Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16

وہ تو یہاں آنے کے ہی حق میں نہیں تھی اور اس کی مما نے اسے اس روم میں بند کر دیا تھا وہ اداس سی بیٹھی تھی جب روم کا دروازہ کھولا شکر مما کو مجھ پر رحم تو آیا مشعل بولتے کے ساتھ کھڑی ہوئی پر سامنے حیدر کو دیکھ کے اس کی دل کی دھڑلن ایک دم تیز ہوئی،
روم باہر سے لوک کیوں ہے حیدر نے اندر آتے ہوئے کہا،جب اس کی نظر مشعل پر پڑی
آج میں نے ایک حسین خواب دیکھا
خود کو یونٹ میں تیرے ساتھ دیکھا
حیدر نے منہ ہی منہ میں ایک شعر بول ڈالا پھر تھوڑا سمبھل کر مشعل کو دیکھا آپ کیسی ہوں حیدر نے مسکرا کر پوچھا، جی ٹھیک مشعل نے نیچے نظرے کیے جواب دیا،
ہم کل ملے تھے پھر مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے میں نے بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں حیدر آنکھوں میں محبت کا جہاں لیے اسے دیکھ رہا تھا،
وہ میں جاوُں مشعل کو سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے اس لیے اس کے منہ سے یہ نکل گیا،ہاں چلی جانا پر! !!!!حیدر بولتے ہوئے پاس آیا مشعل کے قدم خود با خود پیچھے گئے کے دیوار آگئی حیدر نے دونوں طرف ہاتھ رکھ کے جانے کے سب راستے بند کر دیے،
مشعل کی تو اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہے گئی حیدر کی نظرے اس کی قربت مشعل کو لگ رہا تھا اس کا دل پھسلی توڑ کر باہر آجائے گا،
وہ حیدر بھا!!!!!! شییییییی مشعل کچھ بولتی اس سے پہلے حیدر نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی اب نہیں حیدر بولتے ہوئے قریب آیا مشعل نے ایک دم اسے دھکا دیا اور وہاں سے بھاگ گئی پر اس کے چہرے پر بہت خوبصورت مسکراہٹ تھی،
مشعل کے اس طرح شرمانے سے حیدر کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ آگئی اُففففف رخستی کروانی ہی پڑے گی حیدر نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا
وہ الگ بات ہے کہ_____اداکاری نہیں کرتا
اگر چاہوں تو پریّوں کو بھی پاگل کر دوں
******************
روہان نے اپنے برابر بیٹھی حیا کو دیکھا جو نیچے منہ کیے بیٹھی تھی اس وقت وہ لوگ فلائٹ میں موجود تھے میرا فون حیا نے ہمت کر کے روہان کی طرف دیکھا،
اپنا فون تم بھول جاوُ اور اپنے گھر والوں کو بھی روہان نے اسے بولتے وقت اپنے موبائل کی سم نکال کر توڑ دی حیا نے حیرت سے روہان کو دیکھا اسے سمجھ نہیں آیا یہ کیا بول رہے ہیں،
میں سمجھی نہیں میں تو_____سمجھ جاوُ گی ڈئیر اب چپ چاپ بیٹھی رہوں روہان نے اسے بول کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لیا،
یہ__یہ مجھے بھیا والوں سے نہیں ملنے دے گے حیا نے کانپتے لب سے کہا،پر اپنی آواز کو آہستہ رکھا،بھیا آپ کے کہنے پر میں آئی تھی اب آپ ہی مجھے لے کے آوُ گے واپس حیا نے پہلے روہان کی طرف دیکھا جو شاید سو چکا تھا پھر خود نے بھی سیٹ سے ٹیک لگا لیا بہت سے آنسوں اس کی آنکھ کو بھگو رہے تھے،
پاٹ ون یہاں مکمل ہوا اگے پاٹ ٹو👇
*****************
اے لڑکی جب تجھے دس بار بول دیا نہیں پتا مجھے وہ کہا ہے تو روز کیوں آجاتی ہے اپنا منحوس چہرا لے کر میرے سامنے اس عورت نے پان چباتے ہوئے نفرت سے کہا،
ویسے بھی تیرے چاچا کو یتیموں کو پالنے کا شوق تھا مجھے نہیں وہ خود تو مر گیا تجھے میرے سر چھوڑ گیا اس عورت نے سامنے موجود لڑکی کر طرف دیکھا صاف رنگت تیکھے نقوش ویسے تو وہ بیس سال کی تھی پر لگ اٹھارا کی رہی تھی اب کیا آنسو بہا رہی ہے جا یہاں سے اس عورت نے اپنے پلنگ پر لیٹتے ہوئے کہا،
دعا نے سامنے ںیٹھی اس عورت کو دیکھا جو کہنے کو تو اس کی چاچی تھی پر اس عورت نے اس پر کیا کیا ظلم نہیں کیے تھے،جب تک چاچا ذندہ تھے چاچی کا رویہ بھی ٹھیک ٹھیک تھا پر چاچا کے بعد چاچی نے اس کے ساتھ ہر وہ ظلم کیا جس کا ایک انسان سوچ بھی نہیں سکتا،
دعا نے جھک کے ان کے پیر پکڑ لیے آنکھوں میں التجا تھی رکویسٹ تھی اسے اپنی فکر نہیں تھی اس کی تھی جس کی وجہ سے آج تک اس نے اپنی چاچی کے ظلم سہے،
جب بول دیا نہیں پتا کہا ہے جہاں بھی ہے اپنی مرضی سے ہے اب دفع ہو یہاں سے اس عورت نے اپنے پیر سے دعا کو دور دھکا دیا،
دعا نے واپس کھڑے ہوکے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے اس پھتر دل عورت سے آخری بار التجا کی،اپنا منحوس وجود یہاں سے لے جا اور جا کے گائے کا دودھ نکال اور گاؤں میں جاکے سب کے گھر دے کر آ اس عورت نے دعا کو جھڑک کے کروٹ لے لی جس کا صاف مطلب کے وہ یہاں سے چلی جائے،
اور سن لڑکی!!!!!! دعا موڑ کے جانے لگی تو ایک دم چاچی کی آواز سے واپس موڑ گئی اس نے امید سے چاچی کو دیکھا کیا پتا اب بتا دے وہ کہا ہے،
کیا ایسے دیکھ رہی ہے اپنی نظرے نیچے کر اور جو کرائے دار ہیں ان سے جاکے کرایا لے کر آ چل اب جا یہاں سے اس عورت نے واپس کروٹ بدل لی،
دعا معیوسی سے لوٹ آئی!!!یا الله اس کی حفاظت کرنا دعا نے نم آنکھوں سے ہاتھ اٹھا کے دل میں دعا کی،
***************
گڑیا کو جانا تو تھا ہی شام کی جگہ صبح چلی گئی تو کیا ہوا میں اتنا کیوں سوچ رہا ہوں،حیا کو گئے ہوئے چوبیس گھنٹے ہوگئے تھے پر پتا نہیں کیوں حیدر کا دل بے چین ہو رہا تھا
رات کا آخری پیہر تھا حیدر اپنے روم میں سونے کی غرض سے لیٹا ہوا تھا کل پورے دن کی بھاگ دوڑ پہلے حیا کی رخستی پھر میشن پر جانا پھر میجر عدنان کے گھر چلے گئے اور گھر پر جب آئے تو پہلے سے سب موجود تھے ان سب چکرو میں پھر سے رات ہوگئی تھی
وہ ان سب چیزوں سے بہت تھک گیا لیکن اسے حیا کی فکر ہورہی تھی، کئی بار نمبر ٹرائے کر چکا تھا جو اوف آرہا تھا ہو سکتا ہے سوگئی ہو گڑیا صبح کال کروں گا حیدر نے خود کو تسلی دی اور آنکھے بند کرلی کچھ دیر میں ہی وہ نیند کی وادی میں چلا گیا،
*************
ائیر پورٹ سے انہیں گاڑی لینے آئی وہ چپ چاپ بس گاڑی کی طرف بڑھ رہا اس نے حیا کی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھا کے وہ بھی ساتھ آرہی ہے یا نہیں،
حیا تو نیچے منہ کیے بس روہان کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی پہلی بار فلائٹ میں بیٹھنے سے اس کے پیر اب بھی کانپ رہے تھے پر اس نے ایک بار بھی روہان کو مخاطب کرنے کی ہمت نہیں کی اللہ اللہ کر کے یہ صفر ختم ہوا تھا،یہی سب سوچتی ہوئی وہ چلتی جارہی تھی جب اس کا سر زور سے کسی چیز سے ٹکرایا،
اوففففف حیا نے جلدی سے اپنے سر پر ہاتھ رکھا درد سے حیا کی آنکھ میں انسوں آگئے اسے لگا کسی دیوار سے اس کا سر لگا ہے،
آندھی ہو نظر نہیں آتا روہان کی غصے سے بھری ہوئی آواز پر حیا نے نظرے اٹھا کے دیکھا، وہ جو چلتے چلتے ایک دم موڑا تھا اس کی وجہ سے حیا کا سر اس کے سینے سے زور سے ٹکرایا،
وہ۔۔۔۔وہ !!!!!کیا وہ وہ اب چلو!!!! حیا کچھ بولتی اس سے پہلے روہان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے گاڑی کی طرف بڑھ گیا،
روہان کو چلتے چلتے یاد آیا اس کے ساتھ کوئی وجود بھی تھا وہ ایک دم موڑا کے حیا جو نیچے نظرے کیے چلی آرہی تھی ایک دم اس سے ٹکرا گئی،عجیب لڑکی ہے سامنے دیکھنے کی جگہ نیچے دیکھ کے چلتی ہے روہان دل ہی دل میں سوچ کے رہے گیا،
اس نے گھر میں جیسے ہی قدم رکھا سب نوکر الرٹ ہوگئے اندر آتے ہی وہ سیڑیوں کر زریے اپنے روم میں چلا گیا بغیر حیا سے کوئی بھی بات کیے،
ہیلو میم!!!!! حیا جو اب تک کنفیوس سی کھڑی تھی اپنی کانوں میں اسے ایک آواز آئی اس نے نظرے اٹھا کے دیکھا سامنے ایک عورت کھڑی جس کے لباس کو دیکھ کے حیا کو کافی حیرت ہوئی وائٹ اور بلیک کلر کی پینٹ شرٹ پہنے اور وائٹ ہی آیپرین باندھے وہ اس کے سامنے آدب سے کھڑی تھی،
میم پلز سٹ!!!!!سب نوکر اپنا کام روک کے حیا کو دیکھ رہے تھے سادھے سے سوٹ میں سر پر اسکاف لیے وہ کوئی معصوم سی بچی لگ رہی تھی جو اپنوں سے بیچھڑ گئی ہو، لیلہ نے سب نوکروں کو وہاں سے بھیجا اور حیا کو بیٹھنے کے لیے کہا
حیا کے بیٹھنے کے بعد لیلہ نے اسے پانی دیا جو حیا نے چپ چاپ لے لیا کیوں کے اسے واقعی بہت پیاس لگی تھی، حیا نے ایک ہی سانس میں سارا پانی پی کے گلاس واپس اس عورت کو دے دیا،
میم آپ بوس کی رشتے دار ہے لیلہ نے آنگریزی میں اس سے سوال کیا حیا جو کنفیوس سی بیٹھی تھی پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا،
آپ بوس کی کزن ہیں !!!!لگتا ہے یہ میری ذبان نہیں سمجھ رہی بوس پاکستان گئے تھے یہ وہی سے آئی ہوگی لیلہ نے سوچ کے اس بار اردو میں پوچھا،اس کی اردو اچھی نہیں تھی پر اسے اردو آتی تھی کیوں کے وہ پہلے جہاں کام کرتی تھی وہ لوگ پاکستان سے تھے
میرا ان سے نکاح ہوا ہے حیا نے کچھ دیر سوچ کے جواب دیا۔۔۔۔۔یو مین آپ بوس کی وائف ہیں لیلہ نے حیرت سے حیا کو دیکھا,
جی!!!!!! حیا نے ایسے کہا جیسے بہت بڑا گناہ کیا ہو،یہاں کیوں بیٹھی ہو اب تک!! لیلہ اور سوال کرتی اس سے پہلے روہان کی آواز پر حیا ڈر کے کھڑی ہوگئی,
روہان نے لیلہ کو گھورا وہ روہان کی غصے سے بھری ہوئی آنکھیں دیکھ کے وہاں سے فوراً بھاگ گئی،چلو میرے ساتھ روہان نے حیا کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے اوپر کی طرف چلا گیا
یہ خوبصورت لڑکی کون ہے لیلہ کے کچن میں آتے ہی باقی سب نوکر بھی اسی کے پاس آگئے،بوس کی وائف ہے اس کا مطلب بوس نے۔۔۔بوس نے شادی کرلی باقی سب نے حیرت کا اظہار کیا کیوں کے شادی کولے کے روہان کی نفرت کسی سے چھپی ہوئی نہیں تھی،
************
اب تم یہاں رہو گی روہان نے اپنے روم کے برابر والے روم کا گیٹ کھول کے اندر کی طرف اشارا کیا حیا توجب سے یہاں آئی تھی ڈرے ہوئے چڑیا کے بچے کی طرح لگ رہی تھی اس نے فوراً ہاں میں سر ہلایا،
سامان آجائے گا اب اندر جاؤ اور میں تمہیں روم سے باہر نہ دیکھوں روہان سخت لہجے میں بول کے اپنے روم کی طرف چلا گیا،
حیا اندر آئی تو دیکھا یہ تو لائیبریری ہے سیدھے ہاتھ کی طرف کافی کتابیں لگی ہوئی تھی اور اس سے آگے ایک گیٹ تھا شاید واشروم تھا دوسری طرف بڑا سا آئینہ لگا ہوا تھا اس کے پاس ایک سوفا تھا اور پورا روم صاف اور بڑا تھا ابھی حیا روم کا ہی جائزہ لے رہی کے کسی نے دروازا نوک کیا حیا نے دروازا کھولا سامنے ہی ایک نوکر سامان لیے کھڑا تھا حیا نے اپنا سامان لے کے دروازا پھر سے لاک کر لیا تھا،
یہ آپ نے مجھے کہاں بھیج دیا بھیا آپ کہاں ہوں حیا نیچے کارپیٹ پر گٹھنے کے بل بیٹھ گئی روہان کے ڈر سے جو آنسوں رکے ہوئے تھے اب ایک کے بعد ایک بہنے لگے،اسے اپنے بھیا بہت یاد آرہے تھے
**************
گڑیا کہاں جارہی ہو گم ہوجاو گی گڑیا حیدر آواز دے رہا پر حیا آگے جاتی جارہی جہاں گھوپ آندھیرا تھا گڑیا رک جاوں گڑیا حیدر پیچھے بھاگ رہا کے ایک دم حیا آندھیرے میں غائب ہوگئی،
گڑیا!!!!!!!!!!! حیدر ایک دم اٹھ کے بیٹھ گیا پاس پڑا لمب جالایا پورا روم روشنی سے نہاں گیا، یہ کیسا خواب تھا میری گڑیا ٹھیک نہیں لگ رہی مجھ سے دور ہوگئی حیدر کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اوڑ کے حیا کے پاس چلا جائے،
ٹرن ٹرن!!!! حیدر کی سوچ فون کی آواز سے ٹوٹی اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا،سامنے ہی جنرل راحل محمود کا نام جگنگا رہا تھا
یس سر!!!!!!! حیدر نے اپنی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز کو حد درجہ نارمل بنایا،
حیدر ٹھیک دو گھنٹے بعد مجھ سے ملو تمہارے لیے نیو کیس ہے فون میں سے جنرل راحل محمود کی بھاری آواز آئی،
اوکے سر !!!!! فون رکھ کے حیدر کھڑا ہو گیا اس کا فرض اسے بلا رہا تھا وہ فریش ہونے واش روم میں گیا کچھ دیر میں وہ آرمی یونیفارم میں بلکل تیار تھا،
اپنی جیپ کی چابی اٹھائی اور باہر کی طرف بڑھ گیا،
*************
حیدر کو جب پتا لگے گا میں نے اس سے جھوٹ کہا ہے تو وہ مجھ سے کتنا ناراض ہوگا، حیدر کو باہر جاتا دیکھ برہان نے دل میں سوچا،
جب سے اسے نیند نہیں آئی حیا کی یاد آرہی حیدر کو اس نے جھوٹ کہا کے روہان نے اسے کال کی تھی جب کے روہان نے اسے یا فاروق صاحب کو کچھ نہیں بتایا اچانک لے گیا حیا کو۔۔۔ابھی جیپ کی آواز پر برہان نے کھڑکی سے جھانکا حیدر آرمی یونیفارم میں اپنی جیپ میں بیٹھ کے چلا گیا صبح ہونے میں بس آدھا گھنٹا باقی تھا
ہماری حیا کی حفاظت کرنا ایک بار اس سے بات ہوجائے تو دل سکون میں آجائے برہان نے خود کو تسلی دی وہ ذیادہ پریشان اس لیے تھا کے حیا سے اب تک بات نہیں ہوسکی تھی،وہ اگر حیدر سے جھوٹ نہ کہتا تو حیدر کا بھروسا نہیں تھا وہ لندن چلا جاتا،
اب مجھے فاروق صاحب سے صبح آفس میں اس بارے میں بات کرنی ہوگی برہان نے دل میں ارادا کیا اور کچھ دیر نیند لینے کی غرض سے لیٹ گیا
*************
اٹھو بھیا!!!! اٹھو نا بلال فل نیند میں تھا جب اس کے کان میں آواز آئی،
یار سونے دو کیا ہے میں دیر سے جاؤ گا بلال نے نیندوں میں ہی بولتے ہوئے کروٹ بدل لی،، اٹھو نا بھیا
یار اتنی صبح کیوں اٹھا ۔۔۔۔۔بلال اور بھی کچھ بولتا جب بھیا لفظ پر اس نے غور کیا راتوں رات میری کون سی بہن پیدا ہوگئی میں تو ایک لوتا ہوں بلال نے سوچتے کے ساتھ آنکھیں کھول کے دیکھا سامنے ہی سارا مسکرا کر بلال کو دیکھ رہی تھی،
بلال ایک دم اٹھ کے بیٹھ گیا اسے یاد آیا سارا کو وہ ہی مما کے پاس چھوڑ کے گیا تھا پھر سب اس کے ذھن سے نکل گیا اس نے آپنی آنکھوں کو مسل کے سارا کی طرف دیکھا صاف ستھرے لباس میں دو چوٹیاں بنائے ہوئے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی،
سارا گڑیا آپ یہاں کیا کر رہی ہوں بلال نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے پاس بیٹھایا اور خود بھی بیڈ کی پشت کے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا،
میں نے ڈرائنگ بنائی ہے وہ ہی دیکھانی ہے آپ کو سارا نے منہ پر ہاتھ رکھ کے اپنی ہنسی کو روکنے کی کوشش کی اچھا کہا ہے ڈرائنگ دیکھاؤ بلال نے مسکرا کر حیرت سے سارا کی ہنسی دیکھی وہ ہنس کس بات پر رہی تھی اسے سمجھ نہیں آیا،
یہ دیکھوں سارا نے ہاتھ میں موجود آئینہ بلال کے سامنے کیا۔۔۔آاااااااااا بلال کی چیخ سے پورے روم کی دیوارے ہل گئی،
سارا نے آئینہ وہی پھینکا اور قہلقہلا کے ہنستی ہوئی وہاں سے بھاگ گئی،
یہ میں ہی ہوں یار۔۔بلال نے دل پر ہاتھ رکھ کے خود کو تسلی دی اور ہمت کر کے ایک بار پھر آئینہ اٹھایا،
آااااااااا اس بار اس کی چیخ کی آواز پہلے سے زیادہ خطرناک تھی
***************
فریش ہوکے وہ کچھ دیر سوگیا جب اس کی آنکھ کھولی اس نے ٹائم دیکھا رات کے دو بج رہے تھے اسے بھوک کا احساس ہوا ایک دم اس کے ذھن میں حیا کا خیال آیا اس لڑکی نے کچھ کھایا ہوگا یا نہیں یہ سوچ آتے ہی روہان کا رُخ حیا کے روم کی طرف تھا جو برابر میں ہی تھا،
اس نے ہاتھ بڑھا کے دروازا کھولنا چاہا جو لوک تھا ہو سکتا ہے سوگئی ہو اور کچھ کھا لیا ہوگا روہان نے دل میں سوچا پر میں کیوں اتنا سوچ رہا اس کے بارے میں روہان سر جھٹک کے جانے لگا پر جا نہیں سکا
اس نے ہاتھ بڑھا کے لوک پر اپنی انگلی رکھی جس سے دروازے کا لوک کلک کی آواز سے کھول گیا اس نے اندر قدم رکھا اسے ایک پل کے لیے روم خالی لگا اتنے میں اس کی نظر نیچے گئی تھوڑے ہی فاصلے پر وہ سو رہی تھی کسی چھوٹے بچے کی طرح سمٹ کے اس کے چہرے پر اب بھی خوف تھا جیسے ڈرتے ڈرتے سوئی ہو
روہان کو خود پر غصہ آیا جو بھی تھا یہ لڑکی اس کی زمیداری تھی اور اس روم میں ایک بیڈ تک نہیں تھا روہان گٹھنے کے بل اس کے پاس بیٹھا روہان نے ہاتھ بڑھا کے اسے اٹھانا چاہا پر اپنا ہاتھ واپس پیچھے کھنچ لیا،
سنو اٹھو لٹل گرل روہان کو سمجھ نہیں آیا اسے کیا کہہ کر بلائے اس وقت اس کے منہ میں جو نام آیا اس نے اسی نام سے حیا کو پکارا،
اٹھو!!!! حیا گھری نیند میں تھی جب اسے اپنے کانوں میں کسی کی آواز سنائی دی اس نے مندی مندی آنکھیں کھولی سامنے روہان کو بیٹھے دیکھ وہ ایک دم اٹھ کے بیٹھ گئی اس کی آنکھوں میں خوف روہان آرام سے دیکھ سکتا تھا،
جی!!!!! حیا نے اپنا اسکاف ٹھیک کرتے ہوئے کہا روہان کی نظرے خود با خود اس کے اسکاف کی طرف گئی جو وہ پاکستان سے اب تک پہن کے بیٹھی تھی،
میرے ساتھ آو روہان بول کے کھڑا ہوگیا حیا بھی اس کے پیچھے کھڑی ہو گئی روہان روم سے باہر چلا گیا حیا بھی بغیر کچھ کہے اس کے پیچھے چلی گئی،
تم نے کچھ کھایا روہان نے کچن میں قدم رکھتے ہوئے حیا کی طرف دیکھا حیا نے نیچے منہ کیے نفی میں سر ہلایا
اچھا چلو فرج میں دیکھو کچھ ہو تو گرم کردو مجھے بھوک لگی ہے روہان بول کے کچن میں رکھی ٹیبل پر بیٹھ گیا،آپ یہ___کھائے گے حیا نے فریج میں سے سیلڈ نکال کے دیکھایا اس کے علاوہ فریج میں کچھ سبزی اور پھل وغیرہ تھے روہان نے ماتھے پر بل ڈھالے سیلڈ دیکھا پاکستان کے کھانے جو وہ اتنے دن سے کھا رہا تھا اس کے سامنے اسے اس وقت یہ سیلڈ بلکل بھی کھانے لائک نہیں لگا،
کچھ اور نہیں ہے روہان نے ماتھے بل ڈھالے حیا کی طرف دیکھا حیا کے نہ میں سے ہلانے پر روہان کھڑا ہوگیا سب نوکر جاچکے تھے اب اسے باہر سے ہی کچھ آرڈر کرنا تھا یہ تم کھالو روہان بول کے چلا گیا،
حیا کو روہان کا رویہ ہی سمجھ نہیں آیا خود نے روم سے نکلنے سے منا کیا اور خود کچن میں لے آیا حیا نے واپس سیلڈ کی طرف دیکھا واقعی سیلڈ تو اسے بھی پسند نہیں تھا اب کیا کرو،حیا نے سب کبنیٹ کھول کے دیکھے اسے پاستا مل گیا اس نے فریج سے سبزیا نکالی اب اسے پتا تھا اسے کیا بنانا ہے
**************
یس سر!!!!!! سلیوٹ مار کے حیدر آدب سے پیچھے کی طرف ہاتھ باندھے کھڑا ہوگیا
بہت بہت مبارک ہو میجر حیدر آپ نے سب بچوں کو سیف باہر نکال لیا جنرل راحیل محمود نے حیدر کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا،
جی سر اللّٰه کا شکر ہے بس اس سب کے پیچھے جو راجا صاحب تھا وہ اب تک غائب ہے وہ بھی مل جائے تو اسے بھی اس کے بیٹے کے پاس پہنچا دوں حیدر کی آنکھوں میں اب بھی غصہ تھا،
رلیکس ینگ مین وہ بھی جلد ہمارے ہاتھ لگ جائے گا ابھی میں نے تمہیں کسی اور کام کے لیے بلایا ہے جنرل راحیل محمود نے اپنی چئیر پر بیٹھے ہوئے کہا،بیٹھوں میجر حیدد آرام سے پھر کرتے ہیں بات بھی،
ان کی بات سن کے حیدر آرام سے بیٹھ گیا اسے بس اب اپنے اگلے میشن کا انتظار تھا،
میجر حیدر ہمیں اطلاع ملی ہے ایک گاؤں میں کچھ دہشتگرد ہیں جو عام لوگوں کے بیچ میں رہ رہے ہیں ان کے ارادے جو بھی ہے بہت خطرناک ہے تمہاری ٹیم کو وہاں جانا ہے ان کو پکڑنے نہیں ان پرنظر رکھنے وہ کس مقصد سے اس گاؤں میں رکے ہیں ان کے کیا ارادے ہیں سب معلوم کرنا ہے انہوں نے اپنی بات بول کے اپنے قابل آفسر کی طرف دیکھا
جی سر ہم چلے جاتے ہیں حیدر نے ان کی بات مکمل ہونے پر بس اتنا کہا،
اور ہاں وہ گاؤں بہت خوبصورت ہے شہر سے بہت دور ہے لوگ وہاں گھومنے جاتے ہیں آپ سب کو وہاں آرمی آفسر کی طرح نہیں بلکہ ایک عام انسان کی طرح جانا ہے یہ رہی اس کیس کی فائل جنرل راحیل محمود نے حیدر کے سامنے ایک فائل رکھتے ہوئے کہا،
اوکے سر کب نکلنا ہے حیدر نے فائل ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا،آج شام کو ہی کیوں کے جتنی جلدی ان کے آرادے معلوم ہوگے اتنی ہی جلدی ہم حالات پر قابو پا سکتے ہیں،
اوکے سر پھر میں چلتا ہوں ٹیم کو تیار کروں اور جانے کے لیے نکلے حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا جنرل راحیل محمود نے مسکرا کے حیدر کو دیکھا انہیں اپنے اس آفسر پر بہت ناز رہا ہے ہمیشہ،
all the best yung men
thanku sir
حیدر سلیوٹ مار کے آفس سے باہر آگیا اب اسے پھر سے ایک میشن پر جانا تھا
***************
اوف یہ کال لگ کیوں نہیں رہی اوپر سے بھوک سے برا حال ہو رہا ہے روہان نے موبائل بیڈ پر پھینک کے مارا اور روم میں یہاں سے وہاں چکر کاٹنے لگا،
حیا نے پاستا بنا کے ٹرے میں سب چیز رکھی اور اب اس کا رُخ روہان کے روم کی طرف تھا،
نوک کروں یا نہیں غصہ تو نہیں ہوں گے حیا نے روم کے باہر کھڑے ہوکے سوچا پھر اسے روہان کی بھوک کا خیال آیا اور اللّٰه کا نام لے کے دروازا نوک کیا،
یس کم ان اندر سے روہان کی آواز آتے ہی حیا نے ڈرتے ڈرتے اندر قدم رکھا،
روہان نے گیٹ سے حیا کو اندر آتے دیکھا اور اس کے ہاتھ میں موجود ٹرے بھی،
آپ کو بھوک لگی ہے یہ کھا لیں حیا نے تھوڑا ڈرتے ہوئے ٹرے آگے کی کہی یہ ٹرے اوڑ کے حیا کے چہرے پر ہی واپس نہ آجائے،
یہاں رکھ دو روہان کی آواز پر حیا نے حیرت سے اسے دیکھا خلاف معمول روہان نے غصہ نہیں کیا تھا حیا نے آرام سے ٹرے روہان کے سامنے رکھ دی،
تم نہیں کھاؤں گی حیا موڑ کے جانے لگی تو روہان کی آواز پر اسے رکنا پڑا اب وہ اسے کیا بتاتی کے روہان سے وہ کتنا ڈرتی ہے ساتھ بیٹھ کے کھانا تو دور کی بات،
جی___وہ میں حیا کی سمجھ میں نہیں آیا کیا کہے، کیا جی وہ میں بغیر رکے نہیں بول سکتی تم روہان نے اسے گھورا بیٹھو یہاں روہان کو خود نہیں پتا تھا وہ کیوں اس لڑکی کی اتنی فکر کر رہا ہے،
حیا چپ کر کے بیٹھ گئی اور روہان کو پلیٹ میں پاستا نکال کے دیا،پہلی چمچ منہ میں رکھتے ہی روہان کو مزہ آیا پاستا واقعی ٹیسٹی بنا تھا اس نے حیا کی طرف دیکھا جو نیچے نظرے جھکائے آرام آرام سے کھا رہی تھی،
روہان اسے کوئی چھوٹی سی لڑکی سمجھ رہا تھا اسے کوکنگ بھی آتی یہ اسے اب معلوم ہوا یہ چہرے سے اتنی معصوم کیوں لگتی ہے کیا واقعی یہ معصوم ہے روہان نے دل میں سوچا،،
یہ سب میں کیا سوچ رہا ہوں روہان نے اپنی سوچ کو جھٹکا اور خالی پلیٹ واپس ٹرے میں رکھی جو وہ سوچ کر دوران کھا چکا تھا،
سنو گرین ٹی بنا سکتی ہوں روہان نے حیا کو دیکھ کے پوچھا جو برتن لیے باہر جارہی تھی جو بھی تھا روہان کو اس لڑکی کو اپنے کام بولنا برا نہیں لگ رہا تھا،
حیا ہاں میں سر ہلا کے روم سے باہر آگئی روم سے باہر آکے حیا نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا جو اب بھی کانپ رہا تھا
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *