Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حیدر نماز پڑھ کے آکے بینچ پر بیٹھا تھا کے حیا کی کال آگئی اسے سمجھ نہیں آیا اٹھائے کے نہیں پر نا اٹھاتا تو اس کی گڑیا پریشان ہوجاتی دو تین بیل بعد اس نے کال اٹھالی حیا کو اس نے مطمعین کر دیا پر زیادہ دیر اس سے بات نہیں کر سکا پتا نہیں گڑیا کو کیسے پتا لگ جاتا کے میں پریشان ہوں حیدر نے فون بند کرنے کے بعد سوچا،
آئی سی یو کے دروازے پر اس نے دیکھا جہاں اس کا دوست زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا تھا اتنے میں اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا اس نے نظر اٹھا کے دیکھا احمد کھڑا تھا کیا ہوا کس کی کال تھی کیا سوچ رہاں ہے احمد بولتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گیا،
گڑیا کی تھی وہ میرے لیے پریشان تھی حیدر نے مقطصر بات بتائی ،اچھا بہت پیار کرتی نہ گڑیا تجھ سے احمد نے اس کا دھیان بٹانے کے لیے پوچھا ہاں بہت اس کا بس نہیں چلے وہ مجھے کہیں جانے ہی نہ دے حیدر کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ آگئی اسے وہ پل یاد آیا جب اس نے آرمی جوائن کی تھی حیا نے رو رو کے اپنا ہال برا کر لیا تھا اس نے حیدر کو جب جانے دیا جب حیدر نے کہا اسے اس ملک کی حفاظت کرنی ہے اسے بہت شوق ہے آرمی جوائن کرنے کا،جب جاکے حیدر کی خوشی کی خاطر مانی حیا،
اچھا تو یہاں ہوتا تو برہان اس کا خیال رکھتا ہوگا نہ احمد اس کی فیملی کو اچھے سے جانتا تھا،برہان کے نام پر حیدر کو برہان سے ہونے والی بات یاد آئی،اس نے آئی سی یو کی طرف دیکھا کیا میں کبھی اس مقام پر آیا تو حیا جی سکے گی میرے بغیر،
جو فیصلہ اس نے کل سے اب تک نہیں لیا تھا اب کچھ منٹوں میں لےلیا تھا،مجھے روہان سے ملنا چاہیے اگر وہ حیا کے لحاظ سے ایک بہترین لائف پاٹنر بن سکتا تو مجھے گڑیا کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دینا چاہیے،میرے بعد کوئی ہو جو میری گڑیا کی اپنی جان سے ذیادہ حفاظت کرے،
ڈاکٹر کے باہر آنے سے حیدر اپنی سوچ سے باہر آیا اب کیسا ہے بلال احمد نے جلدی سے پوچھا حیدر بھی کھڑا ہو گیا،
جی اب پیشنٹ خطرے سے باہر ہے ڈاکٹر کی بات پر دونوں نے ایک ساتھ شکر ادا کیا، بس انہیں ہوش آجائے تاکہ پتا چل سکے اس چوٹ سے پیشنٹ کے دماغ پر اثر تو نہیں ہوا،کیا ہم اس سے مل سکتے ہیں حیدر نے سوال کیا،
جی ہاں انہیں روم میں شفٹ کر رہے پھر آپ مل سکتے ہو !!!!ڈاکڑر کی اجازت ملتے ہی دونوں بلال کے روم کی طرف گئے جہاں اسے شفٹ کیا گیا،
سر پر پٹی ایک آنکھ سوجی ہوئی ایک ہاتھ پر پلاسٹر لگا گال پر چوٹ کے نشان وہ کچھ گھنٹوں میں صدیوں کا بیمار لگ رہا تھا حیدر نے اسے اس حال میں دیکھ کے ہونٹ بہنچ لیے احمد کی آنکھیں بھی نم ہوگئی کہا وہ ہر وقت ہر ایک کو تنگ کرتا تھا ذندہ دل لڑکا اور اب بلکل چپ چاپ بستر پر آنکھِیں بند کیے لیٹا تھا،
اسے ہوش ارہا ہے احمد کی خوشی سے آواز آئی حیدر بلال کے پاس آکے سیدھے ہاتھ کی طرف بیٹھ کے اسے دیکھ رہا اس کے چہرے سے خوشی پھوٹ رہی تھی
بلال !!!!،احمد بھی حیدر کے پاس آکے کھڑا ہوگیا،
بلال آرام آرام سے آنکھ کھول رہا سامنے ہی حیدر بیٹھا اسے دیکھ کے مسکرا رہا تھا اور اس کے پیچھے احمد کھڑا تھا دونوں کے ہی چہرے پر بہت خوشی تھی ،
آپ کون !!!!!!!!بلال نے بڑی مشکل سے اٹک اٹک کے کہا، بلال کے اس الفاظ سے حیدر اور احمد دونوں کی مسکراہٹ ایک دم غائب ہوگئی
************
بلال کیا ہوگیا تو ہمیں نہیں پہچان رہا یہ کیسے ہوسکتا احمد کو اپنی آواز کھائی میں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی،تو اس کے پاس رک میں ڈاکٹر کو بولا کے لاتا ہوں حیدر پریشانی سے کہتا ہوا باہر گیا،
بلال میرے دوست تو مجھے نہیں پہچان رہا یار احمد نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ کے اس کا چہرا اپنی طرف کیا بلال نے اسے نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھا اتنے میں حیدر ڈاکٹر کے ساتھ اندر آیا ڈاکٹر نے بلال کو اچھے سے چیک کیا ،
بظاھر تو یہ بلکل ٹھیک لگ رہے ہیں لگتا ہے انکی یاداشت کمزور ہوگئی ہے ڈاکٹر کے کہنے کی دیر تھی احمد آپے سے باہر ہو گیا، ڈاکٹر اپنی بات کہے کر باہر چلا گیا،
نہیں یہ ہمیں نہیں بھول سکتا بول بلال تجھے میں یاد ہوں نہ بول پلز احمد اس کے پاس جاکے بچوں کی طرح پوچھ رہا، بلال نے تھوڑا دماغ پر زور دیا،
یاد آیا تم تو،____ہاں ہاں بول میں کیا،احمد نے جوش سے پوچھا، تم راموں ہو__ نہ جو__ ہمارے__ گھر روز __سبزی دینے___ آتے بلال نے بہت مشکل سے آپنے الفاظ ادا کیے اس کے بات سن کے احمد نے حیرت سے اسے دیکھا پھر پیچھے موڑ کے حیدر کو جو منہ پر ہاتھ رکھے بلکل سریس کھڑا تھا،پھر نفی میں سر ہلانے لگا
یہ کمینہ نہیں سدھرے گا حیدر نے غصے میں اسے گھورا اور باہر چلا گیا
احمد نے واپس بلال کی طرف دیکھا جو اب مسکرا رہا تھا ،تو پھر تنگ کر رہا ہے کمینے تو نے مجھے راموں کہا اب دیکھ اسے ہنستا دیکھ احمد کو آگ لگ گئی اس نے بلال کے گلے پر ہاتھ رکھ کے دباوُ بھڑایا، حیدر اتنے میں واپس آگیا ڈاکٹر کو بتا کے بلال بلکل ٹھیک ہے،
کیا کر رہا ہے مرجائے گا یہ حیدر نے احمد کا ہاتھ بلال کی گردن سے پیچھے ہٹایا جو اب خھانس رہا تھا حیدر آج تو بیچ میں نہیں آئے گا اتنا بڑا پتھر بھی اس کمینے کا کچھ نہیں بگاڑ سکا کیوں کے اس کی موت مرے ہاتھوں لکھی ہے احمد کو راموں سے زیادہ غم اس بات کا تھا کے بلال کے ہاتھوں وہ پھر سے بیوقوف بن گیا تھا،احمد بولتے کے ساتھ اس کے قریب آیا کے حیدر نے روک دیا
حیدر کے بیچ میں آنے سے بلال کے چہرے پر چڑانے والی مسکراہٹ تھی، آج چھوڑ دے بعد میں بدلے لینا جب یہ ٹھیک ہوجائے بلکہ مل کے مارے گے اسے حیدر نے غصہ سے بلال کو گھور کر کہا حیدر کی آخری بات سن کے بلال نے افسوس سے سر ہلایا جیسے اتنے برے دوست اسی کے ہو سکتے،
***********
کام کہاں تک ہوا راجا صاحب نے اپنے خاص آدمی شکیل سے پوچھا،جس کےچہرے پر پریشانی تھی_
راجا صاحب!!!!کام تو اچھا چل رہا ہے بیس کے قریب بچے اٹھا لیے ہیں پر وہ__شکیل کی زبان اٹک گئی بیچ میں____کیا وہ پوری بات کیا کرو راجا صاحب نے غصے سے کہا،راجا صاحب ہمارا ایک آدمی غائب ہے ہمیں ڈر ہے وہ آرمی کے ہاتھ تو نہیں لگ گیا شکیل نے نیچے نظرے جھکائے ڈرتے ڈرتے اپنی بات کہی،
یہ کیا بول رہا ہے تو اسے کیسے غائب ہوگیا وہ راجا صاحب غصے سے کھڑا ہو گیا،____وہ وہ راجا صاحب اس میں سے تقریباً بچے وہ ہی اٹھا کے لایا ہے اب پتا نہیں کہا غائب ہے____یہ آرمی اسے باز نہیں آئے گی پتا لگا کون ہے اس سب کے پیچھے کون سا آرمی کا آفسر ہے جس نے یہ کیس اپنے ہاتھ میں لینے کی غلطی کی ہے راجا صاحب نے حکارت سے کہا،
جی جی راجا صاحب میں نے بندے لگا دیے ہیں جلد پتا لگ جائے گا کون ہے جو ہمارے کام میں ٹانگ اڑا رہا ہے شکیل نے فخر سے اپنا کام بتایا،
میں آرمی کو دیکھوں یا ان بچوں کو اس کے لہجے میں حکارت تھی وہ بچے کہاں پر ہیں راجا صاحب کا اشارہ ان بچوں کی طرف تھا جیسے اٹھا کے لایا گیا تھا، راجا صاحب وہ سب بچے گودام میں بند ہیں،
ہائے ڈیڈ راجا صاحب آگے کچھ بولتے اس سے پہلے اس کے کانوں میں اپنے ایک لوتے بیٹے کی آواز آئی راجا صاحب کے چہرے پر جو شیطانیت تھی وہ پل میں غائب ہوئی اس کی جگہ مسکراہٹ نے لےلی آگیا میرا شیر راجا صاحب نے اپنے بیٹے کو اپنے برابر میں بیٹھایا،
یس ڈیڈ میرے ہوتے ہوئے سب کام آپ کرے نیور آپ مجھے بتائے کہاں جارہے تھے آپ میں جاتا ہوں سعد نے اپنے ڈیڈ سے کہا،بیٹا ہم کہاں جائے گے ہمیں تو بس ایک چھوٹا سا کام تھا ،
ڈیڈ میں نے سب سن لیا ہے میں ان بچوں کو دیکھ لوگا ڈونٹ وری اس نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے ڈیڈ کو ریلیکس ہونے کا کہا وہ ایک بائس سال کا خوبصورت نوجوان تھا پر شکل خوبصورت ہونے سے کیا ہوتا ہے جب انسان میں انسانیت ہی مری ہوئی ہو
یہ ہوئی نا بات میرا شیر ہے تو جا نیچے گودام میں ہے بچے ان کو ابھی میلا نہیں کرنا بہت بڑی ڈیل ہے راجا صاحب کی آنکھوں میں لالچ تھی پیسے کی لالچ اوکے ڈیڈ ڈونٹ وری میں دیکھ لوگا سعد بول کے کھڑا ہو گیا اس نے شکیل کو ساتھ چلنے کا اشارہ کیا،
میرا کام سمبھالنے کے لیے میر بیٹا بڑا ہوگیا راجا صاحب کے چہرے پر فخر تھا اپنے بیٹے کے لیے پیار تھا ان کی بیوی کو مرے سالوں ہوگئے تھے اپنے بیٹے کو اس نے بلکل اپنے جیسا بنایا تھا،
سعد چلتا ہوا نیچے آیا اس نےگارڈ کو اشارہ کیا گارڈ نے جلدی سے تے خانے کا گیٹ کھولا،سعد اور شکیل چل کے اندر آئے اندر بہت اسمیل تھی سعد نے رومال سے اپنا ناک کور کیا اندر جگا جگا بچے نڈھال پڑے ہوئے تھے جو ہوش میں تھے گیٹ کھلنے سے ان کی انکھیں چندیاگئی انہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیے آرام آرام سے جب ہاتھ ہٹائے سامنے موجود لوگوں کو دیکھ کے بچے ڈر کے پیچھے ہوگئے سعد کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آگئی بچوں کو ڈرتا دیکھ اس نے شکیل کو اشارہ کیا شکیل نے بیگ میں سے نشے آود انجیکشن نکالے،
نہیں نہیں ہمیں نہیں لگانا شکیل ایک بچے کے قریب گیا وہ زور زور سے رونے لگا ابھی آرام آجائے گا بیٹا شکیل نے وہ نشے آور دوا اس بچے کے رونے بلکنے کی پروا کیے بغیر لگا دیا تھوڑی دیر میں وہ بچہ روتا روتا بیہوش ہوگیا،
پری دور سے یہ منظر دیکھ رہی تھی اسے یہاں آئے یوئے چوبیس گھنٹے ہوگئے تھے اسے پانی کے سوا کچھ نہیں دیا گیا یہ خوفناک منظر دیکھ کے پری کی آنکھوں میں وحشت آگئی، شکیل ایک کے بعد ایک سب بچوں کو انجیکشن لگا رہا تھا جب سعد کی نظر اس پر پڑی جو اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے یہ خوفناک منظر دیکھ رہی تھی،
سعد اس کے پاس چل کے آیا مسکرا کر اسے دیکھا، پری نے سعد کو اپنے پاس اتے دیکھا وہ پیچھے ہوتی گئی یہاں تک کے دیوار آگئی نہیں انکل مجھے نہیں لگانا انجیکشن نہیں لگانا پری پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی سعد اس کے پاس گٹھنے کے بل بیٹھا ارے گڑیا وائے آر یو کرائنگ سعد نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے گالوں پر رکھے صاف رنگت لال لال گال اس نے حوٙس کے نگاح سے پری کو دیکھا،
اتنے میں شکیل پری تک آگیا، نہیں پلز مجھے نہیں لگاوُ نہیں پری بری طرح رونے لگی سعد نے ہاتھ کے اشارے سے شکیل کو روکا اور کھڑا ہوگیا، اسے کھانا پانی دو رات کو مجھے یہ بچی اپنے کمرے میں چاہیے سعد نے پری کو اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے کہا،
پر پر چھوٹے صاحب وہ وہ راجا صاحب نے مناکیا شکیل کی بات منہ میں ہی رہے گئی جتنا میں نے کہا اتنا کر بچے بہت ہیں اس ملک میں اور مل جائے گے میرا دل آگیا اس پر سعد بول کے چلا گیا،
باپ کمینہ بیٹا اس سے بڑا کمینہ!!! شکیل نے منہ ہی منہ میں کہا اور بچی کے لیے کھانا منگوایا، پری کو ان کے باتیں تو سمجھ نہیں آئی پر وہ اسی میں خوش ہو گئی اسے انجیکشن نہیں لگا اور ایک دن بعد کھانا ملا وہ جلدی جلدی کھانا کھانے لگی اس بات سے انجان کے اس کے ساتھ آج رات کیا ہونے والا
******************
حیدر نے فون کے زریے معلوم کیا وہ سب بچے اور ٹیچر بلکل سیف تھے وہ اندر تک مطمعن ہوگیا پھر اس نے برہان کو بھی فون کر کے بتا دیا تھا کے اسے عتراض نہیں شادی پر لیکن وہ ایک بار روہان سے ملنا چاہتا ،برہان نے اس کی بات مان لی اور اسے حیا کو راضی کرنے کو کہا اب یہ کام اسے وہاں جاکے کرنا تھا،
دو دن بعد اب بلال کافی حد تک ٹھیک تھا احمد اور حیدر نے اس کا خوب خیال رکھا اس لیے وہ اب کافی بہتر تھا احمد تو صبح ہی چلا گیا تھا اسے کچھ کام تھا،
حیدر ڈرائیو کر رہا تھا اور بلال پاس بیٹھا تھا وہ لوگ گھر جا رہے تھے بلال کی طبیت کی وجہ سے اسے چھٹی ملی تھی انہوں نے اب گھر والوں کو بتایا تھا اب وہ سب عبدالله صاحب کے گھر ان دونوں کا انتظار کر رہے تھے،
***********
روہان آفس میں بیٹھا تھا کے اس کے پاس فرقان صاحب کی کال آئی اس نے بیزاری سے کال اٹین کی،کیسے ہو روہان انہیں پتا تھا وہ جواب نہیں دیگا پھر بھی پوچھا، کر لی شادی کی ڈیٹ فکس روہان نے بغیر ان کی بات کا جواب دیے اپنے مطلب کی بات پوچھی،
فرقان صاحب کو اپنے بیٹے کے اس رویے سے تکلیف ہوئی پر وہ کر بھی کیا سکتے تھے،تمہیں کل پاکستان آنا ہوگا، ان کی بات سن کے روہان کو حیرت ہوئی
واو آپ تو انتظار میں تھے اتنی جلدی فکس کر لی ڈیٹ ،نہیں جب تم آوُ گے جب ہی ڈیٹ فکس کرے گے ابھی حیا کے بھائی تم سے ملنا چاہتے،
پر میں ان سے ملنا نہیں چاہتا آپ میرا قیمتی وقت برباد کر رہے ہو میں نے کہا تھا ڈیٹ فکس پر ہی مجھے کال کرنا، ماتھے پربل لیے اس نے اپنی بات کہی،
روہان تمہیں آنا ہوگا برہان سے تم ملے ہوئے ہو پر حیدر سے نہیں ملے وہ تم سے ملے بغیر حیا کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں نہیں دے گا فرقان صاحب نے اسے سمجھایا،
میں کوئی معمولی چیز نہیں ہو کے ایک ایک سے جاکے ملو آپ کو میری شادی سے گرز کسی سے بھی کردو اس نے جان چھڑانے والی انداز میں کہا،
نہیں حیا سے اچھی کوئی لڑکی نہیں میری نظر میں اس جیسی معصوم کوئی نہیں ہے شادی اسی سے ہوگی اگر تم کل نہیں آئے تو میں سمجھ لوگا تمہیں میرا احسان لینا بہت پسند ہے تبھی اسے اتارنا نہیں چاہتے، فرقان صاحب نے بول کے فون کاٹ دیا،
روہان نے غصے میں موبائل پھنک کے مارا اب مجھے اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے پاکستان جانا ہوگا اس نے نفرت سے سوچا فرقان صاحب حیا کی جتنی تعریف کر رہے تھے روہان کو اس سے اتنے ہی نفرت محسوس ہو رہی تھی واقعی میں فرقان صاحب اسی کے باپ تھے انہیں پتا تھا کے اس کی دوکھتی رگ کیا ہے،
Sozi come to my office!!!!!!
روہان نے انٹرکام کے ذریے اسے اندر بلایا
Yes sir!!!!!!!
سوزی جلدی سے اپنا سب کام چھوڑ کے آئی
Booke my ticket for tomorrow I am going to Pakistan for one week!!!!!
Okh sir!!!!!!!!!
Look all work behind me
روہان نے اسے ڈیٹیل میں سب بات بتائی اور جانے کا اشارہ کیا
سوزی کے جاتے ہے روہان اپنی ہی سوچ میں گم ہوگیا میں بھی دیکھوں آخر کیا خاص ہے اس حیا میں اس نے موبائل اٹھا کے اپنے ڈیڈ کے نمبر پر مسج کیا
I will come tomorrow!!!!!!!
*************
میں بھی تمہاری ہلپ کروا دیتی ہوں صائمہ نے مسکرا کے حنا سے کہا جو کچن میں پلاوُں بنا رہی تھی،نہیں چچی میں ہونا سب کرلوگی آپ باہر گارڈن میں بیٹھوں چاچو برہان سب بیٹھے ہیں حیا چائے لارہی ہے حنا نے مسکرا کے جواب دیا اس کا رویہ سب کے ساتھ اچھا ہوتا تھا سوائے حیا کے،
ایک گھنٹے سے چائے بنا رہی ہو اب تک تم سے چائے نہیں بنی صائمہ بیگم کے جاتے ہی حنا نے غصے سے کہا، جی جی بھابھی بس بن گئی حیا نے جلدی جلدی چائے سب کپ میں ڈھالی،
بیٹا آپ کیوں لائی چائے حنا کہاں ہے برہان نے حیا کو چائے لاتا دیکھ کہا بڑے بھیا وہ بھابھی کھانا بنا رہی ہیں حیا نے چائے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا،چاچو آپ چینی کتنی چمچ لے گے حیا نے علی خان صاحب سے معصومیت سے پوچھا،
ارے ہماری گڑیا چائے بھی بنانے لگ گئی ہمیں تو پتا بھی نہیں تھا کے اتنی بڑی ہوگئی ہماری گڑیا علی صاحب نے مسکرا کے حیا کے سر پر ہاتھ رکھا بیٹا دو چمچ ،سب کو چائے دینے کے بعد حیا اندر چلی گئی جانتی تھی بھابھی کی ہلپ نہیں کی تو وہ بعد میں غصہ کرے گی،
میں نے حیا کے لیے ایک لڑکا پسند کیا ہے برہان کی بات پر علی خان صاحب نے حیرت سے دیکھا، ابھی تو بہت چھوٹی ہے گڑیا عبدالله صاحب کے بعد علی صاحب ہی ان کے گھر کے بڑے تھے ابھی بلال اور حیدر کے آنے کی خبر سن کے وہ لوگ ادھر ہی آگئے ویسے بھی ان کا گھر ساتھ ساتھ تھا،
ہاں چاچو پر وہ اٹھارہ کی ہونے والی ہے اور رشتہ اچھا تھا تو میں نے بھی انکار نہیں کیا ،تو کیا حیدر مان گیا صائمہ بیگم نے حیرت سے پوچھا وہ اچھے سے جانتی تھی حیدر حیا کو لے کے کتنا حساس ہے،
جی وہ مان گیا ہے آپ دونوں کو اسی لیے بولوایا تاکہ آپ سے پوچھ لو پاپا کے بعد آپ ہی بڑے ہیں ہمارے برہان نے آرام سے سب بات بتائی فرقان صاحب جلدی شادی کرنا چاہتے یہ بات بھی کیوکہ روہان ذیادہ دن نہیں رک سکتا وہ کل آرہا ہے پاکستان،
رشتہ اچھا ہے مجھے کیا عتراض ہوسکتا تم دونوں بھالا ہی چاہوں گے حیا کا پر اتنی جلدی شادی یہ بات سہی نہیں لگ رہی علی صاحب نے برہان کی طرف دیکھ کے کہا،
انہیں کتنا آرمان تھا یہ پیاری سی معصوم سی لڑکی ان کی بہو بنے پر بلال نے اتنے سختی سے مناکر دیا کے آپ پھر کبھی یہ بات نہیں کرنا میں نے ہمیشہ حیا کو سگی بہن کی طرح چاہا ہے، چچی آپ بتاوُ سہی ہے نا یہ رشتہ برہان کی بات پر صائمہ بیگم اپنی سوچ سے باہر آئی، ہاں بہت اچھا ہے اللّه ہماری بچی کے نصیب اچھے کرے صائمہ بیگم کی بات پر دونوں نے آمیں کہا،
واو یہاں تو پوری محفل جمی ہے بلال کی آواز سن کے سب کھڑے ہوگئے حیدر اسے سہارا دیے لارہاں تھا،یہ کیسے لگی صائمہ بیگم بلال کو ایسے دیکھ کے پریشان ہوگئی مما یہ حیدر نے مارا ہے مجھے بلال نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا،
ضرور تم نے ہی اُلٹا کام کیا ہوگا ورنہ حیدر کیوں مارے گا بلال نے حیرت سے اپنی ماں کو دیکھا جو اب حیدر کے سر پر پیار سے ہاتھ پہر رہی تھی سب سے ملنے کے بعد وہ لوگ وہی گارڈن میں بیٹھ گئے شام کا ٹائم تھا اور موسم بھی بہت اچھا تھا حیدر نے مختصر سب کو بات بتا دی،
بھیا آپ آگئے حیا کی اوز پر حیدر نے پیچھے موڑ کے دیکھا اور کھڑا ہوگیا حیا بھاگ کے حیدر کے سینے سے لگ گئے بھیا آپ اتنے دن بعد آئے ہو میں آپ سے بلکل بات نہیں کروں گی حیا کی بات پر حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی وہ جانتا تھا اتنی ہی معصوم ہے اس کی گڑیا اسی سے اسی کی شکایت کر رہی تھی ،
کوئی ہم سے بھی مل لے بیمارو کو کوئی پوچھ ہی نہیں رہا میرے تو ماں باپ بھی میرے نہیں بلال کی غم میں ڈوبی ہوئی آواز آئی،حیدر سے الگ ہوکے حیا نے بلال کی طرف دیکھا اور ایک دم پریشان ہوگئی یہ کیا ہوا بلال بھیا کو کسے لگی، ڈھیٹ انسان ہے اسے کچھ نہیں ہوگا تم پریشان نہ ہو حیدر کی بات پر بلال نے منہ بنا لیا،
ذیادہ درد ہو رہا ہے نہ بھیا ،حیا نے پاس آکے اس کے سر پر ہاتھ رکھا جہاں پٹی بندھی تھی،
آاااااووچچ بلال نے ایسے ایکٹنگ کی جیسے حیا کے ہاتھ لگانے سے اسے بہت درد ہوا ہے، سوری بھیا سوری حیا نے فوراً ہاتھ پیچھے ہٹا لیا اس کی آنکھوں میں ڈھیر سارا پانی آگیا، بھیا بلال بھیا کو لگ گئی اس نے پیچھے موڑ کے حیدر سے کہا،اس کی آنکھوں میں انسوں دیکھ کے حیدر کو غصہ آگیا،
فالتو انسان تو نے ڈرا دیا گڑیا کو ایکٹنگ بند کر حیدر نے اسے جیب کی چابی پھنک کے ماری صائمہ بیگم نے بھی بلال کے سر پر چپت لگائی کیوں تنگ کر رہا ہے بہن کو، بلال فوراً کھڑا ہوگیا ارے گڑیا سوری انسوں صاف کرو میں تو مزاق کر رہا تھا چندا بلال خود اس کے انسوں دیکھ کے پریشان ہوگیا اسے کہاں پتا تھا اتنی سی بات میں یہ رونے لگے گی، آپ کو درد نہیں ہورہا نہ حیا نے اتنی معصومیت سے پوچھا کے وہاں سب کو اس پر بہت پیار آیا،
بلکل نہیں ہوا یہ تو اسے ہی لگ گئی چھوٹی سی چوٹ ہے بلال نے اسے بہلاتے ہوئے کہا آپ لوگ فریش ہو جاوُ پھر میں کھانا لگاتی ہو حنا کی آواز پر حیدر نے ہاں میں سر ہلایا، اندر چلے اب گڑیا آنسوں صاف کرو شاباش،
گوڈ گرل حیدر کا کہا اس نے فوراً مانا برہان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی یہی حیا کو سمجھا سکتا ہے برہان نے دل میں سوچا،
**************
رات کا آخری پہر تھا راجا صاحب اپنی آرام گاہ میں لیٹے ہوئے تھے کہ ان کے کانوں میں وحشت ناک شیخ کی آواز آئی وہ ایک دم اٹھ کے بیٹھ گئے پھر یہ چیخ بہت ساری چیخوں میں بدل گئی وہ اٹھ کے باہر آئے ان کا یہ گھر کسی محل سے کم نہیں تھا شکیل!!!!شکیل!!! راجا صاحب نے شکیل کو آواز دینا شروع کردی،
شکیل عینک کے جن کی طرح فوراً حاضر ہوا ،جی جی راجا صاحب اس کی آواز سے لگ رہا تھا وہ نیند میں اٹھ کے بھاگا آیا ہے، یہ کون چیخ رہاں ہے کیا تم نے آج ان پلوں کو انجیکشن نہیں لگایا ،راجا صاحب کی آواز میں حد سے ذیادہ غصہ تھا اسے اپنے آرام کے بیچ میں خلل پیدا ہونا بلکل پسند نہیں آیا،
راجا صاحب سب کو لگایا تھا!!!!!ابھی شکیل کی بات بیچ میں تھی کے ایک اور درد ناک چیخ کے ساتھ آواز آنا بند ہوگئی____وہ وہ چھوٹے صاحب نے __نے بولا___شکیل نے ڈر ڈر کے کہا،
کہا بھی تھا کے میلا نہیں کرنا ابھی پہلے ہی آرمی نے پریشان کر رکھا ہے اور بچے بھی اٹھانے راجا صاحب نے غصے میں کہا،
کول ڈاون ڈیڈ آرمی اپنا کچھ نہیں بیگاڑ سکتی راجا صاحب کے کانوں میں اپنے ایک لوتے سپوت کی آواز آئی،شکیل اور راجا صاحب نے ایک ساتھ پیچھے موڑ کے دیکھا جہاں سعد اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا آرہا تھا،میں ہونا دیکھ لوگا ان آرمی والوں کو اور پولیس والے تو ویسے بھی اپنی جیب میں ہے سعد کی آواز میں فخر تھا
یہ پکڑوں!!! سعد نے ایک نوٹوں کی گڈی شکیل کی طرف اچھالی ،یہ رکھوں اور اسے ٹھیکانے لگا دینا اگر ذندہ ہو تو مار دینا سعد کو پسند نہیں کے اس کی استعمال کی ہوئی چیز کو کوئی اور استعمال کرےاس کے لہجے میں پیسے کا گھمنڈ تھا وہ برائی میں اتنا ڈوب گیا تھا کے ایک ننی سی کلی کو اس نے بری طرح روند دیا اور اسے اس گناہ کا احساس تک نہیں تھا،
راجا صاحب کے ہاں میں سر ہلانے پر شکیل وہاں سے فوراً چلا گیا اس کا رُخ سعد کے کمرے کی طرف تھا،پر بیٹا ان آرمی والوں کو اور ڈیٹ بوڈی ملے گی تو وہ اور چوکنے ہوجائے گے اور ہمیں ہر حال میں یہ آرڈر پورا کرنا ہے اس بار راجا صاحب نے بغیر غصہ کیے سمجھانے والے انداز میں کہا،
ڈیڈ میں ہونا ڈونٹ وری جو آرمی آفسر اس کیس کو دیکھ رہاں اسے آپ کے کدموں میں لے کر آوُ گا اب آپ جاوُ آرام کرو صبح ہونے والی ہے سعد نے اپنی ڈیڈ کو پیار سے کہا ،راجا صاحب مسکرا کے اپنے روم کی طرف چل دیے،
سعد اپنے روم میں آیا تو شکیل بکھرا ہوا سامان سمٹ رہاں تھا تم نے اب تک اس کچرے کو یہاں سے نہیں اٹھایا اس کا اشارہ بیڈ کی طرف تھا جہاں پری کھینچ کھینچ کے بڑی مشکل سے سانس لے رہی اس کی آنکھوں کے کناروں سے آنسوں لڑی کی سورت نیکل رہے تھے ہونٹ خشک تھے،چھوٹے صاحب بس اٹھا رہاں تھا میں نے سوچا مرنے والی ہے مرجائے تو اٹھا لوگا شکیل نے جلدی سے صفائی دی ،
اووو اچھا اتنی سے بات سعد مسکرا کے بیڈ کے قریب آیا پری کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی پر اٹھ کے بھاگنے کی اس میں حمت نہیں تھی،کیا ہوا ذیادہ درد ہو رہا ہے ابھی ٹھیک ہوجائے گا سعد نے شیطانیت سے کہا اور اپنے ہاتھ اس کے گلے پر رکھ کر دباوُ بھڑایا،
ممممما____مممما___پری زور زور سے اپنے پیر بیڈ پر مارنے لگی اور اٹک اٹک کے اپنی مما کو پکار رہی پر یہاں اس کی پکار سننے والا کوئی نہیں تھا ایک دم اس کا جسم ڈھیلا پڑ گیا آنکھیں کھولی کی کھولی رہے گئی ،اب اٹھاوُ اس کچرے کو اور پھینکوں سعد نے شکیل کو کہا جو یہ سارا منظر اتنی آرام سے دیکھ رہاں جیسے کوئی خاص بات ہی نہ ہو ،،
جی جی چھوٹے صاحب شکیل نے چادر سمیت بچی کو اس میں لپیٹا اور کندھے پر ڈھال کے چلا گیا،سعد اپنے بیڈ پر لیٹ گیا اور کچھ دیر میں ہی اسے نیند آگئی پتا نہیں ایسے کوگوں کے پاس دل نہیں ہوتا ضمیر نہیں ہوتا کسی کی ننی کلی کو مسلتے ہوئے انہیں رحم نہیں آتا پر وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کے ابھی ان کی رسی دراز ہے جب وہ کہنچے گا تو انجام بھی عبرت ناک ہوگا،
************
حیدر فجر کی نماز پڑھ کے آیا تو حیا کچن میں تھی کیا کر رہی ہے ہماری گڑیا حیدر کچن میں ہی آگیا اور وہاں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا بھیا میں نماز پڑھ کر روز اس ٹائم چائے بناتی ہوں آپ کی بھی بناوُ،
ہاں بھئی ہم بھی پیے گے گڑیا کے ہاتھ کی مزے دار چائے حیدر نے پیار سے کہا،حیا نے چائے بنائی ایک کپ حیدر کو دی ایک خود نے لی،بیٹھوں گڑیا حیدر کی آوازپر حیا بیٹھ گئی برہان جو باہر آراہا تھا وہی گیٹ پر ہی رک گیا وہ چاہتا تھا حیدر حیا سے بات کرلے ،
برہان بھائی نے بتایا تھا نا آپ اب لندن میں پڑھائی کروں گی آپ کو عتراض کیوں ہے گڑیا حیدر نے آرام سے بات اسٹارٹ کی ،وہ بھیا آپ میرے ساتھ چلو نہ ،بیٹا میں نہیں جاسکتا آپ کو توپتا ہے میں گھر بھی کتنا کم آتا ہوں ،
بڑے بھیا مجھے کسی اور کے ساتھ بھیج رہے ہیں پر اپنے تو مناکیا تھا نہ بھیا،حیا بغیر ڈرے حیدر سے سب بات آرام سے کرتی تھی،ہاں میں نے کہا تھا اور اگر میں کہوں کے روہان اچھا لڑکا ہے اس کے ساتھ چلی جاوُ حیدر نے امید سے حیا کی طرف دیکھا،تو میں چلی جاوُ گی حیا نے بلکل بچوں کی طرح نیچے منہ کرکے کہا حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی،
پر بھیا آپ نے کہا تھا گناہ ہوتا ہر کسی کے ساتھ نہیں جاتے کسی سے بات نہیں کرتے حیا نے حیدر کو اسی کی بات یاد کروائی جی میں نے کہا تھا پر گڑیا جس سے نکاح ہوتا ہے وہ محرم ہوتا ہے اس کے ساتھ جانا رہنا سب جائز ہوتا ہے ہم ایسے نہیں بھیجے گے آپ کا نکاح کرے گے روہان کے ساتھ حیدر نے اسے رسانیت سے سمجھایا،
پھر گناہ نہیں ملے گا اللّه ناراض نہیں ہوگے حیا نے حیدر کی طرف دیکھ کے معصومیت سے پوچھا ،صاف شفاف چہرا آنکھوں میں پاکیزگی لیے وو حیدر کو دیکھ رہی ،
جاری ہے
