Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بتاؤ کون ہوں تم حیدر کی نظرے اب بھی دعا پر تھی اس نے ہاتھ میں ٹرے پکڑ کے حیدر کے آگے کی جس میں کھانا بڑے سلیقے سے سجایا گیا تھا،
تمہیں مالک مکان نے بھجا ہے حیدر نے اس بار تھوڑا آرام سے کہا دعا نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا،ارے واہ کھانے کی اتنی اچھی خوشبو احمد نے روم سے باہر آتے ہوئے کہا دعا نے بھی نظرے اٹھا کے اسے دیکھا،
کھانا خود چل کر آیا ہے اسے انتظار کروانا اچھی بات نہیں صمد نے بھی قریب آتے ہوئے کہا اپنے چاروں اور لڑکوں کو دیکھ کر دعا کو گھبراہٹ ہونے لگی اس کے ہاتھ کانپنے لگے اس کے ہاتھ سے ٹرے گرتی اس سے پہلے بلال نے جلدی سے ٹرے پکڑی جس سے بلال کا ہاتھ دعا کے ہاتھ سے ہلکا سا ٹچ ہوا،
دعا نے جلدی سے اپنے ہاتھ پیچھے کیے اور نیچے نظرے کیے فوراً وہاں سے بھاگ گئی بلال نے حیرت سے اسے دیکھا اجیب لڑکی ہے بلال نے سر جھٹکا،جب اس کی نظر احمد اور صمد پر گئی جو کھانے کو گھور رہے تھے،
سب سے پہلے احمد کو ہوش آیا وہ بھاگ کے بلال کے قریب آیا بلال کھانے کی ٹرے پکڑ کر سائڈ میں ہوگیا اتنے میں صمد بھی پہنچ گیا،
سب مل بانٹ کر کھائے گے کھانا چل یہاں کر ٹرے احمد نے اسے گھورا، نہیں پہلے تو اٹھ نہیں رہے تھے اب کھانے کو دیکھ کے تیری آنکھیں کھول گئی میں نہیں دوں گا چل بھاگ بلال نے دوسری طرف جاتے ہوئےکہا،
آجا حیدر اپن دونوں جاگ رہے تھے کھانے پربھی اپنا حق ہے بلال نے حیدر کو کہا جو کمر پر ہاتھ رکھے ان سب کو دیکھ رہا تھا،
دیکھ بلال یہ اچھی بات نہیں ہے اگر ہمیں نہیں دیا ہم بھی تجھے کھانے نہیں دے گے کیوں صمد احمد نے صمد کو بھی بیچ میں گھسیٹا،ہاں ہاں ہم بھی کھائے گے صمد نے بھی جلدی سے کہا بھوک تو اسے بھی بہت لگی تھی
بھول نہیں تو نے میری چپس بھی کھائی تھی احمد نے فوراً اسے اس کا جرم یاد دلایا، ہاں اور میں نے کھاتے ہوئے دیکھا تھا پھر بھی احمد کو نہیں بتایا صمد نے بھی اپنا احسان یاد دلانا ضروری سمجھا،
احمد نے پہلے حیرت سے صمد کو دیکھا پھر غصے سے تو نے مجھے کیوں نہیں بتایا احمد نے بلال کو چھوڑ کے اب صمد کی طرف دیکھا،کیوں کے اس نے بھی اس میں سے کھائی تھی بلال نے وہی سے آواز لگائی اور نیچے زمین پر بیٹھ کے پہلا نوالا منہ میں رکھا،
تو نے بھی کھائی میری چپس احمد نے غصے سے اسے گھورا تھوڑی سی کھائی تھی بس صمد نے معصوم بچے کی طرح کہا،تجھے ترس نہیں آیا میری چپس پر جو تو اس بھوکڑ کے ساتھ مل کر سب کھا گیا احمد نے بلال کی طرف اشارا کیا جو ان لوگوں کو دیکھے بغیر کھانا کھانے میں مگن تھا،تو کیا ہوا میں نے کھالی تو صمد نے اب ڈھیٹوں کی طرح کہا،ایک تو میری چپس کھائی اوپر سے مجھے اکڑ دیکھا رہا احمد نے اسے دھکا دیا ،بدلے میں صمد نے بھی اسے دھکا دیا،
بلال کھانا کھانے کے ساتھ ساتھ ان پر بھی ایک نظر ڈھال رہا تھا جب حیدر پاس آکر بیٹھا بلال نے حیدر کو ایک نظر دیکھ کے آنکھ ماری اس نے افسوس سے بلال کو دیکھا کیا ملا ان دونوں کو لڑا کر،
مزا آیا اور کیا جب تک ان کا فیصلا ہوگا میرا پیٹ بھر جائے گا بلال نے کھانا کھاتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا جب سامنے احمد اور صمد اسے گھور رہے تھے میرے بھائیوں آؤ وہاں کیوں کھڑے ہو آجاؤ کھانا کھاؤ بلال نے جلدی سے کہا اس سے پہلے وہ دونوں مل کر اسے مارتے،
تجھے تو ہم دیکھ لے گے احمد اور صمد نے اس سے بعد میں بدلہ لینے کا ارادہ کیا اور کھانا کھانے بیٹھ گئے
___________
فاروق صاحب یہ کوئی طریقہ نہیں ہے روہان بغیر بتائے گڑیا کو لے گیا وہ بھی اتنی دور کیا یہ شادی روہان کی مرضی سے ہوئی ہے برہان نے جانچتی نظروں سے فاروق صاحب کو دیکھا، کیسی بات کر رہے ہو تم برہان کیا گڑیا مجھے عزیز نہیں ہے جو میں اس کے ساتھ کچھ غلط کروں گا فاروق صاحب نے افسوس سے کہا،
اس وقت دونوں فاروق صاحب کے آفس میں موجود تھے فاروق صاحب جب میٹنگ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے برہان کو اپنا انتظار کرتے ہوئے پایا،
پھر ایسے بغیر بتائے کیوں لے گیا وہ گڑیا کو حیدر کو بھی میں نے جھوٹ کہا مجھے روہان ایک سلجھا ہوا لڑکا لگا تھا جب ہی میں نے اپنی گڑیا کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا پر اب مجھے اپنی فیصلے پر افسوس ہو رہا ہے برہان نے چئیر سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا جب سے حیا گئی تھی برہان کو کسی لمحے میں سکون نہیں آیا تھا،
برہان تم پریشان نہیں ہو میرا جیسے ہی روہان سے رابطہ ہوگا میں اس سے سب پوچھ لونگا ہو سکتا ہے وہ کسی کام سے چلا گیا ہو اچانک، مجھے کچھ دن کا ٹائم دو میں روہان سے رابطہ کرتا ہوں فاروق صاحب نے پاس آکر برہان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا،
ٹھیک ہے فاروق صاحب آپ دو دن کے اندر مجھے بتائے ورنہ میں خود لندن جاؤں گا برہان نے سامنے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور آفس سے باہر چلا گیا،
روہان تم نے مجھے کسی کے سامنے چہرا دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ایسا بھی کیا غصہ جو تم نے سب کے سامنے میرا تماشا بنا دیا فاروق صاحب نے آفس کے بند دروازے کی طرف دیکھ کے سوچا جہاں سے ابھی ابھی برہان گیا تھا فاروق صاحب نے اپنی جیب سے فون نکال کر ایک بار پھر روہان کا نمبر ڈائل کیا اس بار بھی نمبر اوف تھا روہان پلز مجھ سے رابطہ کرو فاروق صاحب نے فون کی طرف دیکھ کے ایسے کہا جیسے روہان سن رہا ہو،
انہوں نے غصے اور افسوس سے اپنے فون کو دیکھا اور آفس سے باہر کی طرف چل دیے اب انہیں کچھ اور سوچنا تھا،
***************
جاؤں یا نہیں جاؤں کہیں غصہ تو نہیں کرے گے حیا خود سے باتیں کرتی ہوئی کشمکش کا شکار تھی،
آج دوسری رات تھی یہاں آئے ہوئے اور اس کی اب تک اپنے بھیا سے بات نہیں ہوئی تھی بھیا بھی پریشان ہو رہے ہوگے کیا کروں چلی جاتی ہوں ان کے روم میں کیا پتا وہ میری بات کروا دیں بھیا سے،
روہان کے منا کرنے کے بعد سے حیا روم میں ہی تھی لیلہ کو روہان نے حیا کے روم میں بھیج دیا تھا اسی نے حیا کو کھانا لاکے دیا دن تو جیسے تیسے گزر گیا تھا پر رات ہوتے ہی اسے اپنے بھیا کی یاد آرہی تھی اس روم سے اسے خوف آرہا تھا تھوڑی ہمت کر کے اب حیا روہان کے روم کے باہر کھڑی تھی،
یہاں کیا کر رہی ہو حیا دروازا بجاتی اس سے پہلے روہان نے دروازا کھولتے ہی سوال کیا،
وہ____میں وہ____میں حیا کے الفاظ منہ میں ہی رہے گئے ،کیا وہ میں لگا رکھی ہے آگے بھی بولو روہان نے بیزاری سے کہا،
وہ میں اندر آجاؤ حیا نے بغیر روہان کی طرف دیکھے روم کے اندر قدم بڑھا دیے روہان جو بیزاری سے کھڑا تھا حیا کی اس حرکت پر اس نے حیرت سے اسے پلٹ کے دیکھا جو اب اس کے بیڈ پر جاکے بیٹھ چکی تھی،
تم اندر کس کی اجازت سے آئی ہو تمہارا روم وہ ہے روہان نے برابر والے روم کی طرف اشارا کرکے کہا،پلز میری بھیا سے بات کروا دیں حیا نے نیچے نظرے کیے تھوڑا ڈرتے ہوئے کہا،
اوو اچھا اب روہان کو سمجھ آیا حیا اس ٹائم اس کے روم میں کیوں آئی یہ بات تم کبھی اور بھی کر سکتی تھی اس وقت میرے روم میں آنے کی کیا ضرورت تھی روہان نے ماتھے پر بل ڈھالے حیا کو دیکھا جو نظرے جھکائے ایسے سن رہی تھی کے ہاں سب غلطی اسی کی ہے،
پر میں تو آپ کی بیوی ہوں نا تو یہ روم میرا بھی ہوا نا حیا نے معصومیت سے بولتے ہوئے روہان کی طرف دیکھا روہان نے دونوں آنکھیں کھول کر غور سے دیکھا کیا یہ لڑکی اس پر طنز کر رہی تھی نہیں اس کے چہرے پر تو بہت معصومیت ہے روہان نے اپنے ذہن کو جھٹکا،
تمہیں میں نے برابر والا روم دیا ہے وہ ہے تمہارا روم اب یہاں سے جاؤ میں تمہاری بات کبھی اور کروا دوں گا روہان نے حیا کے سر پر کھڑے ہوکے بیزاری سے کہا اس وقت اس کا نیند سے برا حال تھا اوپر سے یہ پہنچ گئی اس کا دماغ کھانے،
پلز بس ایک بار کروا دیں بات پھر نہیں کہوں گی حیا نے معصومیت سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا یہ روہان کے آرام سے بات کرنے کا ہی نتیجا تھا جو حیا اس سے ضد کر رہی تھی،
ایک بار کہہ دیا سمجھ نہیں آتی اب جاؤ یہاں سے تمہاری طرح گھر میں نہیں پڑا رہتا میں مجھے کام پر بھی جانا ہوتا روہان نے ایک دم غصے سے کہا حیا کے معصوم چہرے سے وہ پگھل رہا تھا،جی____ٹھیک___ہے حیا ایک دم روہان کے غصہ کرنے سے ڈر گئی اور جلدی سے اٹک اٹک کر ہاں میں گردن ہلائی اور بغیر روہان کی طرف دیکھے روم سے باہر آگئی،
کیوں آ جاتا ہے مجھے اتنا غصہ اتنی سی بات پر____ وہ رو رہی ہوگی ___روہان کا دل بے چین ہوا___ یہ لڑکی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی سنا تو نے روہان کوئی معنی نہیں رکھتی ویسے بھی یہ شادی تو نے کیوں کی تھی مت بھول روہان نے خود کے دل کو سرزش کی اور منہ تک بلینکٹ اوڑ کر سو گیا،
**************
صمد میرے ساتھ جائے گا اور تم اور احمد ساتھ جاؤ حیدر نے بلال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
پر جانا کہا پر ہے___ اس وقت وہ لوگ باہر جانے کو بلکل تیار تھے، گاؤں کا چکر لگانا ہے حیدر نے احمد کو جواب دے کر واپس بلال کی طرف دیکھا،اور یاد رہے ہم یہاں گھومنے آئے ہیں ہم آرمی آفسر بن کے نہیں آئے حیدر نے بلال کو دیکھتے ہوئے تھوڑا سخت لہجے میں کہا بلال کے جذباتی پن سے وہ اچھے سے واقف تھا،
ہاں ہاں میں ہر ایک کو تھوڑی بتاؤں گا کے میں آرمی میں ہوں وہ الگ بات ہے میری پرسنیلٹی دیکھ کر لوگ خود سمجھ جائے بلال نے تھوڑا مسکراتے ہوئے کہا پر حیدر کے گھورنے سے وہ واپس سریس ہوا اس کھڑوس سے تو مزاق بھی نہیں کر سکتے بلال نے یہ دل میں سوچا بولنے کی اس میں ہمت نہیں تھی اس وقت وہ لوگ عام سے شلوار قمیض میں ملبوس تھے،
تم دونوں اب جاؤ میں اور صمد آتے ہیں حیدر نے بلال اور احمد کو جانے کو کہا،چل احمد یہ بیڈ بول اٹھا لے باہر کرکٹ بھی کھیلے گے بلال نے مسکراتے ہوئے احمد کو دیکھا،
تم دونوں کرکٹ کھیلنے جارہے حیدر نے بلال کو گھورا لو کل سے تو ہی بول بول کے پکا رہا کے ہم یہاں گھومنے آئے ہیں ہم آرمی والے بن کے نہیں آئے بلال نے سریس چہرے کے ساتھ کہا پر اس کی آنکھوں کی شرارت حیدر سے چھپی ہوئی نہیں تھی،
چل یہاں سے بے فضول میں اس سے مار کھائے گا پتا نہیں کیوں اس کو چھڑتا ہے اس سے پہلے حیدر آگے بڑھ کے بلال کو دو مکے مارتا احمد جلدی سے اسے کھنچتا ہوا باہر لے گیا،
تھوڑی دیر میں صمد اور حیدر بھی باہر چلے گئے وہ لوگ جس مقصد کے لیے آئے تھے انہیں اس کا جلد از جلد پتا لگانا تھا،
***************
ہائےےے انار کلی کہاں چلی اس نے بہت ہی گھٹیا انداز میں گنگناتے ہوئے دعا کو کہا اس رستے سے گزرتے ہوئے دعا کے ہاتھ پیر کانپنے لگتے پر اسے یہاں دودھ دینے کے لیے آنا پڑتا نا آتی تو اس کی چاچی اسے ذندہ نہیں چھوڑتی،
دعا نیچے نظرے کیے جلدی جلدی چلتی جارہی تھی اس نے خود کو بڑی سی چادر میں اچھے سے ڈھانپا ہوا تھا ایسے تو دن کا ٹائم تھا پر گلیوں میں سناٹا تھا اور وہ لڑکا ہمیشہ کی طرح اس کے پیچھے لگ گیا تھا،
دعا بغیر یہاں وہاں دیکھے جلدی جلدی چلتی جارہی تھی اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا بس اسے جلد ہی اپنے گھر تک پہنچنا تھا،
ارے رک بھی جا میری دلربا اس لڑکے نے آگے بڑھ کے دعا کا رستہ روکا دعا نے اپنے دونوں ہاتھ چادر میں چھپا لیے اور یہاں وہاں دیکھنے لگی کوئی تو ہو جو اس کی مدد کرے اس کے ہاتھ کپکپارہے تھے آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے،
ارے میری جان تم تو رونے لگی اس لڑکے نے آگے بڑھ کے اس کے آنسوں صاف کرنے چاہے پر لگنے والے چماٹ سے وہ دور جاگرا،
دعا سختی سے اپنی آنکھیں میچے کھڑی تھی کے چماٹ کی آواز سے اس نے آنکھیں کھولی وہ لڑکا زمیں پر گرا ہوا تھا،اس نے سامنے دیکھا جہاں اس دن والا لڑکا کھڑا تھا جس نے دروازا کھولا تھا،
تم جیسے لوگوں کی وجہ سے دوسروں کی ماں بہنیں سیف نہیں ہے وہ باہر جانے سے بھی ڈرتی ہیں بلال نے آگے بڑھ کے ایک لات اسے ماری اسے گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا آئندہ اگر مجھے تو کسی لڑکی کے پاس بھی نظر آیا تو وہ تیرا آخری دن ہوگا بلال نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا اس لڑکے کے ہونٹوں سے خون آنے لگا پر بلال کی مار کھا کر اسے اندازا ہوگیا تھا سامنے کوئی عام آدمی نہیں ہے،
چھوڑ بلال کیا کر رہا ہے ابھی حیدر نے دیکھ لیا تو احمد نے آگر بڑھ کر اس لڑکے کو چھڑوایا وہ لڑکا فوراً وہاں سے بھاگ گیا،تو نے دیکھا نہیں وہ اس کا رستہ روک کر کھڑا تھا بلال نے غصے سے احمد کو دیکھا،
اور تم اب بلال کا رُخ دعا کی طرف تھا جو خوف سے پہلے ہی کانپ رہی تھی،اکیلی باہر کیوں آئی جب اتنا ڈر لگتا ہے ایسے لوگوں سے بولو جواب دو،
دعا نیچے نظرے کیے اپنا ہونٹ کچلنے لگی،آنکھوں میں اس کے آنسوں تھے،اب کیوں رو رہی ہو اس وقت کسی کو آواز ہی دے دیتی اتنی سن سان گلی ہے اگر ہمارا یہاں سے گزر نہیں ہوتا سوچ سکتی ہو کیا کیا ہو سکتا تھا بلال نے غصے سے کہا اس وقت اس کے ماتھے اور گلے کی نسے تک واضح ہو رہی تھی،
یار بلال کول ہوجا بھائی وہ پہلے ہی ڈری ہوئی ہے احمد نے بلال کو ٹھنڈا کرنا چاہا جس کا اس وقت غصے سے برا حال تھا،تم گھر جاؤ اپنے احمد نے دعا کو دیکھ کے کہا جس نے اپنے ہونٹوں کو اس بری طرح کچلا تھا کے ان سے خون آنے لگا تھا،
دعا نیچے نظرے کیے وہاں سے جانے لگی،رکو کہاں جارہی میں نے کہا جاؤ بلال کی آواز پر دعا کے قدم رک گئے،بلال یار کیا ہوگیا تجھے احمد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،تو رک احمد میں اسے اس کے گھر چھوڑ کے آتا ہوں بلال نے اس بار تھوڑا آرام سے کہا،
چلو اس نے دعا کے پاس آکر کہا دعا نیچے نظرے کیے چلی جارہی تھی اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کے بلال کو نہیں دیکھا تھا بلال نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا عجیب لڑکی ہے کچھ بولتی کیوں نہیں اسے یاد آیا اس دن جب گھر آئی تھی تب بھی ایک لفظ بھی اس نے نہیں کہا تھا،
دعا کے رکنے پر بلال کو بھی رکنا پڑا دعا نے سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک چھوٹا سا لکڑی کا دروازا تھا،وہ تمہارا گھر ہے بلال نے اس کی طرف دیکھ کے سوال کیا جس پر دعا نے بس سر ہلانے پر اتفاق کیا،
چلو میں تمہارے گھر تک چھوڑ دوں بلال نے آگے قدم بڑھائے پر کچھ دور چل کر اسے اندازا ہوا اس کے ساتھ وہ لڑکی نہیں ہے اس نے پیچھے موڑ کے دیکھا دعا اب تک وہی کھڑی تھی،
کیا ہوا چلو بلال نے اس لڑکی کی طرف دیکھا اس نے بلال کی طرف دیکھا اس وقت اس کے چہرے پر خوف تھا جو بلال سے چھپا ہوا نہیں تھا،
بلال چل کے واپس اس کے پاس آیا کیا ہوا بلال نے اس کی طرف جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھا،دعا نفی میں سر ہلانے لگی پر اس کے چہرے پر خوف تھا،اچھا تم گھر جاؤ بلال نے اس کی طرف دیکھا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا،
دعا نے ایک نظر اسے دیکھا اور اپنے قدم آگے بڑھا دہے بلال اتنا تو سمجھ گیا تھا وہ اپنے گھر اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتی شاید کسی سے ڈر رہی ہے،
دعا جب تک گھر کے اندر انٹر نہیں ہوئی بلال کی نظرے اس پر ہی تھی دعا نے ایک بار بھی پلٹ کر اسے نہیں دیکھا تھا،یہ لڑکی اتنی عجیب کیوں ہے بلال کھڑا ہوا سوچ رہا تھا جب اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا،
بھابھی چلی گئی اب کیا واپس آنے کا انتظار کر رہا ہے احمد نے اس کے کان کے قریب ہو کر آہستہ سے کہا،بلال نے ایک دم پلٹ کر دیکھا احمد نے اسے آنکھ ماری،
بکواس نا کر کون بھابی میں نے تو انسانیت کی وجہ سے اس کی مدد کی بلال نے احمد کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکا اور آگے قدم بڑھا دیے،
انسانیت کی وجہ سے اس لڑکے سے بچایا وہ سمجھ آتا ہے انسانیت کی وجہ سے گھر تک چھوڑنے آیا یہ بھی سمجھ آتا ہے پر اس کے اندر جانے کے بعد بھی مجنوں بنا دروازے کو دیکھ رہا ہے یہ سمجھ میں نہیں آیا احمد بول کے روکا نہیں تھا فوراً دوڑ لگا دی تھی پتا تھا اب بلال سے نہیں بچے گا،
مجنوں کسے کہا کمینے بلال کو جب تک بات سمجھ آئی احمد اس کی پہنچ سے دور تھا بلال نے بھی فوراً اس کے پیچھے دوڑ لگائی،اب تو میرے ہاتھ سے بچ کر دیکھا
**************
اس کی سسکیوں کی آواز پورے روم میں گونج رہی تھی اپنا سر گٹھنوں میں دیے وہ بے آواز آنسوں بہا رہی تھی ایک تو بھیا کی دوری اوپر سے روہان کا سخت رؤیا اس کا یہاں بلکل دل نہیں لگ رہا تھا،
بھیا کہا ہو آپ پلز مجھے یہاں سے لے جاؤ اپنے دل میں حیدر کو پکارتے ہوئے وہ بے آواز رو رہی تھی،جب اس کے روم کا دروازا آرام سے کھولا روم کی لائٹ پہلے ہی اون تھی کیوں کے لائٹ بند کرنے سے اسے ڈر لگ رہا تھا،
کافی دیر کروٹ بدلنے کے بعد بھی اسے نیند نہیں آئی بار بار ذہن میں ایک ہی بات آرہی تھی وہ رو رہی ہوگی،دو گھنٹے گزرنے کے بعد بھی جب اسے نیند نہیں آئی تو وہ اٹھ کے بیٹھ گیا ایک بار جا کے دیکھ لیتا ہوں کیا پتا سو گئی ہو،
دروازا کھولنے کی آواز پر حیا نے اپنی نم آنکھوں سے سامنے دیکھا جہاں روہان اپنی بلو آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا،
دو گھنٹے مسلسل رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی ناک لال تھا چہرے پر معصومیت تھی روہان کو دیکھ کے وہ ایک دم کھڑی ہوگئی،
روہان قدم قدم چلتا ہوا اس کے قریب آیا حیا نے خوف سے اپنے قدم پیچھے لیے، میں___اب___نہیں__رو__گی حیا نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھ کے اٹک اٹک کے کہا اسے لگا اس کے رونے کی آواز کی وجہ سے روہان یہاں آیا ہے،
اپنا ہاتھ دو روہان نے اپنا ایک ہاتھ آگے کیا یہ چھوٹی سی لڑکی اس سے ڈر رہی تھی جو روہان کو اچھا نہیں لگ رہا تھا حیا نے پہلے روہان کے چہرے کی طرف دیکھا پھر اس کے ہاتھ کی طرف،
اپنا ہاتھ دو روہان نے ایک بار اور آرام سے کہا حیا نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ روہان کے ہاتھ میں رکھ دیا، روہان بغیر کچھ کہے اسے بیڈ پر لے آیا بیٹھو روہان کے کہنے پر حیا آرام سے بیٹھ گئی پر اس کا ہاتھ اب بھی روہان کے ہاتھ میں تھا،
رو کیوں رہی ہو روہان نے اس کی طرف دیکھا میں نے غصہ کیا اس لیے روہان نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی حیا کے چہرے سے نظرے نہیں ہٹائی،
نہیں___وہ____وہ حیا کی آواز اب بھی کانپ رہی تھی ایک منٹ رکو روہان نے اس کا ہاتھ چھوڑا اور سائڈ ٹیبل سے جگ اٹھایا ایک گلاس میں پانی ڈھال کے اس کی طرف بڑھایا،
حیا نے بغیر کچھ کہے گلاس لے لیا ااور ایک ساتھ پورا گلاس پی گئی لٹل گرل آرام سے روہان نے اسے ایک سانس میں سارا گلاس ختم کرتے دیکھ ٹوکا پر جب تک وہ گلاس خالی کر چکی تھی،
اور دوں روہان نے آرام سے پوچھا نہیں بس حیا کے نفی میں سر ہلانے پر روہان واپس اس کے پاس بیٹھ گیا،دیکھوں ابھی کتنی رات ہورہی اس وقت میں آپ کی بات کیسے کرواؤ حیدر سے کیا آپ کل تک کا ویٹ نہیں کر سکتی روہان نے اسے بہلانا چاہا،
پر ابھی تو تین ہی بجے ہیں وہ بھی یہاں پاکستان میں تو اس وقت آٹھ بج رہے ہوگے اس ٹائم بھیا اٹھ جاتے ہیں حیا نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے انگلیوں پر حساب لگا کر فوراً بتا دیا،
روہان نے حیرت سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا کیا یہ سمجھدار بھی ہے روہان کو یہ لڑکی پل پل حیران کر رہی تھی
***************
جی!!! اس نے روہان کو خود کی طرف دیکھتے پا کے نظرے جھکالی،پر ہو سکتا ہے حیدر مصروف ہو روہان نے حیا کی طرف دیکھتے ہوئے ہی کہا،میں تمہاری کل صبح بات کروا دوں گا ٹھیک ہے وہ بولتے کے ساتھ ہی کھڑا ہوگیا،
آپ کہاں جارہے ہیں حیا بھی ایک دم کھڑی ہوگئی روہان کے ہونے سے اسے اس کمرے سے خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا،
میں اپنے روم میں جارہا ہوں تم بھی سو جاؤ اس نے بغیر حیا کی طرف دیکھے اپنی بات کہی،
پر مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ یہی رہو پلز حیا نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے تھوڑا ڈر کے کہا کہی روہان غصہ ہی نہ کردے،عادت ڈھال لو اس کمرے میں سونے کی تمہیں اب یہی رہنا ہے اور صبح جلدی تیار رہنا تمہارا ایڈمیشن کروانا ہے روہان نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات کہی اور باہر کی طرف قدم بڑھا دیے،
حیا نے نم آنکھوں سے اسے جاتے ہوئے دیکھا کیا ہوتا اگر میرے پاس رک جاتے تو اس نے افسردگی سے سوچا اور بیڈ پر آکے لیٹ گئی کل سے مجھے یونیورسٹی جانا ہوگا الارم لگا لیتی ہوں اس نے سائڈ ٹیبل پر رکھی گھڑی پر الارم لگایا اور سونے کی غرض سے لیٹ گئی کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی وادی میں چلی گئی،
وہ کتنا ڈر گئی تھی مجھ سے کیا میں اتنا برا ہوں روہان نے خود سے سوال کیا جب سے حیا کے روم سے آیا تھا اس کے ذہن میں بس وہ ہی تھی حیدر سے اس کی بات کروانے میں کیا برائی ہے میرے غصے کی وجہ حیدر تو نہیں ہے نا ہی یہ لٹل گرل،
آپ یہی رک جاؤ مجھے ڈر لگ رہا ہے،حیا کی آواز اس کے کان میں گونجی!!!کیوں اس لڑکی کو ذہن پر سوار کرلیا ہے روہان چپ کرکے سوجا اس نے اپنے ذہن کو جھٹکا اور لائٹ اوف کرکے لیٹ گیا،
صبح اس کا ایڈمیشن بھی کروانا ہے حیدر سے وعدہ کیا تھا حیا کی پڑھائی کنٹنیو کروانے اور اس کا خیال رکھنے کا،کیا میں اس کا خیال رکھ رہا ہوں اس نے خود سے سوال کیا،
تو پھر اسے سوچ رہاں ہے روہان صبح آفس بھی جانا ہے سوجا اس نے خود کو ڈپٹا اور آنکھیں بند کرکے پھر سے اسے سوچنے لگا اسے کب نیند آئی اسے معلوم بھی نا ہوا،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *