Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کیسے لوگ ہیں وہ جو نئے کرائے دار آئے ہیں اچھے ہیں کیا چاچی نے پان چباتے ہوئے دعا کی طرف دیکھا جو نیچے نظرے جھکائے اس کے پیر دبانے میں مصروف تھی،
دعا کی آنکھوں میں آج دن والا منظر آیا اگر وہ لڑکا آکر اسے نا بچاتا تو اس سے آگے تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی دعا نے ایک نظر چاچی کو دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا،
امیر بھی ہیں کیا چاچی کی آنکھوں میں لالچ تھا کتنے لوگ ہیں ویسے کیا گھومنے آئے ہیں یہاں چاچی نے ایک کے بعد ایک کئی سوال کردیے دعا نے ایک نظر اپنی چاچی کو دیکھا اور واپس اپنے کام میں مصروف ہوگئی،
کیا ہوگیا جواب دے چاچی نے اپنا پیر دعا کو مارا جس سے وہ پلنگ سے نیچے گرتے گرتے بچی،میں جب سے بول رہی ہوں منہ بند کرکے بیٹھی ہے گونگی ہے کیا چاچی نے دعا کے بال مٹھی میں پکڑے جس سے اس کی آنکھوں میں پانی آگیا،
ارے میں تو بھول گئی تھی کے تو اب بول نہیں سکتی ہاہاہا چاچی نے اس کے بال چھوڑ کے اپنے ہی ہاتھ پر تالی ماری اور ہسنے لگی،
اس نے شکایتیں نظروں سے اپنی چاچی کو دیکھا جو اس کی تکلیف پر ہنس رہی تھی پر تکلیف بھی تو اسی نے دی تھی،
کیا ایسے دیکھ رہی ہے تیری یہ ہری ہری ہیرنی جیسی آنکھیں ہیں نا ان کو بھی نکال لوگی بھول گئی میرے سامنے ایک بار زبان چلائی تھی کیسے میں نے جلتے ہوئے کوئلے تیرے ہلک میں ڈھال دیے تھے اپنی یہ آنکھیں کسی اور کو دیکھانا،جو تجھ سے ڈرتا ہو چل پیر دبا چاچی نے اس کے بالو کو پکڑ کے جھٹکا دیا اور واپس لیٹ گئی،
کیسی عورت تھی یہ جس نے اس پر کیا کیا ظلم نہیں کیے تھے اور اسے احساس تک نہیں تھا وہ تو کب کا یہاں سے چلی جاتی اگر اسے اس جان کی فکر نا ہوتی جس کا پتا بس چاچی کو معلوم ہے،
کس کس سے اس نے مدد نہیں مانگی پر ہر ایک نے اسے گندی نظر سے دیکھا وہ بھلے ان کا پڑوسی ہو یا گاؤں کا سرپنچ یا یہاں کا دروغا ہی کیوں نا ہو سب نے اسے گندی نظروں سے دیکھا کسی نے اس کی مدد نہیں کی وہ کیسے ڈھونڈے اس جان کو جو پتا نہیں کہاں ہے ذندہ بھی ہے یا اس سے آگے دعا سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی،
چاچی جیسی بھی تھی کم سے کم یہاں اس کی عزت تو محفوظ تھی وہ ہر نماز میں اللّٰه سے اس کی زندگی مانگتی وہ جہاں بھی ہو ٹھیک ہو بس اس نے نظر اٹھا کے چاچی کی طرف دیکھا جو سو چکی تھی،وہ آرام سے اپنے پلنگ سے اٹھی اور اپنے روم میں آگئی،
****************
آج کا دن کیسا تھا حیدر نے بلال کی طرف دیکھا،ہم تو پورا گاؤں گھوم پھر کر آگئے بہت مزا آیا ہے نا احمد بلال نے احمد کو ایک آنکھ ماری،
یہ چچھوری حرکتیں میرے ساتھ نہیں کر احمد نے سوفے پر پڑا کشن اٹھا کر اسے مارا،
میں تم سے گھومنے کے بارے میں نہیں پوچھ رہا حیدر نے دونوں کو آنکھیں دیکھائی،تو ہی تو کل سے بول رہا تھا ہم یہاں گھومنے آئے ہیں ہم یہاں گھومنے آئے ہیں بلال نے بلکل حیدر کی نکل اتارتے ہوئے کہا،
انٹی چائے بن گئی تو لے آئے احمد نے سوفے پر بیٹھے بیٹھے ہی آواز لگائی،انٹی کس کو کہا اب تجھے چائے نہیں ملے گی چل صمد نے چائے کی ٹرے نیچے ٹیبل پر رکھ کے کہا،
رات کا وقت تھا وہ لوگ سب لاوئنچ میں موجود تھے آج ان کے ہاتھ کیا کیا سراگ لگے اس بارے میں ہی بات کر رہے تھے،
یار مجھے تو سب سے پہلے دے چائے گھوم گھوم کر بہت تھک گیا میں تو بلال نے اپنا ہاتھ صمد کے آگے کرتے ہوئے کہا،صمد اسے چائے دیتا اس سے پہلے وہ چائے حیدر نے اپنے قبضے میں لے لی،
یار حیدر چائے کا مزاق نہیں بلال کا تو چہرا ایک دم بجھ گیا،میں مزاق کر رہا اتنی دیر سے یا تو حیدر نے چائے کا پہلا سپ لیا،یہ تو نے اچھا نہیں کیا بلال نے حیدر کو منہ بنا کر کہا،
اب ایسا منہ تو نا بناؤ میں نے سب کی چائے بنائی ہے صمد نے ایک اور کپ بلال کو دیا جس سے بلال کا چہرا جگمگا اٹھا،اور میری چائے احمد نے چھوٹے سے بچے کی طرح بولتے ہوئے صمد کو دیکھا،
آنٹی سے لے لو اپنی چائے صمد نے بلال کو چائے دیتے ہوئے کہا،انٹی کو ہی تو بول رہا ہوں احمد نے ہنستے ہوئے کہا اور ٹرے میں سے ایک کپ جھپٹ لیا،
اب کام کی بات کرے تم سب کا آج کا کوٹا پورا ہوگیا تو حیدر نے سب کو آنکھیں دیکھائی وہ جب سے کام کی بات کرنا چاہ رہا تھا پر ان سب کی اپنی مستی ختم نہیں ہو رہی تھی،
جی جی حیدر سر آپ کہو ہم سب سنے گے بلال نے فوراً اپنا رُخ حیدر کی طرف کیا اور نیچے نظرے جھکا کر ایسے بیٹھ گیا جیسے اس سے زیادہ شریف انسان پوری دنیا میں نہیں ملے گا،
حیدر کا دل تو کیا ہاتھ میں موجود کپ اس کے سر پر دے مارے پر بیچ میں دوستی کا لحاظ آجاتا ہے،
حیدر تو اسے چھوڑ مجھ سے پوچھ لے احمد نے چائے پیتے ہوئے پہلے بلال کو گھورا پھر حیدر کی طرف دیکھا،بلال نے اپنے کندھے اچکائے اور چائے پینے لگا جیسے یہاں اس کی نہیں کسی اور کی بات ہو رہی ہے،
ہم نے آج آدھا گاؤں تو دیکھا ہوگا ہمیں کوئی ایسا نہیں لگا جس پر شک ہو سکے پر ایک آدمی بہت عجیب تھا اپنا چہرہ ہر وقت شال سے ڈھانپ کر گھومتا ہے،احمد نے اپنی بات بول کے حیدر کو دیکھا،
ایسا ایک آدمی تو ہم نے بھی دیکھا تھا جو کچھ سامان لینے آیا اس نے اپنے چہرے کو اس حد تک چھپا رکھا تھا کے اس کا چہرہ دیکھنا ممکن نہیں تھا صمد نے بھی باتوں میں اپنا حصہ دھالا،
حیدر نے دونوں کی بات سن کر ہاں میں سر ہلایا،بلال سب کو سن رہا تھا اور اپنی چائے پینے میں مگن تھا جیسے آخر میں یہ ہی اپنا فیصلہ سنائے گا،
میں اس کا پیچھا کرتا پر حیدر سر پتا نہیں کہاں غائب ہوگئے میں ان کو ڈھونڈنے لگا کے وہ بندہ بھی غائب ہوگیا صمد نے حیدر کی طرف دیکھا،
اور میں کسی بہانے سے اس کا چہرہ دیکھتا اس سے پہلے یہ جناب اس کے پاس پہنچ گیا اس سے گپے مارنے احمد نے بلال کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا،
میں اسی کے پیچھے گیا تھا اور میں نے معلوم کیا وہ آدمی کہا رکا ہے حیدر نے ایک پیپر آگے کیا صمد نے حیرت سے حیدر کو دیکھا حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگی،جب تم یہ سوچ رہے یہ ادمی کون ہے ایسے کیوں چہرہ چھپایا ہوا جب تک میں اس کے پیچھے جا چکا تھا کے کہی وہ آنکھوں سے اوجھل نا ہوجائے حیدر نے صمد کی نظروں کا مطلب سمجھ کے فوراً جواب دیا،
اور میں گپے مارنے نہیں گیا تھا یہ دیکھ اس کی تصویر جو میں نے اسے باتوں میں لگا کر اپنے خفیہ کیمرے سے لی بلال نے اپنا موبائل آگے کیا جیسے احمد نے جلدی سے پکڑا اور تصویر دیکھنے لگا یہ تو نے کب لی میں نے تو نہیں دیکھا احمد نے حیرت سے تصویر کو دیکھتے ہوئے سوال کیا،
واپس کر میرا موبوئل میں تو ایسا ہی ہوں ابھی حیدر کو تو نے کیا کہا اسے چھوڑ بلال نے اپنا فون احمد سے واپس لیا اور اسے گھورا،
اب ہم مزاق بھی نا کرے احمد نے حیدر کو آنکھ ماری جس کا مطلب تھا مصیبت میں تو گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی،
ہاں ہاں سب سمجھ رہا ہوں میں تم سب کی باتیں بلال نے اپنا موبائل واپس اپنی جیب میں ڈھالا،
اب بس کرو اور آگے کا پلین سنو حیدر نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا اور آگے کیا کرنا ہے اس بارے میں بتانے لگا وہ سب بھی اب دھیان سے اسے سن رہے تھے،پر ان میں سے کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا کے ان میں سے ایک کی زندگی کیا رخ لینے والی ہے،
****************
وہ جاگنگ سے واپس آیا حیا کا روم اب تک بند تھا،کیا یہ لڑکی اب تک سو رہی ہے روہان نے کچھ سوچ کے اپنے قدم اس کے روم کی طرف بڑھائے،
حیا جو گہری نیند میں تھی بار بار بجتے دروازے سے اس کی آنکھ کھلی اس نے جلدی سے سر پر دوپٹہ لیا اور دروازا کھولا سامنے ہی روہان اپنے جاگنگ والے ڈریس میں ملبوس تھا ،
جی!!!!! حیا کو سمجھ نہیں آیا صبح ہی صبح وہ اس کے روم میں کیوں آئے،میں نے تمہیں کیا کہا تھا تیار رہنا آج تمہارا ایڈمیشن کروانا ہے روہان نے تھوڑا سختی سے کہا رات والا نرم لہجا اس وقت کہی نہیں تھا،
جی جی میں ابھی جلدی سے تیار ہو جاؤ گی میرا الارم پتا نہیں کیوں نہیں بجا حیا نے نیچے نظرے جھکائے جواب دیا اور اپنی یاداشت پر افسوس کیا وہ کیسے بھول گئی وہ یہاں پڑھنے آئی تھی،
پندرہ منٹ میں مجھے نیچے ملو تم وہ بھی بلکل ریڈی روہان نے حیا کی طرف دیکھ کر کہا اور نیچے چلا گیا،
اف کیا پہنوں اس نے اپنے سارے کپڑے دیکھے ایک تو سب نے مل کے اتنے ہیوی کپڑے رکھ دیے اب یہ میں یونیورسٹی پہن کر جاؤ،
اسے ایک لائٹ آسمانی کلر کا سوٹ نظر آیا ہاں یہ ٹھیک ہے جلدی سے سوٹ لے کے واشروم میں چلی گئی،
روہان دس منٹ میں نہاں کر تیار ہوا اور نیچے آیا حیا اب تک اپنے روم میں تھی روہان نے گھڑی کی طرف دیکھا پندرہ منٹ ہوگئے تھے،
ایک تو یہ لڑکی اسے حیا پر غصہ آیا ابھی اس نے پہلی سیڑھی پر ہی قدم رکھا تھا کے حیا نیچے آتی ہوئی دیکھائی دی،
لائٹ آسمانی کلر میں وائٹ اسکاف باندھے وہ نیچے آتی ہوئی واقعی کوئی پری لگ رہی تھی،روہان کی بلو آئیز نے نظرے ہٹانے سے انکار کیا،
چلیں!!!حیا کی آواز پر روہان کا سکتہ ٹوٹا جو اب اس کے بلکل پاس کھڑی تھی،کہاں چلے پہلے یہاں بیٹھوں روہان نے ڈائننگ ٹیبل کی طرف اشارہ کیا،اور اس کے پاس آکر حیا کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی ایک چئیر کھینچ کے بیٹھ گیا
اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر ایک سے ایک کھانے موجود تھے سب نوکر جلدی سے آگے پیچھے ہوگئے کوئی کچھ لا کر رکھ رہا کوئی کچھ یہ سب دیکھ کر وہ کنفیوژ ہوئی،اس نے کہا دیکھا تھا آج تک یہ سب بھیا تو اس کے بہت لاڈ اٹھاتے تھے پر ناشتا وغیرہ بھابھی اسی سے بنواتی تھی،
کیا ہوا شروع کرو پہلے ہی دیر ہو رہی ہے روہان نے حیا کو تھوڑا غصے سے کہا ویسے بھی اسے آفس کے لیے لیٹ ہو رہا تھا،
روہان نے ایک بریڈ کھا کر جوس پیا وہ ناشتے میں ذیادہ کچھ نہیں کھاتا تھا،اب وہ حیا کو دیکھ رہا تھا جو نظرے جھکائے آرام آرام سے پراٹھا کھانے میں مگن تھی روہان نے آج ایک نیو کوک رکھا تھا جو پاکستانی کھانے بنا سکے اور اسی سے بول کے اس نے پراٹھے بنوائے تھے،
جب اس کا پراٹھا ختم ہوا تب اس نے نظرے اٹھائی روہان بڑی فہرست سے اسے دیکھ رہا تھا،جی کھالیا حیا نے واپس نظرے جھکالی وہ روہان کی طرف زیادہ دیر نہیں دیکھ پاتی تھی،
یہ جوس پیو اور جلدی سے باہر آؤ روہان نے جوس کے گلاس کی طرف اشارا کیا اور باہر چلا گیا،اس کا پیٹ تو بھر چکا تھا پر روہان غصہ نہ کرے اس ڈر سے جلدی سے ایک سانس میں جوس ختم کیا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے،
آنکھوں پر گلاسس لگائے گاڑی اسٹارٹ کیے وہ حیا کے انتظار میں تھا جب وہ آکر اس کے پاس بیٹھی
کچھ دیر میں ہی گاڑی لندن کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی گاڑی رکنے پر حیا نے نظرے اٹھا کر دیکھا وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے تھے،
حیا گیٹ کھول کر نیچے اتری روہان نے گاڑی کو لاک کیا اور آکر حیا کا ہاتھ پکڑا وہ جو یونیورسٹی دیکھنے میں مگن تھی اپنے ہاتھ پر کسی کی سخت پکڑ پر اس نے اپنے برابر میں دیکھا جہاں روہان کھڑا تھا،
بغیر حیا کی طرف دیکھے اس کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھ گیا،سب فارملٹیز پوری کرکے وہ حیا کو لیے باہر آگیا اب کل سے تمہیں جوائن کرنا ہے اس نے واپس گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا اب اس کا رُخ شاپنگ مال کی طرف تھا،
حیا نے نظرے اٹھا کے دیکھا سامنے اسے روڈ ہی نظر آئی روہان گاڑی چلانے میں مگن تھا جب اس کا موبائل بجا اس نے بلو ٹوتھ کان میں لگائے کال اٹینڈ کی،
روہان تم ایسے غیر زمیدار کیسے ہوسکتے ہو تم نے حیا کو لے جاتے وقت کسی کو بتانا گوارا نہیں سمجھا فاروق صاحب کی غصے سے بھری ہوئی آواز آئی روہان نے ایک نظر حیا کو دیکھا اور کال کاٹنے لگا اتنے میں فاروق صاحب کی آواز واپس آئی،
روہان اگر تم نے کوئی جواب دیر بغیر کال کٹ کی تو میں لندن آجاؤ گا سمجھے تم فاروق صاحب بہت غصے میں تھے ورنہ آج سے پہلے انہوں نے روہان پر غصہ نہیں کیا تھا،
آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا روہان نے بغیر کسی تاثر کے سوال کیا،تمہیں لگا وہ نمبر بند کر لوگے تو میں تمہارا نیو نمبر نہیں ڈھونڈ سکتا یہ نہیں بھولو میں تمہارا باپ ہوں،فاروق صاحب نے واپس غصے میں جواب دیا،
وہ یہاں ہے میرے پاس میری بیوی ہے میں جہاں دل کرے لے کر جاؤ اسے روہان نے ایک نظر حیا کو دیکھا جو اب اسے ہی دیکھ رہی تھی،
تم سے اس کی شادی ہوگئی اس کا مطلب یہ نہیں کے اس کے سب رشتے ختم ہوگئے اس کے بھائی اس کے لیے فکر مند ہیں تم حیا کی بات کرواو مجھ سے فاروق صاحب نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ دی،
روہان نے کان سے بلو ٹوتھ نکال کر حیا کو دی حیا نے نہ سمجھی سے دیکھا پھر اسے کان میں لگایا،
ہیلو!!! اسے تو یہ بھی نہیں پتا تھا کے کال پر کون ہے،ہیلو حیا بیٹا میں بول رہا ہوں فاروق انکل فاروق صاحب کے لہجے میں اب غصہ کہی نہیں تھا بس پیار ہی پیار تھا،
جی انکل آپ کیسے ہیں حیا نے روہان کی طرف دیکھا اور واپس ان سے بات کرنے لگی فاروق صاحب اس سے ایک ایک سوال پوچھ رہے تھے جس کا حیا بہت اچھے سے جواب دے رہی تھی،
نہیں انکل بہت اچھے ہیں یہ میرا بہت خیال رکھتے ہیں حیا نیچے نظرے جھکائے ان سے باتیں کر رہی روہان نے ایک نظر اسے دیکھا حیا نے نظرے اٹھا کر روہان کو دیکھا اور واپس بلو ٹوتھ اسے دی،
مجھے اس بات کی خوشی ہے کے تم اس کا خیال رکھ رہے ہو یاد رکھنا اسے کوئی تکلیف نہیں دینا فاروق صاحب کی بات سن کے اس نے فون کاٹ دیا،
گاڑی کو ایک مال کے سامنے روکا چلو اندر حیا کو بول کے روہان اندر کی طرف بڑھ گیا، حیا روہان کے پیچھے جانے لگی کے اس کی شرٹ تھوڑی سی گاڑی کے دروازے میں آگئی،
اس نے اپنی شرٹ نکالنے کی کوشش کی پر گاڑی لاک تھی اس نے نظر اٹھا کے روہان کو آواز دینا چاہی جو اسے کہی نظر نہیں آرہا تھا کہاں چلے گئے حیا نے نم آنکھوں سے مال کے گیٹ کی طرف دیکھا اس جگہ گاڑیاں ذیادہ تھی لوگ کم اگر وہ کہینچ کے نکالتی تو اس کی شرٹ پھٹ جاتی،روہان جب تک ساتھ تھا وہ خود کو سیف محفوظ کر رہی تھی اور اب اسے ہر ایک چیز سے خوف محسوس ہو رہا تھا
*********
بلال اٹھ جا کب تک سوئے گا احمد نہاں کے آیا تو بلال اب تک سو رہا تھا،بلال کب سے اٹھا رہا ہوں میں احمد نے تھوڑا تیز آواز میں کہا،پر بلال صاحب ٹس سے مس نہیں ہوئے،
ویسے تو ہمیشہ مجھ سے پہلے اٹھ کے بیٹھ جاتا ہے آج کیا ہوا احمد کو تشویش ہوئی،کیا ہوا تم لوگ اب تک تیار نہیں ہوئے حیدر نے روم میں جھانک کر کہا،
یار میں تو کب کا ریڈی ہوں اسے پتا نہیں کیا ہوگیا ہے کیا کھا کر سویا ہے اٹھ نہیں رہا احمد نے حیدر کی طرف دیکھا،
کیا بلال اب تک نہیں اٹھا جب بھی کوئی کام ہو وہ تو ہمیشہ پوری دنیا سے پہلے اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے حیدر بولتے کے ساتھ اس کے پاس آیا احمد بھی چل کر بیڈ کے پاس آیا،
بلال!!!حیدر نے اس کے اوپر سے رضائی اٹھائی اس کو پورا چہرا لال ہو رہا تھا بلال کیا ہوا اٹھ حیدر نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا اسے تو تیز بخار ہے حیدر نے فکر مندی سے احمد کی طرف دیکھا،
رات تک تو یہ بلکل ٹھیک تھا اچانک کیا ہوا احمد بھی جلدی سے اپنے شوز اتار کر بلال کے دوسری طرف آکر بیٹھا،میں اتنا بے خبر سو رہا تھا کے مجھے معلوم نہ ہوسکا اس کی طبیعت خراب ہے احمد کو خود پر غصہ آیا،
تو رک میں ٹھنڈا پانی اور پٹیا لاتا ہوں حیدر جلدی سے باہر گیا،حیدر سر کب تک نکلنا ہے میں بلکل ریڈی ہوں صمد نے حیدر کو روم سے باہر آتے دیکھ فوراً کہا،
صمد بلال کو تیز بخار ہے تم جاؤ جلدی سے گاؤں میں جو بھی ڈاکٹر ملے اسے لے آؤ حیدر نے فرج میں سے آئس پیک نکال کر صمد سے کہا،
کیا بلال کو بخار ہے صمد کے چہرے پر بھی پریشانی آگئی، میں ابھی جاتا ہوں صمد بولتے ہی باہر چلا گیا اور حیدر روم میں جہاں احمد آرام آرام سے اس کا سر دبا رہا تھا،
حیدر نے ایک چئیر کھینچ کے پاس کی اور اس پر بیٹھ کر ٹھنڈے پانی کی پٹیا بلال کے سر پر رکھنے لگا،بلال اٹھ آنکھیں تو کھول احمد نے اس کا گال ہلایا بلال کی بند آنکھیں ان دونوں کے لیے پریشانی کا باعث تھی
سر یہ ڈاکٹر آگیا صمد ایک آدمی کو لیے اندر آیا جو عام لباس میں تھا کہی سے نہیں لگ رہا تھا وہ ڈاکٹر ہے،
سر گاؤں میں بس ایک ہی ڈاکٹر ہے میں ان کو کلینک سے لے کر آیا ہوں حیدر کی نظروں کا مطلب سمجھ کر صمد نے جلدی سے وضاحت دی،حیدر ہاں میں سر ہلا کر سائڈ میں کھڑا ہوگیا،
پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے موسم کی وجہ سے ان کو بخار آگیا ہے آپ یہ دوائی ان کو دے یہ جلدی ٹھیک ہو جائے گے،پر ڈاکٹر یہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہا احمد نے پریشانی سے بلال کو دیکھا،
دیکھے یہ شاید پوری رات بخار میں رہے ہیں اس لیے یہ گہری نیند میں چلے گئے ابھی جو آپ نے ان کو ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کی اس سے انہیں کچھ دیر میں ہوش آ جائے گا،ڈاکٹر کی بات سن کے ان کو تھوڑی تسلی ہوئی،
صمد نے ڈاکٹر کو باہر تک چھوڑ کے اسے اس کی فیس دی جب وہ واپس اندر آیا تو حیدر اب بھی اس کے سر پر پٹی کر رہا تھا،میں دودھ گرم کرکے لاتا ہوں صمد بول کے واپس روم سے باہر چلا گیا،
بلال آنکھیں کھول!!!! بلال نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھولی تو حیدر نے اسکا گال ہلایا،تم سب یہاں کیا کر رہے ہو بلال نے با مشکل اپنی آنکھیں کھول کر سب کو دیکھا صمد بھی دودھ کا گلاس لیے سامنے کھڑا تھا،
تجھے بخار تھی تو بتا نہیں سکتا تھا احمد نے اس کے کندھے پر ایک مکا مارا آاا جس سے بلال کے منہ سے ایک آہ نکلی،ہاتھ پیچھے کر پہلے ہی اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے حیدر نے احمد کے ہاتھ کو پیچھے کیا،
اچھا بیٹھ یہ دودھ سے دوائی لے احمد نے اسے بیٹھایا حیدر نے اسے دوائی دی اور صمد نے دودھ کا گلاس آگے کیا،مجھے ایسا لگ رہا ہے میں کسی ریاست کا شہزادہ ہوں اور تم میرے غلام بلال نے شرارت سے کہا پر سچ تو یہ تھا اسے اپنے دوستوں پر فخر تھا،
دیکھ حیدر اسے بیماری میں بھی سکون نہیں ہے اور تو مجھے بول رہا میں اسکا لحاظ کروں احمد کو لفظ غلام پر غصہ ہی آگیا جب کے حیدر نے اگنور کیا کیوں کے بلال اور شرارت نہ کرے ایسا ممکن نہیں،
بلال تو آرام کر ہم لوگ جارہے کام پر جو ہم نے پلین کیا تھا حیدر نے اسے واپس بیڈ پر لیٹایا،میں یہاں اکیلا کیا کروں گا میں بھی ساتھ ہی جاؤ گا بلال نے ان سب کر دیکھا،
ابھی تیری طبیعت ٹھیک نہیں ہے رستے میں کہی بے ہوش ہوگیا تو کون اٹھا کر لائے گا ویسے بھی تو اتنا بھاری ہے احمد نے اس کو گھورتے ہوئے کہا،
حیدر یار !!! بلال نے بیچارگی سے حیدر کو دیکھا،احمد تو باہر جا روم سے کیوں اس کو تنگ کر رہا ہے حیدر نے احمد کو غصے سے دیکھا اور باہر کی طرف اشارا کیا،
احمد نے غصے سے بلال کو دیکھا جو اسے آنکھ مار رہا تھا کمینہ نا ہو تو احمد منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے باہر چلا گیا،تو نے ابھی دوائی لی ہے تو آرام کر جب تک ہم تھوڑی دیر میں آجائیں گے اور کھانے پینے کا بھی سامان لے آئیں گے ٹھیک ہے حیدر نے اسے آرام سے کہا جس پر بلال نے اچھے بچوں کی طرح ہاں میں سر ہلایا،
اسے بہت تھکان محسوس ہورہی تھی اس لیے وہ حیدر کی بات مان کر لیٹ گیا صمد نے اس پر رضائی ڈھالی،حیدر اور وہ دونوں باہر آ گئے.
جاری ہے
