Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کیا ہوا بات کی تم نے برہان سے شادی کی حیا کے کچن میں جاتے ہی انور نے جلدی سے حنا سے سوال کیا ،
اوووو! !! اچھا جبھی میں کہو کے آج میرے اس بھائی کو میری یاد کیوں آگئی،
ارےے بہناں تم تو ناراض ہو گئی میں تو اپنی بہن سے ملنے آیا تھا سوچا اس کام کا بھی پوچھ لو،
رہنے دو رہنے دوایسے بول رہے جیسے جانتی نہیں میں تمہیں، حنا نے اس پہ طنز کیا اور انور کے برابر والے صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھ گئی،
یار کیا کروں جب سے اس حور پری کو دیکھا ہےاور تم نے مجھے آسرا دیا ہے کے یہ حور پری میری ہو سکتی ہے جب سے راتوں کی نیند اُڑ گئی قسم سے انور نے خباست سے کہتے ہوئے کچن کی طرف دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے حیا گئی تھی اور اب نظر نہیں آرہی تھی،
زیادہ ہیرو بننے کی ضرورت نہیں ہے میں اس کی شادی تم سے اس لیے نہیں کروا رہی کے تم اس کے بھائیوں کی طرح اس کے لاڈ اُٹھانا شروع ہو جاؤ ، بھولنا مت ،میں اسکی شادی تم سے کیوں کروا رہی، تاکہ تم اُسے نوکرانی بنا کے رکھو اور میرے دل کو سکون آے ،جب سے اس گھر میں آئی ہوں ہر کوئی حیا حیا کرتا ہے میرا تو شوہر بھی میرا نہیں ہے ہر بار اس کی وجہ سے برہان مجھ پہ شور کرتے ،حناجب سے یہاں آئی تھی اس نے ہر ایک کا پیار دیکھا تھا حیا کے لیے حیا کو اتنی سی تکلیف کیا ہوتی پورا گھر اس کے اگے پیچھے ہوجاتا بس اُسے ایک طرح سے حیا سے حسد ہو گئی کیوں کہ بہن بھائی اس۔ کے تھے نہیں ماں بچپن میں ہی چل بسی ایک ڈیڈ ہی تھے اگے پیچھے،اُس نے کہا دیکھا تھا اتنا پیار جو حیا کے نصیب میں آیا تھا ،
آرے بہن تم بلکل فکر نہیں کرو میں تمہارا سگا بھائی نہ سہی پر میں ہو تو تمہارا فسٹ کزن، ایسا بدلہ لوگا تمہارا کے وہ پل پل بس اپنی موت مانگے گی،مجھے تو بس اس کی خوبصورتی نے اپنا دیوانہ بنایا ہے پیار ویار نہیں ہے مجھے میری زندگی میں تو پتا نہیں کتنی لڑکیاں آتی جاتی ہیں پر ایک بات ہے اس کے جیسی خوبصورت لڑکی آج تک نہیں دیکھی اس نے حیا کو سوچتے ہوئے ٹھنڈی آہیں بھری،
بس جو بھی کرو اس کے ساتھ پر وہ مجھے خوش نظر نہ آئے بتا رہی ہو، آج بھی میڈم کالج جا رہی تھی میں نے منا کر دیا اور اُس کے کانوں میں یہ بات اچھے سے ڈھال دی کے بہت جلد ہم تمہاری شادی کر رہے ،
اچھا پھر کیا کہا اُس نے،
کہنا کیا تھا ڈرپوک سی تو ہے ڈر گئی رونے لگی کے پڑھنا ہے، جیسے پڑھ لکھ کے ڈاکٹر بن جائے گی ،حنا نے نخوست سے کہا ، آج صبح والی بات سوچتے ہوئے اُس نے سب انور کو بتایا،
تو تم کب کرو گی بات تیس کا تو میں ہو گیا ہو اور کب تک انتظار کروں،
آج ہی رات کرو گی بس تم ٹینشن نہیں لو حیا کی شادی تو تم سے ہی ہوگی ،
ایک دم کچن سے برتن گرنے کی آواز آئی، اوفففف اب پتا نہیں کیا نقصان کیا اس لڑکی نے حنا غصے سے کہتی ہوئی کھڑی ہو گئی اب اُس کا رخُ کچن کی طرف تھا
******
حیا چائے ٹرے میں رکھ کے باہر لارہی تھی جب حنا کی آخری بات اُس کے کانوں میں پڑی اُس کے ہاتھ بری طرح کپکپانے لگے، ٹرے ایک دم ہاتھ سے چھوٹ گئی،کپ سمیت ساری گرم چائے حیا کے پیر پہ گرگئی ،وہ اپنا پیر پکڑ کے بیٹھتی چلی گئی،
کیا نقصان کر دیا اب،کوئی کام ڈھنگ سے بھی ہوتا ہے،حنا غصے سے کہتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی، جب اُس کی نظر نیچے پیر پکڑکے بیٹھی حیا پہ پڑی جس کی دونوں آنکھیں لبالب پانی سے بھری ہوئی تھی ہونٹوں کو بہینچے وہ درد کو برداشت کرنے کی ناکام سی کوشش کررہی تھی،
وووہ بھابھی چائے گر۔ ۔گرگئی حیا۔ نے ڈرتے ڈرتے نظرےجھکائے اپنی بات بڑی مشکل سے کہی،جب کے درد سے تو جان نکل رہی تھی،
ہاں اور تم کربھی کیا سکتی ہو پوری زندگی میرا ہی نقصان کیا ہے تھوڑا اور سہی، حنا بغیر اُس کے درد کی پرواہ کیا ایک بار پھر بولنا اسٹارٹ ہو گئی،
ارےے کیوں ڈانٹ رہی ہو بیچاری کو دیکھوں کتنا درد ہو رہا ہے اسے پہلے کمرے میں تو لےکے چلو ،انور جو حنا کے پیچھے پیچھے کچن تک آگیا تھا اُس نے حیا کو دیکھتے ہوئے مصنوعی ہمدردی سے اپنی بات کہی،
چلو کھڑی ہو کمرے میں چلو ابھی تمھارے بھائی آگئے تو اُن کو لگےگا پیچھے سے میں تم پہ ظلم کرتی ہوں حنانے غصے سے اُس پہ حکم جاری کیا،یہ کیسے جائے گی بیچاری،اس سے تو دیکھوں کھڑا بھی نہیں ہوا جارہا،میں اسے اٹھا کے روم میں چھوڑ آتا ہو ، انور نے خباست سے حیا کو دیکھا اور کہنے کے ساتھ ہی اُس کے قریب آیا،جسے دیکھ کے حیا پیچھے کھسک گئی،
نہ۔نہ۔نہیں می۔می۔میں خود چلی۔ی۔ ی جاؤں گی حیا نے کپکپاتے لبوں سے اپنی بات کہی بیشک وہ بہت معصوم تھی اُسے نہیں پتا تھا باہر کے لوگ کیسے ہیں، کیا اچھا ہے، کیا برا، پر وہ ایک لڑکی تھی پھر کیسے نہ پہچانتی اپنے پہ پڑنے والی غلط نظر کو، اور یہ اُس کی بھابھی کا کزن اُسے جیسے دیکھتا تھا حیا کو اس کی نظروں سے بہت خوف آتا تھا،
واہ نخرےتو دیکھوں کھا نہیں جائے گا تمہیں میرا بھائی،تم تو چپ رہو بہن وہ ابھی تکلیف میں ہے اُوپر سے تم غصہ کررہی ہو،میں چھوڑ آتا ہو انور پھر سے اُس کر قریب جانے لگا،حیا نے اٹھنے کے کوشش کی پر تکلیف اتنی تھی کے اُس سے اُٹھا نہیں گیا اس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے اس نے دل سے دعا کی، اللّه میرے بھیا کو بھیج دو،
کیا ہو رہا ہے یہاں ایک دم حنا کے پیچھے سے کسی کی آواز آئی
***************
حیا ابھی بہت چھوٹی ہے اور کتنی معصوم ہے اتنی جلدی اُس کی شادی کیسے کر دو اور حیدر وہ تو کبھی نہیں مانے گا حیا کی اتنی جلدی شادی پہ، فاروق صاحب کے جانے کے بعد برہان کے ذہن میں یہی سب گھوم رہا تھا،
پر روہان سے اچھا لڑکا ہماری حیا کو نہیں ملے گا اتنی سی عمر میں اُس نے اتنا بڑا بزنس کھڑا کرلیا ہے اور حیا کی وجہ سے کیا پتا وہ مان جائے ہماری کمپنی کی ایک شاخ اگر لندن میں کھول گئی تو ہمارا بزنس بہت آگے پہنچ جائے گا،
کیا میں اپنی گڑیا سے زیادہ اہمیت اپنے کام کو دے رہا ہو نہیں ہرگز نہیں وہ میری گڑیا ہے معصوم سی میں اس کا بھلا ہی سوچوں گا اور وہ لندن جیسی جگا اپنی اسٹڈی مکمل کر سکتی ہے اور ہارون جیسا لڑکا ہاتھ سے نکل جائے یہ بھی ٹھیک نہیں میں حیدر سے ایک بار بات ضرور کروں گا ،
کیا پتا حیدر سمجھ جائے وہ بھی گڑیا کا بھلا ہی چاہتا ہے، برہان نے یہ سب سوچ کے خود کو مطمئن کیا،اس کی نظر جب گھڑی پہ پڑی تو وہ کھڑا ہو گیا لنچ ٹائم ہو گیا اُسے گھر جانا چاہیے
****************
آپ کا ملایا ہوا نمبر اس وقت بند ہے ،حیدر نے کوئی دسوی بار نمبر ملایا تھا، اب اس کے چہرے پہ پریشانی تھی،
کس کو کر رہا ہے بار بار فون کیا ہوا سب ٹھیک ہے نہ، احمد جو اُس کے سامنے بیٹھا کب سے نوٹ کر رہا تھا آخر بول پڑا،
یار گڑیا کو کر رہا ہو اس کی کال آئی تھی، اٹھاتا اُس سے پہلے ہی کٹ گئی،اب نمبر بند جارہا ہے، حیدر نے پریشانی سے کہا اس کے لہجے میں حیا کے لیے پیار فکر کیا نہیں تھی ،
اچھا ہو سکتا ہو بیٹری لو ہو گئی ہو تو ٹینشن نہیں لے وہ ٹھیک ہوگی، احمد نے اُسے تسلی دی
پر وہ ایک دم کھڑا ہو گیا اُس نے اپنے گاڑی کی چابی اٹھائی اُس کے ہر ہر انداز میں جلد بازی تھی، اب کہاں جارہا ہے تو، احمد نے اس کے ایک دم اٹھنے پہ پوچھا جب کہ وہ اچھے سے جانتا تھا وہ اب کہاں جائے گا،
یار میں گڑیا کے پاس جارہا ہو ایک بار اُسے دیکھ لو سکون آجائے، تو یہاں سب دیکھ لینا حیدر نے ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے کہا،
ٹھیک ہے جا،اب ایک گھنٹہ تجھے جانے میں لگے گا ایک آنے میں،اور حیا سے مل کے دو گھنٹے ویسے ہی گئے، یعنی تو اب رات تک واپس آئے گا احمد نے انگلی پہ حساب لگاتے ہوئے کہا،
ہاں ہاں جلدی آجاؤں گا یارتوبس اُس بلال نامی بلا کو سمبھال لینا پلیززززز اُسے پتا لگ گیا تو کمینہ اپنا سب کام چھوڑ کے میرے پیچھے آجائے گا
ہاہاہا !!!!! ہاں تو جا میں اُسے دیکھ لوں گا احمد نے ہنستے ہوئے کہا،ٹھیک ہے میں نکلتا ہوں کہتےکے ساتھ ہی حیدر اپنے آفس سے باہر آگیا اب اُس کا رخ اپنی گاڑی کی طرف تھا
جب کے احمد بھی کھڑا ہو گیا وہ جس کام سے یہاں آیا تھا وہ تو بھول گیا، حیدر اور اُس کی گڑیا ،جیسے راجا کی جان اُس کے طوطے میں ہوتی ہے ایسے ہی حیدر کی حیا میں تھی یہ سوچتے ہی احمد کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی
***************
جس کام کا میں نے کہا تھا وہ ہوا،محل نما کوٹھی پہ عالیشان سے صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھے ہاتھوں میں موجود جلتی ہوئی سگار کو اس نے ہونٹوں سے لگایا اور دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے اُس نے اپنے سامنے موجود کھڑے اپنے آدمی سے سوال کیا،
نہیں راجا صاحب !!!!ابھی نہیں ہوا پر جلدی ہو جائے گا وہ آدمی سر کو جھکائے مودب سا کھڑا تھا اور اُس نے تھوڑا ڈرتے ڈرتے اپنی بات کہی،
کیا!!!!!! ابھی تک تم سے یہ چھوٹا سا کام نہیں ہوا تمہیں پتا ہےنہ ہمیں سست لوگوں سے کتنی نفرت ہے اپنے آدمی کی بات سن کے سامنے موجود حیوان نما صفت انسان کہ چہرے پر غصہ دکھائی دینے لگا،
راجا صاحب ہم جلدی ہی آپکا کام کر دینگے بس آرمی والے بہت چوکنے ہو گئے ہے اُن کی ہر جگہ نظر ہے ہم نے ان کی نظروں سے بچاکے دس بچے اٹھا لیے ہیں، اس آدمی نے جلدی سے اپنی صفائی دینا ،ضروری سمجھا کیونکہ پتا تھا سامنے بیٹھا شخص ایک منٹ میں کسی کی بھی جان لے لیتا ہے،
تم لوگوں نے اب تک دس بچے ہی اٹھائے ہیں جب کہ تمہیں پتا ہے اس بار کتنا بڑا آرڈر ہے مجھے نہیں پتا ہر حال میں مجھے پچاس بچے چاہیے سمجھے اور یاد رہے سب پندرہ سال سے کم عمر ہو میں اپنے ہاتھ سے یہ آرڈر جانے نہیں دے سکتا کتنے سالوں کے بعد آج میں کامیاب ہوا ہوں، اُس شیخ کے ساتھ کام کرنے کے لیے میں نے کیا نہیں کیا اور آج جب اس نے مجھے اتنا بڑا آرڈر دیا ہے تو تم سب آرمی کا رونا رو رہے ہو ،آرمی
ہاہاہا !!!! غصے سے بولتے بولتے آخری لفظ پہ راجا صاحب نے زور سے قہقہ لگایا، یہ آرمی کچھ نہیں کر سکتی ہمارا پتا ہے کیوں ،راجا صاحب نے بولتے ہوئے اپنے آدمی کی طرف سوالیاں نظروں سے دیکھا اور کھڑے ہو کے سگار کو پھر سے ہونٹوں سے لگایا آنکھیں بند کر کے اندر کی طرف لمبا سانس کھینچا اور جب آنکھیں کھول کے اُس نے دھواں باہر کی طرف پھینکا تو اُس کی آنکھوں میں موجود شیطانیت کو دیکھ کر اُس آدمی کے پورے جسم میں کپکپی دوڑ گئی،
کیوں کے ہماری عوام بہت بیوقوف ہے، کسی پہ بھی بھروسہ کر لیتی ہے بچی کا ڈرائیور ہو، یہ گھر کا نوکر،دور کا رشتےدار ہی کیوں نہ ہو کسی کے ساتھ بھی اپنے بچے یا بچی کوبھیج دیتے اور بھیجے وقت یہ تک نہیں سوچتے کے سامنے موجود شخص اُن کے بچے کا رکھوالا نہیں ہمارا آدمی ہے،
ہاہاہا !!!! اور سب سے بڑی بات ہمیں کسی بھی بچے کی انفارمیشن کے لیے بھاگ دوڑ نہیں کرنی پڑتی بس فیس بک کھول لو ہماری بیوقوف عوام سب اس میں خود ڈھال دیتی ہے آج میرے بیٹے کی سالگرہ ہے، آج میری بیٹی پہلی بار اسکول جائے گی ، آج ہم فیملی کے ساتھ گھومنے جا رہے ، آج میرا بیٹا اپنے اسکول والوں کے ساتھ پکنک پہ جارہا ہے، وغیرہ وغیرہ اب آرمی ایک ایک کے گھر جاکے پھرا دینے سے رہی،
Blody nonsence !
اس حیوان صفت آدمی جس کی عمر تقریبا پینتالیس کے قریب ہوگی اُس نے حکارت سے کہتے ہوئے جلتے ہوئے سگار کو نیچے پھینک کے اپنے جوتے کی نوک سے مسل دیا،اور واپس اپنے آدمی کی طرف دیکھا پانچ مہینے کے اندر میرا کام ہو جانا چاہیے ورنہ اس سگار کی جگا اگلی بار تمہاری گردن ہوگی، اس نے اپنے آدمی کی نظرے سگار پہ موجود دیکھ کے اسے وارن کیا،
راجا صاحب ہم جلدی ہی یہ کام کر دینگے ہمارے آدمی ہر جگہ پھیلے ہوے ہے راجا صاحب کی بات سن کے اس آدمی کی گردن میں گٹھلی سی ڈوب کے ابھری،اس نے جلدی سے اپنی بات کہی
سمجھدار ہو، جبھی تم میرے خاص آدمی ہو ،راجہ صاحب نے اس کا شانہ تھپتھپایا اور اپنی آرام گاہ کی طرف چل دیے
***********
کیا ہو رہا یہاں!!! پیچھے سے آنے والی آواز پہ حنا اور انور دونوں ایک ساتھ موڑے ،جب کے حیا نے بھی نظرے اُٹھا کے آنے والے کو دیکھا،
،سامنے آرمی آفیسر کی یونیفارم پہنے ماتھے پہ بکھرے بال اور چہرے پہ سنجیدگی لیے حیدر کھڑا تھا،حیدر نے پہلے حنا کو دیکھا پھر انور کو اُسے نیچے بیٹھی ہوئی حیا نظر نہیں آئی،جب کے حیا تو بس اپنے دل و جان سے پیارے بھیا کو دیکھ رہی تھی جو اُس سے دور ہوتے ہوئے بھی اُس سے دور نہیں ہوتے تھے جب بھی حیا کو ضرورت پڑی اپنے بھیا کو اپنے پاس پایا، بھیا!
حیدر کے کانوں میں جیسے ہی اپنی گڑیا کی آواز آئی وہ جلدی سے آواز کی سمت آیا، جہاں اُس کی گڑیا آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسوں لیے اُسے ہی دیکھ رہی تھی اور اپنے ہاتھوں سے اس نے اپنے پیر کو پکڑا ہوا تھا،
انور جلدی سے سر کُھجاتے ہوئے سائڈ میں کھڑا ہو گیا،
کیا ہوا گڑیا، حیدر جلدی سےگڑیا کے پاس آکے گُٹھنے کے بل بیٹھ گیا یہ کیسے لگی ،حیدر نے حیا کے پیر کی طرف پریشانی سے دیکھا ، اور اپنی گڑیا کے آنسوں صاف کرنے لگا،
وہ وہ۔۔۔۔ یہ چائے بنا رہی تھی میں نے کہا بھی تھا کے رہنے دو میں بنا لوگی پر یہ خود ضد کر کے کچن میں آگئی اور خود پہ چائے گرالی،حنا نے جلدی سے جھوٹ بولا وہ اچھے سے جانتی تھی حیا کو لےکے حیدر کے جذبات،اور حیدر کا غصہ بھی،
حیا جلدی سے حیدر کے قریب ہو گئی اور اس کی شرٹ کو مُٹھی میں قابوں سے پکڑ کے اپنی آنکھے زور سے بہینچ لی حیدر کے آنے سے اُسے تحفظ کا احساس ہوا تھا،
ڈرو نہیں گڑیا میں ہوں نا کیا ہوا ہاں یہ تو چھوٹی سے چوٹ ہے ابھی ٹھیک ہو جائے گی اور میری گڑیا تو بہت بہادر ہے حیدر اسے اپنے ساتھ لگائے اس کا سر تھپتھپاتے ہوے تسلی دے رہا تھا جب کے حیدر کو اس وقت یہ تکلیف اپنے اُپر محسوس ہو رہی تھی،
یہ کیا ہوا گڑیا کو، برہان چہرے پہ فکر لیے کھڑا تھا جو ابھی آفس سے آیا تھا کچن سے آتی ہوئی آوازوں کی وجہ سے اسی سمت آگیا،
بس انکی ہی کمی تھی اب ہو گا ڈرامہ اسٹارٹ،حنا منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگی،لیکن اُس کی بڑبڑاہٹ اتنی ضرور تھی کے پاس کھڑے انور کے کانوں میں پڑگئی، انور نے اُس کی طرف بیچارگی سے دیکھا،حیا کو چھونے کا موقع ہاتھ سے جاتے دیکھ اُسے بہت افسوس ہو رہا تھا اب حیا کو ہاتھ لگانے کا مطلب تھا اپنی موت کو خود دعوت دینا،
کچھ نہیں تھوڑی سی چوٹ ہے حیدر نے اپنے بڑے بھائی کو دیکھتے ہوئے کہا پر اس وقت حیدر کے چہرے پہ حد سے زیادہ سنجیدگی تھی،تو یہاں کیوں بیٹھے ہو اندر لےکےچلو گڑیا کو برہان نے پاس آکے گڑیا کے سر پہ پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا،حیا تو اپنے بھیا کے کندھے سے لگے رونے کا شغول پورا کررہی تھی،
حیدر نے اُسے اپنے ہاتھوں میں اُٹھایا اور اُسے لیے اندر حیا کے روم میں آیا اسے بیڈ پہ بٹھایا اور جانے لگا تو حیا نے اُس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا حیدر نے جب اس کی طرف دیکھا تو وہ نہ میں گردن ہلانے لگی، اُس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو حیدر نے صاف محسوس کیا،گڑیا میں دوائی لا رہا ہو بس پھر اپنی گڑیا کے پاس بیٹھوں گا کہی نہیں جاؤں گا،حیدر نے اُسے پیار سے دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا اور فرسٹ ایڈ بوکس لینے چلا گیا،
***********
اچھا میں چلتا ہوں حیا کے اندر جانے کے بعد انور کو اپنا وہاں رُکنا بے فضول لگا اور وہ جو بات کرنے آیا تھا وہ بھی کرچکا تھا،اتنی جلدی کیوں ابھی تو آئے ہو کھانا کھا کے جانا ہےنا برہان، حنا نے بولتے ہوئے بریان کی طرف دیکھا جو غصے سے اُسے ہی گھور رہا تھا،حنا کی بات سن کے اسے انور کی موجودگی کا احساس ہوا،دونوں بھائی حیا کی تکلیف دیکھ کے انور کو فراموش کر چکے تھے،
ہاں انور کھانا کھا کے جانا برہان نے اُس کی طرف دیکھ کے مسکراتے ہوئے کہا،نہیں اب میں چلوں گا پھر ملاقات ہوگی ،مجھے کچھ کام ہے،دونوں بھائیوں کا حیا کے لیے پیار اور اسے تکلیف میں دیکھ کے سنجیدہ چہرا انور کا بس نہیں چل راہا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے،
چلو ٹھیک ہے اگلی بار آو تو کھانا کھا کے جانا، برہان نے اس سے مصحافہ کرتے ہوئے کہا،ہاں کیوں نہیں ضرور انور نے فوراً ہامی بھری اُسے یہاں سے جلد سے جلد نکلنا تھا،
انور کے جاتے ہی برہان کا رُخ حنا کی طرف تھا، یہ چائے گڑیا پہ کیسے گری،تم خود نہیں کر سکتی تھی یہ سب کام،اُس کی ابھی پڑھنے کی عمر ہے ان سب کاموں کی نہیں اتنے نوکر گھر میں کس لیے ہے بولو برہان نے غصے سے اپنی بیوی کو جھاڑ پلائی،
میں نے نہیں کہا تھا وہ خود گئی کچن میں اور اس ٹائم سب نوکر پیچھے کواٹر میں ہوتے ہیں میں تو انور بھائی کے پاس بیٹھی تھی مجھے کیا پتا وہ کچن میں کب گئی ،حنا نے نکلی ٹسوے بہاتے ہوئے اپنی بات کہی،
اب تم رو رو کے مجھے اریٹیٹ نہیں کرو جاؤ میرے لیے ایک کپ چائی لے آو میں حیا کے پاس جا رہا ہوں،بولتے کے ساتھ ہی برہان حیا کے روم کی طرف چل دیا،
برہان کے جاتے ہی حنا نے اُن ٹوٹے ہوئے کپ کےٹکڑوں کو غصے سے ٹھوکر ماری، ہر بار تمہاری وجہ سے برہان مجھ پہ غصہ کرتے ہے تمہیں اس سب کا حساب دینا ہوگا تمہاری قسمت میں بس آنسوں ہی آنسوں لکھ دوں گی حنا نے اپنے نکلی آنسوں صاف کرتے ہوئے نفرت سے حیا کے روم کی طرف دیکھ کے سوچا،
پر وہ یہ بات بھول گئی قسمت لکھنا اور قسمت بدلنا جس کے بس میں ہے وہ زات بہت بڑی ہے !!!!!
بے شک اللّه ہر چیز پے قادر ہے،
*********
لاؤ گڑیا یہاں پیر رکھو حیدر نیچے بیٹھے حیا کو پیر اپنے گُٹھنے پہ رکھنے کو بول رہا تھا، نہیں بھیا بہت جلن ہوگی ،حیا نے جلدی سے پیر بیڈ کے اُوپر کر لیا،گڑیا ہلکی سی ہوگی چلو لگوا لو حیدر سےٹیوب،برہان نے اندر آتے ہوئے کہا،
میں ہوں نہ گڑیا آرام آرام سے لگاوُں گا حیدر نے پیار سےگڑیا کا پیر اپنے گُٹھنے پہ رکھتے ہوئے کہا، برہان نے پاس آکے حیا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا گڑیا یہاں دیکھو میری طرف ،اُس نے پیار سے حیا کے چہرے پہ ہاتھ رکھ کے اُس کا رُخ اپنی طرف کیا، جب کے حیا کے چہرے پہ ڈر صاف دیکھائی دے رہا تھا،
حیدر نے آرام آرام سے ٹیوب لگاتے ہوئے حیا کی طرف دیکھا جو برہان کا ہاتھ پکڑے لب بھینچے آنکھوں کو زور سے بند کیے حیدر کو بہت پیاری لگ رہی تھی حیدر کے چہرے پہ پہلی بار مسکراہٹ آئی،
بس دیکھو پتا بھی نہیں چلا اور لگ بھی گئی حیدر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور حیا کے دوسری طرف بیٹھ گیا،
حیا نے آرام سے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولی اور اپنے پیر کی طرف دیکھا اُسے واقعی بلکل جلن نہیں ہوئی ، اُسنے حیدر کی طرف دیکھا جو اُسے دیکھ کے مسکرارہا تھا،
آپ ہنس رہے ہو بھیا ، جاؤ میں آپ سے بات نہیں کرتی حیا نے کہتے کے ساتھ ہی اپنا چہرا دوسری طرف کرلیا ،
ارےے میں ہنس سکتا کیا اپنی گڑیا پہ میں تو دیکھ رہا ہوں میری گڑیا کتنی بہادر ہے آرام سے ٹیوب لگوالی ،حیدر نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا،
سچی بھیا!!! حیا کے چہرے پہ فوراً بچوں جیسی خوشی دیکھائی دینے لگی، حیدر نے پیار سے اپنی جان کو دیکھا کتنی معصوم سی تھی وہ کتنی جلدی مان جاتی ہے کوئی بھی بات،حیا کو مسکراتے دیکھ حیدر اور برہان دونوں کے چہرے پہ اطمینان آگیا،
چاچو آپ کب آئے، انوشے کی آواز پہ سب نے ایک ساتھ دروازے کی طرف دیکھا جہاں گول مٹول سی سُرخ سفید رنگت والی انوشے یونیفارم میں کھڑی تھی، اور بھاگ کے آکے حیدر کی گود میں چڑھ گئی،
جب ہماری پرنسس اسکول گئی ہوئی تھی حیدر نے اُس کے گال چومتے ہوئے کہا،
حیا کیا آپ روئی ہو انوشے نے حیا کی سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کہا، کتنی بار کہا ہے پرنسس حیا نہیں کہتے پُھوپھو کہتے ہے ، اور پُھوپھو کا پیر جل گیا اس لیے وہ رو رہی تھی ، برہان نے ہربار کی طرح اس بار بھی انوشے کوسمجھانا اپنا فرض سمجھا ،
اووہوووو بابا!!!!!!!!!
Haya just like a little doll like me
انوشے نے اپنے سر پہ ہاتھ مارکے ایسے کہا جیسےبہت کام کی بات بتائی ہے سب کو،
انوشے کی اس طرح ایکٹنگ کرنے پہ وہ سب ہنس دیے، حیا جتنی کم گو ڈری سہمی رہنے والی لڑکی تھی یہ دس سال کی انوشے اُتنی زیادہ چٹ پٹی تھی ،خود تو سیریس رہتی پر اپنی باتوں سے باقی سب کو ہسنے پہ مجبور کر دیتی،
ایک منٹ پرنسس کال آرہی ہے حیدر نے انوشے کو گود سے اُتارتے ہوئے کہا اور جیب سے موبائل نکال کے ایک طرف چلا گیا،
ہاں کیا خبر ہے، حیدر نے کال اٹینڈ کرتے کے ساتھ کہا، سر وہ جس بچی کی ڈیڈ باڈی ہمیں تین دن پہلے ملی اُس کی پوسمارٹم رپورٹ آگئی ہے،اگر آپ آجاتے سر تو ہم بیٹھ کے بات کر لیتے فون پہ موجود آفسر نے آدب سے کہا،یہ بات سنتے ہی حیدر کا چہرا پھر سے سنجیدا ہو گیا،کیا رپورٹ ہے،
سر بچی کی عمر ساتھ سے آٹھ سال تھی بچی کو کئی دن قید میں رکھ کے اُس پہ تشدد کیا گیا ہے ذیادتی کی گئی ہے اور بچی کی موت گلا دبانے سے ہوئی ہے جس کی وجہ سے بچی کی گردن کی کئی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھی،فون پہ موجود آفسر نے تفصیل سے ایک ایک بات بتا دی جسے سن کے حیدر نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی اُس کی نظر سامنے گئی جہاں حیا انوشے کے دونوں گال کھنچنے کی کوشش کر رہی اور انوشے گال پہ دونوں ہاتھ رکھے اُس کی کوشش کو ناکام بنارہی،جیسے یہ ہمارے گھر کی رونقیں ہیں ایسے ہی وہ بچی بھی کسی کے گھر کی رونق ہوگی کسی کی آنکھ کا تارا ہوگی جسے اُن ظالموں نے بے دردی سے مار دیا، حیدر کی آنکھیں اس وقت غصے کی ذیادتی سے سُرخ ہو گئی،
سر آپ سن رہے ہے آواز آرہی سر۔۔۔۔۔۔۔فون پہ آنے والی آواز پہ حیدر ایک دم اپنی سوچ سے باہر آیا، ہاں تم ایسا کرو ایک گھنٹے میں میٹنگ ارینج کرو اس کیس سے جڑے سب آفسر کی میں جب تک پہنچ جاؤں گا،
اوکے سر!!!!! فون بند ہوگیا تھا پر حیدر اب بھی ایسے ہی کھڑا سوچ رہا تھا،کب وہ دن آئے گا جب وہ ان درندوں کو پکڑے گا،آخر کب تک یہ گینہونہ کھیل چلتا رہے گا،
چاچو یار آپ تو بس ہر وقت کام کام کرتے رہتے ہو اور جب گھر ہوتے تو اپنے موبائل پہ لگے رہتے اور اپکو پتا یے نہ
You don’t know, anushy missing you alot chachu!!!!!
انوشے کی آواز پہ حیدر اپنی سوچ سے باہر آیا،
Chachu also missing you alot princess!!!
حیدر نے اُس کے پاس آکے پیار سے اس کے بال خراب کرتے ہوئے کہا،
اوووہووو چاچو آپ نے میرے سارے بال خراب کر دیے انوشے کے ماتھے پہ فوراً بل آگئے جسے دیکھ کے برہان اور حیدر ہنسے بنا نہیں رہسکے
ہاہاہا!!!!! آچھا بابا سوری حیدر نے فوراً دونوں ہاتھ اوپر کرتے ہوئے سوری کر لیا،اُس کے چہرے پہ تھوڑی دیر والی سنجیدگی کہی نہیں تھی بلکہ ایک نرم تاثر تھا جو ہمیشہ انوشے اور حیا کو دیکھ کے چہرے پہ آجاتا تھا،
آچھا بھائی اب میں چلتا ہوں میری ایک ضروری میٹنگ ہے حیدر نے برہان کی طرف دیکھ کے کہا، پر بھیا آپ ابھی تو آئے ہو میں نہیں جانے دوں گی حیانے فوراً حیدر کا ہاتھ پکڑلیا موبادہ بھاگ ہی نہ جائے، گڑیا تنگ نہیں کرو بچہ جانے دو حیدر کو اُسے کام ہے نہ برہان نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا، میں کچھ دن میں واپس چکر لگاوں گا گڑیا حیدر نے پیار سے حیا کی آنکھیں صاف کی جو فوراً آنسووں سے بھر گئی تھی
پکا وعدہ !!!! حیا نے اپنا ہاتھ آگے کیا ہر بار کی طرح اس بار بھی وہ آسانی سے مان گئی،
پکاااا والا پرومس!!!!!!! حیدر نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ دیا۔
جاری ہے
