Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
گاڑی چلاتے ہوئے بلال نے ایک نظر اس پر ڈھالی جو دنیا جہان سے بے خبر سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے سو رہی تھی،
کتنی مشکل سے اس نے اسے سمبھالا تھا اب اسے گھر بھی جانا تھا کیا قسمت ہے میری آیا اکیلا تھا اور جاتے وقت اس نے واپس اس کی طرف دیکھا جو ایسے سو رہی تھی جیسے آج سے پہلے اسے نیند ہی نصیب نہیں ہوئی ہو،
عجیب لڑکی ہے نہ کچھ بولتی ہے نا ہی کچھ کرتی ہے میں اسے کڈنیپ بھی کر سکتا ہوں پھر بھی مزے سے سو رہی ہے آخر یہ مجھ سے ڈرتی کیوں نہیں ہے اف اور کتنا سوئے گی دو گھنٹے سے وہ مسلسل گاڑی چلا رہا تھا اور وہ مزے سے سو رہی تھی بلال کو اس وقت وہ سوتی ہوئی بھی بہت بری لگ رہی تھی،
گھر والوں کو کیا کہوں گا میں آپ کا ایک لوتا بیٹا آپ کے لیے ایک لوتی بہوں لایا ہوں مما تو مجھے چپل سے مارے گی اور ابو انہوں نے تو مجھے دھکے دے کر گھر سے ہی نکال دینا ہے اس حیدر کے بچے کو تو چھوڑو گا نہیں جس نے مجھے اس مصیبت میں پھنسایا ہے،خود سے باتیں کرتے ہوئے وہ گاڑی چلا رہا تھا شاید احمد سہی بولتا ہے میں پاگل ہو گیا ہوں خود ہی خود سے باتیں کرتا رہتا ہوں،
بلال نے ایک ڈھابے پر گاڑی روکی اسے گاڑی چلاتے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی اوپر سے بھوک بھی لگی تھی وہ گاڑی سے نکل کر باہر آیا پر دعا میڈم اب بھی سو رہی تھی اسے یہی چھوڑ دیتا ہوں سوتی رہے گی بلال سوچ کے جانے لگا پھر رکا،
اکیلی لڑکی ہے اسے تو یہاں اس سنسان جگہ اکیلا چھوڑ جائے گا تیرا دماغ خراب ہے مانا اس لڑکی کی وجہ سے جو تیرے ساتھ ہوا وہ غلط ہے پر یہ بات نہیں بھول تو ایک فوجی ہے اور فوجی تو اپنے ملک کے لوگوں کے لیے جان بھی دے سکتا ان کا کام ہی ملک کے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے اس کے ضمیر نے اسے وہاں سے جانے نہیں دیا،
ایسا بھی نہیں کہ ہم ہر وقت لڑنے والے ہوتے ہیں،
سنو…!!!!
ہم فوجی دل والے بھی ہوتے ہیں
دوسری طرف آکر اس نے گاڑی کا دروازا کھولا اٹھو مس میوٹ میں سے دعا نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھولی اٹھ گئی چلو باہر آؤ بلال نے پیچھے ہوتے ہوئے کہا اس نے پہلے اپنے آس پاس دیکھا پھر اپنی چادر کو ٹھیک کرتے ہوئے باہر آئی،
اف نکھرے تو دیکھو میڈم کے بلال بس سوچ کے رہ گیا اس نے بیٹھتے ہوئے آواز دے کر بچے کو بلایا اور کھانا آرڈر کیا دعا کو فریش ہونا تھا اس نے ایک نظر بلال کو دیکھا جو بچے کو کھانے میں کیا لانا ہے وہ سمجھا رہا تھا وہ اسے کیسے کہتی اگر اشارے سے تو اسے معلوم ہو جاتا وہ بول نہیں سکتی حالانکہ دعا کو اس سے ملے ہوئے کچھ دن ہوئے تھے اور نکاح کو ایک دن بس پھر بھی اسے ڈر لگ رہا تھا بلال کو کھونے کا ڈر بلال اسے چھوڑ دے گا،
بلال نے ایک نظر اسے دیکھا جو اپنے چاروں اطراف میں نظرے دوڑا رہی تھی،میرے ساتھ چلو بلال نے واپس کھڑے ہوتے ہوئے کہا دعا چپ چاپ کھڑی ہوگئی ویسے بھی اب وہ بلال کے رحم وکرم پر تھی،
جاؤ اندر فریش ہو جاؤ بلال نے اسے کہا اس نے حیرت سے ایک دم بلال کو دیکھا وہ کیسے سمجھ گیا تھا کے وہ کیا کہنا چاہتی ہے، جاؤ اب!!! بلال کے دوبارا کہنے پر دعا نے جلدی سے اپنی نظرے جھکائی اور اندر چلی گئی،
بلال نے بھی منہ ہاتھ دھویا جب تک دعا آگئی تھی اس کا منہ بھی دھولا ہوا تھا وہ اسے لے کے واپس وہاں آگیا جہاں کھانا ان کا انتظار کر رہا تھا،
دعا بھی بیٹھ گئی بلال کھانا شروع کر چکا تھا جب کے دعا اب بھی ایسے ہی بیٹھی تھی سالن ایک ہی پلیٹ میں تھا اور وہ خود کو بہت چھوٹا سمجھتی تھی وہ بلال کے ساتھ کیسے کھا سکتی تھی،
کیا ہوا کیوں نہیں کھا رہی بلال نے اس کی طرف دیکھا جس نے نفی میں سر ہلایا میرے ساتھ کھانے میں پرابلم ہے بلال نے سیریس انداز میں پوچھا اس نے بلال کی طرف دیکھ کے پھر سے نفی میں سر ہلایا،
چپ چاپ کھانا کھاؤ نہیں تو یہی چھوڑ جاؤ گا بلال نے تھوڑا غصے میں کہا ویسے بلال کو جلدی غصّہ آتا نہیں تھا پر یہ لڑکی ایک بار میں کوئی بات مان لے تو کیا ہی بات ہو اب بھی وہ صرف غصّہ کرنے کا ناٹک کر رہا تھا تاکہ یہ لڑکی کھانا کھالے اور اس کا ناٹک کام آیا تھا دعا جلدی سے کھانا کھانے لگی تھی بلال نے اپنی ہونٹوں کو دبا کے اپنی ہنسی کو روکا وہ اس کو ڈرانے میں کامیاب جو ہو گیا تھا،
بلال کھانا کھا کے ہاتھ دھونے گیا اسے اتنے میں حیدر کی کال آگئی،ہاں بھائی کہاں ہے اب تک نہیں آیا،فون میں سے حیدر کی آواز آئی،
کہا ہو سکتا ہوں جہاں تو مجھے پھنسا کے گیا وہی ہوں اس میڈم کو لیے گھوم رہا ہوں بلال کے منہ بنا کر کہنے پر حیدر نے قہقہہ لگایا ہاہاہا بلال نے موبائل کو گھورا اب میرے گھر والوں کو تو جواب دے گا ورنہ ان کو لگے گا میں کسی لڑکی کو اس کے گھر سے بھاگا کر لایا ہوں ابو تو ویسے بھی میرے خلاف ہے ہمیشہ سے ان کو تو موقع مل جائے گا مجھے اچھا خاصا زلیل کرنے کا بلال رونے جیسا ہوگیا،ارے میرے بھائی میں ہونا تجھے میں نے جس کام کے لیے فون کیا وہ تو سن لے حیدر اس سے کام کی بات کرنے لگا،
وہ دیکھ وہ لڑکی شاید گونگی ہے، تجھے کیسے پتا اس کے برابر میں موجود آدمی نے دعا کو گندی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا،
ارے وہ بچا جب آیا پیسے لینے وہ اسے اشارے سے بات کر رہی تھی اور سب اشارے سے بول رہی جب کے چھوٹو تو بول سکتا ہے مطلب یہ لڑکی گونگی ہے اس نے مسکراتے ہوئے کہا جس سے اس کے پیلے دانت صاف نظر آرہے تھے،
ارے ایسی بات ہے تو اپنے بہت کام کی لڑکی ہے منہ بھی نہیں کھولے گی اس آدمی نے اسے کہا اور دونوں کھڑے ہوگئے،اس جگہ روڈ تھی لوگ نہ کے برابر تھے ڈھابے والا بچا بھی برتن لے کر اندر چلا گیا اب وہاں دعا اکیلی تھی جس کی نظرے بلال پر تھی بلال ہاتھ دھونے گیا تھا جو تھوڑی دور تھا وہ پیٹھ موڑے فون پر کسی سے بات کر رہا تھا
دعا اب بھی اسے دیکھ رہی تھی جب پیچھے سے اسے دو آدمیوں نے پکڑا اس نے اپنے دونوں طرف دیکھا جہاں وہ دونوں آدمی اسے گندی نظروں سے دیکھ رہے تھے دعا نے ان سے اپنے ہاتھ چھڑانے چاہے،وہ آدمی بلال کو دیکھنے لگے جو کسی سے فون پر بات کرتے ہوئے ہنس رہا تھا،
دعا کی آنکھوں میں خوف پھیل گیا اس نے اپنی پوری طاقت لگائی پر ان آدمیوں نے اسے پیچھے کی طرف کھینچا دعا نے بلال کو دیکھا جو پیٹھ موڑے مزے سے کسی سے بات کرنے میں لگا ہوا تھا،
دعا نے اپنا ہاتھ آگے کیا منہ سے اسے آواز دینا چاہی پر اس کے منہ سے کوئی آواز کوئی چیخ نہیں نکلی وہ ان آدمیوں سے اپنا آپ چھوڑ وانے لگی اس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگی یا اللّٰہ بلال ایک دفاع موڑ کر دیکھ لیں وہ دل میں خدا سے دعا کرنے لگی وہ آدمی اسے پیچھے کی طرف لے جا رہے تھے جہاں ان کی جھونپڑی بنی ہوئی تھی،
ہم کچھ گھنٹوں میں وہاں ہوگے اب رکھ فون بلال بولتا بولتا موڑا جب اس کی نظر خالی چارپائی پر گئی یہ لڑکی کہا گئی اس نے جیسے ہی دیکھا دو آدمی زبردستی اسے کسی جھونپڑی میں لے کر جا رہے دعا بری طرح اپنے ہاتھ پیر مار کر خود کو ان سے چھوڑ وانے کی کوشش میں لگی تھی بلال فوراً اس طرف بھاگا،
دونوں آدمیوں کو اس نے ایک ساتھ پیچھے سے پکڑ کے دور پھینکا دعا زمیں پر گر چکی تھی بلال نے جھک کے اسے اٹھایا جس کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھی اور گھسیٹنے کی وجہ سے اس کا ایک بازو بھی پھٹ گیا تھا بلال نے اس کی چادر سہی کی اور ان کی طرف موڑا،
اس وقت کوئی بلال کو دیکھ لیتا تو یقیناً ڈر جاتا وہ ان دونوں پر ٹوٹ پڑا تھوڑی دیر میں ان کو بری طرح مار کے وہ پھینک چکا تھا اب اس نے دعا کا ہاتھ پکڑا اسے گاڑی میں لا کر بیٹھایا، گاڑی اسٹارٹ کی، کچھ دور جا کے روکی، اس کی طرف موڑا جو نیچے منہ کیسے اب سسکیوں سے رو رہی تھی،
اب رونے سے کیا ہوگا بولو بلال ایک دم دھاڑا دعا ڈر کے تھوڑی پیچھے ہوگئی، اللّٰہ نے تمہارے منہ میں جو زبان دی ہے اس کا استعمال کیوں نہیں کرتی ہو کس بات کا غرور ہے بولو بلال بول نہیں رہا تھا چیخ رہا تھا دعا کی آنکھوں سے اور تیز آنسوں گرنے لگے،
ادھر دیکھوں مجھے جواب دو اس کا چہرہ سختی سے پکڑ کے اس نے اپنی طرف کیا،دعا کی آنکھوں میں اس وقت خوف بھی تھا درد بھی اور کرب بھی،بلال کی پکڑ اور سخت ہوتی جارہی تھی پر دعا پھر بھی خاموش تھی،اگر وہ پیچھے دو منٹ دیر سے موڑتا تو کیا کیا ہو سکتا تھا یہ سوچتے ہی اسے پھر سے غصّہ آنے لگا،
بولو!!!!بلال نے ایک دم ہاتھ ہوا میں بلند کیا ارادا اسے مارنے کا نہیں محض ڈرانے کا تھا دعا نے ڈر کے اپنے دونوں ہاتھ آگے کر لیے،اور روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی،اس نے ڈرتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کے نفی میں سر ہلایا اور سسکیوں سے رونے لگی بلال کا ہاتھ ہوا میں رہ گیا،
تم بول نہیں سکتی، اسے اپنی آواز کھائی میں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی دعا نے ہاں میں سر ہلایا اور واپس رونے لگی اب بلال اسے چھوڑ دے گا پکا چھوڑ دے گا اب اسے اس ڈر سے اور زیادہ رونا آرہا تھا،
بلال نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کے خود کو ریلکس کیا پھر دعا کی طرف دیکھا اس وقت بلال کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا،
*************
مالک یہ جو ہم نے بم بنایا تھا وہ آدمی سامنے موجود اپنے مالک کے سامنے نظرے جھکا کر کھڑا تھا اس نے ہاتھ میں موجود بیگ سامنے رکھا،
مالک نے ایک نظر بیگ کو دیکھا پھر اسے اب میں اس بم کا کیا کروں جب تم ہر انفارمیشن ان آرمی والوں کو دے آئے مالک نے غصے سے دھاڑ کر کہا وہ آدمی ڈر کے تھوڑا پیچھے ہو گیا اس نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا،
آرمی نے تمہارے سب آدمیوں کو مار دیا اور اس بم کے بارے میں بھی اب وہ لوگ جانتے ہیں کیا اب اتنا آسان ہے اس بم کو کہی بھی لے کر جانا مالک نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا،
مجھے معاف کر دو مالک ہم نے اپنا پورا کام چھپ کے کیا پر پتا نہیں کیسے انہیں شک ہو گیا اور انہیں انفارمیشن مل گئی اس آدمی نے ڈرتے ہوئے کہا میں یہ بیگ بہت مشکل سے یہاں تک لایا ہوں آرمی نے جگہ جگہ ناکا بندی لگائی ہوئی یے مالک اس آدمی نے نظرے نیچے کیے آرام سے کہا پر اس کی آنکھوں میں خوف تھا،
تجھے آرمی والوں نے دیکھ لیا ہے اس لیے اب تو میرے کام کا نہیں ایک دم اپنے جیب سے گن نکال کر وہ اس آدمی کو شوٹ کر چکا تھا،ایک گولی میں ہی اس آدمی کا کام تمام ہو گیا،
اس نے اپنی جیب سے سگار نکال کر اسے جلایا آنکھیں بند کر کے اندر کی طرف سانس لیا پھر سگار ہونٹوں سے ہٹا کر دھواں ہوا میں چھوڑا، جو تم لوگوں نے میرے بیٹے کے ساتھ کیا اس کا حساب دینا ہوگا تم سب کو راجا صاحب نے اس آدمی کو دو اور گولیا ماری،
میجر حیدر وقت آگیا ہے حساب دینے کا جو تو نے اور تیری ٹیم نے کیا اس کا حساب تجھے دینا ہوگا سگار کو ہونٹوں سے لگا کر اس نے پھر سے دھواں ہوا میں چھوڑا اس وقت راجا صاحب کی آنکھوں میں نفرت تھی بے حد نفرت،تم مجھے بھول گئے میجر حیدر میں تمہیں نہیں بھولا اس نے سگار کو نیچے پھینک کر اپنے جوتے کی نوک سے اسے کچلا ،آئی ایم بیک
***********
روہان فریش ہوکے نیچے آیا کچن میں لیلہ کام کر رہی تھی،سنو جی بوس لیلہ نظرے نیچے کیے کھڑی تھی،تم سب کل رات کہا گئے تھے حیا میڈم کو اکیلا چھوڑ کے بولو روہان نے ایک دم غصے سے کہا لیلہ تھوڑی ڈر گئی،
بوس وہ آپ کے فرینڈ اور ان کی وائف وہ لوگ کل آئے تھے ہم سب کے جانے کا وقت تھا پر سب اس لیے رک گئے کے کوئی کام ہو سکتا لیکن بوس ان کی وائف نے باہر آکر کہا کے حیا میڈم نے کہا ہے ہم سب جا سجتثے ہیں،انہیں کوئی کام نہیں ہے اس لیے بوس ہم بھی سب چلے گئے لیلہ نے جلدی سے سب بتایا،
تم لوگوں کو کس نے کہا ہے وہ میرا دوست تھا بولو روہان نے اس کے ساتھ سب نوکروں کو ایک جگہ کھڑا کیا بوس وہ اکثر یہاں آتے ہیں تو ہمیں لگا____لیلہ نے تھوڑی ہمت کرکے کہنا چاہا جب روہان نے اسے گھورا ایک لیلہ کی ہی ہمت تھی جو روہان سے بات کر لیتی تھی باقی سب کی تو روہان کے غصے سے جان نکلتی تھی
تمہیں لگا اس لیے تم سب چلے گئے حیا کو یہاں اکیلا چھوڑ گئے میں چاہوں تو تم سب کو ابھی فارغ کر دوں روہان نے بہت غصے سے کہا سب نوکر نظرے نیچے کیے کھڑے تھے روہان نے آج سے پہلے اتنا غصہ کسی پر نہیں کیا تھا،
سوری بوس ہم آئندہ دھیان رکھے گے لیلہ نے اپنے اور باقی سب کی طرف سے آرام سے جواب دیا،یہ تم سب کے لیے آخری وارننگ ہے اب میرا سچ میں بھی کوئی دوست آئے تو انہیں حیا سے ملنے نہیں دو چاہے کوئی کچھ بھی کہے جب تک میری اجازت نا ہو کوئی بھی حیا سے نہیں ملے گا سمجھ آئی بات غصے میں بولتے ہوئے اس نے سب کی طرف دیکھا سب نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا،
برو یار آپ نے تو یہاں سب کی کلاس لگائی ہوئی ہے جیک نے اندر آتے ہوئے کہا روہان نے ایک نظر اسے دیکھا اور سب کو جانے کا اشارہ کیا،ایک اشارے پر ہی سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے لیلہ کو اس نے ناشتہ تیار کرنے کا حکم دیا،
برو کیا آپ ٹھیک ہو جیک نے پاس آتے ہوئے اسے دیکھا جو عام سے لباس میں بھی ڈیشنگ لگ رہا تھا تم مجھے بتاؤ اس کا کیا ہوا روہان کا اشارہ کس طرف تھا جیک سمجھ چکا تھا،
برو اسے میں نے ہاسپٹل میں ایڈمٹ کروا دیا روہان نے ایک دم اس کا گریبان پکڑا میں نے تمہیں کہا تھا اسے کچرے میں پھینکنا،پر برو وہ مر جاتا جیک نے تھوڑا آرام سے کہا پر اصل میں تو اسے بھی روہان کے غصے سے ڈر لگ رہا تھا،
مر جاتا اچھا ہوتا تمہیں اس سے ہمدردی کرنے کی کیا ضرورت تھی بولو روہان نے ایک دم اسے چھوڑتے ہوئے غصے سے کہا،برو آگے تو سنو وہ مر جاتا تو آپ پر الزام آتا اب وہ ذندہ ہوکے بھی ذندہ نہیں ہے روہان نے جیک کی بات پر اس کی طرف دیکھا،
مطلب برو اس کے دونوں ہاتھ اب کام کے نہیں رہے اور اس کا اندر کا بھی سب نظام آپ نے ہلا دیا اور اسے اتنی مار پڑی ہے کے وہ اب کومے میں جا چکا ہے وہ ذندہ ہوکے بھی نہیں ہے برو جیک نے اپنی شرٹ کو سہی کرتے ہوئے کہا روہان نے سب خراب جو کر دی تھی،
اسے تو اس سے بھی بڑی سزا ملنی تھی اس نے میری لٹل گرل کو ہاتھ لگانے کی ہمت کی اگر میں نہیں آتا ٹائم پر روہان نے ایک دم اپنی آنکھیں بند کی اب بھی اس کی آنکھوں میں کل رات والا منظر آرہا تھا تو اس نے غصے سے اپنی مٹھی بھینچی،
برو یار اب تو اسے سزا مل گئی ہے آپ آج آفس بھی نہیں آئے جیک کے کہنے پر روہان نے اسے دیکھا آفس تم چلے جاؤ میں آج نہیں آؤ گا یہ بول کے وہ کچن میں چلا گیا وہاں سے ناشتے کی ٹرے لی اور اوپر کی طرف گیا جیک نے حیرت سے دیکھا برو پر یقیناً اس لڑکی میرا مطلب بھابھی نے جادو کیا ہے جیک سر جھٹک کے باہر چلا گیا اب اسے تو جانا تھا ہی آفس برو جو نہیں جا رہے تھے،
***************
چاچو انوشے بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی حیدر نے اسے اپنی گود میں اٹھایا،اور اس کے دونوں گال چومے کیسی ہے میری پرنسس حیدر نے پیار سے اس سے پوچھا،
میں بلکل ٹھیک ہوں چاچو آپ کہا چلے گئے تھے آئی مس یو سوسو مچ انوشے نے اپنے ہاتھ کھول کر کہا جس سے حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی،
پرنسس میں کہاں جاؤ گا یار کام سے گیا تھا حیدر نے بیٹھ کے اسے اپنی گود میں بیٹھایا،آپ بھی چلے گئے حیا بھی چلی گئی میں اکیلی ہوگئی نا انوشے نے منہ بنا کر کہا،
حیا نہیں حیا پھوپھو کتنی بار کہا ہے برہان نے روم میں آتے ہوئے کہا وہ ابھی آفس سے آیا تھا جب اسے معلوم ہوا کے حیدر آیا ہے وہ بھی اسی روم میں آگیا،
پاپا!!!!انوشے نے ایک دم منہ بنایا ہاہاہا برہان ہنستے ہوئے سامنے سوفے پر بیٹھ گیا،چاچو میں بہت اکیلی ہو جاتی ہوں آپ حیا کو واپس لے آؤ نہ انوشے کی بات پر حیدر نے مسکرا کے اس کے بال بگاڑے پرنسس حیا تو اب اپنے گھر ہے ہم آپ کے لیے چاچی لے کے آئے گے آپ ان کے ساتھ کھیلنا حیدر کی بات پر انوشے نے حیرت سے دیکھا واو چاچی آئے گی سچی انوشے تو ایک دم خوش ہی ہوگئی،میں مما کو بتا کر آتی ہوں انوشے نیچے اتر کے دوسرے روم میں بھاگ گئی،
برہان نے مسکرا کر حیدر کو دیکھا واقعی جناب نے شادی کا موڈ بنا لیا کیا،جی بھائی گھر بھی خالی ہو گیا ہے انوشے کا بھی دل نہیں لگتا،حیدر کی بات پر برہان نے مسکرا کر دیکھا انوشے کا دل نہیں لگتا یا تمہارا،
بھائی آپ بھی حیدر نے ان کو مصنوعی گھوری سے نوازا ہاہاہا جس پر برہان کا قہقہہ جان دار تھا اچھا بھئی اب تو کچھ سوچنا ہی پڑے گا میرے بھائی کے لیے برہان اپنی ہنسی کو دباتے ہوئے روم سے باہر چلے گئے حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی مسسز حیدر اب آپ کے یہاں آنے میں کچھ دن ہے حیدر سوچتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا،
**************
السلام وعلیکم مما بلال نے پیچھے سے صائمہ بیگم کو پیار سے ہگ کیا،میرا بچا آگیا صائمہ بیگم مسکراتے ہوئے اس کی طرف موڑی جی مما بس بہت تھک گیا ہوں بلال نے سوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا تم گئے تو حیدر کو ساتھ تھے وہ تو کب کا آگیا تم کیسے اتنے لیٹ ہوگئے جناب صائمہ بیگم نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے نوکر کو پانی لانے کا کہا،
اسی کمینے کی وجہ سے تو سب ہو رہا بلال منہ ہی منہ میں بڑبڑایا،کیا بول رہے بیٹا صائمہ بیگم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا کچھ نہیں مما بس میں آرام کرنا چاہتا ہوں بلال نے آرام آرام سے اپنا سر دبایا ان کچھ دنوں میں جو کچھ ہوا تھا اس سے وہ بہت اپسیٹ ہو گیا تھا،
بھیا!!!!! سارا جلدی سے بلال کے پاس آئی پہلے اس کے ایک گال پر پیار کیا پھر دوسرے گال پر بلال کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی،بھیا آپ کہا چلے گئے تھے آپ کو میری یاد نہیں آئی آپ اب واپس تو نہیں جاؤ گے ایک کے بعد ایک سوالوں کے اس نے ڈھر لگا دیے،
ارے ارے گڑیا سب بتاتا ہوں میں کام سے گیا تھا اور مجھے آپ کی بھی بہت یاد آئی ابھی میں آیا ہوں اور کہی نہیں جا رہا ابھی تو آرام کروں گا بہت تھک گیا ہوں نا بلال نے سارا کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے کہا،
اچھا جاؤ بچا تم کھیلوں میں آرام کروں پھر ہم کل بہت ساری باتیں کرے گے ٹھیک ہے بلال نے پیار سے اس کے بال بگاڑے اور کھڑا ہوگیا،
بھیا یہ دانتوں کے نشان آپ کو کسی نے کاٹی کی ہے بلال کا ہاتھ پکڑتے ہوئے سارا نے فکر مندی سے کہا اس نے جلدی سے صائمہ بیگم کی طرف دیکھا جو اسی کے ہاتھ کی طرف دیکھ رہی تھی،
بیٹا یہ!!!صائمہ بیگم نے بلال کی طرف دیکھا،جنگلی بلی نا ہو تو بلال نے دل میں دعا کو کوسا مما وہ یہ احمد کے کام ہے،بلال نے جلدی سی الزام احمد پر لگایا اب وہ کسی لڑکی کا نام تو نہیں لے سکتا تھا اچھا اب میں جا رہا ہوں بلال نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور اپنے روم کی طرف چلا گیا تجھے تو میں چھوڑو گا نہیں حیدر،
*************
حیا کی آنکھ کھلی وہ روم میں اکیلی تھی وہ آرام سے اٹھ کے بیٹھی سر میں لگنے والی چوٹ سے اب تک سر میں درد تھا،روم کا دورازا آرام سے کھولا،حیا نے جلدی سی کمبل اپنے قریب کرکے دروازے کی طرف خوف زدہ نظروں سے دیکھا پر وہاں روہان کو دیکھ کے وہ تھوڑا سکون میں آئی،
لٹل گرل اٹھ گئی چلو فریش ہو جاؤ میں ناشتا لایا ہوں پھر ہم مل کر ناشتا کرے گے روہان نے مسکراتے ہوئے ٹرے سائڈ ٹیبل پر رکھی،پر حیا اب بھی چپ چاپ نظرے جھکائے بیٹھی تھی
کیا ہوا سوئٹ ہارٹ روہان نے اس کے پاس بیٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑا،حیا نے جھجھکتے ہوئے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا،اٹھوں آؤ روہان نے اپنا ہاتھ واپس آگے کیا حیا نے اس کی طرف دیکھا پھر آرام سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا اور کھڑی ہوگئی،
روہان نے وارڈروب سے اسے وائٹ کلر کی خوبصورت فروک نکال کے دی اور اسے واشروم میں بھیج دیا،جب تک اس نے ناشتا بیڈ پر رکھا تھوڑی دیر میں حیا باہر آئی روہان نے اس کی طرف دیکھا تو پلکیں جھپکانا بھول گیا،
وائٹ کلر کی گٹھنوں تک آتی فروک اس پر چوڑی دار پہنے گلے میں دوپٹہ لیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی وہ آگے آئی کے ایک دم اسے چکر آئے اس نے دیوار کو پکڑا روہان جلدی سے اس کے پاس گیا لٹل گرل کیا ہوا اسے آرام سے بیڈ تک لایا،روہان نے اسے آرام سے بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھایا،پھر فرسٹ ایڈ باکس لایا حیا کا بینڈج چینج کیا،گال کل کے مقابلے آج اتنے سرخ نہیں تھے اور ہونٹوں کا زخم بھی واضح نہیں ہو رہا تھا،
اس نے نوالا اس کے آگے کیا جسے حیا نے چپ چاپ منہ میں لے لیا روہان نے اس کی طرف دیکھا اس واقع کے بعد حیا اسے گم سم سی لگ رہی تھی،اوپر سے لگنے والی چوٹ سے اس میں کمزوری بھی آگئی تھی،اب ایسے میں وہ اسے یونیورسٹی نہیں بھیج سکتا تھا،
بس!!!حیا نے ہاتھ کے اشارے سے بس کیا روہان نے جوس اس کے آگے کیا جسے دیکھ کے اس نے منہ بنایا روہان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی،جوس تو پینا پڑے گا جوس نہیں پیوگی تو طاقت کیسے آئے گی اور طاقت نہیں آئے گی تو پاکستان کیسے جاؤ گی روہان کی بات پر حیا نے ایک دم اسے دیکھا،
پاکستان بھیا کے پاس،!!!!حیا نے کل سے اب تک پہلا جملہ کہا اس کے چہرے کی رونق دیکھ کے وہ سمجھ گیا حیا پاکستان جا کر ہی بلکل ٹھیک ہوگی اور وہ اپنی لٹل گرل کی خوشی کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا،روہان نے پیار سے اسے دیکھا،ہم پاکستان جائے گے حیا نے روہان کی طرف دیکھ کے حیرت سے پوچھا اسے تو اب تک یقین نہیں آرہا تھا،
جی ہاں لیکن جب میری لٹل گرل بلکل ٹھیک ہوگی پھر روہان نے پیار سے حیا کے بالوں کی ایک لٹ اس کے کان کے پیچھے کی،میں بلکل ٹھیک ہوں جوس پینا ہے نا حیا نے جلدی سے ٹرے میں سے جوس لیا اور اسے ایک سانس میں پی لیا حیا کی اس حرکت پر روہان کا قہقہہ جاندار تھا ہاہاہا یار کتنی معصوم ہو تم کس کس سے چھپا کر رکھوں تمہیں روہان نے ہنستے ہوئے کہا،
حیا نے گلاس رکھ کر حیرت سے اسے دیکھا اس کا منہ بھی اب تک کھولا ہوا تھا آپ ہنستے بھی ہو حیا نے اتنی حیرت سے کہا پر اس کی آواز بہت آہستہ تھی ہاہاہا روہان نے ایک اور قہقہہ لگایا،ہاں اب ہنستا ہوں سویٹ ہارٹ روہان نے ہنستے ہوئے ٹرے سائڈ ٹیبل پر رکھی،
آپ مزاق کر رہے تھے نا پاکستان لے کر نہیں جاؤ گے نا حیا نے نیچے منہ کیے بچوں کی طرح کہا جس پر روہان نے اسے پیار سے دیکھا اس وقت اسے حیا پر ٹوٹ کے پیار آرہا تھا،
میں نے اپنے لٹل گرل سے وعدہ کیا ہے آپ ٹھیک ہوگی ہم پاکستان جائے گے پر کچھ دن کے لیے پھر میرے ساتھ ہی واپس ٹھیک ہے روہان نے اس کا چہرہ پیار سے اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا جس سے حیا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی،روہان نے پیار سے اپنی محبت کی مہر اس کے ماتھے پر ثبت کی حیا ایک دم جھینپ گئی،
روہان مسکراتے ہوئے روم سے باہر چلا گیا،(آپ ہنستے بھی ہو)حیا کی بات اب بھی اس کے ذہن میں تھی جس کی وجہ سے مسکراہٹ اس کے ہونٹوں سے جدا نہیں ہو رہی تھی،اسے یاد بھی نہیں تھا وہ پہلے کب اتنا مسکرایا تھا یا اتنا ہنسا تھا،اب اس کے پاس اس کی دنیا تھی اس کی لٹل گرل اس کے مسکرانے کی وجہ
*****************
چچی بلال آگیا کیا حیدر نے صائمہ بیگم کی طرف دیکھ کر پوچھا،ہاں بیٹا وہ تو کب کا آگیا ابھی آرام کر رہا ہے،حیدر نے ان کی طرف دیکھنے کے بعد گھر میں چاروں طرف دیکھا اچھا چچی اس کے ساتھ کوئی آیا نہیں حیدر کی نظرے پورے گھر میں گھوم رہی تھی،
نہیں بیٹا اس کے ساتھ کسی کو آنا تھا کیا،صائمہ بیگم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا،ہاں اس کے ساتھ بھی کوئی تھا حیدر نے سریس چہرے کے ساتھ پوچھا اب اسے بلال پر غصّہ آرہا تھا،
کون احمد آرہا تھا کیا ساتھ صائمہ بیگم احمد کو اچھے سے جانتی تھی نہیں چچی وہ میں آپ کو بعد میں بتاؤ گا پہلے اس کی تو خبر لے لوں حیدر بولتا ہوا بلال کے روم کی طرف بڑھ گیا،ان دونوں کا کچھ نہیں ہو سکتا صائمہ بیگم سر جھٹک کر اپنے کاموں میں مصروف ہوگئی،
بلال فریش ہوکے سونے کے لیے لیٹ چکا تھا جب ایک دم دھڑام سے روم کا دروازا کھولا، اف سارا گڑیا مجھے سونا ہے یار بلال نے بولتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا تو اٹھ کے بیٹھ گیا حیدر اسے خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا اس نے اپنی آستین چھڑاتے ہوئے بیڈ کی طرف قدم بڑھائے،
تو ایسے کیوں دیکھ رہا ہے بھائی میں نے کچھ نہیں کیا بلال حیدر کو اپنے پاس آتے دیکھ دوسری طرف سے نیچے اتر گیا،حیدر دوسری طرف گھوم کر آتا اس سے پہلے بلال واپس بیڈ پر چھڑ چکا تھا،
نیچے اتر حیدر نے غصے میں اسے نیچے آنے کا اشارہ کیا،نہیں نیچے آؤ گا پھر تو مارے گا میں نہیں آرہا بلال نے بیڈ پر کھڑے کھڑے ہی بچوں کی طرف کہا
جب پتا ہے میں مارو گا تو ایسی حرکتیں کیوں کرتا ہے تو اب نیچے آ ورنہ میں اوپر آرہا حیدر اس طرف آئے تو بلال دوسری طرف چلا جائے دونوں میں ایک جنگ چل رہی تھی حیدر ایک دم بیڈ پر چھڑا اسے اوپر آتے دیکھ بلال نے بیڈ سے نیچے چھلانگ لگادی حیدر نے بھی نیچے کود کے اس کی گردن پیچے سے پکڑی،
بتا کہاں ہے دعا میں تجھے اس کی زمیداری دے کر آیا بتا کہاں چھوڑ آیا تو اس معصوم کو بتا،حیدر نے پیچھے سے تیز اس کی گردن دبائی،
میں اسے یہاں لے کر آتا تا کے ابو اور امی مل کر میری چٹنی بنا دیتے پاگل سمجھا ہوا ہے کیا بلال نے اس سے اپنی گردن چھوڑوائی،ہاں تو پاگل ہی ہے بچپن سے ٹھیک کب تھا فالتو آدمی میری غلطی ہے کے ایک معصوم بچی کی زمیداری تجھے دی حیدر نے اسے افسوس سے دیکھتے ہوئے کہا،
بچی نہیں ہے لڑکی ہے اور معصوم وہ نہیں ہے میں ہوں جو اس سب میں پھس گیا بغیر کچھ کیے اور تو مجھ پر ہاتھ اٹھا رہا جب کے یہ کام مجھے کرنا چاہیے بلال بھی بولتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گیا،
ٹھیک ہے تو نہیں بتائے گا نا سب کو میں بتاؤ گا حیدر بول کے دروازے کی طرف بڑھا،حیدر تو ایسا نہیں کرے گا وہ ٹھیک ہے میرے دوست کے فلیٹ پر ہے،بلال نے جلدی سے اس کے پیچھے آتے ہوئے کہا،
ہاں اتنا مجھے پتا ہے تو اسے کہی سیف جگہ ہی چھوڑ کر آیا ہے پر وہ اب تیری بیوی ہے اور اتنی رات کو کہی اکیلی کیوں رہے گی میں ابھی چوچو سے بات کرتا ہوں حیدر بولتا ہوا باہر چلا گیا،
دیکھ حیدر انسان بن جا کیوں بے موت مروانا چاہتا ہے مجھے بلال بھی بولتا ہوا باہر آیا جب سامنے علی صاحب کو کھڑے دیکھا،اس کی تو زبان ہی چپک گئی،
چاچو آپ سے اور چاچی سے ایک بات کرنی ہے حیدر کے کہنے پر علی صاحب نے ایک نظر بلال پر ڈھالی جو نظرے جھکائے کھڑا تھا،علی صاحب نے ان کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور صائمہ بیگم کو بھی آواز دے کر بلا لیا،
چاچو ایسے حالات میں مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا حیدر نے نیچے نظرے جھکائے آرام آرام سے سب بتا دیا صائمہ بیگم تو بلکل خاموش تھی بلال کو تو چپ لگ گئی تھی علی صاحب اٹھ کے حیدر کے پاس آئے اسے ہاتھ پکڑ کے کھڑا کیا اور گلے سے لگایا،
مجھے تم پر فخر ہے بیٹا کے تم ہمارا خون ہو تم نے جو کیا بلکل ٹھیک کیا تمہاری جگہ میں ہوتا تو بھی یہی کرتا،علی صاحب نے اس کے کمر پر تھپکی دیتے ہوئے کہا،پھر انہوں نے بلال کی طرف دیکھا جو حیرت سے یہ سین دیکھ رہا تھا،
پر حیدر مجھے تم سے ایک شکایت ہے صائمہ بیگم نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ان کا چہرہ اس وقت بلکل سریس تھا،جی چچی آپ کو پورا حق ہے آپ مجھے کچھ بھی کہہ سکتی ہیں حیدر نے ان کی طرف دیکھ کے نظرے جھکا لی،
تم نے اس معصوم بچی کی زمیداری اس جیسے بندر کو دے دی جو اسے پتا نہیں کہاں چھوڑ آیا ہے صائمہ بیگم نے اسے بول کے غصے سے بلال کی طرف دیکھا جس کا منہ بندر لفظ پر کھل چکا تھا مطلب یہاں بھی میری غلطی،
کہاں ہے وہ بچی علی صاحب نے اس کی طرف دیکھا،دوست کے فلیٹ پر،بلال نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا پر اس کی نظرے نیچے تھی،جوان تم نے بہت اچھا کام کیا ہے پھر اسے چھپایا کیوں علی صاحب نے اسے گلے سے لگایا بلال نے ان کے گلے لگ کے حیدر کو دیکھا جو انہیں دیکھ کے مسکرا رہا تھا،کمینہ یہاں بھی بازی لے گیا بلال نے اسے گھورا،
پر بیٹا اسے یہاں لے کر آتے اب وہ ہماری بہو ہے ویسے بھی شادی تو اب ہم تمہاری کرنے والے تھے،اب دھوم دھام سے ولیمہ کرے گے،علی صاحب نے بلال کو دیکھتے ہوئے کہا،جی پاپا کل لے آؤ گا،
کل نہیں آج اور ابھی اتنی رات کو ہماری بچی اکیلی رہے گی جاؤ لے کر آؤ اسے صائمہ بیگم نےا س کی کان پکڑے اف مما کان تو چھوڑے اچھا جا رہا ہوں آپ کی بہو کو لینے پر میں آپ سب کو ایک بات بتا دوں بلال کے ایسے کہنے پر سب نے اسے دیکھا،
وہ لڑکی بول نہیں سکتی!!! بلال نے سامنے دیکھتے ہوئے آرام سے کہا یہ بات انہیں بعد میں پتا چلتی اس سے پہلے ہی وہ چاہتا تھا انہیں معلوم ہو،علی صاحب اور صائمہ بیگم نے ایک دم اسے دیکھا،
کیا تمہیں اس چیز سے عتراض ہے بہت دیر بعد علی صاحب نے یہ بات کہی،حیدر تو اب تک شوک میں تھا،بلال نے حیدر کو دیکھا پھر علی صاحب کو مجھے کوئی عتراض نہیں ہے،
وہ ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی حیدر کی آواز پر سب نے اس کی طرف دیکھا وہ تو بہت ہنسنے ہنسانے والی چلبلی لڑکی تھی اس کی آواز سے اس کا پورا گھر گونجتا تھا پھر اس کی چاچی نے اسے ڈرپوک بنایا اس کی آواز چھین لی اس کے گلے میں کوئلے ڈھال دیے حیدر چلتا ہوا اس کے پاس آیا اس نے بلال کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس پر بہت ظلم ہوئے ہے وہ بہت اچھی ہے اور ہم اسے کا علاج کروائے گے وہ ٹھیک ہو جائے گی حیدر کی بات پر بلال نے کوئی ریکشن نہیں دیا پر صائمہ بیگم کی آنکھوں میں آنسوں آگئے
جاؤ بلال اب ہماری بچی کو ہمارے پاس لے آؤ ہم اسے اتنا پیار دے گے وہ سب بھول جائے گی صائمہ بیگم نے پیار سے بلال کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا جس پر اس نے بس ہاں میں سر ہلایا،
چل آجا حیدر اسے لیے گھر سے باہر آگیا،مجھ سے ناراض ہے کیا میں نے تجھے یہ بات پہلے نہیں بتائی حیدر نے باہر آکر اسے کہا،
ناراضگی اس بات کی نہیں کے تو نے بتایا نہیں بلکہ تجھے لگا میں یہ سب جان کر اسے چھوڑ دوں گا وہ اب میرے نکاح میں ہے جیسی بھی ہے اب میری عزت ہے،میں اسے اب چھوڑ نہیں سکتا بلال نے آرام سے جواب دیا،
اب چل میرے ساتھ بلال نے گاڑی کا دروازا کھولتے ہوئے کہا تو اپنی والی کے پاس جا میں اپنی والی کے پاس جا رہا حیدر بولتا ہوا موڑ گیا بلال نے اسے دیکھا اور گاڑی اسٹارٹ کردی اب اسے دعا کو یہاں جو لانا تھا،
جاری ہے
