب سے فون نکالا،
ہاں تو تجھ سے زیادہ مجھے گڑیا سے ملنے کی جلدی ہے اس کا مطلب یہ نہیں سب کام چھوڑ کے صبح ہی صبح نکل جاؤ حیدر نے اسے گھورتے ہوئے کہا بلال سے باتوں کے دوران وہ مشعل کو کچھ دیر کے لیے بھول چکا تھا،
اب ایسا بھی نہیں ہے جتنی وہ تیری بہن ہے اس سے زیادہ وہ میری بہن ہے میری بھی گڑیا ہے اتنے دن سے دیکھا نہیں اسے پتا نہیں تم دونوں بھائیوں کو کون سا دورا پڑا تھا جو ہماری بچی کو اتنی دور بھیج دیا، بلال نے منہ بنا کے اسے دیکھا،
اس کے اچھے مستقبل کے لیے بھیجا تھا اور روہان ایک اچھا سلجھا ہوا لڑکا ہے اور میری گڑیا سے بات ہوتی رہتی ہے وہ اس کے ساتھ بہت خوش ہے اور میں اپنی گڑیا کو خوش دیکھ کر مطمعین ہوں حیدر نے سکون سے جوب دیا،
ہاں اچھا ہے لڑکا اس میں کوئی شک نہیں بلال بولتا ہوا بار بار فون کان سے لگا رہا تھا کے سامنے سے کسی نے کال اٹین کر لی،
جی پاپا السلام علیکم بلال نے ایک نظر حیدر کو دیکھتے ہوئے گاڑی کی پشت کو ٹیک لگالیا،
کیا آپ لوگ کہاں جا رہے ہو بلال نے ماتھے پر بل ڈھالے کہا اچھا پاپا پر دعا اور سارا اکیلی ہیں بلال نے کچھ دیر خاموشی کے بعد پھر کہا،
اچھا پاپا میں حیدر کے ساتھ آرہا ہوں ایک گھنٹے میں پہنچ جاؤ گا آپ دھیان سے جانا ٹھیک ہے اللّٰہ حافظ،بلال نے فون رکھ کر حیدر کو دیکھا،
کیا بول رہے ہیں چچا حیدر نے بلال کو ایک نظر دیکھ کے واپس سامنے کی طرف دیکھا،
یار وہ ماما کے رشتےداروں میں کسی کی ڈیتھ ہو گئی تو مما اور پاپا وہاں جا رہے ہیں بس وہ یہی بتا رہے تھے،
اچھا پھر وہ دونوں اکیلی ہو جائے گی ایسا کرتا ہوں میں تجھے تیرے گھر پر چھوڑ کے پھوپھو کی طرف چلا جاؤں گا حیدر نے اسے آرام سے حل بتایا،
ہاں تو ایسے کر مجھے گھر چھوڑ دینا اور کوئی پریشانی ہو تو مجھے ایک کال کر لینا ٹھیک ہے بلال کے کہنے پر حیدر نے ہاں میں سر ہلایا۔
جاری ہے
