Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
وہ ٹریڈملز پہ دوڑ رہا تھا بلیک کلر کی بغیر آستین کی ٹی شرٹ جس میں اس کے مضبوط بازو صاف دیکھائی دے رہے تھے ماتھے پہ پسینے سے چپکے ہوئے بال صاف رنگت پہ بلو کلر کی آنکھیں اُسے دیکھنے والا اس کے سہر میں کھوں جاتا تھا پر اس کے اس حسین چہرے پہ چٹانوں جیسی سختی تھی اُسے دیکھ کے لڑکیاں آہیں بھر سکتی تھی پر کسی میں ہمت نہیں تھی کے کبھی اس کے پاس جاسکے، وجہ اس کے چہرے پہ لکھا نو لفٹ کا بورڈ تھا اس کے چہرے کے پتھر جیسے تاسر آگلے کو دور رہنے پہ مجبور کرتے تھے،
Boss!!!!!!
Boss!!!!!!!
اس بار سوزی نے تیز آواز میں کہا_______
Suzi you don’t see I am doing exercise!!!
روہان نے تھوڑے غصے میں کہا اسے اپنے کوئی بھی کام میں کسی کے دخل اندازی بلکل پسند نہیں تھی_____
Sorry Boss!!!
But Alberto sir want to sign a deal with you!!!!!!
سوزی نے روہان کو غصے میں دیکھ کے فوراً معذرت کی_
Than what can I do, I don’t have time today. Check the schedule and give appointment to him!!!!!!
روہان کے ماتھے پہ فوراً بل آگئے اس نے سوزی (جو کے اس کی پرسنل سکریٹری تھی) کی طرف دیکھ کے کہا_________
But sir they are very big dealer our company will benefit greatly!!!!
سوزی نے ڈرتے ڈرتے ایک بار پھر اپنی طرف سے سمجھانا چاہا______
I don’t care who big businessman, not more than Rohan Farooq Get lost!!!!
روہان نے اسے غصے میں جھاڑا اور باہر کی طرف اشارہ کیا____
اپنے بوس کو اتنے غصے میں دیکھ کے سوزی فوراً نو دو گیارہ ہو گئی___
روہان ٹریڈملز سے نچے اُترا اس کا سانس پھولا ہوا تھا پورا جسم پسینے میں بھیگا تھا___اس نے سامنے کی طرف دیکھا جہاں بڑا شیشہ لگا باہر کا منظر دکھا رہا تھا جہاں سے خوبصورت لندن صاف نظر آرہا تھا ٹوول سے اپنے بال خشک کرتے ہوئے وہ اس شیشہ کے پاس آکے کھڑا ہو گیا___آج لندن میں بزنس کی دنیا میں اس کا نام تھا ہر کوئی اس کے ساتھ بزنس کرنا چاہتا تھا پر اس کے چہرے پہ کوئی خوشی کی جگہ چٹانوں جیسی سختی تھی باہر جتنا خوبصورت منظر نظر آرہا تھا اس کے اندر اتنی ہی ویرانی تھی،
**********
وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا کے اس کے سامنے رکھا ہوا انٹرکام بجنے لگا،اس نے ہاتھ بڑھا کے انٹرکام اٹھایا،
میجر حیدر کم ٹو مائے آفس، انٹرکام میں سے جنرل راحل محمود کی بھاری آواز سنائی دی ،
اُوکے سر حیدر انٹرکام رکھتے کے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا اس کا رُخ جنرل راحل محمود کے آفس کی طرف تھا،
حیدر سر کہاں جارہے ہو آپ بلال نے آگے آکے اس کا رستہ روکا،
آپ سے مطلب میجر بلال جاؤ جاکے اپنا کام کرو،میں اپنا کام ہی تو کررہا ہوں بلال نے اپنے دانت نکالتے ہوئے کہا،
سامنے سے ہٹ جا ورنا بہت مار کھائے گا حیدر کی اب برداشت سے باہر ہو گیا تھا،
یہ لے اپنا موبائل جوتو اندر میٹنگ روم میں بھول آیا تھا میں تو یہ دینے ایا تھا پر بھلائی کا زمانہ نہیں ہے حیدر کا ہاتھ آگے کر کے اس نے موبائل اس پہ رکھا اور اُداس چہرے کے ساتھ وہاں سے چلاگیا،
سن بلال حیدر نے پیچھے سے اسے آواز دی ،پر وہ بغیر رکے چلاگیا، مجھے ایسے نہیں بولنا چاہیے تھا ایک بار اس کی بات تو سن لیتا حیدر کو خود پہ غصہ آیا اسے ایک دم یاد آیا میجر راحل محمود نے اسے بلایا تھا،چلو اس سے اکے بات کر لوں گا مان جائے گا حیدر سوچتا ہوا ان کے آفس کی طرف چل دیا،
May I come sir!!!!
Yes come in!!!!
سر راحل کی اجازت ملتے ہی حیدر اندر داخل ہوا جہاں جنرل راحل محمود کے علاوہ اور بھی سینئر آفسر موجود تھے،
سر!!!!!!! اندر آتے ہی اس نے سب آفسر کو سلیوٹ مارا اور آدب سے پیچھے کی طرف ہاتھ باندھے کھڑا ہوگیا،
میجر حیدر ہم نے آپ کو ایک!!!!!
نایک نہیں خل نایک ہوں میں ظلمی بڑا دُکھ نایک ہوں میں___
میجر راحل کی بات بیچ میں رہ گئی روم میں تیز تیز آواز آنے لگی سب آفسر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے حیدر نے بھی یہاں وہاں دیکھا کے آخر آواز کہا سے آرہی ہے
ایک دم آواز بند ہو گئی, کس کے پاس سے یہ آواز آئی جنرل راحل کو اپنی بات بیچ میں کٹ ہونے پہ غصہ آیا یہ آواز___
نایک نہیں خل نایک ہوں میں___
ابھی ان کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کے ایک بار پھر آواز آنے لگی اس بار آواز بغیر رکے آرہی تھی سب نے ایک ساتھ میجر حیدر کی طرف دیکھا
حیدر نے سب کو ایک ساتھ اپنی طرف دیکھ کے حیران ہوا ایک آفسر نے اس کی جیب کے طرف اشارہ کیا
اس نے جلدی سے جیب میں ہاتھ ڈھال کے موبائل نکالا سامنے ہی بلال کالنگ لکھا آرہا تھا حیدر نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کال کٹ کی___
میجر حیدر یہ سب کیا ہے جنرل راحل نے حیرانی سے کہا حیدر جیسے ڈیسنڈ آفسر کی کال ٹون ایسی ،جب کے باقی سب آفسر کے چہرے پہ دبی دبی اسمائل تھی،
سوری سر حیدر نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا آج تو اس کمینے کو نہیں چھوڑوں گا حیدر نے دل میں پکا ارادہ کیا اور اپنا موبائل سائیلنٹ کیا،
ہاں تو ہم نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ مری کی طرف موسم خراب ہونے کی واجہ سے سکول بس وہاں پھنس گئی ہے ان ٹیچر اور بچوں کا کل سے کچھ پتا نہیں ہے آپکو وہاں جاکے ان کو ڈھونڈنا ہے اور سیف واپس لے کے آنا ہے آپ اپنے ساتھ کسی بھی دو آفسر کو لےجائے اور یاد رہے موسم اب بھی وہاں کا بہت خراب ہے آپ کو آج رات نکلنا ہے تاکہ صبح تک آپ وہاں پہنچ جائے آپ کو ٹھیک دو گھنٹے بعد نکلنا ہے جنرل راحل نے پوری بات تفصیل سے بتائی،اور جانے کا آرڈر دیا،
اوکے سر میں ابھی تیاری کر کے نکلتا ہوں میں اس میشن میں اپنے ساتھ میجر بلال اور میجر احمد کو لیکے جانا چاہوں گا سر،جیسے آپ کو ٹھیک لگے آفسر میں امید کرتا ہوں اس میشن میں بھی آپ کامیاب ہوکے لوٹوگے جنرل راحل محمود نے حیدر کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے کہا انہیں حیدر سے بہت امید تھی کے وہی اس میشن کے لیے بیسٹ تھا،
ان شاءالله سر میشن ضرور کامیاب ہوگا میں اپنی تیاری کروں سر حیدر نے سلیوٹ مار کے اجازت چاہی،
Ok young men now go and best of luck for your mission!!!!
Thank you sir!!!!!
حیدر جیسے ہی آفس سے باہر آیا سامنے ہی دیوار سے ٹیک لگائے بلال کھڑا تھا اس کی آنکھوں میں شرارت تھی اور بتیس کے بتیس دانت نظر آرہے تھے مزا آیا ،بلال نے وہی سے آواز لگا کے پوچھا،
ابھی بتاتا ہوں تجھے کمینے حیدر غصے سے بھرا ہوا اسکی طرف آیا،بلال نے فوراً دوڑ لگائی
بچاوُ بچاوُ کوئی مجھ معصوم کو بچاو وہُ تیز تیز چلاتا ہوا بھاگ رہا تھا اور حیدر بھی آج اسے چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا،کوئی مجھے اس جلاد سے بچاُووووووو
احمد جو کے کینٹن سے برگر لے کے باہر آیا اس کے کانوں میں بچاوُ بچاوُ کی آواز آئی اس نے آواز کی سمت دیکھا جہاں اسے دور سے بلال نظر آیا اس کے پیچھے دوڑتا ہوا حیدر،
اس نمونے نے اب کیا کردیا، احمد نے دل میں سوچا اتنے میں بلال آکے اس کے پیچھے چھوپ گیا
احمد تو میرا یار ہے دلدار ہے سچے والا پیار ہے مجھے بچالے میرے بھائی بلال نے اس کے پیچھے چھپنے کی ناکام سی کوشش کرتے ہوئے کہا اب اتنے چوڑے شانوں اور لمبے قد والا بلال کہاں اس کے پیچھے چھپ سکتا تھا،
توہٹ جا آگے سے احمد آج میں اسے نہیں چھوڑو گا اس کمینے نے سینئر کے سامنے میرا مزاق بنایا،
مار لے میں نے کب روکا احمد فوراً سے سامنے سے ہٹنے لگا اسے تو مزا آتا بلال کو مار پڑتی تو،
اسے کیسے مار لے تو میرا دشمن ہےکیا جو اس جلاد کو مجھے دے رہا ہے بلال نے اسے واپس پکڑ کے اپنے سامنے کیا،تجھے کیا لگتا احمد کی وجہ سے تو بچ جائے گا حیدر نے اسے اپنے لمبے ہاتھوں سے پکڑا پر احمد اب بھی بیچ میں تھا
یار چھوڑ دے معاف کردے اسے اب نہیں کرے گا یہ کسی کو تنگ احمد کو آخر بلال پہ ترس آگیا اس نے بلال کی سائیڈ لی،
یہ تنگ نہیں کرے گاتو اس کے بارے میں بات کر رہا حیدر نے اپنا غصہ بھول کے حیرت سے بلال کی طرف اشارہ کیا،
ہاں ہاں میں اس کی بات کر رہا بول اب نہیں کرے گا نہ تو تنگ ورنہ بہت مارے گا یہ احمد نے فورآً بلال کا ہاتھ پکڑ کے ہلایا،
ہاں پکا اب نہیں کروں گا بلال نے فوراً بچوں کی طرح سرہلایا ،تو بول رہا اس لیے چھوڑ رہا اس کمینے کو حیدر نے احمد کو دیکھتے ہوئے کہا اور اسے چھوڑ کے پیچھے ہوگیا،
تھنکیوں سو مچ میرے یار تو نے مجھے بچا لیابلال جھٹ سے احمد کے گلے لگا اب میں چلا بلال نے دور ہوتے ہوئے کہا اور جلدی سے واپس چلا گیا
تھوڑا دور جاکے اس نے آواز لگائی، تو ایک اور لے لینا ہاتھ میں پڑا برگر اس نے دیکھاتے ہوئے کہا اور وہاں سے بھاگ گیا،
احمد نے حیرت سے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا جہاں برگر ہوا کرتا تھا پھر اس نے حیدر کی طرف دیکھا جس کے چہرے پہ تنزیا مسکراہٹ تھی اور لے سائیڈ حیدر بول کے چلا گیا
جب کے احمد اب تک یہ سوچ رہا اس کے ساتھ ہوا کیا ہے وہ تو سکون سے برگر کھارہا تھا
***********
ائیکسرسائز کرنے کے بعد وہ اپنے روم میں آیا اندر داخل ہوتے ہی اس کی نظر سامنے لگی اپنی خوبصورت پینٹنگ پہ گئی ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد وہ سیدھے ہاتھ کی طرف موڑا ٹوول بیڈ پہ رکھ کے اپنی وارڈروب کھولی اپنے لیے ایک سوٹ سلیکٹ کیا اسے بیڈ پہ رکھا اور فریش ہونے چلا گیا،
وہ فریش ہو کے آیا اس نے گھڑی کی طرف دیکھا اسے دیر ہو رہی تھی آفس کے لیے جلدی سے تیار ہوا اپنے بال کو جیل سے سیٹ کیا خود پر پرفیوم اسپرے کیا ایک آخری نظر خود پہ ڈھال کے روم سے باہر آیا سامنے ہی نیو طرز سے بنی اسٹائیلش سڑھیاں تھی اسکا روم دوسری منزل پہ تھا اس کے روم کے برابر میں ایک اور روم تھا جسے اس نے لائیبریری بنایا ہوا تھا باقی سب روم نیچے تھے اسے سکون پسند تھا اس لیے اس نے جب یہ بنگلا بنوایا تو اپنا روم اُوپر بنایا وہ سڑھیوں سے نیچے آیا اسے آتا دیکھ سب نوکر الرٹ ہوگئے کیوں کہ اس کے غصے سے سب واقف تھے
سوزی نیچے کھڑے اپنے بوس کا ویٹ کر رہی تھی کے سامنے سے روہان آتا نظر آیا صاف رنگت پہ بیلو آئیز چہرے پہ سیریس تاُثر تھا بالوں کو اوُپر کی طرف سیٹ کیے وہ بہت ہنڈسم لگ رہا تھا سوزی نے ایک ٹک اپنے بوس کو دیکھا پتا نہیں کس کے نصیب میں ہونگے بوس سوزی نے حسرت سے سوچا،
روہان نیچے آکے ڈائینگ ٹیبل پہ بیٹھا ایک نوکر بھاگ کے گیا اس کے لیے جوس لے آیا ایک نے اسے نیوز پیپر لا کے دیا سوزی بھی اپنے ہوش میں آتے ہی جلدی سے پاس آکے کھڑی ہوگئی اور آج کی میٹنگ کے بارے میں بتانے لگی کے اتنے میں روہان کا فون بجنے لگا اس نے ہاتھ کے اشارے سے سوزی کو آگے بولنے سے روکا اور ہاتھ بھڑا کے موبائل اُٹھایا سامنے موجود شخص کی کال دیکھ کے اس کے ماتھے پہ بل آگئے اس نے کال یس کر کے موبائل کان سے لگایا،
مجھے پتا ہے یہ تمہارا بریک فاسٹ ٹائم ہے اس لیے میں نے اس ٹائم کال کی ہے اب یہ مت کہنا کے تم بزی ہو فون میں سے فاروق صاحب کی باروپ آواز گونجی ،کہیں کیا کہنا ہے آپ کو کس کام کے لیے کال کی روہان نے بغیر سلام دعا کے سیدھے فون کرنے کا مقصد پوچھا، مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے میں تمہارا زیادہ ٹائم نہیں لوں گا دس منٹ سکون سے بات کرلو مجھ سے فاروق صاحب نے آرام سے اپنے بات کہی آج یہ نوبت آگئی کے اُنہیں اپنے بیٹے سے بات کرنے کے لیے اجازت لینی پڑرہی تھی،
جی کہیے روہان نے ہاتھ سے اشارہ کیا سب نوکر سمیت سوزی بھی وہاں سے چلی گئی،کیا تمیہں نہیں لگتا کہ تمہیں اب شادی کرلینی چاہیے ،نہیں مجھے ایسا بلکل نہیں لگتا،بلکہ مجھے تو شادی نام سے ہی نفرت ہے ،روہان نے بغیر کسی تاُثر کے جواب دیا ،پر میں تمہارے لیے ایک لڑکی دیکھ چکا ہو حیا بہت پیاری ہے مجھے وہ بہت عزیز ہے اس سے تمہیں شادی کرنی ہے،فاروق صاحب بھی اس کے باپ تھے،نہ مجھے شادی کرنی نہ اس کا شوق آپ بس میرا ٹائم ضائع کر رہے، میں تم سے پوچھ نہیں رہا تمہیں بتا رہا ہوں،
اورآپ کوایسا کیوں لگتا ہے کہ میں آپ کی مرضی سے شادی کروں گا،اس کے ماتھے پہ غصے سے بل آگئے،تم بھول رہے ہو کہ آج جس بزنس کی وجہ سے تم میں اتنی اکڑ ہے وہ میرے پیسے سے اسٹارٹ کیا تم نے،فاروق صاحب نے اسے جتانا ضروری سمجھا ،پر وہ میں آپ کو کب کا دے چکا ہوں واپس اس کی آواز میں حد سے زیادہ غصہ تھا
ہاں پر اس وقت میں پیسے نہیں دیتا تو آج تم اس مقام پر نہیں ہوتے،اور میں تمہارا باپ ہوں تمہاری شادی کرنے کا حق ہے مجھے،اور تم میرا یہ احسان اتارنا چاہتے تو تمیں حیا سے ہی شادی کرنی پڑے گی ،انہیں معلوم تھا کہ وہ اب ان کا کوئی احسان نہیں لیتا بزنس کے وقت بھی اس نے فاروق صاحب کے بہت اسرار پہ لیے پیسے پر قرض کی صورت میں اور جلد ہی واپس بھی کر دیے پر اُنہوں نے یہ بات بس اسے شادی کے لیے راضی کرنے کے لیے کی،
اوکے اگر آپ کا احسان اتارنے کا یہی طریقہ ہے تو میں تیار ہوں کب کرنی ہے شادی ،اس نے غصے سے دانت پییستے ہوے جواب دیا،فاروق صاحب کا تیر ٹھیک نشانے پہ لگا تھا
وہ میں تمہیں بتا دوں گا تم یہ بتاوں پاکستان کب آوُ گے تاکہ اس حساب سے ہم شادی کی تیاری اسٹارٹ کرے،فاروق صاحب نے خوش ہوتے ہوئے کہا ان کے لیے اتنا بہت تھا کے روہان مان گیا تھا باقی حیا تھی ہی اتنی پیاری کے وہ اسے جلد اکسیپٹ کر لیتا،
کوئی تیاری نہیں کرنی سادگی سے نکاح ہوگا بس،نکاح کی تاریخ جب تہ کرلو توبتا دینا میں آجاوُں گا،اس نے سرد تاُثرات سے اپنی بات کہی،
اچھا ٹھیک ہے پر میں قریبی رشتے داروں کو بلاوُں گا اور کچھ لڑکی والوں کی طرف سے ہونگے میں تمہیں تاریخ فکس کر کے بتا دوں گا،وہ اس کی بات مان گئے تھے کیوں کے وہ مان گیا تھا اتنا بھی بہت تھا کہی انکار ہی نہ کردے،
اوکے!!!!!وہ فون رکھ کے کھڑا ہو گیا___حیا___اس نے زیرے لب نام دھرایا___اب مجھے پاکستان کی اس دو ٹکے کی لڑکی سے شادی کرنی پڑے گی__اس نے ٹیبل پہ رکھا جوس سامنے پھنک کے مارا،سب نوکر جلدی سے واپس آئے انہوں نے آج سے پہلے کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا اپنے بوس کو،
حیا____اس نے پھر نام لیا اس کے نام لینے میں بے انتہاُ نفرت شامل تھی
***************
اب کیا مجھے نظر لگائے گا، احمد جو کے بلال کو کب سے گھور رہا تھا آخر بلال سے رہا نہیں گیا،تجھے وہ برگر ہضم نہیں ہوگا مجھے کتنی بھوک لگ رہی تھی اور تو،احمد بولتے کے ساتھ ہی کھڑا ہوگیا جیسے اس کو مارے گا،
میں نے تم دونوں کو لڑنے کے لیے نہیں بلایا، حیدر نے غصے سے دونوں کو گھورا،
پھر کیوں بلایا ہے،بلال نے آخر پوچھ ہی لیا اس نے احمد کو بلکل اگنور کیا،تم دونوں کوچلنا ہے میرے ساتھ،حیدر کا چہرہ بلکل سریئس تھا،
پر کہا چلنا ہے !!!!!!!حیدر کو سیریئس دیکھ کے بلال اور احمد بھی سیریئس ہوگئے،حیدر نے ان دونوں کو اندر ہونے والی بات بتائی،،،ٹھیک ہے کب نکلنا ہے احمد بلکل آٹینشن ہوگیا بلال نے بھی حیدر کی طرف دیکھا،ہمیں آج رات نکلنا ہے ٹھیک دو گھنٹے بعد تاکہ صبح کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ہم وہاں پہنچ جائے،آپ دونوں جاوُں اور اپنی تیاری کروں،
یس سر!!! دونوں نے ایک ساتھ کھڑے ہوکے سلیوٹ مارا اور باہر چلے گئے آپس میں کتنی بھی مستی کرے پر جب بات آتی تھی ملک کی حفاظت عوام کے تحافظ کی تو وہ لوگ مجاہد بن جاتے ان کے دل میں اس وقت ایک ہی بات ہوتی،غازی یا شہید
ان کے اپنے کوئی نام نہیں!!!!
ایک نام کے سارے بندے ہیں!!!
حیدر نے موبائل نیکالا سامنے ہی برہان کی کافی مس کال آئی ہوئی تھی حیدر نے کال بیک کی ہاں بھائی آپ کو کوئی کام تھا،حیدر نے فون ملتے ہی کہا، تم کب آوُ گے حیدر مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ،فون میں سے برہان کی آواز آئی،بھائی میں ایک کام سے جارہا ہوں اس لیے آج نہیں آسکتا گھر اور پتا نہیں کب آوں میں واپس کتنے دن لگے کچھ اندازا نہیں ہے اگر ضروری بات ہے آپ ابھی کر سکتے میں فری ہوں،
ابھی حیدر جائے تو پتا نہیں کتنے دن لگے اسے واپس آنے میں برہان نے کچھ دیر سوچا پھر اپنی بات اسٹارٹ کی حیدر تسلی سے میری پوری بات سننا پہلے اسکے بعد کوئی فیصلہ کرنا،
حیا کے لیے ایک رشتہ آیا ہے میرے پاٹنر ہیں فاروق صاحب ان کا بیٹا روہان فاروق لندن میں رہتا ہے بہت اچھا لڑکا ہے،برہان نے آرام آرام سے اپنی بات کہی،
حیدر نے پہلے آرام سے پوری بات سنی جب برہان چپ ہوئے تو حیدر نے کہا بھائی حیا ابھی چھوٹی ہے پڑھ رہی ہے آپ ان لوگوں کو مناکردیں،
حیدر حیا کی برتھڈے آرہی ہے آگلے منتھ وہ پورے اٹھارہ سال کی ہوجائے گی اور رہی پڑھائی کی بات تو اس معاملے میں فاروق صاحب سے میری بات ہوگئی ہے ہماری حیا کا ایڈمیشن ہم لندن میں کر وائینگے،برہان کو کیسے بھی کرکے حیدرکو منانا تھا،
بھائی پھر بھی ہماری حیا بہت معصوم ہے اٹھارہ کی ہوکے بھی اس کا دل ایک بچے کی طرح ہے میں اسے اتنی دور نہیں جانے دے سکتا،حیا کے اتنی دورجانے کے خیال سے ہی حیدر کو بےچینی نے آگھیرا،
حیدر تم دل سے سوچ رہے ہو ایک بار دماغ سے سوچو تم اتنے اتنے دن سے گھر آتے ہو میں پورے دن گھر نہیں ہوتا تمہاری بھابھی کو تم جانتے ہو گڑیا اکیلی ہوگئی ہے اور اسے لندن جیسی جگہ پڑھنے کا موقع مل رہا ہے اور یہاں سے بھی اس کا رشتہ آیا یے انور کا اگر تمہیں اتنی دور نہیں بھجنا گڑیا کو تو____برہان کی بات بیچ میں ہی رہ گئی
انور کہیں سے بھی میری گڑیا کے لائک نہیں ہے آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے بھائی حیدر کے لہجے میں حیرت اورغصہ دونوں شامل تھا،
میں وہاں کر نہیں رہا گڑیا کا رشتہ بس بتا رہا ہوں تم بھی سمجھو روہان سے اچھا لڑکا ہمیں نہیں ملے گا تم ایک بار اچھے سے اس بارے میں سوچو پھر مجھے جواب دینا برہان نے اسے تھوڑا ٹائم دینا ہی بہتر سمجھا،
ٹھیک ہے بھائی میں آپ کو اس کا جواب آکے دوں گا ابھی رات کو مجھے نکلنا ہے ایک میشن کے لیے حیدر نے آرام سے کہا،چلو ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا ____فی امان لللہ___ برہان کے فون رکھنے کہ بعد حیدر گھیری سوچ میں گم ہوگیا
*************
وہ لوگ ٹھیک دو گھنٹے بعد نکل گئے تھے گاڑی میجر رفیق چلا رہا تھا حیدر اس کے پاس بیٹھا تھا احمد اور بلال پیچھے،رفیق کا تو نہیں بتایا تھا تم نے احمد نے رفیق کی طرف دیکھ کے حیدر سے پوچھا،میں نے ہی حیدر سر سے ریکویسٹ کی تھی کہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلے حیدر کی جگہ خود میجر رفیق نے ہی جواب دیا جس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھی،
رفیق کا دس سال کا بیٹا بھی اُسی اسکول بس میں تھا جو کل سے لاپتا ہے اس لیے رفیق کے کہنے پر میں اسے ساتھ لے آیا، حیدر نے رفیق کی طرف دیکھ کے کہا جو ہونٹ بہنچے ڈرائیونگ کر رہا تھا،تم فکر نہیں کروں سب بچے ٹھیک ہوگے بلال نے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے اسے تسلی دی، رفیق نے صرف سر ہلانے پر اتفاق کیا ،
بلال احمد تم لوگوں کو کوئی معلومات ملی بچوں کی کڈنیپنگ کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے حیدر نے رفیق کی حالت دیکھتے ہوئے ٹوپک چینج کیا،
ایک آدمی جس نے ایک بچی کو اکیلے دیکھ کے رستے سے اُٹھایا تھا وہ اب ہمارے قبضے میں ہے ایک کیمرے کی فوٹیج میں اس کا چہرہ آگیا تھا اس میشن سے فارغ ہوکے اس کی اچھے سے خدمت کرے گے مجھے یقین ہے وہ بہت کام کا بندہ ہے ابھی وہ میجر عدنان کے حوالے ہے جب تک وہ اسکی خاطرداری کر رہا ہوگا بلال نے اسے اب تک کی کاروائی بتائی،
چلو آکے دیکھتے ہے اسے___ وہ ہال کرے گے اس کا آئندہ کسی کا بچہ اُٹھانے سے پہلے سو بار سوچے گا حیدر نے پیچھے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،گاڑی تیزی سے جارہی تھی،
یا تو وہ بس موسم خراب کی وجہ سے کہی پھس گئی یا کوئی اور وجہ ہے احمد نے اپنی رائے دی،
کل شام کو جب واپس آرہے ان کی بس خراب ہوگئی اس بس کے ڈرائیور نے فون کر کے بتایا تھا اس کے بعد ان سے رابطہ نہیں ہو سکا سگنل نہیں شاید وہاں رستہ خراب کی وجہ سے وہاں کوئی نہیں جاسکتا اس لیے اسکول والوں نے فوج سے مدد مانگی ہے رفیق نے انہیں وہ سب بتایا جو اسے پتا تھا،
چوبیس گھنٹے ہوگئے ہے بچوں کا کچھ پتا نہیں ہے اللّه ان سب کی حفاطت کرے حیدر کے بات پر سب نے آمین کہا،
جسے جسے وہ منزل کے قریب پہنچ رہے تھے ٹھنڈ بھڑتی جارہی تھی وہ سب اچھے سے پیک ہوکے آئے تھے انہیں پتا تھا وہاں بہت ٹھنڈ ہےاپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان بھی لائے تھے اور مڈیکل کا سامان بھی وہ بچے اور ٹیچر انہیں کس حالت میں ملتے انہیں کچھ اندازہ نہیں تھا،رفیق نے تو نہ بولنے کی قسم کھائی ہوئی تھی،
انہیں اس وقت کچھ یاد نہیں تھا نہ فیملی نہ دوست ان کے ذھن میں بس یہ تھا ان سب کو ڈھونڈنا ہے اور پھر ہلی کوفٹر کی مدد سے ان سب کو وہاں سےنکالنا تھا،اس وقت ان سب کے دل ان کی سلامتی کی دعا کر رہے تھے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *