Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حیدر آج کے دن اسی شہر میں دو بڑے پروگرام ہیں احمد کی بات پر حیدر اس کے پاس آکر بیٹھا،
ایک باہر ممالک کے بڑے بڑے بزنس مین آئے ہیں ان کی کوئی بہت بڑی ڈیل ہے پاکستان کے لیے یہ لوگ سب_____احمد ابھی اور بولتا جب حیدر نے اسے بیچ میں روکا
یہ نہیں دوسرا بول احمد نے ہاں میں سر ہلایا____ہمارے شہر کا بڑا لیڈر ہے اس نے ایک اجلاس ____حیدر نے پھر اسے بیچ میں روکا یہ بھی نہیں ہے،
کیا کرنے والا ہے آخر یہ حیدر نے واپس کھڑے ہوتے ہوئے کہا احمد بھی اب لیپ ٹاپ چھوڑ کر اسی کو دیکھ رہا تھا،حیدر کا موبائل بجا
اس نے فون دیکھا پرائیویٹ نمبر سے کال تھی حیدر نے فون یس کر کے کان سے لگایا،
کیا ہوا میجر حیدر اب تک فیصلہ کرلیا ہوگا کے تم کیسے بچانا پسند کرو گے، بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر ان میں سے کسی کو بھی کچھ بھی ہوا میں تیرا وہ حال کروں گا کے تیری سوچ ہے،حیدر ایک دم فون پر دھاڑا،
ہاہاہا آپ کو تو غصّہ آگیا میجر راجا صاحب نے ہنستے ہوئے کہا، میرا حال تو بعد میں کرنا پہلے اپنے ساتھیوں کا تو حال جا کے دیکھ لو میجر کہی تم یہاں غصّہ کرتے رہو اور وہ اللّٰہ کو پیارے ہو جائیں،اس بار راجا صاحب کی آواز میں نفرت تھی،
حیدر نے ایک دم احمد کو دیکھا پہلا خیال ہی اس کے دماغ میں بلال اور صمد کا آیا، اگر کسی کو بھی کچھ ہوا میں تجھے نہیں چھوڑوں گا حیدر نے غصے میں کہا،
میجر حیدر بس دو گھنٹے ہیں تمہارے پاس یا تو اپنا فرض نبھاؤ یا اپنوں کو بچاؤ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے،
کیا کرنے والا ہے تو بول اگر تو نے کسی بھی معصوم کو کچھ بھی کیا میں___ دھمکیاں بعد میں دینا میجر تیرے اپنوں کے گلے میں ایک رسی ہے اور پیروں کے نیچے برف جیسے جیسے برف پگھلے گی گلے کا پھندا ٹائٹ ہوتا جائے گا پھر تم سوچ سکتے ہوں میجر آگے کیا ہوگا،
تجھے تو____حیدر کچھ اور کہتا اس سے پہلے فون کٹ چکا تھا، حیدر نے فون کو غصے سے دیکھا پھر جلدی سے فون ملا کر ایک ٹیم کو وہاں بھیجا جہاں صمد اور بلال گئے تھے ابھی وہ خود وہاں جا نہیں سکتا تھا حیدر کے ہر ہر انداز میں غصے کے ساتھ بے چینی تھی
حیدر یہ دیکھ ایک بہت ہی کام کی بات معلوم ہوئی ہے احمد جو جب سے لیپ ٹاپ پر مصروف تھا اس نے حیدر کو آواز دی،
حیدر فون رکھ کر اس کے پاس آیا آج سے ٹھیک ایک مہینے پہلے آرمی نے جن بچوں کو بچایا تھا وہ سب بچے اس وقت کیمپس میں موجود ہیں وہ آرمی ٹیم کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں احمد کی بات پر حیدر ایک دم کھڑا ہو گیا،
جلدی کر احمد !!!احمد کو بول کر حیدر بھی باہر کی طرف بھاگا اس نے کیمپس میں فون ملا کر انہیں کچھ ہدایت دی،اب ان کا رخ آرمی کیمپس کی طرف تھا
****************
سب بچوں کو چیک کیا جا رہا تھا جب حیدر وہاں پہنچا اسے یہاں آنے میں آدھا گھنٹا بھی نہیں لگا تھا،
بچوں کی تعداد بہت زیادہ تھی حیدر نے ان سب میں نظرے دوڑائی اسے دور سب سے پیچھے ایک طرف کھڑی سارا نظر آگئی،
حیدر جلدی سے اس کے پاس گیا سارا اسے دیکھتے ہی چند قدم پیچھے ہوگئی،
گڑیا یہاں آؤ بھیا کے پاس حیدر نے اسے پیار سے پچکارتے ہوئے اپنے پاس بلایا،سارا نفی میں سر ہلاتی ہوئی پیچھے ہوگئی،
حیدر نے ایک دم آگے بڑھ کے اسے پکڑا___ نہیں بھیا مجھے چھوڑ دو وہ میری آپی کو مار دے گے مجھے چھوڑ دو سارا تیز تیز چیخنے لگی،
حیدر نے اس کی جیکٹ کی زب خولی اندر جو بم موجود تھا اس کی ٹائمنگ دس منٹ کی تھی دس منٹ میں یہ بلاسٹ ہوجاتا،
اس لوہے کی جیکٹ کو سارا سے دور کرنا آسان نہیں تھا حیدر نے اسے جلدی سے گود میں اٹھایا اور باہر کی طرف بھاگا اسے یہاں سے جلد از جلد نکلنا تھا،
حیدر احمد نے اسے پیچھے سے آواز دی!!!حیدر نے اس کی آواز ان سنی کر دی اور سارا کو جلدی سے گاڑی میں بیٹھایا وہ اسے کیمپس کی حدود سے دور لے جانا چاہتا تھا،
احمد نے دور بین سے دیکھا ٹھیک دس منٹ بعد گاڑی بلاسٹ ہوگئی،
حیدرررر!!! احمد کے ہاتھ سے دور بین نیچے جا گرا
************
کام ہوا راجا صاحب نے فون پر کسی سے پوچھا ___یہ ہوئی نا بات___ فون پر موجود آدمی نے پتا نہیں کیا کہا جس سے راجا صاحب کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ آگئی،
اس حیدر نامی بلا سے آخر میری جان چھوٹ گئی پتا لگا تمہیں راجا سے الجھنے کا انجام اپنی جان سے گیا تو اور تیرے ساتھی بھی راجا صاحب فون بند کر کے کھڑا ہوگیا،
آج اس کے دل کو سکون ملا تھا اس کے بیٹے کی موت کا بدلہ آج پورا ہوا نہ ہی وہ اس کے بیٹے کو مارتا اس سے الجھتا نہ ہی اسے مرنا پڑتا،
میں تو تجھے تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتا تھا پر تیری موت ایسے ہی لکھی تھی تو نے آرمی کیمپس کو بچا لیا پر خود کو نہیں بچا سکا بیچارا ہاہاہا راجا صاحب نے بول کے قہقہہ لگایا
ابھی راجا صاحب اور بھی کچھ بولتا جب ایک دم دروازا کھولا کوئی اندر آیا راجا صاحب کی نظر جیسے ہی اپنی بیٹی پر گئی ان کے ہاتھ سے موبائل نیچے جا گرا،
پاپا آپ یہ سب کر سکتے ہیں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا آنکھوں میں آنسو لیے مشعل خالد حسن کو دیکھ رہی تھی،اس جے پیچھے آمنہ بیگم بھی اندر آئی ان کی آنکھوں میں حیرت آنسو نفرت کیا نہیں تھا،
بیٹا ایسا نہیں___ ابھی خالد حسن کچھ اور کہتے جب اندر حیدر آیا اس نے مسکرا کے خالد حسن کو ہائے کہا____تو زندہ ہے راجا صاحب ارف خالد حسن نے اسے غصے اور نفرت سے دیکھا،
کسی نے کسر نہیں چھوڑی ہمیں مٹانے میں
خدا خود محافظ رہا ہمارا ہر زمانے میں..
حیدر نے مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے کہا اور سوفے پر جا کر بیٹھ گیا سسر جی بیٹھوں آرام سے بات کرتے ہیں حیدر نے اتنی آرام سے کہا کے خالد حسن نے دانت بھینچ لیے،
زاہر ہے آپ کے زہن میں بہت سے سوال ہوں گے چلو اب ہم تھوڑا پیچھے چلتے ہیں حیدر نے خالد حسن کو دیکھتے ہوئے کہا،
آپ کی سب پلینگ بہت اچھی تھی پر جب ہمیں معلوم ہوا کیمپس میں بچے گئے ہیں احمد اور میں بھی وہی چلے گئے پر کیمپس پہچنے سے پہلے کچھ ایسا ہوا،
***************
یہ کون ہے جو ہمارے کیمپس کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے جیسے آرمی سے اتنی نفرت ہے احمد نے گاڑی چلاتے ہوئے حیدر کو دیکھا جو مسلسل کچھ سوچ رہا تھا،
کون ہے یہ ار کے ایچ جس نے ہمارا جینا مشکل کر دیا ہے احمد غصے میں بولتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا جب کے حیدر کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے میں مگن تھا،
تیرا دھیان کہاں ہے احمد نے جب دیکھا حیدر کا دھیان اس کی باتوں کی طرف نہیں ہے تو آخر اس نے پوچھ لیا،
میں نے( کے ایچ ) لفظ کہی تو دیکھا ہے پر یاد نہیں آرہا کہاں دیکھا ہے حیدر نے پر سوچ نظروں سے احمد جو دیکھا،
اگر ایسا ہے پھر پہلے تو نے یہ بات کیوں نہیں بتائی احمد نے حیرت سے اسے دیکھا،
یار پر یاد نہیں آرہا اس لیے میں نے نہیں کہا میں نے دیکھا ہے کہی پر یہ لفظ لکھا ہوا حیدر نے اور سوچنے کی کوشش کی،
تو نے مشعل اور انوشے کے بارے میں کیا سوچا اگر ہم کیمپس گئے جب تک انہیں کچھ بھی ہو سکتا احمد نے اپنی سوچ حیدر کو بتائی،
پہلا میرا فرض ہے پھر میرے اپنے میں جانتا ہوں انہیں میری ضرورت ہے پر اس سے پہلے آرمی کو میری ضرورت ہے،حیدر نے آنکھیں بند کر کے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لیا،
اور بھابھی کے گھر والے جو پریشان ہوں گے اس کا کیا احمد نے حیدر کی طرف دیکھا،
پھوپھو کے پاس انکل ہیں حیدر نے بند آنکھوں سے ہی کہا،
کون سے انکل احمد کا دھیان گاڑی چلانے پر تھا اسے بات سمجھ نہیں آئی،
اس کے پاپا خالد حسن اور کون_____ حیدر نے ایک دم آنکھیں کھولی،
کیا ہوا حیدر کو چپ ہوتے دیکھ احمد نے گاڑی روکی،مجھے یاد آگیا میں نے ( کے ایچ ) کہا دیکھا تھا حیدر کی آنکھوں میں غصے سے زیادہ کرب تھا،
ار کے ایچ اس کا مطلب ہے راجا خالد حسن حیدر کی بات پر احمد نے حیرت سے اسے دیکھا کیا اس نے ٹھیک سنا ہے،
ایسا کیسے ہو سکتا ہے اس کا مطلب کچھ اور بھی ہو سکتا ہے احمد نے حیدر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
حیدر نے غصے سے آنکھیں بند کی اب اسے سب یاد آتا گیا،
جب وہ مشعل کے گھر گیا تو پھوپھو کو پیچھے سے کسی نے مارا تھا پر خالد حسن کو آگے سے اگر انہوں نے اپنی بیٹی کو بچانے کی کوشش کی ہوتی تو گھر کا سامان بکھرا ہوا ہوتا،
پر ان کا گھر بلکل صاف ستھرا تھا جب کے بلال کا پورا گھر بکھرا ہوا تھا مطلب اگر مشعل کو کوئی اٹھاتا تو وہ بھی خود کو بچانے کی کوشش کرتی پر اس کے کمرے کی بیڈ شیٹ اس وقت ایسے تھی جیسے یہاں کچھ دیر پہلے کوئی سو رہا ہو،
مطلب صاف تھا مشعل کو سوتے ہوئے میں بے ہوش کیا گیا تھا،
اور یہ سب ایک گھر کا آدمی ہی کر سکتا ہے اور خالد حسن کو جو سر پر چوٹ لگی وہ بہت معمولی تھی اس وقت پریشانی میں میرا دھیان نہیں گیا پر اب سب یاد آرہا ہے
اور میں نے کے ایچ لفظ کہی اور نہیں اپنے نکاح نامے پر دیکھا تھا خالد حسن اپنے سائن میں کے ایچ ہی لکھتے ہیں،
حیدر نے سب بول کر احمد کو دیکھا احمد واپس گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا اس کی آنکھوں میں غصہ تھا انہیں جلد ہی کیمپس پہنچنا تھا ابھی وہ کوئی اور بات کرتے اس سے پہلے حیدر کا فون بجا،
اس نے یس کر کے کان سے لگایا احمد بھی اب ماتھے پر بل ڈھالے گاڑی چلا رہا تھا،
بلال تو ٹھیک ہے____حیدر کے کہنے پر احمد نے اسے دیکھا اس وقت حیدر کے چہرے پر سکون تھا بے انتہا سکون،
بلال تو اور صمد ٹیم لے کر خالد حسن کے گھر جاؤ ان کا تے خانہ کمرے ایک ایک چیز چیک کرو پوری بات بتا کر حیدر نے فون رکھا،
بلال اور صمد ٹھیک ہیں احمد نے اس سے سوال کیا____ ہاں اللّٰہ کا شکر ہے ٹیم پہنچ گئی ٹائم پر اب وہ لوگ ٹھیک ہیں بس تھوڑے زخمی ہیں اب میں نے انہیں وہاں بھیجا ہے خالد حسن کے گھر حیدر کی بات پر احمد نے اسے نہ سمجھی سے دیکھا،
وہ تو اس وقت ہوسپیٹل میں ہے تو گھر کیوں احمد کی بات پر حیدر نے اسے دیکھا تمہیں راجا صاحب کی وہ مثال یاد نہیں ہے،
بگل میں چھورا شہر میں ڈھنڈورا___مشعل بھی یقیناً اسی کے گھر میں ملے گی، حیدر کی بات پر احمد نے ہاں میں سر ہلایا،
***************
تو یہ سب ہوا بلال کو وہاں گودام میں بے ہو مشعل مل گئی اسے اور پھوپھو کو یہاں لانے کا مطلب تیرا اصلی چہرہ دیکھانا تھا کیسے تو نے معصوم بچوں کی جان لی حیدر بول کے ایک دم کھڑا ہو گیا،
خالد حسن نے جیب سے ایک دم گن نکال لی اگر میرے قریب بھی آئے میں گولی چلا دوں گا خالد حسن کے غصے سے کہنے پر مشعل جو اتنی دیر سے چپ کھڑی تھی جلدی سے حیدر کے سامنے آگئی،
پاپا آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ میرے حیدر کو کیسے مار سکتے ہیں آپ کی بیٹی کا سہاگ ہے وہ اور آپ مشعل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے آمنہ بیگم نے نفرت سے اپنے شوہر کو دیکھا،
جب یہ چھوٹے معصوم بچوں کی جان لے سکتے ہیں تو حیدر کو کیا ہمیں بھی مار سکتے ہیں آمنہ بیگم نے نفرت سے کہا،
ہاں ہاں سب کو مار سکتا ہوں پر تم لوگ میری فیملی ہو تم سب سے میں پیار کرتا ہوں تمہیں نہیں مار سکتا،
حیدر نے میرے ایک لوتے بیٹے کو مارا تھا میں اسے کیسے چھوڑ دوں خالد حسن نے حیدر کی طرف گن تان کر نفرت سے اسے دیکھا،
تمہارا کون سا بیٹا ہماری صرف دو بیٹیاں ہیں آمنہ بیگم کی بات پر راجا صاحب نے اسے دیکھا،
تم سے میری دوسری شادی ہے جو گھر والوں نے کر وائی میری پہلی شادی لوو میرج تھی جو میری پسند سے ہوئی تھی پر لڑکی کا باپ بہت بڑا دون تھا،
وہ ہماری شادی پر ایک ہی شرط پر مانا کے میں بھی اس کے ساتھ کام کروں اور میں مان گیا میرا اس سے ایک بیٹا ہوا سعد اسی دن وہ مجھے چھوڑ کے چلی گئی اور یہاں گھر والوں نے میری ضبردستی تم سے شادی کردی،پر میں تم سب سے بہت پیار کرتا ہوں،
حیدر اب بھی خاموش کھڑا اسے دیکھ رہا تھا خالد حسن کا دھیان آمنہ بیگم کی طرف تھا، حیدر نے آگے بڑھ کے ایک دم گن اس کے ہاتھ سے چھین لی،
خالد حسن نے غصے سے اسے دیکھا، میں اسے جان سے مار دوں گا اس نے میرا ایک لوتا بیٹا میرے پیار کی نشانی کو مار دیا میں بھی اسے تڑپا تڑپا کر ماروں گا اور میجر یہ نہیں بھول کے انوشے اب بھی میرے پاس ہے خالد حسن اور بھی کچھ بولتے اس سے پہلے آمنہ بیگم نے ان کے چہرے پر تھپڑ مارا،
آمنہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے ایک کے بعد ایک کئی تھپڑ وہ خالد حسن کو مار چکی تھی خالد حسن اب صدمے میں تھے ان سے اتنی محبت کرنے والی بیوی جو ان کی اتنی عزت کرتی آج اس نے ان پر ہاتھ اٹھایا وہ بھی اپنی بیٹی کے سامنے،
آمنہ بیگم کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آیا وہ ایک دم نیچے گر گئی___ مما!!! مشعل جلدی سے ان کے پاس آئی خالد حسن بھی ان کو اٹھانے کے لیے جھکنے لگے،
ہاتھ نہیں لگانا میری مما کو___ مشعل نے نفرت سے کہا حیدر نے جلدی سے باہر سے ڈاکٹر کو بلایا ڈاکٹر کے ساتھ مشعل آمنہ بیگم کو کمرے سے لے گئی اس وقت وہ سب ہوسپیٹل میں موجود تھے آمنہ بیگم کی طبیعت تو پہلے بھی ٹھیک نہیں تھی،
تم نے میرے گھر والو کو میرے خلاف کیا اب دیکھنا میں انوشے کا کیا کرتا ہوں خالد حسن نے غصے میں فون نکالا جب دروازا کھول کر احمد اندر آیا اور اس نے حیدر کو اوکے کا سائن دیا،
اتنا سب ہو گیا پر راجا صاحب کو سدھرنے کا نام نہیں لینا ___حیدر نے ایک تھپڑ کھینچ کے مارا جس سے راجا صاحب دور جا گرا یہ آمنہ بیگم کا تھپڑ نہیں ایک آرمی آفسر کا تھپڑ تھا،
اب آگے کی کہانی سنو تم نے یہ تو پوچھا نہیں میں کیسے زندہ بچ گیا،
سارا کو وہاں سے لے کے گیا کیوں کے مجھے پہلے کیمپس کو بچانا تھا پھر میں نے گاڑی کو روکا گاڑی میں موجود اوزار سے جیکٹ کو سارا سے الگ کیا اور اسے لے کر گاڑی سے کود گیا زاہر ہے ہم آرمی میں ہے یہ سب ہمیں آتا ہے حیدر نے کندھے اچکائے،
گاڑی کے بلاسٹ ہوتے ہی احمد کے ہاتھ سے دور بین نیچے جا گرا اتنے میں احمد کا موبائل بجا اس نے جیب سے موبائل نکالا حیدر کی کال تھی،
حیدر تو ٹھیک تو ہے نہ احمد نے بی چینی سے کہا،
ہاں میں ٹھیک ہوں سارا بھی ٹھیک ہے سارا نے مجھے بتا دیا ہے اسے اور انوشے کو کہاں پر رکھا گیا تھا اب میں تجھے ایڈریس دیتا ہوں تو جلدی وہاں جا کر انوشے کو سیف کر حیدر نے بول کر فون رکھ دیا،
اب تیرا علاج آرمی کرے گی احمد نے خالد حسن کو گردن سے پکڑا ابھی تو تجھ سے بہت سے راز اگلوانے ہیں دروازا کھولا اور پوری آرمی ٹیم اندر آئی خالد حسن نے نفرت سے حیدر کو دیکھا،
خالد حسن کو روانہ کرکے حیدر روم سے باہر آیا،اسکا رخ مشعل کے پاس تھا،
******************
مشعل!!!! حیدر کی آواز پر مشعل جو دروازے کے پاس کھڑی تھی اس نے نم آنکھوں سے حیدر کو دیکھا،
حیدر نے اپنے دونوں ہاتھ جیسے ہی آگے کیے مشعل جلدی سے اسکے سینے سے لگ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی،
حیدر وہ میرے پاپا نہیں ہو سکتے اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو مشعل بھی مر جاتی آپ نہیں تو مشعل نہیں آپ سے ہی مشعل کی سانسیں چلتی ہیں
اس کے سینے سے لگی وہ پہلی بار اس سے اظہارِ محبت کر رہی تھی حیدر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
حیدر نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھے میں ہوں تمہارے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا
مما!!!!!حیدر کی بات پر مشعل نے دروازے کی طرف اشارہ کیا____پھوپھو بھی بلکل ٹھیک ہو جائے گی تم فکر نہیں کرو ابھی سب رو لو گی تو رخصتی پر بھی روگی کچھ تو آنسو بچا لو حیدر کے کہنے پر مشعل جھینپ کے جلدی سے اس سے دور ہوئی،
حیدر نے پیار سے اس کے آنسوں صاف کیے اتنے میں ڈاکٹر باہر آیا،
اب یہ ٹھیک ہیں بس زہن پر کافی ٹینشن لینے کی وجہ سے ایسا ہوا جب انہیں ہوش آئے گا یہ بلکل ٹھیک ہوں گی ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا اور آگے چلا گیا مشعل نے حیدر کی طرف دیکھا حیدر نے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا مشعل نے ہاں میں سر ہلایا اور اندر چلی گئی
****************
سارا!!!!!!!! دعا ایک دم اٹھ کے بیٹھ گئی اس کے پورے چہرے پر پسینا تھا اسے یاد آیا آخری بار جب وہ بے ہوش ہوئی وہ آدمی اس کی گڑیا کو لے جا رہے تھے،
دعا ایک دم بیڈ سے نیچے اتری اس کے ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی گلے پر پٹا بندھا تھا نرس نے جلدی سے آکر اسے پکڑا دعا اپنا ہاتھ اس سے چھوڑ وانے لگی،
ایک دم ڈاکٹر کے ساتھ علی صاحب اور صائمہ بیگم اندر داخل ہوئے دعا کو پورے ایک ہفتے بعد سہی سے ہوش آیا تھا ورنہ ڈاکٹرز نے اسے نیم ںے ہوشی میں رکھا ہوا تھا،
بیٹا آپ بستر سے نیچے کیوں اتر گئی صائمہ بیگم نے جلدی سے اسے پکڑا،
مما مما وہ میری گڑیا سارا وہ لوگ اسے لے کر جا رہے ہیں دعا نے روتے ہوئے صائمہ بیگم کو کہا صائمہ بیگم ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی،
علی صاحب نے بھی حیرت سے دیکھا مما میری سارا کہاں ہے دعا آنکھوں میں آنسو لیے صائمہ بیگم کے پاس آئی،
دعا سارا بلکل ٹھیک ہے گھر پر ہے تم بول سکتی ہو بیٹا صائمہ بیگم نے ایک دم اسے گلے سے لگا لیا ان کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے دعا بلکل چپ ہوگئی صائمہ بیگم نے اس کے ماتھے پر پیار کیا،
دعا نے ڈاکٹر کی طرف حیرت سے دیکھا پھر اپنے گلے پر ہاتھ رکھا جہاں پٹی بندھی ہوئی،
آپ کا گلا اندر سے بری طرح جلا ہوا تھا سرجری سے آپ کے گلے کی جو نس بند ہوگئی تھی اسے سہی کر دیا گیا ہے ابھی آپ کو بولنے میں تکلیف ہوگی پر آپ کچھ دن میں سہی سے بول سکو گی ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا،
میں بول سکتی__ دعا نیچے گرتی اس سے پہلے اسے صائمہ بیگم نے تھام لیا اس نے نم آنکھوں سے صائمہ بیگم کی طرف دیکھا تو صائمہ بیگم نے اسے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا دعا ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی یہ آنسو خوشی کے تھے بے شک وہ رب سب کی سنتا سنتاہے.
جاری ہے
