Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بیٹا ہم جارہے ہیں آپ ٹھیک سے دروازا بند کر لو صائمہ بیگم نگ دعا سے کہا جو کچن میں کوئی کام کر رہی تھی،
دعا نے ہاں میں سر ہلایا،بیٹا بلال آئے گا کچھ دیر میں اور آپ دروازا نہیں کھولنا چاہے کوئی بھی ہو بلال کے پاس گھر کی چابی ہے باقی آپ کسی کے لیے گیٹ نہیں کھولنا ٹھیک ہے صائمہ بیگم کے سمجھانے پر دعا نے واپس ہاں میں سر ہلایا،
اور سارا اٹھ جائے تو اسے کھانا کھیلا دینا ٹھیک ہے صائمہ بیگم نے اس کے سر پر پیار کیا،دعا نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا،
علی صاحب اور صائمہ بیگم کے جانے کے بعد اس نے گھر کو اچھے سے بند کیا اور اندر آکر اپنا کام ختم کرنے لگی آج سارا نے اس سے پاستا کی فرمائش کی تھی اس کے اٹھنے سے پہلے وہ پاستا تیار کر دینا چاہتی تھی،
آپی آپی دعا نے پاستا بنا کے ابھی کچن صاف کیا تھا جب اسے روم میں سے سارا کی آواز آئی دعا مسکراتی ہوئی اس کے روم کی طرف گئی،
دعا نے اس کو اٹھا کر اپنی گود میں بیٹھا یا اور اس کے گال پر پیار کیا،آپی گھر میں اتنا سناٹا کیوں ہے سب کہا گئے سارا نے نیندوں سے اٹھ کے سب سے پہلے گھر والوں کے بارے میں پوچھا،
دعا نے اسے اشارے سے بتایا وہ لوگ کسی کے گھر گئے ہیں جس پر سارا نے اچھا کہا،آپی بہت تیز بھوک لگ رہی ہے سارا نے منہ بنا کر کہا،
دعا نے اس کے سر پر پیار کر کے اشارا کیا کے اس نے پاستا بنایا ہے جلدی سے فریش ہو جاؤ پھر مل کر کھائے گے،
یا ہو پاستا سارا نے بیڈ پر کھڑے ہوکر نارا لگایا جسی دیکھ کر دعا مسکرانے لگی،
واو آپی آپ تو دنیا کی بیسٹ آپی ہو میں جلدی سے فریش ہو جاتی ہوں آپ جاؤ جلدی سے کھانا لگاؤ سارا نے کھڑے ہوتے ہوئے دعا کا بھی ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا دعا نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر چپت لگائی اور باہر کی طرف چلی گئی
کچن میں رکھی چھوٹی ٹیبل پر وہ مسکراتے ہوئے سامان رکھ رہی تھی جب اسے گھر میں کسی کے کودنے کی آواز آئی دعا کی مسکراہٹ ایک دم غائب ہوئی،گھر میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا
کچن سے نکل کے اس نے باہر دیکھا اسے کوئی نظر نہیں آیا وہ تھوڑی آگے آئی سامنے سوفے رکھے تھے وہ آہستہ آہستہ آگے آئی اس نے ڈرتے ڈرتے سوفے کر پیچھے دیکھا وہاں بھی کوئی نہیں تھا شاید یہ میرا وہم ہو دعا نے دل میں خود سے کہتے ہوئے واپس موڑ کے کچن میں جانے لگی
ابھی وہ کچھ قدم ہی آگے گئی تھی جب اسے سارا کے روم سے دو آدمی آتے ہوتے نظر آئے دعا کی آنکھوں میں ایک دم خوف آگیا ایک آدمی نے سارا کو کندھے پر ڈھالا ہوا تھا سارا بے ہوش تھی،
اوے وہ دیکھ لڑکی ایک نکاب پوش نے دوسرے کے کان میں کہا جا پکڑ اس سے پہلے وہ شور مچائے جس نے سارا کو کندھے پر ڈھالا ہوا تھا اس نے دوسرے کو حکم دیا،
دعا نے اپنے قدم پیچھے لیے ان آدمیوں کو دیکھ کر اسے خوف آرہا تھا پر اس کی گڑیا ان کے پاس تھی دعا نے جلدی سے پاس پڑا گلدان اٹھایا وہ آدمی دعا کو پکڑتا اس سے پہلے دعا اس کے سر میں وہ گلدان مار چکی تھی،
وہ آدمی سر پکڑ کے پیچھے ہوا اس کے ماتھے سے خون آنے لگا اس نے دعا کو خونخوار نظروں سے دیکھا دعا اشارے سے سارا کو نیچے اتارنے کا کہنے لگی اس کی آنکھوں سے خوف سے آنسوں بہنے لگے،
اوئے یہ لڑکی تو بول نہیں سکتی اس کو بھی اٹھا لیتے ہیں پیچھے کھڑے آدمی نے دعا کو سر تا پیر دیکھا،
بول تو سہی رہا ہے تو دوسرے نے دعا کو غصے سے دیکھتے ہوئے اس کی طرف قدم بڑھائے دعا جلدی سے کچن کی طرف بھاگی اسے کوئی چیز چاہیے تھی جس سے وہ سارا کو بچا سکے،
ابھی وہ کچن تک پہنچی بھی نہیں تھی کے اس آدمی نے اسے بالوں سے پکڑ کر زمین پر دھکا دیا ہم سے ہوشیاری کرتی ہے وہ آدمی غصے سے دعا کو دیکھنے لگا،
وہ ہمت کر کے اٹھی اسنے اپنے قدم پیچھے لیے وہ آدمی دعا کی طرف بڑھنے لگا دعا نے دوسرا گلدان اٹھایا اس کی آنکھوں میں اب خوف سے زیادہ جنون تھا اسے اپنی سارا کو بچانا تھا ورنہ ایک بار بھر اس کی گڑیا کو تکلیف سینی پڑتی،
مجھے مارے گی تو سامنے موجود آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا اس کی مسکراہٹ میں شیطانی پن تھا دعا نے نفی میں سر ہلایا اور اپنے قدم پیچھے لیے ایک دم اس نے پلٹ کر وہ گلدان دوسرے کے سر میں مارا آااااا وہ آدمی چیختا ہوا پیچھے ہوا سارا بھی اس کے ہاتھ سے نیچے گر گئی
دعا نے جلدی سے سارا کو خود میں بھینچ لیا وہ اپنی گڑیا کو نہیں جانے دے گی کہی بھی نہیں،
سالی تو ہم سے پنگا لے گی ابھی بتاتے ہیں تجھے وہ آدمی آگے بڑھنے لگا جب دوسرے نے اسے روکا،
مالک نے ہمیں بس اس بچی کو لانے کا کہا تھا اور ان کی انفارمیشن کے حساب سے اس وقت بچی کے سوا گھر میں کوئی نہیں تھا ہم اسے ساتھ نہیں لے کر جاسکتے مالک ہم پر غصّہ کرے گے اس نے اپنے سر پر رومال رکھتے ہوئے کہا دعا نے جو گلدان اسے مارا وہ اس کے ماتھے سے ذیادہ اس کی ایک آنکھ پر لگا تھا،
تو اس سالی کو ایسے ہی چھوڑ دیں منہ کھول دے گی یہ لڑکی اس آدمی نے دوسرے کو جواب دیا دعا خوف سے کبھی اس کو تو کبھی دوسرے آدمی کو دیکھنے لگی دعا نے اپنی نظرے چاروں اطراف میں دوڑائی اسے سارا کو بچانا تھا
ویسے تو یہ لڑکی کمال کا مال ہے پر اتنا ٹائم نہیں ہے وہ فوجی آنے والا ہوگا اس لیے بس بچی کو اٹھاتے ہیں اور نکلتے ہیں دعا کو کچھ فاصلے پر ایک ڈنڈا پڑا ہوا نظر آیا پہلے اس نے ان آدمیوں کو دیکھا پھر جلدی سے سارا کو وہی چھوڑ کے اس ڈنڈے کی طرف بھاگی،
پکڑ اس کو ان میں سے ایک آدمی دعا کو بھاگتا ہوا دیکھ چکا تھا جب تک وہ لوگ دعا تک پہنچتے دعا کے ہاتھ ڈنڈا لگ چکا تھا اس نے موڑ کے فوراً اپنے پیچھے آتے آدمی پر حملہ کیا،
اب میں اس لڑکی کو نہیں چھوڑو گا دوسرا آدمی آگے آیا دعا نے اسے بھی ڈانڈا مارنا چاہا پر وہ آدمی ڈنڈے کو پکڑ چکا تھا،
اب تجھے نہیں چھوڑے گے سالی کتیا اس آدمی نے ڈنڈے کو ایک جھٹکے سے کھینچا دعا اس آدمی کے قدموں میں آکر گری،
دوسرا جب تک سمبھل چکا تھا اس نے دعا کے بال پکڑ کے اسے کو گھٹنے کے بل بیٹھایا دعا کے ہونٹوں سے خون بہے رہا تھا پر آنکھوں میں اب خوف کی جگہ نفرت اور حقارت تھی،
بال پکڑ کے اس کا چہرہ اوپر کر جس کے ہاتھ میں ڈانڈا تھا اس نے دوسرے کو حکم دیا،جس پر اس نے فوراً عمل کیا،
تو بول نہیں سکتی نہ اب دیکھ اس آدمی نے اپنے قدم پیچھے لیے پھر رکا اور ایک دم ڈنڈا اس کی گردن پر مارا دعا پیچھے کی طرف گر کر تڑپنے لگی
ایک ڈانڈا مارنے سے کیا ہوگا جس نے دعا کو بال پکڑے ہوئے تھے وہ دعا کے اوپر جھکا،
تڑپتے ہوئے وجود سے دعا نے اسے دور کرنا چاہا پر اس آدمی نے دعا کے گلے پر ہاتھ رکھ کر اور دباؤ بڑھایا ڈنڈا گلے میں لگنے سے اس کے منہ سے خون آنے لگا تھا اب وہ آدمی اس کا گلا پوری جان سے دبا راہا تھا،
دعا کی آنکھوں پوری کھول گئی اس نے ہاتھ سے اس آدمی کو دور کرنا چاہا پر اس آدمی کے سر پر غصّہ سوار تھا اس نے اور دباؤ بڑھایا دعا چیخنا چاہتی تھی پر اس کے گلے سے کوئی آواز نہیں نکل رہی اس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے اس نے اپنی نظرے اٹھا کے سارا کو دیکھا جو زمین پر بے ہوش پڑی تھی،
دعا کی آنکھیں سلو سلو بند ہونے لگی ابھی تو اس نے خواب دیکھنا شروع کیے تھے ابھی تو اسے اپنی سارا کے ساتھ کھیلنا تھا اسے ڈاکٹر بنانا تھا ابھی تو اسے بلال کو بتانا تھا وہ اسے کتنا چاہتی ہے دعا کی آنکھوں سے آنسوں گر رہے تھے اس کے ہونٹ آہستہ سے ہلے جس پر بلال کا نام تھا،
اوئے مر گئی یہ چل بچی کو اٹھا دوسرے آدمی نے اسے پیچھے کیا دعا اب بے سود پڑی تھی اسکی آنکھیں بند تھی منہ سے خون نکل رہا تھا اور گالو پر آنسوئوں کے نشان،
دوسرے نے سارا کو اٹھا کر کندھے پر ڈھالا جب انہیں دروازا کھولنے کی آواز آئی،اوئے جلدی کر کوئی آیا ہے وہ دونوں باہر والے دروازے کے پاس پلر کے پیچھے چھپ گئے بلال مسکراتا ہوا اندر آیا دروازا لاک کیا اور مزے سے گنگناتے ہوئے اندر بڑھا،
اس آدمی نے دوسرے کو اشارہ کیا اور اس نے آرام سے دروازے کا لاک کھولا پہلے وہ آدمی باہر گیا جس کے پاس سارا تھی،
بلال چلتا چلتا ایک دم رکا اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی اس نے پیچھے موڑ کے فوراً دوڑ لگائی دوسرا آدمی گیٹ پار کرتا اس سے پہلے بلال اسے شیر کی طرح پیچھے سے جھپٹ چکا تھا دوسرے آدمی نے فوراً دوڑ لگائی بلال نے اسے اب تک نہیں دیکھا تھا اسے ایک ہی آدمی نظر آیا،
دوسرا آدمی جلدی سے اپنی گاڑی کی طرف بھاگا سارا کو اس نے پیچھے ڈھالا اور آگے آکر بیٹھا بلال کو گاڑی کی آواز آئی اس نے آدمی کو بالو سے پکڑ کر اس کا سر دیوار میں مارا جس سے وہ بے ہوش ہو گیا بلال جلدی سے باہر گیا جب تک وہ گاڑی وہاں سے جاچکی تھی،
دعا سارا، بلال اب جلدی سے اندر آیا اس نے اندر کی طرف قدم رکھا سب سامان بکھرا ہوا تھا وہ جلدی سے سارا کے کمرے میں گیا وہاں کوئی نہیں تھا اس نے دعا کے کمرے میں دیکھا وہ بھی خالی ابھی وہ دوسرے کمرے میں جاتا جب اس زمین پر خون نظر آیا بلال ڈرتا ڈرتا آگے آیا اسے زمین پر بے سود پڑی ہوئی دعا نظر آئی،
دعا!!!! بلال وہی سے چیخا وہ جلدی سے اس کے پاس آیا دعا کیا ہوا اس کا سر اپنی گود میں رکھا دعا اٹھو آنکھیں کھولوں دعا بولتے بولتے بلال کی آواز بھر گئی،
اس نے ڈرتے ہوئے دعا کے ناک کے پاس دو انگلیاں رکھی پھر ایک دم ہاتھ پیچھے کرلیا نہیں دعا تم مجھے چھوڑ کے نہیں جا سکتی ابھی تو تمہیں بہت کچھ بتانا تھا بلال اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ کے رو پڑا مس میوٹ پلز مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ
*****************
بلال کو اس کے گھر کے آگے چھوڑ کے اب وہ مشعل کے گھر کی طرف جا رہا تھا بلال کے اترتے ہی اسے واپس مشعل کی فکر ستانے لگی اس نے گاڑی کا ہارن بجایا پر چوکیدار باہر نہیں آیا،
حیدر نے گاڑی کو وہی پر لاک کر کے دیکھا چوکیدار اپنی جگہ پر نہیں تھا حیدر نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے اندر قدم رکھا گیٹ بھی کھولا ہوا تھا لان بھی بلکل خالی تھا گھر میں کسی قسم کی کوئی آواز نہیں تھی،
حیدر نے لاؤنچ کے اندر قدم رکھا وہ بھی بلکل خالی تھا پھوپھو!! حیدر نے وہی سے کھڑے ہوکر آمنہ بیگم کو آواز دی پر اسے کوئی جواب نہیں ملا اب حیدر کے ماتھے پر بل آئے
ابھی وہ چند قدم ہی آگے آیا تھا جب اسے کچن کے باہر خون نظر آیا حیدر جلدی سے اندر آیا آمنہ بیگم فرش پر اوندھی پڑی ہوئی تھی ان کے سر کے پیچھے سے خون نکل رہا تھا،
پھوپھو پھوپھو کیا ہوا حیدر نے جلدی سے انہیں سیدھا کیا ان کی سانسیں چیک کی جو بہت سلو چل رہی تھی حیدر نے فون نیکال کر ایمبولینس کو بلایا
اب حیدر کو مشعل اور انکل کا خیال آیا وہ جلدی سے کچن سے باہر نکلا،
مشعل!!!!! مشعل!!! تیز تیز اسے پکارتے ہوئے حیدر اس کے روم میں آیا تو اسے فرش پر خالد حسن گرے ہوئے ملے انکل!!! حیدر جلدی سے ان کے پاس آیا انہیں سیدھا کیا ان کے ماتھے سے خون نکل رہا تھا،
انکل یہ سب کیسے ہوا مشعل کہاں ہے حیدر نے ان کا گال ہلایا اس کا دل تیز دھڑک رہا کہی مشعل کو کچھ اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا،
حید__در خالد حسن کو ہلکا ہلکا ہوش آیا انکل اُٹھیں پلز حیدر نے پانی کے جگ سے ایک گلاس بھرا اور ان کے منہ کے پاس لے کر گیا نیم بیہوشی میں انہوں نے پانی پیا،
انکل مشعل کہاں ہے یہ سب کیسے ہوا حیدر کو پتا بھی نہیں چلا اس کی آواز میں نمی کب شامل ہوئی،
بیٹا دو___لوگ تھے____چہرے پر__نکاب تھا___وہ مشعل کو لے___ گئے میں نے روکنے کی____کوشش کی تو انہوں نے مجھ پر___حملہ
حیدر میری__بیٹی کو بچالو پلز بولتے بولتے خالد حسن کی آنکھوں میں آنسوں آگئے____ انکل آپ ہمت رکھو حیدر نے انہیں سہارا دے کر بیٹھایا،
ایمبولینس کی آواز پر حیدر باہر آیا اس نے آمنہ بیگم اور خالد حسن کو ایمبولینس سے ہوسپیٹل کے لیے روانہ کیا،
ابھی اس کی نظر ایمبولنس پر ہی تھی جب اس کا موبائل بجا،
ہیلو حیدر نے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے فون کان سے لگایا_حیدر تم کہاں ہو جلدی آؤ___برہان کی آواز پر حیدر کے دونوں کان کھڑے ہوگئے،
کیا ہوا بھائی، حیدر بولتا ہوا اپنی گاڑی میں بیٹھا___بس تم جلدی آجاؤ حیدر برہان نے روتے ہوئے کہا،
بھائی آپ پریشان نہیں ہو میں گھر کے پاس ہی ہوں ابھی آیا حیدر نے کار کی اسپیڈ بڑھائی اس کے اور مشعل کے گھر میں تھوڑا ہی فاصلہ تھا،تھوڑی دیر میں ہی وہ گھر پہنچ گیا گاڑی کو وہی چھوڑ کے وہ اندر بھاگا،
مجھے میری بیٹی چاہیے مجھے میری بیٹی لا کر دو حنا روتے ہوئے بول رہی تھی جب حیدر اندر آیا،
بھائی کیا ہوا___حیدر کی آواز پر حنا اور برہان نے ایک ساتھ اسے دیکھا__حیدر حیدر میری بیٹی کو وہ____ برہان جلدی سے حیدر کے پاس آیا اسے بتانے لگا پر اس سے بولا نہیں جارہا تھا اس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے،
بولو بھائی کیا ہوا حیدر کا دل ڈر رہا تھا ابھی تو وہ سنبھلا بھی نہیں تھا کے___میں بتاتی ہوں حیدر میری بچی کو کوئی اٹھا کر لے گیا،حنا کی بات پر حیدر نے ایک دم اسے دیکھا،
ایسے کیسے لے گیا گھر میں کوئی کیسے گھس سکتا حیدر نے برہان کی طرف دیکھا،
گھر سے نہیں وہ___اسکول سے آرہی کے ڈرائیور کو مار کر میری بچی کو اٹھا کر لے گئے حنا نے روتے ہوئے کہا اس کا رو رو کر برا حال تھا اس کی ایک ہی تو بیٹی تھی انوشے اسے بھی کوئی اٹھا کر لے گیا یہ غم اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا،
ایسے کوئی لے گیا کسی نے ان کو روکا نہیں بھائی آپ کو کچھ اور پتا ہے تو پلز بتاؤں___ وہ دو لوگ تھے اور دونوں کے چہرے پر نکاب تھے ہاتھوں میں گن تھی اس لیے لوگ ڈر کے پیچھے رہے میری بچی رو رہی تھی وہ اسے زبردستی اٹھا کر لے گئے حیدر کچھ کرو برہان نے خود پر ضبط کرتے ہوئے کہا پر اس کی آنکھوں سے آنسوں بہے رہے تھے،
بھائی میں کچھ کرتا ہوں آپ ٹینشن نہیں لو حیدر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا کے اچانک اسے بلال کا خیال آیا،
کہی وہاں پر بھی حملہ___ حیدر جلدی سے برابر والے گھر کی طرف بھاگا حنا اور برہان بھی اس کے پیچھے گئے،
گھر کی حالت دیکھ کر حیدر کا سر چکرانے لگا وہ تھوڑی آگے گیا دعا کا سر گود میں لیے بلال بلکل چپ چاپ بیٹھا تھا بلکل خاموش حیدر ایک دم وہی فرش پر بیٹھ گیا،
اس نے اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں پر گرا لیا برہان اور حنا کے بھی قدم وہی جم گئے حیدر کا فون پھر سے بجا پر حیدر تو بس بلال کو دیکھ رہا تھا،
حیدر فون اٹھاؤ برہان کی آواز پر حیدر نے اسے دیکھا پھر جلدی سے فون دیکھا___ روہان کے نمبر سے کال تھی حیدر جلدی سے کھڑا ہو گیا حیا تو شام میں آنے والی تھی،
اس نے ڈرتے ڈرتے فون کان سے لگایا___بھیا آپ کو پتا ہے ہم اس وقت کہاں ہیں حیا کی چہکتی ہوئی آواز پر حیدر کا دل تیز دھڑکا،
گڑیا کہاں ہو تم حیدر نے جلدی سے کہا____بھیا ہم پاکستان ہیں سرپرائز آپ کو اس لیے فون کیا کے ہم ائیرپورٹ سے جب تک گھر آئے آپ بھی گھر آجاؤ حیا نے مسکراتے ہوئے کہا،
گڑیا تم باہر نہیں آنا وہ___آااااااا حیدر اسے کچھ اور کہتا اس سے پہلے حیا کی چیخ کی آواز اسے صاف سنائی دی،
گڑیا!!!! گڑیا!!!حیدر پاگلوں کی طرح فون میں سے اسے آواز دینے لگا پر فون بند ہو چکا تھا،
حیدر کیا ہوا بولو حیدر برہان نے اسے جھنجھوڑا حیدر نے اسے ایک نظر دیکھا اور گٹھنے کے بل بیٹھ گیا،
نہیں نہیں نہیں گڑیا!!!!!!! حیدر کی دھاڑ سے پوری دیوارے ہلنے لگی،
اٹھ میرے جواں! یہ دھرتی ہے تیری منتظر!!!!!!!
دکھا دے تو کرشمے اپنے ہوجا اب تو جلوہ گر!!!!!!
تو چاہے تو بدل دے تقدیر کو بھی اپنی!!!!!
گھبرا مت دیکھ کر مشکل کو ہزار!!!
بقول اقبال تو تو شاہین ہے زمانے کا!!
پلٹ جھپٹ کے کر تو ظلم کا شکار!!
************
وہ لوگ صبح ائیرپورٹ کے لیے نکلتے پر حیا اور روہان کی آنکھ ہی نہیں کھولی اس لیے روہان نے حیدر کو بتا دیا تھا وہ لوگ شام تک آئیں گے،
آپ نے بھیا کو نہیں بتایا ہمیں فلائٹ مل گئی ہم دن میں پہنچ جائیں گے حیا نے فلائٹ میں بیٹھے ہوئے روہان کی طرف دیکھا،
نہیں سوئٹ ہارٹ میں نے بتایا نہیں مجھے آفس کا کچھ کام تھا پھر فلائٹ کا ٹائم ہو گیا تو میرے زہن سے نکل گیا روہان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا،
اچھا پر ہم جائیں گے تو بھیا تو اپنی جاب پر ہوں گے نہ پھر میں ان سے کیسے ملوں گی حیا نے پریشانی سے کہا،
آپ پہنچ کر بتا دینا سوئٹ ہارٹ ٹھیک ہے جب تک ہم ائیرپورٹ سے گھر پہنچے گے حیدر بھی گھر پہنچ جائے گا روہان کی بات پر حیا نے اسے دیکھا پھر مسکرائی،
مطلب ہم بھیا کو سرپرائز دیں گے حیا نے مسکراتے ہوئے جہاز کی ونڈو سے باہر دیکھا جہاں اس وقت سوائے بادل کے کچھ نظر نہیں آرہا تھا،
جی ہاں روہان نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی حیا کی بچوں جیسی حرکتیں اسے بار بار مسکرانے پر مجبور کرتی تھی،
ہم بھیا کو کب کال کریں گے ابھی وہ لوگ ائیرپورٹ سے باہر ہی آئے تھے حیا اس سے یہ سوال پانچویں بار کر چکی تھی،
لٹل گرل آپ سے صبر نہیں ہو رہا روہان نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا پاکستان آکر حیا کے چہرے کی رونق دیکھنے لائک تھی،
ہاں مجھے جلدی سے فون دے دو پلز حیا نے بچوں کی طرح منہ بنا کر کہا روہان نے مسکراتے ہوئے فون نکال کر اسے دیا اور خود سامان کی ٹرالی گاڑی تک لے لایا اب وہ ڈرائیور کی مدد سے سامان گاڑی کے اندر رکھوا رہا تھا اس نے موڑ کے حیا کو دیکھا جو فون پر مسکرا کر حیدر سے بات کر رہی تھی،
روہان نے اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا حیا مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھی کے ایک دم اس کا پیر پھسلا آاااا روہان جلدی سے سامان چھوڑ کے اس کے پاس آیا،
لٹل گرل کیا ہوا لگی تو نہیں حیا نے پہلے اسے دیکھا پھر موبائل کو جو ٹوٹ چکا تھا حیا کی آنکھوں میں فوراً آنسوں آگئے،
روہان نے اسے سہارا دے کر کھڑا کیا پھر اس کے آنسوں صاف کیے آپ رو کیوں رہی ہو سوئٹ ہارٹ روہان نے اسے کندھے سے تھاما اب وہ اسے گاڑی کے پاس لے کر جا رہا تھا ٹوٹا ہوا موبائل اٹھا کر اس نے جیب میں ڈھالا،
وہ میں بھیا سے بات کر رہی میرا پیر موڑ گیا اور آپ کا موبائل میں نے توڑ دیا آنکھوں میں آنسوں لیے اس نے گاڑی میں بیٹھ کر روہان سے کہا،
کوئی بات نہیں میں نیو لے لوں گا آپ کے آنسوں سے زیادہ قیمتی نہیں ہے جو ایک موبائل کے لیے آپ آنسوں بہا رہی روہان نے پھر سے اس کے آنسوں صاف کیے وہ حیا کے ساتھ پیچھے ہی بیٹھا تھا ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا،
آپ کو غصّہ نہیں آیا حیا نے آنکھوں میں حیرت لیے روہان کو دیکھا اسے لگا روہان اسے ڈانٹے گا اس نے ضد کر کے موبائل لیا پھر اسے توڑ دیا،
روہان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی حیا کے اس بچپنے پر اسے ٹوٹ کر پیار اتا تھا اس نے جھک کے ایک دم حیا کی حیران آنکھیں چوم لی،
حیا جو کچھ اور بولنے والی تھی روہان کی اس حرکت سے ایک دم جھینپ گئی اس نے ایک نظر ڈرائیور کو دیکھا جو گاڑی چلانے میں مگن تھا پھر اس نے روہان کو دیکھا اور جلدی سے فاصلے پر ہو کر بیٹھ گئی،
ہاہاہا حیا کی اس حرکت پر روہان کا قہقہہ جاندار تھا حیا اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی
************
اسے لگ رہا تھا اس کا دل بند ہو جائے گا ایک کے بعد ایک اس کے اپنے ___کون تھا آخر ___جو یہ سب کر رہا تھا حیدر نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی،
بلال کیا ہوا دعا کو برہان کی آواز پر حیدر ایک دم ہوش میں آیا،اس نے بلال کو دیکھا جو لکل خاموش تھا برہان کی بات کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا،
حیدر جلدی سے اٹھ کے اس کے پاس آیا اس نے ایک نظر بلال کو دیکھا جو نیچے منہ کیے دعا کو دیکھ رہا تھا اس کے لب بلکل خاموش تھے،
حیدر نے دعا کے ناک کے پاس ہاتھ رکھا سانسیں بند تھی حیدر کے دل کو کچھ ہوا اس نے بلال کے کندھے پر ہاتھ رکھا بلال!!!
بلال نے ایک نظر حیدر کو دیکھا پھر اس کی آنکھوں میں واپس آنسوں آگئے حیدر یہ دیکھ دعا آنکھیں نہیں کھول رہی بلال نے اتنے درد سے کہا کے حیدر کی بھی آنکھیں نم ہوگئی،
بلال یہاں آ تو میرے پاس اس نے بلال کو دعا سے دور کرنا چاہا بلال نے ایک دم دعا کو خود میں بھینچ لیا نہیں حیدر میں اسے چھوڑ کے نہیں جاؤ ___ ایک دم بلال خاموش ہوا اس نے دعا کو خود سے دور کیا اسے دیکھا پھر اس کے سینے پر اپنے کان رکھے،
حیدر!! حیدر!!! جلدی گاڑی__نکال__ دعا زندہ ہے اس کے دل کی دھڑکن بہت سلو چل رہی ہے بلال نے جلدی سے دعا کو اپنی بانہوں میں اٹھایا حیدر بھی جلدی سے کھڑا ہوا دونوں باہر کی طرف بھاگے اس نے گاڑی نکالی،
حیدر تم اس آدمی کو دیکھو میں بلال کے ساتھ جاتا ہوں برہان نے لان میں پڑے ہوئے آدمی کی طرف اشارہ کیا جسے بلال نے مارا تھا اور گاڑی کے اندر بیٹھ گیا،
وہ بھی بلال کے ساتھ جانا چاہتا تھا پر اسے باقی سب کو بچانا تھا حیدر نے اس آدمی کی طرف دیکھا جو شاید بے ہوش تھا.
جاری ہے
