Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01

Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارے کیوں نہیں کرنا نکاح کوئی تو وجہ ہوگی انکار کی حنا نے غصے سے اس کی طرف دیکھا،
ابھی پپ۔۔۔پڑھنا ہے۔۔، اس نے روتے ہوۓ بھری ہوئ آواز میں ڈبڈبائ ہوئی آنکھوں سے اپنی بھابھی کو دیکھ کے اپنی بات کہی،
اتنا تو پڑھ لیا،دس جماعت کم نہیں ہوتی،اب تو پوری سترہ سال کی ہوگئی حنا نے اپنی اکلوتی نند کی طرف غصے سے دیکھا جو نظرے جھکائے اپنے آنسووں کو روکنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی،
گلابی رنگت بڑی بڑی آنکھے جن میں آنسوں بھرے ہوے سادہ سے پر پل کلر کے کاٹن کے سوٹ میں وہ کسی کا بھی دل دھڑکا سکتی تھی ُ اور اس پہ چھوٹی عمر اُپر سے معصومیت حنا نے حسد سے اس پری کو دیکھا جو خوبصورتی کا شہکار تھی،
سچ بتاُوں لڑکی کہی چکر وکر تو نہیں چل رہا حنا نے نخوست سے کہتے ہوئے اس کی طرف دیکھا،
ننن۔۔۔نہیں بھھ۔۔بھابھی ایسا بلکل ننن۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ممم۔۔۔۔مجھے تو۔۔۔۔۔۔
حیا کی بات پوری ہونے سے پہلے حنا نے ایک دم کہا کیا پوری زندگی ہمارے سر پہ بیٹھی رہو گی تمہارے بھائی کو تو تمہارے سِوا کوئ نظر نہیں آتا یہاں سے جاؤ تو میری جان کو بھی سکون آئےُ،حنا اس کی طرف غصے سے دیکھ کے واک آوٹ کر گی پر جاتے جاتے کمرے کا دروازہ تیز سے بھیڑانا نہیں بھولی،
بھابھی کے جاتے ہی اس کے آنسوں باڑ توڑ کے باہر آگے کاش مما پاپا آپ ہوتے کاش اس نے روتے ہوےُ بس ایک ہی بات سوچی،
******************
تیز تیز قدموں سے چل کے وہ اندر آیا اس کی چال میں ایک کڑک پن تھا آنکھوں میں غصہ لیے ماتھے پہ بکھرے ہوےُ بال صاف رنگت اس پہ کھڑی ناک یقیناً وہ بہت سی لڑکیوں کا آئیڈیل ہوگا ۔
Yes sir,
Good Morning sir
اس نے اندر آتے ہی سلیوٹ مارا،پیچھے کی طرف ہاتھ باندھے گردن اکڑا کے سامنے کی طرف دیکھا اور ادب سے کھڑا ہو گیا،
Good Morning Yang Men,
How are you?
انہوں نے اپنے قابل آفیسر کی طرف دیکھا جس پہ اُنہیں بہت ناز ہے آج تک کوئی ایسا کیس یہ کوئی ایسا مشن نہیں جو اس نے کامیابی سے مکمل نہ کیا ہو،
I am all right sir.
اس نے ادب سے سر جھکا کے جواب دیا اس کی نظروں میں اُن کے لیے احترام تھا،
پتا چلا کے کون ہے وہ جو ایسا گِنہونہ کام کر راہا ہے جس کا یہ کاروبار بن چکا ہے ہر روز بچوں بچیوں کا غائب ہونا پھر کچھ ٹائم بعد ان کی لاش ملنا وہ بھی اس حالت میں کے ان کے گھر والے خون کے آنسوں روئے ان کو دیکھ کے کون سے ماں باپ سے برداشت ہوگا کے ان کے بچوں بچیوں پہ تشدت کیا گیا ہو ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہو،انہوں نے افسوس سے گردن ہلاتے ہوےُ اپنی بات کہی،
جنرل محمود راحیل کی بات سن کے اس کے ماتھے پہ غصے سے کئی بل نمودار ہوےُ اور ہاتھوں کی مٹھی کو اُس نے زور سے بہینچ لیا،نہیں سر پر ہم اُس گروہ کے بہت نزدیک ہیں ان شاء اللّه سر بہت جلد ہم اُن تک پہنچ جائے گے وہ گروہ زیادہ دن تک ہم سے بچ نہیں سکتا اُس نے جنرل محمود راحیل کو دیکھتے ہوئے ادب سے اپنی بات مکمل کی جو نہ تو صرف اُس کے بوس تھے بلکہ اُنہیں اُس پہ بہت ناز بھی تھا،
Good young men keep it up & all the best
اُنہوں نے فخر سے اپنے قابل آفیسر کو دیکھ کے کہا جو اُنہیں بلکل اپنے بیٹے کی طرح عزیز تھا
Thank you sir
****************
یار کہا جا رہی ہو تھوڑی دیر یہاں بیٹھتے ہے نا ،میں تھک گئی ہو یار چلتے چلتے ایک تو تم اتنی تیز چلتی ہو کیا بتاؤں،مہک نے ہانپتے ہوےُ اپنی اس بیسٹ فرینڈ کو دیکھ کے کہا جو نہ جانے یہاں سے وہا کیا تلاش کر رہی تھی یہ شاید کسی کو ڈھونڈ رہی تھی،
یار میں حیا کو ڈھونڈ رہی ہو اس نے کہا تھا وہ بھی اسی کالج میں ایڈمیشن لے گی، اُس نے یہاں وہاں دیکھتے ھوۓ اپنی بات کہی،
حیا کون وہی تمہاری ڈرپوک سی کزن مہک نے سوچتے ھوۓ کہا،
مہک کی بچی حیا کے بارے میں ایسے نہ بولو اب ایسی بھی بات نہیں ہے مشعل نہ فورن حیا کی سائڈ لی مشعل کو وہ اپنی معصوم سی کزن بہت عزیز تھی حالانکہ وہ مشعل سے سال چھوٹی تھی اور ایک کلاس پیچھے بھی پر کزن کے ساتھ دونوں بہت اچھی دوست بھی تھی،
اچھا جیسے میں تو جانتی نہیں ہو تمہاری اُس ڈرپوک سی کزن کو جسکی تمہارے سوا آج تک کوئی دوست تک نہیں بنی جب بھی ہم نے باہر جانے کا پروگرام بنایا اُس نے ہمیشہ انکار کیا جب بھی ہم اسکول کالج کے ساتھ پکنک پہ گئے اُس نے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لیا اور تو اور ہم نے میٹرک کے بعد یہاں ایڈمیشن لیا اُس نے ہم سے رابطہ کرنا ہی چھوڑ دیا،مہک تو جیسے غصے سے بھری بیٹھی تھی بولنا اسٹارٹ ہوئی تو اگلی پچھلی سب غنوادی،
بس کر یار کیا ہو گیا تمہیں تو پتا ہے وہ ہمیشہ سے ایسی ہی ہے کبھی کسی فنکشن تک میں نہیں جاتی وہ زیادہ لوگوں کو دیکھ کے ڈر جاتی ہے اور وہ ہم سے رابطہ کیسے کرتی اُس کے پاس تو موبائل تک نہیں ہے وہ آج کل کی لڑکیوں کی طرح نہیں ہے بہت معصوم سی ہے،مشعل نے اپنی اس غصے کی تیز دوست کو دیکھ کے تسلی سے اپنی بات کہی،
تو تمہیں کس نے کہا کے وہ یہاں ایڈمیشن لے گی مہک نے اس بار آرام سے اپنی بات کہی،
یار وہ میں لاسٹ ٹائم جب اُس کے گھر گئی تب میں نے کہا تھا حیا کو کے وہ میٹرک کے بعد کہا ایڈمیشن لے گی تو اُس نے کہا تھا وہ اسی کالج میں ایڈمیشن لے گی کیونکہ وہ اور کسی کو جانتی نہیں تمہارے اور میرے سوا مشعل نے پھر یہاں وہا حیا کو ڈھونڈتے ہوئے مہک کو حیا سے ہونے والی بات کا بتایا،
اچھا چلو اپن کلاس میں دیکھتے ہیں کیا پتا وہاں ہو اُسے کلاس مل گئی ہو اپنی اب اتنے بڑے کالج میں ہم اُسے کہاں کہاں ڈھونڈے گے مہک نے اس بار کچھ دیر سوچ کے جواب دیا،
ہاں یہ بھی ہے بس مجھے ڈر ہے کہی وہ کسی سینئر کے ہاتھ نہ لگ گئی ہو مشعل کے چھرے پہ حیا کے لیے فکر ہی فکر تھی اُس نے پریشانی سے مہک کی طرف دیکھ کے کہا،
ارےے تم پریشان نہ ہو آجاؤ ہم کلاس ۔میں دیکھے وہ وہی ہوگی مہک نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور اُسے ساتھ لیے کلاس کی طرف روانہ ہو گئی
***************
ہاں تو برہان صاحب کیا سوچا آپ نے فاروق صاحب نے اپنے بزنس پاٹنر برہان کی طرف دیکھ کے کہا۔
فاروق صاحب میں نے آپ سے کہا ہے مجھے سوچنے کا ٹائم چاہیے میں ایسے آپ کو جواب نہیں دے سکتا انہوں نے تھوڑی پریشانی سے جواب دیا،
برہان تم تو جانتے ہو اس ڈیل میں ہمیں کتنا فائدہ ہوگا اگر ایک بار یہ شادی ہو گئی ہمیں فائدہ ہی فائدہ ہے ہمارا بزنس باہر ممالک تک میں پھیل جائے گا انہوں نے اپنے بزنس پاٹنر کو ایک بار پھر سمجھانا چاہا،
بات آپکی ٹھیک ہے فاروق صاحب پر یہ میری زندگی کا فیصلہ نہیں جو میں ایک دم لے لو بات یہاں میری چھوٹی بہن کی ہے جو ابھی بہت چھوٹی ہے بہت معصوم ہے،انہوں نے فکر سے کہا اُن کے لہجے میں اپنی اُس چھوٹی بہن کے لیے پیار ہی پیار تھا،
ہاں ہاں آپ اچھی طرح سوچ سمجھ کے جواب دو پر آپ کو بھی معلوم ہے یہ گڑیا کے لیے بہترین فیصلہ ہے روہان سے اچھا لائف پاٹنر اُسے نہیں مل سکتا،اُنہوں نے برہان کو سمجھاتے ہوئے اپنی بات کہی،
ہاں روہان بہت اچھا لڑکا ہے پر وہ گڑیا سے بہت بڑا ہے یار اور وہ بہت معصوم ہے اُسے کیسے میں اپنے سے اتنی دور بھیج دو وہ تو کبھی گھر سے بھی باہر نہیں گئی اور میں اُسے پاکستان سے ہی باہر بھیج دو وہ بھی لندن جیسی جگا برہان نے فاروق صاحب کو دیکھتے ہوئے اپنا پوانٹ اوف یو بتایا،
برہان تمہاری بات ٹھیک ہے پر روہان میری کوئی بات تک نہیں سنتا اور وہ گڑیا سے آٹھ سال بڑا ہے اور یہ کوئی اتنا زیادہ فرق بھی نہیں ہے گڑیا کو جب سے میں نے دیکھا ہے وہ مجھے ہمارے روہان کے لیے پرفیکٹ لگی ہر حساب سے بس جب ہی میں نے سوچ لیا تھا کے ہم اپنی دوستی کو رشتےداری میں بدل دیں گے اور ایسے روہان بھی ہمارے نزدیک ہو جائے گا انہوں نے آگے کا سب پلین سوچا ہوا تھا اس لیے انہوں نے برہان کو بھی اپنی سوچ سے آگاہ کیا،
پر روہان تو آپ کا بیٹا ہے پھر وہ کیوں آپ سے کھینچا کھینچا رہتا ہے برہان نے فاروق صاحب کو دیکھ کے کہا وہ فاروق صاحب کے ساتھ اتنے سالوں سے کام کر رہے تھے وہ اس بات سے اچھے سے واقف تھے کہ روہان ہمیشہ فاروق صاحب سے دور راہا ہے اُس نے لندن سے اپنی اسٹڈی کمپلیٹ کی اور وہی اپنا بزنس اسٹارٹ کر لیا اور جب فاروق صاحب نے اپنے اکلوتے بیٹے سے بزنس کو ایک کرنے کی بات کی تو روہان نے یہ کہہ کے صاف انکار کر دیا کے وہ اپنا بزنس اکیلے کرنا چاہتا ہے اُسے کسی کے ساتھ مل کے کام کرنا پسند نہیں،
جب سے اُس کی ماں کا اور میرا ڈئیورس ہوا ہے اُس نے یہ بات دل پہ لی ہوئی ہے نہ وہ اپنی ماں کے ساتھ رہا نہ میرے ساتھ تب سے وہ اکیلا رہتا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مجھ سے دور ہوتا گیا جبھی میں چاہتا ہو یہ رشتہ ہو جائے تاکہ روہان ہمارے نزدیک ہو جائے ایک یہی طریقہ ہے جس سے وہ مجھ سے اور اپنے ملک سے قریب ہو سکتا ہے گڑیا وہاں بہت خوش رہے گی میرا یقین کرو اس بار فاروق صاحب کے لہجے میں اِلتجہ تھی،
ٹھیک ہے فاروق صاحب مجھے آپ تھوڑا ٹائم دیں میں آپکو جواب دیتا ہو برہان نے اس بار کچھ دیر سوچ کے جواب دیا،
ٹھیک ہے برہان اب میں چلتا ہو پر جواب مثبت میں ہونا چاہیے انہوں نے کھڑے ہو کے مسکراتے ہوئے کہا،
جی ٹھیک ہے فاروق صاحب میں آپ کو کچھ دن میں جواب دیتا ہو برہان نے اُن سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا
****************
وہ دونوں کلاس ختم ہونے کے بعد کینٹین میں آکے بیٹھ گئی مہک کافی لینے گئی ہوئی تھی اور مشعل بیٹھی ہوئی کسی گھیری سوچ میں گُم تھی۔
کیا سوچ رہی ہو لڑکی مہک نے اُسے گھیری سوچ میں گُم دیکھ کے سوال کرتے ہوئے کافی ٹیبل پہ رکھی اور خود چئیر کہینچ کے بیٹھ گئی،
کچھ نہیں یار بس یہی سوچ رہی ہو کے جب حیا نے کہا تھا کہ وہ یہاں ایڈمیشن لےگی تو وہ آئی کیوں نہیں آج پہلا دن تھا اور حیا تو ہمیشہ سے پہلا دن ہو یا آخری سب سے پہلے آتی تھی مشعل نے مہک کو جواب دیتے ہوئے کافی کا پہلا گھونٹ بھرا،
ہاں یہ تو ہے کے اگر اُس نے یہاں ایڈمیشن لیا ہوتا تو آج ضرور آتی مہک نے بھی اُس کی بات سے اتفاق کیا،
اچھا یار میں اب چلتی ہو اُس نے کافی ختم کی اور کھڑی ہو گئی پھر کل ملے گے مشعل نے اپنا سامان اُٹھاتے ہوئے کہا،
اتنی جلدی۔۔۔۔۔مہک نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھ کہ کہا کیونکہ جتنا وہ مشعل کو جانتی تھی مشعل کبھی بھی اتنی جلدی گھر نہیں جاتی تھی،
ہاں یار سوچ رہی ہو کے حیا کے گھر جاکے اُسی سے پوچھ لو اُس نے دوسرے کالج میں ایڈمیشن لےلیا یا کسی اور وجہ سے نہیں آئی اُس نے اپنا موبائل دیکھتے ہوئے کہا،
پر تم جاؤ گی کس کے ساتھ تمہارا ڈرائیور تو اپنے ٹائم پہ آئے گا مہک بھی اپنا بیگ لےکہ کھڑی ہو گئی،
جب تم کافی لینے گئی میں نے ڈرائیور کو میسج کر دیا تھا اور ابھی اُس کا رپلائے آگیا وہ باہر ویٹ کر رہا ہے،
چلو ٹھیک ہے میں بھی چلی جاتی ہو اکیلی بور ہو جاؤگی مہک نے بھی اُس کے ساتھ چلتے ہوے کہا،
وہ دونوں چلتے چلتے مین گیٹ سے باہر آگئی سامنے ہی مشعل کا ڈرائیور کھڑا ہوا تھا گاڑی لےکہ۔۔۔۔۔آجاو تم بھی میرے ساتھ چل لو مشعل نے اُسے آفر کی ساتھ چلنے کی،
نہیں میں اپنی گاڑی لےکہ آئی ہو تم آرام سے جاؤ مہک نے مسکرا کے اپنی دوست کی طرف دیکھا جو پنک کلر کے سادہ سے سوٹ جس پہ گٹھنوں تک آتی شرٹ پہنے بالو کی ٹیل پونی بنائے دوپٹے کو سلیقے سے سر پہ لیے اُس کی فکر کرتی ہوئی بہت پیاری لگ رہی تھی،
اچھا ٹھیک ہے خیال سے جانا مشعل نے مسکرا کے جواب دیا اور گاڑی میں بیٹھ گئی،
*****************
وہ اپنے آفس میں اپنی کُرسی پہ بیٹھے فائل اپنے چہرے کے آگے کیے کیس کو اسٹڈی کرہا تھا جب سے وہ جنرل راحیل محمود سے مل کے آیا تھا اُس کے زہن میں بس یہی سب گھوم رہا تھا جب سے اُس نے یہ کیس ہاتھ میں لیا تھا اُس کے سامنے ایسی ایسی چیزے آئی تھی جو انسان کے رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے تین دن پہلے جس بچی کی ڈیڈبوڈی اُنہیں کچرے پہ پڑی ملی اُسے دیکھ کے حیدر جیسے مضبوط آرمی آفیسر کی بھی آنکھیں نم ہو گئی ایک اور بابا کی پرنسیس کو کسی نے اپنی چند منٹ کی تسکین کے لیے اُس معصوم کو اپنے حوس کا نشانا بنا لیا بس ایک بار وہ گُروں حیدر کے ہاتھ لگ جائے وہ اُنکا ایسا حال کرے گا کے اُن کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھے گی، ابھی یہ سب سوچتے ہوئے بھی اُس کے دماغ کے نسیں غصے سے اُبھرنے لگی،
وہ اپنی سوچ میں گم تھا کے کوئی ایک دم دھڑام سے اندر داخل ہوا اور آکے حیدر کے سامنے والی چیئر پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھ گیا،
حیدر نے غصے سے اس ڈھیٹ انسان کی طرف دیکھا جیسے تمیز چھو کہ بھی نہیں گزرتی جو اب یہاں وہاں ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اسی کام کے لیے آیا تھا،
کیا آپ کو نہیں پتا میجر بلال کے کسی سینئر کے آفس میں کس طرح آتے اُن کے سامنے کیسے بیٹھتے حیدر نے ایک ایک لفظ چباچبا کہ کہا،
پتا ہے!!!! کچھ کچھ بھول گیا ہو اگر ایک بار آپ کر کے دکھا دو تو شاید یاد آجائے بلال نے بلکل سنجیدگی سے کہا پر اُس کی آنکھوں میں شرارت صاف ناچ رہی تھی،
میجر بلال !!!!!!!! اس بار حیدر نے غصے کو کنڑول کرتے ہوئے کہا پر اُس کی آواز میں وارننگ تھی،
یس سر!!!
بلال نے آوُ دیکھا نہ تاو جھٹ سے کھڑے ہوکے سلیوٹ جھاڑا اور بلکل آٹینشن کھڑا ہوگیا،
حیدر نےحیرت سے اس عجوبے کو دیکھا،کیا آپ کبھی سیریس بھی ہوں گے،
یس سر!!!
اپنی شادی کے بعد سر!!!
حیدر نے اُس کی طرف دیکھ کے افسوس سے گردن ہلائی جیسے کہہ رہا ہو اس کا کچھ نہیں ہو سکتا
جو کبھی نہیں ہوگی تیرے جیسے کو لڑکی کون دیگا، اس بار حیدر نے اُس کو چھڑتے ہوئے کہا،
اللّه نہ کرے یار بد دعا تو نہ دے کیسی باتیں کر رہا ہے بلال جھٹ سے منت پہ اُتر آیا اُس نے واپس چیئر پہ بیٹھتے ہوئے کہا اس وقت اس کے چہرے پہ دنیا جہاں کی بیچارگی تھی،
حیدر کو اس کی شکل دیکھ کے ہنسی تو بہت آئی پر اُس نے ہونٹوں کو بہینچ کے خود کو ہنسنے سے باز رکھا،
حیدر اور بلال کزن کے ساتھ ساتھ بچپن کے بہت اچھے دوست بھی تھے دونوں نے ساتھ ہی تعلیم حاصل کی اور شوق اور ملک کے لیے کچھ کر دیکھانے کا جزبہ دونوں میں ہی کوٹ کوٹ کہ بھرا ہوا تھا اسی لیے آپسی سحمتی سے دونوں نے آرمی جوائن کرلی،
تو میرے بھائی ایسی حرکتیں کیوں کرتا ہے جس کی وجہ سے تو اتنا مشہور ہوا پڑا ہے اس پورے آرمی کیمپس میں کوئی ایسا ہے جو تیری حرکتوں کی وجہ سے پریشان نہ ہو بتا ان میں سے کوئی تجھے اپنی بیٹی دیگا حیدر نے اُس کو دیکھتے ہوئے سوال کیا،
یار میں خود کہا کرتا ہو سب خود بہ خود تنگ ہو جاتے ہیں مجھ سے، اب کل کی ہی بات لےلو، اپنا وہ کوک ہے نہ اُس سے میں نے سو روپے مانگے وہ مجھے ایسے دیکھ رہا جیسے میں نے اُس کی کڈنی مانگ لی ہو، بلال نے بیچارگی سے کہا،
جب کے اُس کی بات سن کے حیدر خود کو روک نہیں سکا اور اُس نے زور سے قہقہ لگایا،
ہاہاہا!!!!!!
تو میجر ہوکہ کوک سے سو روپے مانگے گا تو وہ تجھے پیار سے تو دیکھنے سے رہا،حیدر نے ہنستے ہوئے کہا،
بلال کچھ کہتا اُس سے پہلے حیدر کا فون بجنے لگا،
سامنے سکرین پہ حیا کی خوبصورت تصویر کے ساتھ،زندگی کالنگ!!! لکھا ہوا جگمگا رہا تھا،
جسے دیکھ کے حیدر کے چہرے پہ بہت خوبصورت مسکراہٹ نمودار ہوئی
***********
کیا بہری ہو گئی ہو آواز نہیں آرہی کے دروازا بج رہا ہے،حنا جو کے ٹی وی دیکھنے میں مگن تھی بار بار بجتی ہوئی بیل نے اُسے ڈسٹرب کیا،اُس نے وہی بیٹھے بیٹھے چیخ کے کہا،
حیا اپنے روم میں موبائل ہاتھ میں لیے کسی کو کال کر رہی تھی اُس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے کہ ایک دم حنا کی چیخ سے ڈر کے موبائل اس کے ہاتھ سے گِر گیا،اُس نے جلدی سے اپنی واڈروب کھولی اور موبائل اُٹھا کے اپنے کپڑوں کے نیچے راکھا،
۔آئی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے وہی سے آواز لگائی اور جلدی سے باہر آکے دوازا کھولا،سامنے موجود شخص کو دیکھ کے حیا کو گھبڑاہٹ ہونے لگی،
واہ واہ کیا بات ہے اگر ایسا وِیلکم روز ہو تو میں روز حاضر ہو جاؤں،سامنے موجود سخص نے خباست سے کہتے ہوئے حیا کو سر سے پیر تک ایکسرے کرتی ہوئی نظروں سے دیکھا،
حیا جو پہلے سے ہی اس شخص کو دیکھ کے گھبرا گئی تھی اُوپر سے اُس کے اسطرح گھورنے سے حیا کے جسم میں کپکپی ہونے لگی،
ارےےے کون ہے کب سے پوچھ رہی ہو واقع بہری ہو گئی کیا،حنا سے صبر نہیں ہوا تو خود چلی آئی۔۔۔ کیوں چڑیل کی طرح دروازے سے چمت گئی،حنا نے بولتے کے ساتھ ہی حیا کو سامنے سے ہٹایا،
انور تم!!!!!! واٹ آ پریسنٹ سرپرائز
انور کو دیکھتے ہی حنا کے ماتھے کہ بل فورن غائب ہوئے اور چہرے پہ مسکراہٹ نمودار ہوئی،
اور تم یہاں بھوت بن کے کھڑی ہو مہمان کو باہر ہی کھڑا رکھا ہوا ہے حنا نے غصے سے حیا کو دیکھ کے کہا،جو وائٹ کلر کی سلک کے فروک جس پہ پنک کلر کے چھوٹے چھوٹے پھول بنے ہوئے اور وائٹ ہی کلر کا ڈوپٹہ جس کو گلے میں لیے اپنے نازک سے ہونٹوں کو دانتوں میں بری طرح کُچلتے ہوئے نظرے جھکائے کھڑی تھی،
یار تم اس بیچاری کو کیوں ڈانٹ رہی ہو وہ مجھے دیکھ کے کنفیوز ہو گئی تھی انور نے حیا کو گھورتے ہوئے مسکراکے کہا،
آچھا تم اندر تو چلو کیا ساری باتیں یہی دروازے پہ کرو گے،حنا نے کہتے ہوئے اُسے اندر آنے کا رستہ دیا،اور تم جاؤں کھانے کی تیاری کرو حنا نے اُس کے اُپر آڈر جاری کیے،
حیا جو موقع کی تلاش میں تھی فورن حکم پہ عمل کرتے ہوئے اندر کچن میں غائب ہوگئی،
*************
عبدالله خان صاحب تین بہن بھائی تھے سب سے بڑے عبدالله خان اس کے بعد علی خان اور سب سے چھوٹی بہن آمنہ ،عبدالله صاحب کی شادی اُن کی پسند سے اُن کے دوست کی بہن فوزیہ سے ہوئی اُن کی شادی کے ایک سال بعد عبدالله صاحب کے والدین روڈ ایکسیڈنٹ میں خالق حقیقی سے جاملے عبدالله صاحب کے دو بیٹے برہان،حیدر اور ایک بیٹی حیا جو حیدر کے دس سال بعد ہوئی اس لیے گھر بھر کی لاڈلی پر حیدر کی تو اُس میں جان بستی تھی،
علی خان کی شادی فوزیہ کی چھوٹی بہن صائمہ سے کی گئی اُن کا ایک ہی بیٹا ہے پر ہے سو کے برابر بلال خان، مجال ہے جو کبھی اُس نے چین سے جینے دیا ہو یاکوئی انسانوں والا کام کیا ہو سوائے آرمی جوائن کرنے کے،ایسا علی صاحب کا ماننا تھا جب کہ بلال کا ماننا تھا کے وہ ایسی حرکتیں اس لیے کرتا ہے تاکہ اُس کے ماں باپ کو یہ فِیل نہ ہو کے اُن کا ایک ہی بیٹا ہے لو بتاؤں اب بھلائی کا زمانہ ہی نہیں ہے
بلال اور حیدر ہم عمر تھے اس لیے بچپن سے ہر جگہ ساتھ ساتھ پائے جاتے دوستی دونوں میں بہت اچھی تھی پر عادت میں زمیں آسمان کا فرق، بلال ہسنے ہسانے والا زندہ دل لڑکا ہونے کے ساتھ ہر ایک کو ستانے کی وجہ بھی تھا، پر ہر ایک کے چہرے کی مسکراہٹ کا سبب بھی وہی تھا جب کہ حیدر اُس سے بلکل الگ سنجیدا غصے کا تیز اور لڑکیوں سے وہ جتنا دور بھاگتا تھا اتنی ہی لڑکیاں اُس پہ مرتی تھی، ( بلال کے بقول حیدر کو گرلز الرجی تھی )
چھوٹی بہن آمنہ کی شادی اپنے ماموں کے بیٹے خالد حسن سے ہوئی اللّه نے انکو پیاری پیاری دو بیٹیاں عطا کی بڑی سونیا اور اس سے چھوٹی مشعل ،سونیا کی شادی ہونے کے بعد وہ امریکا میں سیٹل ہوگئی جب کہ مشعل ابھی پڑھ رہی تھی وہ حیا سے ایک کلاس آگے ضرور تھی پر دونوں کی بنتی بہت تھی کیوکہ دونوں میں بس سال کا ہی فرق تھا
عبدالله خان اور علی خان کے گھر ساتھ تھے بلکے یہ کہوں کہ ایک ہی دیوار تھی جب کہ آمنہ کا گھر فاصلے پہ تھا،عبدالله صاحب نے برہان کی شادی اپنے دوست کی بیٹی حنا سے کی شادی کے ایک سال بعد اللّه نے اُنہیں بیٹی جیسی نعمت سے نوازہ، جس کا نام حیا نے ہی انوشے رکھا حیا تو اانوشے کو دیکھ کے پھولے نہیں سمارہی تھی جب کہ خود وہ اُس وقت مہز آٹھ سال کی تھی، خدا کی کرنی ایسی ہوئی کے انوشے کہ ہونے کے ایک ماہ بعد عبدالله صاحب کو ایسا ہارٹ اٹیک ہوا کے ڈاکٹر بھی اُنہیں بچا نہیں سکے اور وہ اللّه کو پیارے ہو گئے فوزیہ بیگم اپنے محبوب شوہر کی جدائی برداشت نہیں کر سکی اور ایسی بیمار ہوئی کہ ایک مہینے کے اندر وہ بھی اس دنیا سے چل بسی، حیا کو اس وقت سمبھالنا بہت مشکل ہو گیا پر حیدر نے حیا کی زمیداری بہ خوبی اُٹھا لی وہ ااُس کا چھوٹے سے چھوٹا کام خود کرتا جب کہ خود وہ آٹھارہ سال کا تھا یہی وجہ تھی کہ حیا میں حیدر کی جان تھی،
حیدر کے آرمی جوائن کرنے کے بعد حیا بہت اداس رہنے لگی،حیدر نے اُسے ہر برائی سے دور رکھا اس لیے جب حیا نے موبائل مانگا تاکہ وہ حیدر سے جب دل کرے بات کرلے تو حیدر کو سمجھ نہیں آیا دے یا نہیں کیوکہ اُس کی حیا بہت معصوم بہت بھولی تھی پر کوئی ایسی فرمائش جو حیا کہے اور حیدر پوری نہ کرے ایسا ممکن نہیں اسلیے حیدر نے حیا کو ایک خاص موبائل لاکے دیا اُس سے حیا کو حیدر کے سوا کوئی کال نہیں کر سکتا نہ حیا کسی کو کر سکتی ویسے بھی اُس کی سوچ اپنے بھیا پہ شروع ہو کہ بھیا پہ ہی ختم ہو جاتی اس لیے اُس نے کبھی کسی کو سوچا تک نہیں وہ آج کی لڑکیوں سے بہت الگ تھی بلکل معصوم سی لڑکی،
***************
حیدر کے چہرے پہ حیا کی کال دیکھ کے بہت خوبصورت مسکراہٹ آگئ اُس نے ہاتھ بڑھا کے موبائل اٹھایا،اس سے پہلے وہ کال آٹینڈ کرتا کال کٹ گئی،
اووو ہووووو !!!!!!کس کی کال ہے جو ہمارے سڑے ہوئے کریلے جیسے یار کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی کہی میری ہونے والی بھابھی تو نہیں ڈھونڈلی،بلال نے اُس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کے اُسے چھیڑنا اپنا فرض سمجھا،
بس جب بھی کرنا بکواس ہی کرنا ، میری زندگی، میری گڑیا کی کال تھی پر تیری بک بک کی وجہ سے کٹ گئی، حیدر نے اُسے لعنت ملامت والی نظروں سے دیکھ کے کہا،
کیا گڑیا کی کال تھی یار میری بات بھی کروا نہ گڑیا سے مجھے بھی اُس کی بہت یاد آرہی تھی پر مجھے تو پتا ہی نہیں تھا ہماری گڑیا کے پاس موبائل بھی ہے ورنہ میں تو کب کا گڑیا کو فون کر لیتا،بلال کی خود کی تو کوئی بہن نہیں تھی پر گڑیا اُسے بہت عزیز تھی وہ اُسے سگی بہنوں سے بھی زیادہ چاہتا تھا،
ہماری گڑیا کیا ہوتا ہے وہ بس میری گڑیا ہے
اور ہاں ہے، اُس کے پاس موبائل پر اپنے اس بھیا کے لیے بس، حیدر نے اپنے سینے پہ انگلی رکھ کے اُسے جتایا،
چل چل گڑیا تجھ سے زیادہ مجھے چاہتی ہے اس لیے تو مجھ سے جلتا ہے، بڑا آیا میری گڑیا ہے بلال نے حیدر کی نکل اتار کے کہا،
تم دونوں پھر سے واپس گڑیا کے لیے لڑ رہے ہو ، احمد جو کب سے ان کے پیچھے کھڑا تھا آخر بول پڑا
تم کب آئے، حیدر نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا، جب تم دونوں اپنا پسندیدہ کام کر رہے تھے ،احمد نے ان دونوں پہ طنز کیا اور برابر والی کرسی پہ بیٹھ گیا، یعنی وہ اتنے مگن تھے حیا کے پیچھے لڑنے میں کے اُنہیں پتا ہی نہیں لگا کے یہ کب آیا
ہاں بس تیری کمی تھی تو بھی آجا فارغ انسان،بلال نے فورن اُس کے طنز کا بدلا لیا،کیونکہ چھوڑتا وہ اپنے باپ کو بھی نہیں تھا پھر یہ تو اس کا کرائم پاٹنر تھا
کیا!!!! میں فارغ یا تم دونوں جو یہاں بیٹھے فضول سی بات پہ بحث کر رہے،احمد آگے بھی کچھ بولنے والا تھا ایک دم اُس کی زبان دانتوں تلے چپک گئی جب اُس کی نظر اُن دونوں پہ پڑی،
حیدر غصے سے کھڑا ہو گیا اس کے ماتھے پہ غصے سے کئی بل آگئے،اور بلال تو پیپر ویٹ لے کے ایسے کھڑا ہوا کہ اب اس کا سر پھوڑ دے گا، ہم یہاں گڑیا کو لے کے بات کر رہے اور تو نے ہماری گڑیا کو فضول کہاں بلال کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کو جان سے مار دے،ہماری گڑیا کو تو نے فضول کیسے بولا حیدر نے غصے سے احمد کو دیکھ کے کہا،
جو اب ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا،پہلے میری گڑیا میری گڑیا کر رہے تھے اور اب ایک دم ہماری ہو گئی احمد کا دل تو کیا ان کمینوں کومار مار کے نانی یاد دلادے پھر سوچا پاگل ہیں، کمینے ہیں، جیسے بھی ہے میرے دوست ہے، یہ سب سوچ کے اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی ،اس نے پہلے اُن دونوں کو دیکھا ،
جاؤ تم دونوں کو میں نے بخش دیا احمد نے کہتے ہوئے اپنے فرضی کالر جھاڑے،
کیا !!!! تو نے مجھے بخش دیا حیدر کو اس کی بات پہ صدمہ لگا جب کے بلال نے حیرت سے اپنے ہاتھ میں موجود پیپر ویٹ کو دیکھا،ہاں تم دونوں میرے دوست ہو اس لیے میں نے سوچا بخش دوں احمد نے اُن دونوں کو اپنی سوچ سے آگاہ کیا،
جسے سنتے ہی بلال کا قہقہ جان دار تھا وہ ہنستے ہنستے واپس کرسی پہ بیٹھ گیا جب کے حیدر سے تو اپنی مسکراہٹ ہی نہیں روکی جا رہی تھی،احمد نے پہلے ان دونوں کو دیکھا پھر خود کو، چھ فٹ قد مظبوط بازو وہ ایک آرمی کا جوان تھا کئی دشمنوں کے ایک ساتھ جہنم وصل کر سکتا تھا پھر یہ لوگ کیوں ہنس رہے،
حیدر نے جب یہ دیکھا تو اپنا قہقہ نہیں روک سکا
ہاہاہاہا!!!!!حیدر نے بلال کی طرف دیکھا، اسے تو خود پہ بھی یقین نہیں ہے اس نے ہنستے ہوئے کہا،
تم دونوں کو زیادہ باتیں آرہی نہ آجاؤ پنجا لڑائو مجھ سے پتا لگے گا کون کتنا پانی میں ہے احمد تو ایک دم کھڑا ہو گیا وہ تو تپ گیا اُن دونوں کے اس طرح ہسنے پہ،جب کے پنجے کی بات سن کے دونوں کی ہنسی کو بریک لگ گیا کیوں کے وہ دونوں ہی اچھے سے جانتے تھےکہ احمد کو پنجے میں کوئی نہیں ہرا پایا ،
آجا آجا کر ہاتھ آگے احمد نے حیدر کی طرف دیکھ کے کہا جب کے بلال تو جیبوں میں ہاتھ ڈھال لے ہونٹوں سے سیٹی بجاتے ہوے وہاں سے ایسے گیا جیسے وہ یہاں ٹہلتا ٹہلتا غلطی سے آگیا تھا،
یہ کہاں گیا احمد کی نظر جب اپنے پاس پڑی جہاں بلال کھڑا تھا تو اُس نے حیدر کی طرف دیکھ کے کہا،اُس کا ایک ہی کام ہے لوگوں کو ستانا وہ اپنا کام کر کے گیا، حیدر نے سکون سے چیئر پہ بیٹھتے ہوئے کہا
جب کے یہ سب سن کے احمد کو تو غصہ ہی آگیا ہمیشہ وہ بلال کے ہاتھوں ایسے ہی آرام سے بیوقوف بن جاتا ہے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *