Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan NovelR50800 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18
Rate this Novel
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode01 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode02 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode03 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode04 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode05 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode06 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode07 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode08 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode09 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode10 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode11 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode12 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode13 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode14 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode15 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode16 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode17 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18 (Watching)Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode19 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode20 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode21 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode22 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode23 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode24 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode25 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode26 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode27 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode28 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode29 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode30 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode31 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode32 Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Last Episode
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18
Masoom Si Larki Season01 by Sabahat Khan Episode18
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فریش ہوکے اس نے ٹائم دیکھا اسے آفس کے لیے لیٹ ہوگیا تھا ایک تو پاکستان میں اس کے اتنے دن برباد ہوئے کام کا بھی بہت حرج ہوا،
روم سے باہر آکے اس نے برابر والا روم کھولا جو خالی تھا یہ لڑکی کہا گئی اب روہان نے خالی روم کو دیکھ کے سوچا،
بلو کلر کا سوٹ پہنے بالوں کو جیل سے اوپر کی طرف سیٹ کیے وہ مغرور چال چلتے ہوئے نیچے آیا اسے دیکھتے ہی سب نوکر جلدی جلدی اپنے کام کرنے لگے،
روہان جیسے ہی نیچے آیا سوزی جلدی سے روہان کے پاس آگئی بوس!!! روہان نے اسے آگے بولنے سے روکا،لیلہ روہان نے وہی کھڑے کھڑے لیلہ کو آواز دی،
یس بوس لیلہ جلدی سے کچن سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی آئی،وہ لڑکی کہا ہے روہان نے شائستہ آنگریزی میں لیلہ سے سوال کیا،
کون سی لڑکی بوس لیلہ نے نا سمجھنے والے انداز میں روہان کو دیکھا پر روہان کے غصے سے گھورنے پر وہ فوراً گڑبڑا گئی،
آپ میم کی بات کر رہے وہ تو کچن میں ہے لیلہ نے جلدی سے روہان کی بات سمجھتے ہوئے اسے جواب دیا،
روہان نے ہاں میں سر ہلایا اور ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھ گیا،سوزی کو ہاتھ کے اشارے سے اس نے بولنے کو کہا،
بوس ایک کمپنی ہے جو ہمارے ساتھ ڈیل کرنا چاہتی ہے پر آپ یہاں نہیں تھے تو ہم نے انہیں ابھی کوئی کنفرم جواب نہیں دیا پر بوس___ سوزی اور بھی کچھ بولتی پر حیا کے آنے سے وہ چپ ہوگئی،
سوزی نے حیرت سے حیا کو دیکھا جو وائٹ کلر کے سوٹ میں سر پر دوپٹہ لیے نیچے نظرے جھکائے اپنے کام میں مگن تھی بوس کے گھر میں ایک لڑکی وہ بھی اتنی پیاری،
یہ سب کیا ہے روہان نے ٹیبل کی طرف دیکھا جہاں ناشتا لگایا جارہا تھا پھر اس نے نظر اٹھا کے حیا کو دیکھا،
دھولا دھولا چہرا صاف رنگت وائٹ سوٹ میں اور چمک رہی تھی سلیقے سے سر پر دوپٹہ لیے وہ روہان کو دیکھ رہی تھی،
آپ کا ناشتا حیا نے پہلے روہان کو دیکھا پھر ٹیبل پر رکھے ناشتے کو،میں نے کہا کے تم میرے لیے ناشتا لاؤ میں صبح ہی صبح اتنا ھےوی ناشتا کروں روہان نے اردو میں غصے سے کہا سوزی کو یہ تو سمجھ نہیں آیا کے بوس نے کیا کہا پر اسے اتنا اندازا ہوگیا کے بوس غصہ کر رہے وہ بھی اس معصوم سی لڑکی پر،
حیا نے بھری ہوئی آنکھوں سے روہان کو دیکھا پھر سوزی کو اسے تو بھیا نے کہا تھا کے اپنے ہسبینڈ کے سب کام اپنے ہاتھ سے کرنے چاہیے اس نے آرام سے ناشتے کی ٹرے اٹھائی اور واپس کچن میں آگئی،
تم کیا کھڑی ہو جاؤ آفس میں آتا ہوں روہان نے سوزی کو غصے سے کہا جس کی نظرے اب بھی کچن کی طرف تھی،
یس یس بوس سوزی نے اپنی فائل اٹھائی اور باہر نکل گئی روہان نے جوس کا گلاس اٹھایا پھر واپس ٹیبل پر پٹھک دیا،اسے کیوں اتنا غصہ آگیا بس ناشتا تو لائی تھی روہان نے کچن کی طرف دیکھا،پھر پاکٹ سے فون نکال کے ایک نمبر ملایا،
جیک میرا ایک کام کرو میرے روم کے برابر میں جو لائبریری ہے اسے ایک روم بنادو اور لائبریری نیچے شفٹ کردو روہان نے فون پر سب تفصیل بتا کر فون رکھ دیا،وہ چاہتا تو حیا کو نیچے کا روم دے سکتا تھا اس گھر میں روم کی کمی نہیں تھی پر حیا کا ڈر وہ پاکستان میں ہی دیکھ چکا تھا اس لیے اسے ساتھ والے روم میں رکھنا ہی مناسب سمجھا،
تمہاری میم کہاں ہیں روہان نے کچن میں آکے لیلہ سے پوچھا،سر وہ تو اوپر چلی گئی شاید لیلہ نے نیچے منہ کیے آدب سے کہا،
روہان نے ہاتھ بڑھا کر لائیبریری کا دروازا کھولنا چاہا جو لاک تھا اوف یہ لڑکی ایک تو ہر وقت لاک لگا کر رکھتی ہے روہان نے لاک پر اپنی انگلی رکھی اور ایک آواز کے ساتھ لاک کھول گیا اس گھر کے سب دروازے صرف روہان کے فنگرپرنٹ سے کھولتے تھے،
ناشتے کی ٹرے نیچے کارپیٹ پر رکھی تھی اور حیا گٹھنے میں سر دیے بیٹھی رو رہی تھی،دروازے کی آواز پر حیا نے سر اٹھا کر دیکھا آنکھوں میں بھرے ہوئے آنسوں رو رو کے سرخ ہو رہی ناک کے ساتھ وہ اسے دیکھ رہی تھی،
تم رو کیوں رہی ہو روہان گٹھنے کے بل اس کے پاس بیٹھا اس لڑکی کے آنسوں آج اسے اچھے نہیں لگ رہے تھے اسے بھی اتنا غصہ نہیں کرنا تھا ناشتا نہیں کرنا تھا تو آرام سے بول دیتا،
آپ__مجھے معاف کردیں حیا نے نیچے نظرے کیے کپکپاتے ہوئے لہجے میں کہا روہان نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا غصہ تو اس نے کیا تھا حیا پر پھر یہ لڑکی کیوں اس سے معافی مانگ رہی تھی،
وہ مال میں اس دن آپ نے میری ہلپ کی اور میں نے بھیا سے آپ کی شکایت کی اس لیے آپ مجھ سے ناراض ہیں نا جبھی میرے ہاتھ کا ناشتا بھی نہیں کر رہے حیا نے سرخ ہو رہی آنکھوں کے ساتھ نیچے نظرے کیے وہ بولتی ہوئی روہان کو بہت پیاری لگ رہی تھی،
میں تم سے ناراض نہیں ہوں روہان نے حیا کے چہرے سے نظرے ہٹالی، سچ میں آپ ناراض نہیں ہے مجھ سے حیا نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے روہان کو دیکھا،
ہاں میں ناراض نہیں ہوں میں اس ٹائم یہ سب نہیں کھاتا بس جوس پیتا ہوں روہان نہ چاہتے ہوئے بھی اسے صفائیاں دے رہا تھا،اچھا آپ کیا کھاتے ہیں آپ مجھے بتا دو میں وہ بنا لوں گی حیا اب روہان کی طرف دیکھ رہی تھی،
تم ناشتا کر لو مجھے دیر ہو رہی روہان نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور روم سے باہر آگیا بغیر پیچھے موڑے سڑیوں سے نیچے آکے گھر سے باہر آیا گارڈ نے گاڑی کا دروازا کھولا آنکھوں پر گلاسز لگائے وہ اندر بیٹھ گیا،روہان کے بیٹھتے ہی گاڑی لندن کی سڑکوں پر دوڑنے لگی،
****************
سن لڑکی دعا کچن میں صبح کا ناشتا بنا رہی تھی جب پیچھے سے چاچی کی آواز آئی، دعا نے چاچی کی طرف دیکھا،
ناشتا بنا کر گھر کو اچھے سے صاف کر پھر اچھا سا کھانا بنا اور کھانا ذیادہ بنانا جو اپنے مکان میں نئے کرائے دار آئے ہیں ان سب کو کھانا دے کر آنا چاچی نے کچن کے دروازے پر کھڑے کھڑے کہا
دعا نے بس ہاں میں سر ہلانے پر اتفاق کیا اور سن دیکھ کر آ کیسے لوگ ہے باہر سے کھانا پکڑا کر مت آجانا اندر جاکے آنا کتنے لوگ ہے کیسے ہیں سب دیکھنا، چاچی نے غصے سے بولتے ہوئے باہر چلی گئی،
اب جلدی سے ناشتا لے آ دس منٹ ہوگئے اب تک تجھ سے ناشتا نہیں بنا اپنے پلنگ پر بیٹھ کے چاچی نان اسٹاپ بول رہی تھی،
دعا نے چاچی کو جلدی سے ناشتا دیا اور کھانا بنانے میں لگ گئی جب تک چاچا تھے گھر میں سب ٹھیک تھا چاچا کے بعد چاچی کا رویہ اور گھر کے حالات دونوں خراب ہوگئے،
دعا کے ماں باپ تو مر گئے تھے پر ان کا ایک مکان تھا جو اب دعا کے نام تھا جسے اس کی چاچی نے کرائے پر چڑھادیا تھا جس سے ان کے گھر کا گزارا چل رہا تھا اور گائے تھی جس کا دودھ گاؤں میں بیچ کر کچھ پیسے آ جاتے تھے، پر یہ گائے ایک دن چاچی اچانک لے آئی پر کہاں سے لائی یہ پوچھنے کی دعا میں ہمت نہیں تھی،
کھانا بنا کر اس نے صفائی کی پھر نہاں کر سادھا سا بلیک کلر کا سوٹ پہنا جس کا رنگ بھی اب خراب ہو چکا تھا سال سے اوپر ہو گیا تھا اس نے ایک سوٹ تک نہیں بنایا تھا اس نے نہا کر نماز پڑھی جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اس کی آنکھوں سے ایک کے بعد ایک آنسوں گرنے لگے پتا نہیں وہ کس حال میں ہے کہاں ہے یا اللّٰه اس کی حفاظت کرنا دعا کی آنکھوں سے آنسوں گر رہے لب خاموش تھے پر دل بول رہا تھا،چاچی نہیں بتاتی وہ کہا ہے پر آپ کو تو پتا ہے نہ وہ کہا پھر بس وہ جہاں بھی ہو ٹھیک ہو دعا نے دل میں خدا سے سب دعا کی اور کھڑی ہوگئی،
چاچی سوچکی تھی اس نے کھانا پیک کیا اب اس کا رُخ اس مکان کی طرف تھا جہاں نئے کرائےدار آئے تھے،
**************
وہ رات دیر سے پہنچے اس لیے صبح دیر سے سو کر اٹھے بلال نے اباسی لیتے ہوئے اپنے برابر میں دیکھا جہاں اب بھی احمد سو رہا تھا،
احمد اور وہ اس روم میں رکے تھے جب کے برابر والے روم میں صمد اور حیدر تھے،بلال فریش ہوکے آیا وہ اب تک ٹراؤزر شرٹ میں تھا،
احمد اٹھ یار بلال نے احمد کو پکڑ کر ہلایا،کیا ہے صبح ہی صبح کیوں اٹھا رہا ہے احمد نے اس کا ہاتھ جھٹک کر کروٹ بدل لی،
صبح نہیں ہورہی دن ہو رہا ہے اٹھ کے تو دیکھ سست آدمی بلال نے اس کی راضائی کو کھینچا اس گاؤں میں کافی ٹھنڈ تھی اس لیے احمد منہ تک راضائی اوڑ کر سو رہا تھا،
تو نے آدمی کسے کہا احمد نے ایک تکیا اسے اٹھا کر مارا،اور واپس سو گیا بلال نے وہ تکیا واپس اس کے اوپر پھینکا اور باہر آگیا،
اس نے دیکھا برابر والا روم کھولا ہوا ہے اس نے اندر جھانکا صمد سو رہا تھا اور واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی مطلب حیدر نہاں رہا تھا،ایک تو بھوک سے برا حال ہے اب کیا کرو بلال سوچ ہی رہا تھا کے ایک دم گیٹ بجا،
کون آگیا اس ٹائم بلال نے دروازے کے پاس جاکے دروازا کھولا سامنے ایک لڑکی ہاتھوں میں ٹرے لیے نظرے جھکائے کھڑی تھی سادھے سے سوٹ پر اس نے اچھے سے شال لی ہوئی تھی دوپٹہ بھی سر پر اتنی آگے تک تھا کے اس کا ایک بال بھی نظر نہیں آرہا تھا،
آپ کون بلال نے ایک آئیبرو اٹھا کے پوچھا،دعا نے نظرے اٹھا کر دیکھا سامنے کوئی لڑکا تھا جو شاید ابھی ابھی سو کر اٹھا تھا دعا کے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپنے لگے پتا نہیں اندر کون کون ہوگا اور کیسے لوگ ہوں گے دعا نے کچھ بولے بغیر ٹرے آگے کی،
بلال نے ایک نظر ٹرے کو دیکھا جو ایک کپڑے سے دھکی ہوئی تھی،پر اسے اندازا ہوگیا اس میں کچھ کھانے کے لیے ہے،پر بلال اب بھی ڈھیٹ بن کر دروازے پر کھڑا رہا،
دعا نے ایک طرف سے اندر جانا چاہا تو بلال آگے آگیا جو دینا ہے یہی سے دے دو اندر کیوں جارہی بلال نے تھوڑا سختی سے کہا اسے یہ لڑکی عجیب لگی جو ایک لفظ بھی نہیں بول رہی تھی،
کون ہے بلال حیدر کی آواز پر بلال نے پیچھے موڑ کے دیکھا اتنے میں جلدی سے دعا اندر آگئی اور اس کا رُخ سیدھے کچن کی طرف تھا بلال نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا جو کافی ڈھیٹ تھی،
کون ہو تم اور اندر کس کی اجازت سے آئی دعا ٹرے رکھ کے جیسے ہی موڑی حیدر نے اس کے سر پر کھڑے ہوکے سوال کیا کسی لڑکی کا ایک دم گھر کے اندر چلے آنا اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا،
دعا نے ایک نظر حیدر کو دیکھ کے واپس نظرے جھکالی اور اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے کھیلنے لگی بلال کی نظر خود با خود اس کے ہاتھ کی طرف گئی اسے اندازا ہوگیا یہ لڑکی کانپ رہی ہے جب یہ اتنا ڈر رہی ہے تو اندر آئی کیوں بلال نے دل میں سوچا جب کے حیدر کی سوالیہ نظرے اب بھی دعا پر تھی،
**************
ہائے تھک گیا میں تو بلال نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا پہلے ٹرین کا سفر پھر بس کا اب جاکے وہ لوگ گاؤں پہنچے تھے،
کیوں تو خود گاڑی چلا کر لایا ہے کیا جو تھک گیا احمد نے اپنے شوز کھولتے ہوئے کہا اس وقت بلال اور وہ ایک ہی روم میں موجود تھے،
تو ایسا کر جاکے سب کے لیے چائے بنا بلال نے کونی بیڈ پر رکھ کے ہاتھ پر تھوڑی کو رکھتے ہوئے تھوڑا اونچا ہوتے ہوئے احمد کی طرف دیکھا،
تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے میں بھی تیرے ساتھ ہی سفر کر کے آیا ہوں احمد کا دل کیا یہ جوتا اٹھا کے اس کے سر پر مارے جو مزے سے بیڈ پر لیٹ کے اس پر حکم چلا رہا تھا،
اچھا جی تو آپ تھک گئے کیونکہ آپ میرے ساتھ آئے ہو تو کیا میں نہیں تھکا جس نے تیرا بیگ بھی اٹھایا بلال نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے مصنوعی غصے سے کہا،
میں نے کہا تھا میرا بیگ اٹھا تجھے خود شوق ہوا تھا بیگ اٹھانے کا احمد نے سوفے سے کھڑے ہوتے ہوئے مزے سے کہا،اور اپنے بیگ کھول کے کچھ ڈھونڈنے لگا،
بلال نے غصے سے اسے گھورا اور واشروم میں فریش ہونے چلا گیا،احمد نے ایک نظر اسے دیکھا اور واپس اپنے کام میں مشغول ہوگیا،
اوے میرے بیگ میں سے وہ غائب ہے جلدی بتا کہا ہے بلال کے واشروم سے آتے ہی احمد اس کے سر پر جاکے کھڑا ہوگیا،
کیا وہ مجھے کچھ نہیں پتا تو کس بارے میں بات کر رہا بلال نے بلکل معصوم چہرا بنا کر کہا ،تو جھوٹ بول رہا مجھے پتا ہے تیرے پاس ہی ہے سچ بتا کہا ہے کہی تو اسے__ اس سے آگے احمد بول نا سکا بلال کا نظر چرا کر وہاں سے جانا صاف بتا رہا تھا کے یہ اسی کا کام ہے،
تو ایسا کیسے کر سکتا احمد کا مانوں سدمے سے برا حال تھا،بلال بتا کہا ہے احمد نے غصے میں اس کا بازوں پکڑا،
مجھے نہیں پتا جب بول دیا ایسے ہی الزام لگا رہا ہے تجھے اپنے دوست پر یقین نہیں ہے بلال نے اپنا ہاتھ چھوڑوا کر غصے سے کہا،
کیوں لڑ رہے تم دونوں حیدر نے اندر آتے ہوئے دونوں کو دیکھا،دیکھ حیدر اس نے میرے بیگ سے ___ایک منٹ ایک منٹ صمد نے اندر آتے ہوئے احمد کی بات بیچ میں کاٹی اور جلدی سے اندر آکے سوفے پر بیٹھ گیا ہاں اب بولوں اس نے چہرا اپنے ہاتھ پر رکھتے ہوئے احمد کو دیکھ کر کہا،
یہاں اتنا سریس ٹاپک چل رہا اور تو مزا لینے آیا ہے یہاں چل باہر جا احمد نے غصے سے کھا جانے والی نظروں سے صمد کو دیکھا،
یہ کہی نہیں جائے گا یہی بیٹھے گا اور دیکھے گا اس کے بھائی پر کیسے کیسے الزام لگائے جارہے ہیں بلال نے صمد کو واپس بیٹھنے کا اشارہ کیا جو کھڑا ہوچکا تھا،
تم دونوں بعد میں لڑ لینا ابھی وجہ بتاؤ کیوں بھث کر رہے ہو حیدر نے بیزاری سے کہا ان کے روز روز کے جھگڑے سے وہ تنگ ہو گیا تھا،
حیدر اس نے میرے بیگ میں سے وہ نکالا اور مان بھی نہیں رہا احمد نے غصے سے بلال کو دیکھا حیدر نے اب بلال کی طرف دیکھا،
حیدر یہ جھوٹ بول رہا میرا معصوم چہرا دیکھ کیا میں ایسا کر سکتا بلال نے احمد کو دیکھتے ہوئے بولتے بولتے واپس حیدر کی طرف دیکھا،جو اسے ہی گھور رہا تھا،
احمد اب چپ چاپ کھڑا تھا اسے پتا تھا اس کا فیصلہ سہی بندے کے پاس گیا ہے اسے انصاف ضرور ملے گا، حیدر تو ایسے کیوں دیکھ رہا کیا میں ایسا کر سکتا بلال نے معصوم شکل بنا کر کہا پر حیدر بغیر کچھ بولے اب بھی اسے گھور رہا تھا،صمد کبھی حیدر کو دیکھے کبھی بلال کو اب تو اسے بھی بلال پر ترس آرہا تھا،
حیدر تو ایسے نہیں دیکھ بلال نے تھوڑا ڈرتے ہوئے کہا،حیدر نے اپنے ہاتھ آگے کی طرف باندھ کے اسے دیکھنا جاری رکھا،ہاں ہاں میں نے نکالا تھا بس بلال بول کے بیڈ پر بیٹھ گیا صمد کا سدمے سے منہ کھولا کا کھولا رہے گیا،
تو بتا کہا پر ہے میرا چپس کا پیکٹ احمد نے ایکدم بلال کو پکڑ کے کھڑا کیا جب کے حیدر نے حیرت سے احمد کو دیکھا چپس کا پیکٹ واقعی،
ہاں چپس کا پیکٹ پچاس والی لیز کا پیکٹ تھا پورا بتا کہا ہے احمد حیدر کو جواب دے کر واپس بلال سے پوچھنے لگا،
میرے پیٹ میں ہے جب ٹرین میں تو سو گیا تھا تب مجھے بھوک لگ رہی میں نے کھالی بلال نے بیچارگی والا چہرا بنایا،
حیدر تو اسے کچھ بول نہیں رہا احمد نے بول کے حیدر کی طرف دیکھا جو دونوں کو غضب ناک طریقے سے دیکھ رہا تھا،حیدر نے آگے بڑھ کے بلال کو مکا مارا،
یہ ہوئی نا بات حیدر شاباش اور کھا چپس کسی اور کی احمد تو خوش ہی ہوگیا حیدر نے احمد کی طرف دیکھا پھر ایک مکا رکھ کے اسے مارا احمد نے منہ پر ہاتھ رکھ کے حیرت سے حیدر کو دیکھا مجھے کیوں مارا،
صمد ہنس ہنس کے سوفے سے نیچے گر چکا تھا پر دونوں کو مکا پڑتے دیکھ اس نے اپنے ہونٹ بھینچ کے اپنی ہنسی کو روکا،حیدر دنوں کو مار کے جاچکا تھا،
ہاہاہا اور بول حیدر کو پڑی نا مار بلال نے چڑانے والے انداز میں ہنستے ہوئے کہا اسے خود کو پڑنے والے مکے کے غم سے ذیادہ احمد کو پڑنے والے مکے کی خوشی تھی،
پر مجھے کیوں مارا احمد نے حیرت سے بولتے ہوئے صمد کی طرف دیکھا جو احمد کی شکل دیکھ کے اپنا قہقہ نہیں روک سکا ہاہاہا صمد ہنستا ہوا واپس باہر چلا گیا،
بلال ہنستے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا تھا اب اسے نیند کی ضرورت تھی،مجھے کیوں مارا احمد اب بھی خود سے یہی سوال کر رہا تھا،
***************
فریش ہوکے اس نے ٹائم دیکھا اسے آفس کے لیے لیٹ ہوگیا تھا ایک تو پاکستان میں اس کے اتنے دن برباد ہوئے کام کا بھی بہت حرج ہوا،
روم سے باہر آکے اس نے برابر والا روم کھولا جو خالی تھا یہ لڑکی کہا گئی اب روہان نے خالی روم کو دیکھ کے سوچا،
بلو کلر کا سوٹ پہنے بالوں کو جیل سے اوپر کی طرف سیٹ کیے وہ مغرور چال چلتے ہوئے نیچے آیا اسے دیکھتے ہی سب نوکر جلدی جلدی اپنے کام کرنے لگے،
روہان جیسے ہی نیچے آیا سوزی جلدی سے روہان کے پاس آگئی بوس!!! روہان نے اسے آگے بولنے سے روکا،لیلہ روہان نے وہی کھڑے کھڑے لیلہ کو آواز دی،
یس بوس لیلہ جلدی سے کچن سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی آئی،وہ لڑکی کہا ہے روہان نے شائستہ آنگریزی میں لیلہ سے سوال کیا،
کون سی لڑکی بوس لیلہ نے نا سمجھنے والے انداز میں روہان کو دیکھا پر روہان کے غصے سے گھورنے پر وہ فوراً گڑبڑا گئی،
آپ میم کی بات کر رہے وہ تو کچن میں ہے لیلہ نے جلدی سے روہان کی بات سمجھتے ہوئے اسے جواب دیا،
روہان نے ہاں میں سر ہلایا اور ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھ گیا،سوزی کو ہاتھ کے اشارے سے اس نے بولنے کو کہا،
بوس ایک کمپنی ہے جو ہمارے ساتھ ڈیل کرنا چاہتی ہے پر آپ یہاں نہیں تھے تو ہم نے انہیں ابھی کوئی کنفرم جواب نہیں دیا پر بوس___ سوزی اور بھی کچھ بولتی پر حیا کے آنے سے وہ چپ ہوگئی،
سوزی نے حیرت سے حیا کو دیکھا جو وائٹ کلر کے سوٹ میں سر پر دوپٹہ لیے نیچے نظرے جھکائے اپنے کام میں مگن تھی بوس کے گھر میں ایک لڑکی وہ بھی اتنی پیاری،
یہ سب کیا ہے روہان نے ٹیبل کی طرف دیکھا جہاں ناشتا لگایا جارہا تھا پھر اس نے نظر اٹھا کے حیا کو دیکھا،
دھولا دھولا چہرا صاف رنگت وائٹ سوٹ میں اور چمک رہی تھی سلیقے سے سر پر دوپٹہ لیے وہ روہان کو دیکھ رہی تھی،
آپ کا ناشتا حیا نے پہلے روہان کو دیکھا پھر ٹیبل پر رکھے ناشتے کو،میں نے کہا کے تم میرے لیے ناشتا لاؤ میں صبح ہی صبح اتنا ھےوی ناشتا کروں روہان نے اردو میں غصے سے کہا سوزی کو یہ تو سمجھ نہیں آیا کے بوس نے کیا کہا پر اسے اتنا اندازا ہوگیا کے بوس غصہ کر رہے وہ بھی اس معصوم سی لڑکی پر،
حیا نے بھری ہوئی آنکھوں سے روہان کو دیکھا پھر سوزی کو اسے تو بھیا نے کہا تھا کے اپنے ہسبینڈ کے سب کام اپنے ہاتھ سے کرنے چاہیے اس نے آرام سے ناشتے کی ٹرے اٹھائی اور واپس کچن میں آگئی،
تم کیا کھڑی ہو جاؤ آفس میں آتا ہوں روہان نے سوزی کو غصے سے کہا جس کی نظرے اب بھی کچن کی طرف تھی،
یس یس بوس سوزی نے اپنی فائل اٹھائی اور باہر نکل گئی روہان نے جوس کا گلاس اٹھایا پھر واپس ٹیبل پر پٹھک دیا،اسے کیوں اتنا غصہ آگیا بس ناشتا تو لائی تھی روہان نے کچن کی طرف دیکھا،پھر پاکٹ سے فون نکال کے ایک نمبر ملایا،
جیک میرا ایک کام کرو میرے روم کے برابر میں جو لائبریری ہے اسے ایک روم بنادو اور لائبریری نیچے شفٹ کردو روہان نے فون پر سب تفصیل بتا کر فون رکھ دیا،وہ چاہتا تو حیا کو نیچے کا روم دے سکتا تھا اس گھر میں روم کی کمی نہیں تھی پر حیا کا ڈر وہ پاکستان میں ہی دیکھ چکا تھا اس لیے اسے ساتھ والے روم میں رکھنا ہی مناسب سمجھا،
تمہاری میم کہاں ہیں روہان نے کچن میں آکے لیلہ سے پوچھا،سر وہ تو اوپر چلی گئی شاید لیلہ نے نیچے منہ کیے آدب سے کہا،
روہان نے ہاتھ بڑھا کر لائیبریری کا دروازا کھولنا چاہا جو لاک تھا اوف یہ لڑکی ایک تو ہر وقت لاک لگا کر رکھتی ہے روہان نے لاک پر اپنی انگلی رکھی اور ایک آواز کے ساتھ لاک کھول گیا اس گھر کے سب دروازے صرف روہان کے فنگرپرنٹ سے کھولتے تھے،
ناشتے کی ٹرے نیچے کارپیٹ پر رکھی تھی اور حیا گٹھنے میں سر دیے بیٹھی رو رہی تھی،دروازے کی آواز پر حیا نے سر اٹھا کر دیکھا آنکھوں میں بھرے ہوئے آنسوں رو رو کے سرخ ہو رہی ناک کے ساتھ وہ اسے دیکھ رہی تھی،
تم رو کیوں رہی ہو روہان گٹھنے کے بل اس کے پاس بیٹھا اس لڑکی کے آنسوں آج اسے اچھے نہیں لگ رہے تھے اسے بھی اتنا غصہ نہیں کرنا تھا ناشتا نہیں کرنا تھا تو آرام سے بول دیتا،
آپ__مجھے معاف کردیں حیا نے نیچے نظرے کیے کپکپاتے ہوئے لہجے میں کہا روہان نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا غصہ تو اس نے کیا تھا حیا پر پھر یہ لڑکی کیوں اس سے معافی مانگ رہی تھی،
وہ مال میں اس دن آپ نے میری ہلپ کی اور میں نے بھیا سے آپ کی شکایت کی اس لیے آپ مجھ سے ناراض ہیں نا جبھی میرے ہاتھ کا ناشتا بھی نہیں کر رہے حیا نے سرخ ہو رہی آنکھوں کے ساتھ نیچے نظرے کیے وہ بولتی ہوئی روہان کو بہت پیاری لگ رہی تھی،
میں تم سے ناراض نہیں ہوں روہان نے حیا کے چہرے سے نظرے ہٹالی، سچ میں آپ ناراض نہیں ہے مجھ سے حیا نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے روہان کو دیکھا،
ہاں میں ناراض نہیں ہوں میں اس ٹائم یہ سب نہیں کھاتا بس جوس پیتا ہوں روہان نہ چاہتے ہوئے بھی اسے صفائیاں دے رہا تھا،اچھا آپ کیا کھاتے ہیں آپ مجھے بتا دو میں وہ بنا لوں گی حیا اب روہان کی طرف دیکھ رہی تھی،
تم ناشتا کر لو مجھے دیر ہو رہی روہان نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اور روم سے باہر آگیا بغیر پیچھے موڑے سڑیوں سے نیچے آکے گھر سے باہر آیا گارڈ نے گاڑی کا دروازا کھولا آنکھوں پر گلاسز لگائے وہ اندر بیٹھ گیا،روہان کے بیٹھتے ہی گاڑی لندن کی سڑکوں پر دوڑنے لگی،
****************
سن لڑکی دعا کچن میں صبح کا ناشتا بنا رہی تھی جب پیچھے سے چاچی کی آواز آئی، دعا نے چاچی کی طرف دیکھا،
ناشتا بنا کر گھر کو اچھے سے صاف کر پھر اچھا سا کھانا بنا اور کھانا ذیادہ بنانا جو اپنے مکان میں نئے کرائے دار آئے ہیں ان سب کو کھانا دے کر آنا چاچی نے کچن کے دروازے پر کھڑے کھڑے کہا
دعا نے بس ہاں میں سر ہلانے پر اتفاق کیا اور سن دیکھ کر آ کیسے لوگ ہے باہر سے کھانا پکڑا کر مت آجانا اندر جاکے آنا کتنے لوگ ہے کیسے ہیں سب دیکھنا، چاچی نے غصے سے بولتے ہوئے باہر چلی گئی،
اب جلدی سے ناشتا لے آ دس منٹ ہوگئے اب تک تجھ سے ناشتا نہیں بنا اپنے پلنگ پر بیٹھ کے چاچی نان اسٹاپ بول رہی تھی،
دعا نے چاچی کو جلدی سے ناشتا دیا اور کھانا بنانے میں لگ گئی جب تک چاچا تھے گھر میں سب ٹھیک تھا چاچا کے بعد چاچی کا رویہ اور گھر کے حالات دونوں خراب ہوگئے،
دعا کے ماں باپ تو مر گئے تھے پر ان کا ایک مکان تھا جو اب دعا کے نام تھا جسے اس کی چاچی نے کرائے پر چڑھادیا تھا جس سے ان کے گھر کا گزارا چل رہا تھا اور گائے تھی جس کا دودھ گاؤں میں بیچ کر کچھ پیسے آ جاتے تھے، پر یہ گائے ایک دن چاچی اچانک لے آئی پر کہاں سے لائی یہ پوچھنے کی دعا میں ہمت نہیں تھی،
کھانا بنا کر اس نے صفائی کی پھر نہاں کر سادھا سا بلیک کلر کا سوٹ پہنا جس کا رنگ بھی اب خراب ہو چکا تھا سال سے اوپر ہو گیا تھا اس نے ایک سوٹ تک نہیں بنایا تھا اس نے نہا کر نماز پڑھی جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اس کی آنکھوں سے ایک کے بعد ایک آنسوں گرنے لگے پتا نہیں وہ کس حال میں ہے کہاں ہے یا اللّٰه اس کی حفاظت کرنا دعا کی آنکھوں سے آنسوں گر رہے لب خاموش تھے پر دل بول رہا تھا،چاچی نہیں بتاتی وہ کہا ہے پر آپ کو تو پتا ہے نہ وہ کہا پھر بس وہ جہاں بھی ہو ٹھیک ہو دعا نے دل میں خدا سے سب دعا کی اور کھڑی ہوگئی،
چاچی سوچکی تھی اس نے کھانا پیک کیا اب اس کا رُخ اس مکان کی طرف تھا جہاں نئے کرائےدار آئے تھے،
**************
وہ رات دیر سے پہنچے اس لیے صبح دیر سے سو کر اٹھے بلال نے اباسی لیتے ہوئے اپنے برابر میں دیکھا جہاں اب بھی احمد سو رہا تھا،
احمد اور وہ اس روم میں رکے تھے جب کے برابر والے روم میں صمد اور حیدر تھے،بلال فریش ہوکے آیا وہ اب تک ٹراؤزر شرٹ میں تھا،
احمد اٹھ یار بلال نے احمد کو پکڑ کر ہلایا،کیا ہے صبح ہی صبح کیوں اٹھا رہا ہے احمد نے اس کا ہاتھ جھٹک کر کروٹ بدل لی،
صبح نہیں ہورہی دن ہو رہا ہے اٹھ کے تو دیکھ سست آدمی بلال نے اس کی راضائی کو کھینچا اس گاؤں میں کافی ٹھنڈ تھی اس لیے احمد منہ تک راضائی اوڑ کر سو رہا تھا،
تو نے آدمی کسے کہا احمد نے ایک تکیا اسے اٹھا کر مارا،اور واپس سو گیا بلال نے وہ تکیا واپس اس کے اوپر پھینکا اور باہر آگیا،
اس نے دیکھا برابر والا روم کھولا ہوا ہے اس نے اندر جھانکا صمد سو رہا تھا اور واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی مطلب حیدر نہاں رہا تھا،ایک تو بھوک سے برا حال ہے اب کیا کرو بلال سوچ ہی رہا تھا کے ایک دم گیٹ بجا،
کون آگیا اس ٹائم بلال نے دروازے کے پاس جاکے دروازا کھولا سامنے ایک لڑکی ہاتھوں میں ٹرے لیے نظرے جھکائے کھڑی تھی سادھے سے سوٹ پر اس نے اچھے سے شال لی ہوئی تھی دوپٹہ بھی سر پر اتنی آگے تک تھا کے اس کا ایک بال بھی نظر نہیں آرہا تھا،
آپ کون بلال نے ایک آئیبرو اٹھا کے پوچھا،دعا نے نظرے اٹھا کر دیکھا سامنے کوئی لڑکا تھا جو شاید ابھی ابھی سو کر اٹھا تھا دعا کے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپنے لگے پتا نہیں اندر کون کون ہوگا اور کیسے لوگ ہوں گے دعا نے کچھ بولے بغیر ٹرے آگے کی،
بلال نے ایک نظر ٹرے کو دیکھا جو ایک کپڑے سے دھکی ہوئی تھی،پر اسے اندازا ہوگیا اس میں کچھ کھانے کے لیے ہے،پر بلال اب بھی ڈھیٹ بن کر دروازے پر کھڑا رہا،
دعا نے ایک طرف سے اندر جانا چاہا تو بلال آگے آگیا جو دینا ہے یہی سے دے دو اندر کیوں جارہی بلال نے تھوڑا سختی سے کہا اسے یہ لڑکی عجیب لگی جو ایک لفظ بھی نہیں بول رہی تھی،
کون ہے بلال حیدر کی آواز پر بلال نے پیچھے موڑ کے دیکھا اتنے میں جلدی سے دعا اندر آگئی اور اس کا رُخ سیدھے کچن کی طرف تھا بلال نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا جو کافی ڈھیٹ تھی،
کون ہو تم اور اندر کس کی اجازت سے آئی دعا ٹرے رکھ کے جیسے ہی موڑی حیدر نے اس کے سر پر کھڑے ہوکے سوال کیا کسی لڑکی کا ایک دم گھر کے اندر چلے آنا اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا،
دعا نے ایک نظر حیدر کو دیکھ کے واپس نظرے جھکالی اور اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے کھیلنے لگی بلال کی نظر خود با خود اس کے ہاتھ کی طرف گئی اسے اندازا ہوگیا یہ لڑکی کانپ رہی ہے جب یہ اتنا ڈر رہی ہے تو اندر آئی کیوں بلال نے دل میں سوچا جب کے حیدر کی سوالیہ نظرے اب بھی دعا پر تھی،
*************
کہاں تک کام ہوا ایک آدمی نے اندر آتے ہوئے کہا جس نے شال سے اپنا چہرا ڈھکا ہوا تھا اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھی،سامنے موجود تین آدمیوں نے اسے سر تا پیر دیکھا،ابھی اتنی جلدی سب کام ہو جائے گا کیا ان تین آدمیوں میں سے ایک نے کہا،
پر جلدی کروں ہمیں یہ اینٹک بم جلدی بنانا ہے جسے کوئی بھی سکیورٹی روک نا سکے اچھی سے اچھی سکیورٹی بھی اس بم کو پکڑ نہیں سکتی شال میں موجود آدمی نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا،
ہاں یہ بم جب بنے گا جس بھی جگہ پھٹے گا وہاں ایک بھی بندہ ذندہ نہیں بچے گا ان میں سے ایک آدمی نے خباثت سے باقی سب کو دیکھا،
پر سب کام ہوشیاری سے ہونا چاہیے کسی کو نہیں پتا لگنا چاہیے ہم اس گاؤں میں ہیں اور ہمارا کیا پلین ہے ہمیں مالک کو جلدی اچھی خبر سنانی ہے دوسرے آدمی نے بھی باتوں میں حصہ لیا،
ہاں ہاں مالک نے جو کہا ہے وہ کام ہو جائے گا بس کچھ دن میں یہ بم تیار ہوجائے گا پھر تباہی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا اس آدمی نے قہقہ لگایا،
ہاہا سہی کہا تم نے ایک بار ہم کامیاب ہوگئے تو ہمیں اور بھی اچھے اچھے آرڈر ملے گے،اس آدمی کے چہرے سے لالچ ٹپک رہا تھا،راز داری سے کرو سب کام اس آدمی نے ان سب کو وارن کیا اور واپس روم سے باہر چلا گیا اس کا کام باہر کی پھیریداری دینا تھا اندر موجود آدمی واپس اپنے کاموں میں لگ گئے،
**************
اس لڑکی کے آنسوں مجھے اتنے برے کیوں لگتے ہیں کیوں اس لڑکی کو میں نے اپنے ذہن پر سوار کیا ہوا ہے ایک معمولی سی لڑکی کے بارے میں سوچے گا اب روہان،اس نے آنکھیں بند کر کے سوچا کیا واقعی وہ لڑکی معمولی ہے روہان نے خود سے سوال کیا اسے تو یہ لڑکی بہت بری لگتی تھی پھر اب کیا ہوا،روہان کے ذہن میں فوراً شادی کے دن والا منظر آیا،
کچھ دن پہلے
روہان اسٹیج پر بیٹھا تھا اس نے کل کی جگہ آج رات کی ہی ٹکٹ بک کروا لی تھی اس نے بس اپنی ٹکٹ بک کروائی تھی اس کا ارادہ اکیلے جانے کا تھا وہ حیا کو اپنے نام سے باندھ کے یہی چھوڑ کر جانا چاہتا تھا،
اس سے فاروق صاحب کا احسان بھی پورا ہو جاتا اور حیا کو سبق بھی مل جاتا جب وہ اس کے نام کے ساتھ بندھی ہوئی اس کا انتظار ہی کرتی رہتی،
اوو شٹ یہ کیا کر دیا تم نے روہان نے غصے سے انوشے کی طرف دیکھا جس نے غلطی سے کولڈ ڈرنک روہان کی شیروانی پر گرا دی تھی،
سوری انکل انوشے نے جلدی سے سوری کہا پر روہاں کا غصے سے برا حال تھا اسے بچے ویسے بھی بہت برے لگتے تھے کوئی بات نہیں بیٹا آپ جاؤ فاروق صاحب نے انوشے کو وہاں سے بھیجا
بیٹا آپ اسے صاف کر کے آجاؤ کوئی بات نہیں غلطی تو بچوں سے ہی ہوتی ہے فاروق صاحب کو ایک نظر دیکھ کے روہان کھڑا ہوگیا،
تم ایسے منہ بنا کر کیوں بیٹھے ہو حنا نے انور کی طرف دیکھا تو اور کیا کروں تم نے کہا حیا کی شادی بس مجھ سے ہوگی میں نے اس معصوم کلی کے ساتھ کیا کیا خواب دیکھے تھے اور اب وہ کسی اور کے ساتھ چلی جائے گی،انور نے اداس چہرے کے ساتھ کہا،
اب میں کیا کروں میں نے کیا کچھ نہیں کیا برہان سے بات کی انہوں نے انکار کر دیا پھر حیا کو ہوٹل لے کے آئی تاکہ روہان اسے تمہارے ساتھ دیکھے تو رشتہ توڑ دے پر ایسے بھی نہیں ہوا وہ تو پہنچ گیا برات لے کر،اور تو اور نکاح کے بعد میں نے اسے اغواء کروانا چاہا تم سے تو بھی وہ بچ گئی،اب میں کیا کروں میں نے تو ہر کوشش کی اسے تمہارے ساتھ بھیجنے کی پر ہر بار وہ بچ جاتی ہے میں کیا کروں حنا نے نفرت سے کہا،
شیم اون اوف یو!!!! روہان نے حنا کی طرف دیکھ کے غصے سے کہا اور پھر انور کی طرف دیکھا،تیری ہمت کیسے ہوئی جو میری بیوی کو اغواء کرنے کا تو نے سوچا روہان نے ایک مکا اسے کھینچ کے مارا پھر اسے بالو سے پکڑ کے پے در پے اسے کئی مکے مارے اس کے چہرے کا نقشہ بگڑ گیا حنا کو تو مانو سانپ سونگھ گیا،
روہان شیروانی صاف کرہا تھا جب اسے حنا اور انور کی آواز آئی وہ اندازے سے اس روم کے طرف آگیا تھا جو کھولا تھا اب اسے اندازا ہوا یہ روم برہان کا تھا،جسے جسے وہ حنا اور انور کی بات سن رہا اس کی دماغ کی نسے ابھرنے لگی اس نے ہاتھ کی مٹھی کو بھینچا ان لوگوں نے حیا کو اغواء کرنا چاہا وہ بھی جب ،جب حیا اس کے نکاح میں تھی،
اور تم ایک لڑکی ہوکے دوسری کی لائف برباد کرنے پر تولی ہوئی ہو کیسی لڑکی ہو تم روہان نے حنا کی طرف دیکھا انور تو اپنی جان بچا کر وہاں سے بھاگ چکا تھا،
وہ___وہ__میں حنا سے تو بولا ہی نہیں جارہا تھا،تم زندگی میں کچھ بھی کرو پر یہ نہیں بھولنا دنیا مکافات عمل ہے روہان حنا کو وہی چھوڑ کے روم سے باہر آچکا تھا،
ہاں سنو آج رات کی ایک اور ٹکٹ بک کرو اس نے فون پر کسی کو کہا اب اس کا بلکل ارادہ نہیں تھا حیا کو ایسی عورت کے پاس چھوڑ کے جانے کا وہ جیسا بھی تھا پر اپنے سے جڑے رشتوں کا خیال رکھتا تھا،
پر شادی اس کی مرضی کے خلاف تھی جس کا غصہ اس نے آدھی رات کو گھر سے جانے پر نکالا تاکہ فاروق صاحب کو ہر ایک کو جواب دینا پڑے،
بوس آفس آگیا گارڈ نے گیٹ کھول کے کہا ایک دم روہان اپنی سوچ سے باہر آیا اس وقت حیا اس کے پاس تھی اس کے گھر پر یہ ابھی کے لیے بہت تھا اس نے ہاں میں سر ہلایا اور گاڑی سے باہر آیا آنکھوں پر سن گلاسس لگائے وہ چھا جانے کی حد تک ہینڈسم لگ رہا تھا،
***************
حیا نے ناشتا تو کر لیا تھا پر روم سے باہر جائے یا نہیں بس یہی سوچ رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی،
کو___کون حیا کو گھبراہٹ ہونے لگی اس وقت روہان تو آفس میں تھا پھر کون آیا ہے،
میم پلز دروازا کھولے لیلہ کی آواز پر حیا تھوڑا ریلکس ہوئی،سر پر اچھے سے ڈوپٹہ اوڑ کے اس نے دروازا کھولا سامنے ہی لیلہ آدب سے ہاتھ باندھے کھڑی تھی،
میم جیک سر آئے ہیں اس روم میں کچھ سامان شفٹ کرنا ہے آپ باہر آجائیے لیلہ کے کہنے پر حیا نے ہاں میں سر ہلایا،اور باہر کی طرف قدم بڑھائے،
ہاں یہ ادھر رکھو جیک شائستہ انگریزی میں کچھ آدمیوں سے مخاطب تھا جب سامنے روم سے حیا باہر آئی،
واو ہو از شی حیا کو دیکھتے ہی جیک کے منہ سے بے ساختہ نکلا، شی از مسسز روہان لیلہ نے جلدی سے تعارف کروایا، رئیلی روہان برو نے شادی کرلی جیک نے حیرت سے لیلہ کی طرف دیکھا،
حیا نیچے نظرے جھکائے کنفیوژ سی کھڑی تھی،جیک کا اس طرح گھور گھور کر دیکھنا اسے اچھا نہیں لگا تھا،ہائے بیوٹی فل گرل جیک نے مسکرا کے حیا کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ جس جگہ رہتا تھا وہاں اسے ہاتھ ملانا عام بات تھی،حیا نے جلدی سے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کر لیے،
ہاہاہا کیوٹ گرل جیک نے حیا کی اس حرکت پر ایک دم قہقہ لگایا اسے یہ چھوٹی سی لڑکی بہت پسند آئی،حیا جلدی سے ساتھ والے روہان کے روم میں چلی گئی،پتا نہیں کون ہے جو ایسے مجھ سے فری ہورہے ہیں حیا نے دل میں سوچا سچ تو یہ تھا روہان کی غیر موجودگی میں اسے اپنا آپ محفوظ نہیں لگ رہا تھا،
جیک نے اس لائیبریری کو ایک روم کی شکل دی اور لائیبریری کو نیچے شفٹ کیا اسے اب سمجھ میں آیا تھا کے روہان نے روم سیٹ کیوں کروایا پر جب شادی کی ہے تو اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہیے جیک نے اپنے دماغ کے گھوڑے دوڑائے،جیک تو رہنے دے برو کے لوجک برو ہی جانے جیک نے سر جھٹکا،
حیا جو روم میں بند ہوئی تو شام ہوگئی تھی اس کا بھوک سے برا حال تھا اب تک تو وہ چلے گئے ہوگے حیا نے کچھ دیر سوچا پھر تھوڑا ڈرتے ہوئے باہر جھانکا باہر کوئی نہیں تھا،
حیا نے باہر آکے برابر والا روم کھولا بیڈ سنگارمیز الماری اس کی ضرورت کی ہر چیز موجود تھی پورا روم بہت پیارا لگ رہا تھا حیا نے روم میں آکے چاروں اور اپنی نظرے گھومائی،کیوٹ گرل کیسا لگا روم جیک نے دروازے پر کھڑے ہوکے پوچھا،
حیا ایک دم ڈر گئی اس نے پیچھے موڑ کے دیکھا بلیک پینٹ پر بلیک ہی شرٹ پہنے سر پر ہوڈ لیے بائس سالا جیک اسے اپنی کالی چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا،ارے آپ تو ڈر گئی جیک نے اندر آتے ہوئے کہا،ویسے اگر آپ برو کی وائف ہیں تو الگ روم کیوں ویسے آپ نے برو میں کیا دیکھا ویسے میرے برو ہیں ہی بہت ہینڈسم پر برو کو تو شادی سے نفرت ہے تو انہوں نے آپ سے شادی کیسے کرلی ویسے آپ اتنی کیوٹ ہو برو کا دل آگیا ہوگا آپ پر ہاہاہا جیک نے اپنی بات پر خود ہی قہقہ لگایا،
حیا منہ کھولے حیرت سے اس لڑکے کو دیکھ رہی تھی جس نے سوالوں کی لائن لگادی تھی پر جواب بھی خود ہی دے رہا تھا،آپ کو اردو آتی ہے حیا نے حیرت سے کہا کیوں کے ابھی جیک نے اس سے سب بات اردو میں کی،
جی ہاں زیادہ تو نہیں پر برو کے ساتھ رہے کر سیکھ گیا میں جب دس سال کا تھا اس وقت سے برو کے ساتھ ہوں وہ میرے لیے ماں باپ بھائی سب ہیں اور میں بھی ان کا خاص بندہ ہوں برو کا میرے بغیر گزارہ ہی نہیں ہے آپ ساتھ رہو گی نا سمجھ جاؤ گی برو کو، اوپر سے سخت ہیں پر دل کے بہت اچھے ہیں،
جیک!!!!!
جیک اور بھی بہت کچھ بولتا پر پیچھے سے روہان کی آواز پر جیک کی زبان کو بریک لگا،برو___آپ جیک نے سر کھجایا سچ تو یہ تھا کے روہان کے غصے سے اس کی بھی جان نکلتی تھی،
روہان نے ایک نظر جیک پر ڈھال کر دوسری حیا پر دھالی جو نظرے جھکائے کھڑی تھی پر اس کی ہاتھوں کی کپکپاہٹ روہان سے چھپی ہوئی نہیں تھی،تم اس روم میں کیا کر رہے ہوں روہان نے اس روم پر زور دیتے ہوئے کہا،اسے جیک کا حیا کے روم میں آنا پسند نہیں آیا تھا اس کے چہرے کی سختی سے ہی جیک سمجھ چکا تھا برو میں تو بس پوچھ رہا تھا روم کیسا لگا جیک نے زبان سے اپنے ہونٹوں کو تر کیا،
پوچھ لیا روہان نے ایک ائی برو اٹھا کر کہا جی برو پوچھ لیا اب میں چلا بائے کیوٹ گرل جیک نے باہر جاتے ہوئے حیا کی طرف دیکھ کے کہا جس سے حیا سٹپٹاگئی روہان نے جیک کو گھورا پر وہ باہر جا چکا تھا،
اور تم روہاں نے حیا کی طرف قدم بڑھائے،جی!!! حیا نے نیچے نظرے کیے ہی جواب دیا۔۔آئندہ تم کسی کے بھی ساتھ بات کرتی ہوئی مجھے نظر نا آؤ روہان نے حیا کی طرف دیکھ کے کہا اس کا لہجہ عام سا تھا پر اس لہجے میں وارننگ تھی،حیا نے بچوں کی طرح فوراً ہاں میں سر ہلایا،
روہان کی نظرے اب بھی حیا پر تھی حیا نے تھوڑا ڈرتے ہوئے نظرے اٹھائی تو روہان کی نظروں کو دیکھ کے واپس سر جھکا لیا روہان ایک ٹک اسے دیکھ رہا تھا اس کا ننا سا دل تیز تیز دھڑکنے لگا،حیا سائڈ سے ہوکر جانے لگی روہان نے اس کا ہاتھ پکڑا،
حیا کے ہاتھ کپکپارہے تھے روہان نے اس کا رُخ اپنی طرف کیا کہاں جارہی ہو روہان نے اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے کہا،وہ____وہ باہر اس سے بولا ہی نہیں جارہا تھا ایک تو روہان کی نظرے اوپر سے اس کے ہاتھوں کا لمس حیا کا جسم ہولے ہولے کانپنے لگا تھا وہ اپنا ہاتھ روہان سے چھوڑو آنے لگی،
باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے باہر کچھ لوگ بیٹھے ہیں جو چاہیے یہاں منگوالو میں لیلہ کو بھجتا ہوں روہان نے ایک آخری نظر حیا پر ڈھال کر اس کا ہاتھ چھوڑا اور باہر کی طرف چلا گیا،
حیا نے اپنے ہاتھ کو جلدی سے اپنے سینے سے لگا لیا اس کا دل اب بھی تیز دھڑک رہا تھا،
جاری ہے
