Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مال کے اندر قدم رکھتے ہی اس کا رُخ ایک شاپ کی طرف تھا،وہ حیا کو اس کی ضرورت کی چیزے اور یونیورسٹی کا کچھ سامان لینے کی غرض سے اسے یہاں لایا تھا ابھی وہ کچھ ہی قدم آگے چلا تھا جب کسی خیال کے تحت وہ پیچھے موڑا یہ لڑکی کہاں گئی روہان نے یہاں وہاں دیکھا اسے حیا دور دور تک نظر نا آئی،
او شٹ یہ لڑکی اب کہاں چلی گئی اتنے بڑے مال میں اسے کہاں ڈھونڈوں روہان نے پریشانی سے اپنے چاروں اطراف میں نظرے دوڑائیں،اف ایک تو یہ لڑکی روہان نے قدم پیچھے لیے اب وہ اسے مال میں ہی تلاش کرنے لگا،
پلز واپس آ جاؤ آپ کہاں چلے گئی حیا نم آنکھوں سے روہان کو پکار رہی تھی،پارکننگ میں زیادہ تر گاڑیاں موجود تھی لوگ نہ کے برابر تھے،جب ایک کار حیا سے کچھ دور فاصلے پر رکی،
اپنے پاس کار کو رکتے دیکھ حیا کے دل میں ایک دم ڈر آ گیا کیوں کے پاکستان میں اس کے ساتھ مال میں جو واقع ہوا تھا وہ اسے آج تک نہیں بھولا تھا،
کار کا دروازا کھول کے ایک لڑکا باہر آیا آنکھوں پر گلاسز لگائے اس نے کار سے باہر قدم رکھا وہ موبائل پر کسی سے گفتگو کرنے میں مصروف تھا اس نے اپنی گاڑی لاک کی اور فون پر بات کرنے لگا،
حیا نے پہلے اس لڑکے کو دیکھا جس نے بیلو پینٹ پر وائٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی آنکھوں پر گلاسز لگائے وہ لڑکا کافی سے زیادہ ہینڈسم تھا پر حیا کو اس وقت وہ کسی لوفر سے کم نہیں لگ رہا تھا جو اسے اب چھیڑے گا حیا نے ڈرتے ڈرتے اپنی شرٹ نکالنے کی کوشش کی پر اسے یہ بھی ڈر تھا کے اس کی شرٹ پھٹ نا جائے اب اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے،
ہیلو اینی پرابلم !!!خوبصورت آواز پر حیا نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھایا وہ لڑکا اسی سے مخاطب تھا حیا نے یہاں وہاں دیکھا ہر جگہ سناٹا تھا، حیا نے نفی میں سر ہلایا اور پیچھے ہوکے گاڑی سے چپک گئی اور ہولے ہولے کانپنے لگی،
وائے آر یو کرائنگ!!! اس لڑکے کے چہرے پر فکر تھی وہ پھر سے اس سے پوچھنے لگا جب اس کی نظر حیا کے دامن پر گئی جو کار کے دروازے میں پھسا ہوا تھا ،او آئی سی اس لڑکے نے اپنے قدم آگے بڑھائے جسے دیکھ کے حیا اور ڈر گئی،اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے ہاتھ سے اسے دور رہنے کا اشارا کرنے لگی،
آئی جسٹ وانٹ یوئر ہیلپ!!!اس لڑکے نے حیرت سے حیا کو دیکھتے ہوئے سمجھایا اسے نہیں پتا تھا یہ لڑکی اس کی زبان سمجھ رہی ہے یا نہیں پر اس نے اشاروں سے اپنی بات حیا کو سمجھا دی تھی،
وہ کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتی تھی اتنی جلدی تو بلکل نہیں پر یہاں اس کی مجبوری تھی روہان پتا نہیں کہاں تھا نا چاہتے ہوئے بھی حیا اس کی مدد لینے کو مان گئی حیا کے ہاں میں سر ہلانے پر وہ آگے بڑھا اور کار کے دروازے کو کھولنے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی،
کچھ دیر کوشش کرنے کے بعد اسے اندازا ہوگیا یہ ایسے نہیں نکلے گا یا تو دامن پھاڑنا ہوگا یا گاڑی کا لاک کھولنا ہوگا اس نے حیا کی طرف دیکھتے ہوئے اشارہ کیا کے وہ دامن پھاڑ رہا ہے جسے دیکھ کے حیا جلدی سے نفی میں سر ہلانے لگی،اتنے میں کسی نے اس لڑکے کو پیچھے سے پکڑکے دور پھینکا جسے دیکھ کے حیا نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا،
روہان کو جب اندر حیا کہی نظر نہیں آئی تو وہ اسے دیکھنے باہر آیا،اسے پتا نہیں کیوں لگ رہا تھا وہ پارکنگ میں ہی ہے وہ اس طرف آیا تو اس نے دیکھا ایک لڑکا گاڑی کے پاس جھک کے حیا کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ ڈر کے نفی میں سر ہلا رہی تھی روہان دور سے بھی حیا کے چہرے پر خوف آرام سے دیکھ سکتا تھا آگے بڑھ کے اس نے لڑکا کا گریبان پیچھے سے پکڑا اور اسے دور دھکا دیا،
پھر اس نے حیا کی طرف دیکھا جس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا اور منہ پر ہاتھ رکھے وہ روہان کو ہی دیکھ رہی تھی،تم اب تک یہاں کیوں کھڑی ہوں روہان کے ایک دم دھاڑنے پر حیا نے زور سے اپنی آنکھیں بند کرلی،اور اسے تو میں بتاتا ہوں روہان اس لڑکے کی طرف موڑنے لگا جب حیا نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے روہان کا بازو پکڑ لیا روہان نے غصے سے پلٹ کر حیا کو دیکھا،
وہ____یہ حیا نے جلدی سے اپنے دامن کی طرف اشارا کیا جو گاڑی میں پھسا ہوا تھا،ان___کی__کوئی__غلطی نہیں حیا نے ڈرتے ہوئے کہا اس وقت روہان کے غصے سے اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا،
اس نے گاڑی کو ان لاک کر کے حیا کا دامن باہر نکالا اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ بغیر حیا کی طرف دیکھے آگے بڑھ گیا،اس نے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا،نا وہ ایسی لا پرواہی کرتا نا وہ لڑکا!!!!!
وہ لڑکا روہان نے پلٹ کر دیکھا وہ لڑکا کھڑا روہان کو گھور رہا تھا،اگر اتنی فکر ہے اس لڑکی کی تو اسے یہاں چھوڑ کے کیوں گئے تھے اس لڑکے نے شائستہ انگریزی میں روہاں سے سوال کیا،
میری بیوی ہے میں جہاں دل کرے لے کر جاؤ جہاں دل کرے چھوڑ کر جاؤ تم کون ہوتے ہو مجھے کچھ بولنے والے روہان نے بھی اسے اسی کی زبان میں جواب دیا وہ روہان ہی کیا جو اپنی غلطی مان لے اسے تو اب تک اس لڑکے پر غصہ تھا اس کی ہمت کیسے ہوئے حیا کے پاس بھی جانے کی،
حیا کا دھیان ان کی باتوں کی طرف نہیں تھا وہ تو اب تک ڈری ہوئی تھی روہان کی دھاڑ اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھی،
مینٹل کیس وہ لڑکا منہ ہی منہ میں بولتا ہوا مال کے اندر چلا گیا،روہان اس کے پیچھے جاتا پر حیا میڈم اب تک اس کا بازو پکڑے کھڑی تھی،روہان نے ایک نظر اسے دیکھا،کیا تم ٹھیک ہو،حیا نے بس سر ہلانے پر اتفاق کیا،
روہان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے اندر بڑھ گیا حیا کو تو کچھ ہوش نہیں روہان نے کیا کیا لیا ہے کچھ دیر میں کافی سارے بیگ لے کر وہ اسے باہر لے آیا،گاڑی میں بیٹھو حیا کو بول کے وہ دوسری طرف آکر بیٹھ گیا،
انہوں نے___میری مدد کرنے کی__کوشش کی تھی حیا نے تھوڑا ڈرتے ہوئے کہا اسے اچھا نہیں لگا تھا روہان کا اس لڑکے پر غصہ کرنا جو بھی تھا اس نے حیا کی مدد کی تھی اس سے بدتمیزی نہیں کی تھی،
تمہیں اس کی یا کسی لڑکے کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے حیا کی بات پر روہان کی گردن کے نسے ابھرنے لگی اسے حیا کے منہ سے کسی اور لڑکے کا ذکر بہت برا لگا تھا،روہان کے اتنی سختی سے کہنے پر حیا نے چہرہ جھکا کے چپ رہنے کا احد کیا،
جاؤ اندر گھر کے باہر گاڑی روک کر اس نے حیا کی طرف دیکھا جو چپ چاپ نیچے اتر گئی ایک نوکر کو اس نے فون کر کے باہر بلایا اور اسے سب سامان دیا یہ حیا کے روم میں رکھ دو نوکر کو حدایت دے کر اب اس کا رُخ آفس کی طرف تھا اسے آج بہت دیر ہوگئی تھی پر پتا نہیں کیوں وہ حیا کا کام کسی کو بھی بولنا نہیں چاہتا تھا،
********************
وہ چاچی کے کہنے پر آج پھر کھانا لے کر آگئی تھی پر یہاں تو بس لڑکے ہی رہتے ہیں اندر کیسے جاؤ باہر سے ہی پکڑا دوگی دل میں خود سے باتیں کرتی ہوئی وہ کنفیوژ تھی اس نے ہاتھ بڑھا کر گیٹ بجایا،یہ گیٹ تو کھولا ہوا ہے گیٹ پر ہاتھ رکھتے ہی دعا کو اندازا ہو گیا،
کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد بھی جب گیٹ پر کوئی نہیں آیا تو دعا سچ میں پریشان ہوگئی اندر جاؤ یا نہیں وہ کشمکش میں تھی پھر کچھ سوچ کر اس نے اندر قدم رکھا،
پورا گھر سناٹے میں تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کے اس وقت گھر میں کوئی بھی موجود نہیں ہے دعا نے کھانے کی ٹرے ٹیبل پر رکھی،اور اپنی چادر ٹھیک کی اس وقت وہ کالی بڑی سی چادر میں تھی جو اس کے ماتھے تک آرہی تھی کے اس کا ایک بال بھی نظر نہیں آرہا تھا وہ کھانا رکھ کے جانے لگی جب اس کی نظر سامنے روم میں گئی،
یہ روم تو!! دعا کی آنکھوں میں آنسوں آگئے جب مما پاپا تھے اس گھر میں کتنی رونق تھی کتنا پیار کرتے تھے وہ لوگ اسے پھر ان کے جانے کے بعد اس گھر پر چاچی نے اپنا قبضہ کرلیا دعا ٹرانس کی سی کیفیت میں آگے بڑھی،
جب بھی وہ یہاں آئی ہے تو کرائے دار کی موجودگی میں آج پہلی بار اسے یہ گھر خالی ملا ہے،کمرے کے دروازے پر ہاتھ رکھے اسے وہ پک یاد آیا جب اس کے پاپا کے ساتھ وہ چھپن چھپائی کھیلتی تھی،دعا کے چہرے پر ہلکی سی سمائل آگئی آنکھوں میں آنسوں لیے وہ بہت دھیان سے اس روم کو دیکھ رہی تھی جب کسی کے کرہانے کی آواز اس کے کان میں پڑی دعا نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا،
اس کا مطلب روم میں کوئی ہے پر جو بھی ہے تکلیف میں ہے اندر جاؤ یا نہیں دعا کا دل بہت نرم تھا وہ کسی کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی،اس نے آرام سے دروازا کھول کے اندر قدم رکھا،
لائٹ اوف تھی پر پردو سے اتی ہوئی روشنی سے صاف معلوم ہو رہا تھا کے کوئی وجود بستر پر موجود سیسک رہا ہے،دعا قدم قدم چلتی ہوئی پاس آئی جب اس کی نظر بلال کے چہرے پر گئی یہ تو وہی ہیں جنہوں نے میری ہلپ کی تھی دعا بلال کا چہرا دیکھتے ہی اسے پہچان گئی پر ان کا چہرا اتنا لال کیوں ہو رہا ہے،دعا نے تھوڑا ڈرتے ہوئے اس کے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا،
******************
وہ تینوں اس وقت اس گھر کے باہر موجود تھے جہاں وہ آدمی گیا تھا،سر یہ دیکھیں وہی آدمی جس کی تصویر بلال نے دیکھائی تھی صمد نے حیدر سے ہلکی آواز میں کہا اس وقت وہ لوگ دیوار کی اوٹ میں چھپ کر اس پر نظر رکھ رہے تھے،
وہ آدمی پہلے تو یہاں وہاں دیکھتا رہا پھر وہ اندر چلا گیا،حیدر نے احمد اور صمد کو اشارا کیا اور گھر کے پیچھے کی طرف آگئے کھڑکی تھوڑی اونچی تھی حیدر نے یہاں وہاں نظرے دوڑائی جب احمد نے نیچے بیٹھ کے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا،اب حیدر احمد کے اوپر چھڑ کر اندر کا منظر دیکھ سکتا تھا،
مجھے تو حیرت ہے آرمی والوں کو اب تک پتا کیسے نہیں چلا،اس آدمی نے رازداری سے کہا،تو کیا چاہتا ہے کے ان لوگوں کو معلوم ہو جائے ہم یہاں چھپ کر کیا کر رہے ہیں سامنے موجود آدمی نے غصے سے کہا جس کی حیدر کو بس پیٹھ نظر آرہی تھی،
ارے نہ بابا نہ میں ایسا کیوں چاہوں گا اس آدمی نے فوراً کانوں کو ہاتھ لگایا،بس میں تو اس لیے کہہ رہا ان سالو کو سب سے پہلے خبر مل جاتی ہے ہر چیز کی،اس آدمی نے سائد میں تھوکتے ہوئے کہا،
اپنی باتیں چھوڑو اور یہ دیکھو ایک آدمی اندر سے آیا جس کے ہاتھ میں کوئی پیکٹ موجود تھا حیدر نے صمد کو اشارا کیا موبائل صمد نے جلدی سے کیمرا اون کر کے حیدر کے ہاتھ میں دیا،
آخر کار ہم نے وہ بم تیار کر لیا ہے تجھے پتا ہے اس بم کی خاص بات کیا ہے اس آدمی نے سامنے والے کو دیکھا جو ہر وقت باہر بیٹھ کے ان کی چوکیداری کرتا تھا،کیا خاص بات یہی نا یہ بم طاقت ور ہے اس آدمی نے جلدی سے کہا،
وہ تو یہ ہے پر سب سے مزے کی بات جو ہے وہ یہ کے کوئی بھی سیکیورٹی اس بم کو نہیں روک سکتی یہ بم کہی بھی آسانی سے آ جا سکتا ہے اس آدمی نے خوش ہوتے ہوئے سب کو دیکھا،واہ یہ تو کمال کی چیز ہے پر یہ مالک نے کس لیے بنوایا ہے اس آدمی نے کہا،
ان آرمی والوں نے جینا حرام کر رکھا ہے ان لوگوں کو ہی اوڑائے گے،اس کی بات پر حیدر نے اپنے دانت بھینچے،صمد چوکنا سا کھڑا چاروں اطراف میں دیکھ رہا تھا کے کوئی اس طرف نا آجائے،
احمد نے درد سے اپنے دانت بھنچے ہوئے ویسے تو وہ آرمی آفسر تھا پر کندھے پر جو گولی لگی اس گھاؤ ابھی کچا تھا،حیدد نے اپنے چہرے پر رومال باندھا ہوا تھا تاکہ اسے کوئی دیکھ بھی لے تو پہچان نہیں سکے،
چپ ہو جاو مالک کا فون ہے جی مالک کام ہو گیا ہم کل یہاں سے نکل جائے گے اور یہ بم آپ کو مل جائے گا وہ آدمی بات کرتے کرتے ایک دم موڑا جب اس کی نظر حیدر پر گئی ان آنکھوں میں اتنا اشتعال تھا کے وہ آدمی ایک دم ڈر گیا کون ہے وہاں اس آدمی نے فون کاٹ کے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا باقی کے تینوں آدمیوں نے بھی وہاں دیکھا جہاں انہیں کوئی نظر نہیں آیا،
پکڑو سالے کو اس سے پہلے وہ کسی کے سامنے منہ کھول دے اس آدمی کے چیخنے پر سب آدمی باہر کی طرف بھاگے،
***************
تم یہاں کیا کر رہے ہو روہان نے اندر داخل ہوتے ہی جیک کو دیکھا میں تو یوں ہی آیا تھا پر کیوٹ گرل نے پتا نہیں کیا بنایا اف میں تو خوشبوں سے سیدھا ادھر ہی آگیا جیک نے ٹیبل پر بیٹھے بیٹھے ہی جواب دیا تمہیں کسی نے دعوت دی تھی جو منہ اٹھا کر چلے آئے روہان نے اسے گھورا،
دعوت کی کیا ضرورت ہے یہ تو میرا اپنا گھر ہے سہی کہا نا کیوٹ گرل جیک نے کچن سے آتی ہوئی حیا کو دیکھ کر کہا جس کے ہاتھ میں شاید کوئی ڈش تھی،حیا نے بغیر کچھ کہے ڈش ٹیبل پر رکھ دی خوشبو تو واقعی بہت آرہی تھی،
تم اندر جاؤ روہان نے حیا کی طرف دیکھ کر کہا اس وقت وہ صبح والے ہی لباس میں تھی پر اسکاف کی جگہ اس نے ڈوپٹہ لیا ہوا تھا پر سادگی میں بھی وہ بہت پیاری اور معصوم لگ رہی تھی،وہ نہیں چاہتا تھا کے اس کے علاوہ کوئی بھی اس نظر سے حیا کو دیکھے،
پر کھانا حیا نے بولتے ہوئے روہان کو دیکھا جو غصے سے اسے دیکھ رہا تھا اس نے اتنی محنت سے ڈش بنائی تھی اور بھوک بھی بہت تیز لگی تھی پر روہان کے غصے سے ڈرتے وہ فوراً اندر چلی گئی،
برو ان کو بھیج کیوں دیا یار کیوٹ گرل نے اب تک کھانا بھی نہیں کھایا_____اس سے آگے وہ کچھ کہتا روہان کا ہاتھ اس کے گلے پر تھا یہ کیوٹ گرل کیوٹ گرل کیا لگایا ہوا ہے بھابھی ہے بھابھی بول روہان نے اس کا گلا دباتے ہوئے غصے سے کہا،
بھابھی ہے تو کیا ہوا کیوٹ بھی تو ہے جیک نے اپنا گلا چھوڑواتے ہوئے کہا اصل میں تو اسے روہان کا یہ جیلس والا روپ مزا دے رہا تھا،
کیوٹ ہے پر میری ہے آگے سے خیال رکھنا نظرے نیچے کیے اپنی بھابھی سے بات کرنا اور ہاں اس نے کھانا کھایا یا نہیں اس کی فکر کرنے کی لیے میں ہوں تم یہ کھانا کھاؤ چپ کرکے روہان اسے بول کے کچن کی طرف چلا گیا،
واہ برو کا نیا روپ لڑکیوں سے دور بھاگنے والے آج ایک لڑکی کے پیچھے پاگل ہوگئے جیک نے دل میں سوچا ویسے اسے کیا اسے تو کھانا کھانے سے مطلب تھا برو کی ڈانٹ کا تو وہ بہت سالوں سے عادی تھا،
***************
رات کا وقت تھا نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی آج ان کو نکاح کو کافی دن ہوگئے تھے،پر حیدر نے اس سے ایک بار بھی رابطہ نہیں کیا تھا،
اسے تو پتا بھی نہیں چلا کب اس دل نے حیدر کے نام سے دھڑکنا شروع کر دیا،حیدر تو آگلے دن ہی چلا گیا تھا اپنے کام سے جب کے اس نے کہا تھا وہ رخصتی کروائے گا پر اس کے لیے پہلے فرض ہے بعد میں محبت،
کچھ سوچ کے اس نے حیدر کا نمبر ٹرائے کیا جو بند جا رہا تھا کہاں ہو آپ ایک بار تو مجھ سے بات کرتے مجھے بتا کے جاتے میں آپ سے کیسے رابطہ کروں،
پاپا بھی آج کل پتا نہیں کہا مصروف رہتے ہیں سونیا کی شادی تو بہت پہلے ہوگئی تھی پر جب سے حیا گئی ہے وہ خود کو اور زیادہ تنہا محسوس کرنے لگی،
آپ کو نہیں ہے نا میری فکر اب مجھے بھی آپ کی فکر نہیں ہے اب آؤ گے نا جب بھی بات نہیں کروں گی مشعل دل ہی دل میں حیدر سے شکایت کرنے لگی حیدر کو سوچتے سوچتے وہ کب سوئی اسے معلوم نا ہوا،
****************
سب کھانا ایک ٹرے میں رکھ دو کچن میں لیلہ کو حکم دے کر اب وہ اپنے روم میں آیا کیا ہو جاتا ہے مجھے جب میں اس لڑکی کے پاس کسی کو بھی دیکھتا ہوں،اپنے بالو میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ کافی ڈسٹرب دیکھائے دے رہا تھا،
آج کل اس لڑکی کے علاوہ میں کچھ سوچ کیوں نہیں پاتا نا کوئی کام کر پاتا ہوں،تم مان لو روہان تمہیں اس سے محبت ہوگئی ہے وہ ہے ہی اتنی پیاری اتنی معصوم ایسا ہو ہی نہیں سکتا اس سے محبت نا ہوئی ہو اس کے دل میں سے آواز آئی،
نہیں محبت اتنی جلدی مجھے محبت نہیں ہو سکتی وہ بھی اس لڑکی سے جسے میں سہی سے جانتا بھی نہیں روہان نے اپنے دل کو فوراً جھٹک دیا، تم مانو یا نا مانو تم حیا سے محبت کرنے لگے ہو اس کی معصومیت سے تمہیں عشق ہونے لگا ہے،اس کے دل نے اس کے سامنے آئینہ لا کے رکھ دیا،
نہیں ہے مجھے اس سے عشق نہیں ہے مجھے تو شادی سے بھی نفرت ہے،میں کیسے اس سے عشق کر سکتا ہوں کیسے وہ خود سے بولتا بولتا نیچے کارپیٹ پر گٹھنے کے بل بیٹھ گیا،
شادی سے نفرت نہیں ہے تمہیں تم ڈرتے ہو رشتے بنانے سے ڈرتے ہو مان لو یہ بات روہان فاروق رشتے بنانے سے ڈرتا ہے اس کے اندر سے آواز آئی اس نے اپنے کانو پر ہاتھ رکھ لیا،
ہاں ہاں میں ڈرتا ہوں ڈرتا ہوں میں رشتے بنانے سے نہیں ان کو کھونے سے اگر میں اس سے محبت کروں گا وہ بھی مجھے چھوڑ دے گی چھوڑ دے گی مجھے دنیا میں سب سے زیادہ پیار میں نے اپنے ماں باپ سے کیا پر انہوں نے ایک بار بھی اس ننی جان کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے ایک پیار کی جھلک کے لیے ترستا تھا جب مجھے ان کی ضرورت تھی انہوں نے مجھے اگنور کیا اب میں انہیں اگنور کرتا ہوں روہان کو کسی کی ضرورت نہیں ہے کسی کی بھی،اس نے کھڑے ہوکے گلدان کو پھنک کے مرا جو کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا،
تم جھوٹ بولتے ہو مان کیوں نہیں لیتے تم اکیلے ہو بہت اکیلے تمہیں اس کی ضرورت ہے تم زندگی میں پہلی بار سکون سے جب سوئے تھے جب وہ تمہاری باہوں میں تھی مان کیوں نہیں لیتے روہان فاروق کو حیا روہان سے عشق ہو گیا ہے تم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے نہیں رہ سکتے،
روہان نے بیڈ پر بیٹھ کے اپنا چہرا اپنے دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا،یہ کیسی آواز تھی آپ ٹھیک ہیں حیا نے روم میں آتے ہوئے کہا پر روہان تو کسی اور ہی دنیا میں تھا یہاں ہوتا تو سنتا نا حیا نے اس کی طرف دیکھا جو اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بیٹھا تھا،پھر اس نے زمیں پر بکھری چیزوں کو دیکھا وہ قدم قدم چلتی ہوئی اس کے پاس آئی،
آپ ٹھیک ہیں آس نے آرام سے روہان کے کندھے پر ہاتھ رکھا نرم سے لمس پر اس نے نظرے اٹھا کے دیکھا سامنے وہی دشمن جان تھی آنکھوں میں ڈھر ساری فکر لیے اسے دیکھ رہی تھی،
کیا نہیں تھا اس وقت روہان کے چہرے پر اس کی آنکھوں میں درد کرب جو حیا کو صاف نظر آرہا تھا پہلی بار حیا کو روہان سے ڈر نہیں لگا بلکے اسے تکلیف میں دیکھ کے وہ خود تکلیف میں تھی،
تم مجھے کبھی چھوڑ کے نہیں جاؤ گی نا کبھی مجھ سے دور نہیں جاؤ گی نا ایک دم کھڑے ہوکے اس نے حیا کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اس وقت وہ حیا کو ہوش میں نہیں لگا،حیا حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جس کی آنکھوں میں اس وقت جنون تھا
****************
ان کو تو تیز بخار ہے دعا نے بلال کے گال پر انگلیاں رکھ کے دیکھا کیا کروں اب،پہلے ہی مجھے اتنی دیر ہوگئی چاچی غصہ ہوگی دعا نے دل میں خود سے کہا،پر انہوں نے میری ہلپ کی تھی مجھے بھی ان کی مدد کرنی ہوگی دعا دل میں ارادا کر کے باہر گئی،
ٹھنڈے پانی کی پٹیا کی بلال ہلکی ہلکی غنودگی میں تھا حیدر والوں کو بھی گئے ہوئے صبح سے شام ہوگئی تھی،کافی دیر ٹھنڈے پانی کی پٹیا کرنے سے بلال کے چہرے پر تھوڑا سکون آیا،دعا کچن میں گئی سوپ بنایا جلدی سے،کیسے پلاؤ دعا نے بلال کی طرف دیکھ کے سوچا،
پھر وہ بلال کے پاس بیٹھ گئی آرام آرام سے چمچ بلال کے منہ میں ڈھالنے لگی اسے اندازا ہوگیا کے ان کے دوست سب کہی گئے ہوئے انہوں نے کچھ نہیں کھایا صبح سے،بلال نیم غنودگی میں ہی سوپ پینے لگا اسے لگا مما اسے سوپ پلا رہی ہیں اس وقت اسے یہ تک یاد نہیں تھا وہ اپنے گھر پر نہیں مشن پر ہے،
سوپ پلا کر دعا نے باؤل سائڈ میں رکھا اور جھک کے اپنے ڈوپٹے سے بلال کا چہرا صاف کرنے لگی اتنے میں دھڑام سے دروازا کھول کر کوئی اندر آیا،
دعا ڈر کے ایک دم پیچھے ہوگئی دروازے کی آواز اتنی تیز تھی کے بلال بھی اب ہوش میں آنے لگا اپنے سر پر ہاتھ رکھ کے اس نے دروازے کی سمت دیکھا اس وقت اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا،
یہ رہی منحوس یہاں اپنا منہ کالا کر رہی ہے ارے میں وہاں پریشان بیٹھی ہوں پورا دن ہو گیا بن ماں باپ کی بچی پتا نہیں کہاں ہوگی میں نے تو صبح سے ایک پانی کا گھونٹ نہیں پیا اور یہ لڑکی بلال کے کان میں کسی کے چیخنے کی آواز آئی اپنے سر پر ہاتھ رکھ کے وہ اٹھ کے بیٹھا اب اسے منظر صاف نظر آرہا تھا سامنے ایک اچھی خاصی عمر کی عورت موجود تھی جو منہ میں پان چبا رہی تھی اور اس کے ساتھ دو اور آدمی تھے،
ارے میں نہیں بولتی تھی کے یہ لڑکی بد چلن ہے دیکھ لو سب اپنی آنکھوں سے اس کے کام چاچی ہاتھ نچا نچا کر بول رہی دعا تو اب تک سدمے میں تھی یہ اس کی چاچی اس پر کیا الزام لگا رہی وہ تو یہاں دن میں آئی تھی وہ بھی چاچی کے کہنے پر،
دعا نے نفی میں سر ہلایا اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے اتنا گندا الزام اس نے تو اپنی عزت کی بہت حفاظت کی تھی دعا نے چاچی کے سامنے ہاتھ جوڑے جس کا مطلب تھا خدا کے لیے چپ ہو جائیں،
جاری ہے
