Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حیدر کے کہنے پرحیا نےنہ سمجھی سےحیدر کو دیکھا، انہوں نےآپ کا بس ہاتھ پکڑا تھا وہ بھی اس لیے کے وہ آپ کو مجھ تک لاسکے آپ کے اسطرح بولنے پر وہ ناراض ہوکے چلےگئے، پر بھیا ہاتھ پکڑنا بھی تو چھونا ہوا نا حیا اب کافی حد تک سمبھل چکی تھی،
نہیں گڑیا ان کی نیت صاف تھی انہوں نے آپ کی کتنی ہلپ کی پہلے اس عورت سے بچایا پھر مجھ تک لے کے آئے اور آپ نے انہیں ہرٹ کر دیا حیدر نے پیار سے سمجھایا جو حیا کو سمجھ بھی آگیا،
آچھا بھیا وہ جب ملے گے میں سوری کرلوگی حیا نے نیچے نظرے جھکا کے معصومیت سے کہا حیدر کو اس وقت اپنی گڑیا پر بے حد پیار آیا،
ٹررن ٹررن___حیدر کچھ کہتا اس سے پہلے اس کا فون بجنے لگا اچھا گڑیا آپ آرام کروں ایک ضروری کال ہے حیا کو بیڈ پر لٹا کے حیدر نے باہر آکے کال اُٹھائی،
کیا ہوا احمد__کیا اتنی جلدی بھاگ بھی گیا تم وہاں گئے تھے حیدر نے احمد سے پوچھا جس کے جواب میں اس نے کچھ کہا یہ تو میری امید سے بھی ذیادہ تیز تھا اب تم اپنا اصلی کام اسٹارٹ کرو حیدر نے بول کے فون رکھ دیا صبح سے رات ہوگئی تھی اسے ان سب کاموں میں اور وہ اس جگہ نہیں جا سکا تھا جہاں انہوں نے شکیل۔ کو قید کیا تھا اب کل دن میں حیا کی رخستی تھی،
حیدر بھی بہت تھک چکا تھا آرام کی نیت سے وہ اپنے روم میں آگیا فریش ہوکے وہ بیڈ پر سونے لیٹ گیا اب اسے جو کرنا تھا کل رات حیا کی رخستی کے بعد کرنا تھا،
**************
ہاں اندر آجاوُ مجھے لگا یہ حیدر چلا جائے گا اپنے کام پر لیکن یہ یہی روک گیا پر کوئی بات نہیں اب وہ اپنے روم میں گیا ،
حیا کے روم کی کھڑکی کا لاک میں نے کھول دیا تھا وہ اپنے روم میں ہے اسے بے ہوش کرکے لے جاوُ حنا نے ہلکی آواز میں اپنے روم میں آکے فون پر سب انور کو کہا،
پکی بات ہے نہ اس کے دونوں ہٹلر بھائی سو رہے ہیں انور نے ایک بار پھر پوچھا جو بھی تھا وہ حیا کے دونوں بھایوں سے ڈرتا تھا،
ارے ہاں ہاں ابھی میں دیکھ کے آئی حیدر اپنے روم میں چلا گیا کل رات بھی وہ کہی باہر تھا اس لیے وہ اب تک سوچکا ہوگا اور برہان تو میرے سامنے سو رہے حنا نے آہستہ آواز میں برہان کو دیکھتے ہوئے کہا جو گھری نیند میں تھا،
اچھا ٹھیک ہے میں آتا ہو انور نے اپنے چہرے سے پسینا صاف کرتے ہوئے کہا، صرف آنا نہیں ہے اس مصیبت کو لے کر جانا ہے کل جب رخستی کے دن یہ کہی نہیں ملے گی تو لڑکی بھاگ گئی بھاگ گئی کی آوازے مجھے سکون دے گی اور اس کے بھائی جو اس پر جان دیتے انہیں بھی سبق مل جائے گا حنا نے نفرت سے کہا پر اپنی آواز کر حد درجہ آہستہ رکھا،
ہاں ہاں میری بہن تمہارا سب بدلہ میں لوگا تم بس اب سب مجھ پر چھوڑ دو،ہاں دیکھوں میرا فون ہو سکتا ہے بند ہوجائے اس لیے پریشان نہیں ہونا بس اپنا کام کر کے اسے لے جانا باقی صبح میں سب دیکھ لوگی،حنا نے بول کے فون رکھ دیا اور آرام سے بیڈ پر آکے لیٹ گئی برہان اب بھی گھری نیند میں تھا،
*********
آج عبدالله صاحب کے گھر میں خوب رونک تھی صبح ہی صبح سب پہنچ گئے تھے رخستی کا فنشن چھوٹا تھا اس لیے باہر لان میں ہی تھا دس بجے کا وقت تھا برہان نے حیا کو جگانے سے منا کردیا تھا تاکہ رخستی تک وہ آرام کرلے حنا بھی آگے بڑھ بڑھ کے ہر کام کر رہی اسے تو بس آگے کیا ہوگا سوچ سوچ کر ہی خوشی ہورہی تھی کیوکہ صبح اس نے حیا کا روم دیکھا جو خالی تھا اسے حنا نے چابی سے لاک کردیا تاکہ سب کو یہ لگے حیا اندر سو رہی اب بس اسے اس وقت کا انتظار تھا جب حیا کی برات واپس لوٹ جاتی یہ بول کے تمہاری لڑکی تو بھگوڑی ہے،
حنا یار جب سے بول رہا ہوں مجھے ایک کپ چائے بنا دو تمہارا دھیان کہا ہے حنا جو آگے کا سوچنے میں اتنی مگن تھی کے اسے برہان کی آواز ہی نہیں آئی، ہاں کیا کہا آپ نے،
یار چائے لادو مجھے ایک کپ اور حیدر کہا ہے، ہاں حیدر بھائی تو اب تک نہیں اٹھے اور چائے میں ابھی لائی خوشی سے بولتے ہوئے حنا کچن میں چلی گئی برہان نے حیرت سے اسے دیکھا اسے آج کیا ہوا ہے اتنی خوش ہے برہان نے دل میں سوچا پھر سر جھٹک کے کیٹرن والے سے فون پر بات کرنے لگا،
**************
اُٹھ کچھ کام بھی کرلے سست آدمی احمد نے بلال کو دسوی بار اُٹھاتے ہوئے کہا،تو جاکے کرلے کام مجھے سونے دے بلال نے ایک کوشن اسے پھینک کے مارا اور واپس سو گیا،
واہ واہ ایسے تو حیدر بولے میری گڑیا اور بلال بولے میری گڑیا اور گڑیا کے شادی میں دونوں گدھے سو رہے اور میں صبح سے برہان بھائی کے ساتھ کاموں میں لگا ہوں اٹھ چل احمد نے بھی وہی کشن اُٹھا کے اسے پھینک کے مارا،
ہاں تو جا اسے اُٹھا میرا سر کھانے پہنچ گیا صبح ہی صبح چل دفا ہو بلال نے پھر سے اسے کشن مارا ایک تو رات کی ڈیوٹی کرکے وہ صبح پانچ بجے گھر آیا اوپر سے یہ کمینہ پہنچ گیا اسے جگانے،
پہلے تو اٹھ جا اسے بھی میں اُٹھا دوگا احمد نے آرام سے وہ کشن کینچ کرتے ہوئے کہا اور بیڈ پر بیٹھ گیا،
چل چل سچ بول سچ کے اسے اٹھانے کی ہمت نہیں ہے تجھ میں ڈرپوک آدمی بلال نے بیٹھتے ہوئے کہا اب اسے کہا نیند آنی تھی،میں کیوں ڈرو گا یار ہے اپنا احمد نے دل پر ہاتھ رکھ کے کہا،
اچھا نہیں ڈرتا جا اسے جاکے اٹھا چل جب تک میں فریش ہوتا ہوں اسے اٹھا کے آ چل شاباش بلال نے بولتے کے ساتھ ہی اسے ہاتھ پکڑ کے کھڑا کر دیا،
ہاں تو اٹھ جائے گا وہ خود ضروری تونہیں اسے اُٹھانا پڑے احمد نے واپس بیٹھتے ہوئے کہا اس کا دماغ خراب تھا جو شیر کہ منہ میں ہاتھ دیتا جب کے بلال ہنستہ ہوا واش روم میں چلا گیا،کمینہ کہی کا احمد نے منہ ہی منہ میں اسے دیکھتے ہوئے کہا،
****************
گیارا بج گئے جاوُ حیا کو اٹھا دو اب تک نہیں اٹھی وہ برہان نے مشعل سے کہا جو کچن میں پتا نہیں کیا بنانے میں مگن تھی،جی اچھا برہان بھائی مشعل بول کے حیا کے روم کی طرف بڑھ گئی،
حنا لاونچ میں انوشے کے بال بناتے ہوئے یہ سب دیکھ رہی تھی اس نے مشعل کوجاتے ہوئے دیکھا اور دل ہی دل میں خوش ہوگئی،
حیا دروازا نہیں کھول رہی مشعل نے پریشانی سے لاونچ میں آکے کہا جہاں آمنہ صائمہ حنا سب مل کے حیا کے سوٹ وغیرہ پیک کر رہی تھی،
کیوں نہیں کھول رہی دروازا برہان نے لاونچ میں آتے ہوئے مشعل کی بات سن لی تینوں لیڈیز بھی کھڑی ہوگئی،پتا نہیں برہان بھائی میں نے بہت بجایا پر اندر سے آواز نہیں آرہی جب کے روم بھی لوک ہے مشعل کی بات سن کے برہان اور باقی سب کے چہرے پر پریشانی آگئی چلو دیکھتے ہیں،
گڑیا دروازا کھولو برہان نے بھی کئی بار آواز دی شور سن کے احمد بلال جو برابر والے روم میں تھے وہ بھی آگئے کیا ہوا بھائی بلال نے برہان کی طرف دیکھا یار گڑیا دروازا نہیں کھول رہی جاوُ حنا جلدی سے چابی لاوُ حیا کے روم کی بلال کو بتاتے ہوئے برہان نے حنا کو بھی آرڈر دیا ،
حنا فوراً سر ہلاتی ہوئی چابی لینے بھاگی،تھوڑی دیر میں وہ چابی لے کے حاظر ہوچکی تھی کیوکہ وہ اسی کے پاس تھی اس نے جلدی سے چابی برہان کو دی بلال اور احمد بھی پریشان ہوگئے تھے برہان نے دروازا کھولا جلدی سے اندر آیا اس کے پیچھے سب باری باری اندر آئے پر خالی کمرا ان سب کا منہ چڑا رہا تھا، کھڑکی پوری کھولی ہوئی تھی،
گڑیا کہا گئی برہان نے پورا روم واشروم سب اچھے سے دیکھا اب اس نے حنا کی طرف دیکھ کے سوال کیا جس سے اس کے چہرے پر ہوایا اُڑنے لگی،
مجھے___مجھے کیا پتا میں تو خود ابھی آئی ہوں روم میں حنا نے گھبراتے ہوئے کہا برہان اس کی بات سنے بغیر باہر آگیا سب روم دیکھوں حیا ہوسکتا کسی اور روم میں ہو برہان نے پریشانی سے کہا حیا! !!حیا! !!!!!،برہان اسے آوازے دینے لگا
وہ کہی کھڑکی سے تو نہیں حنا نے بس اتنا ہی کہا کے برہان نے اسے غصے سے گھورا اس کے الفاظ منہ میں ہی رہے گئے آگے ایک لفظ بھی نہیں کہنا برہان نے غصے سے کہا،
بڑے بھیا!!!!!! برہان کے پیچھے سے حیا کی آواز آئی جو مندی مندی آنکھوں سے سب کو دیکھ رہی تھی شاید وہ ابھی ابھی سو کے اٹھی تھی سب نے ایک ساتھ پیچھے موڑ کے دیکھا،
گڑیا برہان نے اسے جلدی سے سینے سے لگا لیا حیا کو کھونے کے خیال سے ہی اس کی جان نکل گئی تھی،کیا ہوا بھیا حیا نے برہان کی طرف پھر سب کی طرف دیکھا سب کے آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر مسکراہٹ تھی،
گڑیا آپ روم میں نہیں تھی کہا گئی تھی برہان سے الگ ہوتے ہی بلال نے پیار سے اس سے پوچھا بلال بھیا میں تو سو رہی تھی ابھی بڑے بھیا کی آواز سے آنکھ کھولی،
پر روم میں تو نہیں تھی تم حنا جو حیا کو سہی سلامت دیکھ کر اب تک سدمے میں تھی ایک دم طنز کرتے ہوئے اس نے حیا کو دیکھا،
وہ بھابھی رات مجھے ڈر لگ رہا تو میں حیدر بھیا کے روم میں جاکے سوگی تھی حیا نے رات والا منظر سوچا،
(کیا ہوا گڑیا ابھی تو میں آپ کو روم میں چھوڑ کے آیا آپ کو کچھ کام ہے۔۔۔۔۔ نہیں_ _بھیا مجھے ڈر لگ رہا میں یہاں سو جاوُ پلز حیا نے ڈرتے ہوئے پوچھا، ہاں گڑیا کیوں نہیں آپ سو جاوُ بیڈ پر میں سوفے پر سو جاوُ گا پھر تو نہیں لگے گا نا ڈر حیدر نے پیار سے حیا کو دیکھا،
نہیں آپ ہوگے تو ڈر نہیں لگے گا، اچھا آپ سو جاوُ حیدر نے اسے بیڈ پر لٹایا اور لائٹ بھی اون رکھی وہ جانتا تھا حیا کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے وہ خود سوفے پر سو گیا دو راتوں کی نیند تھی اس لیے لیٹتے ہی اس کی آنکھ لگ گئی،)
اچھا گڑیا پر آپ کا روم اندر سے لوک تھا نا تو ہم ڈر گئے پر ہو سکتا ہے وہ غلطی سے ہوگیا ہو برہان نے پیار سے حیا کا ماتھا چوما،حیدر اب تک سو رہا ہے برہان نے حیا سے پوچھا،
ہاں فجر میں نماز کے بعد وہ واپس سو گئے اور میں بھی اچھا چلو تم فریش ہوجاوُ پالر والی آتی ہوگی تمہیں تیار کرنے مشعل نے اسے روم میں لے جاتے ہوئے کہا،تم ایسا کرو حیدر کو اٹھا دو برہان نے بلال کی طرف دیکھا،اب ہسنے کی باری احمد کی تھی،
تمہارے دانت کیوں نکل رہے ہیں جاوُ دونوں مل کے اٹھاو حیدر کو برہان نے احمد کو گھورا ،ہاہاہا اب بلال کو تو ہنستے ہنستے کھانسی ہوگئی تھی، احمد نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا،
*****************
تم سے ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوا تم کسی کام کے نہیں ہو حنا نے روم میں تیار ہوتے ہوئے انور کو کال ملاکے جھاڑا،
میری کیا غلطی ہے میں روم میں گیا تو روم کھالی تھا میں نے باہر آکے اتنی مشکل سے کال کی تو تمہارا نمبر بند جارہا تھا پھر میں سو گیا اب اٹھا ہو تمہاری کال سے انور نے سر کجاتے ہوئے کہا،
تم ایسے ہی رہوں پوری ذندگی حنا نے غصے میں فون رکھ دیا،
حنا چلو جلدی سے برات آگئی برہان نے دروازے سے اندر جھانکتے ہوئے کہا،جی جی آئی حنا نے اپنا ڈوپٹہ لیا اور باہر کو چلی
***********
یس ڈیڈ ڈونٹ وری میں سب سمبھال لوں گا ہاہاہا ڈیڈ یہ آرمی اپنا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جسٹ کول سعد فون پر راجا صاحب سے بات کرتا ہوا اوپر سیڑیا چڑھ رہا تھا،
چھوٹے صاحب !!!!!پیچھے سے شکیل نے آواز دی سعد نے ناگواری سے اسے دیکھا اوکے ڈیڈ میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں سعد فون رکھ کے واپس نیچے آیا کیا مصیبت آگئی ہے جو مجھے پیچھے سے آواز دی دیکھ نہیں رہا میں ڈیڈ سے بات کر رہا تھا سعد نے غصے سے اسے دیکھا،
سوری چھوٹے صاحب وہ اصل میں مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے اس لیے شکیل نے نیچے نظرے کرتے ہوئے کہا،
بکو کیا بات کرنی ہے سعد بولتے ہوئے علیشان سے سوفے پر بیٹھ گیا،وہ چھوٹے صاحب میں ابھی گودام گیا تھا بچوں کو دیکھنے تین دن سے انہیں پانی کے سوا کچھ نہیں دیا گیا ان سب کی حالت بہت خراب ہے،
تو میں کیا کرو میں ان کا باپ ہوں جو انہیں کھانا کھیلاوُ سعد نے ناگواری سے شکیل کو بیچ میں ٹوکا،نہیں چھوٹے صاحب اصل میں رات میں ہمیں نکلنا ہے ان بچوں کو لے کے تاکہ صبح تک ہم انہیں شیخ کو دے سکے پر ان سب میں سفر کرنے کی ہمت نہیں ہے کسی کسی کی تو سانس بھی مدہم چل رہی ہے شکیل نے تفصیل سے سب بتایا اور ہاتھ باندھ کے کھڑا ہوگیا،
اوکے جاوُ انہیں کھانا اور پانی دو پر بس اتنا کے یہ سب ذندہ رہے اتنا مت دینا کہ انہیں لے جانے میں پریشانی ہو سعد نے شکیل کی طرف دیکھا وہ ہاں میں سر ہلا کے جانے لگا کے سعد نے اسے روکا،
وہ تین دن پہلے ایک بچی آئی تھی اٹھ سال کی یاد تو ہوگا سعد نے پُر سوچ انداز میں شکیل کو دیکھا جی سر اس کا نام شاید سارا ہے شکیل نے سوچنے کے بعد جواب دیا،
جو بھی نام ہو مجھے اس کے نام کا کچھ نہیں کرنا اسے اچھے سے کھیلانا پلانا سمجھ گئے نا،جی جی سمجھ گیا چھوٹے صاحب پر رات کو تو ہمیں نکنا ہے،
ہاں چلے جائے گے بس نکلنے سے ایک گھنٹے پہلے اسے لے آنا تاکہ میں اپنی سستی اتار لو پھر سفر بھی تو کرنا سعد نے آنکھ مارتے ہوئے خباست سے کہا اب تم جاوُ سعد کے کہنے پر شکیل وہاں سے چلا گیا،
****************
روہان اسٹیج پر بیٹھ چکا تھا اس نے وائٹ کلر کی شیروانی پہنی ہوئی تھی اس پر مہرون کلر کا سافا باندھے اپنی بلو آنکھوں سے چاروں طرف دیکھ رہا اس کے ہر ہر انداز میں بیزاری تھی پر وہ کسی بھی لڑکی کو چارو شانے چت کر سکتا تھا،
ہائےے اتنے اچھے نصیب اس منحوس کے اتنا ہینڈسم دولھا اوپر سے لندن جیسا سسرال ہائے میری بد دعا ہے حیا تم کبھی خوش نا رہو جیسے آج تک میں دوکھی ہوں ایسے ہی تم بھی دوکھی رہوں حنا نے سٹیج پر بیٹھے روہان کو دیکھتے ہوئے سوچا اس وقت اس کی آنکھوں میں حسد ہی حسد تھی،
مشعل آپ نے بلال کو دیکھا مشعل جو پھولوں کی پلیٹ لیے اندر جارہی تھی احمد کی آواز پر رک کے اس نے پلٹ کر دیکھا بلو اور وائٹ کلر کے لہنگے میں سر پر ڈوپٹہ لیے ہلکا سا میکپ کیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی،ہاں احمد بھائی وہ باہر کھانا کھارہے ہیں مشعل بول کے چلی گئی پر کسی کی نظروں نے اس کا پیچھا دور تک کیا،
کچن میں پھول رکھ کے وہ باہر آ رہی کے سامنے حیدر کو کھڑے دیکھ کے اس کے قدم وہی رک گئے حیدر کی نظروں میں کچھ ایسا ضرور تھا کے مشعل کی نظرے خود با خود جھک گئی،
حیدر قدم قدم چلتا ہوا اس کے سامنے آیا،باہر احمد سے کیا بات کر رہی تھی حیدر کا چہرا بلکل سنجیدا تھا،مشعل کوئی جواب دیے بغیر ایک طرف سے جانے لگی مال میں حیا کی وجہ سے حیدر نے جو سب کےسامنے اس کی انسلٹ کی تھی وہ کچھ نہیں بھولی تھی،حیدر نے اس کا ہاتھ پکڑا،
پہلے میری بات کا جواب دو حیدر کی اس کی طرف پیٹھ تھی اس لیے وہ اس کے چہرے کے تاثر نہیں دیکھ سکی،میرا ہاتھ چھو__چھوڑو اور میں کسی سے بھی با__بات کرو میری مرضی مشعل نے ڈرتے ڈرتے بڑی مشکل سے کہا ویسے تو وہ بہت بولنے والی لڑکی تھی پر حیدر کے سامنے اس کی بولتی بند ہوجاتی تھی،
جواب دو کیا بات کر رہی تھی حیدر نے اس کی طرف دیکھتے یوئے ہاتھ پر پکڑ اور بھی مضبوط کی،مشعل کی آنکھوں میں فوراً پانی آگیا جیسے دیکھ کے حیدر نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا،
آپ__آپ کون ہوتے مجھ سے سوال کرنے__کرنے والے مجھ سے دور رہا__رہا کرے مشعل روتے ہوئے کچن سے بھاگ گئی پر حیدر کے لیے سوچ کے دروازے کھول گئی،
رائٹ میں کون ہوتا ہوں وہ تمہیں ابھی پتا لگ جائے گا حیدر بھی غصے سے کچن سے چلا گیا،
****************
اور کتنا کھائے گا کچھ مہمانوں کے لیے بھی چھوڑ دے احمد نے پیچھے سے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی جو بلال کو ایک آنکھ نا بھائی،
میرا پیٹ میرا گھر جتنا دل کرے گا کھاوُ گا تو جاکے اپنا کام کر فارغ انسان بلال نے غصے سے جواب دیتے ہوئے واپس بریانی کھانے لگا جو وہ آدھے گھنٹے سے کھا رہا تھا،
میں فارغ احمد نے حیرت سے اسے دیکھا احمد کو تو فارغ لفظ سے ہی صدما لگ گیا تھا ہاں ہاں تو اب چل جا یہاں سے پہلے ہی اتنی بھوک لگ رہی ہے بلال نے ایک چمچ بریانی کا بھر کر منہ میں رکھتے ہوئے کہا جیسے دیکھ کے احمد کے منہ میں پانی آگیا کیوکہ بھوک تو اسے بھی لگی تھی وہ صبح جب سے آیا ڈیکوریشن اور بہت سے کاموں میں لگا ہوا تھا،
احمد نے ٹیبل پر رکھی بریانی کی پلیٹ اٹھائی اور یہ جا وہ جا بلال جو کھانے میں خوب مگن تھا منہ سے واپس چمچ جب پلیٹ کی جگا ٹیبل پر لگی تو اس نے دیکھا پلیٹ غائب ہے احمد!!!!
بلال غصے سے چیخھا اس وقت اس کا حال ایسا تھا مانوں احمد بریانی کی جگہ اس کی محبوبہ کو لے گیا ہو،سب مہمان موڑ موڑ کے اسے دیکھ رہے جو اب احمد کے پیچھے دوڑنا اسٹارٹ کر چکا تھا،
بلال میری بات سن کچھ بتانا ہے تجھے حیدر نے بلال کو اپنی طرف آتے دیکھ رستے میں روکا آج تو بیچ میں نہیں آئے گا حیدر ہٹ جا وہ وہ اسے لے گیا بلال کی آواز میں اداسی تھی،
حیدر نے حیرت سے اسے دیکھا کون لے گیا کس کو لے گیا حیدر نے اپنے پیچھے دیکھا جہاں احمد ٹیبل پر بیٹھے دونوں ہاتھوں سے بریانی کھارہا تھا جیسے پہلی بار دیکھی ہو،
وہ۔وہ دیکھ میری بریانی کھارہا ہے ہٹ جا ورنہ ختم ہوجائے گی دیکھ کیسے کھارہا ،بلال تو اس کو چھوڑ ایک ضروری بات سن،
کچھ ضروری۔نہیں ہوتا بریانی بریانی ہوتی ہے بلال حیدر کے ہاتھ کے نیچے سے نکل کر جا چکا تھا حیدر کا دل کیا اپنا ہی سر پیٹ لے
********************
برہان اور علی صاحب ایک ساتھ اسٹیج پر آئے علی صاحب نے ہاتھ میں مائک لیے سب مہمانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا،
لیڈیز انڈ جینٹل مین آپ سب کے لیے ایک اچھی نیوز ہے،سب مہمان اپنا اپنا کام چھوڑ کے علی صاحب کی بات سننے لگے جب کے دو ایسے بندے تھے جو اب تک بریانی پر ہی لڑ رہے تھے،
جی تو اچھی خبر یہ ہے کے میری بیٹی مشعل اور حیدر کی منگنی بچپن میں ہی ہوگئی تھی عبدالله بھائی کی حیاتی میں آج ہم سب نے مل کے یہ تے کیا ہے کے حیا کی رخستی کے ساتھ حیدر کا نکاح بھی کر دیا جائے، علی صاحب کی بات پر پورا لان تالیوں سے گونج گیا،
احمد کا کولڈ ڈرنک پیتا ہاتھ ہوا میں رک گیا بلال کی بریانی اس کے ہلک میں پھس گئی اس نے جلدی سے کولڈ ڈرنک چھین کر پی پھر اسے کچھ سکون ملا،
پر احمد اپنی کولڈ ڈرنک کو نہیں کہی اور دیکھ رہا تھا بلال نے بھی اس کی نظروں کے تاقب میں دیکھا جہاں حیدر سب سے مبارک بعد لے رہا تھا،
************
نہیں مما نہیں میں یہ نکاح نہیں کروں گی مشعل نے دسوی بار یہی بات کہی،
کیوں نہیں کرنا بیٹا کیا برائی ہے حیدر میں وہ اپنے ہی گھر کا بچا ہے آرمی میں ہے ہنڈسم ہے پھر انکار کی کوئی وجہ تو ہوگی آمنہ بیگم نے پیار سے سمجایا،
آپ کو نہیں پتا مما وہ بہت غصہ کرتے ہیں ہر وقت بس مجھے ہی ڈانٹتے ہیں میں حیدر بھائی سے کبھی بھی شادی نہیں کروں گی مشعل نے روتے ہوئے کہا،
اچھی بھلی وہ حیا کی شادی اٹین کرنے آئی تھی اور اس کے سر پر پہلے منگنی کا بم پھوٹا پھر نکاح کا اسے تو یہ بھی نہیں پتا تھا کے آج سے اٹھارا سال پہلے ہی مشعل کے پیدا ہونے کے ایک سال بعد ہی عبدالله صاحب نے مشعل کو اپنے حیدر کے لیے بک کر لیا تھا حیدر اس وقت دس سال کا تھا اس لیے اسے یہ بات اچھے سے یاد تھی پر مشعل پر آج ہی ایک کے بعد ایک دو بم ایک ساتھ گرے،
دیکھوں مشعل میرا دماغ خراب نہیں کروں تمہاری منگنی بچپن سے حیدر کے ساتھ تے تھی تو شادی بھی اسی سے ہوگی بہتر ہے تم یہ رونا دھونا چھوڑ کے ایک اچھی بیٹی کی طرح مان جاوُ مشعل کے بار بار نفی میں سر ہلانے پر آمنہ بیگم کو غصہ آگیا،
ٹھیک ہے آپ کا جہاں دل کرے میرا نکاح کردے پر جب تک میری پڑھائی پوری نہیں ہوگی آپ میری شادی کی بات بھی نہیں کرے گی مشعل نے سُرخ آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا،
ہاں ابھی بس نکاح کر رہے ہیں کیوں کےسب مہمان آئے ہوئے پھر حیدر بھی یہی ہے اچھا ہے سب کو علم ہوجائے ورنہ جب سے سونیا کی شادی کی ہے میں نے تمہارے رشتے کی لائن لگی ہوئی ہے کب تک لوگوں کو منا کروں میں آمنہ بیگم نے مشعل کی بات ماننے میں ہی عفیت جانی ان کے لیے یہی بہت تھا کے وہ نکاح کے لیے مان گئی آمنہ بیگم اسے پیار کرتی ہوئی روم سے باہر چلی گئی،
****************
حیدر لان میں کھڑا کسی مہمان سے بات کر رہا تھا جب کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا حیدر اپنے ہاتھ سے اس کا ہاتھ ہٹاتا کہ اس سے پہلے حیدر کےدونوں ہاتھ بھی پیچھے کر کے ناندھ دیے گے،
احمد اٹھا لے اس کو بلال اس کا منہ اور ہاتھ باندھ چکا تھا اور اب ہاتھ جھاڑتے ہوئے اس نے احمد کو کہا، حیدر نے آنکھوں سے اسے غصے سے گھورا کیوں کے منہ بند تھا وہ کچھ بول نہیں سکا،
احمد جو پیچھے اس کے ہاتھ پکڑ کر کھڑا تھا آگے آگیا،احمد اسے اٹھا کے اپنے کندھے پر ڈھالتا اس سے پہلے حیدر نے کندھے سے اسے دور دھکا دیا اور بلال کو ایک کک ماری،سب مہمان اپنی باتیں چھوڑ کے ان تینوں کو دیکھنے لگے،
بھول گیا ہم نے کیا وعدہ کیا تھا جیے گے ساتھ مرے گے ساتھ تو پھر تجھ میں یہ ہمت کہا سے آئی کے ہم سے پہلے تو اکیلا نکاح کرلے گا بلال نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور اپنے سوٹ کا جھاڑا پر اس بار اس نے حیدر سے تھوڑا فاصلہ رکھا، حیدر نے گردن ہلائی جیسے کہہ رہا ہوں ہاتھ کھول پھر بتاتا ہوں،
نہیں کھولے گے ہاتھ تیرے کیا ہم پاگل ہے جو تیرے ہاتھ کھولے تو بغیر ہاتھ کے اتنا مارتا ہے ہاتھ کھول کے تو بہت مارے گا احمد نے بول کے بلال کی طرف دیکھا جیسا پوچھ رہا ہو میں سہی بول رہا نہ،
ہاں ہاں کیوں کھولے ہاتھ تاکہ تو نکاح نامے پر سائن کرے ہمارے بغیر چل نکاح کر رہا پر بتاتا تو سہی ہمیں دنیا والوں سے پتا لگ رہا تیرے نکاح کا بلال نے سٹیج پر روہان کے پاس بیٹھے برہان اور علی صاحب کی طرف اشارا کیا جو اپنی باتوں میں مگن تھے،
بلال کے اشارا کرنے پر احمد نے بھی اسٹیج کی طرف دیکھا ان دونوں نے اسٹیج سے نظرے ہٹا کے واپس حیدر کو دیکھا جس کے ہاتھ اب کھولے ہوئے تھے وہ آگے ہاتھ باندھ کے انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا،
اس کے ہاتھ کس نے کھولے احمد نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے کہا اب وہ کہا بھاگے گا،بس یہی دیکھ رہا تھا،
میں نے شرم نہیں آئی تم دونوں کو میرے بچے کے ہاتھ باندھ دیے پیچھے سے صائمہ بیگم نے آگے آتے ہوئے کہا،
آپ میری ماں ہیں یا اس کی رحم نہیں آیا آپ کو ہم پر بلال بول صائمہ بیگم کو رہا پر دیکھ حیدر کو رہا تھا، حیدر نے جیسے ہی ایک قدم آگے بڑھایا بلال نے احمد کی طرف دیکھا جو غائب تھا مطلب وہ مجھ سے پہلے بھاگ گیا،بلال نے بھی فوراً دوڑ لگائی یہ منظر دیکھ کے وہاں موجود سب لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی
******************
تھوڑی ہی دیر میں مشعل خالد سے وہ مشعل حیدر بنا دی گئی تھی سب نے اسے بہت پیار دیا احمد اور بلال ناراض اب بھی تھے حیدر سے پر اس کا اظہار کر کے انہیں حیدر سے مار نہیں کھانی تھی اس لیے خوشی خوشی اس کے نکاح میں شامل ہوگئے،
نکاح کے بعد آمنہ بیگم نے اسے بہت پیار کیا آخر اس نے ان کا مان رکھا وہ ایسے اپنی لاڈلی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتی پر حیدر نے سب کو روم میں بلا کے جب ان سے مشعل کو مانگا اور آج ہی نکاح کی فرمائش کی تو وہ منا نہیں کر سکی آخر وہ ان کا لاڈلا تھا ان کے سب سے پیارے بھائی کا بیٹا،
بیٹا آپ اب اپنا چہرا ٹھیک کرو اور حیا کو اسٹیج پر لے آو شاباش آمنہ بیگم پیار سے اسے بول کے چلی گئی جو بھی تھا وہ اپنی بسٹ فرینڈ کی شادی کو مس نہیں کر سکتی تھی،اس لیے اپنے چہرے پر ہلکا سا میکپ کیا اور حیا کے روم کی طرف چل دی
*******************
روہان بیظار سا بیٹھا تھا جب سب جگہ شور اٹھ گیا اس نے بھی نظرے اٹھا کے دیکھا تو اپنی نظرے جھکانا بھول گیا،
ڈیپ مہرون کلر کے شرارے میں وہ نظرے جھکائے سامنے سے آرہی تھی اوپر سے پارلر کے میکپ نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیے تھے روہان کا سکتا جب ٹوٹا جب حیا کو اس کے پاس بیٹھا یا گیا،
یہ مجھے کیا ہوگیا کیا میں بھی عام مردو کی طرح حسن پر مرنے والوں میں سے ہوں روہان نے من ہی من خود سے سوال کیا،نہیں میں ایسا نہیں ہوں ایسا بلکل نہیں ہے اس نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دے دیا اور خود سے عہد کیا وہ اب اسے نہیں دیکھے گا،
چھوٹی موٹی رسموں میں شام ہوگئی رخستی کے لیے سب کھڑے ہوگئے حیا نے جب سے پہلی بار نظرے اٹھائی پر حیدر کو ڈھونڈنے کے لیے اس کی آنکھوں میں پانی بھرا ہوا تھا،
برہان کے گلے لگ کے حیا جو روئی برہان کو بھی رولا دیا مشعل کے بھی آنسو نہیں رک رہے تھے اپنی بسٹ فرینڈ کی جدائی میں سب سے ملتے ملتے جب حیا گیٹ پر آئی تو وہاں وہ تینوں کھڑے تھے سب سے آگے حیدر تھا پھر بلال اور احمد،
آج پہلی بار سب لوگ ان تینوں کو ایک ساتھ سرئیس دیکھ رہے تھے حیا بھاگ کے حیدر کے گلے لگ گئی،بھیا مجھے نہیں جانا آپ سےدور بھیا حیا روتے روتے نڈھال ہونے لگی تھی حیدر کے بھی آنسوں گر رہے اس نے اپنے ہونٹ بہنچے اپنا چہرا صاف کرکے اس نے حیا کو خود سے الگ کیا اور اس کا چہرا ہاتھوں میں تھاما،
گڑیا اب آپ جہاں جارہی وہی آپ کا گھر ہے نکاح کے بعد شوہر کا گھر ہی لڑکی کا گھر ہوتا اور میرا وعدہ ہے جب جب میری گڑیا مجھے آواز دے گی میں آجاوُ گا اور کل تو ہم پھر ملے گے آپ کی فلائٹ ہے نہ کل حیدر نے پیار سے اس کے آنسوں صاف کرکے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھے،
سب کو دیکھ رہا تھا حیدر خود پر کیسے کنٹرول کرتے ہوئے حیا کا حوصلہ بڑھا رہا تھا،اب رونا نہیں حیدر کے کہنے پر حیا نے فوراً بچوں کی طرح ہاں میں سر ہلایا، حیدر سے مل کے حیا بلال اور احمد سے ملی ان دونوں کی بھی آنکھیں نم تھی حیا کی جان ان سب میں تھی یہ بات روہان نوٹ کر چکا تھا،
سب سے مل کے حیا گاڑی میں بیٹھ گئی جو آنسوں حیدر کے کہنے پر اس نے روک لیے تھے گاڑی کے چلتے ہی وہ ایک بار پھر بہنا اسٹارٹ ہوگئے،
*****************
ہمیں نکلنا ہے ٹھیک چار گھنٹے بعد سعد نے فون پر شکیل سے کہا،جی چھوٹے صاحب سب بچے تیار ہیں اور راستہ بھی ہمارے آدمی صاف کروا دے گے کوئی مسُلہ نہیں ہوگا ٹھیک دو گھنٹے میں سب بچے میں یہاں لے آوں گا فون میں سے شکیل کی آواز آئی،
ہاں وہ ٹھیک ہے پر جو میں نے کہا وہ بھول مت جانا سمجھ گئے نا سعد بولتے ہوئے اپنے بیڈ پر لیٹ گیا، جی جی سر وہ بچی میں لے آوں گا آپ بے فکر رہے،
ٹھیک یے وقت کا خاص خیال رکھنا سعد نے بول کے فون رکھ دیا،چلو جب تک وہ آتا ہے تھوڑی سی نیند لے لو سعد نے موبائل سائڈ ٹیبل پر رکھا اور آنکھیں موند کے لیٹ گیا،برائی میں جب انسان اتنا ڈوب جاتا ہے تو اسے گناہ کا خوف بھی نہیں ہوتا اللّه کو وہ یاد نہیں کرتا وہ یہ بات بھول جاتا ہے جس نے زندگی دی ہے وہ واپس بھی لے سکتا ہے وہ اس بات سے بے خبر ہوتا ہے کہ یہ اس کی زندگی کی آخری نیند بھی ہوسکتی
**************
حیا کے جانے کے بعد سب مہمان بھی باری باری چلے گئے بس گھر کے ہی فرد رہے گئے سب کے چہرے اس وقت اداس تھے حیا اتنی باتیں نہیں کرتی تھی پھر بھی اس کے جانے سے گھر خالی خالی ہوگیا تھا،
حیدر نے حیا کے جاتے ہی خود کو روم میں لوک کرلیا تھا، بچارا اپنی بہن پر جان دیتا تھا اب پوری زندگی تو پاس نہیں رکھ سکتا نہ اور لندن جارہی ہے مری نہیں ہے جو کمرا بند کرکے سوگ منا رہا ہے حنا نے غصے سے حیدر کے روم کی طرف دیکھ کے سوچا،
اس وقت سب ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے تھے صائمہ بیگم اور حنا سب کو کھانا دے رہی تھی مہمانوں کی بھاگ دوڈ میں کسی نے بھی سہی سے نہیں کھایا اور اب تو ویسے بھی سب کی بھوک مرچکی تھی پر خالد حسن نے سب کو زبردستی کھانے کی ٹیبل پر بلایا تھا،
حیدر کو روم میں گئے پندرا منٹ ہوچکے تھے بلال اور احمد بھی اپنے اپنے روم میں چلے گئے تھے حنا دو بار انہیں بلانے جاچکی تھی پر وہ دونوں بھی گیٹ بند کرکے بیٹھے تھے،
کیا ہوا تم بولا کے نہیں لائی برہان نے حنا سے پوچھا جو منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے واپس آرہی تھی،نہیں کہا کھولا گیٹ بھئی اب شادی کی ہے تو گھر ہی جائے گی اپنے اس میں روم بند کرکے بیٹھنے کی کیا بات حنا اور بھی مضید بولتی پر اتنے میں حیدر کے روم کا گیٹ کھولا،
حیدر چلتا ہوا ڈائینگ ٹیبل پو آیا برہان کا منہ میں جاتا ہوا ہاتھ رک گیا جب کے سب کھانا چھوڑ کے اسے دیکھنے لگے جو بلکل تیار آرمی یونیفارم میں تھا ماتھے پر بکھرے بال سنجیدا چہرا اس کے پیچھے بلال اور احمد بھی روم سے باہر آئے جو دونوں یونیفارم میں بلکل ریڈی تھے،
تم سب کہا چلے برہان نے حیرت سے انہیں دیکھا ابھی تو حیا کو گئے آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا اور وہ سب آرام کرنے کی جگہ کہی جانے کو تیار تھے،
بھائی ہمیں کام سے جانا ہے ابھی نکلنا ہوگا حیدر نے سنجیدا چہرے کے ساتھ کہا وہاں سب موجود تھے سوائے مشعل کے جو حیدر کو آتا دیکھ فوراً روم میں چلی گئی تھی،
اچھا ٹھیک ہے خدا تم سب کی حفاظت کرے برہان نے اسے گلے لگا کے کہا
***************
میں ان کے سامنے بھی نہیں جاوُ گی بس مشعل روم میں بیٹھی سوچ ہی رہی تھی جب کوئی گیٹ کھول کےاندر آیا، مما گھر کب چلے گے مشعل نے پیچھے موڑتے ہوئے کہا پر سامنے حیدر کو دیکھ کے اس کے الفاظ منہ میں ہی رہے گئے،
میں سمجھی مما ہے حیدر قدم قدم چلتا ہوا اس کے پاس آیا مشعل نے حیدر کو پاس آتے دیکھ اپنے قدم پیچھے لیے،
اب بتاوُں احمد سے کیا بات کر رہی تھی حیدر نے ہاتھ باندھ کے مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا جو حیدر کے اس طرح دیکھنے سے کنفیوس ہورہی تھی،
وہ__وہ میں مشعل نے اپنے قدم پیچھے لیتے ہوئے کہا اتنے میں اس کا پیر کالین میں اٹکا اس نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لی،
پر جب کچھ دیر تک وہ زمیں پر نہیں گری تو اس نے سلو سلو اپنی آنکھیں کھولی،
وہ گرتی اس سے پہلے ہی حیدر اسے تھام چکا تھا وہ حیدر کے مضبود حسار میں تھی اب تو میں پوچھ سکتا نا تم سے سب سوال حیدر نے گھمبیر آواز میں کہا،
حیدر کی قربت اور معئنی خیز باتوں سے مشعل کے چہرے پر پسینے آنے لگے اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا مشعل جلدی سے کھڑی ہوئی حیدر کے سینے پر ہاتھ رکھ کے اس نے دور ہونا چاہا،
پر حیدر نے اسے اور قریب کر لیا بولو جواب دو حیدر نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی مشعل تو حیدر کے اتنی قربت پر کانپنے لگی،
آخر حیدر کو اس پر ترس آگیا مشعل کو اس نے خود سے دور کیا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما پوکٹ سے خوبصورت رنگ نکال کے اس نے مشعل کے ہاتھ میں پہنائی اور جھک کے اس کے ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھ کے اپنی پیار کی پہلی مہر مثبت کی،
اس نے نظرے اٹھا کے اسے دیکھا جو اپنی آنکھیں زور سے میچے کھڑی تھی حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اپنا خیال رکھنا میں ایک کام سے جا رہا ہوں حیدر نے اپنا ہاتھ اس کے چہرے پر رکھ کے کہا اور وہاں سے چلا گیا،
دروازا بند ہونے کی آواز پر مشعل نے اپنی آنکھیں کھولی اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے بیڈ پر بیٹھ گئی اس وقت اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا یہ مجھے کیا ہوگیا مشعل نے خود سے سوال کیا بے شک نکاح کے رشتے میں بہت طاقت ہوتی ہے.
جاری ہے
